ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آجائے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Water is not made impure by anything except that which changes its smell, taste and color."
Notes · وضاحت
١ ؎: نجاست پڑنے کے بعد اگر پانی میں بو، رنگ اور مزہ کی تبدیلی ہوجائے تو وہ پانی کم ہو یا زیادہ نجس و ناپاک ہوجائے گا، اس پر علماء کا اجماع ہے کما تقدم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٦٠، ومصباح الزجاجة: ٢١٨) (ضعیف) ( رشدین اور راشد بن سعد دونوں ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں ہے، لیکن علماء کا اس کے عمل پر اجماع ہے، یعنی اگر نجاست پڑنے سے پانی میں تبدیلی پیدا ہوجائے تو وہ پانی نجس ہے )
لبابہ بنت الحارث ؓ کہتی ہیں کہ حسین بن علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی گود میں پیشاب کردیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے (تاکہ میں اسے دھو دوں) ، آپ ﷺ نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Lubabah bint Harith said: "Husain bin Ali urinated in the lap of the Prophet ﷺ and I said: O Messenger of Allah, give me your garment and put on another garment.’ He said: ‘Water should but the urine of a boy should be sprinkled over with water.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کی ایک روایت میں مالم يطعم (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لئے جو روایتیں مطلق ہیں مقید پر محمول کی جائیں گی، مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الصبى الذي لم يطعم کہہ کر اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٣٧ (٣٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٥)، ویأتی عند المؤلف في تعبیر الرؤیا (٣٩٢٣) (حسن صحیح )
ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے ایک شیرخوار بچے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کردیا، آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شیرخوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٣٧ (٣٧٧)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٤ (٦١٠)، الصلاة ٤٣٠ (٦١٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٧) (صحیح )
ابوالیمان مصری کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث يرش من الغلام، ويغسل من بول الجارية بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے کے متعلق پوچھا کہ دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے جب کہ پیشاب ہونے میں دونوں برابر ہیں؟ تو امام شافعی نے جواب دیا: لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے بنا ہے، اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے، اس کے بعد مجھ سے کہا: کچھ سمجھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا، تو ان کی چھوٹی پسلی سے حواء پیدا کی گئیں، تو بچے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا، اور بچی کا پیشاب خون اور گوشت سے، پھر مجھ سے پوچھا: سمجھے؟ میں نے کہا: ہاں، اس پر انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نفع بخشے۔
ابوسمح ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کردیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے ۔
ام کرز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ١ ؎۔
It was narrated from Umm Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "The urine of a boy should be sprinkled over and the urine of a girl should be washed."
Notes · وضاحت
١ ؎: احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں شریعت نے فرق رکھا ہے، اس کو روکنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات فاسدہ کرنا محض تعصب بےجا کی کرشمہ سازی ہے، مسلمان کو اس کے رسول کا فرمان کافی ہے، اس کے سامنے اسے کسی دوسری طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥٠، ومصباح الزجاجة: ٢٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٤٢٢، ٤٤٠، ٤٦٤) (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے اس لئے کہ عمرو بن شعیب کا ام کرز سے سماع نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث اور دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کرلینے دو ، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid. and some of the people rushed at him. The Messenger of Allah ﷺ said: "Do not interrupt him." Then he called for a bucket of water and poured it over (the urine).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد ﷺ کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی اللہ کی مغفرت) کو تنگ کردیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آجانے کے بعد (یہ قصہ بیان کر کے) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A Bedouin entered the Masjid when the Messenger of Allah ﷺ was sitting there, an (the man) said: O Allah, forgive me and Muhammad, and do not forgive anyone else with us. The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: You have placed restrictions on something that is vast. Then the Bedouin turned away, went to a comer of the Masjid, spread his legs and began to urinate. After he had a better understanding, the Bedouin said: He got up and came to me, and may my father and mother be ransomed for him, he did not rebuke me nor revile me. He said: "This Masjid is not for urinating in. Rather it is built for the remembrance of Allah and prayer." Then he called for a large vessel of water and poured it over the place where he had urinated."
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ ؓ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام ؓ نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) ، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ١ ؎۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: O Allah, have mercy on me and Muhammad, and do not allow anyone else to share in Your mercy. The Prophet ﷺ said: You have placed restrictions on something that is vast, woe to you! Then (the Bedouin) spread his legs and urinated, and the Companions of the Prophet ﷺ told him to stop, but the Messenger of Allah ﷺ said: Let him be,’ then he called for a vessel of water and poured it over(the urine)."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناپاک زمین پر پانی بہانا کافی ہے، اور اسی سے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٥، ومصباح الزجاجة: ٢٢١) (صحیح) (سند میں عبیداللہ الہذلی ضعیف ہیں، لیکن ابوہریرہ و انس ؓ کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کردیتی ہے ۔
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet, said: "I am a woman whose hem is lengthy, and I may walk through a dirty place. The Messenger of Allah ﷺ said: That which comes after it purifies it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حال اس لٹکتے ہوئے دامن کا ہے جو ناپاک جگہوں سے رگڑتا ہے، جس کی طہارت کا حدیث میں ایک انوکھا عمدہ اور سہل طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کی پاک جگہ کی رگڑ اسے پاک و صاف کر دے گی برخلاف ہمارے یہاں کے وسوسہ میں مبتلا لوگوں کے جنہوں نے دامن محمدی چھوڑ کر شیطان کے گریبان وسواس میں سر ڈالا ہے، اور ادنی سے چھینٹوں کو دھو کر کپڑوں کا ناس نکالا ہے، نعوذ باللہ من ہذا الوسواس۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٤٠ (٣٨٣)، سنن الترمذی/الطہارة ١٠٩ (١٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٤ (١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٤ (٧٦٩) (صحیح) (اس سند میں ام ولد ابراہیم مجہول ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٤٠٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑجاتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین کا دوسرا (پاک) حصہ اسے پاک کردیتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: It was said: "O Messenger of Allah, we want to come to the Masjid, but the path that we walk upon is impure." The Messenger of Allah ﷺ said: "Some parts of the earth purify others."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٢١) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم الیشکری مجہول اور ابن أبی حبیبہ (ابراہیم بن اسماعیل) ضعیف راوی ہیں، ابوداود میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو (اس کے بعد کی) مٹی اس کو پاک کر دے گی (حدیث نمبر: ٣٨٥ )
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔
. It was narrated that a woman from (the tribe of) Banu Abdul-Ashhal said: "I said to the Prophet ﷺ Between the Masjid and I there is a filthy path. He said: ‘After that is there a cleaner path? I said: Yes: He said: This is (a remedy) for that.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٤٠ (٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم ﷺ مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم ﷺ نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ ، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated Irom Abu Rafi that Abu Hurairah (RA) was met by the Prophet ﷺ in one of the streets of Al-Madinah when he was in a state of sexual impurity, so he slipped away. The Prophet ﷺ missed him, so when he came (later on), he said: Where were you Abu Hurairah (RA) h? He said: O Messenger of Allah, you met me when I was in a state of sexual impurity, and I did not want to sit with you until I had a bath. The Messenger of Allah ﷺ said: The believer does not become impure."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنبی ہونے سے مومن کا جسم اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھولے تو ہاتھ ناپاک ہوجائے، بلکہ اس کی ناپاکی حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہوگئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوگیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Prophet ﷺ came out and met me when I was sexually impure, so I kept away from him. Then I had a bath and came to him. He said: What is the matter with you? I said: I was sexually impure. The Messenger of Allah ﷺ said: The Muslim does not become impure."
Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا، خواہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، مردہ ہو یا زندہ، امام بخاری نے ایک روایت میں تعلیقاً یہ الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں کہ مومن زندہ یا مردہ کسی صورت میں نجس نہیں ہوتا، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بزرگوں کی محفلوں میں پاکی کے اہتمام کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم یا استاذ اپنے شاگردوں کا حال پوچھے اور غیر حاضری کے اسباب دریافت کرے۔
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔
It was narrated that Amr bin Maimun said: "I asked Sulaiman bin Yasar about a garment which gets semen on it Should I wash it off or wash the entire garment? Sulaiman said: ‘ Aisha (RA) said: "Semen used to get on the garment of the Messenger of Allah ﷺ and he would wash it off his garment, then he would go out to pray wearing that garment, and I could see he marks left on it by washing."
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہوگیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ ؓ کے پاس بھیج دیا، عائشہ ؓ نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔
Hammam bin Harith narrated: "A guest came and stayed with Aisha (RA) , and she ordered that he be given a yellow blanket of hers. He had a nocturnal emission in it, and he felt too shy to send it back to her when it had the traces of that emission on it, so he dipped it in water and then sent it to her. Aisha (RA) said: Why did he spoil our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his finger. I often scraped it (semen) from the garment of the Messenger of Allah ﷺ with my finger. "
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اگر میں کبھی رسول اللہ ﷺ کے کپڑے میں منی لگی دیکھتی تو اسے کھرچ دیتی تھی ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: "I remember when I found it (semen) on the garment of the Messenger of Allah ﷺ and I scratched it off."
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو اسے دور کرنے کے تین طریقے ہیں، کھرچنا، رگڑنا، اور دھونا، جس طریقے سے بھی اس کا ازالہ ممکن ہو کرسکتا ہے، بعض روایتوں میں اگر منی گیلی ہو تو دھوئے اور سوکھی ہو تو کھرچنے یا رگڑنے کا ذکر ہے، کھرچنے، رگڑنے، یا دھونے سے اگر نشان باقی رہتا ہے تو کوئی حرج نہیں، ابن عباس ؓ سے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ منی کا معاملہ رینٹ اور تھوک جیسا ہے اس کو کھرچنا یا رگڑنا کافی ہے، اور یہی دلیل ہے اس کے پاک ہونے کی۔
معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔
It was narrated from Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) that he asked his sister Umm Habibah, the wife of the Prophet: "Did the Messenger of Allah ﷺ ever offered prayer in a garment in which he had sexual intercourse?" She said: "Yes, if there was nothing noxious on it."