Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 175 of 265

3498Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّاسَ يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا الطَّعَامَ جُزَافًا، أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ إِلَى رَحْلِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں، میں نے لوگوں کو مار کھاتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎ جب وہ گیہوں کے ڈھیر بغیر تولے اندازے سے خریدتے اور اپنے مکانوں پر لے جانے سے پہلے بیچ ڈالتے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I saw that during the time of the Messenger of Allah ﷺ the people were beaten when they bought grain on the same spot and sold it there without moving it to their houses.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ قبضہ میں لے کر بیچنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المحاربین ٢٩ (٦٨٥٢)، صحیح مسلم/ البیوع ٨ (١٥٢٧)، سنن النسائی/ البیوع ٥٥ (٤٦١٢)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧، ١٥٠) (صحیح )
3499Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لِنَفْسِي، لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں نے بازار میں تیل خریدا، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کرلیا، تو مجھے ایک شخص ملا، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کرلوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ زید بن ثابت ؓ تھے، انہوں نے کہا: جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں۔

Narrated Ibn Umar (RA) : I bought olive oil in the market. When I became its owner, a man met me and offered good profit for it. I intended to settle the bargain with him, but a man caught hold of my hand from behind. When I turned I found that he was Zayd ibn Thabit. He said: Do not sell it on the spot where you have bought it until you take it to your house, for the Messenger of Allah ﷺ forbade to sell the goods where they are bought until the tradesmen take them to their houses.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو دواد، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩١) (حسن )
3500Sunan Abu Dawood

بیع کے وقت جو یہ کہے کہ اسمیں دھوکہ نہیں اس کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِلَابَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ خریدو فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے (تو وہ کیا کرے) رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جب تم خریدو فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو لا خلابة (دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہوگا) تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو لا خلابة کہہ دیتا ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : A man told the Messenger of Allah ﷺ that he was being deceived in business transactions. The Messenger of Allah ﷺ then said: When you make a bargain, say: There is no attempt to deceive. So when the man made a bargain, he said: There is no attempt to deceive.

Notes · وضاحت
١ ؎: خریدار کے ایسا کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہوجاتا ہے اور اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ بیع فسخ کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٤٨ (٢١١٧)، الاستقراض ١٩ (٢٤٠٧)، الخصومات ٣ (٢٤١٤)، الحیل ٧ (٦٩٦٤)، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٨٩)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع ١٢ (١٥٣٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٦ (٩٨)، مسند احمد (٢/٨٠، ١١٦، ١٢٩، ١٣٠) (صحیح )
3501Sunan Abu Dawood

بیع کے وقت جو یہ کہے کہ اسمیں دھوکہ نہیں اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَاءَ، وَهَاءَ، وَلَا خِلَابَةَ، قَالَ أَبُو ثَوْرٍ: عَنْ سَعِيدٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خریدو فروخت کرتا تھا، لیکن اس کی گرہ (معاملہ کی پختگی میں) کمی و کمزوری ہوتی تھی تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں (کے خریدو فروخت) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے (جس سے نقصان پہنچتا ہے) تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے خریدو فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خریدو فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا اگر تم خریدو فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خریدو فروخت کرتے وقت کہا کرو: نقدا نقدا ہو، لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ١ ؎۔ اور ابوثور کی روایت میں ( أخبرنا سعيد کے بجائے) عن سعيد ہے۔

Narrated Anas ibn Malik: During the time of the Messenger of Allah ﷺ a man used to buy (goods), and he was weak in his intellect. His people came to the Prophet of Allah ﷺ and said: Prophet of Allah, stop so-and-so (to make a bargain) for he buys (goods), but he is weak in his intellect. So the Prophet ﷺ called on him and forbade him to make a bargain. He said: Prophet of Allah, I cannot keep away myself from business transactions. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: If you cannot give up making a bargain, then say: Take, and give, and there is no attempt to deceive.

Notes · وضاحت
١ ؎: پس اگر کسی نے دھوکہ اور فریب کیا، تو بیع فسخ ہوجائے گی اور لیا دیا واپس ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٨ (١٢٥٠)، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٩٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٤ (٢٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٧) (صحیح )
3502Sunan Abu Dawood

بیع عربان کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: أُعْطِيكَ دِينَارًا عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ السِّلْعَةَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ.

عبداللہ بن عمر و ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں: جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بیچنے والے یا کرایہ دینے والے سے کہے کہ میں تجھے (مثلاً ) ایک دینار اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے یہ سامان یا کرایہ کی سواری نہیں لی تو یہ جو (دینار) تجھے دے چکا ہوں تیرا ہوجائے گا (اور اگر لے لیا تو یہ دینار قیمت یا کرایہ میں کٹ جائے گا) ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that the Messenger of Allah ﷺ forbade the type of transactions in which earnest money was paid. Malik said: This means, as we think--Allah better knows-that a man buys a slave or hires an animal, and he says: I give you a dinar on condition that if I give up the transaction or hire, what I gave you is yours.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٢ (٢١٩٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ البیوع ١ (١)، مسند احمد (٢/١٨٣) (ضعیف) (اس کی سند میں انقطاع ہے، یہ امام مالک کی بلاغات میں سے ہے )
3503Sunan Abu Dawood

اپنے پاس غیر موجود چیز کی فروخت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ. فَقَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے سودا کرلوں، اور بازار سے لا کر اسے وہ چیز دے دوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچو ۔

Narrated Hakim ibn Hizam (RA) : Hakim asked (the Prophet): Messenger of Allah, a man comes to me and wants me to sell him something which is not in my possession. Should I buy it for him from the market? He replied: Do not sell what you do not possess.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٢)، سنن النسائی/البیوع ٥٨ (٤٦١٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٣٤٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٣٤) (صحیح )
3504Sunan Abu Dawood

اپنے پاس غیر موجود چیز کی فروخت کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ حَتَّى ذَكَرَ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ١ ؎ اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ٢ ؎ اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں ٣ ؎ (کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوسکتا ہے) ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The proviso of a loan combined with a sale is not allowable, nor two conditions relating to one transaction, nor profit arising from something which is not in ones charge, nor selling what is not in your possession.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بائع خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپیے کے عوض اس شرط پر بیچے کہ بائع خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا، اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تم سے ایک ہزار نقد یا دو ہزار ادھار میں بیچا یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطوں پر مشتمل ہے یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ٣ ؎: بائع کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس میں دھوکا دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوے غلام یا اونٹ کی بیع کرے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بائع نہیں دے سکتا، البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے مشتری کے لئے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی شے بائع کے پاس فی الوقت موجود نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٤)، سنن النسائی/البیوع ٦٠ (٤٦٢٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤، ١٧٨، ٢٠٥) (حسن صحیح )
3505Sunan Abu Dawood

بیع میں شرط لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بِعْتُهُ يَعْنِي بَعِيرَهُ، مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ فِي آخِرِهِ: تُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِأَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ فَهُمَا لَكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسے (یعنی اپنا) اونٹ نبی اکرم ﷺ سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں قیمت کم کرا رہا ہوں تاکہ کم ہی پیسے میں تمہارے اونٹ ہڑپ کرلے جاؤں، جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں ۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : I sold it, that is, camel, to the Prophet ﷺ , but I made the stipulation that I should be allowed to ride it to home. At the end he (the Prophet) said: Do you think that I made this transaction with you so that I take your camel ? Take your camel and its price; both are yours.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣٤ (٢٠٩٧)، الاستقراض ١ (٢٣٨٥)، ١٨ (٢٤٠٦)، المظالم ٢٦ (٢٤٧٠)، الشروط ٤ (٢٧١٨)، الجھاد ٤٩ (٢٨٦١)، ١١٣ (٢٩٦٧)، صحیح مسلم/البیوع ٤٢ (٧١٥)، الرضاع ١٦ (٧١٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٠ (١٢٥٣)، سنن النسائی/البیوع ٧٥ (٤٦٤١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٩ (٢٢٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٩٢) (صحیح )
3506Sunan Abu Dawood

غلام کی خریداری کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بایع پر) غلام و لونڈی کے عیب کی جواب دہی کی مدت تین دن ہے ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said: The contractual obligation of a slave is three days.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٤ (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٣، ١٥٠، ١٥٢)، سنن الدارمی/البیوع ١٨ (٢٥٩٤) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع عقبہ ؓ سے نہیں ہے )
3507Sunan Abu Dawood

غلام کی خریداری کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ، أَنَّهُ اشْتَرَاهُ وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ.

اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ (گواہ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: If he finds defect (in the slave) within three days, he may return it without evidence; if he finds a defect after three days, he will be required to produce evidence that he (the slave) had the defect when he bought it. Abu Dawud said: This explanation is from the words of Qatadah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٩١٧) (ضعیف) وسندہ إلی قتادة صحیح (حسن بصری کا سماع عقبہ ؓ سے نہیں ہے )
3508Sunan Abu Dawood

غلام خریدنے کے بعد اسے کسی کام پر لگا دیا پھر کوئی عیب پایا گیا تو کیا کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Profit follows responsibility.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی تو اس کا حق دار مشتری ہوگا بائع نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں مشتری ہی اس کا ضامن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٣ (١٢٨٥)، سنن النسائی/ البیوع ١٣ (٤٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٣ (٢٢٤٢، ٢٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٨، ٢٣٧) (حسن )
3509Sunan Abu Dawood

غلام خریدنے کے بعد اسے کسی کام پر لگا دیا پھر کوئی عیب پایا گیا تو کیا کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَال: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أُنَاسٍ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ فَاقْتَوَيْتُهُ، وَبَعْضُنَا غَائِبٌ فَأَغَلَّ عَلَيَّ غَلَّةً فَخَاصَمَنِي فِي نَصِيبِهِ إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَرُدَّ الْغَلَّةَ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثْتُهُ، فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَحَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ.

( مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر ؓ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ ؓ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اور عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: منافع اس کا ہوگا جو ضامن ہوگا ١ ؎۔

Narrated Makhlad ibn Khufaf al-Ghifari (RA) : I and some people were partners in a slave. I employed him on some work in the absence of one of the partners. He got earnings for me. He disputed me and the case of his claim to his share in the earnings to a judge, who ordered me to return the earnings (i. e. his share) to him. I then came to Urwah ibn az-Zubayr, and related the matter to him. Urwah then came to him and narrated to him a tradition from the Messenger of Allah ﷺ on the authority of Aisha (RA) : Profit follows responsibility.

Notes · وضاحت
١ ؎: عروہ نے اس حصہ دار سے یہ حدیث اس لئے بیان کی تاکہ وہ مخلد سے غلہ نہ لے کیونکہ غلام اس وقت مخلد کے ضمان میں تھا اس لئے اس کی کمائی کے مستحق بھی تنہا وہی ہوئے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٥) (حسن )
3510Sunan Abu Dawood

غلام خریدنے کے بعد اسے کسی کام پر لگا دیا پھر کوئی عیب پایا گیا تو کیا کیا جائے ؟

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا، فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ، ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ ﷺ نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خراج (منافع) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند ویسی (قوی) نہیں ہے (جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے )

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A man bought a slave, and he remained with him as long as Allah wished him to remain. He then found defect in him. He brought his dispute with him to the Prophet ﷺ and he returned him to him. The man said: Messenger of Allah, my slave earned some wages. The Messenger of Allah ﷺ then said: Profit follows responsibility. Abu Dawud said: This chain of narrators (of this version) is not reliable.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ التجارات ٤٣ (٢٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٠، ١١٦) (حسن) بما قبلہ (مسلم زنجی حافظہ کے کمزور راوی ہیں )
3511Sunan Abu Dawood

بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے اور مبیع موجود ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اشْتَرَى الْأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلَافٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاخْتَرْ رَجُلًا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ الْأَشْعَثُ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ.

محمد بن اشعث کہتے ہیں اشعث نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے خمس کے غلاموں میں سے چند غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود ؓ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بائع اور مشتری (بیچنے اور خریدنے والے) دونوں کے درمیان (قیمت میں) اختلاف ہوجائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کردیں ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Muhammad ibn al-Ashath said: Al-Ashath bought slaves of booty from Abdullah ibn Masud for twenty thousand (dirhams. Abdullah asked him for payment of their price. He said: I bought them for ten thousand (dirhams). Abdullah said: Appoint a man who may adjudicate between me and you. Al-Ashath said: (I appoint) you between me and yourself. Abdullah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If both parties in a business transaction differ (on the price of an article), and they have witness between them, the statement of the owner of the article will be accepted (as correct) or they may annul the transaction.

Notes · وضاحت
١ ؎: خریدار اور بیچنے والے کے مابین قیمت کی تعیین و تحدید میں اگر اختلاف ہوجائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بیچنے والا قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے اس سامان کو اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں بیچا ہے، اب خریدار اس کی قسم اور قیمت کی تعیین پر راضی ہے تو بہتر ورنہ خریدار بھی قسم کھا کر یہ کہے کہ میں نے یہ سامان اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں خریدا ہے، پھر بیع فسخ کردی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٣ (١٢٧٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٠ (٤٦٥٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٩ (٢١٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٨، ٩٥٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٤٦) (صحیح )
3512Sunan Abu Dawood

بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے اور مبیع موجود ہو

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْكَلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ.

قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ نے ایک غلام اشعث بن قیس ؓ کے ہاتھ بیچا، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی۔

Al-Qasim bin Abdur-Rahman reported on the authority of his father: Ibn Masud sold slaves to al-Ashath bin Qais. He then narrated the rest of the tradition to the same effect with some variation of words.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ التجارات ١٩ (٢١٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٦٦) (صحیح )
3513Sunan Abu Dawood

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شفعہ ١ ؎ ہر مشترک چیز میں ہے، خواہ گھر ہو یا باغ کی چہار دیواری، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے ٢ ؎۔

Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is the right of option regarding everything which is shared, whether a dwelling or a garden. It is not lawful to sell before informing ones partner, but if he sells without informing him, he has the greatest right to it.

Notes · وضاحت
١ ؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے۔ ٢ ؎: اگر شریک لینے کا خواہش مند ہے تو مشتری نے جتنی قیمت دی ہے، وہ قیمت دے کرلے لے، مشتری کے پیسے واپس ہوجائیں گے، لیکن اگر اس نے آگاہ کردیا، اور شریک لینے کا خواہش مند نہیں ہے، تو جس کے ہاتھ بھی چاہے بیچے حق شفغہ باقی نہ رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٨ (١٦٠٨)، سنن النسائی/البیوع ٧٨ (٤٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١٢، ٣١٦، ٣٥٧، ٣٩٧)، سنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٧٠) (صحیح )
3514Sunan Abu Dawood

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ ہر اس چیز میں رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حد بندیاں ہوگئی ہوں، اور راستے الگ الگ نکال دئیے گئے ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ decreed the right to buy the neighboring property applicable to everything which is not divided, but when boundaries are fixed and separate roads made, there is no option.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٦ (٢٢١٣)، ٩٧ (٢٢١٤)، الشفعة ١ (٢٢٥٧)، الشرکة ٨ (٢٤٩٥)، الحیل ١٤ (٦٩٧٦)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٣ (١٣٧٠)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٣ (٢٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٧٢، ٣٩٩) (صحیح )
3515Sunan Abu Dawood

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَن الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَوْ عَنْهُمَا جَمِيعًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قُسِّمَتِ الْأَرْضُ وَحُدَّتْ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب زمین کا بٹوارہ ہوچکا ہو اور ہر ایک کی حد بندی کردی گئی ہو تو پھر اس میں شفعہ نہیں رہا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When land has been divided and boundaries have been set up, there is no right of pre-emption in it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٢١٣، ١٣٢٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣ (٢٤٩٧) (صحیح )
3516Sunan Abu Dawood

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.

ابورافع ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔

Narrated Abu Rafi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: A neighbor has the best claim to the house or land of the neighbor.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشفعة ٢ (٢٢٥٨)، الحیل ١٤ (٦٩٧٧)، ١٥ (٦٩٧٨)، سنن النسائی/البیوع ١٠٧ (٤٧٠٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٨٧ (٢٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠، ٦/١٠) (صحیح )
3517Sunan Abu Dawood

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الْأَرْضِ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔

Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said: A neighbour has the best claim to the house or land of the neighbour.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣١ (١٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ١٣، ١٨) (صحیح )