ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ (ڈنک مار دیا) کھایا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے (وہ آئے) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا دارو کرلی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کے پاس جھاڑ پھونک قسم کی کوئی چیز ہے جو ہمارے (ساتھی کو شفاء دے) ؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کردیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ (صحابی) سردار کے پاس آئے اور سورة فاتحہ پڑھ کر تھوتھو کرتے رہے یہاں تک کہ وہ شفایاب ہوگیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہوگیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کرلیں، تو اس شخص نے جس نے منتر پڑھا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: تم نے کیسے جانا کہ یہ جھاڑ پھونک ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : Some of the Companions of Prophet ﷺ went on a journey. They encamped with a clan of the Arabs and sought hospitality from them, but they refused to provide them with any hospitality. The chief of the clan was stung by a scorpion or bitten by a snake. They gave him all sorts of treatment, but nothing gave him relied. One of them said: Would that you had gone to those people who encamped with you ; some of them might have something which could give you relief to your companion. (So they went and) one of them said: Our chief has been stung by a scorpion or bitten by a snake. We administered all sorts of medicine but nothing gave him relief. Has any of you anything, i. e. charm, which gives healing to our companion. One of those people said: I shall apply charm; we sought hospitality from you, but you refused to entertain us. I am not going to apply charm until you give me some wages. So they offered them a number of sheep. He then came to and recited Faithat-al-Kitab and spat until he was cured as if he were set free from a bond. Thereafter they made payment of the wages as agreed by them. They said: Apportion (the wages). The man who applied the charm said: Do not do until we come to the Messenger of Allah ﷺ and consult him. So they came to the Messenger of Allah ﷺ next morning and mentioned it to him. The Messenger of Allah ﷺ said: From where did you learn that it was a charm ? You have done right. Give me a share along with you.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الإجارة ١٦ (٢٢٧٦)، الطب ٣٣ (٥٧٣٦)، صحیح مسلم/ السلام ٢٣ (٢٢٠١)، سنن الترمذی/ الطب ٢٠ (٢٠٦٣)، سنن ابن ماجہ/ التجارات ٧ (٢١٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢، ٤٤) ویأتی ہذا الحدیث فی الطب (٣٩٠٠) (صحیح )
خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی ؓ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی (یعنی نبی اکرم ﷺ ) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو (منہ میں) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہوگیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: (بےدھڑک) کھاؤ، قسم ہے (یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے) لوگ تو جھوٹا منتر پڑھ کر کھاتے ہیں، آپ تو سچا منتر پڑھ کر کھا رہے ہیں ۔
Kharijah bin al-Salt quoted his paternal uncle as saying that he passed by a clan (of the Arab) who came to him and said: You have brought what is good from this man. Then they brought a lunatic in chains. He recited Surat al-Fatihah over him three days, morning and evening. When he finished, he collected his saliva and then spat it out, (he felt relief) as if he were set free from a bond. They gave him something (as wages). He then came to the Prophet ﷺ and mentioned it to him. The Messenger of Allah ﷺ said: Accept it, for by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so far a genuine one.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١١) ویأتی ہذا الحدیث فی الطب (٣٨٩٦، ٣٩٠١) (صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے والے کی کمائی بری (غیر شریفانہ) ہے ١ ؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک (یعنی حرام) ہے ۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : The Prophet ﷺ said: The earnings of a cupper are impure, the price paid for a dog is impure, and the hire paid to a prostitute is impure.
Notes · وضاحت
١ ؎: كسب الحجام خبيث میں خبيث کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے آنے والی حدیث نمبر: (٣٤٢٢) میں محیصہ ؓ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ ﷺ نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق خبيث کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ثوم وبصل (لہسن، پیاز) کو خبيث کہا باوجود یہ کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیر شریفانہ ہے۔
محیصہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سینگی لگا کر اجرت لینے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس کے لینے سے منع فرمایا، وہ برابر آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے ان سے کہہ دیا کہ اس سے اپنے اونٹ اور اپنے غلام کو چارہ کھلاؤ۔
Narrated Muhayyisah ibn Kab (RA) : Muhayyisah asked permission of the Messenger of Allah ﷺ regarding hire of the cupper, but he forbade him. He kept on asking his permission, and at last he said to him: Feed your watering camel with it and feed your slave with it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٧ (١٢٧٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٠ (٢١٦٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٠ (٢٨)، مسند احمد (٥/٤٣٥، ٤٣٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اگر آپ اسے حرام جانتے تو اسے مزدوری نہ دیتے ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ got him self cupped and gave the cupper his wages. Had he considered it impure, he would not have given it (wage) to him.
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ اور انس بن مالک ؓ کی یہ دونوں حدیثیں سینگی لگانے کی اجرت کے مباح ہونے پر دال ہیں اور یہی جمہور کا مسلک ہے، رہی ابن خدیج والی روایت تو اسے یا تو مکروہ تنزیہی پر محمول کیا جائے یا اسے منسوخ مانا جائے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں ابوطیبہ نے رسول اللہ ﷺ کو سینگی لگائی تو آپ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکان سے کہا کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کردیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA): That Abu Tibah cupped the Messenger of Allah ﷺ and he ordered that a sa of dates be given to him, also ordering his people to remit some of his dues.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣٩ (٢١٠٢)، ٩٥ (٢٢١٠)، الإجارة ١٩ (٢٢٧٧)، الطب ١٣ (٥٦٩٦)، المساقاة ١١ (٢٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٧٣٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٤٨ (١٢٧٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٠ (٢١٦٤)، مسند احمد ٣/١٠٧، ٢٨٢)، سنن الدارمی/البیوع ٧٩ (٢٦٦٤) (صحیح )
طارق بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں رافع بن رفاعہ ؓ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ ﷺ نے لونڈی کی کمائی (زنا کی کمائی) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ ﷺ نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا، چرخہ کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔
Narrated Tariq ibn Abdur Rahman al-Qarash (RA) : Rafi ibn Rifaah came to a meeting of the Ansar and said: The Prophet of Allah ﷺ forbade us (from some things) today, and he mentioned some things. He forbade the earning of a slave-girl except what she earned with her hand. He indicated (some things) with his fingers such as baking, spinning, and ginning.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤١) (حسن )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ١ ؎؟۔
Narrated Rafi bin Khadij (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤١) (حسن) بما قبلہ
ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎، زانیہ عورت کی کمائی ٢ ؎، اور کاہن کی اجرت ٣ ؎ لینے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abu Masud (RA) : The Prophet ﷺ forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خریدو فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لئے ہو۔ ٢ ؎: چونکہ زنا گناہ کبیرہ ہے اور فحش امور میں سے ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب رب العالمین کے لئے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، الطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، الطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٧)، سنن الترمذی/البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، النکاح ٣٧ (١١٣٣)، الطب ٢٣ (٢٠٧١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢٩(٦٨)، مسند احمد (٤/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١)، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠) (صحیح )
ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، (یہ شک راوی کو ہوا ہے) ابوبکر ؓ ہمارے یہاں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہوگئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب ؓ کے پاس بھیج دیا، عمر ؓ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام (پچھنا لگانے والے) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے (جس نے کان کاٹا ہے) قصاص لے، پھر جب حجام (پچھنا لگانے والا) بلا کر لایا گیا، تو عمر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہوگی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام (سینگی لگانے والے) ، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کردینا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے (عمر ؓ سے ان کی روایت مرسل ہے )
Abu Majidah said: I cut the ear of a boy, or he cut my ear (the narrator is doubtful). Abu Bakr then came to us to perform hajj and we got together with him. But he referred us to Umar ibn al-Khattab. Umar (ibn al-Khattab) said: This reached the extent of retaliation. Call a cupper to me so that he may retaliate. When the cupper was called, he (Umar) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I gave a boy to my maternal aunt, and I hope that she will be blessed in respect of him. I said to her: Do not entrust him to a supper, nor to a goldsmith, nor to a butcher. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abd al-Ala from Ibn Ishaq who said: Abu Majidah is a man of Banu Sahm narrating from Umar bin al-Khattab.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧) (ضعیف) (اس کے راوی ابو ماجدہ مجہول ہیں نیز عمر ؓ سے ان کا سماع نہیں ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگالے ١ ؎، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہوگا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگالے (کہ پھل میں لوں گا) ۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone buys a slave who possesses property. his property belongs to the seller unless buyer makes a provision and if anyone buys palm-trees after they have been fecundated, the fruit belongs to the seller unless the buyer make a provision.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ شرط لگائے کہ غلام کے پاس جو مال ہوگا، وہ میرا ہوگا، تو پھر وہ خریدار کو ملے گا۔
عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔
This tradition has also been narrated by Umar from the Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators. It mentions only the sale of the slave. It has also been transmitted by Nafi on the authority of Ibn Umar from the Prophet ﷺ indicating only the sale of palm-trees. Abu Dawud said: Al-Zuhri and Nafi differed among themselves in four traditions. This is one of them.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگالے (کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا) ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone buys a slave who possesses property, his property belongs to the seller unless the buyer makes a proviso.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے ١ ؎ اور تاجر سے پہلے ہی مل کر سودا نہ کرے جب تک کہ وہ اپنا سامان بازار میں نہ اتار لے ٢ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you must buy in opposition to one another ; and do not go out to meet the merchandise, (but one must wait) till it is brought down to the market.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک کے خریدار کو دوسرا نہ بلائے، یا اس کے گاہک کو نہ توڑے، مثلا، یہ کہے کہ یہ اتنے میں دے رہا ہے، تو چل میرے ساتھ میں تجھے یہی مال اس سے اتنے کم میں دے دوں گا۔ ٢ ؎: چونکہ تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لئے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہوسکتا ہے، اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہوگا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧١ (٢١٦٨)، صحیح مسلم/البیوع ٥ (١٥١٧)، سنن النسائی/البیوع ١٨ (٤٥٠٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات (٢١٧٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٩، ٨٠٥٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ البیوع ٤٥ (٩٥)، مسند احمد (٢/٧، ٢٢، ٦٣، ٩١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کرلینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر (ارزاں) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے (کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ (خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔
Abu Hurairah said: Do not go our to meet what is being brought (to market for sale). If anyone does so and buys some of it, the owner of merchandise has a choice (of canceling the deal) when it comes to the market. Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: Sufyan said: none of you must buy in opposition to one another ; that is he says: I have a better one for ten (dirhams).