Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 122 of 289

2418Sunan An Nasai

ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامَ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ نہیں چھوڑتے تھے: ١ - عاشوراء کے روزے کو ٢ - ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ١ ؎ ٣ - ہر مہینہ کے تین روزے ٤ - اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو۔

It was narrated that Hafsah (RA) Said: “There are four things which the Prophet ﷺ never gave up: Fasting ‘Ashura’, (fasting during) the ten days, (fasting) three days of each month, and praying two Rak’ahs before Al-Ghadah (Fajr).” (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2416
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اس سے خارج ہے کیونکہ یوم النحر کو روزے رکھنا جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٣)، مسند احمد ٦/٢٨٧ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو اسحاق اشجعی “ لین الحدیث ہیں )
2419Sunan An Nasai

ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِامْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ.

نبی اکرم ﷺ کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے نو روزے، عاشوراء کے دن (یعنی دسویں محرم کو) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ١ ؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو۔

It was narrated from Hunaidah bin Khalid, from his wife, from one of the wives of the Prophet ﷺ , that the Messenger of Allah ﷺ used to fast nine days of Dhul-Hijjah, the day of Ashura’, and three days of each month: The first Monday of the month, and two Thursdays. (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2417
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی تاریخ سے لے کر نویں تاریخ تک۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٧٤ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے )
2420Sunan An Nasai

ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (ذی الحجہ کے پہلے) عشرہ میں روزے رکھتے تھے، اور ہر مہینہ میں تین دن: دوشنبہ (پیر) اور (دو ) جمعرات کو۔

It was narrated from Hunaidah bin Khalid, from his wife, that one of the wives of the Prophet ﷺ . said: “The Prophet ﷺ g used to fast the ten (days), and three days of each month: Monday and Thursday.” (Sahih)

صحيح بلفظ الخميسينصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2418
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٧٤ (صحیح) (” الخمیسین “ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزرا )
2421Sunan An Nasai

ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالإِثْنَيْنِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ (پیر) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ (پیر) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Umm Salamah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to enjoin fasting three days: The first Thursday, and Monday and Monday.” (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2419
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے دوشنبہ (پیر) کو مکرر رکھنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ آپ جمعرات کو مکرر رکھتے تھے، ان دونوں روایتوں کے ملانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مطلوب ان دونوں دنوں میں تین دن روزے ہیں، خواہ وہ دوشنبہ (پیر) کو مکرر کر کے ہوں یا جمعرات کو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٧٤ (شاذ) (” حکم دیتے تھے “ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ آپ خود روزے رکھتے تھے )
2422Sunan An Nasai

ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے (یعنی ایام بیض کے روزے) اور ایام بیض (چاند کی) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Jarir bin ‘Abdullah that the Prophet ﷺ said: “Fasting three days of each month is fasting for a lifetime, and the shining days of Al-Bid, the thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2420
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں چاندنی کی وجہ سے سفید اور روشن ہوتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٢٢٢) (حسن )
2423Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی (دیہاتی) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم ﷺ نے اعرابی (دیہاتی) سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A Bedouin came to the Prophet ﷺ with a rabbit that he had grilled it and placed it in front of him. The Messenger of Allah ﷺ refrained from eating, but he told the people to eat. The Bedouin also refrained, and the Prophet ﷺ said to him: ‘What is keeping you from eating?’ He said: ‘I fast three days of the month.’ He said: ‘If you want to fast, fast the shining days. (Sahih)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2421
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چاند کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٦٢٤)، مسند احمد ٢/٣٣٦، ٣٤٦، ویأتی عند المؤلف برقم ٢٤٣٠، ٢٤٣١، مرسلاً، ٤٣١٥ (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ١٥٦٧، وتراجع الالبانی ٤٢٣ )
2424Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں: تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔

It was narrated that Aba Dharr said: “The Messenger of Ailáh ﷺ commanded us to fast the three days of Al-Bid, the thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2422
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦١)، (تحفة الأشراف: ١١٩٨٨)، مسند احمد ٥/١٥٠، ١٥٢، ١٦٢، ١٧٧ (حسن )
2425Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded us to fast three days of Al-Bid, the thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2423
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن )
2426Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو ۔

It was narrated that Musa bin Talhah said: “I heard Abu Dharr, at Ar-Rabadhah, saying: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: If you want to fast at any time during the month, then fast on the thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2424
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٢٤ (حسن )
2427Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَلَعَلَّ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الْأَلِفُ، فَصَارَ بَيَانٌ.

ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہاں (راوی سے) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا حدثنا اثنان کہا ہو تو اثنان کا الف گرگیا پھر ثنان سے بیان ہوگیا (جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said to a man: “You should fast the thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake, it is not a narration of Bayan; perhaps Sufyan said: “it was narrated to us by two (Ithnan)” and the ‘Alif was dropped So it became Bayan.

حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2425
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠٠٦)، مسند احمد ٥/١٥٠، ویأتي عند المؤلف ٤٣١٦ (حسن) (سند میں ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی حسن ہے )
2428Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلَانِ مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ commanded a man to fast on the thirteenth, fourteenth and fifteenth. (Hasan)

حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2426
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن) (دیکھئے پچھلی سند پر کلام )
2429Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ أَبِي: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: لَا يَضُرُّ، كُلُوا، وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: كُلْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: صَوْمُ مَاذَا، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ، فَقِيلَ أَبِي.

ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم ﷺ کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ ، اور آپ نے اعرابی (دیہاتی) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: کیسا روزے؟ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: صحیح عن ابی ذر ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ ذر کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ ابی بن کعب ہوگیا۔

It was narrated that Ibn Al Hawtakiyyah said: “Ubayy said: ‘A Bedouin came to the Messenger of Allah ﷺ and he had a rabbit that he had grilled and some bread. He placed it before the Prophet ﷺ then he said: “I found it bleeding.” The Messenger of Allah ﷺ said to his Companions: “It doesn’t matter; eat.” And he said to the Bedouin: “Eat.” He said: “I am fasting.” He said: “What fast is that?” He said: “Fasting three days each month.” He said: “If you want to fast, then you should fast the shining days of Al-Bid: The thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: What is correct is: “From Abu Dharr” and it appears that “Dharr” was omitted from the book so it became: “Ubayy.”

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2427
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٨ (ضعیف) (ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں )
2430Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون (حیض) دیکھا تھا (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟ ۔

It was narrated from Musa bin Talhah that a man brought a rabbit to the Prophet ﷺ , and the Prophet ﷺ stretched out his hand toward it, then the one who had brought it said: “I saw some blood on it.” So the Prophet ﷺ drew his hand back, but he told the people to eat. Among the people there was a man who held back. The Prophet ﷺ said: “What is the matter with you?” He said: “I am fasting.” The Prophet ﷺ said to him: “Why don’t you fast on the three days of Al-Bid the thirteenth, fourteenth and fifteenth?” (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2428
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: ٢٤٢٣ (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے )
2431Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ: كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَاوَرَجُلٌ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: فَهَلَّا صُمْتَ الْبِيضَ، قَالَ: وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون (حیض) آ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا ، اور وہ شخص (جو اسے لایا تھا) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے ۔

It was narrated that Musa bin Talhah said: “A rabbit that a man had grilled was brought to the Prophet ﷺ and when he offered it to him he said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I saw some blood on it.’ The Messenger of Allah ﷺ did not eat it, but he said to those who were with him: ‘Eat; if I felt like it, I would have eaten it.’ There was a man sitting, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Come and eat with the people.’ He said: ‘Messenger of Allah, I am fasting.’ He said: ‘Why don’t you fast Al-Bid?’ He said: ‘What are they?’ He said: ‘The thirteenth, fourteenth and fifteenth?” (Sahih)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2429
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام )
2432Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ الْبِيضِ، وَيَقُولُ: هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ.

قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں ۔

It was narrated that a man called ‘Abdul-Malik narrated from his father, that the Messenger of Allah ﷺ used to enjoin (fasting) these days of Al-Bid and he said: “That is (equivalent to) fasting for the whole month.” (Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2430
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٨ (٢٤٤٩)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٩ (١٧٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٧١)، مسند احمد ٤/١٦٥، ٢٧٥، ٢٨ (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبدالملک بن قتادہ بن المنھال “ لین الحدیث ہیں )
2433Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ الْبِيضِ، قَالَ: هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ.

ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں ۔

‘Abdul-Malik bin Abi Al Minhal narrated from his father that the Prophet ﷺ commanded them to fast the three days of Al Bid. He said: “That is (equivalent to) fasting for the whole month.” (Da‘if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2431
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٣٢ (صحیح )
2434Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.

قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔

‘Abdul-Malik bin Qudamah bin Milhan narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ used to command us to fast the three days with the shining bright nights (Al-Ayam Al-Bid), the thirteenth, fourteenth and fifteenth.” (Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2432
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٣٢ (صحیح )
2435Sunan An Nasai

ایک ماہ میں دو روزے رکھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! زِدْنِي زِدْنِي، قَالَ: تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! زِدْنِي زِدْنِي، يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! زِدْنِي زِدْنِي، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ: زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي. قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں دہرائی پھر خاموش ہوگئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو ۔

It was narrated from Abu Nawfal bin Abl ‘Aqrab that his father said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting and he said: ‘Fast one day of the month.’ I said: ‘Messenger of Allah, let me do more, let me do more.’ He said: ‘You are saying, Messenger of Allah ﷺ, let me do more, let me do more? Then fast two days of each month.’ I said: ‘Messenger of Allah, let me do more, let me do more; I am able.’ He said: ‘Let me do more, let me do more; I am able for it.’ Then the Messenger of Allah ﷺ fell silent until I thought that he was going to refuse my request. Then he said: ‘Fast three days of each month.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2433
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٠٧١)، مسند احمد ٤/٣٤٧، ٥/٦٧ (صحیح الإسناد )
2436Sunan An Nasai

ایک ماہ میں دو روزے رکھنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَاسْتَزَادَهُ، قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَزَادَهُ، قَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو ، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو ، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے (میری بات) میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو ۔

It was narrated from Abu Nawfal bin Abi ‘Aqrab, from his father, that he asked the Prophet ﷺ about fasting and he said: “Fast One day of each month.” He asked him for more, saying: “May my father and mother be ransomed for you, I am able.” He said: “Fast two days of each month.” He said:“May my father and mother be sacrificed for you, Messenger of Allah, I am able.” The Messenger of Allah ﷺ said: “I am able, I am able.” He did not want to increase it, but when I insisted, the Messenger of Allah ﷺ said: “Fast three days of each month.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2434
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
2437Sunan An Nasai

زکوۃ کی فرضیت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ: إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ يَعْنِي أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر (زکاۃ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said to Muadh (RA) when he sent him to Yemen: ‘You are going to some of the People of the Book. When you come to them, call them to testify that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined upon them five prayers every day and night. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined on them a charity (Zakah) to be taken from their rich and given to their poor. If they obey you in that, then beware of the supplication of the oppressed person.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2435
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح کہ زکاۃ کی وصولی میں ظلم و زیادتی نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تقسیم میں، مثلاً کسی سے اس کا بہت اچھا مال لے لو یا کسی کو ضرورت سے زیادہ دے دو اور کسی کو کچھ نہ دو کہ وہ تم سے دکھی ہو کر تمہارے حق میں بد دعا کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١ (١٣٩٥)، ٤١ (١٤٥٨)، ٦٣ (١٤٩٦)، المظالم ١٠ (٢٤٤٨)، المغازی ٦٠ (٤٣٤٧)، والتوحید ١ (٧٣٧٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٧ (١٩)، سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٨٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٦ (٦٢٥)، البر ٦٨ (٢٠١٤)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١ (١٧٨٣)، (تحفة الأشراف: ٦٥١١)، مسند احمد ١/٢٣٣، سنن الدارمی/الزکاة ١ (١٦٥٥)، ٩ (٦٧١)، ویأتی عند المؤلف فی باب ٤٦ برقم ٢٥٢٣ (صحیح )