Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 173 of 265

3458Sunan Abu Dawood

ملاوٹ کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ: أَخْبَرَنَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: كَانَ أَبُو زُرْعَةَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا خَيَّرَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: خَيِّرْنِي، وَيَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ.

یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں ابوزرعہ جب کسی آدمی سے خریدو فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابوہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر ١ ؎۔

Narrated Yahya bin Ayyub (RA) : When Abu Zurah made a business transaction with a man, he gave him the right of option. He then would tell him: Give me the right of option (to annul the bargain). He said: I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah ﷺ said: Two people must separate only by mutual consent.

Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے وہ کلاس کے دو ساتھی ہوں یا ٹرین و بس کے دو ہم سفر، یا بائع و مشتری ہوں یا کوئی اور انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ اس طرح ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٧ (١٢٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٣٦) (حسن صحیح )
3459Sunan Abu Dawood

ملاوٹ کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا، وَكَذَبَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَ حَمَّادٌ، وَأَمَّا هَمَّامٌ، فَقَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا ثَلَاثَ مِرَارٍ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کردینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کردیں تو دونوں کے اس خریدو فروخت میں برکت ہوگی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کردی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کرلیں ۔

Narrated Hakim bin Hizam (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Both parties in a business transaction have a right of option (to annul it) so long as they are not separated ; and if they tell the truth and make everything clear, they will be blessed in their transaction, but it they conceal anything and lie, the blessing on their transaction will be blotted out. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Saeed bin Abi Arubah and Hammad. As regards with Hammam, he said in his version: Until they separate or exercise the right of option (to annul the transaction), saying the words of option three times.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٩ (٢٠٧٩)، ٢٢ (٢٠٨٢)، ٤٢ (٢١٠٨)، ٤٤ (٢١١٠)، ٤٦ (٢١١٤)، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥٣٢)، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٤٦)، سنن النسائی/البیوع ٤ (٤٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٠٣، ٤٣٤) (صحیح )
3460Sunan Abu Dawood

کسی کو نقصان سے بچانے کے لئے بیع ختم کرنے کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کرلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone rescinds a sale with a Muslim, Allah will cancel his slip, on the Day of Resurrection.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی تشریح یہ ہے کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی سامان خریدا، مگر اس کو اس سامان کی ضرورت ختم ہوگئی یا کسی وجہ سے اس خرید پر اس کو پچھتاوا ہوگیا، اور خریدا ہوا سامان واپس کردینا چاہا تو بائع نے سامان واپس کرلیا، تو گویا اس نے ایک مسلمان پر احسان کیا، اس لئے اللہ تعالیٰ بھی اس پر احسان کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٦ (٢١٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٢) (صحیح )
3461Sunan Abu Dawood

ایک بیع میں دو بیع کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہوگی وہی لاگو ہوگی (اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی) کیونکہ وہ سود ہوجائے گی ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone makes two transactions combined in one bargain, he should have the lesser of the two or it will involve usury.

Notes · وضاحت
١ ؎: بيعتين في بيعة ایک چیز کے بیچنے میں دو طرح کی بیع کرنا جیسے بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ یہ کپڑا ایک دینار کا ہے اور یہ دو دینار کا اور خریدنے والے کو دونوں میں سے ایک لینا پڑے، بعض لوگوں نے کہا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے کہے کہ میں نے تمہارے ہاتھ یہ کپڑا نقد دس روپیہ میں اور ادھار پندرہ میں بیچا، بعضوں نے کہا: بیچنے والا خریدار سے کہے کہ میں نے اپنا باغ تمہارے ہاتھ اس شرط سے بیچا کہ تم اپنا گھر میرے ہاتھ بیچو، مگر دوسری صورت اس حدیث کے مضمون سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ایک چیز کی دو بیع میں دو قیمتیں کم اور زیادہ ہیں، اور اگر کم کو اختیار نہ کرے تو سود لازم ہوگا، ایک بیع میں دو بیع کی تشریح ابن القیم نے اس طرح کی ہے: بیچنے والا خریدنے والے کے ہاتھ کوئی سامان سو روپے ادھار پر بیچے، پھر خریدار سے اسی سامان کو اسی روپے نقد پر خرید لے، چونکہ یہ بیع سود تک پہنچانے والی ہے اس لئے ناجائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥١٠٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ١٨ (١٢٣١)، سنن النسائی/البیوع ٧٣ (٧/٤٦٣٦)، موطا امام مالک/البیوع ٣٣ (٧٣)، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٧٥، ٥٠٣) (حسن )
3462Sunan Abu Dawood

بیع عینیہ کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ. ح وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ إِسْحَاق أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْإِخْبَارُ لِجَعْفَرٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ ١ ؎ کرنے لگو گے گایوں بیلوں کے دم تھام لو گے، کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پا سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت جعفر کی ہے اور یہ انہیں کے الفاظ ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : I heard the Messenger of Allah, ﷺ say: When you enter into the inah transaction, hold the tails of oxen, are pleased with agriculture, and give up conducting jihad (struggle in the way of Allah). Allah will make disgrace prevail over you, and will not withdraw it until you return to your original religion.

Notes · وضاحت
١ ؎: بیع عینہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید نے عمرو کے ہاتھ ایک تھان کپڑا ایک ہزار روپے میں ایک مہینہ کے ادھار پر بیچا، پھر آٹھ سو روپیہ نقد دے کر وہ تھان اس نے عمرو سے خرید لیا، یہ بیع سود خوروں نے ایجاد کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٢٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢) (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں اسحاق الخراسانی اور عطاء الخراسانی دونوں ضعیف ہیں )
3463Sunan Abu Dawood

بیع سلم کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اس وقت لوگ پھلوں میں سال سال، دو دو سال، تین تین سال کی بیع سلف کرتے تھے (یعنی مشتری بائع کو قیمت نقد دے دیتا اور بائع سال و دو سال تین سال کی جو بھی مدت متعین ہوتی مقررہ وقت تک پھل دیتا رہتا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کھجور کی پیشگی قیمت دینے کا معاملہ کرے اسے چاہیئے کہ معاملہ کرتے وقت پیمانہ وزن اور مدت سب کچھ معلوم و متعین کرلے ٢ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, they were paying one, two and three years in advance for fruits, so he said: Those who pay in advance for anything, must do for a specified measure and weight with a specified time fixed.

Notes · وضاحت
١ ؎: سلف یا سلم یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو سامان کی قیمت پیشگی دے دے اور سامان کی ادائیگی کے لئے ایک میعاد مقرر کرلے، ساتھ ہی سامان کا وزن، وصف اور نوعیت وغیرہ متعین ہو ایسا جائز ہے۔ ٢ ؎: تاکہ جھگڑے اور اختلاف پیدا ہونے والی بات نہ رہ جائے اگر مدت مجہول ہو اور وزن اور ناپ متعین نہ ہو تو بیع سلف درست نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السلم ١ (٢٢٣٩)، ٢ (٢٢٤٠)، ٧ (٢٢٥٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٥ (١٦٠٤)، سنن الترمذی/البیوع ٧٠ (١٣١١)، سنن النسائی/البیوع ٦١ (٤٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٩ (٢٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧، ٢٢٢، ٢٨٢، ٣٥٨)، سنن الدارمی/البیوع ٤٥ (٢٦٢٥) (صحیح )
3464Sunan Abu Dawood

بیع سلم کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِير، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُجَالِدٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ،وَعُمَرَ، فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَي، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.

محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ ؓ میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی ؓ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے (کرتے تھے) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔

Muhammad or Abdullah bin Mujahid said: Abdullah bin Shaddad and Abu Burdah disputed over salaf (payment in advance). They sent me to Ibn Abi Awfa and I asked him (about it) and he replied: We used to pay in advance (salaf) during the time of the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr and Umar in wheat, barley, dates and raisins. Ibn Kathir added: to those people who did not possess these things. The agreed version then goes: I then asked Ibn Abza who gave a similar reply.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السلم ٢ (٢٢٤٢)، سنن النسائی/البیوع ٥٩ (٤٦١٨)، ٦٠ (٤٦١٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٩ (٢٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ٥١٧١)، وقد أخرجہ: حم (٤/٣٥٤، ٣٨٠) (صحیح )
3465Sunan Abu Dawood

بیع سلم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ ؟ قَالَ أَبُو دَاوُد: الصَّوَابُ ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ.

عبداللہ بن ابی مجالد (اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے، جن کے پاس (بروقت) یہ مال نہ ہوتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مجالد صحیح ہے، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abi al-Mujahid through a different chain of narrators. This version has: to those people who did not possess these things. Abu Dawud said: What is correct is Ibn Abi al-Mujahid. Shubah made a mistake in it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥١١٧) (صحیح )
3466Sunan Abu Dawood

بیع سلم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّامَ، فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ، فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْبُرِّ وَالزَّيْتِ سِعْرًا مَعْلُومًا وَأَجَلًا مَعْلُومًا، فَقِيلَ لَهُ: مِمَّنْ لَهُ ذَلِكَ، قَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ.

عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے (یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہوگا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Abu Awfa ibn Abu Awfa al-Aslami (RA) : We made a journey to Syria on an expedition along with the Messenger of Allah ﷺ . The Nabateans of Syria came to us and we paid in advance to them (in a salam contract) in wheat and olive oil at a specified rate and for a specified time. He asked (by the people): you might have contracted with him who had these things in his possession? He replied: We did not ask them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/السلم ٣ (٢٢٤١)، ٧ (٢٢٥٣) (صحیح )
3467Sunan Abu Dawood

معین درخت کے پھل میں سلم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ، فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ ؟ ثُمَّ قَالَ: لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہوجائیں سلف نہ کرو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A man paid in advance for a palm-tree. It did not bear fruit that year. They brought their case for decision to the Prophet ﷺ . He said: for which do you make his property lawful? He then said: Do not pay in advance for a palm-tree till they (the fruits) were clearly in good condition.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦١ (٢٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢١ (٤٩)، مسند احمد (٢/٢٥، ٤٩، ٥١، ٥٨، ١٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رجل نجرانی مبہم ہیں )
3468Sunan Abu Dawood

بیع سلم میں مسلم فیہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي الطَّائِيَّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone pays in advance he must not transfer it to someone else before he receives it.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً بیع سلم گیہوں لینے پر کی ہو اور لینے سے پہلے اس کے بدلہ میں چاول ٹھہرا لے تو یہ درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٠ (٢٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٢٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی عطیہ عوفی ضعیف ہیں )
3469Sunan Abu Dawood

کھیت یا باغ پر آنے والی کسی آفت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آگئی چناچہ اس پر بہت سارا قرض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے خیرات دو تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ١ ؎ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے) ۔

Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : In the time of the Messenger of Allah ﷺ a man suffered loss affecting fruits he had bought and owed a large debt, so the Messenger of Allah ﷺ said: Give him sadaqah (alms). So the people gave him sadaqah (alms), but as that was not enough to pay the debt in full, the Messenger of Allah ﷺ said: Take what you find. But that is all you may have.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے مابین بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے، حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت: وإن کان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٤ (١٥٥٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣٤)، ٩٣ (٤٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥، (٢٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٦، ٥٨) (صحیح )
3470Sunan Abu Dawood

کھیت یا باغ پر آنے والی کسی آفت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَعْنَى، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ تَمْرًا، فَأَصَابَتْهَا جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ (باغ کا) پھل بیچو پھر اس پھل پر کوئی آفت آجائے (اور وہ تباہ و برباد ہوجائے) تو تمہارے لیے مشتری سے کچھ لینا جائز نہیں تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس وجہ سے لو گے؟ ١ ؎۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If you were to sell dried dates to your brother and they were smitten by blight, it will not be allowable for you to take your brothers property unjustly.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور اگر کچھ پھل بچ گیا اور کچھ نقصان ہوگیا تو نقصان کا خیال کر کے قیمت میں کچھ تخفیف کر دینی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٣ (١٥٥٤)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٢٢ (٢٥٩٨) (صحیح )
3471Sunan Abu Dawood

جائحہ (آفت) کی تفسیر کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ مِنْ مَطَرٍ، أَوْ بَرَدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ.

عطاء کہتے ہیں جائحہ ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کرسکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہوگئی ہو، پالا پڑگیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کرگئی ہوں، آندھی آگئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔

Ata said: Blight means anything which obviously damages (the crop), by rain, hail, locust, blast of wind, or fire.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٠٦٤) (حسن )
3472Sunan Abu Dawood

جائحہ (آفت) کی تفسیر کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَا جَائِحَةَ فِيمَا أُصِيبَ دُونَ ثُلُثِ رَأْسِ الْمَالِ. قَالَ يَحْيَى: وَذَلِكَ فِي سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ.

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ١ ؎۔

Yahya bin Saeed said: Blight is not effective when less than one-third of goods are damaged. Yayha said: That has been the established practice of Muslims.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تہائی سے کم نقصان ہو تو قیمت میں مشتری کے ساتھ رعایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ تھوڑا بہت تو نقصان ہوا ہی کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٥٣٤) (حسن )
3473Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Excess water should not be withheld so as to prevent (cattle) by it from grass.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پلانے کے لیے لوگ پانی نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لئے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة ٢ (٢٣٥٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٨ (١٥٦٦)، سنن الترمذی/البیوع ٤٥ (١٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٩ (٢٤٢٨)، موطا امام مالک/الأقضیة ٢٥ (٢٩) (صحیح )
3474Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، يَعْنِي كَاذِبًا، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام (و سربراہ) سے (وفاداری کی) بیعت کرے پھر اگر امام اسے (دنیاوی مال و جاہ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There are three people who Allah will not address on the Day of Judgement: a man who prevents traveller from the excess water which he has with him; and a man who swears for the goods (for sale) after the afternoon prayer, that is, (he swears) falsely; and a man who takes the oath of allegiance to a ruler (imam); if he gives him (something), he fullfils (the oath of allegiance) to him, if he does not give him (anything), he does not fulfill it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٣٥ (١٥٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشھادات ٢٢ (٢٦٧٢)، الأحکام ٤٨ (٧٢١٢)، المساقاة ١٠ (٢٣٦٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٦ (١٠٨)، سنن النسائی/البیوع ٦ (٤٤٦٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٠ (٢٢٠٧)، الجھاد ٤٢ (٢٨٧٠)، مسند احمد (٢/٢٥٣، ٤٨٠) (صحیح )
3475Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، وَقَالَ فِي السِّلْعَةِ: بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ فَأَخَذَهَا.

اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے: قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے (منہ مانگا پیسہ دے کر) لے لے۔

The tradition mentioned above has also been related by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: He used: Not purify them ; grievously will be their penalty. He said about (selling) the goods: I swear by Allah, I was given (the price) so and so for it. The other man considered it to be correct and bought it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشہادات ٢٢ (٢٦٧٢)، صحیح مسلم/ الإیمان ٤٦ (١٠٨)، سنن النسائی/ البیوع ٦ (٤٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٨) (صحیح )
3476Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمِلْحُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ.

بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ ﷺ کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نمک پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنی بھی تو نیکی کرے (یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے) تیرے لیے بہتر ہے ۔

Narrated Buhaisah (RA) : On the authority of her father: My father asked the Prophet ﷺ for permission (to kiss his body). (When he was given permission), lifting his shirt he approached his body, and began to kiss and stick to him. He then asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Water. He asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He said: That you do a good work is better for you.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی، اس کے رواة سیار اور ان کے والد منظور لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
3477Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُئِيُّ، أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَرْنٍ. ح، حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو خِدَاشٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، أَسْمَعُهُ يَقُولُ: الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْكَلَإِ، وَالْمَاءِ، وَالنَّار.

نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں (یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں) : (ا) پانی (نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو) ، (٢) گھاس (جو لاوارث زمین میں ہو) اور (٣) آگ (جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو) ۔

Narrated A man: A man from the immigrants of the Companions of the Prophet ﷺ said: I participated in battle three times along with the Prophet ﷺ . I heard him say: Muslims have common share in three (things). grass, water and fire.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (٥/٣١٤) (صحیح )