جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Jabir: The Prophet ﷺ forbade payment for cat.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٨٠)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٠ (٣٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٤) ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (٣٨٠٧) (صحیح) سند میں عمر بن زید ضعیف ہیں اس لئے ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے، لیکن البانی صاحب نے سنن ابی داود میں صحیح کہا ہے، اور سنن ابن ماجہ میں ضعیف (٣٢٥٠) جبکہ الإرواء (٢٤٨٧) میں اس کی تضعیف کی ہے واضح رہے کہ ابوداود میں احادیث البیوع کا حوالہ دیا ہے تو سند کے اعتبار سے اس میں ضعف ہے لیکن سابقہ حدیث کی وجہ سے یہ صحیح ہے
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی کتے کی قیمت مانگنے آئے، تو اس کی مٹھی میں مٹی بھر دو۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the price paid for a dog; if someone comes to ask for the price of a dog, fill his hand-palm with dust.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٧٨، ٢٨٩، ٣٥٠، ٣٥٦) (صحیح الإسناد )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The price paid for a dog, the price given to a soothsayer, and the hire paid to a prostitute are not lawful.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah forbade wine and the price paid for it, and forbade dead meat and the price paid for it, and forbade swine and the price paid for it.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے) : اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے پھر آپ ﷺ نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That he heard the Messenger of Allah ﷺ say in the year of the Conquest when he was in Makkah: Allah has forbidden the sale of wine, animals which have dead natural death, swine and idols. He was asked: Messenger of Allah, what do you think of the fat of animals which had died a natural death, for it was used for caulking ships, greasing skins, and making oil for lamps? He replies: No, it is forbidden. Thereafter, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the Jews! When Allah declared the fat of such animals lawful, they melted it, then sold it, and enjoyed the price they received.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن (حجر اسود) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی (تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کردیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ (خالد بن عبداللہ طحان) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: لعن الله اليهود کے بجائے: قال قاتل الله اليهود ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting neat the Black stone (or at a corner of the Kabah). He said: He (the Prophet) raised his eyes towards the heaven, and laughed, and he said: May Allah curse the Jews! He said this three times. Allah declared unlawful for them the fats (of the animals which died a natural death); they sold them and they enjoyed the price they received for them. When Allah declared eating of thing forbidden for the people, He declares it price also forbidden for them. The version of Khalid bin Abdullah al-Tahhan does not have the words I saw. It has: May Allah destroy the Jews!
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٩٣، ٣٢٢) (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا (اور بیچنا) چاہیئے (اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں) ۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who sold wine should shear the flesh of swine.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٣)، سنن الدارمی/الأشربة ٩ (٢١٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی عمر بن بیان لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سورة البقرہ کی آخری آیتیں: يسألونک عن الخمر والميسر ... اتریں، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کردی گئی ہے ۔
Narrated Aisha (RA) : When the last verses of Surat al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah ﷺ came out and recited them to us and siad: Trading in wine has been forbidden.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٣ (٤٥٩)، والبیوع ٢٥ (٢٠٨٤)، ١٠٥ (٢٢٢٦)، و تفسیر آل عمران ٤٩ (٤٥٤٠)، ٥٢ (٤٥٤٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٢ (١٥٨٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٩ (٤٦٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٧ (٣٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦، ١٠٠، ١٢٧، ١٨٦، ١٩٠، ٢٨٧)، سنن الدارمی/البیوع ٣٥ (٢٦١٢) (صحیح )
اعمش سے بھی اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں الآيات الأواخر من سورة البقرہ کے بجائے الآيات الأواخر في الربا ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: The last verses about usury.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کھانے کا غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے پورے طور سے اپنے قبضہ میں نہ لے لے ١ ؎۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys grain, he must not sell it till receives it in full.
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ یہ حکم ہر بیچی جانے والی شے کے لئے عام ہے لہٰذا خریدی گئی چیز میں اس وقت تک کسی طرح کا تصرف جائز نہیں جب تک کہ اسے پورے طور سے قبضہ میں نہ لے لیا جائے یا جہاں خریدا ہے وہاں سے اسے منتقل نہ کرلیا جائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس (کسی شخص کو) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے۔
Narrated Ibn Umar (RA) : During the time of Messenger of Allah ﷺ we used to buy grain, and he sent a man to us who ordered us to move it from the spot where we had bought it to some other place, before we sold it without weighing or measuring it.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں لوگ اٹکل سے بغیر ناپے تولے (ڈھیر کے ڈھیر) بازار کے بلند علاقے میں غلہ خریدتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اسے اس جگہ سے منتقل نہ کرلیں (تاکہ مشتری کا پہلے اس پر قبضہ ثابت ہوجائے پھر بیچے) ۔
Ibn Umar said: They (the people) used to buy grain in the upper part of the market in the same spot without measuring or weighing it. The Messenger of Allah ﷺ forbade them to sell it there before removing it.
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to sell grain which one buys by measurement until one receives it in full.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ البیوع ٥٤ (٤٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے ۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys grain, he should not sell it until he measures it. Abu Bakr added in his version: I asked Ibn Abbas (RA) : Why ? He replied: Do you not see that they sell (grain) for gold, but the grain is still with the seller.
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلا: ایک آدمی نے سو روپیہ کسی کو غلہ کے لئے دیئے اور غلہ اپنے قبضہ میں نہیں لیا، پھر اس کو کسی اور سے ایک سو بیس روپیہ میں بیچ دیا جبکہ غلہ ابھی کسان یا فروخت کرنے والے کے ہاتھ ہی میں ہے، تو گویا اس نے سو روپیہ کو ایک سو بیس روپیہ میں بیچا اور یہ سود ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گیہوں خریدے تو جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ کرلے، نہ بیچے ۔ سلیمان بن حرب نے اپنی روایت میں ( حتى يقبضه کے بجائے) حتى يستوفيه روایت کیا ہے۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ گیہوں کی طرح ہر چیز کا حکم ہے (جو چیز بھی کوئی خریدے جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے) ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys a grain, he should not sell it until he takes possession of it. Sulaiman bin Harb said: Until he receives it in full. Musaddad added: Ibn Abbas said: And I think that everything is like grain.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کی اگلی مرفوع حدیث نمبر (٣٤٩٩) اسی عموم پر دلالت کرتی ہے۔