Sunan Ibne-Majah 513

پاکی کا بیان

513Sunan Ibne-Majah

بغر حدث کے وضو واجب نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا حَتَّى يَجِدَ رِيحًا، أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا.

عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں (حدث کا) شبہ محسوس کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ١ ؎۔

Abbad bin Tamim narrated that his paternal uncle said: "A complaint was made to the Prophet ﷺ about a man who sensed something (some doubt about his ablution) during prayer. He said: No (he does not have to perform ablution) unless he notices a smell or hears a sound. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگ شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں، اور اکثر شیطان ان کو نماز میں وہم دلاتا رہتا ہے، یہ حکم ان کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧)، ٣٤ (١٧٧)، البیوع ٥ (٢٠٥٦)، صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦١)، سنن ابی داود/الطہارة ٦٨ (١٧٦)، سنن النسائی/الطہارة ١١٥ (١٦٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) (صحیح )