Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 31 of 265

604Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ الْوَهْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.

اس طریق سے بھی ابوہریرہ ؓ سے إنما جعل الإمام ليؤتم به والی یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے وإذا قرأ فأنصتوا جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وإذا قرأ فأنصتوا کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The imam is appointed only to be followed. This version adds: When he recites (the Quran), keep silent. Abu Dawud said: The addition of the words When he recites, keep silent in this version are not guarded. The misunderstanding, according to us, is on the part of Abu Khalid (a narrator).

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠(٩٢٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٠) (صحیح )
605Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اسی لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔

Aishah said; The Messenger of Allah ﷺ prayed in his house sitting and the people prayed behind him standing. He made a sign to them (asking them) to sit down. When he finished the prayer, he said: The IMAM is appointed only to be followed; so when he prays standing. Pray standing ; and when he raises himself, raise yourself: and when he prays sitting. Pray sitting.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥١ (٦٨٨)، وتقصیر الصلاة ١٧ (١١١٣)، ٢٠ (١١١٩)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٢)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٤٤ (١٢٣٧)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٥ (١٧)، مسند احمد (٦/١١٤، ١٦٩) (صحیح )
606Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ،عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِر، قَالَ: اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر ؓ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Jabir said: when the prophet ﷺ became seriously ill, we prayed behind him while he was sitting and Abu Bakr was calling “Allah is most great “ to cause the people to hear the TAKBIR. Then he (the narrators) narrated the rest of the tradition.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٢١٣)، سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠٧ (١٢٠١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٥ (١٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
607Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ إِمَامَنَا مَرِيضٌ، فَقَالَ: إِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ.

اسید بن حضیر ؓ کہتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے امام بیمار ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔

Husain reported on the authority of the children of Saad bin Muadh that Usaid bin Hudair used to act as their Imam. (when he fell ill) the Messenger of Allah ﷺ came to him inquiring about his illness. They said: Messenger of Allah, our Imam is ill. He said: When he prays sitting, pray sitting. Abu Dawud said: The chain of this tradition is not continuous (muttasil)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٢) (صحیح) (سابقہ حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث معنیً صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں انقطاع ہے، حصین کی اسید بن حضیر ؓ سے لقاء ثابت نہیں ہے )
608Sunan Abu Dawood

جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دوسرا کہاں کھڑا ہو

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ، فَقَالَ: رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ وَهَذَا فِي سِقَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا، قَالَ ثَابِتٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام ؓ کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے (کھجور کو) اس کی تھیلی میں اور اسے (گھی کو) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں ، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم (انس کی والدہ) اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس ؓ نے کہا کہ مجھے آپ ﷺ نے اپنی داہنی طرف فرش پر کھڑا کیا۔

Anas said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon Umm Haram. The people (in her house) brought some cooking oil dates to him. He said; Put it (dates) back in its container and return it (cooking oil) to its bag, because I am keeping fast. He then stood and led us in prayer two Rak’ahs of supererogatory prayer. Then Umm Sulaim and Umm Haram stood behind us (i. e., the men). Thabit (the narrator) said: I understand that Anas said; he (the prophet) made me stand on his right side.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٧٨ (٧٢٧)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (١٤٩٩)، سنن النسائی/الإمامة ٢٠ (٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٥)، مسند احمد (٣/١٦٠، ١٨٤، ٢٠٤، ٢٣٩، ٢٤٢، ٢٤٨) (صحیح )
609Sunan Abu Dawood

جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دوسرا کہاں کھڑا ہو

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ، فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اور ان کے گھر کی ایک عورت کی امامت کی تو آپ ﷺ نے انہیں (یعنی انس ؓ کو) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا، اور عورت کو پیچھے۔

Anas said: The Messenger of Allah ﷺ led him and one of their women in prayer. He (the prophet) put him on his right side and the woman behind him (Anas)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠)، سنن النسائی/الإمامة ٢٠ (٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٤ (٩٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٤، ٢٥٨، ٢٦١) (صحیح )
610Sunan Abu Dawood

جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دوسرا کہاں کھڑا ہو

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ ﷺ رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ ﷺ نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کرلیا، پھر میں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔

Abdullah bin Abbas said: when I was spending a night in the house of my maternal aunt Maimunah, the Messenger of Allah ﷺ got up at night, opened the mouth of the water skin and performed ablution. He then closed the mouth of the water-skin and stood for prayer. Then I got up and performed ablution as he did ; then I came and stood on his left side. He took my hand, turned me round behind his back and set me on his right side; and I prayed along with him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٤ (٩٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، والأذان ٥٧ (٦٩٧)، ٥٩ (٦٩٩)، ٧٩ (٧٢٨)، واللباس ٧١ (٥٩١٩)، سنن النسائی/الغسل ٢٩ (٤٤٣)، الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، و قیام اللیل ٩ (١٦٢١)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٥٨، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٣ (١٢٩٠) (صحیح )
611Sunan Abu Dawood

جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دوسرا کہاں کھڑا ہو

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِرَأْسِي أَوْ بِذُؤَابَتِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

اس سند سے ابن عباس ؓ سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔

Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn Abbas says: “He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧١ (٥٩١٩)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٨٧) (صحیح )
612Sunan Abu Dawood

جب تین آدمی جماعت کریں تو کیسے کھڑے ہوں؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا فَلَأُصَلِّيَ لَكُمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: تم لوگ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ۔ انس ؓ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہوگئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت (ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ اپنے گھر واپس ہوئے۔

Anas bin Malik (RA) said that his grandmother Mulaikah the Messenger of Allah ﷺ to take meals which the prepared for him. He took some of it and prayed. He said: Get up, I shall lead you in prayer. Anas said: I got up and took a mat which had become black on account of long use. I then washed it with water. The Messenger of Allah ﷺ stood upon it. I and the orphan (Ibn Abi Dumairah, the freed slave of the prophet) stood in a row behind him. The old women stood behind us. He then led us two RAKAHs in prayer and went away.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٠ (٣٨٠)، والأذان ٧٨ (٧٢٧)، ١٦١ (٨٦٠)، ١٦٤ (٨٧١)، ١٦٧ (٨٧٤)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٥٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٩ (٢٣٤)، سنن النسائی/المساجد ٤٣ (٧٣٨)، والإمامة ١٩ (٨٠٢)، ٦٢ (٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٩(٣١)، مسند احمد (٣/١٣١، ١٤٥، ١٤٩، ١٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٤)، (صحیح )
613Sunan Abu Dawood

جب تین آدمی جماعت کریں تو کیسے کھڑے ہوں؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.

اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہمارے لیے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی (اور ہم اندر گئے) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Alqamah and al-Aswad sought permission from Abdullah (ibn Masud) for admission, and we remained sitting at his door for a long time. A slave-girl came out and gave them permission (to enter). He (Ibn Masud) then got up and prayed (standing) between me (al-Aswad) and him (Alqamah). He then said: I witnessed the Messenger of Allah ﷺ doing similarly.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب تین آدمی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا، اور دونوں مقتدی اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور یہ حکم کہ تین آدمی ہوں تو امام ان کے درمیان کھڑا ہو منسوخ ہے، ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ جگہ کی تنگی کی وجہ سے آگے بڑھنے کے بجائے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے (دیکھئے عون المعبود، حدیث مذکور)۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المساجد ٢٧ (٧٢٠)، والإمامة ١٨ (٨٠٠)، والتطبیق ١ (١٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥ (١١٩١)، مسند احمد (١/٤٢٤، ٤٥١، ٤٥٥، ٤٥٩) (صحیح )
614Sunan Abu Dawood

سلام پھیرنے کے بعد امام قبلہ سے رخ پھیر لے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ.

یزید بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو (نمازیوں کی طرف) مڑ گئے۔

Narrated Yazid ibn al-Aswad (RA) : Jabir ibn Yazid ibn al-Aswad reported on the authority of his father: I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ . When he finished the prayer, he would turn (his face from the direction of the Kabah).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥١ (٢١٩)، الإمامة ٥٤ (٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (صحیح )
615Sunan Abu Dawood

سلام پھیرنے کے بعد امام قبلہ سے رخ پھیر لے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ ﷺ (سلام پھیرنے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کرلیں ١ ؎۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: When we would pray behind the Messenger of Allah ﷺ , we liked to be on his right side. He (the Prophet) would sit turning his face towards us (and back towards the Kabah) ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ ﷺ بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٨ (٧٠٩)، سنن النسائی/الإمامة ٣٤ (٨٢٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٥ (١٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩)، وقد أخرجہ: (٤/٢٩٠، ٣٠٤) (صحیح )
616Sunan Abu Dawood

امام اپنے مصلے سے ہٹ کر نوافل پڑھے

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُصَلّيِ الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يُدْرِكْ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس جگہ پر (نفل) نماز نہ پڑھے جہاں اس نے (فرض) نماز پڑھی ہے، جب تک کہ وہاں سے ہٹ نہ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء خراسانی کی مغیرہ بن شعبہ ؓ سے ملاقات نہیں ہے۔

Narrated Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: The Imam should not pray at the place where he led the prayer until he removes (from there). Abu Dawud said: Ata al-Khurasani did not see Mughirah bin Shubah (This tradition is, therefore munqati, i. e. a link is missing in the chain).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٣ (١٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٧) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: عطاء خراسانی اور مغیرہ بن شعبہ ؓ کے درمیان انقطاع، اور عبدالعزیز قرشی مجہول ہیں )
617Sunan Abu Dawood

آخری رکعت کے سجدہ کے بعد حدث پیش آجانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام نماز پوری کرلے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے، پھر بات کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی، سب کی نماز پوری ہوگئ ی ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: When the Imam completes the prayer and sits (for reciting tashahhud), and then becomes defiled (i. e. his ablution becomes void) before he speaks (to someone), his prayer becomes complete. And those who prayed behind him also complete the prayer.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٨ (٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث اگلی صحیح حدیث کے مخالف ہے )
618Sunan Abu Dawood

نماز کی تحریم و تحلیل کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کلید (کنجی) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم ہے ١ ؎۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: The key of prayer is purification; takbir (saying Allah is most great) makes (all acts which break prayer) unlawful and taslim (uttering the salutation) makes (all such acts) lawful.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی نماز کے منافی سارے کام حرام ہوجاتے ہیں، اور سلام پھیرنے کے ساتھ ہی وہ سارے کام جائز ہوجاتے ہیں جو نماز میں ناجائز ہوگئے تھے، پس سلام ہی کے ذریعہ آدمی کی نماز پوری ہوگی نہ کہ کسی اور چیز سے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٣ (٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣ (٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٣)، سنن الدارمی/الطھارة ٢١ (٧١٣) (حسن صحیح )
619Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ سے پہلے نہ رکوع کرو اور نہ سجدہ، کیونکہ میں تم سے جس قدر پہلے رکوع میں جاؤں گا اتنا تم مجھے پالو گے، جب میں تم سے پہلے سر اٹھاؤں گا ١ ؎ کیونکہ میں موٹا ہوگیا ہوں ۔

Narrated Muawiyah ibn Abu Sufyan (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not try to outstrip me in bowing and prostrating because however earlier I bow you will join me when I raise (my head from bowing); I have become bulky.

Notes · وضاحت
وضاحت: یعنی میرے سر اٹھانے تک تم رکوع ہی میں رہو، یہ عوض ہوجائے گا اس مدت کا جو تم میرے بعد رکوع میں گئے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤١ (٩٦٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٢٦)، وقد أخرجہ: حم (٤/٩٢، ٩٨)، سنن الدارمی/الطھارة ٧٢ (٧٨٢) (حسن صحیح )
620Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا.

براء ؓ کا بیان ہے (اور وہ جھوٹے نہ تھے) کہ لوگ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے، پھر جب وہ آپ ﷺ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔

Al-Bara who is not a liar said; when they (the companions) raised their heads from bowing along with the Messenger of Allah ﷺ , they would stand up, and when they saw him that he went down in prostration, they would prostrate (following the prophet).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٢ (٦٩٠)، ٩١ (٧٤٧)، ١٣٣ (٨١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٩ (٤٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٨١)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣٠)، مسند احمد (٤/٢٩٢، ٣٠٠، ٣٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢) (صحیح )
621Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ،عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ.

براء ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو (زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے) نہ دیکھ لیتا۔

Al-Bara bin Azib said ; we used to pray along with the prophet ﷺ ; none of us bowed his back until he saw that the prophet ﷺ bowed (his back).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٩ (٤٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤) (صحیح )
622Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

براء بن عازب ؓ کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ ﷺ سمع الله لمن حمده کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سجدہ میں جاتے۔

Al-Bara (bin Azib)said; They (the Companions) used to pray along with the Messenger of Allah ﷺ . When he bowed, they bowed; and when he said, “Allah listens to him who praises him”, they remained standing until they saw that he placed his placed his forehead on the ground: then they would follow him ﷺ

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣) (صحیح )
623Sunan Abu Dawood

جو شخص امام سے پہلے سجدہ سے سر اٹھائے یا رکھے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا يَخْشَى أَوْ أَلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے وہ شخص جو اپنا سر اٹھاتا ہے جب کہ امام سجدے میں ہو، کیا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر یا اس کی صورت گدھے کی بنا دے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے أما يخشى فرمایا، یا ألا يخشى۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; Does he who raises his head while the Imam is prostrating not fear that Allah may change his head into a donkey’s or his face into a donkey’s face.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٣ (٦٩١)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٥ (٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٨٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٢ (٥٨٢)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٢٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤١ (٩٦١)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٢٧١، ٤٢٥، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٩، ٤٧٢، ٥٠٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٢ (١٣٥٥) (صحیح )