Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 17 of 289

320Sunan An Nasai

ایک اور دوسری قسم کا تیمم

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ. قَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ. قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: مَا تَقُولُ ؟ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، فَشَكَّ سَلَمَةُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا.

عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر ؓ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہوگیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا (کیا کروں؟ ) تو عمر ؓ نے کہا: (جب تک پانی نہ ملے) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہوگئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم ﷺ نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ (میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک) ۔ عمر ؓ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑگئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ (ذر نے) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔

It was narrated from Ibn ‘Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man came to ‘Umar, may Allah be pleased with him, and said: “I have become Junub and I cannot find any water.” ‘Umar said: “Do not pray.” ‘Ammar said: “Do you not remember, Commander of the Believers, when you and I were on a campaign and became Junub, and we could not find any water. You did not pray, but I rolled in the dust then prayed. When we came to the Messenger of Allah ﷺ I told him about that and he said: ‘This would have been sufficient for you,’ and the Prophet ﷺ struck the earth with his hands then blew on them and wiped his face and hands — (one of the narrators) Salamah was uncertain and said: “I do not know if he said it should be up to the elbows or just the hands.” — ‘Umar said: “We will let you bear the burden of what you took upon yourself.” (One of the narrators) Shu’bah said: “He used to say the hands, face and forearms.” (Another) Mansur said to him: “What are you saying? No one mentions the forearms except you. ”Salamah was not certain and said: “I do not know whether he mentioned the forearms or not.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 319
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٣ (صحیح )
321Sunan An Nasai

جنبی شخص کو تیمم کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَوْ لَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ، لِعُمَرَ ؟ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى كَفَّيْهِ وَوَجْهِهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَ لَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ ؟.

ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ابوموسیٰ نے کہا: ١ ؎ آپ نے عمار ؓ کی بات جو انہوں نے عمر ؓ سے کہی نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی ضرورت سے بھیجا، تو میں جنبی ہوگیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں آپ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اس طرح کرلینا ہی کافی تھا ، اور آپ نے اپنا دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا، پھر انہیں جھاڑا، پھر آپ نے اپنی بائیں (ہتھیلی) سے اپنی داہنی (ہتھیلی) پر اور داہنی ہتھیلی سے اپنی بائیں (ہتھیلی) پر مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرے کا مسح کیا، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمر ؓ عمار ؓ کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟۔

It was narrated that Shaqiq said: “I was sitting with ‘Abdullah and Abu Musa, and Abu Musa said: ‘Have you not heard what ‘Ammar said to ‘Umar (RA) : ‘The Messenger of Allah ﷺ sent me on an errand and I became Junub, and I could not find water, so I rolled in the earth then I came to the Prophet ﷺ and told him about that.’ He said: ‘It would have been sufficient for you to do this,’ and he struck the earth with his hands, then wiped his hands, then knocked them together to remove the dust, then he wiped his right hand with his left and his left hand with his right, palm to palm, and wiped his face.” Then ‘Abdullah said: “Did you not see that ‘Umar was not convinced by what ‘Ammar said?” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 320
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوموسیٰ کا کہنا تھا کہ تیمم کا حکم عام ہے، محدث اور جنبی دونوں کو شامل ہے، اور ابن مسعود ؓ کا کہنا تھا کہ یہ صرف محدث کے لیے خاص ہے اس پر ابوموسیٰ نے بطور اعتراض ان سے یہ بات کہی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٧ (٣٤٦، ٣٤٥)، ٨ (٣٤٧)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٨)، سنن ابی داود/الطھارة ١٢٣ (٣٢١)، مسند احمد ٤/٢٦٤، ٢٦٥، ٣٩٦، (تحفة الأشراف ١٠٣٦٠) (صحیح )
322Sunan An Nasai

مٹی سے تیمم کے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔

It was narrated that Abu Raja’ said: “I heard ‘Imran bin Hussain (say) that the Prophet ﷺ saw a man who was by himself and did not pray with the people. He said: ‘So and so, what kept you from praying with the people?’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ , I have become Junub and there is no water.’ He said: ‘You should use earth for that will suffice you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 321
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٦ (٣٤٤)، ٩ (٣٤٨)، (تحفة الأشراف ١٠٨٧٦)، مسند احمد ٤/ ٣٣٤ (صحیح )
323Sunan An Nasai

ایک ہی تیمم سے متعدد نمازیں ادا کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Clean earth is the Wudu’ of the Muslim, even if he does not find water for ten years.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 322
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٥ (٣٣٢) مطولاً، سنن الترمذی/فیہ ٩٢ (١٢٤) مطولاً، (تحفة الأشراف ١١٩٧١)، مسند احمد ٥/١٥٥، ١٨٠ (صحیح )
324Sunan An Nasai

جو شخص وضو کے لئے پانی اور تیمم کرنے کے لئے مٹی نہ پا سکے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَنَاسًا يَطْلُبُونَ قِلَادَةً كَانَتْ لِعَائِشَةَ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ. قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسید بن حضیر ؓ اور کچھ اور لوگوں کو بھیجا، یہ لوگ ام المؤمنین عائشہ ؓ کا ہار ڈھونڈ رہے تھے جسے وہ اس جگہ بھول گئیں تھیں جہاں وہ (آرام کرنے کے لیے) اتری تھیں، (اسی اثناء میں) نماز کا وقت ہوگیا، اور یہ لوگ نہ تو باوضو تھے اور نہ ہی انہیں (کہیں) پانی ملا، تو انہوں نے بلا وضو نماز پڑھ لی، پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، تو اسید بن حضیر ؓ نے (ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا) اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے بہتری رکھ دی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ sent Usaid bin Hudair and some other people to look for a necklace that Aishah (RA) had left behind in a place where she had stopped (while traveling). The time for prayer came and they did not have Wudu’, and they could not find any water, so they prayed without Wudu’. They mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ , and Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Uudair said: ‘May Allah reward you with good, for by Allah, nothing ever happened to you that you dislike, but Allah makes it good for you and the Muslims.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 323
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٢٣ (٣١٧)، (تحفة الأشراف ١٧٢٠٥) (صحیح )
325Sunan An Nasai

جو شخص وضو کے لئے پانی اور تیمم کرنے کے لئے مٹی نہ پا سکے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتَ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ.

طارق ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہوگیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہوگیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا ۔

It was narrated from Tariq that a man became Junub and did not pray, then he came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He said: “You did the right thing.” Another man became Junub and performed Tayammum and prayed, and he came to him and he said something similar to what he had told the other man — meaning, you did the right thing. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 324
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ٤٩٨٢)، ویاتی عندالمؤلف برقم ٤٣٥ (صحیح )
326Sunan An Nasai

جو شخص وضو کے لئے پانی اور تیمم کرنے کے لئے مٹی نہ پا سکے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that one of the wives of the Prophet ﷺ performed Ghusl from Janabah, and the Prophet ﷺ performed Wudu with her leftover water. She mentioned that to him and he said: “Water is not made impure by anything.” (Da`if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 325
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو پانی جنبی یا محدث کے استعمال سے بچ جائے، وہ استعمال کرنے والے کی جنابت یا حدث کی وجہ سے نجس نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٣٥ (٦٨)، سنن الترمذی/فیہ ٤٨ (٦٥)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٣ (٣٧٠)، (تحفة الأشراف ٦١٠٣)، مسند احمد ١/٢٣٥، ٢٨٤، ٣٠٨، ٣٣٧، سنن الدارمی/الطہارة ٥٧(٧٦١، ٧٦٢) (صحیح )
327Sunan An Nasai

بیئر بضاء سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْحِيَضُ وَالنَّتَنُ ؟ فَقَالَ: الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں سے وضو کریں؟ اور حال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “It was said: ‘Messenger of Allah ﷺ , you perform Wudu from the well of Buda’ah when it is a well into which the bodies of dogs, menstrual rags and garbage are thrown?’ He said: ‘Water is pure and it is not made impure by anything.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 326
Notes · وضاحت
١ ؎: بئر بضاعہ مدینہ کے ایک کنویں کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس کنویں کے نشیب میں واقع ہونے اور منڈیر نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب اور ہوائیں ان چیزوں کو بہا اور اڑا کر کنویں میں ڈال دیتی تھیں۔ ٣ ؎: الماء طہور میں الف لام عہد کا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سائل کے ذہن میں جس کنویں کا پانی ہے وہ نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوگا، کیونکہ اس کنویں کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی، اور اس میں ناف سے اوپر پانی رہتا تھا، اور جب کم ہوتا تو ناف سے نیچے ہوجاتا جیسا کہ امام ابوداؤد (رح) نے اپنی سنن میں اس کا ذکر کیا ہے، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ جب پانی کی مقدار زیادہ ہو تو محض نجاست کا گر جانا اسے ناپاک نہیں کرتا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطلق پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٣٤ (٦٦، ٦٧)، سنن الترمذی/فیہ ٤٩ (٦٦)، (تحفة الأشراف ٤١٤٤)، مسند احمد ٣/١٦، ٣١، ٨٦ (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبیداللہ “ مجہول الحال ہیں) قال إبن حجر: ” مستور “ من الرابعة ۔
328Sunan An Nasai

بیئر بضاء سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ وَكَانَ مِنْ الْعَابِدِينَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ، عَنْ سَلِيطٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، فَقُلْتُ: أَتَتَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُطْرَحُ فِيهَا مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّتَنِ ؟ فَقَالَ: الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس سے وضو کر رہے ہیں حالانکہ اس میں تو ایسی بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں جو ناگوار ہوتی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔

It was narrated from Ibn Abu Saeed Al-Khudri that his father said: “I passed by the Prophet ﷺ when he was performing Wudu’ from the well of Buda’ah. I said: ‘Are you performing Wudu’ from it when garbage is thrown into it?’ He said: ‘Water is not made impure by anything.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 327
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یہ اس وقت ہے جب پانی دو قلہ کی مقدار کو پہنچ گیا ہو، اور جب تک وہ اس کے رنگ، بو اور مزہ میں سے کسی وصف کو بدل نہ دے، اگر دو قلہ سے کم ہو تو نجاست پڑنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا، اسی طرح اگر رنگ مزہ اور بو کو نجاست نے بدل دیا، تو گویا وہ پانی نہیں رہا، اور جب پانی نہیں رہا تو اس میں پاک ہونے اور پاک کرنے کی صفت باقی نہیں رہی کیونکہ یہ صفت پانی ہی کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ٤١٢٥)، مسند احمد ٣/ ١٥ (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” خالد “ ١ ؎ اور ” سلیط “ ٢ ؎ وضاحت ١ ؎: قال إبن حجر: ” مقبول “ من السادسة ٢ ؎: قال إبن حجر: ” مقبول “ من السادسة
329Sunan An Nasai

پانی کا ایک اندازہ جو کہ ناپاکی کے گرنے سے ناپاک نہ ہو

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ، لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ١ ؎ ہو تو وہ گندگی کو دفع کردیتا ہے ٢ ؎۔

It was narrated from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Umar that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ was asked about water and how some animals and carnivorous beasts might drink from it. He said: ‘If the water is more than two Qullahs, it will not become filthy.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 328
Notes · وضاحت
١ ؎: قلہ کے معنی بڑے گھڑے کے ہیں، اس کی جمع قلال آتی ہے یہاں قلہ ھجر مراد ہے جس میں دو مشکیزہ یا کچھ زیادہ پانی آتا ہے، اس طرح دو قلہ پانچ مشکیزہ پانی ہوگا جو پانچ سو بغدادی رطل کے برابر ہوتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی نجاست پڑنے سے نجس نہیں ہوتا کچھ لوگوں نے لم يحمل الخبث کا ترجمہ کیا ہے کہ وہ نجاست کا متحمل نہیں ہوسکتا یعنی نجس ہوجاتا ہے لیکن یہ ترجمہ دو وجہوں سے مردود اور باطل ہے، ایک یہ کہ ابوداؤد کی ایک صحیح روایت میں إذا بلغ الماء قلتين لم ينجس آیا ہے، لہٰذا وہ روایت اسی پر محمول ہوگی اور لم يحمل الخبث کے معنی لم ينجس کے ہوں گے، دوسری یہ کہ قلتین سے نبی اکرم ﷺ نے پانی کی تحدید کی ہے، اور یہ معنی لینے کی صورت میں تحدید باطل ہوجائے گی کیونکہ قلتین سے کم اور قلتین دونوں ایک ہی حکم میں آجائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٣(٦٤، ٦٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٥٠(٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٥(٥١٧، ٥١٨)، مسند احمد ٢/١٢، ٢٣، ٢٦، ٣٨، ٠١٧، سنن الدارمی/الطہارة ٥٥(٧٥٨، ٧٥٩)، (تحفة الأشراف ٧٣٠٥) (صحیح )
330Sunan An Nasai

پانی کا ایک اندازہ جو کہ ناپاکی کے گرنے سے ناپاک نہ ہو

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُزْرِمُوهُ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ روکو (پیشاب کرلینے دو ) جب وہ پیشاب کرچکا تو آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔

It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid, and some of the people went after him, but the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not restrain him.” When he had finished he called for a bucket (of water) and poured over it. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 329
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٣ (صحیح )
331Sunan An Nasai

پانی کا ایک اندازہ جو کہ ناپاکی کے گرنے سے ناپاک نہ ہو

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) ، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، اس لیے کہ تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A Bedouin stood up and urinated in the Masjid, so the people grabbed him. The Messenger of Allah ﷺ said to them: ‘Leave him alone, and pour a bucket of water over his urine. For you have been sent to make things easy for people, you have not been sent to make things difficult.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 330
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦ (صحیح )
332Sunan An Nasai

ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی شخص کو غسل کرنے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے اس حال میں کہ وہ جنبی ہو ۔

Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘None of you should perform Ghusl in standing water while he is Junub.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 331
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢١ (صحیح )
333Sunan An Nasai

سمندر کے پانی سے وضو سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں، اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو ہم پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا، اور مردار حلال ہے ١ ؎۔

Abu Hurairah (RA) said: “A man asked the Prophet ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ , we travel by sea and we take a little water with us, but if we use it for Wudu’, we will go thirsty. Can we perform Wudu with seawater?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Its water is a means of purification and its dead meat is permissible.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 332
Notes · وضاحت
١ ؎: سائل کو سمندر کے پانی کے سلسلہ میں تردد تھا اس میں مرجانے والے جانوروں کے سلسلہ میں بدرجہ اولیٰ تردد رہا ہوگا، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے حکیمانہ اسلوب اختیار کیا تاکہ سائل کا دوسرا شبہ بھی جس کے متعلق اس نے سوال نہیں کیا ہے رفع ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٩ (صحیح )
334Sunan An Nasai

برف اور اولے کے پانی سے وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح صاف کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کردیتا ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to say:wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart of sin as a white garment is cleansed of filth).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 333
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦١ (صحیح )
335Sunan An Nasai

برف اور اولے کے پانی سے وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں کے ذریعہ دھو دے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would say: (Allah, wash away my sins with the water of snow and hail).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 334
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٠ (صحیح )
336Sunan An Nasai

کتے کا جوٹھا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو (جو اس میں ہے) اسے بہا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھو ڈالے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If a dog licks the vessel of any one of you, let him throw (the contents) away and wash it seven times.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 335
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٦ (صحیح )
337Sunan An Nasai

کتے کے جوٹھے برتن کو مٹی سے مانجھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ. وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اور شکاری کتوں کی نیز بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھو لو، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, but he made an exception for hunting dogs and sheepdogs and said: “If a dog licks a vessel then wash it seven times and rub it the eighth time with dust.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 336
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٧ (صحیح )
338Sunan An Nasai

کتے کے جوٹھے برتن کو مٹی سے مانجھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ، قال: سَمِعْتُمُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، قَالَ: مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ ؟ قَالَ: وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ. وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ. خَالَفَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: إِحْدَاهُنَّ بِالتُّرَابِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار؟ اور آپ ﷺ نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ، ابوہریرہ ؓ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Mughaffal said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed. He said: ‘What do they have to do with dogs?’ And he granted a concession regarding hunting dogs and sheepdogs. And he said: ‘If a dog licks a vessel, wash it seven times, and rub it the eighth time with dust.’ Abu Hurairah (RA) differed from him and said: ‘Rub it one time with dust.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 337
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے ایک روایت میں عفروه الثامنة اور دوسری روایت میں إحداهن بالتراب کے الفاظ آئے ہیں، ان تینوں روایتوں میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ إحداهن والی مبہم روایت أولاهن والی معین روایت پر محمول کی جائے گی، اب سات اور آٹھ کی عدد میں جو اختلاف باقی رہ گیا ہے تو سات کو وجوب، اور آٹھ کو ندب اور احتیاط پر محمول کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٧ (صحیح )
339Sunan An Nasai

کتے کے جوٹھے برتن کو مٹی سے مانجھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “If a dog licks the vessel of any one of you, let him wash it seven times, the first time with dust.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 338
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٤٦٦٤) (صحیح )