ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: whoever performs ablution, and performs his ablution perfectly, and then goes to the mosque and finds that the people had finished the prayer (in congregation), Allah will give him a reward like one who prayed in congregation and attended it; The reward of those who prayed in congregation will not be curtailed.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٥٢ (٨٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Do not prevent the female servants of Allah from visiting the mosques of Allah, but they may go out (to the mosque) having no perfumed themselves.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٨، ٤٧٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٧ (١٣١٥) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; Do not prevent your women from visiting the mosque; but their houses are better for them (for praying).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٦٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧٦) (صحیح )
مجاہد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: تم عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دو ، اس پر ان کے ایک لڑکے (بلال) نے کہا: قسم اللہ کی! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں، قسم اللہ کی، ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں: اس پر انہوں نے (اپنے بیٹے کو) بہت سخت سست کہا اور غصہ ہوئے، پھر بولے: میں کہتا ہوں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم انہیں اجازت دو ، اور تم کہتے ہو: ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ١ ؎۔
Abdullah bin Umar (RA) reported the prophet ﷺ as saying; Allow women to visit the mosque at night. A son of his (Bilal) said; I swear by Allah, we shall certainly not allow them because they will defraud. I swear by Allah, we shall not allow them. He (Ibn Umar) abused him and became angry at him and said: I tell you that the Messenger of Allah ﷺ said: Allow them; yet you say; we shall not allow them.
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے مقابل لا رہے ہو، احمد کی ایک روایت (٢/٣٦) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ اگر وہ چیزیں دیکھتے جو عورتیں کرنے لگی ہیں تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتیں اس سے روک دی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
Aishah (Allah be pleased with her), wife of the prophet ﷺ , said ; if the Messenger of Allah ﷺ had seen what the women have invented, he would have prevented them from visiting the mosque (for praying), as the women of the children of the Israel were prevented. Yahya (the narrator) said; I asked ‘Umrah ; were the women of Israel prevented? She said: yes.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦٣ (٨٦٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٠ (٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة ٦ (١٥)، مسند احمد (٦/٩١، ١٩٣، ٢٣٥، ٢٣٢) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔
Abdullah (bin Masud) reported the prophet ﷺ as saying; it is more excellent for a woman to pray in her house than in her courtyard, and more excellent for her to pray in her private chamber than in her house.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (تو زیادہ اچھا ہو) ۔ نافع کہتے ہیں: چناچہ ابن عمر ؓ تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں قال رسول الله ﷺ کے بجائے قال عمر (عمر ؓ نے کہا) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: if we reserve this door for women (it would be better). Nafi said: Ibn Umar did not enter through it ( the door) till he died. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though a different chain of transmitters by Umar. And this is more correct.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرلو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: وما فاتکم فأتموا کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: فاقضوا روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے لفظ: فأتموا سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اور ابوقتادہ ؓ اور انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: فأتموا کہا ہے۔
Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When the iqamah is pronounced for prayer, do not come to it running, but come walking (slowly). You should observe tranquility. The part of the prayer you get (along with the imam) offer it, and the part you miss complete it (afterwards). Abu Dawud said: The version narrated by al-Zubaidi, Ibn Abi Dhi’b, Ibrahim bin Saad, Mamar, Shuaib bin Abi Hamzah on the authority of al-Zuhri has the words: “the part you miss then complete it”. Ibn ‘Uyainah alone narrated from al-Zuhri the words “then offer it afterwards”. And Muhammad bin Amr narrated from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah, and Jafar bin Rabiah narrated from al-A’raj on the authority of Abu Hurairah the words “then complete it”. And Ibn Masud narrated from the Prophet ﷺ and Abu Qatadah and Anas reported from the Prophet ﷺ the words” then complete it”.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کرلو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ ؓ سے لفظ وليقض سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے: فأتموا واقضوا روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: Come to prayer with calmness and tranquility. Then pray the part you get (long with the imam) and complete afterwards the part you miss. Abu Dawud said: Ibn Sirin narrated from Abu Hurairah the words: he should complete it afterwards. Similarly, Abu Rafi narrated from Abu Hurairah and Abu Dharr narrated from him the words then complete it, and complete it afterwards. There is a variation of words in the narration from him.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایتوں سے معلوم ہوا کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں بعد میں پڑھنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے، اور مقتدی جو رکعت پاتا ہے وہ اس کی پہلی رکعت ہوتی ہیں، بقیہ کی وہ تکمیل کرتا ہے، فقہاء کی اصطلاح میں قضا نماز کا اطلاق وقت گزرنے کے بعد پڑھی گئی نماز پر ہوتا ہے، احادیث میں قضا و اتمام سے مراد اتمام و تکمیل ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٩٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٢، ٣٨٦) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔
Narrated Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a person praying alone. He said: Is there any man who may do good with this (man) and pray along with him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥٠ (٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٨ (١٤٠٨) (صحیح )
یزید بن الاسودخزاعی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ ، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہوجائے گی ۔
Narrated Yazid ibn al-Aswad (RA) : Yazid prayed along with the Messenger of Allah ﷺ when he was a young boy. When he (the Prophet) had prayed there were two persons (sitting) in the corner of the mosque; they did not pray (along with the Prophet). He called for them. They were brought trembling (before him). He asked: What prevented you from praying along with us? They replied: We have already prayed in our houses. He said: Do not do so. If any of you prays in his house and finds that the imam has not prayed, he should pray along with him; and that will be a supererogatory prayer for him.
یزید بن اسود خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔
Jabir bin Yazid reported on the authority of his father: I said the morning prayer along with the prophet ﷺ at Mina. He narrated the rest of the tradition to the same effect.
یزید بن عامر ؓ کہتے ہیں میں (مسجد) آیا، نبی اکرم ﷺ نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ ﷺ نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے (یزید بن عامر کو) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ ، میں نے کہا: میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہوگی اور یہ فرض ۔
Narrated Yazid ibn Amir: I came while the Prophet ﷺ was saying the prayer. I sat down and did not pray along with them. The Messenger of Allah ﷺ turned towards us and saw that Yazid was sitting there. He said: Did you not embrace Islam, Yazid? He replied: Why not, Messenger of Allah; I have embraced Islam. He said: What prevented you from saying prayer along with the people? He replied: I have already prayed in my house, and I thought that you had prayed (in congregation). He said: When you come to pray (in the mosque) and find the people praying, then you should pray along with them, though you have already prayed. This will be a supererogatory prayer for you and that will be counted as obligatory.
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٣١) (ضعیف) (اس کے ایک راوی نوح بن صعصعة مجہول ہیں )
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔
A man from Banu Asad bin Khuzaimah asked Abu Ayyub al-Ansari (RA) : if one of us prays in his house, then comes to the mosque and finds that the iqamah is being called, and if I pray along with them ( in congregation), I feel something inside about it. Abu Ayyub replied: We asked the Prophet ﷺ about it. He said: That is a share from the spoils received by the warriors (i. e. he will receive double the reward of the prayer).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٠١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٣(١١) (ضعیف) (اس کے راوی عفیف لین الحدیث ہیں اور رجل مبہم ہے )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں : میں بلاط میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا: آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Sulayman, the freed slave of Maymunah, said: I came to Ibn Umar at Bilat (a place in Madina) while the people were praying. I said: Do you not pray along with them? He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Do not say a prayer twice in a day.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٥٦ (٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩، ٤١) (حسن صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہوگا ان (مقتدیوں) پر نہیں ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who leads the people in prayer, and he does so at the right time, will receive, as well as those who are led (in prayer) will get (the reward). He who delays (prayer) from the appointed time will be responsible (for this delay) and not those who are led in prayer.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٧ (٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٤، ١٥٦) (حسن صحیح )
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر ؓ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے ۔
Narrated Sulamah daughter of al-Hurr (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: One of the signs of the Last Hour will be that people in a mosque will refuse to act as imam and will not find an imam to lead them in prayer.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨١) (ضعیف) (اس کی راویہ عقیلہ اور طلحہ أم الغراب مجہول ہیں )
ابومسعود بدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔
Abu Masud al-Badri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The one of you who is most versed in the Books of Allah should act as imam for the people; and the one who is the earliest of them in reciting (the Quran); if they are equally versed in reciting it, then the earliest of them to emigrate (to Madina); if they emigrated at the same time, then the oldest of them. No man must lead another in prayer in his house (i. e. in the house of a latter) or where the latter has authority, or sit in his place of honor without his permission. Shubah said: I asked Ismail: what is the meaning of his place of honor? He replied: his throne.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٢ (٢٣٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣، (٧٨١)، ٦ (٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ١١٨، ١٢١، ١٢٢) (صحیح )
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے أقدمهم قرائة (لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو) کی روایت کی ہے۔
The version of this tradition narrated through a different chain by Shubah has the words: “A man should not lead the another man in prayer. Abu Dawud said: Yahya al-Qattan narrated from Shubah in a similar way, i. e. the earliest of them in recitation.