Sunan Ibne-Majah 521

پاکی کا بیان

521Sunan Ibne-Majah

حو ضوں کا بیان۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ، أَنْبَأَنَامُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ، وَطَعْمِهِ، وَلَوْنِهِ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آجائے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Water is not made impure by anything except that which changes its smell, taste and color."

Notes · وضاحت
١ ؎: نجاست پڑنے کے بعد اگر پانی میں بو، رنگ اور مزہ کی تبدیلی ہوجائے تو وہ پانی کم ہو یا زیادہ نجس و ناپاک ہوجائے گا، اس پر علماء کا اجماع ہے کما تقدم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٦٠، ومصباح الزجاجة: ٢١٨) (ضعیف) ( رشدین اور راشد بن سعد دونوں ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں ہے، لیکن علماء کا اس کے عمل پر اجماع ہے، یعنی اگر نجاست پڑنے سے پانی میں تبدیلی پیدا ہوجائے تو وہ پانی نجس ہے )