Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 19 of 265

362Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاحَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْمَعْنَى، قَالَ: حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِيهِ.

اس سند سے بھی ہشام سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسے رگڑو پھر پانی سے کھرچ دو اور پھر اسے دھو ڈالو ۔

This tradition has been transmitted by Hisham through a different chain of narrators to the same effect: Rub it off (with a stone), and then scratch it (with finger) by pouring water, then sprinkle water upon it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٣) (صحیح )
363Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، تَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ، قَالَ: حُكِّيهِ بِضِلْعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.

ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کسی لکڑی سے رگڑ کر چھڑا دو، اور پانی اور بیر کی پتی سے اسے دھو ڈالو ۔

Narrated Umm Qays daughter of Mihsan (RA) : I asked the Prophet ﷺ about the blood of menstruation on the clothe. He said: Erase it off with a piece of wood and then wash it away with water and the leaves of the lote-tree.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٨٥ (٢٩٣)، والحیض ٢٦ (٣٩٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٨ (٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥٥، ٣٥٦)، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٤ (١٠٥٩) (صحیح )
364Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدْ كَانَ يَكُونَ لِإِحْدَانَا الدِّرْعُ فِيهِ تَحِيضُ قَدْ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ، ثُمَّ تَرَى فِيهِ قَطْرَةً مِنْ دَمٍ فَتَقْصَعُهُ بَرِيقِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم میں سے ایک کے پاس ایک قمیص ہوتی، اسی میں اسے حیض بھی آتا اور اسی میں اسے جنابت بھی لاحق ہوتی، پھر اس میں خون کا کوئی قطرہ اسے نظر آتا تو وہ اسے اپنے تھوک سے مل کر کھرچ ڈالتی۔

Aishah said: One of us would have a shirt in which she would menstruate and in it she became sexually defiled. Then if she ever saw any drop of blood in it, she would rub it off by applying her saliva.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٠) (صحیح )
365Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ: إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ، فَقَالَتْ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ الدَّمُ، قَالَ: يَكْفِيكِ غَسْلُ الدَّمِ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ خولہ بنت یسار ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں، اسی میں مجھے حیض آتا ہے، میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم پاک ہوجاؤ (حیض رک جائے) تو اسے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو ، اس پر خولہ نے کہا: اگر خون زائل نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خون کو دھو لینا تمہارے لیے کافی ہے، اس کا اثر (دھبہ) تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔

Abu Hurairah reported that Khawlah daughter of Yasar came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I have only one clothe and I menstruate in it, how should I do ? He said: When you are purified, wash it and pray in it. She asked: If the blood is not removed, (then what) ? He said: It is enough for you to wash the blood, its mark will not do any harm to you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٤، ٣٨٠) (صحیح) (مذکورہ احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث معنی صحیح ہے، ورنہ خود یہ سند ابن لہیعہ کے سبب ضعیف ہے کیونکہ یہاں ان سے روایت کرنے والے عبادلہ اربعہ بھی نہیں ہیں )
366Sunan Abu Dawood

جماع کی حالت میں پہنے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَهَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں آپ جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، جب آپ ﷺ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔

Narrated Umm Habibah (RA) : Muawiyah ibn Abu Sufyan asked his sister Umm Habibah, the wife of the Prophet ﷺ : Would the Messenger of Allah ﷺ pray in the clothe in which he had an intercourse? She said: Yes, when he would not see any impurity in it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٨٦ (٢٩٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٣ (٥٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٢ (١٤١٥) (صحیح )
367Sunan Abu Dawood

عورتوں کے کپڑوں پر نماز نہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ فِي لُحُفِنَا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے شعار یا لحافوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے ١ ؎۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ شک میرے والد (معاذ) کو ہوا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would not pray in our wrappers or in our quilts. Ubaydullah said: My father (Muadh) doubted this.

Notes · وضاحت
١ ؎: شعار وہ کپڑا ہے جو عورت کے بدن سے لگا رہے اور لحاف اوڑھنے کی چادر کو کہتے ہیں، آپ ﷺ ان کپڑوں میں نماز اس وجہ سے نہیں پڑھتے تھے کہ کہیں ان میں حیض کا خون نہ لگ گیا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٦٧ (٦٠٠)، سنن النسائی/الزینة ٦١ (٥٣٦٨)، وأعاده المؤلف برقم: ٦٤٥، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢١ و ١٧٥٨٩ و ١٩٢٩٦)، ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (٦٤٥) (صحیح )
368Sunan Abu Dawood

عورتوں کے کپڑوں پر نماز نہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي فِي مَلَاحِفِنَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي صَدَقَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْهُ، فَلَمْ يُحَدِّثْنِي، وَقَالَ: سَمِعْتُهُ مُنْذُ زَمَانٍ وَلَا أَدْرِي مِمَّنْ سَمِعْتُهُ، وَلَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ ثَبْتٍ أَوْ لَا فَسَلُوا عَنْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہماری چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔

Aishah said: The Prophet ﷺ would not in our quilts. Hammad said: I heard Saeed bin Abi Sadaqah say: I asked Muhammad (b. Sirin) about it. He did not narrate it to me, but said: I heard it a long time ago and I do not know whom I heard it. I do not know whether I heard it from a trustworthy person or not. Make an inquiry about it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٣) (صحیح )
369Sunan Abu Dawood

عورتوں کے کپڑوں پر نماز پڑھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، يُحَدِّثُهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ وَعَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ مِنْهُ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَيْهِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھی اور آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جس کا کچھ حصہ آپ ﷺ کی ایک بیوی پر پڑا ہوا تھا، وہ حائضہ تھیں اور آپ اسے اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔

Maimunah reported: The Prophet ﷺ prayed on a sheet of cloth put on by one of his wives who was menstruating. He was praying while (a part of) it was upon him.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣١ (٦٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٣٠ (٣٣٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٩)، مسند احمد (٦/٢٠٤) (صحیح )
370Sunan Abu Dawood

عورتوں کے کپڑوں پر نماز پڑھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ مِرْطٌ لِي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں نماز پڑھتے، میں حالت حیض میں آپ کے پہلو میں ہوتی، اور میرے اوپر میری ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا تھا۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ would pray at night while I lay by his side during my menstrual period. A sheet of cloth would be partly on me and partly on him.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٤)، سنن النسائی/القبلة ١٧ (٢٦٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣١ (٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٠٤) (صحیح )
371Sunan Abu Dawood

منی کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَاحْتَلَمَ، فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، كَمَا رَوَاهُ الْحَكَمُ.

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس تھے، ہمام کو احتلام ہوگیا، تو عائشہ ؓ کی ایک لونڈی نے انہیں دیکھ لیا کہ وہ اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو یا اپنے کپڑے کو دھو رہے ہیں، اس نے عائشہ ؓ کو بتایا تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچتے دیکھا ہے۔

Hammam bin al-Harith reported, he has a sexual dream when he was staying with Aisha (RA) . The slave girl of Aisha (RA) saw him while he was washing the mark of defilement, or he was washing his clothe. She informed Aisha (RA) who said: He witnessed me rubbing off the semen from the clothe of the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said: Al-Amash narrated it as narrated by al-Hakam.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٣٢ (٢٨٨)، سنن الترمذی/الطھارة ٨٥ (١١٦)، سنن النسائی/الطھارة ١٨٨ (٢٩٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٢ (٥٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٧، ١٢٥، ١٣٥، ٢١٣، ٢٣٩، ٢٦٣، ٢٨٠) (صحیح )
372Sunan Abu Dawood

منی کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي فِيهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَهُ مُغِيرَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ، وَوَاصِلٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتی تھی، پھر آپ اسی میں نماز پڑھتے تھے۔

Aishah reported: I used to rub off the semen from the clothe of the Messenger of Allah ﷺ . He would would pray in it. Abu Dawud said: Mughirah, Abu Mashar, and Wasil also narrated it to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٥، ١٣٢، ٢١٣) (صحیح )
373Sunan Abu Dawood

منی کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ، الْمَعْنَى وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: إِنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَرَى فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا.

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوتی تھیں، کہتی ہیں کہ پھر میں اس میں ایک یا کئی دھبے اور نشان دیکھتی تھی۔

Sulaiman bin Yasar reported: I heard Aisha (RA) say that she would wash semen from the clothe of the Messenger of Allah ﷺ . She added: Then I would see a mark or marks (after washing).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٤ (٢٢٩)، ٦٥ (٢٣٢)، صحیح مسلم/الطھارة ٣٢ (٢٨٩)، سنن الترمذی/الطھارة ٨٦ (١١٧)، سنن النسائی/الطھارة ١٨٧ (٢٩٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨١ (٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٦١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٢، ٢٣٥) (صحیح )
374Sunan Abu Dawood

لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ.

ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ وہ اپنے ایک چھوٹے اور شیر خوار بچے کو لے کر جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا، تو آپ ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹا مار لیا اور اسے دھویا نہیں۔

Umm Qais daughter of Mihsan reported that she came to the Messenger of Allah ﷺ with her little son who had not attained the age of eating food. The Messenger of Allah ﷺ seated him in his lap, and he urinated on his clothe. He sent for water and sprayed it (over his clothe) and did not wash it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٩ (٢٢٣)، والطب ١٠ (٥٦٩٣)، صحیح مسلم/الطھارة ٣١ (٢٨٧)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٤ (٧١)، سنن النسائی/الطھارة ١٨٩ (٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ٣٠(١١٠)، مسند احمد (٦/٣٥٥، ٣٥٦)، سنن الدارمی/الطھارة ٦٢ (٧٦٧) (صحیح )
375Sunan Abu Dawood

لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو توبة المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ، قَالَ: إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ.

لبابہ بنت حارث ؓ کہتی ہیں کہ حسین بن علی ؓ رسول اللہ ﷺ کی گود میں تھے، انہوں نے آپ ﷺ پر پیشاب کردیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ کوئی دوسرا کپڑ ا پہن لیجئے اور اپنا تہہ بند مجھے دے دیجئیے تاکہ میں اسے دھو دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: صرف لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے ۔

Narrated Lubabah daughter of al-Harith (RA) : Al-Husayn ibn Ali was (sitting) in the lap of the Messenger of Allah ﷺ . He passed water on him. I said: Put on (another) clothe, and give me your wrapper to wash. He said: The urine of a female child should be washed (thoroughly) and the urine of a male child should be sprinkled over.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٩) (حسن صحیح )
376Sunan Abu Dawood

لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِييَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ: وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ، فَأُتِيَ بِحَسَنٍ، أَوْ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَجِئْتُ أَغْسِلُهُ، فَقَالَ: يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ، قَالَ عَبَّاسٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ أَبُو الزَّعْرَاءِ، قَالَ هَارُونُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: الْأَبْوَالُ كُلُّهَا سَوَاءٌ.

ابو سمح ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا، جب آپ غسل کرنا چاہتے تو مجھ سے فرماتے: تم اپنی پیٹھ میری جانب کرلو ، چناچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا، (ایک مرتبہ) حسن یا حسین ؓ کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کردیا، میں اسے دھونے کے لیے بڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں: (بچوں اور بچیوں کے) پیشاب سب برابر ہیں ١ ؎۔

Narrated AbusSamh (RA) : I used to serve the Prophet ﷺ . Whenever he intended to wash himself, he would say: Turn your back towards me, So I would turn my back and hide him. (Once) Hasan or Husayn (may Allah be pleased with them) was brought to him and he passed water on his chest. I came to wash it. He said: It is only the urine of a female which should be washed; the urine of a male should be sprinkled over. Abbas (a narrator) said: Yahya bin al-Walid narrated the tradition to us. Abu Dawud said: He (Yahya) is Abu al-Zara. Harun bin Tamim said on the authority of al-Hasan (RA) : All sorts of urine are equal.

Notes · وضاحت
١ ؎: ہوسکتا ہے کہ حسن بصری کو اس بارے میں مرفوع حدیث نہ پہنچی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٩٠ (٣٠٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٦)، ١١٣(٦١٣) (تحفة الأشراف: ١٢٠٥١) (صحیح )
377Sunan Abu Dawood

لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The urine of a female (child) should be washed and the urine of a male (child) should be sprinkled over until the age of eating.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣١٣ (٦١٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٧ (٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٧)، (صحیح )
378Sunan Abu Dawood

لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا لَمْ يَطْعَمْ زَادَ، قَالَ قَتَادَةُ: هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا.

اس سند سے علی ؓ نے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے نقل کی ہے، پھر ہشام نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں انہوں نے ما لم يطعم (جب تک کھانا نہ کھائے) کا ذکر نہیں کیا، اس میں انہوں نے اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے کہا: یہ حکم اس وقت کا ہے جب وہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں، اور جب کھانا کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔

Ali bin Abi Talib reported the Prophet ﷺ as saying: He narrated the tradition to the same effect, but he did not mention the words until the age of eating. This version adds: Qatadah said: This is valid until the time they do not eat food; when they begin to eat, their urine should be washed.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠١٣١) (صحیح )
379Sunan Abu Dawood

لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ، وَكَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ.

حسن (حسن بصری) اپنی والدہ (خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی لونڈی تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ ؓ کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں، اور لڑکی کے پیشاب کو (دونوں صورتوں میں) دھوتی تھیں۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Al-Hasan reported on the authority of his mother that she was Umm Salamah pouring water on the urine of the male child until the age when he did not eat food. When he began to eat food, she would wash (his urine). And she would wash the urine of the female child.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٥٦) (صحیح )
380Sunan Abu Dawood

ناپاک زمین کو پاک کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَابْنُ عَبْدَةَ، في آخرين وهذا لفظ ابن عبدة، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، صُبُّوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ قَالَ: ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی (ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا: اس نے دو رکعت نماز پڑھی) ، پھر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا ، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کردیا ، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے، نبی اکرم ﷺ نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا: تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کرنے کے لیے نہیں، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو ۔

Abu Hurairah reported: A bedouin entered themosque while the Messenger of Allah ﷺ was sitting. He offered two rakahs of prayer, according to the version of Ibn Abdah. He then said: O Allah, have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone along with us. The Prophet ﷺ said: You have narrowed down (a thing) that was broader. After a short while he passed a water in the corner of the mosque. The people rushed towards him. The Prophet ﷺ prevented them and said: You have been sent to facilitate and not create difficulties. Pour a bucket of water upon it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١١٢ (١٤٧)، سنن النسائی/الطھارة ٤٥ (٥٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٨ (٥٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢٢٠)، صحیح مسلم/الطھارة (٢٧٤، ٢٧٥)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٥٠٣) (صحیح )
381Sunan Abu Dawood

ناپاک زمین کو پاک کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: صَلَّى أَعْرَابِيٌّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُذُوا مَا بَالَ عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى مَكَانِهِ مَاءً، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ مُرْسَلٌ، ابْنُ مَعْقِلٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن معقل بن مقرن کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر انہوں نے اعرابی کے پیشاب کرنے کے اسی قصہ کو بیان کیا اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس مٹی پر اس نے پیشاب کیا ہے وہ اٹھا کر پھینک دو اور اس کی جگہ پر پانی بہا دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے اس لیے کہ ابن معقل نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Maqil ibn Muqarrin: A bedouin prayed with the Prophet ﷺ . He then narrated the tradition (No 0380) about urinating of that bedouin. This version adds: The Prophet ﷺ said: Remove the earth where he urinated and throw it away and pour water upon the place. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i. e. the narrator quotes the Prophet ﷺ directly, although he did not see him). Ibn Maqil did not see the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٩٤٤) (صحیح )