Sunan Abu Dawood 3535

خرید وفروخت کا بیان

3535Sunan Abu Dawood

کوئی آدمی اپنا مال بعینیہ کسی کے پاس پائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ، وَقَيْسٌ، عَنْأَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت (جب وہ مانگے) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت (دھوکے بازی) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrayed you.

Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس حدیث اور ہند ؓ کی حدیث کے مابین اختلاف ہے، لیکن درحقیقت ان دونوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ خائن وہ ہے جو ناحق کسی دوسرے کا مال ظلم و زیادتی کے ساتھ لے، رہا وہ شخص جسے اپنا حق لینے کی شرعاً اجازت ہو وہ خائن نہیں ہے، جیسا کہ ہند ؓ کو نبی اکرم ﷺ نے اپنے شوہر ابوسفیان ؓ کے مال سے عام دستور کے مطابق لینے کی اجازت دی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٣٨ (١٢٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٣٦، ١٨٦٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٥٧ (٢٦٣٩) (حسن صحیح )