Sunan Ibne-Majah 516

پاکی کا بیان

516Sunan Ibne-Majah

بغر حدث کے وضو واجب نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ: مِمَّ ذَلِكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ، أَوْ سَمَاعٍ.

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید ؓ کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Amr bin ‘Ata said: "I saw Saib bin Khabbab sniffing his garment, and I said: Why (are you doing) that? He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No ablution (is needed) unless there is an odor or a sound."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سب روایتیں شک کی صورت پر محمول ہیں کہ جب ہوا خارج ہونے میں شک ہو تو شک سے وضو باطل نہیں ہوتا، ہاں اگر یقین ہوجائے تو وضو باطل ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦) (صحیح) (سند میں عبد العزیز بن عبید اللہ الأحمصی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )