Sunan Ibne-Majah 528

پاکی کا بیان

528Sunan Ibne-Majah

زمین پر پیشاب لگ جائے تو کیسے دھو یا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُزْرِمُوهُ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کرلینے دو ، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔

It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid. and some of the people rushed at him. The Messenger of Allah ﷺ said: "Do not interrupt him." Then he called for a bucket of water and poured it over (the urine).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢١٩)، الأدب ٣٥ (٦٠٢٥)، ٨٠ (٦١٢٨)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٠ (٢٨٤)، سنن النسائی/الطہارة ٤٥ (٥٣)، المیاہ ٢ (٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ١٢ (١٤٧)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٨٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٢ (٧٦٧) (صحیح )