اس لڑ کے کے پیشاب کے بیان میں جو کھانا نہیں کھا تا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ، وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى.
لبابہ بنت الحارث ؓ کہتی ہیں کہ حسین بن علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی گود میں پیشاب کردیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے (تاکہ میں اسے دھو دوں) ، آپ ﷺ نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Lubabah bint Harith said: "Husain bin Ali urinated in the lap of the Prophet ﷺ and I said: O Messenger of Allah, give me your garment and put on another garment.’ He said: ‘Water should but the urine of a boy should be sprinkled over with water.