عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے کیا ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard ‘Umar say: ‘By Allah, I forbid you to perform Tamattu’, but it is mentioned in the Book of Allah and the Messenger of Allah ﷺ did it” - meaning, ‘Umrah with Hajj. (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2736
طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کترے تھے (میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ) ابن عباس ؓ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے تمتع کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Tawus said: “Muawiyah said to Ibn ‘Abbas (RA): “Do you know that I cut the hair of the Messenger of Allah ﷺ at Al-Marwah?” He said: “No.” Ibn ‘Abbas said: “This Muawiyah forbids the people to perform Tamattu‘ but the Prophet ﷺ performed Tamattu’.” (Sahih)
صحيح ق دون قول ابن عباس هذا معاويةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2737
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں روایت میں ایک اشکال ہے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ متمتع تھے حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آپ قارن تھے، آپ نے اپنے بال میں سے کوئی چیز نہیں کتروائی اور نہ کوئی چیز اپنے لیے حلال کی یہاں تک کہ یوم النحر کو منیٰ میں آپ نے حلق کرائی اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ شاید حج سے معاویہ کی مراد عمرہ جعرانہ ہو کیونکہ اسی موقع پر وہ اسلام لائے تھے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ بطحاء میں تھے۔ آپ نے فرمایا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ پر تلبیہ پکارا ہے، پوچھا: کیا تم کوئی ہدی لے کر آئے ہو ، میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا طواف کرو اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، پھر میں اپنے خاندان کی ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے بالوں میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا۔ چناچہ میں ابوبکر اور عمر ؓ کی خلافت میں لوگوں کو اسی کا فتویٰ دیتا رہا۔ (ایک بار ایسا ہوا کہ) میں حج کے موسم میں کھڑا تھا کہ یکایک ایک شخص میرے پاس آ کر کہنے لگا: آپ اس چیز کو نہیں جانتے جو امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں نیا حکم دیا ہے؟ تو میں نے کہا: لوگو! میں نے جس کسی کو بھی کوئی فتویٰ دیا ہو وہ اس پر عمل کرنے میں ذرا توقف کرے، کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں، تو وہ جو فرمائیں اس کی پیروی کرو۔ تو جب وہ آئے تو میں نے کہا: امیر المؤمنین! یہ کیا ہے جو حج کے سلسلے میں آپ نے نئی بدعت نکالی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: وأتموا الحج والعمرة لله اور اگر ہم اپنے نبی اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی کریں، تو آپ حلال نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے ہدی کی قربانی نہیں کرلی۔
It was narrated that Abu Musa (RA) said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ when he was in Al-Batha’, and he said: ‘For what have you entered ihram?’ I said: ‘I have entered Ihram for that for which the Prophet ﷺ had entered Ihram. He said: ‘Have you brought a Hadi (sacrificial animal)?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then circumambulate the House and (perform Sa’i) between As Safa and Al-Marwah, then exit Ihram.’ So I circumambulated the House and (performed Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah, then went to a woman of my people and she combed and washed my hair. I used to issue Fatwas to the people based on that, during the Khilafah of Abu Bakr (RA) and ‘Umar. Then one day during Hajj season a man came to me and said: ‘You do not know what the Commander of the Believers has introduced concerning the rites. I said: people, whoever heard our Fatwa, let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to you, and you should follow him. When he came, I said: Commander of the Believers! What is this that you have introduced concerning the rites? He said: If we follow the Book of Allah, then Allah, the Mighty and Sublime, says: ‘And complete the Hajj and ‘Umrah for Allah.’ And if we follow the Sunnah of our Prophet ﷺ, then our Prophet ﷺ did not exit Ihram until he had slaughtered the Hadi (sacrificial animal).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2738
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (حج) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج) تمتع کیا (لیکن) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ١ ؎۔
It was narrated that Mutarrif said: “Imran bin Husain said to me: ‘The Messenger of Allah ﷺ performed ‘Umrah and Hajj together, and we performed ‘Umrah and Hajj together with him. And whoever says anything different, that is his own personal opinion.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2739
Notes · وضاحت
١ ؎: لہٰذا صریح سنت کے مقابلہ میں قائل کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔
ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ ﷺ حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آگئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل (تفسیر) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چناچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
Ja’far (RA) bin Muhammad said: “My father told me: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ. He told us: The Messenger of Allah ﷺ stayed in Al-Madinah for nine years of Hajj then it was announced to the people that the Messenger of Allah ﷺ was going to perform Hajj this year. Many people came to Al-Madinah, all of them hoping to learn from the Messenger of Allah ﷺ and to do as he did. The Messenger of Allah ﷺ set out when there were five days left of Dhul-Qa’dah, and we set out with him.” Jabir said: “And the Messenger of Allah ﷺ was among us; the Qur’an was being revealed to him, and he knew what it meant. Whatever he did based on it (the Qur’an), we did, and we set out with no intention other than Hajj.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2740
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی، تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: کیا تجھے حیض آگیا ہے میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with no intention other than Hajj. And when we were in Sarf, my menses came. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me while I was weeping, and he said: ‘Have your menses come?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘That is something that Allah, the Mighty and Sublime, has decreed for the daughters of Adam. Do everything that the pilgrim in Ihram does, but do not circumambulate the House.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2741
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم ﷺ بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے (مجھ سے) پوچھا: کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم ﷺ کا تلبیہ ہے آپ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرلو، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرلو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر ؓ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ (یہ سن کر) ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں (وہ جیسا بتائیں) ان کی پیروی کرو۔ (اور جب عمر ؓ کے سامنے یہ بات آئی تو) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب (قرآن) کو لیں تو وہ (حج اور عمرہ کو) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم ﷺ کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔
Abu Musa (RA) said: “I came from Yemen and the Prophet ﷺ had stopped in Al-Batha’ at the time of Hajj. He asked: ‘Have you performed Hajj?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘What did you say?’ I said: ‘ (Here I am (O Allah, entering Ihram for that for which the Prophet ﷺ entered Ihram).’ He said: Circumambulate the House and (perform Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah, and exit Ihram.’ Then I went to a woman who combed my hair. I started to issue Fatwas to the people based on that. Then during the Khilafah of ‘Umar, a man said to me: ‘Abu Musa, withhold some of your Fatwas from us, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.” Abu Musa said: “people, people, whoever heard our Fatwa, let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to you and you should follow him.” ‘Umar said: “If we follow the Book of Allah, then indeed He commands us to complete Hajj and ‘Umrah, and the Messenger of Allah ﷺ did not exit Ihram until the Hadi had reached its place.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2742
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی ؓ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی ؓ سے پوچھا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم احرام نہ کھولو (جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہوجاؤ) ۔
It was narrated that Ja’far bin Muhammad said: “My father told us: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ He told us: “All came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah ﷺ brought a Hadi from Al Madinah. He said to ‘All: ‘For what have you entered Ihram?’ He said: ‘I said: “O Allah, I am entering Ihram for that for which the Messenger of Allah ﷺ entered Ihram,” and I have the Hadi with me.’ He said: ‘Do not exit Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2743
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی ؓ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا: علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول ﷺ نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو ، جابر ؓ کہتے ہیں: علی ؓ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔
Jabir said: “All came from collecting Zakah and the Prophet ﷺ said to him: ‘For what have you entered Ihram, O ‘Ali?’ he said: ‘For that for which the Messenger of Allah ﷺ entered Ihram.’ He said: ‘Then offer the Hadi and remain in Ihram as you are.’ So ‘All offered a Hadi.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2744
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی ؓ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا گورنر (امیر) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آگیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: تو تم نے کیسے کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے ۔
It was narrated that Al-Bara’ said: “I was with ‘Ali when the Messenger of Allah ﷺ appointed him as goveror of Yemen. When ‘Ali came to the Messenger of Allah ﷺ, ‘Ali said: ‘I found that Fatimah had perfumed the house with perfume.’ He said: ‘I tried to avoid it, and she said to me: What is the matter with you? The Messenger of Allah ﷺ told his Companions to exit Ihram.’ He said: ‘I said: I have entered Ihram for that for which the Prophet ﷺ entered Ihram.” He said: ‘So I went to the Prophet ﷺ and he said to me: “What did you do?” I said: “I entered Ihram for that for which you entered Ihram.” He said: “I have brought the Hadi and am performing Qirn.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2745
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر ؓ پر چڑھائی کی، ابن عمر ؓ نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو (حج سے) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا ١ ؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کرلیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں (حج و عمرہ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آگئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا (قربانی کیا) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہوگیا ہے۔ اور ابن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔
It was narrated from Nafi’ that Ibn ‘Umar wanted to perform Hajj in the year when Al-Hajjaj was besieging Ibn Az-Zubair, and it was said to him: “It seems that there will be fighting between them, and I am afraid that you will be prevented from performing Hajj.” He said: “In the Messenger of Allah ﷺ you have a good example. I am going to do what the Messenger of Allah ﷺ did. I bear witness to you that I have resolved to perform ‘Umrah.” Then he set out, and when he was in Zahir Al Baida’, he said: “Hajj and ‘Umrah are the same thing; I bear witness to you that I have resolved to perform Hajj with my ‘Umrah.” And he brought along a Hadi (sacrificial animal) that he had bought in Qudaid. Then he set out and entered Ihram for them both. When he came to Makkah he circumambulated the House and (did Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah. Then he did not do any thing more than that, and he did not offer a sacrifice, or shave his head, or cut his hair; he remained in Ihram until the Day of Sacrifice. Then he slaughtered his Hadi and shaved his head, and he thought that he had completed the Tawaf of Hajj and ‘Umrah in the first Tawaf. Ibn ‘Umar said: “That is what the Messenger of Allah ﷺ did.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2746
Notes · وضاحت
١ ؎: صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کافروں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا تو آپ نے وہیں قربانی کر ڈالی تھی، بال منڈوا لیا تھا اور احرام کھول دیا تھا پھر دوسرے سال آپ نے عمرہ کی قضاء کی تھی۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں عبداللہ بن عمر ؓ کہتے تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔
It was narrated that Ibn Shihab said: “Salim told me that his father said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say the Talbiyah: “Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni ‘mata laka wal mulk, Ia Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praises and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” ‘Abdullah bin ‘Umar used to say: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray two Rak’ahs in Dhul-Hulaifah, then when his she-camel stood up straight with him at the Masjid of Dhul Hulaifah, he would enter Ihram saying these words.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2747
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ تلبیہ یوں کہتے لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Prophet ﷺ used to say: “Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, la Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2748
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “The Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: ‘Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, la Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2749
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یوں تھا: لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك اور اس میں ابن عمر ؓ نے اتنا اضافہ کیا ہے: لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك والرغباء إليك والعمل یعنی میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے، اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے ۔
It was narrated from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Umar that his father said: “The Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: ‘Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik Innal-hamda wan-ni ‘mata laka wal-mulk, la Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” And Ibn ‘Umar added: “(Here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your hands, seeking Your pleasure and striving for Your sake).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2750
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا تلبیہ یوں تھا: لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لك۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was ‘Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours.).” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2751
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٣٩٨)، مسند احمد (١/٤١٠) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ میں لبيك إله الحق بھی تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ عبدالعزیز کے علاوہ اس حدیث کو کسی نے بواسطہ عبداللہ بن فضل مسند قرار دیا ہے، اسماعیل بن امیہ نے اسے عبداللہ بن فضل سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: ‘Labbaika ilahal-haqq (Here I am, God of truth).” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know of anyone who narrated a chain for this from ‘Abdullah bin Al-Fadal except for ‘Abdul Aziz (رحمۃ اللہ علیہ). Isma’il bin Umayyah reported it from him in Mursal form.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2752
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٥ (٢٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٤١)، مسند احمد (٢/٣٤١، ٣٥٢، ٤٧٦) (صحیح )
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں ۔
It was narrated from Khallád bin As-Sa’ib, from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: “Jibril came to me and said: ‘ Muhammad ﷺ! Tell your Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2753
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr in Al-Baida’, then he mounted and rode up the mountain of Al-Baida’, and he began the Talbiyah for Hajj and ‘Umrah when he had prayed Zuhr. (Sahih)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2755