Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 16 of 289

300Sunan An Nasai

کپڑے سے منی کے کھرچنے سے متعلق

أخبرنا شعيب بن يوسف عن يحيى بن سعيد عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت أراه في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحكه .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے کپڑے میں اسے (یعنی منی کو) دیکھتی تو اسے رگڑ دیتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to see it on the garment of the Messenger of Allah ﷺ and scratch it off.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 299
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٨ (صحیح )
301Sunan An Nasai

کپڑے سے منی کے کھرچنے سے متعلق

أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد بن زيد عن هشام بن حسان عن أبي معشر عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أفرك الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے جنابت (منی کے اثر کو) مل رہی ہوں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember rubbing the Janabah from the garment of the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 300
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٣٢ (٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤١) (صحیح )
302Sunan An Nasai

کپڑے سے منی کے کھرچنے سے متعلق

أخبرنا محمد بن كامل المروزي قال حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحته عنه .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسے (یعنی منی کو) رسول اللہ ﷺ کے کپڑے میں پاتی تو اسے رگڑ کر اس سے صاف کردیتی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember finding it on the garment of the Messenger of Allah ﷺ and scratching it off.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 301
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٣٢ (٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٢ (٥٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٧٦) (صحیح )
303Sunan An Nasai

کھانا نہ کھانے والے بچہ کے پیشاب کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ.

ام قیس بنت محصن ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں، رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا، تو آپ ﷺ نے پانی منگایا، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار، اور اسے دھویا نہیں۔

It was narrated from Umm Qais bint Mihsan that she brought a small son of hers who has not started eating food to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ took him in his lap and he urinated on his garment, so he called for some water and sprinided it on it, but he did not wash it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 302
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٩ (٢٢٣)، الطب ١٠ (٥٦٩٣)، صحیح مسلم/الطہارة ٣١ (٢٨٧)، سنن ابی داود/الطھارة ١٣٧ (٣٧٤)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٤ (٧١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٢)، موطا امام مالک/الطھارة ٣٠ (١١٠)، مسند احمد ٦/٣٥٥، ٣٥٦، سنن الدارمی/الطھارة ٦٣ (٧٦٨) (صحیح )
304Sunan An Nasai

کھانا نہ کھانے والے بچہ کے پیشاب کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک (دودھ پینے والا) بچہ لایا گیا، تو اس نے آپ کے اوپر پیشاب کردیا، تو آپ نے پانی منگایا، اور اسے اس پر بہا دیا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “A small boy was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he urinated on him, so he called for water and poured it on the place where the urine was.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 303
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٩ (٢٢٢)، العقیقة ١ (٥٤٦٨)، الأدب ٢١ (٦٠٠٢)، الدعوات ٣٠ (٦٣٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٧١٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٣١ (٢٨٦)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٧ (٥٢٣)، موطا امام مالک/الطہارة ٣٠ (١٠٩) مسند احمد ٦/٥٢، ٢١٠، ٢١٢ (صحیح )
305Sunan An Nasai

لڑکی کے پیشاب سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ.

ابو سمح ؓ (خادم النبی) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا ١ ؎۔

Abu As-Samh said: “The Prophet ﷺ said: ‘A girl’s urine should be washed away and a boy’s urine should be sprinkled with water.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 304
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک روایت میں مالم یطعم (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لیے جو روایتیں مطلق ہیں، انہیں مقید پر محمول کیا جائے گا یعنی دونوں کے پیشاب میں یہ تفریق اس وقت تک کے لیے ہے جب تک وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، کھانا کھانے لگ جانے کے بعد دونوں کے پیشاب کا حکم یکساں ہوگا، دونوں کا پیشاب دھونا ضروری ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١٣٧ (٣٧٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٦) (صحیح )
306Sunan An Nasai

جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کے پیشاب کا حکم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍحَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَفَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا. فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تُرِكُوا فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا.

انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں (جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں ١ ؎ چناچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہوگئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہوگئے، اور نبی اکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا (چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور) آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ٢ ؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں (مقام) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مرگئے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) narrated that “some people from ‘Ukl came to the Messenger of Allah ﷺ and spoke about Islam. They said: ‘Messenger of Allah ﷺ , we are nomads who follow the herds, not farmers and growers, and the climate of Al-Madinah does not suit us.’ So the Messenger of Allah ﷺ told them to go out to a flock of female camels and drink their milk and urine. When they recovered — and they were in the vicinity of Al-Harrah — they apostatized after having become Muslim, killed the camel-herder of the Messenger of Allah ﷺ and drove the camels away. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he sent people after them. They were brought back, their eyes were smoldered with heated nails, their hands and feet cut off, then they were left in Al-Harrah in that state until they died.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 305
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جن جانورں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ٢ ؎: ایک روایت میں انس ؓ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس وجہ سے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں، لیکن یہ روایت بقول امام ترمذی غریب ہے، یحییٰ بن غیلان کے علاوہ کسی نے بھی اس میں یزید بن زریع کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٦ (٢٣٣)، الزکاة ٦٨ (١٥٠١)، الجھاد ١٨٤ (٣٠٦٤)، المغازي ٣٦ (٤١٩٢)، الطب ٥ (٥٦٨٥)، ٢٩/٥٧٢٧، الحدود ١٥ (٦٨٠٢)، ١٨ (٦٨٠٥)، الدیات ٢٢ (٦٨٩٩)، صحیح مسلم/القسامة ٢ (١٦٧١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٣٨ (١٨٤٥)، الطب ٦ (٢٠٤٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٠ (٣٥٠٣)، مسند احمد ٣/١٦١، ١٦٣، ١٧٠، ٢٣٣، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٠٣٧ (صحیح )
307Sunan An Nasai

جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کے پیشاب کا حکم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُوَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا. حَتَّى صَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ. قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَمْ بِذَنْبٍ ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا، قَالَ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَنَسٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ طَلْحَةَ، وَالصَّوَابُ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مُرْسَلٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی (دیہاتی) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہوگئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ١ ؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوگئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چناچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that some Bedouins from ‘Urainah came to the Prophet ﷺ , and became Muslim, but the climate of Al-Madinah did not suit them; their skin turned yellow and their stomachs became swollen. The Messenger of Allah ﷺ sent them to some pregnant camels of his and told them to drink their milk and urine until they recovered. Then they killed the camel-herder and drove the camels away. The Messenger of Allah ﷺ sent people after them, and they were brought back. Their hands and feet were cut off and their eyes were smoldered with burning nails. The Commander of the Believers, ‘Abdul-Malik, said to Anas — when he was narrating this Hadith to him — “(Were they being punished) for Kufr or for a sin?” He said: “For Kufr.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 306
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٤)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٠٤٠ (صحیح الاسناد )
308Sunan An Nasai

حلال جانور کا پاخا نہ اگر کپڑے پر لگ جائے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيم، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَمَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ وَقَدْ نَحَرُوا جَزُورًا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَيُّكُمْ يَأْخُذُ هَذَا الْفَرْثَ بِدَمِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى يَضَعَ وَجْهَهُ سَاجِدًا فَيَضَعُهُ يَعْنِي عَلَى ظَهْرِهِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا، فَأَخَذَ الْفَرْثَ فَذَهَبَ بِهِ ثُمَّ أَمْهَلَهُ فَلَمَّا خَرَّ سَاجِدًا وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأُخْبِرَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَجَاءَتْ تَسْعَى فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ فِي قَلِيبٍ وَاحِدٍ.

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیت المال میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اور قریش کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے، اور انہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ١ ؎: تم میں سے کون ہے جو یہ خون آلود اوجھڑی لے کر جائے، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیں، تو وہ اسے ان کی پشت پر رکھ دے، تو ان میں کا سب سے بدبخت (انسان) کھڑا ہوا ٢ ؎، اور اس نے اوجھڑی لی، اور آپ کے پاس لے جا کر انتظار کرتا رہا، جب آپ سجدہ میں چلے گئے تو اس نے اسے آپ کی پشت پر ڈال دیا، تو آپ ﷺ کی کمسن بیٹی فاطمہ ؓ کو خبر ملی، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ ﷺ کی پشت سے اسے ہٹایا، جب آپ ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ کہا: اللہم عليك بقريش اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے ، اللہم عليك بقريش، اللہم عليك بأبي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن أبي معيط اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط سے تو نپٹ لے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے قریش کے سات ٣ ؎ لوگوں کا گن کر نام لیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا، میں نے انہیں بدر کے دن ایک اوندھے کنویں میں مرا ہوا دیکھا۔

It was narrated that ‘Amr bin Maimun said: “Abdullah told us: ‘The Messenger of Allah ﷺ was praying at the House (the Ka’bah) and a group of the nobles of Quraish were sitting there. They had just slaughtered a camel and one of them said: “Which of you will take these stomach contents with the blood and wait until he prostrates, then put them on his back?” ‘Abdullah said: ‘The one who was most doomed got up and took the stomach contents, then went and waited until he prostrated himself, and put it on his back. Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ , who was a young girl, was told about that, and she came running and took it off his back. When he had finished praying he said: “Allah! Punish the Quraish,” three times, “Allah, punish Abu Jahl bin Hisham, Shaibah bin Rabi’ah, ‘Utbah bin Rabi’ah, ‘Uqbah bin Abi Mu’ait” until he had listed seven men from the Quraish.’ ‘Abdullah said: ‘By the One Who revealed the Book to him, I saw them dead on the day of Badr (their corpses) in a single dry well.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 307
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم کی تصریح کے مطابق وہ ابوجہل تھا۔ ٢ ؎: اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے جیسا کہ مسند ابوداؤد طیالسی میں اس کی صراحت ہے۔ ٣ ؎: چار تو وہ ہیں جن کا ذکر خود حدیث میں آیا ہے اور باقی تین یہ ہیں: ولید بن عتبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٩ (٢٤٠)، والصلاة ١٠٩ (٥٢٠)، والجھاد ٩٨ (٢٩٣٤)، والجزیة ٢١ (٣١٨٥)، ومناقب الأنصار ٢٩ (٣٨٥٤)، صحیح مسلم/الجھاد ٣٩ (١٧٩٤)، (تحفة الأشراف ٩٤٨٤)، مسند احمد ١/ ٣٩٣، ٣٩٧، ٤١٧ (صحیح )
309Sunan An Nasai

گر تھوک کپڑے کو لگ جائے تو اس کا حکم

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ فَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، اور اسے مل دیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ took the hem of his garment and spat on it, rubbed it together briefly and let it drop. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 308
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ تھوک پاک ہے، ورنہ آپ صلی الله علیہ وسلم ایسا نہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ٥٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٥)، ٣٩ (٤١٧)، سنن ابی داود/الطھارة ١٤٣ (٣٩٠)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦١ (١٠٢٤) (صحیح )
310Sunan An Nasai

گر تھوک کپڑے کو لگ جائے تو اس کا حکم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مِهْرَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، وَإِلَّا فَبَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے نہیں تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “When any one of you prays, let him not spit in front of him or to his right, rather let him spit to his left or beneath his feet.” Then the Prophet ﷺ spat like this on his garment and rubbed it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 309
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٦١ (١٠٢٢)، (تحفة الأشراف ١٤٦٦٩)، مسند احمد ٢/٢٥٠، ٤١٥ (صحیح )
311Sunan An Nasai

تیمم کے شروع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ. فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا، تو آپ ﷺ اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر ؓ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چناچہ ابوبکر ؓ آئے، اور رسول اللہ ﷺ میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ ﷺ کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ تو ابوبکر ؓ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ ﷺ کا سر تھا، آپ ﷺ سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہوگئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر ؓ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys, and when we were in Al-Baida’ or Dhat Al-Jaish, a necklace of mine broke and fell. The Messenger of Allah ﷺ stayed there looking for it and the people stayed with him. There was no water near them, and they did not have water with them. The people came to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: ‘Do you see what Aishah (RA) has done? She has made the Messenger of Allah ﷺ and the people stop and they are not near any water and they do not have water with them.’ Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came while the Messenger of Allah ﷺ was resting his head on my thigh and had gone to sleep. He said: ‘You have detained the Messenger of Allah ﷺ and the people, and they are not near any water and they do not have any water with them.” Aishah (RA) said: “ Abu Bakr (RA) rebuked me and said whatever Allah willed he would say. He started poking me on my hip, and the only thing that prevented me from moving was the fact that the Messenger of Allah ﷺ was resting on my thigh. The Messenger of Allah ﷺ slept until morning when he woke up without any water. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said: ‘This is not the first time we have been blessed because of you, family of Abu Bakr!” She said: “Then we made the camel that I had been riding stand up, and we found the necklace beneath it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 310
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ١ (٣٣٤)، ٢ (٣٣٦)، و فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٢)، ٣٠ (٣٧٧٣)، و تفسیر النساء ١٠ (٤٥٨٣)، و تفسیر المائدہ ٣ (٤٦٠٧)، وانکاح ١٢٦ (٥٢٥٠)، واللباس ٥٨ (٥٨٨٢)، والحدود ٣٩ (٦٨٤٤)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٧)، (تحفة الأشراف ١٧٥١٩)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة ١٢٣ (٣١٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩٠ (٥٦٨)، موطا امام مالک/فیہ ٢٣ (٨٩)، مسند احمد ٦/٥٧، ١٧٩، ٢٧٢، ٢٧٣، سنن الدارمی/الطھارة ٦٦/٧٧٣ (صحیح )
312Sunan An Nasai

سفر کے بغیر تیمم

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ الْجَمَلِوَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن یسار دونوں آئے یہاں تک کہ ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری ؓ کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ بئر جمل کی طرف سے آئے، تو آپ سے ایک آدمی ملا، اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ دیوار کے پاس آئے، اور آپ نے اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھ پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔

It was narrated from ‘Umair the freed slave of Ibn ‘Abbas that he heard him say: “Abdullah bin Yasar the freed slave of Maimunah, and I came and entered upon Abu Juhaim bin Al-Harith bin Al-Sammah Al Ansari. Abu Juhaim said: ‘The Messenger of Allah ﷺ came back from the direction of Bi’r Al-Jamal and was met by a man who greeted him with Salam, but the Messenger of Allah ﷺ did not return the greeting until he turned to the wall and wiped his face and hands, then he returned the greeting.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 311
Notes · وضاحت
بئر جمل مدینہ میں ایک مشہور جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٣ (٣٣٧)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٩)، سنن ابی داود/الطھارة ١٢٤ (٣٢٩)، (تحفة الأشراف ١١٨٨٥)، مسند احمد ٤/١٦٩ (صحیح )
313Sunan An Nasai

مقیم ہونے کی حالت میں تیمم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، قال عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. وَسَلَمَةُ شَكَّ، لَا يَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.

عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر ؓ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہوگیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا، (کیا کروں؟ ) عمر ؓ نے کہا: (غسل کئے بغیر) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ (فوجی مہم) میں تھے، تو ہم جنبی ہوگئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، پھر آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا - سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک - (عمار ؓ کی بات سن کر) عمر ؓ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔

It was narrated from Ibn ‘Abdur-Rahman bin Abza from his father that a man came to ‘Umar and said: “I have become Junub and I do not have any water.” ‘Umar said: “Do not pray.” But ‘Ammar bin Yasir said: “Commander of the Believers! Don’t you remember when you and I were on a campaign and we became Junub and could not find water? You did not pray, but I rolled in the dust and prayed. Then we came to the Prophet ﷺ and told him about that, and he said: ‘It would have been sufficient for you (to do this),’ then the Prophet ﷺ struck his hands on the ground and blew on them, then wiped his face and hands with them” — (one of the narrators) Salamah was uncertain and did not know whether that was up to the elbows or just the hands. And ‘Umar said: “We will let you bear the burden of what you took upon yourself.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 312
Notes · وضاحت
ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ مجھے یہ یاد نہیں اس لیے میں یہ بات نہیں کہہ سکتا تم اپنی ذمہ داری پر اسے بیان کرنا چاہو تو کرو، عمر اور عبداللہ بن مسعود ؓ دونوں کی رائے یہ ہے کہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں، ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام اور اکثر علماء اور مجتہدین کا قول ہے کہ تیمم محدث (جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو) اور جنبی (جسے احتلام ہوا ہو) دونوں کے لیے ہے، اس قول کی تائید کئی مشہور حدیثوں سے ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٤ (٣٣٨)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٨)، سنن ابی داود/الطھارة، سنن الترمذی/فیہ ١١٠ (١٤٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٩١ (٥٦٩)، (تحفة الأشراف ١٠٣٦٢)، مسند احمد ٤/٢٦٣، ٢٦٥، ٣١٩، ٣٢٠، سنن الدارمی/الطہارة ٦٦ (٧٧٢) مختصرًا، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣١٧، ٣١٨، ٣١٩، ٣٢٠ (صحیح )
314Sunan An Nasai

مقیم ہونے کی حالت میں تیمم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قال: أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِي الْإِبِلِ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہوگیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا ۔

It was narrated that ‘Ammar bin Yasir said: “I became Junub while I was on a camel and I could not find any water, so I rolled in the dust like an animal. I came to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that, and he said: ‘Tayammum would have been sufficient for you.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 313
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٠٣٦٨)، مسند احمد ٤/٢٦٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” ناجیة “ لین الحدیث ہیں )
315Sunan An Nasai

سفر میں تیمم

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قال: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قال: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُولَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُخْصَةَ التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ، قَالَ: فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَنْفُضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ.

عمار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ ؓ بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گرگیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہوگئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر ؓ عائشہ ؓ پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار ؓ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے (کے حصہ پر) بغل تک مل لیا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Ammar said: “The Messenger of Allah ﷺ stopped to rest at the end of the night in Uwlat Al-Jaish. His wife Aishah (RA) was with him and her necklace of Zifar beadst broke and fell. The army was detained looking for that necklace of hers until the break of the light of dawn and the people had no water with them. Abu Bakr (RA) got angry with her and said: ‘You have detained the people and they do not have any water.’ Then Allah the Mighty and Sublime revealed the concession allowing Tayammum with clean earth. So the Muslims got up with the Messenger of Allah ﷺ and struck the earth with their hands, then they raised their hands and did not strike them together to knock off any of the dust, then they wiped their faces and arms up to the shoulders, and from the inner side of their of their arms up to the armpits.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 314
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا ان لوگوں نے اس وجہ سے کیا ہوگا کہ ممکن ہے پہلے یہی مشروع رہا ہو، پھر منسوخ ہوگیا ہو، یا ان لوگوں نے اپنے اجتہاد سے بغیر پوچھے ایسا کیا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٣ (٣٢٠)، (تحفة الأشراف ١٠٣٥٧) مسند احمد ٤/ ٢٦٣، ٢٦٤ ۔ (صحیح )
316Sunan An Nasai

کیفیت تیمم میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْمَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتُّرَابِ، فَمَسَحْنَا بِوُجُوهِنَا وَأَيْدِينَا إِلَى الْمَنَاكِبِ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا۔

It was narrated that ‘Ammar bin Yasir said: “We did Tayammum with the Messenger of Allah ﷺ using dust, and we wiped our faces and our arms up to the shoulders.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 315
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة، ٩٠ (٥٦٦) مختصرًا، (تحفة الأشراف ١٠٣٥٨)، مسند احمد ٤/ ٣٢٠، ٣٢١ (صحیح )
317Sunan An Nasai

تیمم کا دوسرا طریقہ کہ جس میں ہاتھ مار کر گرد غبار کا تذکرہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قال: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رُبَّمَا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا، فَإِذَا لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَتَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ كُنْتَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا ؟ قال: نَعَمْ، أَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ الصَّعِيدُ لَكَافِيكَ، وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ. فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ، قَالَ: وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.

عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ کہتے ہیں کہ ہم عمر ؓ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑجاتا ہے، (تو ہم کیا کریں؟ ) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہوگئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے (اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا) تو آپ ﷺ نے ہنس کر فرمایا: تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کرلینا کافی تھا ، اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ١ ؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر ؓ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر ؓ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔

It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Abza (RA) said: “We were with ‘Umar when a man came to him and said: ‘Commander of the Believers! sometimes we stay for a month or two without finding any water. Umar said: As if I did not find water, I would not pray until I found water.’ ‘Ammar bin Yasir said: ‘Do you remember, Commander of the Believers, when you were in such and such a place and we were rearing the camels, and you know that we became Junub?’ He said: ‘Yes.’ ‘As for me I rolled in the dust, then we came to the Prophet ﷺ and he laughed and said: “Clean earth would have been sufficient for you.” And he struck his hands on the earth then blew on them, then he wiped his face and part of his forearms. He (‘Umar) said: “Fear Allah, ‘Ammar!” He said: ‘Commander of the Believers! If you wish I will not mention it.’ He said: ‘No, we will let you bear the burde of what you took upon yourself.” (Sahih)

صحيح دون الذراعين والصواب کفيهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 316
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا پھونک مارنا بھی مسنون ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٣ (صحیح) (دون ذراعیہ، والصواب کفیہ “ کما في الروایة التالیة )
318Sunan An Nasai

تیمم کا ایک دوسرا طریقہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَتَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً.

عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر بن خطاب ؓ سے تیمم کے متعلق سوال کیا، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں، عمار ؓ نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے؟ جب ہم ایک سریہ (فوجی مہم) میں تھے، اور میں جنبی ہوگیا تھا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے اس طرح کرلینا ہی کافی تھا ، شعبہ نے (تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا ۔

It was narrated from Ibn ‘Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man asked ‘Umar bin Al-Khattab (RA) about Tayammum and he did not know what to say. ‘Ammar said: “Do you remember when we were on a campaign, and I became Junub and rolled in the dust, then I came to the Prophet ﷺ , and he said: ‘This would have been sufficient.” (One of the narrators) Shu’bah struck his hands on his knees and blew into his hands, then he wiped his face and palms with them once. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 317
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٣ (صحیح )
319Sunan An Nasai

تیمم کا ایک دوسرا طریقہ

أخبرنا إسماعيل بن مسعود أنبأنا خالد أنبأنا شعبة عن الحكم سمعت ذرا يحدث عن ابن أبزى عن أبيه قال وقد سمعه الحكم من ابن عبد الرحمن قال أجنب رجل فأتى عمر - رضى الله عنه - فقال إني أجنبت فلم أجد ماء . قال لا تصل . قال له عمار أما تذكر أنا كنا في سرية فأجنبنا فلم نجد ماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فإني تمعكت فصليت ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقالإنما كان يكفيك. وضرب شعبة بكفيه ضربة ونفخ فيهما ثم دلك إحداهما بالأخرى ثم مسح بهما وجهه . فقال عمر شيئا لا أدري ما هو . فقال إن شئت لا حدثته . وذكر شيئا في هذا الإسناد عن أبي مالك وزاد سلمة قال بل نوليك من ذلك ما توليت .

حکم بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنبی ہوگیا، تو وہ عمر ؓ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہوگیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا (تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا: (جب تک پانی نہ ملے) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار ؓ نے ان سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ (فوجی مہم) میں تھے، تو ہم جنبی ہوگئے تھے، تو رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور رہا میں، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، پھر نماز پڑھ لی، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، شعبہ نے اپنی ہتھیلی (گھٹنوں پر) ایک مرتبہ ماری، اور اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا، اس پر عمر ؓ نے کہا میں ایسی چیز (سن رہا ہوں) جو مجھے معلوم نہیں، تو عمار ؓ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر ؓ نے کہا: بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔

It was narrated that Ibn ‘Abdur-Rahman said: “A man became Junub and came to ‘Umar, may Allah be pleased with him, and said: ‘I have become Junub and I cannot find any water.’ He said: ‘Do not pray.’ ‘Ammar said to him: ‘Do you not remember when we were on a campaign and became Junub. You did not pray but I rolled in the dust and prayed, then I came to the Prophet ﷺ and told him about that, and he said: ‘This would have been sufficient for you.” — (One of the narrators) Shu’bah struck his hands once and blew into them, then he rubbed them together, then wiped his face with them — (‘Ammar said): ‘Umar said something I did not understand.” So he said: “If you wish, I shall not narrate it.” Salamah mentioned something in this chain from Abu Malik, and Salamah added that he said: “Rather, we will let you bear the burden of what you took upon yourself.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٣ (صحیح )