Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 176 of 265

3518Sunan Abu Dawood

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر وہ موجود نہ ہوگا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: The neighbour is most entitled to the right of pre-emption, and he should wait for its exercise even if he is absent, when the two properties have one road.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣٢ (١٣٦٩)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٣)، سنن الدارمی/ البیوع ٨٣ (٢٦٦٩) (صحیح )
3519Sunan Abu Dawood

مفلس کے پاس کوئی شخص اپنی چیز دیکھے تو کیا کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ الْمَعْنَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہوجائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ (دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone becomes insolvent and the man (i. e. creditor) finds his very property with him, he is more entitled to it than anyone else.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہوگیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں: (الف) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو، (ب) یا پا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہ ہو، (ج) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو، (د) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جاسکے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض ١٤ (٢٤٠٢)، صحیح مسلم/المساقاة ٥ (١٥٥٩)، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٦٢)، سنن النسائی/البیوع ٩٣ (٤٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٤٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٢ (٨٨)، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٤٧، ٤٩، ٢٥٨، ٤١٠، ٤٦٨، ٤٧٤، ٥٠٨)، دی/ البیوع ٥١ (٢٦٣٢) (صحیح )
3520Sunan Abu Dawood

مفلس کے پاس کوئی شخص اپنی چیز دیکھے تو کیا کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضْ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اور خریدار مفلس ہوگیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پائی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر خریدار مرگیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے ۔

Narrated Abu Bakr ibn Abdur Rahman ibn al-Harith ibn Hisham (RA) : The Prophet ﷺ said: If a man sells (his) property and the man who buys it becomes insolvent, and the seller does not receive the price of the property he had sold, but finds his very property with him (i. e. the buyer), he is more entitled to it (than others). If the buyer dies, then the owner of the property is equal to the creditors.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
3521Sunan Abu Dawood(3522)

مفلس کے پاس کوئی شخص اپنی چیز دیکھے تو کیا کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ يَعْنِي الْخَبَائِرِيَّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو الْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا، أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ مَالِكٍ، أَصَحُّ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہوگا، اور جو شخص مرگیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت (بہ نسبت زبیدی کی روایت کے) زیادہ صحیح ہے۔

A similar tradition (to the No. 3513) has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . This version has: If he paid something from its price, then he will be equal to the creditors in the remaining price. If a man dies and he has the very property of a man (i. e. seller), he is equal to the creditors whether he (the buyer) pays him (the price) or not. Abu Dawud said: Maliks version of this tradition is sounder.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١) (صحیح )
3522Sunan Abu Dawood(3521)

مفلس کے پاس کوئی شخص اپنی چیز دیکھے تو کیا کرے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَنِ يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، زَادَ وَإِنْ قَضَى مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ فِيهَا.

یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے۔۔۔ پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Bakr bin Adb al-Rahman bin al-Harith bin Hisham from Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Malik. This version adds: If he paid something from the price (of the property), then he will be equal to the creditors in it.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١) (صحیح) (یہ بھی مرسل ہے اور حدیث نمبر (٣٥١٩) سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے )
3523Sunan Abu Dawood

مفلس کے پاس کوئی شخص اپنی چیز دیکھے تو کیا کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَال: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہوگیا تھا ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: جو مفلس ہوگیا، یا مرگیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔

Umar ibn Khaldah said: We came to Abu Hurairah who had become insolvent. He said: I shall decide between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah ﷺ : If anyone becomes insolvent or dies and the man (the seller) finds his very property with him, he is more entitled to it (than others).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٢٣٦٠)، انظر حدیث رقم: (٣٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں )
3524Sunan Abu Dawood

جو کسی مریل جانور کو زندہ کرے (کھلا پلا کر)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَقَالَ: عَنْ أَبَانَ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا، فَسَيَّبُوهَا، فَأَخَذَهَا، فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ، قَالَ: فِي حَدِيثِ أَبَانَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ عَمَّنْ ؟، قَالَ: عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ، وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ.

عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کردیا ہو، وہ اسے (کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے) تندرست کرلے تو وہ جانور اسی کا ہوجائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے (ایک نہیں) نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔

Narrated Amir ash-Shabi (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone finds an animal whose owners were helpless to provide fodder to it and so they turned it out (of their house), and he took it and looked after it, it will belong to him. Abu Dawud said: This is the tradition of Hammad. It is more plain and perfect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠١، ١٨٨٦٣) (حسن )
3525Sunan Abu Dawood

جو کسی مریل جانور کو زندہ کرے (کھلا پلا کر)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِالشَّعْبِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ تَرَكَ دَابَّةً بِمَهْلَكٍ فَأَحْيَاهَا رَجُلٌ، فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا.

شعبی سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص کوئی جانور مر کھپ جانے کے لیے چھوڑ دے اور اسے کوئی دوسرا شخص (کھلا پلا کر) تندرست کرلے، تو وہ اسی کا ہوگا جس نے اسے (کھلا پلا کر) صحت مند بنایا ۔

Narrated ash-Shabi (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone leaves an animal at a place of perishing and another man brings it to life, it belongs to him who brings it to life.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠١، ١٨٨٦٣) (حسن )
3526Sunan Abu Dawood

رہن (گروی) کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَبَنُ الدَّرِّ يُحْلَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَالظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَحْلِبُ النَّفَقَةُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ عِنْدَنَا صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: The milk of milch camels may be drunk for payment when in pledge, and the animal may be ridden for payment when it is pledge; payment being made by the one who rides and the one who drinks. Abu Dawud said: In our opinion this is correct.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرھن ٤ (٢٥١١)، سنن الترمذی/البیوع ٣١ (١٢٥٤)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٢ (٢٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٨، ٤٧٢) (صحیح )
3527Sunan Abu Dawood

رہن (گروی) کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ، وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ ؟، قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا، فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ، وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة يونس آية 62.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہوگا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہوگا لیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے (مجسم) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہوگا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہوگا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں (سورۃ یونس: ٦٢) ۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : reported the Prophet ﷺ as saying: There are people from the servants of Allah who are neither prophets nor martyrs; the prophets and martyrs will envy them on the Day of Resurrection for their rank from Allah, the Most High. They (the people) asked: Tell us, Messenger of Allah, who are they? He replied: They are people who love one another for the spirit of Allah (i. e. the Quran), without having any mutual kinship and giving property to one. I swear by Allah, their faces will glow and they will be (sitting) in (pulpits of) light. They will have no fear (on the Day) when the people will have fear, and they will not grieve when the people will grieve. He then recited the following Quranic verse: Behold! Verily for the friends of Allah there is no fear, nor shall they grieve.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، اس باب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور ابن داسہ کی روایت میں ہے، لولوی کی روایت میں نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦١) (صحیح )
3528Sunan Abu Dawood

جو باپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بیٹے کا مال کھائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي حِجْرِي يَتِيمٌ أَفَآكُلُ مِنْ مَالِهِ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَطْيَبِ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ.

عمارہ بن عمیر کی پھوپھی سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: میری گود میں ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے مال میں سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: آدمی کی پاکیزہ خوراک اس کی اپنی کمائی کی ہے، اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The aunt of Umarah ibn Umayr asked Aisha (RA) : I have an orphan in my guardianship. May I enjoy from his property? She said: The Messenger of Allah ﷺ said: The pleasantest things a man enjoys come from what he earns, and his child comes from what he earns.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٢ (١٣٥٨)، سنن النسائی/البیوع ١ (٤٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١ (٢١٣٧)، ٦٤ (٢٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٦١، ١٧٩٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ٤٢، ١٢٧، ١٦٢، ١٩٣، ٢٢٠)، سنن الدارمی/البیوع ٦ (٢٥٧٩) (صحیح )
3529Sunan Abu Dawood

جو باپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بیٹے کا مال کھائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِالْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ زَادَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو (تو بقدر ضرورت لے لو) لیکن یہ زیادتی منکر ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ Said: The children of a man come from what he earns, rather they are his pleasantest earning; so enjoy from their property. Abu Dawud said: Hammad bin Abi Sulaiman added in his version: When you need. But this (addition) is munkar (not authoritative).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٢) (حسن صحیح )
3530Sunan Abu Dawood

جو باپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بیٹے کا مال کھائے اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي، قَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ١ ؎ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I have property and children, and my father finishes my property. He replied; You and your property belong to your father; your children come from the pleasantest of what you earn; so enjoy from the earning of your children.

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نسخوں میں يحتاج ہے، یعنی: ان کے اخراجات میرے مال کو ختم کردیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٠، ٨٦٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٤ (٢٢٩٢)، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن صحیح )
3531Sunan Abu Dawood

کوئی آدمی اپنا مال بعینیہ کسی کے پاس پائے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ١ ؎۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone finds his very property with a man, he is more entitled to it (than anyone else), and the buyer should pursue the one who sold it.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلا کسی نے غصب کیا ہو یا چوری کا مال خرید لیا ہو اور مال والا اپنا مال ہوبہو پائے تو وہی اس مال کا حقدار ہوگا اور خریدار بیچنے والے سے اپنی قیمت کا مطالبہ کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٩٤ (٤٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣، ١٨) (ضعیف) (اس کے راوة قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
3532Sunan Abu Dawood

کوئی آدمی اپنا مال بعینیہ کسی کے پاس پائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ، رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا ؟، قَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ معاویہ ؓ کی والدہ ہند ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور (اپنے شوہر کے متعلق) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بیٹوں کے لیے کافی ہو، تو کیا ان کے مال میں سے میرے کچھ لے لینے میں کوئی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عام دستور کے مطابق بس اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو ۔

Narrated Aisha (RA) : Hind, the mother of Muawiyah, came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Abu Sufyan is a stingy person. He does not give me as much (money) as suffices me and my children. Is there any harm to me if I take something from his property ? He said: Take as much as suffices you and your children according to the custom.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦١، ١٦٩٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٩٥ (٢٢١١)، المظالم ١٨ (٢٤٦٠)، النفقات ٥ (٥٣٥٩)، ٩ (٥٣٦٤)، ١٤ (٥٣٧٠)، الأیمان ٣ (٦٦٤١)، الأحکام ١٤ (٧١٦١)، صحیح مسلم/الأقضیة ٤ (١٧١٤)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٠ (٥٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٣)، مسند احمد (٦/٣٩، ٥٠، ٦٠٢)، سنن الدارمی/النکاح ٥٤ (٢٣٠٥) (صحیح )
3533Sunan Abu Dawood

کوئی آدمی اپنا مال بعینیہ کسی کے پاس پائے

حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ، رَجُلٌ مُمْسِكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي بِالْمَعْرُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں ہند ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں، اگر ان کے مال میں سے ان سے اجازت لیے بغیر ان کی اولاد کے کھانے پینے پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا میرے لیے کوئی حرج (نقصان و گناہ) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: معروف (عام دستور) کے مطابق خرچ کرنے میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ۔

Narrated Aisha (RA) : Hind came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy person. Is there any harm to me if I spend on his dependants from his property without his permission ? The Prophet ﷺ replied: There is no harm to you if you spend according to the custom.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الأقضیة ٤ (١٧١٤، سنن النسائی/ آداب القضاة ٣٠ (٥٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٥) (صحیح )
3534Sunan Abu Dawood

کوئی آدمی اپنا مال بعینیہ کسی کے پاس پائے

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے اینٹھ لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۔

Narrated Yusuf ibn Malik al-Makki (RA) : I used to write (the account of) the expenditure incurred on orphans who were under the guardianship of so-and-so. They cheated him by one thousand dirhams and he paid these (this amount) to them. I then got double the property which they deserved. I said (to the man: Take one thousand (dirhams) which they have taken from you (by cheating). He said: No, my father has told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrays you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٤) (صحیح) (اس کا راوی فلاں مبہم تابعی ہے، لیکن اگلی حدیث اور دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٤٢٣ )
3535Sunan Abu Dawood

کوئی آدمی اپنا مال بعینیہ کسی کے پاس پائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ، وَقَيْسٌ، عَنْأَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت (جب وہ مانگے) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت (دھوکے بازی) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrayed you.

Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس حدیث اور ہند ؓ کی حدیث کے مابین اختلاف ہے، لیکن درحقیقت ان دونوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ خائن وہ ہے جو ناحق کسی دوسرے کا مال ظلم و زیادتی کے ساتھ لے، رہا وہ شخص جسے اپنا حق لینے کی شرعاً اجازت ہو وہ خائن نہیں ہے، جیسا کہ ہند ؓ کو نبی اکرم ﷺ نے اپنے شوہر ابوسفیان ؓ کے مال سے عام دستور کے مطابق لینے کی اجازت دی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٣٨ (١٢٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٣٦، ١٨٦٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٥٧ (٢٦٣٩) (حسن صحیح )
3536Sunan Abu Dawood

تحائف قبول کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : That the Prophet ﷺ used to accept a gift and make return for it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١١ (٢٥٨٥)، سنن الترمذی/البر والصلة ٣٤ (١٩٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٧١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٠) (صحیح )
3537Sunan Abu Dawood

تحائف قبول کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَا أَقْبَلُ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا مِنْ أَحَدٍ هَدِيَّةً، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُهَاجِرًا قُرَشِيًّا، أَوْ أَنْصَارِيًّا، أَوْ دَوْسِيًّا، أَوْ ثَقَفِيًّا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: I swear by Allah, I shall not accept gift from anyone after this day except from an immigrant Qarashi, an Ansari a Dawsi or a Thaqafi.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ ابوہریرہ ؓ ہی سے مروی سنن ترمذی کی کتاب المناقب کی آخری حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو ایک اونٹ تحفہ میں دیا تو آپ نے اس کے بدلے میں اسے چھ اونٹ دئیے، پھر بھی وہ ناراض رہا، اس کا منہ پھولا رہا، جب رسول ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو اس وقت آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس حدیث کو بیان فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٧٤ (٣٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٢٠) (صحیح )