عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا ۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔
It was narrated from Shuaib bin ‘Abdullah bin ‘Amr that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘Fast one day and you will have the reward of ten.’ I said: ‘Let me fast more.’ He said: ‘Fast two days and you will have the reward of nine. I said: ‘Let me fast more than that.’ He said: ‘Fast three days and you will have the reward of eight.” (One of the narrators) Thabit said: “I mentioned that to Mutarrif and he said: ‘I only see that he is making more effort for less reward.”(Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2396
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: پانچ دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو دس دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تم داود (علیہ السلام) کے روزے رکھا کرو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have heard that you stand (in prayer) all light and fast all day.’ I said: ‘Messenger of Allah, I only meant good by that.’ He said: ‘One who fasts every day of his life has not truly fasted. But I will tell you what fasting for a lifetime means: Three days of every month.’ I said: ‘Messenger of Allah ﷺ , I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast for five days.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast for ten.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Observe the fast of Dáwud علیہ السلام; he used to fast one day and not the next.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2397
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہوگا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘‘O Abdullah bin ‘Amr, you fast all the time and you stand (in prayer) at night, but if you do that your eyes will become sunken and you will become exhausted. There is no fast for one who fasts every day of his life. Fasting a lifetime means fasting three days each month, (that is) fasting all of a lifetime.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Observe the fast of Dawud علیہ السلام; he used to fast one day and not the next, and he did not flee if he met (the enemy in battle).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2399
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘Read the Qur’an in a month.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ And I kept asking him until he said: ‘In five days.’ And he said: ‘Fast three days a month.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ and I kept asking him until he said: ‘Observe the most beloved of fasting to Allah, the Mighty and Sublime, the fast of Dawud علیہ السلام. He used to fast one day and not the next.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2400
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم (ہمیشہ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو ، پوچھا: اللہ کے نبی! داود (علیہ السلام) کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے ، انہوں نے کہا: کون ایسا کرسکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔
‘Abdullah bin ‘Amr bin Al- ‘As said: “The Messenger of Allah ﷺ heard that I was fasting Continually and praying all night.” Either he sent for him, or he happened to meet him and he said: “Have I not been told that you fast and never break your fast, and you pray all night? Do not do that, for your eyes should have a share, your self should have a share, and your family should have a share. Fast and break your fast; pray and sleep. Fast one day out of every ten, and you will have the reward of the other nine.” He said: “I am able to do more than that, Messenger of Allah.” He said: “Observe the fast of Dawud علیہ السلام then.” “I said: ‘How did Dawud علیہ السلام fast, Prophet of Allah ﷺ ?’ He said: ‘He used to fast one day, and not the next, and he never fled if he met (the enemy in battle).” He said: “How can I compare to him, Prophet of Allah ﷺ ?” (Sahih)
صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن ليصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2401
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: پانچ دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: سات دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے! آپ نے فرمایا: نو دن ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ اور بڑھا دیجئیے) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گیارہ دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے ۔
It was narrated that Ibn Al-Malih said: "I entered with Zaid upon Abdullah bin Amr and he narrated: The Messenger of Allah was told about my fasting, so he entered upon me and I gave him an average-sized leather pillow that was stuffed with palm fibers. He sat in the ground with the pillow between myself and him, and said: "Will it not be sufficient for you to fast three days each months?" I said: O Messenger of Allah! He said: "He said: "Eleven." I said: "O Messenger of Allah!" Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is not fast better than the fast of Dawud علیہ السلام, half of a lifetime, fasting one day and not next.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2402
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا ، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا ، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل روزہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔
‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘Fast one day of the month and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast two days and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast three days and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast four days and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best fasting is the fast of Dawud علیہ السلام; he used to fast one day and not the next.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2403
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاء اللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا: آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
It was narrated that Abu Dharr said: “My beloved Prophet ﷺ advised me to do three things which I will never give up, if Allah Wills. He advised me to pray Duha, to pray Witr before sleeping, and to fast three days of each month.” (Sahih)
صحيح ق دون قوله لا أدعهن أبدا وعند خ معناهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2404
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے: وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ١ ؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined three things upon me: To sleep after praying Witr, to perform Ghusl on Friday, and to fast three days of each month.” (Sahih)
منکر بذکر الغسل والمحفوظ صلاة الضحىصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2405
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی ٹکڑا منکر ہے، صحیح صلاۃ الضحیٰ چاشت کی نماز ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٧١ (منکر) (جمعہ کے غسل کا تذکرہ منکر ہے، صحیح ” چاشت کی صلاة “ ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded me to pray two Rak’ahs of Duha, not to sleep until after praying Witr and to fast three days of each month.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2406
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وتر پڑھ کر سونے، جمعہ کے دن غسل کرنے، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded me to sleep after praying Witr, to perform Ghusl on Friday and to fast three days of each month.” (Sahih)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2407
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘The month of patience (Ramadan) and three days of each month is fasting for a lifetime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2408
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے ، پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا (الانعام: ١٦٠ ) ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah said: ‘Whoever fasts for three days of each month, he has fasted for a whole lifetime.’ Then he said: ‘Allah has spoken the truth in His Book: Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2409
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦٢)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٩ (١٧٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٩٦٧)، مسند احمد ٥/١٤٥ (صحیح )
ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے (گویا) پورے مہینے کے روزہ رکھے ، یا یہ (فرمایا) : اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے ، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے۔
Abu ‘Uthman reported from a man, that Abu Dharr (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever fasts three days of each month has fasted the month in full’ or ‘will have (the reward of) fasting the month.” ‘Asim was in doubt. (Da’if)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2410
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، مگر ابو عثمان نہدی کا براہ راست سماع ابو ذر رضی الله عنہ سے ثابت ہے )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔
It was narrated that Al-Hurr bin Sayyah said: “I heard Ibn ‘Umar say: ‘The Prophet ﷺ used to fast three days of each month.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2413
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٦٨٥)، مسند احمد ٢/٩٠ (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور شریک قاضی ضعیف ہیں، لیکن آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے، مہینے کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ used to fast three days of each month: Monday at the beginning of the month, the following Thursday, then the Thursday after that. (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2414
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے )
ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ (پیر) کو، پھر جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو۔
Hunaidah Al-Khuza’i said: “I entered upon the Mother of the Believers and heard her say: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days of each month: The first Monday of the month, then Thursday, then the following Thursday.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2415
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٤) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے )