Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 4 of 265

62Sunan Abu Dawood

وضو پر وضو کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ يَحْيَى أَتْقَنُ، عَنْ غُطَيْفٍ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا نُودِيَ بِالظُّهْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّى، فَلَمَّا نُودِيَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَهُوَ أَتَمُّ.

ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا (اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے؟ ) انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Abu Ghutayf al-Hudhali reported: I was in the company of Ibn Umar. When the call was made for the noon (zuhr) prayer, he performed ablution and said the prayer. When the call for the afternoon (Asr) prayer was made, he again performed ablution. Thus I asked him (about the reason of performing ablution). He replied: The Messenger of Allah ﷺ said: For a man who performs ablution in a state of purity, ten virtuous deeds will be recorded (in his favour). Abu Dawud said: This is the tradition narrated by Musaddad, and it is more perfect.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٤٤ (٥٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٣ (٥١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩٠) (ضعیف) (اس سند میں عبدالرحمن ضعیف ہیں اور ابوغطیف مجہول ہیں )
63Sunan Abu Dawood

پانی کے احکام

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ الْعَلَاءِ، وقَالَ عُثْمَانُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ الصَّوَابُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں (اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا (یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی) ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ , was asked about water (in desert country) and what is frequented by animals and wild beasts. He replied: When there is enough water to fill two pitchers, it bears no impurity.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوگا، ( الایہ کہ اس کا رنگ، بو، اور مزہ بدل جائے) دو قلہ کی مقدار (٥٠٠) عراقی رطل ہے اور عراقی رطل (٩٠) مثقال کے برابر ہوتا ہے، انگریزی پیمانے سے دو قلہ کی مقدار تقریباً دو کو ئنٹل کے برابر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٤٣ (٥٢)، (تحفة الأشراف: ٧٢٧٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ٥٠ (٣٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٥ (٥١٧، ٥١٨)، سنن الدارمی/الطھارة ٥٥ (٧٥٨) (صحیح )
64Sunan Abu Dawood

پانی کے احکام

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جنگل و بیابان میں موجود پانی کے بارے میں سوال کیا گیا، پھر سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔

Narrated Abd Allaah bin Umar (RA) : The Messenger of Allaah ﷺ was asked about water in desert. He then narrated a similar tradition (as mentioned above).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الطہارة ٥٠ (٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٥ (٥١٧، ٥١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٠٥) (حسن صحیح )
65Sunan Abu Dawood

پانی کے احکام

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی جب دو قلہ کے برابر ہوجائے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے (اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں) ۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When there is enough water to fill two pitchers, it does not become impure. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid has narrated this tradition on the authority of Asim ( without any reference to the Prophet)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٠٥) (صحیح )
66Sunan Abu Dawood

بیئر بضاعہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The people asked the Messenger of Allah ﷺ : Can we perform ablution out of the well of Budaah, which is a well into which menstrual clothes, dead dogs and stinking things were thrown? He replied: Water is pure and is not defiled by anything.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٤٩ (٦٦)، سنن النسائی/المیاہ ١ (٣٢٧، ٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥، ١٦، ٣١، ٨٦) (صحیح )
67Sunan Abu Dawood

بیئر بضاعہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَالُ لَهُ: إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا. قَالَ: أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ، قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ ؟ قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ، وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ، فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ، هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: لَا. وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ١ ؎ سے آپ ﷺ کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا: اور جب کم ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواباً کہا: تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض (٦) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا: کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : I heard that the people asked the Prophet of Allah ﷺ : Water is brought for you from the well of Budaah. It is a well in which dead dogs, menstrual clothes and excrement of people are thrown. The Messenger of Allah ﷺ replied: Verily water is pure and is not defiled by anything. Abu Dawud said I heard Qutaibah bin Saeed say: I asked the person in charge of the well of Budah about the depth of the well. He replied: At most the water reaches pubes. Then I asked: Where does it reach when its level goes down ? He replied: Below the private part of the body. Abu Dawud said: I measured the breadth of the well of Budaah with my sheet which I stretched over it. I them measured it with the hand. It measured six cubits in breadth. I then asked the man who opened the door of garden for me and admitted me to it: Has the condition of this well changed from what it had originally been in the past ? He replied: No. I saw the color of water in this well had changed.

Notes · وضاحت
١ ؎: بئر بضاعہ: مدینہ نبویہ میں مسجد نبوی سے جنوب مغرب میں واقع کنواں تھا، اس وقت یہ جگہ مسجد نبوی کی توسیع جدید میں مسجد کے اندر داخل ہوچکی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤١٤٤) (صحیح )
68Sunan Abu Dawood

جنبی کے استعمال سے پانی ناپاک نہیں ہوتا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے (چلو سے پانی لے لے کر) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی (اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : One of the wives of the Prophet ﷺ took a bath from a large bowl. The Prophet ﷺ wanted to perform ablution or take from the water left over. She said to him: O Prophet of Allah, verily I was sexually defiled. The Prophet said: Water not defiled.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی غسل جنابت کے بعد بچا ہوا پانی پاک ہوتا ہے اور اس میں چھینٹیں پڑنے سے اس کی پاکی متأثر نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٤٨ (٦٥)، سنن النسائی/المیاہ (٣٢٦) بلفظ: ” لا ینجسہ شيء “، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٣ (٣٧٠، ٣٧١)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٤٨، ٣٠٨، ٣٣٧)، سنن الدارمی/الطھارة ٥٧ (٧٦١) (صحیح )
69Sunan Abu Dawood

ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: None amongst you should urinate in stagnant water, and then wash in it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٦٨ (٢٣٩)، صحیح مسلم/الطھارة ٢٨ (٢٨١، ٢٨٢)، سنن الترمذی/الطہارة ٥١ (٦٨)، سنن النسائی/الطھارة ٤٦ (٥٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٥ (٣٤٣)، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٤٦، ٣٦٢، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الطھارة ٥٤ (٧٥٧) (صحیح )
70Sunan Abu Dawood

ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلَا يَغْتَسِلُ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں جنابت کا غسل کرے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: None amongst you should urinate in standing water, then wash in it after sexual defilement.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٥ (٣٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٣) (حسن صحیح )
71Sunan Abu Dawood

کتے کے جھوٹے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مِرَارٍ، أُولَاهُنَّ بِتُرَابٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَيُّوبُ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی اسی طرح محمد سے روایت کی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The purification of the utensil belonging to any one of you, after it has been licked by a dog, consists of washing it seven times, using sand in the first instance. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Ayyub and Habib bin al-Shahid on the authority of Muhammad.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٢)، صحیح مسلم/الطھارة ٢٧ (٢٧٩)، سنن الترمذی/الطھارة ٦٨ (٩١)، سنن النسائی/الطھارة ٥١ (٦٣)، المیاہ ٦ (٣٣٤)، ٧ (٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣١ (٣٦٣، ٣٦٤)، موطا امام مالک/الطھارة ٦، (٣٥)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٦٥، ٢٧١، ٣١٤، ٣٦٠، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٤٠، ٤٨٠، ٤٨٢، ٥٠٨) (صحیح )
72Sunan Abu Dawood

کتے کے جھوٹے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ، وَزَادَ: وَإِذَا وَلَغَ الْهِرُّ غُسِلَ مَرَّةً.

محمد (ابن سیرین) ابوہریرہ ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، لیکن ان دونوں (حماد بن زید اور معتمر) نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو ایک بار دھویا جائے گا ۔

A similar tradition has been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. But this version has been narrated as a statement of Abu Hurairah himself and not attributed to the Prophet ﷺ . The version has the addition of the words: If the cat licks (a utensil), it should be washed once.

Takhrij · تخریج
حدیث محمد بن عبید تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (١٤٤٢٦)، وحدیث مسدد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٦٨ (٩١)، تحفة الأشراف (١٤٤٢٦، ١٤٤٥١)، وقد أخرجہ: حم (٢/٤٨٩) (صحیح )
73Sunan Abu Dawood

کتے کے جھوٹے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، السَّابِعَةُ بِالتُّرَابِقَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَمَّا أَبُو صَالِحٍ، وَأَبُو رَزِينٍ، وَالْأَعْرَجُ، وَثَابِتٌ الْأَحْنَفُ،وَهَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ، وَأَبُو السُّدِّيِّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، رَوَوْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا التُّرَابَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ، ساتویں بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح، ابورزین، اعرج، ثابت احنف، ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمٰن نے بھی اسے ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: When a dog licks a (thing contained in a) utensil you must wash it seven times, using earth (sand) for the seventh time. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by another chain of narrators in which there is no mention of earth.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المیاہ ٧ (٣٣٨) (تحفة الأشراف: ١٤٤٩٥) (صحیح) لکن قوله: السابعة بالتراب شاذ ( ساتویں بار مٹی کے الفاظ شاذ ہیں )
74Sunan Abu Dawood

کتے کے جھوٹے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ ابْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ مَا لَهُمْ وَلَهَا، فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالثَّامِنَةُ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا: لوگوں کو ان سے کیا سروکار؟ ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے۔

Narrated Ibn Mughaffal (RA) : The Messenger of Allaah ﷺ ordered the killing of the dogs, and then said: Why are they (people) after them (dogs)? and then granted permission (to keep) for hunting and for (the security) of the herd, and said: When the dog licks the utensil wash it seven times, and rub it with earth the eighth time. Abu Dawud said: Ibn Mughaffal narrated in a similar way.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں سابق حکم کی منسوخی اور کتوں کے قتل سے باز رہنے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٢٧ (٢٨٠)، سنن النسائی/الطھارة ٥٣ (٦٧) المیاہ ٧ (٣٣٧، ٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣١ (٣٦٥)، الصیدا (٣٢٠٠، ٣٢٠١)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٥)، وقد أخرجہ: حم (٤/٨٦، ٥/٥٦)، سنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٩) (صحیح )
75Sunan Abu Dawood

بلی کے جھوٹے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ، فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ.

کبشۃ بنت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے۔ وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ابوقتادہ ؓ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کردیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ ؓ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Qatadah (RA) : Kabshah, daughter of Kab ibn Malik and wife of Ibn Abu Qatadah, reported: Abu Qatadah visited (me) and I poured out water for him for ablution. A cat came and drank some of it and he tilted the vessel for it until it drank some of it. Kabshah said: He saw me looking at him; he asked me: Are you surprised, my niece? I said: Yes. He then reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is not unclean; it is one of those (males or females) who go round among you.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رات دن گھر میں رہتی ہے اس لئے پاک کردی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٦٩ (٩٢)، سنن النسائی/الطھارة ٥٤ (٦٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٢ (٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٣(١٣)، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩)، سنن الدارمی/الطھارة ٥٨ (٧٦٣) (حسن صحیح )
76Sunan Abu Dawood

بلی کے جھوٹے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَتْهَا تُصَلِّي، فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيهَا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا.

داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ (ایک قسم کا کھانا) دے کر ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، عائشہ ؓ نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا (میں نے کھانا رکھ دیا) ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی، جب ام المؤمنین عائشہ ؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے ، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Dawud ibn Salih ibn Dinar at-Tammar quoted his mother as saying that her mistress sent her with some pudding (harisah) to Aisha (RA) who was offering prayer. She made a sign to me to place it down. A cat came and ate some of it, but when Aisha (RA) finished her prayer, she ate from the place where the cat had eaten. She stated: The Messenger of Allah ﷺ said: It is not unclean: it is one of those who go round among you. She added: I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ablution from the water left over by the cat.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (١٧٩٧٩) وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٢ (٣٦٧) (صحیح )
77Sunan Abu Dawood

عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے۔

Narrated Aisha (RA) : I and the Messenger of Allaah ﷺ took a bath from one vessel while we were sexually defiled.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٦ (٢٩٩)، سنن النسائی/الغسل ٩ (٤١١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٥ (٣٧٦)، مسند احمد (٦/١٧١، ٢٦٥)، سنن الدارمی/الطھارة ٦٨ (٧٧٦) (صحیح )
78Sunan Abu Dawood

عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ خَرَّبُوذَ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتْ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ.

ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) ؓ کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : My hands and the hands of the Messenger of Allah ﷺ alternated into one vessel while we performed ablution.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٦ (٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٦، ٣٦٧) (حسن صحیح )
79Sunan Abu Dawood

عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ وضو کرتے تھے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The males and females during the time of the Messenger of Allah ( sal Allahu alayhi wa sallam) used to perform the ablution from one vessel together. The wordings from one vessel occur in the version of Musaddad.

Takhrij · تخریج
حدیث مسدد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٨١)، وحدیث عبداللہ بن مسلمة، آخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٤٣ (١٩٣)، وليس فيه: ” من الإناء الواحد “، سنن النسائی/الطھارة ٥٧ (٧١) المیاہ ١٠ (٣٤١، ٣٤٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٦ (٣٨١)، موطا امام مالک/الطھارة ٣(١٥)، مسند احمد (٢/٤، ١٠٣)، تحفة الأشراف (٨٣٥٠) (صحیح )
80Sunan Abu Dawood

عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَتَوَضَّأُ نَحْنُ وَالنِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نُدْلِي فِيهِ أَيْدِيَنَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں (باری باری) ڈالتے تھے۔

Narrated Abd Allaah bin Umar (RA) : We (men) and women during the life-time of the Messenger of Allah ﷺ used to perform ablution from one vessel. We all put our hands in it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٢١١) (صحیح )
81Sunan Abu Dawood

عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا.

حمید حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں اسی طرح چار سال تک رہنے کا موقع ملا تھا جیسے ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کی صحبت میں رہے تھے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے: چاہیئے کہ دونوں ایک ساتھ لپ سے پانی لیں ۔

Narrated Humayd al-Himyari (RA) : Humayd al-Himyari reported: I met a person (among the Companion of Prophet) who remained in the company of the Prophet ﷺ for four years as Abu Hurairah remained in his company. He reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade that the female should wash with the water left over by the male, and that the male should wash with the left-over of the female. The version of Musaddad adds: That they both take the handful of water together.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٤٧ (٢٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٥٤، ١٥٥٥٥) (صحیح )