Sunan An Nasai 2706

میقاتوں سے متعلق احادیث

2706Sunan An Nasai

خوشبو لگانے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَلِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِلَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا.

محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ ؓ سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔

It was narrated from Ibrahim bin Al-Muntashir that his father said: “I asked Ibn ‘Umar about wearing perfume when entering Ihram and he said: ‘If I were to be daubed with tar that would be dearer to me than that.’ I mentioned that to Aishah (RA) and she said: ‘May Allah have mercy on Abu ‘Abdur-Rahman. I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ then he would go around his wives, then in the morning he would be smelling strongly of perfume. “ (Sahih)

صحيح ق وليس عند خ ذکر الإطلاءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2704
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٧ (صحیح )