Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 28 of 218

541Sunan Ibne-Majah

ان کپڑوں میں نماز پڑھنا جن میں صحبت کی ہو

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ، وَفِيهِ أَيْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو ۔

It was narrated that Abu said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us with dripping from his head, and he led us in prayer wearing a single garment, placing its one end on the right shoulder, and the other end on the other shoulder. When he finished praying, Umar bin Khattab said to him: O Messenger of Allah, did you lead us in prayer wearing a single garment? He said: Yes, I perform prayer in it, and in it I (i.e. I had sexual intercourse in it)."

Notes · وضاحت
١ ؎: ان روایتوں سے ثابت ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی کپڑا خاص نماز کے لئے نہیں رہتا تھا، بلکہ روز مرہ کے کپڑوں سے ہی نماز بھی ادا کرلیتے تھے، اس لئے بعض لوگوں نے جو سجادے، جوڑے اور کپڑے نماز کے لئے خاص کر لئے ہیں، یہ بدعات و محدثات میں داخل ہیں، پھر اگر کوئی ان کو چھو لے تو ہندؤوں کی طرح چھوت سمجھتے ہیں، اور بھوت کی طرح الگ رہتے ہیں، ان کو وسواس خناس نے مبہوت کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٥، ومصباح الزجاجة: ٢٢٢) (حسن) (اس حدیث کی سند میں حسن بن یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ میں ہے، صحیح ابی داود: / ٣٩٠ )
542Sunan Ibne-Majah

ان کپڑوں میں نماز پڑھنا جن میں صحبت کی ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ الزِّمِّيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يَأْتِي فِيهِ أَهْلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِلَّا أَنْ يَرَى فِيهِ شَيْئًا فَيَغْسِلَهُ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس میں بیوی سے صحبت کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مگر یہ کہ اس میں کسی گندگی کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے ۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "A man asked the Prophet ﷺ whether he could perform prayer in a garment in which he had intercourse with his wife. He said: Yes, unless he sees something on it, in which case he should wash it."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٠٦، ومصباح الزجاجة: ٢٢٤)، مسند احمد (٥/٨٩، ٩٧) (صحیح )
543Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر ؓ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورة المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، (کیونکہ سورة المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا) ١ ؎۔

It was narrated that Hammam bin Harith said: "Jarir bin Abdullah urinated, then he performed ablution and wiped over his leather socks. Someone asked him: Do you do this? He said: Why shouldnt I? I saw the Messenger of Allah ﷺ doing this." Ibrahim (who narrated it from Hammam) said: "They were pleased by the Hadith of Jarir because he accepted Islam after the revelation of Maidah."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں لوگوں سے مراد اصحاب عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں، جس کی صراحت مسلم کی روایت میں ہے، مطلب یہ کہ سورة مائدہ میں وضو کا حکم ہے، اگر جریر ؓ کا اسلام نزول آیت سے پہلے ہوتا تو احتمال تھا کہ یہ حکم منسوخ ہو، اور جب متأخر ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت آیت کی مخصص ہے، اور حکم یہ ہے کہ اگر پیروں میں وضو کے بعد خف (موزے) پہنے ہوں تو مسح کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٥ (٣٨٧)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٠ (١١٨)، سنن النسائی/الطہارة ٩٦ (١١٨)، القبلة ٢٣ (٧٧٥)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦٣، ٣٦٤) (صحیح )
544Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔

It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution and wiped over his leather socks.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٠٥، ٣٠٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٥) (صحیح )
545Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہوگئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔

It was narrated from Urwah bin Mughirah bin Shubah from his father Mughirah bin Shubah, that the Messenger of Allah ﷺ went out to relieve himself, and Mughirah followed him with a vessel of water. When he finished relieving himself, he performed ablution and wiped over his leather socks.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٨ (١٨٢)، ٤٩ (٢٠٣)، المغازي ٨١ (٤٤٢١)، اللباس ١١ (٥٧٩٩) صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٤)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٩ (١٤٩)، سنن النسائی/الطہا رة ٦٣ (٧٩)، ٦٦ (٨٢)، ٧٩ (٩٦)، ٨٠ (٩٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٧٥ (١٠٠)، موطا امام مالک/الطہارة ٨ (٤١)، مسند احمد (٤/٢٥٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٤١ (٧٤٠) (صحیح )
546Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ: أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک (سعد بن مالک ابن ابی وقاص) ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر ؓ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص ؓ نے عمر ؓ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر ؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر ؓ نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that he saw Sad bin Malik wiping over his leather socks and said: "Is it you doing this?" They both went to Umar and Sad said to Umar (RA) : "Give my brothers son a verdict regarding wiping over leather socks." Umar said: "We used to wipe over our leather socks when we were with the Messenger of Allah ﷺ and we do not see anything wrong with that." Ibn Umar said: "Even if that is after one has defecated?" He said: "Yes."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٠، ومصباح الزجاجة: ٢٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٤٩ (٢٠٢)، موطا امام مالک/الطہارة ٨ (٤٢)، مسند احمد (١/٣٥) (صحیح) (اس سند میں سعید بن أبی عروبہ مدلس صاحب اختلاط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن بقول بوصیری محمد بن سواء نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے، نیز دوسرے طرق ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے )
547Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَأَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا، اور ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔

Abdul-Muhaimin bin Abbas bin Sahl As-Saidi narrated from his father, from his grandfather: "The Messenger of Allah ﷺ wiped over his leather socks and he ordered us to wipe over the leather socks."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٠، ومصباح الزجاجة: ٢٢٧) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں عبد المہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
548Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا: کچھ پانی ہے ؟، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and he said: Is there any water? He performed ablution and wiped over his leather socks, then he joined the army and led them (in prayer)."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣، ومصباح الزجاجة: ٢٢٧) (ضعیف) (عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں، اور عطاء خراسانی اور انس ؓ کے مابین انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
549Sunan Ibne-Majah

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ، أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نجاشی نے نبی اکرم ﷺ کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے، آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔

It was narrated from Abu Buraidah from his father that An- Najashi gave the Prophet ﷺ a gift a pair of plain black leather socks. He put them on, then he (performed ablution and) wiped over them.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٩ (١٥٥)، سنن الترمذی/الأدب ٥٥ (٢٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٦٢٠) (حسن )
550Sunan Ibne-Majah

موزے کے اوپر اور نیچے کا مسح کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزے کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔

It was narrated from Mughirah bin Shubah that the Messenger of Allah ﷺ wiped over the top and the bottom of the leather socks.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٦٣ (١٦٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٢ (٩٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٨ (٤١) مسند احمد (٤/٢٥١) سنن الدارمی/الطہارة ٤١ (٧٤٠) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥٢١ ) (شاید سند میں انقطاع ہے کیونکہ ثور کا سماع حیوة سے ثابت نہیں ہے )
551Sunan Ibne-Majah

موزے کے اوپر اور نیچے کا مسح کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَتَوَضَّأُ وَيَغْسِلُ خُفَّيْهِ، فَقَالَ بِيَدِهِ، كَأَنَّهُ دَفَعَهُ: إِنَّمَا أُمِرْتَ بِالْمَسْحِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا: مِنْ أَطْرَافِ الْأَصَابِعِ إِلَى أَصْلِ السَّاقِ، وَخَطَّطَ بِالْأَصَابِعِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا، اور اپنے دونوں موزوں کو دھو رہا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے روک رہے ہیں، اور فرمایا: تمہیں تو (موزوں پر) صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے ، اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کیا یعنی انگلیوں کے کناروں سے خط کھینچتے ہوئے پنڈلیوں کی جڑ تک لے گئے۔

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was performing ablution and washing his leather socks. He gestured with his hand, (and said): ‘Rather I have been commanded to wipe them.’ The Messenger of Allah ﷺ gestured with his hand like this, from the tips of the toes to the base of the shin, tracing lines with his fingers.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٨٤، ومصباح الزجاجة: ٢٢٨) (ضعیف جدا) (سند میں بقیہ مدلس اور جریر بن یزید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ١٩ )
552Sunan Ibne-Majah

مسح کی مدت مسافر اور مقیم کے لئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، عَنْشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَسَلْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُعَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَن الْمَسْحِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا أَنْ نَمْسَحَ لِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

شریح بن ہانی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی ؓ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چناچہ میں علی ؓ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔

It was narrated that Shuraih bin Ham said: "I asked Aisha (RA) about wiping over the leather socks and she said: Go to Ali and ask him, for he knows more about that than I do. So I went to Ali and asked him about wiping. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to tell us that the resident could wipe for one day and one night, and the traveler could do so for three days."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٢٧٦)، سنن النسائی/الطہارة ٩٩ (١٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٠١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦، ١٠٠، ١١٣، ١٢٠، ٣ ١٣، ١٣٤، ١٤٦، ١٤٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٤٢ (٧٤١) (صحیح )
553Sunan Ibne-Majah

مسح کی مدت مسافر اور مقیم کے لئے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا، وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا.

خزیمہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کردیتے ١ ؎۔

It was narrated that Khuzaimah bin Thabit said: "The Messenger of Allah ﷺ set a time limit for the traveler of three days, and if the questioner had persisted in asking, he would have made it five (days)."

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر مسافر نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہیں، تو وہ ان پر تین دن اور تین رات تک مسح کرسکتا ہے، واضح رہے کہ جس وقت پہنا ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ جس نماز کے وقت سے موزے پر مسح شروع کیا ہے اس کا اعتبار ہوگا، نیز نہانے کی حاجت اگر ہوجائے، تو اتارنے پڑیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٦٠ (١٥٧)، سنن الترمذی/الطہارة ٧١ (٩٥)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٣، ٢١٤، ٢١٥) (صحیح )
554Sunan Ibne-Majah

مسح کی مدت مسافر اور مقیم کے لئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّيُحَدِّثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، أَحْسِبُهُ قَالَ: وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ.

خزیمہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین دن اور ان کی راتیں مسافر کے لیے موزوں پر مسح کے حکم میں داخل ہیں ۔

It was narrated from Khuzaimah bin Thabit that the Prophet ﷺ said: "Three days." I think he said, "And three nights during which the traveler may wipe over his leather socks."

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
555Sunan Ibne-Majah

مسح کی مدت مسافر اور مقیم کے لئے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ الثُّمَالِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الطُّهُورُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "They said: O Messenger of Allah! ﷺ What about the purification of the leather socks? He said: For the traveler it is three days and nights, and for the resident it is one day and one night"

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤١٤) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں عمر الثمالی ضعیف ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
556Sunan Ibne-Majah

مسح کی مدت مسافر اور مقیم کے لئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَبِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَاالْمُهَاجِرُ أَبُو مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا تَوَضَّأَ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ وُضُوءًا أَنْ يَمْسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسافر کو رخصت دی کہ جب وہ باوضو ہو کر اپنے موزے پہنے، پھر اس کا وضو ٹوٹ جائے اور نیا وضو کرے، تو وہ اپنے موزوں پر تین دن اور تین رات تک مسح کرے، اور مقیم ایک دن، اور ایک رات تک۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Bakrah, from his father, that the Prophet ﷺ granted a concession to travelers: "If a traveler performed ablution and put on leather socks, then he performed a fresh ablution, he could wipe over the leather socks for three days and nights; the resident could do so for one day and one night.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٩٢، ومصباح الزجاجة: ٢٢٩) (حسن )
557Sunan Ibne-Majah

مسح کے لئے مدت مقرر نہ ہونا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ الْقِبْلَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَوْمًا، قَالَ: وَيَوْمَيْنِ، قَالَ: وَثَلَاثًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا، قَالَ لَهُ: وَمَا بَدَا لَكَ.

ابی بن عمارہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھر میں دونوں قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: کیا میں موزوں پر مسح کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، کہا: ایک دن تک؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، کہا: دو دن تک؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، کہا: تین دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، یہاں تک کہ سات تک پہنچے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: جب تک تمہارا دل چاہے ۔

It was narrated from Ubayy bin Imarah, in whose house the Messenger of Allah ﷺ performed prayer facing both prayer direction, that he said to the Messenger of Allah: "Can I wipe over my leather socks?" He said: "Yes." He said: "For one day?" He said: "For two days." He said: "For three?" And so on, until the number reached seven. He (the Prophet) said: "For as long as you see fit."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٦٠ (١٥٨)، (تحفة الأشراف: ٦) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن یزید مجہول الحال ہیں )
558Sunan Ibne-Majah

مسح کے لئے مدت مقرر نہ ہونا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ مِصْرَ، فَقَالَ: مُنْذُ كَمْ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ وہ مصر سے عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے، تو عمر ؓ نے پوچھا: آپ نے اپنے موزے کب سے نہیں اتارے ہیں؟ انہوں نے کہا: جمعہ سے جمعہ تک، تو عمر ؓ نے کہا: آپ نے سنت کو پا لیا ١ ؎۔

#Deleted

Notes · وضاحت
١ ؎: عقبہ بن عامر جہنی ؓ فتح مصر کی خوش خبری لے کر عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے تھے، چونکہ ایسے موقعہ پر رکنے ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہوتا، اس لئے انہوں نے تین دن سے زیادہ تک مسح کرلیا، یہ حکم ایسی ہی اضطراری صورتوں کے لئے ہے، ورنہ اصل حکم وہی ہے جو گزرا، مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین رات تک مسح کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٠) (صحیح )
559Sunan Ibne-Majah

جرابو اور جو توں پر مسح

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا ١ ؎۔

It was narrated from Mughirah bin Shubah that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution and wiped over his socks and his sandals.(Da`if)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب ان کو طہارت کر کے پہنے، تو پھر ان پر مسح صحیح ہے، اتارنا ضروری نہیں، اور جن لوگوں نے اس میں قیدیں لگائی ہیں کہ پائے تابے چمڑے کے ہوں، یا موٹے ہوں، اتنے کہ خود بخود تھم رہیں، یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کی شرع میں کوئی دلیل نہیں ہے، اصل یہ ہے کہ شارع (علیہ السلام) نے اپنی امت پر آسانی کے لئے پاؤں کا دھونا ایسی حالت میں جب موزہ یا جراب یا جوتا چڑھا ہو معاف کردیا ہے جیسے سر کا مسح عمامہ بندھی ہوئی حالت میں، پھر اس آسانی کو نہ قبول کرنا، اور اس میں عقلی گھوڑے دوڑانے کی کیا ضرورت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٦١ (١٥٩)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٤ (٩٩)، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ٩٦ (١٢٤)، مسند احمد (٤/٢٥٢) (صحیح )
560Sunan Ibne-Majah

جرابو اور جو توں پر مسح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، وَبِشْرُ بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ، قَالَ الْمُعَلَّى فِي حَدِيثِهِ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: وَالنَّعْلَيْنِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ معلی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے والنعلين کہا۔

It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution and wiped over his socks and his sandals.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٠٧، ومصباح الزجاجة: ٢٢٦) (صحیح) (عیسیٰ ضعیف الحفظ ہیں لیکن طرق و شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم قبلہ، (نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود ١٤٨ )