عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے ہی نہیں رکھے ۔
‘Ata’ said: “Someone who heard him told me that Ibn ‘Umar (said) that the Prophet ﷺ said: ‘Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2376
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ تو روزے ہی رکھے اور نہ ہی کھایا پیا ۔
It was narrated from ‘Ata’ that he narrated that someone who heard him said that ‘Abdullah bin ‘Amr bin Al-’As said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The one who fasts every day of his life has neither fasted, nor broken the fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2377
Notes · وضاحت
١ ؎: سند میں مبہم راوی ابو العباس الشاعر ہیں جن کے نام کی صراحت اگلی روایت میں آئی ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے صیام ابد کا ذکر کیسے کیا، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا: اس شخص نے صیام (روزے) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ صیام (روزے) رکھے ۔
‘Abdullah bin ‘Amr bin Al ‘Aas said: “The Prophet ﷺ heard that I was fasting continually,” and he quoted this Hadith. ‘Ata’ said: “I am not sure how he put it, but I think he said: ‘There is no fast for one who fasts continually.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2378
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا ۔
It was narrated that ‘Imran said: “It was said: ‘Messenger of Allah ﷺ, so-and-so never broke his fast, even for one day for the rest of his life.’ He said: ‘He has neither fasted nor broken his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2379
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جو ہمیشہ روزہ رکھتا تھا تو آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated from Mutarrif bin ‘Abdullah bin Ash Shikhkhir: “My father told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say, when mention was made in presence of a man who fasted for the rest of his life: ‘He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2380
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٨ (١٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٠)، مسند احمد ٥/٢٤، ٢٥، ٢٦، سنن الدارمی/الصوم ٣٧ (١٧٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا ۔
Mutarrif bin ‘Abdullah bin Ash-Shikhkhir narrated from his father that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning one who fasted for the rest of his life: “He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2381
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، (اس کے بارے میں) لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے (یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated that ‘Umar said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ arid we passed by a man. They said: ‘Prophet ﷺ of Allah ﷺ , this man has not broken his fast for such and such a time.’ He said: ‘He has neither fasted nor broken his fast.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2382
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٥) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو ہلال راسبی “ ذرا کمزور راوی ہیں )
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہوگئے، عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ کے رب (حقیقی معبود) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ was asked about his fasting and he got angry. ‘Umar said: “We are content with Allah as our Lord, Islam as our religion and Muhammad as our Prophet ﷺ .” And he was asked about someone who fasted for the rest of his life and said: “He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2383
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ: “Messenger of Allah, I am a man who fasts continually; should I fast when traveling?” He said: “Fast if you wish and break your fast if you wish.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2384
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں ١ ؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ٢ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ٣ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کردیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shurahbil that a man from among the Companions of the Prophet said: “It was said to the Prophet ﷺ that a man fasted for the rest of his life. He said: ‘I wish that he had never eaten.’ They said: ‘Two-thirds (of a lifetime)?’ He said: ‘That is too much.’ Theysaid ‘Half?’ He said: ‘That is too much.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of that which will take away impurity from the heart? Fasting three days each month.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2385
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مرجائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مرجانے کی تمنا کی جائے۔ ٢ ؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ٣ ؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ ، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے ، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے ، پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے ، لوگوں نے کہا: جی ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے ۔
It was narrated that ‘Amr bm Shurahbil said. “A man came the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘Messenger of Allah, what do you say about a man who’fasted for the rest of his life?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I wish that he would never eat for the rest of his life.’ He said: ‘Two-thirds (of a lifetime)?’ He said: ‘That is too much.’ He said: ‘Half?’ He said: ‘That is too much.’ He said: ‘Shall I not tell you of that which will take away impurity from the heart?’ He said: ‘Yes.’ He(The Prophit) said: ‘Fasting for three days each month.” (Sahih).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2386
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا ۔ (راوی کو شک ہے لاصيام ولا أفطر کہا، یا لم يصم ولم يفطر کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: (اچھا) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے ، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے ۔
It was narrated that Abu Qatadah said: “Umar said: ‘Messenger of Allah, what about a person who fasted for an entire lifetime?’ He said: ‘He neither fasted nor broke his fast.’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what about a person who fasted for two days, and broke his fast for one day?’ He said: ‘Can anyone do that?’ He said: ‘What about a person who fasted for one day, and broke his fast for one day?’ He said: ‘That is the fast of Dawood علیہ السلام, peace be upon him.’ He said: ‘What about a person who fasted for one day, and broke his fast for two days?’ He said: ‘I wish that I could do that.’ Then he said: ‘Three days of each month, and from Ramadan to Ramadan, this is fasting for an entire lifetime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2387
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزوں میں سب سے افضل داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے، اور ایک دن افطار کرتے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best of fasting is the fast of Dawud علیہ السلام. He used to fast for one day and break his fast for one day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2388
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٨ (١٩٧٨)، و فضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٢)، (تحفة الأشراف: ٨٩١٦)، مسند احمد ٢/١٥٨، ١٨٨، ١٩٢، ٢١٠ (صحیح )
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا: میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کردی، چناچہ وہ اس کے پاس آتے، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے، تو (ایک دن) اس نے کہا: یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں، عمرو بن العاص ؓ نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ ، میں والد کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: تم کس طرح روزے رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہر روز، آپ نے فرمایا: ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو ، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو ، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ۔
It was narrated that Muhajid said: “Abdullah bin ‘Amr said to me. My father got me married to a woman from a noble family, and he used to come to her and ask her about her husband. She said: What a wonderful man he is! He never comes to my bed, and he has never approached me since he married me. He mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: Bring him to me. So he brought him with him. (The Prophet ﷺ) said: How do you fast? I said: “Every day.” He said: “Fast three days of every month.” I said: “I am able to do better than that.” He said: “Fast for two days, and break your fast for one day.” He said: “I am able better than that”. He said: Observe the best of fasts, the fast Dawud علیہ السلام: Fasting for one day and breaking the fast for one day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2389
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کردی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ١ ؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور (نیکیوں میں) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو پھر تم صیام داودی رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو ، پھر آپ (کم کرتے کرتے) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “My father got me married to a woman and he came to visit her and said: ‘What do you think of your husband?’ She said: ‘What a wonderful man he is. He does not sleep at night and he does not break his fast during the day.’ He got upset with me and said: ‘I got you married to a woman from among the Muslims and you have neglected her.’ I did not pay attention to what he said because of my energy and love of worship. News of that reached the Prophet ﷺ and he said: ‘But I stand (in prayer) and I sleep, I fast and I break my fast. So stand (in prayer) and sleep, fast and break your fast.’ He said: ‘Fast three days of every month.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Observe the fast of Dawud علیہ السلام: fast one day and break your fast one day.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Read the Qur’an (once) every month.’ Then it ended up being every fifteen days, and I still said: ‘I am able to do more than that.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2390
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رات میں قیام کرتے ہیں اور دن میں روزے سے رہتے ہیں۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو، یہی صیام الدھر ہوگا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کیا: میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کردی گئی، آپ نے فرمایا: ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کردی گئی، آپ نے فرمایا: تم اللہ کے نبی داود (علیہ السلام) کے روزے رکھو ، میں نے کہا: داود (علیہ السلام) کا روزہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ ایک دن افطار ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah entered my apartment and said: "I have been told that you stand all night (in prayer) and fast all day. I said: Yes (I do). He said: Do not do that. Sleep and stand (in prayer); fast and break your fast. For your eyes have a right over you, your body has a right over you, your body has a right over you, your wife has a right over you, your guest has a right over you, and your friend has a right over you. I hope that you will have a long life and that it will be sufficient for you to fast three days of each month. That is fasting for a lifetime, because a good deed is equal to ten like it. I said : I feel able to do more. I was strict, so I was dealt with strictly. He said: Fast three days each week. I said: I am ableto do more thtn that; I was strict, so I was dealt with strictly. He said: Observe the fast of the Prophet of Allah, Dawud علیہ السلام. I said: What was the fast of Dawud? he said: Half of a lifetime."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2391
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا: تم ایسا نہیں کرسکتے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، اور یہ صیام الدھر (پورے سال کے روزوں) کے مثل ہے ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو ، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، یہ بہت مناسب روزہ ہے ، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اس سے بہتر کچھ نہیں ۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں: اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ ﷺ کی بات قبول کرلی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr bin Al-’As that it was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ that he had said: “I will Certainly stand all night (in prayer) and fast every day for as long as I live.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Are you the one who said that?” “I said: ‘I said it, Messenger of Allah ﷺ.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘You cannot do that. Fast and break your fast, sleep and stand (in prayer), and fast three days of each month. For a good deed is equal to ten like it, and that is like fasting for a lifetime.’ I said: ‘But I am able to do better than that.’ He said: ‘Fast for one day and break your fast for two days.’ I said: ‘I am able to do better than that, Messenger of Allah.’ He said: ‘Then fast for one day and break your fast for one day, and that is the fast of Dawud علیہ السلام and it is the best kind of fasting.’ I said: ‘I am able to do better than that.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is nothing better than that.” ‘Abdullah said: “If I had accepted the three days that the Messenger of Allah ﷺ said, that would be dearer to me than my family and my wealth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2392
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ ﷺ نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کرلیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کرو (بلکہ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کرلیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے ۔
It was narrated that Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman said: “I entered upon ‘Abdullah bin ‘Amr and said: uncle, tell me what the Messenger of Allah ﷺ said to you. He said: son of my brother, I had resolved to strive very hard until I said: I will fast for the rest of my life and I will read the whole Qur’an every day and The Messenger of Allah ﷺ heard about that, and came in to me in my house, and said: I have heard that you said, I will fast for a lifetime and will read the Qur’an. I said: I did say that, Messenger of Allah. He said: Do not do that. Fast three days of each month. I said: I am able to do more than that. He said: fast two days of each week, Monday and Thursday. I said: I am able to do more than that. He said: Observe the fast of Dawud علیہ السلام, for it is the best kind of fasting before Allah; one day fasting, and one day not fasting. And when he made a promise he did not break it, and when he met (the enemy in battle) he did not flee.” (Sahih)
منکر بزيادة الموعدصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2393
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٩٣ (منکر) (جمعرات اور سوموار کا تذکرہ منکر ہے، باقی حصے صحیح ہیں )
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا ۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا ، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا ۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر داود (علیہ السلام) کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah ﷺ said to him: “Fast one day, and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Fast two days and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Fast three days and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Fast four days and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Observe the best kind of fasting before Allah, the fast of Dawud علیہ السلام; he used to fast one day and break his fast for one day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2394
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “I spoke to the Prophet ﷺ and he said: ‘Fast one day out of ten and you will have the reward of the other nine.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast one day out of eight and you will have the reward of the other eight.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast one day out of eight and you will have the reward of the other seven.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ And it continued until he said: ‘Fast one day and not the next.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2395