زمین پر پیشاب لگ جائے تو کیسے دھو یا جائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ عِنْدَنَا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَمُحَمَّدًا، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا، فَقَالَ: لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا وَيْحَكَ، أَوْ وَيْلَكَ، قَالَ: فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ.
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ ؓ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام ؓ نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) ، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ١ ؎۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: O Allah, have mercy on me and Muhammad, and do not allow anyone else to share in Your mercy. The Prophet ﷺ said: You have placed restrictions on something that is vast, woe to you! Then (the Bedouin) spread his legs and urinated, and the Companions of the Prophet ﷺ told him to stop, but the Messenger of Allah ﷺ said: Let him be,’ then he called for a vessel of water and poured it over(the urine)."