Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 137 of 289

2718Sunan An Nasai

حج افراد کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے لیے لبیک پکارا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ entered Ihram for Hajj (only).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2716
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٢)، المغازی ٧٧ (٤٤٠٨)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٧٩)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٧ (٢٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٩)، موطا امام مالک/الحج ١١ (٣٦)، مسند احمد (٦/٣٦، ١٠٤، ١٠٧، ٢٤٣) (صحیح )
2719Sunan An Nasai

حج افراد کا بیان

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (چند دنوں کے بعد) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ around the time of the new moon of Dhul Hijjah, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever wishes to enter Ihram for Hajj, let him do so, and whoever wishes to enter Ihram for Umrah, let him do so.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2717
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ سے یہ روانگی ذی قعدہ کی پچیسویں تاریخ کو ہوئی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ١٧ (٣١٧)، والعمرة ٥ (١٧٨٣)، ٧ (١٧٨٦)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، موطا امام مالک/ الحج ١١ (٣٦)، مسند احمد (٦/١٩١) (صحیح )
2720Sunan An Nasai

حج افراد کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with the Messenger of Allah ﷺ thinking that it was for nothing other than Hajj.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2718
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦١)، ٣٥ (١٥٦٢)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/المناسک ٢٣ (١٧٨٣) مطولا، (تحفة الأشراف: ١٥٩٥٧، ١٥٩٨٤) ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٨٠٥) (صحیح )
2721Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ، فَكُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْجِهَادِ، فَوَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِي يُقَالُ لَهُ: هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: اجْمَعْهُمَا، ثُمَّ اذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ، لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ هُرَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ: يَا هَنَاهْ إِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ، فَقَالَ: اجْمَعْهُمَا ثُمَّ اذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْعُذَيْبَ، لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صبی بن معبد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک نصرانی بدوی تھا تو میں مسلمان ہوگیا اور جہاد کا حریص تھا، مجھے پتہ لگا کہ حج و عمرہ دونوں مجھ پر فرض ہیں، تو میں اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ھریم بن عبداللہ کہا جاتا تھا، میں نے اس سے پوچھا (کیا کریں) تو اس نے کہا: دونوں ایک ساتھ کرلو۔ پھر جو ہدی (قربانی) بھی تمہیں میسر ہو اسے ذبح کر ڈالو، تو میں نے (حج و عمرہ) دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں عذیب ١ ؎ پہنچا، تو وہاں مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے، میں اس وقت حج و عمرہ دونوں کے نام سے لبیک پکار رہا تھا ٢ ؎ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ شخص اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھدار نہیں، (یہ سن کر) میں عمر ؓ کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: امیر المؤمنین! میں مسلمان ہوگیا ہوں، اور میں جہاد کا حریص ہوں، اور میں نے حج و عمرہ دونوں کو اپنے اوپر فرض پایا، تو میں ہریم بن عبداللہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: حج و عمرہ دونوں مجھ پر فرض ہیں، انہوں نے کہا: دونوں ایک ساتھ کر ڈالو، اور جو جانور تمہیں میسر ہو اس کی قربانی کرلو، تو میں نے دونوں کا احرام باندھ لیا، جب میں عذیب پہنچا تو مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے، تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ہے، اس پر عمر ؓ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت کی توفیق ملی ہے ٣ ؎۔

It was narrated that Abu Wail said: "As-Subai bin Mabad said: I was a Christian Bedouin, then I became Muslim. I was keen to go for Jihad but I learned that Hajj and Umrah had been enjoined on me, I went to a man of my clan who was called Huraim bin Abdullah and asked him, and he said: "Put them together, then slaughter whatever you can of the Hadi, so I entered Ihram for both together, and when I came to al-Udhaib, I was met by Salman bin Rabiah and Zaid bin Suhan, while I was uttering the Talbiyah for both. One of them said to the other: "He does not understand more than his camel!: I came to Umar and said: "O Commander of the Believers! I have become Muslim and I am keen to go for Jihad, but I learned that Hajj and Umrah were enjoined on me, so I went to Huraim bin Abdullah and said: "Hey you! I have learned that Hajj and Umrah have been enjoined on me. He said: Put them together then slaughter whatever you can of the Hadi so I entered Ihram for both together, and when I came to Al-Udhaib I was met by Salman bin Rabiah and Zaid bin Suhan, and one of them said to the other: He does not understand more than his camel, Umar said: "You have been guided to the Sunnah of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) صلی اللہ علیہ وسلم.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2719
Notes · وضاحت
١ ؎: عذیب بنی تمیم کے ایک چشمہ کا نام ہے جو کوفہ سے ایک مرحلہ کی وادی پر ہے۔ ٢ ؎: یعنی لبیک بحج ۃ وعمر ۃ کہہ رہا تھا۔ ٣ ؎: یعنی جو تم نے کیا ہے یہی تمہارے نبی کی سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٧٩٩)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٨ (٢٩٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٦٦)، مسند احمد (١/١٤، ٢٥، ٣٤، ٣٧، ٥٣) (صحیح )
2722Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ زِائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَاالصُّبَيُّ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُمَرَ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ إِلَّا قَوْلَهُ يَا هَنَاهْ.

ابو وائل شقیق کہتے ہیں کہ ہمیں صبی بن معبد ؓ مجھ نے خبر دی پھر راوی نے اسی کے مثل بیان کی اس میں ہے کہ میں عمر ؓ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں پورا واقعہ سنایا، مگر ان میں اس کے قول یا ھناہ کا ذکر نہیں ہے۔

(Another chain) that Shaqiq said: “As-Subai told us something similar, and he said: ‘I came to ‘Umar and told him the story,’ apart from the words: ‘Hey you!” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2720
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢٠ (صحیح )
2723Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُقَالُ لَهُ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ، فَأَقْبَلَ فِي أَوَّلِ مَا حَجَّ فَلَبَّى بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ جَمِيعًا، فَهُوَ كَذَلِكَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَمَرَّ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِكَ هَذَا، فَقَالَ الصُّبَيُّ فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي حَتَّى لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ شَقِيقٌ: وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، نَسْتَذْكِرُهُ فَلَقَدِ اخْتَلَفْنَا إِلَيْهِ مِرَارًا أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ.

شقیق بن سلمہ ابو وائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہوگیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب ؓ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم ﷺ کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد ؓ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔

It was narrated from Mujahid and others, from a man from the people of Al-’Iraq who was called Shaqiq bin Salamah Abu Wa’il, that there was a man from Banu Taghlib, who was called As Subai bin Ma’bad, who had been a Christian, then became a Muslim. The first time he went for Hajj, he recited the Talbiyah for Hajj and Umrah together, and he continued to recite the Talbiyah for them together. He passed by Salman bin Rabi’ah and Zaid bin Suban, and one of them said: “You are more lost than this camel of yours.” As Subai’ said: “This upset me until I met ‘Umar bin Al-Khattab (RA), and I mentioned that to him. He said: ‘You have been guided to the Sunnah of your Prophet ﷺ. Shaqiq said: “Masruq bin Al-Ajda’ and I often used to visit As-Subai bin Ma’bad and talk with him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2721
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢٠ (صحیح )
2724Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُثْمَانَ، فَسَمِعَ عَلِيًّا يُلَبِّي بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَلَمْ تَكُنْ تُنْهَى عَنْ هَذَا ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَلَمْ أَدَعْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ.

مروان بن حکم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں عثمان کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے علی کو عمرہ و حج دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: کیا ہم اس سے روکے نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا: کیونکہ نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں (حج و عمرہ) کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے قول کو آپ کے قول کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔

It was narrated that Marwan bin Al-Hakam said: “I was sitting with ‘Uthman and he heard ‘Ali reciting the Talbiyah for Umrah and Hajj (together). He said: ‘Were you not forbidden to do this?’ He said: ‘Yes, but I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting the Talbiyah for them together, and I will not ignore what the Messenger of Allah ﷺ said in favor of what you say.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2722
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٣)، مسند احمد (١/١٩٥، ١٣٥)، سنن الدارمی/المناسک ٧٨ (١٩٦٤) (صحیح )
2725Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍيُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ، أَنَّ عُثْمَانَنَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًافَقَالَ عُثْمَانُ: أَتَفْعَلُهَا وَأَنَا أَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ.

مروان سے روایت ہے کہ عثمان ؓ عنہ نے متعہ سے اور اس بات سے کہ آدمی حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کرے منع کیا تو علی نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، عثمان ؓ عنہ نے کہا: کیا تم اسے کر رہے ہو؟ اور حال یہ ہے کہ میں اس سے منع کر رہا ہوں، اس پر علی ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو کسی بھی شخص کے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتا۔

It was narrated that Al Hakam said: “I heard ‘Ali bin Hussain narrating from Marwan, that ‘Uthman forbade Mutah and joining Hajj and Umrah. ‘Ali said: (O Allah for Hajj and Umrah together).’ ‘Uthman said: ‘Are you doing this when I have forbidden it?’ ‘Ali said: ‘I will not give up the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ for any of the people.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2723
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢٣ (صحیح )
2726Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی شعبہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔

A similar report was narrated from Shubah with the same chain. (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢٣ (صحیح )
2727Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ صَنَعْتَ ؟قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِكَ، قَالَ: فَإِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ، قَالَ: وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ، وَلَكِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ.

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا حاکم بنایا، پھر جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، علی ؓ نے کہا: تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے کیسے کیا ہے؟ یعنی کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے، میں نے کہا: میں نے آپ کا تلبیہ پکارا ہے (یعنی آپ کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے) ، آپ نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے قران کیا ہے ، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ باتیں معلوم ہوئی ہوتیں جواب معلوم ہوئی ہیں تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے تم نے کیا ہے ١ ؎ لیکن میں ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے حج قران کا احرام باندھ رکھا ہے ۔

It was narrated that Al-Bara’ said: “I was with ‘Ali Ibn Abi Talib (RA) when the Messenger of Allah ﷺ appointed him as goveror of Yemen. When he came to the Messenger of Allah ﷺ ‘Ali said: ‘I came to the Messenger of Allah ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ said: “What did you do?” I said: “I entered Ihram for that for which you entered Ihram.” He said: “I have brought the Hadi and am performing Qirn” And he said to his companions: “If I had known what I know now, I would have done what you have done, but brought the Hadi and I am performing Qirn.” (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2725
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں بھی احرام کھول کر حلال ہوجاتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٢٦) ویأتی عند المؤلف برقم ٢٧٤٦ (صحیح )
2728Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يَقُولُ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ تُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْهَا، وَقَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ بِتَحْرِيمِهِ.

مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہوگئی۔

‘Imran bin Husain said: “The Messenger of Allah ﷺ combined Hajj and Umrah, then he passed away before he could forbid that, and before Qur’an was revealed forbidding it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2726
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٤٦)، صحیح البخاری/الحج ٣٦ (١٥٧١)، و تفسیر البقرة ٣٣ (٤٥١٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٨)، مسند احمد (٤/٤٢٧ (صحیح )
2729Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِيهِمَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.

عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم ﷺ نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Imran that the Messenger of Allah ﷺ combined Hajj and Umrah, then no Qur’an was revealed concerning that, and the Prophet ﷺ did not forbid it, regardless of what one man may say. (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2727
Notes · وضاحت
١ ؎: اشارہ عمر رضی الله عنہ کی طرف سے، کیونکہ وہ حج و عمرہ دونوں کو جمع کرنے سے روکتے تھے، جیسے عثمان رضی الله عنہ روکتے تھے جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح ٢ /٨٩٨ میں اس کی تصریح کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٥١) (صحیح )
2730Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ هَذَا أَحَدُهُمْ لَا بَأْسَ بِهِ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ لَا بَأْسَ بِهِ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ يَرْوِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَالْحَسَنُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور (دوسرے) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔

It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah said: “Imran bin Hussain said to me: ‘We performed Tamattu’ with the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: There are three (named) Isma’il bin Muslim; this is one of them, and there is no harm in him. And Shaikh Isma’il bin Muslim who reports from Abd Tufail, there is no harm in him. And Isma’ibin Muslim who reports from Az-Zuhri and Al-Hasan; he is abandoned in Hadith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2728
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٥٣) (صحیح )
2731Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَيَحْيَى بْنُ أبي إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْأَنَسٍ سَمِعُوهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا کہتے سنا ہے۔

It was narrated that Anas (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Labbaika ‘Umratan wa Hajjan ma’àn, (Here I am (Allah) for Umrah and Hajj together).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2729
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٤ (١٢٥١)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٧٩٥)، (تحفة الأشراف: ٧٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١١ (٨٢١)، سنن ابن ماجہ/الحج ١٤، ٣٨ (٢٩١٧، ٢٩٦٨، ٢٩٦٩)، مسند احمد (٣/٩٩)، سنن الدارمی/المناسک ٧٨ (١٩٦٥) (صحیح )
2732Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِمَا.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (حج و عمرہ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا۔

It was narrated that Anas (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting the Talbiyah for them both.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2730
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧١٢) (صحیح )
2733Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا، فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا مَعًا.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے تو میں نے اسے ابن عمر ؓ سے بیان کیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر میری ملاقات انس سے ہوئی تو میں نے ان سے ابن عمر ؓ کی بات بیان کی، اس پر انس ؓ نے کہا: تم لوگ ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک ساتھ لبيك عمرة وحجا کہتے ہوئے سنا ہے۔

Bakr bin ‘Abdullah Al Muzani said: “Anas said: ‘I heard the Prophet ﷺ reciting the Talbiyah for Umrah and Hajj together. I told Ibn ‘Umar about that and he said: “He recited the Talbiyah for Hajj only.” I met Anas and told him what Ibn ‘Umar had said, and Anas said: “Do you think of us as no more than children? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Labbaika ‘Umratan wa Hajjan ma’an (Here I am (Allah) for ‘Umrah and Hajj together).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2731
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازی ٦١ (٤٣٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٢٧ (١٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٧)، مسند احمد (٢/٤١، ٥٣، ٧٩، ٣/٩٩، سنن الدارمی/المناسک ٧٨ (١٩٦٦) (صحیح )
2734Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى، وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْد، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ لِيُهْدِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْع، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ، فَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ، فَأَتَى الصَّفَا، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ١ ؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے (وہاں) رسول اللہ ﷺ نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔ تو جب رسول اللہ ﷺ مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کرلیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا ومروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر (اٹھویں ذی الحجہ کو) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ٢ ؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔ پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کرلیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنے ہدی کی نحر کی (جانور ذبح کئے) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں ان سب سے حلال ہوگئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی (کا جانور) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا۔

It was narrated from Salim bin ‘Abdullah that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah ﷺ benefited from performing ‘Umrah and then Hajj, and he brought a Hadi (sacrificial animal) with him from Dhul-Hulaifah. The Messenger of Allah ﷺ entered Ihram for ‘Umrah first, then for Hajj, and the people also benefited by entering Ihram for ‘Umrah first, then for Hajj. Some of the people brought the Hadi and carried it along with them, and others did not. When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah, he said to the people: ‘Whoever among you has brought a Hadi, nothing is permissible for him that became forbidden when he entered ihram, until he has finished his Hajj. Whoever did not find a Hadi, let him fast for three days during the Hajj, and for seven when he returns to his family.’ The Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf when he came to Makkah and touched the corner (where the Black Stone is) first of all, then he walked rapidly during the first three of the seven circles, and walked during the last four. After he finished circumambulating the House he prayed two Rak’ahs at Maqam Ibrahim. Then he went to As-Safa and walked seven rounds between As-Safa and Al-Marwah. And he did not do any action that was forbidden because of Ihram until he had completed his Hajj and slaughtered his Hadi on the Day of Sacrifice. Then he hastened onward (toward Makkah) and circumambulated the House. Then everything that had been forbidden because of Ihram became permissible. And those who had brought the Hadi with them did the same as the Messenger of Allah ﷺ did.” (Sahih)

صحيح ق لکن قوله وبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2732
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا فائدہ اٹھایا یہاں تمتع سے لغوی تمتع مراد ہے نہ کہ اصطلاحی کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں قارن تھے۔ ٢ ؎: یعنی مونڈھے ہلاتے ہوئے تیز چال سے چلے اسے رمل کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٤ (١٦٩١)، صحیح مسلم/الحج ٢٤ (١٢٢٧)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٧٨)، مسند احمد (٢/١٣٩) (صحیح )
2735Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: حَجَّ عَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِنَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ، فَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ ؟قَالَ: بَلَىقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟قَالَ: بَلَى.

سعید بن مسیب کہتے ہیں: علی اور عثمان ؓ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان ؓ عنہ نے تمتع سے منع کیا، علی ؓ نے کہا: جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ (عثمان) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو، علی ؓ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (یعنی تمتع کیا) تو عثمان ؓ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا، علی ؓ نے کہا: کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (صحیح اطلاع دی ہے) تو علی ؓ نے ان سے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمتع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے ١ ؎۔

Saeed bin Al-Musayyab said: Ali and ‘Uthman performed Hajj, and when we were partway there, ‘Uthman forbade Tamattu’. ‘Ali said: ‘When you see him setting out, set out with him (saying the Talbiyah for ‘Umrah).’ So ‘All and his Companions recited the Talbiyah for ‘Umrah, and ‘Uthman did not forbid them. ‘Ali said: ‘Have I not been told that you forbade Tamattu’?’ He said: ‘Yes, I did.’ ‘Ali said to him: ‘Did you not hear that the Messenger of Allah ﷺ l did Tamattu?’ He said: ‘Of course.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2733
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بات چیت کا خلاصہ یہ ہے کہ عمر اور عثمان رضی الله عنہما دونوں کی رائے یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ کے وقت میں لوگوں نے جو تمتع کیا اس کی کوئی خاص وجہ تھی، اور اب اس کا نہ کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف علی رضی الله عنہ کی رائے یہ تھی کہ یہی سنت اور افضل ہے (واللہ تعالیٰ اعلم)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٩)، صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٠١١٤)، مسند احمد (١/٥٧، ١٣٦) (صحیح )
2736Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ سَعْدٌ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ الضَّحَّاكُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ سَعْدٌ: قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ.

محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس ؓ کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر ؓ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک ؓ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہوگا، اس پر سعد ؓ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک ؓ نے کہا: عمر بن خطاب ؓ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد ؓ نے کہا: اسے رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے بھی کیا ہے۔

It was narrated from Muhammad bin ‘Abdullah bin Al Harith bin Nawfal bin Al-Harith bin ‘Abdul-Muttalib that during the year that Muawiyah bin Abi Sufyan performed Hajj, he heard Sad bin Abi Waqqas and Ad Dahhak bin Qais talking about joining ‘Umrah to Hajj (Tamattu’). Ad-Dahhak said: “None does that but one who is igorant of the ruling of Allah.” Sad said: “What a bad thing to say, son of my brother!” Ad-Dahhak said: “Umar bin Al Khattab forbade that.” Sad said: “The Messenger of Allah ﷺ did that and we did it with him.” (Hasan)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2734
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٢ (٨٢٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢٨)، موطا امام مالک/الحج ١٩ (٦٠)، مسند احمد (١/١٧٤)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٥٥) (ضعیف الإسناد )
2737Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْعُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ١ ؎ آپ کو امیر المؤمنین (عمر بن خطاب ؓ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ اراک میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔

It was narrated that Abu Musa (RA) said that he used to issue Fatwas concerning Tamattu’. Then a man said to him: “Withhold some of your Fatwas, for you do not know what the Commander of the Believers introduced into the rites subsequently.” Then when I met him, I asked him. ‘Umar said: “I know that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions did it, but I did not like that people should lay with their wives in the shade of the Arak trees, and then go out for Hajj with their heads dripping.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2735
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا یہ فتویٰ امیر المؤمنین کے جاری کردہ حکم کے خلاف ہو اور وہ تم پر ناراض ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٢ (١٢٢٢)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٤)، مسند احمد (١/٤٩)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٥٦) (صحیح )