Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 140 of 289

2778Sunan An Nasai

(قربانی کا جانور کا) ہار بٹنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر (یعنی قربان گاہ پر) پہنچے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ, then he would send them, then he would do whatever the non-Muhram does before the Hadi reached its place (of sacrifice).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2776
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٠)، مسند احمد (٦/١٨٣، ٢٣٨) (صحیح )
2779Sunan An Nasai

(قربانی کا جانور کا) ہار بٹنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُقِيمُ وَلَا يُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ then he would stay with his family and not enter Ihram . (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2777
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ خود احرام کو نہیں بلکہ حج مرجانے والے کسی حاجی کے ساتھ ہدی بھیج دیتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١١١ (١٧٠٤)، الأضاحي ١٥ (٥٥٦٦)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٦)، مسند احمد (٦/٣٠، ٣٥، ١٢٧، ١٩٠، ١٩١، ٢٠٨)، سنن الدارمی/المناسک ٨٦ (١٩٧٩) (صحیح )
2780Sunan An Nasai

(قربانی کا جانور کا) ہار بٹنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، آپ اسے اپنے ہدی کے جانور کو پہناتے تھے پھر اسے روانہ فرماتے تھے۔ اور آپ خود مقیم رہتے، اور جن چیزوں سے محرم بچتا ہے ان چیزوں سے آپ نہیں بچتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ, then he would garland his Hadi, then send it, then stay (with his family) and not avoid anything that the Muhrim avoids.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2778
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١١٩ (١٧٠٢)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٣٢١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩٤ (٣٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٧)، مسند احمد (٦/٢٣٣) (صحیح )
2781Sunan An Nasai

(قربانی کا جانور کا) ہار بٹنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلَالًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال (غیر محرم) ہی رہتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember twisting the garlands for the sheep, the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ, then he stayed as a non-Muhrim.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2779
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١١٠ (١٧٠٣)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، سنن الترمذی/الحج ٧٠ (٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨٥)، مسند احمد (٦/٩١، ١٧٤، ١٩١، ٢٥٣، ٢٦٢)، ویأتي عند المؤلف: ٢٧٨٧، ٢٧٩١، ٢٧٩٩) (صحیح )
2782Sunan An Nasai

قربانی کے جانور کے ہار کس چیز سے بانٹے جائیں اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا، فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ.

ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔

It was narrated from Al Qasim that the Mother of the Believers said: “I twisted those garlands from wool that we had, then the following morning he did what any non-Muhrim does with his wife, what any man does with his wife.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2780
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١١٢ (١٧٠٥)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، سنن الدارمی/المناسک ١٧ (١٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٦٦) (صحیح )
2783Sunan An Nasai

(قربانی کے جانور) یعنی ہدی کے گلے میں کچھ لٹکانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا: بات ہے لوگ عمرہ کر کے حلال ہوگئے اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے، آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید، اور اپنی ہدی کو قلادۃ پہنا دیا ہے، تو جب تک میں قربانی نہ کرلوں حلال نہیں ہوں گا ۔

It was narrated from Hafsah (RA), the wife of the Prophet ﷺ, that she said: “Messenger of Allah ﷺ, why is it that the people have exited Ihram for ‘Umrah but you have not exited your Ihram for ‘Umrah?” He said: “I have matted my hair and garlanded my Hadi, so I will not exit Ihram until I have offered the sacrifice.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2781
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٨٣ (صحیح )
2784Sunan An Nasai

(قربانی کے جانور) یعنی ہدی کے گلے میں کچھ لٹکانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ لَبَّى وَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ہدی کے دائیں کوہان کی جانب اشعار کیا پھر اس سے خون صاف کیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں، پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، اور جب وہ آپ کو کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پکارا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that when the Prophet of Allah ﷺ came to Dhul-Hulaifah he marked the Hadi on the right side of its hump, then he removed the blood and garlanded it with two shoes, then he mounted his she-camel and when it stood up with him in Al-Baida’, he recited the Talbiyah and entered Ihram at noon, and entered Ihram for Hajj. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2782
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨٤ (صحیح )
2785Sunan An Nasai

اونٹ کے گلے میں ہار ڈالنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَوَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حَلَالًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I twisted the garlands of the Budn of the Messenger of Allah ﷺ with my own hands, then he garlanded it and marked it, and directed it toward the House and sent it. But he stayed with his family, and nothing became forbidden for him that was allowed.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2783
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٧٤ و ٢٧٧٧ (صحیح )
2786Sunan An Nasai

اونٹ کے گلے میں ہار ڈالنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کے ہار بٹے (جو آپ نے پہنائے) پھر آپ محرم نہیں ہوئے، اور نہ آپ نے کپڑوں میں سے کوئی چیز پہننی چھوڑی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I twisted the garlands for the Budn of the Messenger of Allah ﷺ then he did not enter a state of Ihram or abandon any kind of regular clothing.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2784
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٧٠ (٩٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٥١٣) (صحیح )
2787Sunan An Nasai

بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (جو قربانی کے لیے مکہ بھیجی جاتی تھیں) ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2785
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨١ (صحیح )
2788Sunan An Nasai

بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بکریوں کو بطور ہدی (مکہ) بھیجتے تھے۔

It was narrated from Aishah (RA) that on one occasion the Messenger of Allah ﷺ sent sheep as a Hadi and garlanded them. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2786
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨٧ (صحیح )
2789Sunan An Nasai

بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا وَقَلَّدَهَا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of the sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ . Then he did not enter a state of Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2787
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨٧ (صحیح )
2790Sunan An Nasai

بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (اور آپ انہیں مکہ بھیجتے) پھر بھی آپ (حلال ہی رہتے تھے) محرم نہیں ہوتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ Then he did not enter a state of Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2788
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨١ (صحیح )
2791Sunan An Nasai

بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے قلادے (ہار) بٹا کرتی تھی، آپ ﷺ احرام نہیں باندھتے تھے (یعنی حلال رہتے تھے) ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I used to twist the garlands of sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ. Then he did not enter a state of Ihram.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2789
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٣١)، مسند احمد (٦/٢٥٠) (صحیح )
2792Sunan An Nasai

بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاةَ، فَيُرْسِلُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَلَالًا لَمْ يُحْرِمْ مِنْ شَيْءٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم بکری کے گلے میں ہار ڈالتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ اسے (مکہ) بھیجتے تھے، اس حال میں کہ آپ حلال رہتے تھے، کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We used to garland the sheep, then the Messenger of Allah ﷺ, would send it, and he would not enter a state of Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2790
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٧٧ (صحیح )
2793Sunan An Nasai

ہدی کے گلے میں دو جوتے لٹکانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِأَشْعَرَ الْهَدْيَ مِنْ جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، ثُمَّ قَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کے داہنی کوہان کی جانب اشعار کیا، پھر اس کا خون صاف کیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتے ڈالے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو جب وہ بیداء میں آپ لے کر پورے طور پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے حج کا احرام باندھا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that when the Messenger of Allah ﷺ came to Dhul-Hulaifah he marked the Hadi on the right side of its hump, then removed the blood from it, then he garlanded it with two shoes and mounted his she-camel. When it stood up with him in Al-Baida’, he began the Talbiyah for Hajj and he entered Ihram at noon. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2791
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٨٤ (صحیح )
2794Sunan An Nasai

اگر قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالے تو کیا اس وقت احرام بھی باندھے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، بَعَثَ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ أَحْرَمَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ١ ؎۔

It was narrated from Jabir, that when they were present with the Messenger of Allah ﷺ in Al-Madinah, he sent the Hadi, and whoever wanted to enter Ihram did so, and whoever did not want to, did not. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2792
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ہدی بھیجے اسے اختیار ہے چاہے وہ محرم ہو کر رہے چاہے غیر محرم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٩٢٨)، مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح الإسناد )
2795Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے اسے ہدی کے گلے میں ڈالتے تھے اور اسے میرے والد کے ساتھ بھیجتے تھے تو رسول اللہ ﷺ کسی بھی ایسی چیز کا استعمال ترک نہیں کرتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہے یہاں تک کہ ہدی کو نحر کرتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ with my own hands, then the Messenger of Allah ﷺ would garland them with his own hand. Then he would send them with my father and the Messenger of Allah ﷺ would not refrain from anything that Allah, the Mighty and Sublime, has permitted until the Hadi was sacrificed.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2793
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٧٧ (صحیح )
2796Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ. Then he would not avoid anything that the Muhrim avoids.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2794
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٨ (١٧٠٠)، الوکالة ١٤ (٢٣١٧)، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٩)، موطا امام مالک/الحج ١٥ (٥١)، مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح )
2797Sunan An Nasai

کیا قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالنے پر احرام باندھنا لازم ہے؟

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا، وَلَا نَعْلَمُ الْحَجَّ، يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے (حاجی کو) بیت اللہ کے طواف ١ ؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے۔

Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ Then he would not avoid anything.” She said: “We do not know that the pilgrim may exit Ihram fully except by performing Tawaf.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2795
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طواف زیارت کے بعد ہی حاجی پورے طور سے حلال ہوتا ہے، رہا حلق تو اس سے کلی طور پر حلال نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٨٧) (صحیح) (حدیث کا آخری ٹکڑا ” لانعلم “ صحیح مسلم میں نہیں ہے )