پچھنے لگوانے کی اجرت کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اگر آپ اسے حرام جانتے تو اسے مزدوری نہ دیتے ١ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ got him self cupped and gave the cupper his wages. Had he considered it impure, he would not have given it (wage) to him.
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ اور انس بن مالک ؓ کی یہ دونوں حدیثیں سینگی لگانے کی اجرت کے مباح ہونے پر دال ہیں اور یہی جمہور کا مسلک ہے، رہی ابن خدیج والی روایت تو اسے یا تو مکروہ تنزیہی پر محمول کیا جائے یا اسے منسوخ مانا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣٩ (٢١٠٣)، الإجارة ١٨ (٢٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٦٠٥١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٢)، مسند احمد (١/٣٥١) (صحیح )