Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 136 of 289

2698Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي أُصُولِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to see the glistening of the perfume at the roots of the hair of the Messenger of Allah ﷺ when he was in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2696
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٩٥ (صحیح )
2699Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “It is as if I can see the glistening of the perfume in the parting on the head of the Messenger of Allah ﷺ when he was in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2697
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطہارة ١٤ (٢٧١)، اللباس ٧٠ (٥٩١٨)، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٢٨) (صحیح )
2700Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ:: نَبَّأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُنْدُرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I saw the glistening of the perfume on the head of the Messenger of Allah ﷺ while he was initiating Ihram. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2698
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٥٤)، مسند احمد (٦/١٠٩، ١٧٣، ١٧٥، ٢٢٤، ٢٣٠) (صحیح )
2701Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک پکار رہے ہیں۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “It is as if I can see the glistening of the perfume in the parting of the Messenger of Allah ﷺ while he was in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2699
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٩٩ (صحیح )
2702Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَنَّادٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُهُ، حَتَّى أَرَى وَبِيصَهُ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَلَى هَذَا الْكَلَامِ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے (ہناد کی روایت میں ہے جب رسول اللہ ﷺ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے) تو اچھے سے اچھا عطر جو آپ کو میسر ہوتا لگاتے یہاں تک کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی میں دیکھتی۔ امام نسائی کہتے ہیں: اس بات پر ابواسحاق کی اسرائیل نے متابعت کی ہے انہوں نے اسے عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن أبيه عن عائشة کے طریق سے روایت کیا ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Prophet ﷺ and (in his narration) Hannad said: The Messenger of Allah ﷺ “wanted to enter Ihram, he would daub the best perfume that he could find, until I saw it glistening on his head and in his beard.” (Sahih) Isra’il followed up with this saying, and he said: “From ‘Abdur Rahman bin Al-Aswad, from his father, from Aishah (RA) .”

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2700
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٥) (صحیح )
2703Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الطِّيبِ حَتَّى أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اچھی سے اچھی خوشبو جو مجھے میسر ہوتی لگاتی تھی یہاں تک کہ احرام سے پہلے میں آپ کے سر اور داڑھی میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ using the best perfume I could find, until I saw the perfume glistening on his head and in his beard, before he entered Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2701
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٤ (٥٩٢٣)، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠١٠)، مسند احمد (٦/٢٠٩، ٢٥٠، ٢٥٤) (صحیح )
2704Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی مانگوں میں خوشبو کی چمک تین دن بعد (بھی) دیکھی ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I saw the glistening of the perfume in the parting of the Messenger of Allah ﷺ after three (days).” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2702
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٩٧٩)، مسند احمد (٦/٤١، ٢٦٤) (صحیح الإسناد )
2705Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں تین دن بعد (بھی) خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to see the glistening of the perfume in the parting of the Messenger of Allah ﷺ after three (days).” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2703
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٨ (٢٩٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٦) (صحیح بما قبلہ )
2706Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَلِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِلَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا.

محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ ؓ سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔

It was narrated from Ibrahim bin Al-Muntashir that his father said: “I asked Ibn ‘Umar about wearing perfume when entering Ihram and he said: ‘If I were to be daubed with tar that would be dearer to me than that.’ I mentioned that to Aishah (RA) and she said: ‘May Allah have mercy on Abu ‘Abdur-Rahman. I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ then he would go around his wives, then in the morning he would be smelling strongly of perfume. “ (Sahih)

صحيح ق وليس عند خ ذکر الإطلاءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2704
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٧ (صحیح )
2707Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَحُ طِيبًا فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.

محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو۔ تو میں عائشہ ؓ کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے۔

It was narrated from Muhammad bin Ibrahim bin Al Muntashir that his father said: “I heard Ibn ‘Umar say: ‘If I were to wake up daubed with tar, that would be dearer to me than waking up and entering Ihram smelling strongly of perfume.’ I entered upon Aishah (RA) and told her what he had said. She said: ‘I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he went around among his wives, then the next morning he entered Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2705
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٧ (صحیح )
2708Sunan An Nasai

محرم کے واسطے زعفران لگانا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی (حالت احرام میں) زعفران لگا۔

It was narrated that Anas said: “The Prophet ﷺ forbade men to perfume themselves with saffron.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2706
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الباس ٢٣ (٢١٠١)، سنن ابی داود/الترجل ٨ (٤١٧٩)، سنن الترمذی/الأدب ٥١ (٢٨١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٣٣ (٥٨٤٦)، ویأتی عند المؤلف رقم ٥٢٥٨، مسند احمد (٣/١٠١) (صحیح )
2709Sunan An Nasai

محرم کے واسطے زعفران لگانا

أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بَقَيَّةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّزَعْفُرِ.

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی (حالت احرام میں) زعفران لگائے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade perfuming oneself with saffron.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2707
Takhrij · تخریج
انظرماقبلہ (صحیح )
2710Sunan An Nasai

محرم کے واسطے زعفران لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ، قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي: لِلرِّجَالِ.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زعفران استعمال کرنے سے روکا ہے۔ حماد (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: یعنی مردوں کے لیے ممانعت ہے۔

It was narrated that Anas that the Messenger of Allah ﷺ forbade perfuming oneself with saffron.” Hammad said: “Meaning, for men.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2708
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٠٧ (تحفة الأشراف: ١٠١١)، مسند احمد (٣/١٨٧) (صحیح )
2711Sunan An Nasai

محرم شخص کے واسطے خلوق کا استعمال

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَمَا أَصْنَعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَقَالَ: كُنْتُ أَتَّقِي هَذَا وَأَغْسِلُهُ، فَقَالَ: مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ.

یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے اور خلوق لگائے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، وہ عمرہ کا احرام باندھے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، اور خلوق میں لت پت تھا، تو اس نے عرض کیا: میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہی کرو جو حج میں کرتے ہو ، اس نے کہا: میں (حج میں) اس سے بچتا تھا، اور اسے دھو ڈالتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جو تم حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو ۔

It was narrated from Safwan bin Ya’la, from his father, that a man came to the Prophet ﷺ who had initiated Ihram for ‘Umrah, wearing sewn garments and having put on Khaluiq. He said: “I have initiated I, for ‘Umrah, so what should I do?” The Prophet ﷺ said:“What would you do if you were doing Hajj?” He said: “I would avoid this and wash it off.” He said: “Whatever you would do for Hajj, do it for ‘Umrah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2709
Notes · وضاحت
١ ؎: خلوق ایک معروف خوشبو ہے جو زعفران ملا کر بنائی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٦٩ (صحیح )
2712Sunan An Nasai

محرم شخص کے واسطے خلوق کا استعمال

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍيُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى فَقَالَ: انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ.

یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو (زعفران سے) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو ۔

It was narrated from Safwan bin Ya’la that his father said: “A man came to the Messenger of Allah ﷺ when he was in Al-Ji’ranah wearing a Jubbah, and having applied Khauq to his beard and head. He said: ‘Messenger of Allah ﷺ! I have entered Ihram for ‘Umrah and I am as you see.’ He said: ‘Take off the Jubbah and wash off the perfume, and whatever you would do for Hajj, do it for ‘Umrah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2710
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٦٩ (صحیح )
2713Sunan An Nasai

محرم کے واسطے سرمہ لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُحْرِمِ: إِذَا اشْتَكَى رَأْسَهُ وَعَيْنَيْهِ أَنْ يُضَمِّدَهُمَا بِصَبِرٍ.

عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کے بارے میں فرمایا: جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کرلے ١ ؎۔

It was narrated from Aban bin ‘Uthman that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said concerning a Muhrim whose head or eyes hurt: ‘Let him smudge them with aloes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2711
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسی دوا لگالے جس میں خوشبو نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٢ (١٢٠٤)، سنن ابی داود/الحج ٣٧ (١٨٣٨)، سنن الترمذی/الحج ١٠٦ (٩٥٢)، مسند احمد (١/٥٩، ٦٥)، سنن الدارمی/المناسک ٨٣ (١٩٧١) (صحیح )
2714Sunan An Nasai

محرم کے واسطے رنگین کپڑے استعمال کرنے کی کراہٹ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرًافَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحْلِلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً، وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا وَإِذَا فَاطِمَةُ قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا.

محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر (جابر بن عبداللہ ؓ) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوگیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی (کا جانور) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کردیتا (اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے (اسی موقع پر) علی ؓ یمن سے ہدی (کے اونٹ) لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لے کر گئے۔ اور فاطمہ ؓ نے جب رنگین کپڑے پہن لیے اور سرمہ لگا لیا علی ؓ کہتے ہیں کہ میں تو غصہ میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! فاطمہ نے تو رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور کہتی ہیں: میرے ابا جان ﷺ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے؟، آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے، سچ کہا، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے ۔

It was narrated that Ja’far bin Muhammad said: “My father said: ‘We came to Jabir and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ. He told us that the Messenger of Allah ﷺ said: “Had I known when I set out what I know now, I would have brought the Hadi (sacrificial animal) with me and I would not have made it ‘Umrah. Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram and make it ‘Umrah.” ‘Ali (RA), came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah ﷺ brought a Hadi from Al-Madinah. Fatimah had put on a dyed garment and applied kohl to her eyes, and he (‘Ali) said: “I went to the Prophet ﷺ to complain about that and find out whether she could do that. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Fatimah has put on a dyed garment and applied kohl to her eyes, and she said, the Messenger of Allah ﷺ told me to do that.’ He said: ‘She is telling the truth, she is telling the truth, she is telling the truth. I told her to do that.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2712
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨)، سنن ابی داود/الحج ٥٧ (١٩٠٥)، سنن ابن ماجہ/الحج ٨٤ (٣٠٧٤)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٣)، مسند احمد (٣/٣٢٠)، ویأتی عند المؤلف فی ٥١، ٥٢، ٧٣، ٣٣١، ٣٣٣، ٣٤٠، ٣٧٣، ٣٨٨، ٣٩٤، ٣٩٧، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٦) (بأرقام ٢٧٤١، ٢٧٤٤) (صحیح )
2715Sunan An Nasai

محرم کا سر اور چہرہ ڈھانکنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گرپڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man fell from his mount and it trampled him. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him with water and lotus leaves, and he should be shrouded in two cloths, leaving his head and face bare, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2713
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٠ (١٢٦٧)، الصید ٢١ (١٨٥١)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٨٩ (٣٠٨٤ م)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٣)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٨٦، ٣٢٨، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٨٥٦، ٢٨٥٧، ٢٨٦٠) (صحیح )
2716Sunan An Nasai

محرم کا سر اور چہرہ ڈھانکنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثِيَابِهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man died, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in his cloths, but do not cover his head and face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2714
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٥ (صحیح )
2717Sunan An Nasai

حج افراد کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj only (Ifrad). (Sahih)

ضعيف شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2715
Notes · وضاحت
١ ؎: حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قران اور تمتع، حج افراد: یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور ساتھ میں ہدی کا جانور بھی لے اور حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمرے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ سے نئے سرے سے حج کا احرام باندھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٧٧)، سنن الترمذی/الحج ١٠ (٨٢٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٧ (٢٩٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٥١٧)، موطا امام مالک/الحج ١١ (٣٧) حم ٦/٢٤٣، سنن الدارمی/المناسک ١٦ (١٨٥٣) (صحیح الإسناد، شاذ )