Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 174 of 265

3478Sunan Abu Dawood

بچے ہوئے پانی کو فروخت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْإِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.

ایاس بن عبد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فاضل (پینے کے) پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Iyas ibn Abd (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the sale of excess water.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٤ (١٢٧١)، سنن النسائی/البیوع ٨٦ (٤٦٦٥)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٨ (٢٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٨، ٤١٧)، سنن الدارمی/البیوع ٦٩ (٢٦٥٤) (صحیح )
3479Sunan Abu Dawood

بلے یا بلی کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ. ح، وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا،عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ forbade payment for dog and cat.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٢٣٠٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٧)، سنن النسائی/الذبائح ١٦ (٤٣٠٠)، البیوع ٩٠ (٤٦٧٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٦١)، مسند احمد (٣/٣٣٩) (صحیح )
3480Sunan Abu Dawood

بلے یا بلی کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرَّةِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Jabir: The Prophet ﷺ forbade payment for cat.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٨٠)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٠ (٣٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٤) ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (٣٨٠٧) (صحیح) سند میں عمر بن زید ضعیف ہیں اس لئے ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے، لیکن البانی صاحب نے سنن ابی داود میں صحیح کہا ہے، اور سنن ابن ماجہ میں ضعیف (٣٢٥٠) جبکہ الإرواء (٢٤٨٧) میں اس کی تضعیف کی ہے واضح رہے کہ ابوداود میں احادیث البیوع کا حوالہ دیا ہے تو سند کے اعتبار سے اس میں ضعف ہے لیکن سابقہ حدیث کی وجہ سے یہ صحیح ہے
3481Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.

ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Masud (RA) : The Prophet ﷺ forbade the price paid for a dog, the hire paid to prostitute, and the gift given to a soothsayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے متعلق ملاحظہ فرمائیں حدیث نمبر (٣٤٢٨) کے حواشی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٠٧، ١٠٠١٠) (صحیح )
3482Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَإِنْ جَاءَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ، فَامْلَأْ كَفَّهُ تُرَابًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی کتے کی قیمت مانگنے آئے، تو اس کی مٹھی میں مٹی بھر دو۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the price paid for a dog; if someone comes to ask for the price of a dog, fill his hand-palm with dust.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٧٨، ٢٨٩، ٣٥٠، ٣٥٦) (صحیح الإسناد )
3483Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَوْنُ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ.

ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abu Juhaifah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the price paid for a dog.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨١٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧) (صحیح )
3484Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، أَنَّ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ، وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The price paid for a dog, the price given to a soothsayer, and the hire paid to a prostitute are not lawful.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٠) (صحیح )
3485Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah forbade wine and the price paid for it, and forbade dead meat and the price paid for it, and forbade swine and the price paid for it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٢) (صحیح )
3486Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةَ وَالْخِنْزِيرَ وَالْأَصْنَامَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے) : اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے پھر آپ ﷺ نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے ۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That he heard the Messenger of Allah ﷺ say in the year of the Conquest when he was in Makkah: Allah has forbidden the sale of wine, animals which have dead natural death, swine and idols. He was asked: Messenger of Allah, what do you think of the fat of animals which had died a natural death, for it was used for caulking ships, greasing skins, and making oil for lamps? He replies: No, it is forbidden. Thereafter, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the Jews! When Allah declared the fat of such animals lawful, they melted it, then sold it, and enjoyed the price they received.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٢ (٢٢٣٦)، المغازي ٥١ (٤٢٩٦)، تفسیر سورة الأنعام ٦ (٤٦٣٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (١٥٨١)، سنن الترمذی/البیوع ٦١ (١٢٩٧)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٧ (٤٢٦١)، البیوع ٩١ (٤٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١١ (٢١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٢٦، ٣٧٠) (صحیح )
3487Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّعَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، نَحْوَهُ، لَمْ يَقُلْ هُوَ حَرَامٌ.

اس سند سے بھی جابر ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے مگر اس میں انہوں نے هو حرام نہیں کہا ہے۔

Yazid bin Abi Habib said: Jabir wrote to me a similar tradition. But he did not say in this version It is forbidden.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤) (صحیح )
3488Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ بَرَكَةَ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِ، خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ثُمَّ اتَّفَقَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ، قَالَ: فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ، فَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ثَلَاثًا: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ. وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانِ رَأَيْتُ، وَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن (حجر اسود) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی (تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کردیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ (خالد بن عبداللہ طحان) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: لعن الله اليهود کے بجائے: قال قاتل الله اليهود ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting neat the Black stone (or at a corner of the Kabah). He said: He (the Prophet) raised his eyes towards the heaven, and laughed, and he said: May Allah curse the Jews! He said this three times. Allah declared unlawful for them the fats (of the animals which died a natural death); they sold them and they enjoyed the price they received for them. When Allah declared eating of thing forbidden for the people, He declares it price also forbidden for them. The version of Khalid bin Abdullah al-Tahhan does not have the words I saw. It has: May Allah destroy the Jews!

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٩٣، ٣٢٢) (صحیح )
3489Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا (اور بیچنا) چاہیئے (اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں) ۔

Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who sold wine should shear the flesh of swine.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٣)، سنن الدارمی/الأشربة ٩ (٢١٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی عمر بن بیان لین الحدیث ہیں )
3490Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سورة البقرہ کی آخری آیتیں: يسألونک عن الخمر والميسر ... اتریں، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کردی گئی ہے ۔

Narrated Aisha (RA) : When the last verses of Surat al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah ﷺ came out and recited them to us and siad: Trading in wine has been forbidden.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٣ (٤٥٩)، والبیوع ٢٥ (٢٠٨٤)، ١٠٥ (٢٢٢٦)، و تفسیر آل عمران ٤٩ (٤٥٤٠)، ٥٢ (٤٥٤٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٢ (١٥٨٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٩ (٤٦٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٧ (٣٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦، ١٠٠، ١٢٧، ١٨٦، ١٩٠، ٢٨٧)، سنن الدارمی/البیوع ٣٥ (٢٦١٢) (صحیح )
3491Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِه وَمَعْنَاهُ، قَالَ: الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ فِي الرِّبَا.

اعمش سے بھی اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں الآيات الأواخر من سورة البقرہ کے بجائے الآيات الأواخر في الربا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: The last verses about usury.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٦) (صحیح )
3492Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کھانے کا غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے پورے طور سے اپنے قبضہ میں نہ لے لے ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys grain, he must not sell it till receives it in full.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ یہ حکم ہر بیچی جانے والی شے کے لئے عام ہے لہٰذا خریدی گئی چیز میں اس وقت تک کسی طرح کا تصرف جائز نہیں جب تک کہ اسے پورے طور سے قبضہ میں نہ لے لیا جائے یا جہاں خریدا ہے وہاں سے اسے منتقل نہ کرلیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٦)، ٥٤ (٢١٣٣)، ٥٥ (٢١٣٦)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٦)، سنن النسائی/البیوع ٥٣ (٤٥٩٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٧ (٢٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤٠)، مسند احمد (١/٥٦، ٦٣، ٢/٢٣، ٤٦، ٥٩، ٦٤، ٧٣، ٧٩، ١٠٨، ١١١، ١١٣)، سنن الدارمی/البیوع ٢٦ (٢٦٠٢) (صحیح )
3493Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَر، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ، قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُيَعْنِي جُزَافًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس (کسی شخص کو) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : During the time of Messenger of Allah ﷺ we used to buy grain, and he sent a man to us who ordered us to move it from the spot where we had bought it to some other place, before we sold it without weighing or measuring it.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٧)، سنن النسائی/البیوع ٥٥ (٤٦٠٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٧١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣١)، ٥٦ (٢١٣٧)، ٧٢ (٢١٦٦)، موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤٢)، مسند احمد (١/٥٦، ١١٢، ٢/٧، ١٥، ٢١، ٤٠، ٥٣، ١٤٢، ١٥٠، ١٥٧) (صحیح )
3494Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِأَعْلَى السُّوقِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں لوگ اٹکل سے بغیر ناپے تولے (ڈھیر کے ڈھیر) بازار کے بلند علاقے میں غلہ خریدتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اسے اس جگہ سے منتقل نہ کرلیں (تاکہ مشتری کا پہلے اس پر قبضہ ثابت ہوجائے پھر بیچے) ۔

Ibn Umar said: They (the people) used to buy grain in the upper part of the market in the same spot without measuring or weighing it. The Messenger of Allah ﷺ forbade them to sell it there before removing it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ٧٢ (٢١٦٧)، سنن النسائی/ البیوع ٥٥ (٤٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥، ٢١) (صحیح )
3495Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to sell grain which one buys by measurement until one receives it in full.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ البیوع ٥٤ (٤٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١١) (صحیح )
3496Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ قَالَ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرَجًّى ؟.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے ۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys grain, he should not sell it until he measures it. Abu Bakr added in his version: I asked Ibn Abbas (RA) : Why ? He replied: Do you not see that they sell (grain) for gold, but the grain is still with the seller.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلا: ایک آدمی نے سو روپیہ کسی کو غلہ کے لئے دیئے اور غلہ اپنے قبضہ میں نہیں لیا، پھر اس کو کسی اور سے ایک سو بیس روپیہ میں بیچ دیا جبکہ غلہ ابھی کسان یا فروخت کرنے والے کے ہاتھ ہی میں ہے، تو گویا اس نے سو روپیہ کو ایک سو بیس روپیہ میں بیچا اور یہ سود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣٢)، ٥٥ (٢١٣٥)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن النسائی/البیوع ٥٣ (٤٦٠١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٥١، ٢٧٠، ٢٨٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦٨، ٣٦٩) (صحیح )
3497Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ، حَتَّى يَقْبِضَهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ، زَادَ مُسَدَّدٌ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَ الطَّعَامِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گیہوں خریدے تو جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ کرلے، نہ بیچے ۔ سلیمان بن حرب نے اپنی روایت میں ( حتى يقبضه کے بجائے) حتى يستوفيه روایت کیا ہے۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ گیہوں کی طرح ہر چیز کا حکم ہے (جو چیز بھی کوئی خریدے جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے) ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys a grain, he should not sell it until he takes possession of it. Sulaiman bin Harb said: Until he receives it in full. Musaddad added: Ibn Abbas said: And I think that everything is like grain.

Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کی اگلی مرفوع حدیث نمبر (٣٤٩٩) اسی عموم پر دلالت کرتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ٥٥ (٢١٣٥)، صحیح مسلم/ البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن الترمذی/ البیوع ٥٦ (١٢٩١)، سنن النسائی/ البیوع ٥٣ (٤٦٠٢)، سنن ابن ماجہ/ التجارات ٣٧ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٧٠، ٢٨٥) (صحیح )