نہی خداوندی اور ممانعت کے علم کے باوجود جو شخص بیوی سے حالت حیض میں ہمبستری کرلے اس کا کیا کفارہ ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيالرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ.
عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas from the Prophet ﷺ , concerning a man who has had intercourse with his wife while she was menstruating: “Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 289
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کا کہنا ہے کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہوجانے پر جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں نوعیت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ راوی کا تردد ہے، واضح رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٠٦ (٢٦٤)، النکاح ٤٨ (٢١٦٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٣ (٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ١٠٣ (١٣٧)، مسند احمد ١/٢٢٩، ٢٣٧، ٢٧٢، ٢٨٦، ٣١٢، ٣٢٥، ٣٦٣، ٣٦٧، سنن الدارمی/الطھارة ١١٢ (١١٤٦، ١١٤٧)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ٩، (برقم: ٣٧٠) (صحیح )