Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 30 of 265

584Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، وَلَمْ يَقُلْ: فَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ.

ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو ۔ اس روایت میں فأقدمهم قرائة کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: تم کسی کے تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو ۔

This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Masud This version has words ; “If they are equally versed in recitation, then the one who has most knowledge of the Sunnah ; if they are equal with regard to (the knowledge of) the Sunnah, then the earliest of them to emigrate (to Madina)”. He did not narrate the words; “ The earliest of them in recitation”. Abu Dawud said: Hajjaj bin Artata reported from Ismail: Do not sit in the place of honour of anyone except with his permission.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦) (صحیح )
585Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، وَكُنْتُ غُلَامًا حَافِظًا فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ، وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَقَدَّمُونِي فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ: وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ، فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحِي بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ.

عمرو بن سلمہ ؓ کہتے ہیں ہم ایسے مقام پر (آباد) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کرلیا تھا، چناچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گئے تو آپ ﷺ نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چناچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چناچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری (امام) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چناچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ١ ؎۔

Amr bin Salamah said ; we lived at a place where the people would pass by us when they came to the prophet ﷺ . When they returned they would again pass by us. And they used to inform us that the Messenger of Allah ﷺ said so –and-so. I was a boy with a good memory. From the ( process) I memorized a large portion of the Quran. Then my father went to the Messenger of Allah ﷺ along with a group of his clan. He (the Prophet) taught them prayer. And he said: The one of you who knows most of the Quran should act as your imam. I knew the Quran better than most of them because I had memorized it. They, therefore, put me in front of them, and I would lead them in prayer. I wore a small yellow mantle which, when I prostrated myself, went up on me, and a woman of the clan said: Cover the back side of your leader from us. So they bought an ‘Ammani shirt for me, and I have never been so pleased about anything after embracing Islam as I was about that (shirt). I used to lead them in prayer and I was only seven or eight year old.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فرض ہو یا نفل نابالغ لڑکا (جو اچھا قاری اور نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو) امام ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٣ (٤٣٠٢)، سنن النسائی/الأذان ٨ (٦٣٧)، والقبلة ١٦ (٧٦٨)، والإمامة ١١ (٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٥، ٥/٢٩، ٧١) (صحیح )
586Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوَصَّلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي.

اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ ؓ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔

This tradition has also been transmitted through a different chain by Amr bin Salamah. This version says: “I used to lead them in prayer with a sheet of cloth on me that was patched and torn. When I prostrated myself, my buttocks were disclosed.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٥) (صحیح )
587Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يَؤُمُّنَا ؟ قَالَ: أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ، وَكُنْتُ أُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ.

عمرو بن سلمہ ؓ کے والد سلمہ بن قیس اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کو قرآن زیادہ یاد ہو ۔ راوی کو شک ہے جمعا للقرآن کہا، یا: أخذا للقرآن کہا، عمرو بن سلمہ ؓ کہتے ہیں: میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی نماز پڑھاتا رہا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے عن أبيه نہیں کہا ہے۔

Amr bin Salamah reported on the authority of his father (Salamah) that they visited the Prophet ﷺ . When they intended to return, they said: Messenger of Allah, who will lead us in prayer? He said: The one of you who knows most of the Quran, or memorizes most of the Quran, (should act as your imam). There was none in the clan who knew more of the Quran than I did. They, therefore, put me in front of them and I was only a boy. And I wore a mantle, Whenever I was present in the gathering of Jarm (name of his clan), I would act as their Imam, and lead them in their funeral prayer until today. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Amr bin Salamah through a different chain of transmitter. This version has: “When my clan visited the Prophet ﷺ . . . . ” He did not report it on the authority of his father.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٥) (صحیح) لیکن: عن أبيه کا قول غیر محفوظ ہے
588Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ. ح وحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، زَادَ الْهَيْثَمُ: وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ١ ؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم ؓ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب ؓ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد ؓ بھی موجود ہوتے۔

Ibn Umar said: when the first emigrants came (to Madina), they stayed at al-‘Asbah (a place near Madina) before the advent of the Messenger of Allah ﷺ . Salim, the client of Abu Hudhaifah, acted as their imam, as he knew the Quran better than all of them, al-Haitham (the narrator) added: and Umar bin al-Khattab and Abu Salamah bin Abd al-Asad were among them.

Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ میں قبا کے پاس ایک جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٤ (٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ٧٨٠٠، ٨٠٠٧) (صحیح )
589Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا سِنًّا، وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقُرْآنُ ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم اذان دو، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے: اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے: خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: پھر قرآن کہاں رہا؟ انہوں نے کہا: اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔

Malik bin al-Huwairith said that the Prophet ﷺ told him or some of his companions: When the time of prayer comes, call the Adhan, then call the iqamah, then the one who is oldest of you should act as your imam. The version narrated by Maslamah goes: He said: On that day we were almost equal in knowledge. The version narrated by Ismail says: Khalid said: I said to Abu Qilabah: where is the Quran (i. e. why did the Prophet ﷺ not say: The one who knows the Quran most should act as imam)? He replied: Both of them were equal in the knowledge of the Quran.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨)، ٣٥ (٦٥٨)، ٤٩ (٦٨٥)، ١٤٠ (٨١٩)، والجہاد ٤٢ (٢٨٤٨)، والأدب ٢٧ (٦٠٠٨)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦)، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٧ (٢٠٥)، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥)، ٨ (٦٣٦)، ٢٩ (٦٧٠)، والإمامة ٤ (٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح )
590Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Let the best among you call the adhan for you, and the Quran-readers act as your imams.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی حسین حنفی ضعیف ہیں )
591Sunan Abu Dawood

عورتوں کی امامت کا مسئلہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً، قَالَ: قَرِّي فِي بَيْتِكِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ، قَالَ: فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا، فَأَذِنَ لَهَا، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِيَةً، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ.

ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: چناچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ ؓ نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مرجانے کے بعد آزاد کردینے کی وصیت کردی تھی، چناچہ وہ دونوں (یعنی غلام اور لونڈی) رات کو ام ورقہ ؓ کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر ؓ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، (چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔

Narrated Umm Waraqah daughter of Nawfal (RA) : When the Prophet ﷺ proceeded for the Battle of Badr, I said to him: Messenger of Allah allow me to accompany you in the battle. I shall act as a nurse for patients. It is possible that Allah might bestow martyrdom upon me. He said: Stay at your home. Allah, the Almighty, will bestow martyrdom upon you. The narrator said: Hence she was called martyr. She read the Quran. She sought permission from the Prophet ﷺ to have a muadhdhin in her house. He, therefore, permitted her (to do so). She announced that her slave and slave-girl would be free after her death. One night they went to her and strangled her with a sheet of cloth until she died, and they ran away. Next day Umar announced among the people, Anyone who has knowledge about them, or has seen them, should bring them (to him). Umar (after their arrest) ordered (to crucify them) and they were crucified. This was the first crucifixion at Madina.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٥) (حسن) (اس کے دو راوی ولید کی دادی اور عبدالرحمن بن خلاد دونوں مجہول ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لئے تقویت کا باعث ہیں، ابن خزیمہ نے حدیث کو صحیح کہا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣ ؍ ١٤٢)
592Sunan Abu Dawood

عورتوں کی امامت کا مسئلہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ،عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا.

اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ ﷺ نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کردیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔

This tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Umm Waraqah daughter of Abdullah bin al-Harith. The first version is complete. This version goes: The Messenger of Allah ﷺ used to visit her at her house. He appointed a Muadhdhin to call adhan for her; and he commanded her to lead the inmates of her house in prayer. Abdur-Rahman said: I saw her Muadhdhin who was an old man.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٤) (حسن) (ملاحظہ ہو حدیث سابق )
593Sunan Abu Dawood

مقتد یوں کی ناراضگی کی صورت میں امامت درست نہیں

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلَاةً: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہوجانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: There are three types of people whose prayer is not accepted by Allah: One who goes in front of people when they do not like him; a man who comes dibaran, which means that he comes to it too late; and a man who takes into slavery an emancipated male or female slave.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٣ (٩٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٣) (ضعیف) (اس کے دو راوی عبدالرحمن افریقی اور عمران ضعیف ہیں، مگر اس کا پہلا جزء شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )
594Sunan Abu Dawood

مقتد یوں کی ناراضگی کی صورت میں امامت درست نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The obligatory prayer is essential behind every Muslim, pious or impious, even if he has committed a sins.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٩) (ضعیف) (علاء بن حارث مختلط ہوگئے تھے اور مکحول کی ابوہریرہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں )
595Sunan Abu Dawood

نابینا کی امامت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابن ام مکتوم ؓ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔

Anas said that the Prophet ﷺ appointed Ibn Umm Maktum as substitute to lead the people in prayer, and he was blind.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٢) (حسن صحیح )
596Sunan Abu Dawood

مہمان میزبان کی امامت نہ کرے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ بُدَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا، قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا هَذَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ، فَقَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ.

بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث ؓ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، (ایک بار) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ١ ؎۔

Abu Atiyyah, a freed slave of us, said: Malik bin al-Huwairith came to this place of prayer of ours, and the iqamah for prayer was called. We said to him: Come forward and lead the prayer. He said to us: Put one of your own men forward to lead you in prayer. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone visits people, he should not lead them in prayer, but some person of them should lead the prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر خوشی و رضا مندی سے لوگ زائر کو امام بنانا چاہیں اور وہ امامت کا مستحق بھی ہو تو اس کا امام بننا جائز ہے، کیونکہ ابومسعود کی ایک روایت میں إلا بإذنه کا اضافہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤٨ (٣٥٦)، سنن النسائی/الإمامة ٩ (٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦)، (صحیح) (مالک بن حویرث کے قصہ کے بغیر حدیث صحیح ہے )
597Sunan Abu Dawood

امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر نہ کھڑا ہو

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ ؟، قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي.

ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے مدائن (کوفہ کے پاس ایک شہر ہے) میں ایک چبوترہ (اونچی جگہ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی (اور لوگ نیچے تھے) ، ابومسعود ؓ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں (نیچے) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔

Hammam said: Hudhaifah led the people in prayer in al-Mada’in standing on the shop (or a bench). Abu Masud took him by his shirt, and brought him down. When he ( Abu Masud) finished his prayer, he said: Do you not know that they (the people) were prohibited to do so. He said: Yes, I remembered when you pulled me down.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٨٨) (صحیح )
598Sunan Abu Dawood

امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر نہ کھڑا ہو

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِيرَجُلٌ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، قَالَ عَمَّارٌ: لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدَيَّ.

عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر ؓ کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ ؓ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار ؓ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔

Adi bin Thabit al-Ansari said; A man related to me that (once) he was in the company of Ammar bin yasir in al-Mada’in (a city near Ku’fah). The IQAMAH was called for prayer: Ammar came forward and stood on a shop (or a beach) and prayed while the people stood on a lower place than he. Hudaifah came forward and took him by the hands and Ammar followed him till Hudaifah brought him down. When Ammar finished his prayer. Hudaifah said to him: Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: When a man leads the people in prayer, he must not stand in a position higher than theirs, or words to that effect? Ammar replied: that is why I followed you when you took me by the hand.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٦) (حسن) (اس کا جتنا حصہ پچھلی حدیث کے موافق ہے اتنا اس سے تقویت پاکر درجہ حسن تک پہنچ جاتا ہے باقی باتیں سند میں ایک مجہول راوی (رجل) کے سبب ضعیف ہیں اس میں امام عمار ؓ کو اور کھینچنے والا حذیفہ ؓ کو بنادیا ہے )
599Sunan Abu Dawood

نماز پڑھنے کے بعد پھر اسی نماز کی امامت کرنا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ عشاء کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ١ ؎۔

Jabir bin Abdullah said: Muadh bin Jabal would pray along with the Messenger of Allah ﷺ in the night prayer, then go and lead his people and lead them in the same prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست اور صحیح ہے کیونکہ معاذ ؓ فرض نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے، اور واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، معاذ ؓ کی دوسری نماز نفل ہوتی اور مقتدیوں کی فرض ہوتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٦٠ (٧٠٠)، والأدب ٧٤ (٦١٠٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣٩ (٨٣٢)، ٤١ (٨٣٦)، والافتتاح ٦٣ (٩٨٥)، ٧٠ (٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٦)، مسند احمد (٣/ ٢٩٩، ٣٠٨، ٣٦٩)، سنن الدارمی/ الصلاة ٦٥ (١٣٣٣)، ویأتي برقم: (٧٩٠) (حسن صحیح) (مؤلف کی سند سے حسن صحیح ہے ورنہ صحیح ہے )
600Sunan Abu Dawood

نماز پڑھنے کے بعد پھر اسی نماز کی امامت کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔

Jabir bin Abdullah said: Muadh bin Jabal would pray along the prophet ﷺ , then go and lead his people in prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة (٣٦ (٤٦٥)، سنن النسائی/الإمامة ٤١ (٨٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٣) (صحیح )
601Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے پھر اس سے گرگئے، آپ ﷺ کے دائیں پہلو میں خراش آگئی جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) said; The Messenger of Allah ﷺ rode a horse and was thrown off it and his right was grazed. He then prayed one of the prayers sitting and we prayed one of the prayers sitting, and when he finished he said: the Imam is appointed only to be followed ; so when he prays standing, pray standing, and when he bows, bow; when he raises himself, raise yourselves; when he says “Allah listen to him who praises Him”, “Our Lord! to Thee be the praise”: and when he prays sitting all of you pray sitting.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں وہ جمہور علماء کے نزدیک منسوخ ہیں کیونکہ مرض الموت میں نبی اکرم ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، والأذان ٥١ (٦٨٩)، ٨٢ (٧٣٢)، ١٢٨ (٨٠٥)، وتقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، سنن النسائی/امامة ١٦ (٧٩٥)، ٤٠ (٨٣٣)، والتطبیق ٢٢ (١٠٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٥٥ (٣٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٤ (١٢٣٨)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٥ (١٦)، مسند احمد (٣/١١٠، ١٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٤ (١٢٩١) (صحیح )
602Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْمِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا، قَالَ: فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَسَكَتَ عَنَّا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّى الْإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کے درخت کی جڑ پر گرا دیا، جس سے آپ ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی، ہم لوگ آپ کی عیادت کے لیے آئے، اس وقت ہمیں آپ ﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے کمرے میں بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے ملے، ہم لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ ہمارے بارے میں خاموش رہے (ہمیں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا) ۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ ﷺ کی عیادت کے لیے آئے تو آپ نے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی، ہم لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب امام کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اس طرح نہ کرو جس طرح فارس کے لوگ اپنے سر کردہ لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ rode a horse in Madina. It threw him off at the root of a date-palm. His foot was injured. We visited him to inquire about his illness. We found him praying sitting in the apartment of Aisha (RA) . We, therefore, stood, (praying) behind him. He kept silent. We again visited him to inquire about his illness. He offered the obligatory prayer sitting. We, therefore, stood (praying) behind him; he made a sign to us and we sat down. When he finished the prayer, he said: When the imam prays sitting, pray sitting; and when the imam prays standing, pray standing, and do not act as the people of Persia used to act with their chiefs (i. e. the people stood and they were sitting).

Notes · وضاحت
١ ؎: اہل فارس و روم اپنے امراء و سلاطین کے سامنے بیٹھتے نہیں، کھڑے رہتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٤ (١٢٤٠)، الطب ٢١ (٣٤٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣١٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠٧ (١٢٠١)، مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
603Sunan Abu Dawood

امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ المعنى، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، قَالَ مُسْلِمٌ: وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سُلَيْمَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام الله أكبر کہے تو تم بھی الله أكبر کہو، تم اس وقت تک الله أكبر نہ کہو جب تک کہ امام الله أكبر نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو (مسلم کی روایت میں ولک الحمد واو کے ساتھ ہے) ، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللهم ربنا لک الحمد کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The imam is appointed only to be followed; when he says Allah is most great, say Allah is most great and do not say Allah is most great until he says Allah is most great. When he bows; bow; and do not bow until he bows. And when he says Allah listens to him who praise Him, say O Allah, our Lord, to Thee be the praise. The version recorded by Muslim goes: And to Thee be the praise: And when he prostrate; and do not prostrate until he prostrates. When he prays standing, pray standing, and when he prays sitting, all of you pray sitting. Abu Dawud said: The words O Allah, our Lord, to You be the praise reported by Sulaiman were explained to me by some of our companions.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب میں نے یہ حدیث سلیمان بن حرب سے سنی تو اللهم ربنا لک الحمد کے الفاظ میری سمجھ میں نہیں آئے تو میرے بعض ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ سلیمان نے: اللهم ربنا لک الحمد کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ١٢٨٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٢٠ (٤١٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٠ (٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٦)، ١٤٤ (١٢٣٨)، مسند احمد (٢/٣٧٦، ٤٢٠) (صحیح )