ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نجش نہ کرو ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ forbade to bid against one another.
Notes · وضاحت
١ ؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں (طاؤس) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade a townsman to sell for a man from the desert. I asked: What do you mean by the selling of a townsman for a man from the desert ? He replied: He should not be a broker for him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بستی والا باہر سے آئے ہوئے تاجر کا دلال بن کر نہ تو اس کے ہاتھ کوئی چیز بیچے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی چیز خریدے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں بستی والوں کا خسارہ ہے، جب کہ باہر سے آنے والا اگر خود خریدو فروخت کرتا ہے تو وہ مسافر ہونے کی وجہ سے بازار میں جس دن پہنچا ہے اسی دن کی قیمت سے خریدو فروخت کرے گا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے) ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: A townsman must not sell for a man from the desert, even if he is his brother or father. Abu Dawud said: Anas bin Malik (RA) said: It was said: A townsman must not sell for a man from the desert. This phrase carries a broad meaning. It means that the (the townsman) must not sell anything for him or buy anything for him.
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ اسے خود بیچنے دے کیونکہ رعایت سے بیچے گا اور خریداروں کو اس سے فائدہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ١٥ (٤٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٥، ١٤٥٤)، حدیث حفص بن عمر قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٧٠ (٢١٦١)، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢٣)، وحدیث زہیر بن حرب قد أخرجہ (صحیح )
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خریدو فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔
Narrated Salim al-Makki (RA) : That a bedouin told him that he brought a milch she-camel in the time of the Messenger of Allah ﷺ . He alighted with Talhah ibn Ubaydullah (and wanted to sell his milch animal to him). He said: The Prophet ﷺ forbade a townsman to sell for a man from the desert. But go to the market and see who buys from you. consult me thereafter, and then I shall ask you (to sell) or forbid you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٠١٩) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی اعرابی مبہم ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو (انہیں خود سے لین دین کرنے دو ) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے ۔
Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: A townsman must not sell for a man from the desert ; and leave people alone, Allah will give them provision from one another.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ٢٧٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ١٣ (١٢٢٣)، سنن النسائی/البیوع ١٥ (٤٥٠٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٧)، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو ١ ؎، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ ٢ ؎ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے ٣ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not go out to meet riders to conduct business with them ; none of you must buy in opposition to one another; and do not tie up the udders of camels and sheep, for he who buys them after that has been done has two courses open to him after milking them: he may keep them if he is pleased with them, or he may return them along with a sa of dates is he is displeased with them.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مال بازار میں پہنچنے سے پہلے راستہ میں مالکان سے مل کر سودا نہ طے کرلو۔ ٢ ؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ٣ ؎: کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جاسکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراو ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جارہی ہے اس لئے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل وقال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٥٠)، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥١٥)، سنن النسائی/ البیوع ١٥ (٤٥٠١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٣ (٢١٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ١٣ (١٢٢٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تصریہ کی ہوئی بکری خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے چاہے تو اسے لوٹا دے، اور ساتھ میں ایک صاع غلہ (جو غلہ بھی میسر ہو) دیدے، گیہوں دینا ضروری نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone buys sheep whose udders have been tied up, he has option for three days: he may return it if he desires with a sa of any grain, not (necessarily) wheat.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٣١، ١٤٥٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٤٩)، ٦٥ (٢١٥١)، صحیح مسلم/البیوع ٧ (١٥٢٥)، سنن الترمذی/البیوع ٢٩ (١٢٥٢)، سنن النسائی/البیوع ١٤ (٤٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٢ (٢٢٣٩)، موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، مسند احمد (٢/٢٤٨، ٣٩٤، ٤٦٠، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ١٩ (٢٥٩٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys sheep or goat whose udders have been tied up and he milked it, he may keep it if he is pleased with it, or he may return it if he is displeased with it. There is one sa of dates (which he must give to the seller) for milking it.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی (مادہ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے (چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone buys a sheep whose udders have been tied up, he has option for three days (for decision). If he returns it, he should return with it wheat equal to its milk or double of it.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٢ (٢٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٥) (ضعیف) (اس کا راوی جمیع ضعیف اور رافضی ہے، اور یہ صحیح احادیث کے خلاف بھی ہے )
بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار (ذخیرہ اندوزی) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ (یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہوگا) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
Narrated Mamar bin Abi Mamar, one of the children of Adi bin Kab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No one withholds goods till their price rises but a sinner. I said to Saeed (b. al-Musayyab): You withhold goods till their price rises. He said: Mamar used to withhold goods till their price rose. Abu Dawud said: I asked Ahmad (b. Hanbal): What is hoarding (hukrah) ? He replied: That on which people live. Abu Dawud said: Al-Auzai said: A muhtakir (one who hoards) is one who withholds supply of goods in the market.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٦ (١٦٠٥)، سنن الترمذی/البیوع ٤٠ (١٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦ (٢١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٤٥٣، ٦/٤٠٠)، سنن الدارمی/البیوع ١٢ (٢٥٨٥) (صحیح )
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا حدثنا همام عن قتادة عن الحسن محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: عن قتادة کے بعد عن الحسن نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو (کوئی حرج نہیں ہے) ۔
Qatadah said: Hoarding does not apply to dried dates. Ibn al-Muthanna said that he (Yahya bin Fayyad) reported on the authority of al-Hasan. We (Ibn al-Muthanna) said to him (Yahya): Do not say: on the authority of al-Hasan. Abu Dawud said: This tradition according to us is false. Abu Dawud said: Saeed bin al-Musayyab used to hoard kernel, fodder, and seeds. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Yunus say: I asked Sufyan about hoarding fodder. He replied: They (the people in the past) disapproved of hoarding. I asked Abu Bakr bin Ayyash (about it). He replied: Hoard it.
عبداللہ (مزنی) ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ کسی کو ضرورت ہو۔
Narrated Alqamah bin Abdullah (RA) : On the authority of his father, who said: The Messenger of Allah ﷺ forbade to break the coins of the Muslims current among them except for some defect.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٢ (٢٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٩) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن فضاء ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: (میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا) البتہ دعا کروں گا (کہ غلہ سستا ہوجائے) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا: اللہ کے رسول! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: (No), but I shall pray. Again the man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: It is but Allah Who makes the prices low and high. I hope that when I meet Allah, none of you has any claim on me for doing wrong regarding blood or property.
Notes · وضاحت
١ ؎: بھاؤ مقرر کردینے میں کسی کا فائدہ اور کسی کا گھاٹا ہوسکتا ہے تو گھاٹے والا میرا دامن گیر ہوسکتا ہے کہ میری وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٧، ٣٧٢) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں) ۔
Narrated Anas ibn Malik: The people said: Messenger of Allah, prices have shot up, so fix prices for us. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Allah is the one Who fixes prices, Who withholds, gives lavishly and provides, and I hope that when I meet Allah, none of you will have any claim on me for an injustice regarding blood or property.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٧٣ (١٣١٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٧ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٨، ١١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٦)، دی/ البیوع ١٣ (٢٥٨٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: کیسے بیچتے ہو؟ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ (کے ڈھیر) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ ﷺ نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر (گیلا) تھا تو آپ نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ passed a man who was selling grain. He asked him: How are you selling? He informed him. Revelation them came down to him saying: Put your hand into it. So he put his hand into it, and felt that it was damp. The Messenger of Allah ﷺ then said: He who deceives has nothing to do with us.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری میں سے ہر ایک کو بیع قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں ١ ؎ مگر جب بیع خیار ہو ٢ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Each one of the two parties in a business has an option (to annul it) against the other party so long as they have not separated, except in a conditional bargain.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عقد کو فسخ کرنے سے پہلے مجلس عقد سے اگر بائع اور مشتری دونوں جسمانی طور پر جدا ہوگئے تو بیع لازم ہوجائے گی اس کے بعد ان دونوں میں سے کسی کو فسخ کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ ٢ ؎: یعنی خیار کی شرط کرلی ہو تو مجلس علیحدگی کے بعد بھی شروط کے مطابق خیار باقی رہے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے اختر یعنی لینا ہے تو لے لو، یا دینا ہے تو دے دو (پھر وہ کہے: لے لیا، یا کہے دے دیا، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: Or one of them tells the other: Exercise the right.
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کردینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، (تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے) بائع و مشتری دونوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ چیز کو پھیر دینے کے ڈر سے اپنے ساتھی کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Both parties in a business transaction have a right to annul it so long as they have not separated unless it is a bargain with the option to annul is attached to it; and it is not permissible for one of them to separate from the other for fear that one may demand that the bargain be rescinded.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٤٧)، سنن النسائی/البیوع ٩ (٤٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٣) (حسن )
ابوالوضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کرلیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کردیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوبرزہ ؓ موجود ہیں (وہ جو فیصلہ کردیں ہم مان لیں گے) وہ دونوں ابوبرزہ ؓ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب (پڑاؤ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: دونوں خریدو فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کردینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں (ایک مجلس سے) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہوجائیں ۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ١ ؎۔
Narrated Abu lWadi: We fought one of our battle, and encamped at a certain place. One of our companions sold a horse for a slave. After that they remained there for the rest of day and night. When the next morning came, they prepared themselves for departure. The buyer of the horse began to saddle it, but the seller was ashamed (of the transaction). He went to the man (buyer) and asked him to annul the transaction. The man refused to hand it over (the horse) to him. He said: Abu Barzah, the companion of the Prophet ﷺ , is to decide between me and you. They went to Abu Barzah in the corner of the army. They related this story to him. He said: Do you agree that I make a decision between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah ﷺ ? The Messenger of Allah ﷺ said: Both parties in a business transaction have an option (right) to annul it so long as they have not separated. Hisham to Hassan said that Jamil said in his version: I do not think that you separated.
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ دونوں اسی جگہ ٹھہرے رہے جہاں آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ ہوا تھا اور ایجاب و قبول کے بعد دونوں جسمانی طور پر جدا نہیں ہوئے بلکہ ابوبرزہ ؓ کی خدمت میں اپنا معاملہ بھی ایک ساتھ ہو کر لائے اسی لئے انہوں نے بیچنے والے کے حق میں فیصلہ دیا، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابی رسول ﷺ آپ کے قول ما لم يتفرقا کو تفرق بالأبدان پر مجہول کرتے تھے نہ کہ تفرق بالا قوال پر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ١٧ (٢١٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٥٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٥) (صحیح )