انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بکری دودھ کر دودھ پیا، پھر پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ milked a sheep and drank some of its milk, then he called for water and rinsed his mouth and said: It has some greasiness in it."
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، (عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ) میں نے (ام المؤمنین عائشہ ؓ سے) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی! تو وہ ہنس پڑیں۔
Urwah bin Az-Zubair narrated from Aisha (RA) , that the Messenger of Allah ﷺ kissed one of his women (i.e., wives), then he went out to perform the prayer, and he did not perform ablution. I (Urwah bin Zubair) said: "That was not anyone but you, and she smiled." (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وضو کرتے پھر بوسہ لیتے، اور بغیر وضو کئے نماز پڑھتے، اور بعض دفعہ آپ ﷺ نے میرے ساتھ بھی ایسا کیا ہے۔
It was narrated from Alshah: "The Messenger of Allah ﷺ would perform ablution, then he would kiss, then he would perform prayer without performing ablution again. And sometimes he did that with me."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٢، ومصباح الزجاجة: ٢٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٢) (ضعیف) (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زینب کے حالات معلوم نہیں، ان کے بارے میں دارقطنی کا قول ہے:لا تقوم بہا حجة قابل اعتماد نہیں ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ سے مذی ١ ؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہے، اور منی ٢ ؎ میں غسل ہے ۔
. It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about prostatic fluid and he said: For that ablution (is necessary), and for semen, bath is necessary.
Notes · وضاحت
١ ؎: مذی: وہ لیس دار پتلا پانی ہے، جو ابتداء شہوت میں مرد کے عضو تناسل سے بغیر اچھلے نکلتا ہے اور جس پر وضو ہے۔ ٢ ؎: منی سے مراد وہ رطوبت ہے، جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے اچھل کر نکلتی ہے، جس پر غسل واجب ہے۔
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب ایسا ہو تو آدمی اپنی شرمگاہ پر پانی ڈال لے یعنی اسے دھو لے، اور وضو کرلے ١ ؎۔
It was narrated from Miqdad bin Aswad that he asked the Prophet ﷺ about a man who approached his wife, but did not ejaculate. He said: "If anyone of you finds that, he should sprinkle water over his private part (meaning he must wash it) and perform ablution." It was narrated that Sahl bin Hunaif said: "I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: Ablution is sufficient for you in this case. I said: O Messenger of Allah! ﷺ What about the prostatic fluid that gets onto my clothes? He said: It is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر قربت سے انزال نہ ہو تب بھی اس کو بہر حال غسل کرنا ہوگا، مقداد کی یہ حدیث منسوخ ہے: إذا التقى الختان سے، یعنی جب دو ختنے باہم مل جائیں تو غسل واجب ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢٠٧)، سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١٣ (٥٣)، مسند احمد (١/١٢٤، ٦/٤، ٥) (صحیح )
سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کافی ہے ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لیے کافی ہوگا ١ ؎۔
It was narrated that Sahl bin Hunaif said: "I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: Ablution is sufficient for you in this case. I said: O Messenger of Allah! ﷺ What about the prostatic fluid that gets onto my clothes? He said: It is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یہ تبھی ہے جب یقین ہو کہ یہ مذی ہے، اگر یقین ہو کہ منی ہے، تو غسل کرنا ہی ہوگا۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ عمر ؓ کے ہمراہ ابی بن کعب ؓ کے ہاں گئے۔ وہ (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ (بات چیت کے دوران ان میں ابی نے) فرمایا: مجھے مذی آگئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے (اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی) عمر ؓ نے فرمایا: کیا یہ (وضو کرلینا) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے (خود) سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
It was narrated from Ibn Abbas that he came to Ubayy bin Kab, accompanied by Umar. Ubayy came out to them and said: "I noticed some prostatic fluid, so I washed my penis and performed ablution. Umar said: "Is that sufficient?" He said: "Yes." He (Umar) asked: "Did you hear that from the Messenger of Allah? ﷺ " He said: "Yes."
Notes · وضاحت
١ ؎: مذی اور اسی طرح پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے جو چیز بھی نکلے اس سے وضو ٹوٹنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١، ومصباح الزجاجة: ٢١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢٠، ٥/١١٧) (ضعیف الإسناد) (سند ابوحبیب کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ got up during the night and went to the toilet and relieved himself, then he washed his face and hands, and went back to sleep. (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٠ (٦٣١٦)، صحیح مسلم/الحیض ٥ (٣٠٤)، المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٥ (٥٠٤٣)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٥٨)، سنن النسائی/الکبري الصلاة ٤٣ (٣٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٨٣، ٢٨٤، ٢٨٤، ٣٤٣) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ نے اسی جیسی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً ذکر کی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution for every prayer, and we used to perform all of the prayers with one ablution." (Sahih)
بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ١ ؎۔
Su lairnan bin Buraidah narrated from his father that the Prophet ﷺ used to perform ablution for every prayer, but on the day of the conquest of Makkah, he performed all of the prayers with one ablution. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چناچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے ١ ؎۔
Fadl bin Mubashshir said saw Jabir bin Abdullah performing every prayer with one ablution, and I said: What is this? He said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing this, and I am doing as the Messenger of Allah ﷺ did.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر وضو باقی ہے ٹوٹا نہیں ہے، تو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٥٧١، ومصباح الزجاجة: ٢١١) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں الفضل بن مبشر ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب ؓ سے ان کی مجلس میں سنا، پھر جب نماز کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو (ہر نماز کے لیے) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بولے: نہیں، (ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں ، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔
It was narrated that Abu Ghutaif Al-Hudhali said: "I was listening to Abdullah bin Umar bin Khattab in the Masjid, and when the time for prayer came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. When the time for Asr (Afternoon prayer) came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. When the time for Maghrib (Sunset prayer) came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. I said May Allah improve you (i.e., your condition) Is it obligatory or Sunnah to perform ablution for every prayer? He said: Did you notice that? I said: Yes. He said: No (it is not obligatory). If I perform ablution for Morning prayer I can perform all of the prayers with this ablution, so long as I do not get impure. But I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever performs ablution while he is pure, he will have ten merits," so I wanted to earn the merits. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/لطہارة ٣٢ (٦٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٤ (٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩، ومصباح الزجاجة: ٢١٢) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو غطیف مجہول و عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: / ٩ )
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں (حدث کا) شبہ محسوس کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ١ ؎۔
Abbad bin Tamim narrated that his paternal uncle said: "A complaint was made to the Prophet ﷺ about a man who sensed something (some doubt about his ablution) during prayer. He said: No (he does not have to perform ablution) unless he notices a smell or hears a sound. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگ شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں، اور اکثر شیطان ان کو نماز میں وہم دلاتا رہتا ہے، یہ حکم ان کے لئے ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے نماز میں حدث کا شبہ ہوجانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کرلے نماز نہ توڑے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Prophet ﷺ was asked about doubts (concerning ablution) during prayer. He said: He should not leave until he hears a sound or detects an odor.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہوجائے، تب نماز توڑے، اور جا کر وضو کرے محض شک اور وہم کی بناء پر نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٨، ومصباح الزجاجة: ٢١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٦) (صحیح) (اس سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ محاربی کا معمر سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز وہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، زہری کے حفاظ تلامذہ نے اس حدیث کو زہری عن ابن المسیب عن عبد اللہ بن زید بن عاصم ؓ سے روایت کیا ہے، جو صحیحین اور سنن ابی داود، و نسائی میں ہے، ملاحظہ ہو: ( ٥١٣ ) اس سابقہ حدیث سے تقویت پاکر اصل حدیث صحیح ہے، نیز ابوسعید الخدری ؓ کی یہ حدیث دوسرے طریق سے مسند احمد میں بھی ہے، ( ٣ /٣٧ )
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید ؓ کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin ‘Ata said: "I saw Saib bin Khabbab sniffing his garment, and I said: Why (are you doing) that? He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No ablution (is needed) unless there is an odor or a sound."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سب روایتیں شک کی صورت پر محمول ہیں کہ جب ہوا خارج ہونے میں شک ہو تو شک سے وضو باطل نہیں ہوتا، ہاں اگر یقین ہوجائے تو وضو باطل ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦) (صحیح) (سند میں عبد العزیز بن عبید اللہ الأحمصی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے صحراء اور میدان میں واقع ان گڈھوں کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جن سے مویشی اور درندے پانی پیتے رہتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو قلہ (دو بڑے مٹکے کے برابر) ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ١ ؎۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Umar that his father said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ being asked about water in the wilderness that is frequented by beasts and predators. The Messenger of Allah ﷺ said: "If the water reaches the amount of two Qullah, nothing can make it impure (Najis). Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر پانی دو قلہ سے زیادہ ہوگا تو بدرجہ اولی ناپاک نہ ہوگا، اور اگر اس کا رنگ، بو، یا مزہ یا ان میں سے کوئی کسی ناپاک چیز کے پڑنے سے بدل جائے، تو ناپاک ہوجائے گا، دو قلہ کا اندازہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حجۃ اللہ البالغہ میں یہ بیان کیا ہے کہ کسی ایسے حوض میں کہ جس کی زمین برابر ہوا گر پانی جمع کریں تو تقریباً سات بالشت لمبا اور پانچ بالشت چوڑا ہوگا، اور یہ ادنیٰ درجہ ہے حوض کا اور اعلیٰ درجہ ہے برتنوں کا، عرب میں اس سے بڑا برتن نہیں ہوتا تھا۔ قلہ: کے معنی مٹکے کے ہیں یہاں مراد ہجر کے مٹکے ہیں کیونکہ عرب میں یہی مٹکے مشہور تھے، اس میں ڈھائی سو رطل پانی سمانے کی گنجائش ہوتی تھی، اس اعتبار سے دو قلوں کے پانی کی مقدار پانچ سو رطل ہوئی، جو موجودہ زمانے کے پیمانے کے مطابق دو سو ستائیس کلوگرام ( ٢٢٧ ) بنتی ہے۔
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو یا تین قلہ ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Umar that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If the water is the amount of two or three Qullah, nothing can make it impure (Najis).Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٠٥، ومصباح الزجاجة: ٢١٥) (صحیح) (أو ثلاثاً کا لفظ صرف اس روایت میں ہے، اصحاب حماد نے اس کے بغیر روایت کی ہے کماتقدم )
( امام ابن ماجہ (رح) کے شاگرد) ابو حسن بن سلمہ قطان نے یہی روایت اپنی عالی سند سے، یعنی بواسطہ ابوحاتم و ابو ولید وغیرہ، حماد سے امام ابن ماجہ کے واسطے کے بغیر بیان کی۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں، اور ان پر درندے، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا، وہ ان کا حصہ ہے، اور جو پانی حوض (تالاب) میں بچا، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے ۔
. It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ was asked about the water basins located between Makkah and Al-Madinah, which were visited by wild animals, dogs and donkeys, and about using them for means of purification. He said, "Whatever they (the animals) have carried in their bellies is for them, and whatever is left over is for us, and is pure."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٨٦، ومصباح الزجاجة: ٢١٦) (ضعیف) ( عبدالرحمن بن زید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ١٦٠٩ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس (کے استعمال) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی (یہ سنا) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "We came to a pond in which there was the carcass of a donkey, so we refrained from using the water until the Messenger of Allah ﷺ came to us and said: Water is not made impure by anything. Then we drank from it and gave it to our animals to drink, and we carried some with us."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١١٤) (صحیح) ( سند میں طریف بن شہاب اور شریک القاضی ضعیف ہیں، اس لئے یہ اسناد ضعیف ہے، اور جیفہ حمار کا قصہ صحیح نہیں ہے، لیکن بقیہ مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو : ا لإرواء : ١٤ ، و صحیح ابی داود : ٥٩ )