اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔
Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I do not see you fasting any month as much as Sha’ban.’ He said: ‘That is a month to which people do not pay much attention, between Rajab and Ramadan. It is a month in which the deeds are taken up to the Lord of the worlds, and I like that my deeds to be taken up when I am fasting.” (Sahih).
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2357
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آگئے (تو ٹھیک ہے) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: وہ دو دن کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔
Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Sometimes you fast, and you hardly ever break your fast, and Sometimes you do not fast and your hardly ever fast, except two days which, if you are fasting, you include them in your fast, and if You are not fasting, then you fast them on your own.’ He said: ‘Which two days?’ I said: ‘Monday and Thursday.’ He said: ‘Those are two days in which deeds are shown to the Lord of the Worlds, and I like my deeds to be shown (to Him) when I am fasting.” (Hasan)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2358
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ برابر روزہ رکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور (مسلسل) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah ﷺ used to fast continually and it was said that he would not break his fast, and he used not to fast and it was said that he would not fast. (Hasan)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2359
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو۔
It was narrated that Umm Salamah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days of every month: the Monday and Thursday of the first week and the Monday of the following week.” (Sahih)
حسن لکن الأصح بلفظ وخميسصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2365
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے، اور دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے۔
It was narrated that Hafsah said: “When the Messenger of Allah ﷺ would lie down, he would place his right hand under his right cheek, and he used to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2367
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days in the middle of every month, and he rarely did not fast on Fridays.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2368
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی ایک حدیث (صوم/ ١٩٨٤ ) میں خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے، تو اس حدیث کا مطلب بقول حافظ ابن حجر یہ ہے کہ اگر ان تین ایام بیض میں جمعہ آپڑتا تو جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے وجہ سے آپ روزہ نہیں توڑتے تھے، بلکہ رکھ لیتے تھے، ممانعت تو خاص ایک دن جمعہ کو روزہ رکھنے کی ہے، یا بقول حافظ عینی: ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے، لیکن قابل قبول توجیہ حافظ ابن حجر کی ہی ہے، کیونکہ آپ تین دن ایام بیض کے روزہ تو رکھتے ہی تھے، اور پھر دو دن جمعہ کی مناسبت سے بھی رکھتے ہوں، یہ کہیں منقول نہیں ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ خاص اکیلے جمعہ کے دن کی ممانعت امت کے لیے ہے، اور روزہ رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah commanded me to pray two Rakahs of Duha, and not to sleep until I had prayed witr, and to fast three days each month.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2369
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢١٩٠)، مسند احمد ٢/٣٣١ ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٤٠٧، ٢٤٠٨، ٢٤٠٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔
It was narrated from ‘Ubaidullah that he heard Ibn ‘Abbas, when he was asked about the fast of ‘Ashura’, say: “I do not know that the Prophet ﷺ fasted any day because of its virtue, except this day” - meaning the month of Ramadhan and the day of ‘Ashura’.(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2370
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے ۔
It was narrated that Humaid bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf said: “I heard Muawiyah say on the day of ‘Ashura’ when he was on the Minbar: people of Al-Madinah, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah ﷺ say on this day: “I am fasting, so whoever wants to fast let him do so.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2371
نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔
It was narrated from Hunaidah bin Khalid that his wife said: “One of the wives of the Prophet ﷺ said: ‘The Prophet ﷺ used to fast on the day of ‘Ashura’, nine days of Dhul-Hajjah and three days each month: The first Monday of the month, and two Thursdays.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2372
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦١ (٢٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، مسند احمد ٥/٢٧١، ٦/٢٨٨، ٢٨٩، ٣١٠، ٤٢٣، یأتی عند المؤلف فی باب ٨٣ بأرقام: ٢٤١٩، ٢٤٢٠، ٢٤٢١ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah said: Whoever fasts every day of is life, then he has neither fasted, nor broken the fast.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2374
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے ۔
‘Ata’ said: “Someone who heard him, told me that Ibn ‘Umar said: ‘The Prophet ﷺ said: ‘Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2375