Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 177 of 265

3538Sunan Abu Dawood

ہدیہ دے کر دوبارہ لے لینا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِقَالَ هَمَّامٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے ۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے (یہ بھی) کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں (تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا) ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: One who seeks to take back a gift like the one who returns to it vomit. Hammam said: And Qatadah said: We regard vomiting as unlawful.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١٤ (٢٥٨٨)، صحیح مسلم/الھبة ٢ (١٦٢٢)، سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٦٧٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٥ (٢٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٦٢، (١٢٩٩)، مسند احمد (١/٢٥٠، ٢٨٠، ٢٨٩، ٢٩١، ٣٣٩، ٣٤٢، ٣٤٥، ٣٤٩) (صحیح )
3539Sunan Abu Dawood

ہدیہ دے کر دوبارہ لے لینا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ.

عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ١ ؎، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے ۔

Narrated Abdullah Ibn Umar ; Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: It is not lawful for a man to make a donation or give a gift and then take it back, except a father regarding what he gives his child. One who gives a gift and then takes it back is like a dog which eats and vomits when it is full, then returns to its vomit.

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ باپ اور بیٹے کا مال ایک ہی ہے اور اس میں دونوں حقدار ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دے اس لئے واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٦٢ (١٢٩٩)، الولاء والبراء ٧ (٢١٣٢)، سنن النسائی/الھبة ٢ (٣٧٢٠)، سنن ابن ماجہ/الھبات ١ (٢٣٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٣، ٧٠٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧، ٧٨) (صحیح )
3540Sunan Abu Dawood

ہدیہ دے کر دوبارہ لے لینا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ، فَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوَقَّفْ، فَلْيُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ، ثُمَّ لِيُدْفَعْ إِلَيْهِ مَا وَهَبَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، (اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: The similitude of the one who takes back what he gifted is like that of a dog which vomits and then it eats vomit. When a donor seeks to take back (his gift), it should be made known and he informed why he sought to take it back. Then whatever he donated should be returned to him.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الھبات ٢ (٢٣٧٨)، سنن النسائی/الہبة ٢ (٣٧١٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٢، ٨٦٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧٥) (حسن صحیح )
3541Sunan Abu Dawood

کسی کا کویئی کام کرنے پر ہدیہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَفَعَ لِأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا، فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور کی اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کرلیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہوگیا ١ ؎۔

Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone intercedes for his brother and he presents a gift to him for it and he accepts it, he approaches a great door of the doors of usury.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ کسی کے حق میں اچھی سفارش یہ مندوب اور مستحسن چیز ہے، اور بسا اوقات سفارش ضروری اور لازمی ہوجاتی ہے ایسی صورت میں اس کا بدل لینا مستحسن چیز کو ضائع کردینے کے مترادف ہے جس طرح سود سے حلال چیز ضائع ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٩٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦١) (حسن )
3542Sunan Abu Dawood

باپ اپنے بیٹوں میں سے بعض کو ہدیہ دینے میں ترجیح دے دوسروں پر اس کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَأَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ،عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أَنْحَلَنِي أَبِي نُحْلًا، قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ، مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نِحْلَةً غُلَامًا لَهُ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: إِيتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشْهِدْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهَدَهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا، وَإِنَّ عَمْرَةَ، سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ: أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ: هَذَا جَوْرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا تَلْجِئَةٌ، فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، قَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ: أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي. وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ، كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ بَعْضُهُمْ: أَكُلَّ بَنِيكَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَلَدِكَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فِيهِ: أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ، وَقَالَ أَبُو الضُّحَى، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ: أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کوئی چیز (بطور عطیہ) دی، (اسماعیل بن سالم کی روایت میں ہے کہ انہیں اپنا ایک غلام بطور عطیہ دیا) اس پر میری والدہ عمرہ بنت رواحہ ؓ نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جایئے (اور میرے بیٹے کو جو دیا ہے اس پر) آپ کو گواہ بنا لیجئے، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (آپ کو گواہ بنانے کے لیے) حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور (میری بیوی) عمرہ نے کہا ہے کہ میں آپ کو اس بات کا گواہ بنا لوں (اس لیے میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ہوں) آپ نے ان سے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے اور کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے سب کو اسی جیسی چیز دی ہے جو نعمان کو دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے اور بعض کی روایت میں ہے: یہ جانب داری ہے، جاؤ تم میرے سوا کسی اور کو اس کا گواہ بنا لو (میں ایسے کاموں کی شہادت نہیں دیتا) ۔ مغیرہ کی روایت میں ہے: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ تمہارے سارے لڑکے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف و عنایت کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں (مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو (مجھے یہ امتیاز اور ناانصافی پسند نہیں) ۔ اور مجالد نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے: ان (بیٹوں) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل و انصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی روایت میں ١ ؎ بعض نے: أكل بنيك کے الفاظ روایت کئے ہیں اور بعض نے بنيك کے بجائے ولدک کہا ہے، اور ابن ابی خالد نے شعبی کے واسطہ سے ألک بنون سواه اور ابوالضحٰی نے نعمان بن بشیر ؓ کے واسطہ سے ألک ولد غيره روایت کی ہے۔

Narrated Al-Numan bin Bashir: My father gave me a gift. The narrator Ismail bin Salim said: (He gave me) his slave as a gift. My mother Umrah daughter of Rawahah said: Go to the Messenger of Allah and call him as witness. He then came to the Prophet ﷺ and mentioned it to him. He said him: I have given my son al-Numan a gift, and Umrah has asked me to call you as witness to it. He asked him: Have you children other than him? He said: I replied: Yes. He again asked: Have you given the rest of them the same as you have given al-Numan ? He said: No. Some of these narrators said in their version (that the Prophet said:) This in injustice. The others said in their version (that the Prophet said:) This is under force. So call some other person than me as witness to it. Mughirah said in his version: (The Prophet asked): Are you not pleased with the fact that all of them may be equal in virtue and grace ? He replied: Yes. He said: Then call some other person than me as witness to it. Mujahid mentioned in his version: They have right to you that you should do justice to them, as you have right to them that they should do good to you. Abu Dawud said: In the version of al-Zuhri some (narrators) said: (Have you given) to all your sons ? and some (narrators) said: Your children. Ibn Abi Khalid narrated from al-Shabi in his version: Have your sons other than him ? Abu al-Duha narrated on the authority of al-Numan bin Bashir: Have you children other than him ?

Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ لفظ ولد مذکر اور مؤنث دونوں کو شامل ہے اور لفظ بنین اگر وہ سب مذکر تھے تو وہ اپنے ظاہر پر ہے اور اگر ان میں مذکر اور مؤنث دونوں تھے تو یہ علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ١٢ (٢٥٨٧)، الشھادات ٩ (٢٦٥٠)، صحیح مسلم/الھبات ٣ (١٦٢٣)، سنن النسائی/النحل ١ (٣٧٠٩)، سنن ابن ماجہ/الھبات ١ (٢٣٧٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧٣، ٢٧٦) (صحیح) إلا زیادة مجالد مجالد نے حدیث میں جو زیادتی ذکر کی ہے، وہ صحیح نہیں ہے )
3543Sunan Abu Dawood

باپ اپنے بیٹوں میں سے بعض کو ہدیہ دینے میں ترجیح دے دوسروں پر اس کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْغُلَامُ ؟، قَالَ: غُلَامِي، أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: فَكُلَّ إِخْوَتِكَ أَعْطَى كَمَا أَعْطَاكَ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: یہ کیسا غلام ہے؟ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے لوٹا دو ۔

Narrated Al-Numan bin Bashir: That his father had given him a slave. The Messenger of Allah ﷺ said: What is this slave ? He replied: This is my slave which my father has given me. He asked: Has he given all your brothers the same as he has given you? He replied: No. He then said: Return it, then.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الھبات ٣ (١٦٢٣)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة ١٢ (٥٢٨٦)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٠ (١٣٦٧)، سنن ابن ماجہ/الھبات ١ (٢٣٧٥)، موطا امام مالک/الأقضیة ٣٣ (٣٩)، مسند احمد (٤/٢٦٨) (صحیح )
3544Sunan Abu Dawood

باپ اپنے بیٹوں میں سے بعض کو ہدیہ دینے میں ترجیح دے دوسروں پر اس کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کے درمیان انصاف کیا کرو، اپنے بیٹوں کے حقوق کی ادائیگی میں برابری کا خیال رکھا کرو (کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی نہ ہو) ۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: The Prophet ﷺ said: Act equally between your children; Act equally between your sons.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النحل (٣٧١٧)، (تحفة الأشراف: ١١٦٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧٥، ٢٧٨) (صحیح )
3545Sunan Abu Dawood

باپ اپنے بیٹوں میں سے بعض کو ہدیہ دینے میں ترجیح دے دوسروں پر اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ، سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامًا ؟، وَقَالَتْ لِي: أَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَهُ إِخْوَةٌ ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ.

جابر ؓ کہتے ہیں بشیر ؓ کی بیوی نے (بشیر ؓ سے) کہا: اپنا غلام میرے بیٹے کو دے دیں اور رسول اللہ ﷺ کو اس بات پر میرے لیے گواہ بنادیں، تو بشیر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: فلاں کی بیٹی (یعنی میری بیوی) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو غلام ہبہ کروں (اس پر) رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے اور بھی بھائی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان سب کو بھی تم نے ایسے ہی دیا ہے جیسے اسے دیا ہے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ درست نہیں، اور میں تو صرف حق بات ہی کی گواہی دے سکتا ہوں (اس لیے اس ناحق بات کے لیے گواہ نہ بنوں گا) ١ ؎۔

Narrated Jabir: Bashirs wife said (to her husband): Give my son your slave, and call the Messenger of Allah ﷺ as witness for me. So he came to the Messenger of Allah ﷺ and said: The daughter of so-and-so has asked me to give her som my slave and said to me: Call the Messenger of Allah ﷺ as witness for her. He asked: Has he brothers? He replied: Yes. He again asked: Has he given them all the same as you have given him? He replied: No. He said: This is not good, and I will be a witness to what it right.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے واضح ہوا کہ اولاد کے مابین عدل و انصاف واجب ہے اور بلا کسی شرعی عذر کے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دینا یا خاص کرنا حرام و ناجائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الھبات ٣ (١٦٢٤)، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٦) (صحیح )
3546Sunan Abu Dawood

عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر ہدیہ دے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے جو اس کی عصمت کا مالک ہے اپنا مال اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے ۔

Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is not permissible for a woman to present a gift from the property which she has in her possession when her husband owns her chastity.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٥٨ (٢٥٤١)، العمری (٣٧٨٧)، سنن ابن ماجہ/الھبات ٧ (٢٣٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٩، ٨٦٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢١) (حسن صحیح )
3547Sunan Abu Dawood

عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر ہدیہ دے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز نہیں ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: It is not permissible for a woman to present a gift (from her husbands property) except with the permission of her husband.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الدیات ٣ (١٣٩٠)، سنن النسائی/ الزکاة ٥٨ (٢٥٤١)، العمری ١ (٣٧٨٧، ٣٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٠، ٨٦٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٩، ١٨٠، ٢٠٧، ٢١٢)، دی/ الدیات ١٦ (٢٤١٧)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٥٦٦) (حسن صحیح )
3548Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمر بھر کے لے عطیہ دینا جائز ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Life tenancy is permissible.

Notes · وضاحت
١ ؎: عمرى ہبہ ہی کی ایک قسم ہے اس میں ہبہ کرنے والا ہبہ کی جانے والی چیز کو جسے ہبہ کر رہا ہے اس کی زندگی بھر کے لئے ہبہ کردیتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٦)، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٦)، سنن النسائی/العمری ٤ (٣٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٧، ٤٢٩، ٤٦٨، ٤٨٩، ٣/٣١٩) (صحیح )
3549Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

سمرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

A similar tradition has also been transmitted by Samurah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨، ١٣، ٢٢) (صحیح )
3550Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ فرماتے تھے: زندگی بھر کے لیے دی ہوئی چیز کا وہی مالک ہے جس کو چیز دے دی گئی ہے ۔

Narrated Jabir: The Prophet ﷺ has saying: What is given in life-tenancy belongs to the one to whom it was given.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٥)، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٥)، سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٥٠)، سنن النسائی/العمری ٢ (٣٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/الھبات ٣ (٢٣٨٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح )
3551Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ، وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہوگی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہوگی ١ ؎، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is given life-tenancy, it belongs to him and to his descendants. His descendants who inherit him will inherit from it.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مالک کے نزدیک موہوب لہ کے مرنے کے بعد موہوب واہب کے پاس واپس آجائے گی اس لئے کہ اس نے منفعت کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا مالک بنادیا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ العمری (٣٧٧١)، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح )
3552Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ.

اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد نے زہری سے زہری نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے جابر ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Jabir from the Prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by al-Laith bin Saad from al-Zuhri, from Abu Salamah from Jabir.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
3553Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہوگی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہوگئی ہے ١ ؎۔

Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone has property given him in life-tenancy for the use of himself and his descendants, it belongs to the one to whom it is given and does not return to the one who gave it, because he gave a gift which may be inherited.

Notes · وضاحت
١ ؎: عمری کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
3554Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَى الْأَوْزَاعِيِّ فِي لَفْظِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَوَاهُ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِثْلَ حَدِيثِ، مَالِكٍ.

ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے عقیل اور یزید ابن حبیب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے، اور اوزاعی پر اختلاف کیا گیا ہے کہ کبھی انہوں نے ابن شہاب سے ولعقبه کے الفاظ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں اور اسے فلیح بن سلیمان نے بھی مالک کی حدیث کے مثل روایت کیا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Shihab (Al-Zuhri) through a different chain of narrators and to the same effect. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Aqil from Ibn Shihab and by Yazid bin Abi Habib from Shihab. Al-Auzais wordings vary from those of Ibn Shihab. Fulaih bin Sulaiman also narrated the tradition like that of Malik.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
3555Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِك، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں جس عمریٰ کی رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے (تو اس میں وراثت جاری ہوگی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہوجائے گی) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو (تو اس سے استفادہ کرو) تو وہ چیز (اس کے مرنے کے بعد) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The life-tenancy which the Messenger of Allah ﷺ allowed was only that one should say: It is for you and your descendants. When he says: It is yours as long as you live, it returns to its owner.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٦)، مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
3556Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُرْقِبُوا، وَلَا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا، أَوْ أُعْمِرَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہوجائے گا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not give property to go to the survivor and do not give life-tenancy. If anyone is given something to the survivor or given life-tenancy, it goes to his heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: رقبیٰ یہ ہے کہ کسی مکان وغیرہ کو یہ کہہ کر دے کہ اگر میں پہلے مرگیا تو یہ مکان تمہارا ہوجائے گا اور اگر تم پہلے مرگئے تو میں واپس لے لوں گا اور عمری بھی قریب قریب یہی ہے کہ کسی کو مکان، زمین وغیرہ عمر بھر کے لئے دے، یہ روکنا غالباً دینے والوں اور ورثاء کے درمیان فتنے اور لڑائی کے ڈر سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العمري (٣٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢٤٥٨) (صحیح )
3557Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ ابْنُهَا: إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا، وَلَهُ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا، قَالَ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا، قَالَ: ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مرگئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے (جو اپنا حق مانگ رہے تھے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو یہ (واپسی) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے (کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے) ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ decided a case of a woman from the Ansar to whom an orchard of date-palms was given by her son. She then died. Her son said: I gave it to her for her life, and she has brothers. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: It belongs to her during her life and after death. He then said: I gave a sadaqah (charity to her. He replied: It is more unexpected from you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٩) (ضعیف) (حبیب مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور حمید کے بارے میں بھی بعض کلام ہے، ملاحظہ ہو: الارواء ٦ ؍٥١ )