ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to see the glistening of the perfume at the roots of the hair of the Messenger of Allah ﷺ when he was in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2696
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “It is as if I can see the glistening of the perfume in the parting on the head of the Messenger of Allah ﷺ when he was in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2697
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I saw the glistening of the perfume on the head of the Messenger of Allah ﷺ while he was initiating Ihram. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2698
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک پکار رہے ہیں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “It is as if I can see the glistening of the perfume in the parting of the Messenger of Allah ﷺ while he was in Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2699
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے (ہناد کی روایت میں ہے جب رسول اللہ ﷺ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے) تو اچھے سے اچھا عطر جو آپ کو میسر ہوتا لگاتے یہاں تک کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی میں دیکھتی۔ امام نسائی کہتے ہیں: اس بات پر ابواسحاق کی اسرائیل نے متابعت کی ہے انہوں نے اسے عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن أبيه عن عائشة کے طریق سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Prophet ﷺ and (in his narration) Hannad said: The Messenger of Allah ﷺ “wanted to enter Ihram, he would daub the best perfume that he could find, until I saw it glistening on his head and in his beard.” (Sahih) Isra’il followed up with this saying, and he said: “From ‘Abdur Rahman bin Al-Aswad, from his father, from Aishah (RA) .”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2700
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اچھی سے اچھی خوشبو جو مجھے میسر ہوتی لگاتی تھی یہاں تک کہ احرام سے پہلے میں آپ کے سر اور داڑھی میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ using the best perfume I could find, until I saw the perfume glistening on his head and in his beard, before he entered Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2701
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں تین دن بعد (بھی) خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to see the glistening of the perfume in the parting of the Messenger of Allah ﷺ after three (days).” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2703
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٨ (٢٩٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٦) (صحیح بما قبلہ )
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ ؓ سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔
It was narrated from Ibrahim bin Al-Muntashir that his father said: “I asked Ibn ‘Umar about wearing perfume when entering Ihram and he said: ‘If I were to be daubed with tar that would be dearer to me than that.’ I mentioned that to Aishah (RA) and she said: ‘May Allah have mercy on Abu ‘Abdur-Rahman. I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ then he would go around his wives, then in the morning he would be smelling strongly of perfume. “ (Sahih)
صحيح ق وليس عند خ ذکر الإطلاءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2704
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو۔ تو میں عائشہ ؓ کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے۔
It was narrated from Muhammad bin Ibrahim bin Al Muntashir that his father said: “I heard Ibn ‘Umar say: ‘If I were to wake up daubed with tar, that would be dearer to me than waking up and entering Ihram smelling strongly of perfume.’ I entered upon Aishah (RA) and told her what he had said. She said: ‘I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he went around among his wives, then the next morning he entered Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2705
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زعفران استعمال کرنے سے روکا ہے۔ حماد (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: یعنی مردوں کے لیے ممانعت ہے۔
It was narrated that Anas that the Messenger of Allah ﷺ forbade perfuming oneself with saffron.” Hammad said: “Meaning, for men.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2708
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٠٧ (تحفة الأشراف: ١٠١١)، مسند احمد (٣/١٨٧) (صحیح )
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے اور خلوق لگائے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، وہ عمرہ کا احرام باندھے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، اور خلوق میں لت پت تھا، تو اس نے عرض کیا: میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہی کرو جو حج میں کرتے ہو ، اس نے کہا: میں (حج میں) اس سے بچتا تھا، اور اسے دھو ڈالتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جو تم حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو ۔
It was narrated from Safwan bin Ya’la, from his father, that a man came to the Prophet ﷺ who had initiated Ihram for ‘Umrah, wearing sewn garments and having put on Khaluiq. He said: “I have initiated I, for ‘Umrah, so what should I do?” The Prophet ﷺ said:“What would you do if you were doing Hajj?” He said: “I would avoid this and wash it off.” He said: “Whatever you would do for Hajj, do it for ‘Umrah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2709
Notes · وضاحت
١ ؎: خلوق ایک معروف خوشبو ہے جو زعفران ملا کر بنائی جاتی ہے۔
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو (زعفران سے) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو ۔
It was narrated from Safwan bin Ya’la that his father said: “A man came to the Messenger of Allah ﷺ when he was in Al-Ji’ranah wearing a Jubbah, and having applied Khauq to his beard and head. He said: ‘Messenger of Allah ﷺ! I have entered Ihram for ‘Umrah and I am as you see.’ He said: ‘Take off the Jubbah and wash off the perfume, and whatever you would do for Hajj, do it for ‘Umrah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2710
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کے بارے میں فرمایا: جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کرلے ١ ؎۔
It was narrated from Aban bin ‘Uthman that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said concerning a Muhrim whose head or eyes hurt: ‘Let him smudge them with aloes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2711
محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر (جابر بن عبداللہ ؓ) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوگیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی (کا جانور) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کردیتا (اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے (اسی موقع پر) علی ؓ یمن سے ہدی (کے اونٹ) لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لے کر گئے۔ اور فاطمہ ؓ نے جب رنگین کپڑے پہن لیے اور سرمہ لگا لیا علی ؓ کہتے ہیں کہ میں تو غصہ میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! فاطمہ نے تو رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور کہتی ہیں: میرے ابا جان ﷺ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے؟، آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے، سچ کہا، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے ۔
It was narrated that Ja’far bin Muhammad said: “My father said: ‘We came to Jabir and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ. He told us that the Messenger of Allah ﷺ said: “Had I known when I set out what I know now, I would have brought the Hadi (sacrificial animal) with me and I would not have made it ‘Umrah. Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram and make it ‘Umrah.” ‘Ali (RA), came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah ﷺ brought a Hadi from Al-Madinah. Fatimah had put on a dyed garment and applied kohl to her eyes, and he (‘Ali) said: “I went to the Prophet ﷺ to complain about that and find out whether she could do that. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Fatimah has put on a dyed garment and applied kohl to her eyes, and she said, the Messenger of Allah ﷺ told me to do that.’ He said: ‘She is telling the truth, she is telling the truth, she is telling the truth. I told her to do that.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2712
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گرپڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man fell from his mount and it trampled him. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him with water and lotus leaves, and he should be shrouded in two cloths, leaving his head and face bare, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2713
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man died, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in his cloths, but do not cover his head and face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2714
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj only (Ifrad). (Sahih)
ضعيف شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2715
Notes · وضاحت
١ ؎: حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قران اور تمتع، حج افراد: یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور ساتھ میں ہدی کا جانور بھی لے اور حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمرے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ سے نئے سرے سے حج کا احرام باندھے۔