Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 119 of 289

2358Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پورے شعبان روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated from Jubair bin Nufair that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast all of Sha’ban.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2356
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥١) (صحیح )
2359Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔

Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I do not see you fasting any month as much as Sha’ban.’ He said: ‘That is a month to which people do not pay much attention, between Rajab and Ramadan. It is a month in which the deeds are taken up to the Lord of the worlds, and I like that my deeds to be taken up when I am fasting.” (Sahih).

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2357
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠)، مسند احمد ٥/٢٠١ (حسن )
2360Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ، وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ، إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا، قَالَ: أَيُّ يَوْمَيْنِ ؟، قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، قَالَ: ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آگئے (تو ٹھیک ہے) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: وہ دو دن کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔

Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Sometimes you fast, and you hardly ever break your fast, and Sometimes you do not fast and your hardly ever fast, except two days which, if you are fasting, you include them in your fast, and if You are not fasting, then you fast them on your own.’ He said: ‘Which two days?’ I said: ‘Monday and Thursday.’ He said: ‘Those are two days in which deeds are shown to the Lord of the Worlds, and I like my deeds to be shown (to Him) when I am fasting.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2358
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٩)، مسند احمد ٥/٢٠١، ٢٠٦، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٦٠ (٢٤٣٦)، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩١) (حسن صحیح )
2361Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لَا يَصُومُ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ برابر روزہ رکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور (مسلسل) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔

It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah ﷺ used to fast continually and it was said that he would not break his fast, and he used not to fast and it was said that he would not fast. (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2359
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٤)، مسند احمد ٥/٢٠١ (حسن صحیح )
2362Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated from Jubair bin Nufair that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2360
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٢) (صحیح )
2363Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2361
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٨٩ (صحیح )
2364Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2362
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٦)، مسند احمد ٦/٨٠، ١٠٦ (صحیح )
2365Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2363
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٣) (صحیح )
2366Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِالْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2364
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٠) (صحیح )
2367Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ مِنْ هَذِهِ الْجُمُعَةِ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْمُقْبِلَةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو۔

It was narrated that Umm Salamah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days of every month: the Monday and Thursday of the first week and the Monday of the following week.” (Sahih)

حسن لکن الأصح بلفظ وخميسصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2365
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨١٦١) (حسن )
2368Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْسَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَمِنَ الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ (پیر) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو روزہ رہتے تھے۔

It was narrated that Hafsah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast Thursday and Monday of each month, and Monday of the following week.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2366
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٩ (٢٤٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٦)، مسند احمد ٦/٢٨٧ (حسن )
2369Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ جَعَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے، اور دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated that Hafsah said: “When the Messenger of Allah ﷺ would lie down, he would place his right hand under his right cheek, and he used to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2367
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٨١١) حم ٦/٢٨٧ (حسن صحیح )
2370Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ، وَقَلَّمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days in the middle of every month, and he rarely did not fast on Fridays.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2368
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی ایک حدیث (صوم/ ١٩٨٤ ) میں خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے، تو اس حدیث کا مطلب بقول حافظ ابن حجر یہ ہے کہ اگر ان تین ایام بیض میں جمعہ آپڑتا تو جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے وجہ سے آپ روزہ نہیں توڑتے تھے، بلکہ رکھ لیتے تھے، ممانعت تو خاص ایک دن جمعہ کو روزہ رکھنے کی ہے، یا بقول حافظ عینی: ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے، لیکن قابل قبول توجیہ حافظ ابن حجر کی ہی ہے، کیونکہ آپ تین دن ایام بیض کے روزہ تو رکھتے ہی تھے، اور پھر دو دن جمعہ کی مناسبت سے بھی رکھتے ہوں، یہ کہیں منقول نہیں ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ خاص اکیلے جمعہ کے دن کی ممانعت امت کے لیے ہے، اور روزہ رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٨ (٢٤٥٠)، سنن الترمذی/الصوم ٤١ (٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٧ (١٧٢٥) مختصرا (تحفة الأشراف: ٩٢٠٦)، مسند احمد ١/٤٠٦ (حسن )
2371Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah commanded me to pray two Rakahs of Duha, and not to sleep until I had prayed witr, and to fast three days each month.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2369
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢١٩٠)، مسند احمد ٢/٣٣١ ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٤٠٧، ٢٤٠٨، ٢٤٠٩) (صحیح )
2372Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔

It was narrated from ‘Ubaidullah that he heard Ibn ‘Abbas, when he was asked about the fast of ‘Ashura’, say: “I do not know that the Prophet ﷺ fasted any day because of its virtue, except this day” - meaning the month of Ramadhan and the day of ‘Ashura’.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2370
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٦)، صحیح مسلم/الصوم ١٩ (١١٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٦)، مسند احمد ١/٢١٣، ٢٢٢، ٣٦٧ (صحیح )
2373Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ! أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ.

حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے ۔

It was narrated that Humaid bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf said: “I heard Muawiyah say on the day of ‘Ashura’ when he was on the Minbar: people of Al-Madinah, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah ﷺ say on this day: “I am fasting, so whoever wants to fast let him do so.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2371
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٣)، صحیح مسلم/الصوم ١٩ (١١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٤٠٨)، موطا امام مالک/الصوم ١١ (٣٤)، مسند احمد ٤/٩٥، ٩٧ (صحیح )
2374Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِامْرَأَتِهِ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي بَعْضُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَتِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ.

نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated from Hunaidah bin Khalid that his wife said: “One of the wives of the Prophet ﷺ said: ‘The Prophet ﷺ used to fast on the day of ‘Ashura’, nine days of Dhul-Hajjah and three days each month: The first Monday of the month, and two Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2372
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦١ (٢٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، مسند احمد ٥/٢٧١، ٦/٢٨٨، ٢٨٩، ٣١٠، ٤٢٣، یأتی عند المؤلف فی باب ٨٣ بأرقام: ٢٤١٩، ٢٤٢٠، ٢٤٢١ (صحیح )
2375Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں عطاء راوی پر اختلاف

أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے ۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2373
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٣٣٠، ٨٦٠١) (صحیح )
2376Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں عطاء راوی پر اختلاف

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا ۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah said: Whoever fasts every day of is life, then he has neither fasted, nor broken the fast.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2374
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2377Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں عطاء راوی پر اختلاف

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَعُقْبَةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے ۔

‘Ata’ said: “Someone who heard him, told me that Ibn ‘Umar said: ‘The Prophet ﷺ said: ‘Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2375
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٧٥ (صحیح )