ہر نماز کے لئے وضو کرنا اور تمام نمازیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.
بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ١ ؎۔
Su lairnan bin Buraidah narrated from his father that the Prophet ﷺ used to perform ablution for every prayer, but on the day of the conquest of Makkah, he performed all of the prayers with one ablution. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٥ (٢٧٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٦٦ (١٧٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٥ (٦١)، سنن النسائی/الطہارة ١٠١ (١٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥١، ٣٥٨)، سنن الدارمی/الطہارة ٣ (٦٨٣) (صحیح )