Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 170 of 265

3398Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَقَالَ: مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ،عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ شُعْبَةُ: أُسَيْدٌ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ.

اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج ؓ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ ﷺ تم کو حقل سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بےنیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو (مفت) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج ؓ کے بھتیجے ہیں۔

Narrated Usaid bin Zuhair: Rafi bin Khadij came to us and said: The Messenger of Allah ﷺ forbids you from a work which is beneficial to you ; and obedience to Allah and His Prophet ﷺ is more beneficial to you. The Messenger of Allah ﷺ forbids you from renting land for share of its produce and he said: If anyone if not in need of his land he should lend it to his brother or leave it. Abu Dawud said: Shubah and Mufaddal bin Muhalhal have narrated it from Mansur in similar way. Shubah said (in his version): Usaid, nephew of Rafi b, Khadij.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٠ (٢٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ کر اء الأرض ١ (١)، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
3399Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا، وَغُلَامًا لَهُ، إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى بَنِي حَارِثَةَ، فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ، قَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ: أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ ؟، قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ. قَالَ: فَخُذُوا زَرْعَكُمْ، وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ، قَالَ رَافِعٌ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ.

ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر ؓ مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج ؓ کی حدیث پہنچی تو وہ (براہ راست) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: (ماشاء اللہ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع ؓ کہتے ہیں: (یہ سن کر) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ (اخراجات و محنتانہ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: (اب دو صورتیں ہیں) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو (اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو (یعنی نقد روپیہ اس سے طے کرلو) ۔

Abu Jafar al-Khatmi said: My uncle sent me and his slave to Saeed ibn al-Musayyab. We said to him, there is something which has reached us about sharecropping. He replied: Ibn Umar did not see any harm in it until a tradition reached him from Rafi ibn Khadij. He then came to him and Rafi told him that the Messenger of Allah ﷺ came to Banu Harithah and saw crop in the land of Zuhayr. He said: What an excellent crop of Zuhayr is! They said: It does not belong to Zuhayr. He asked: Is this not the land of Zuhayr? They said: Yes, but the crop belongs to so-and-so. He said: Take your crop and give him the wages. Rafi said: We took our crop and gave him the wages. Saeed (ibn al-Musayyab) said: Lend your brother or employ him for dirhams.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٨) (صحیح الإسناد )
3400Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ١ ؎ اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں (١) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، (٢) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، (٣) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔

Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade muhaqalah and muzabanah. Those who cultivate land are three: a man who has (his own) land and he tills it: a man who has been lent land and he tills the one lent to him; a man who employs another man to till land against gold (dinars) or silver (dirhams).

Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ ( بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ المزارعة ٢ (٣٩٢١)، التجارات ٥٤ (٢٦٦٧)، سنن ابن ماجہ/الرھون ٧ (٢٤٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ کر اء الأرض ١ (١) مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
3401Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ، فَقَالَ: أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ.

عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج ؓ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کرلو) کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔

Abu Dawud said: I read out (this tradition) to Saeed bin Yaqub al-Taliqini, and I said to him: Ibn al-Mubarak transmitted (this tradition) to you from Saeed Abi Shuja who said: Uthman bin Sahl bin Rafi bin Khadij narrated it to me saying: I was an orphan being nourished under the guardianship of Rafi bin Khadij and I performed Hajj with him. My brother Imran bin Sahl then came to me and said: We rented out land to so-and-so for two hundred dirhams. He said: Leave it, for the Prophet ﷺ forbade renting land.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المزارعة ٣ (٣٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٩) (شاذ) (اس کے راوی عثمان ( جن کا صحیح نام عیسیٰ ہے) لین الحدیث ہیں، اس میں شذوذ یہ ہے کہ اس میں مطلق زمین کرایہ پر دینے کی بات ہے، حالانکہ ابو رافع سے سونا چاندی اور درہم و دینار کے بدلے کرایہ پر دینے کی اجازت مروی ہے )
3402Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ، لِمَنِ الزَّرْعُ، وَلِمَنِ الْأَرْضُ ؟، فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي، وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ، وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: أَرْبَيْتُمَا، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ.

ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم ﷺ کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔

Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : Rafi had cultivated a land. The Prophet ﷺ passed him when he was watering it. So he asked him: To whom does the crop belong, and to whom does the land belong? He replied: The crop is mine for my seed and labour. The half (of the crop) is mine and the half for so-and-so. He said: You conducted usurious transaction. Return the land to its owner and take your wages and cost.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکیر بن عامر ضعیف ہیں )
3403Sunan Abu Dawood

مالک کی اجازت کے بغیر زراعت کرنے کا حکم

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔

Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone sows in other peoples land without their permission, he has no right to any of the crop, but he may have what it cost him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٩ (١٣٦٦)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٣ (٢٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥، ٤/١٤١) (صحیح )
3404Sunan Abu Dawood

مخابرہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادًا، وَعَبْدَ الْوَارِثِ حَدَّثَاهُمْ كُلّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، وقَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمُعَاوَمَةِ، وَقَالَ الْآخَرُ: بَيْعُ السِّنِينَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ ١ ؎ مزابنہ ٢ ؎ مخابرہ اور معاومہ ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں عن حماد ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے بيع السنين کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ٤ ؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ٥ ؎ کی اجازت دی ہے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah, and muawanah. One of the two narrators from Hammad said the word muawamah, and other said: selling many years ahead. The agreed version then goes: and thunya, but gave license for Araya.

Notes · وضاحت
١ ؎: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلہ سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎: درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ ٣ ؎: معاومہ اور بیع سنین ایک ہی معنی میں ہے یعنی کئی سال تک کا میوہ بیچنا۔ ٤ ؎: سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینے اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینے سے منع کیا ہے۔ ٥ ؎: عرایا یہ ہے کہ مالک باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لئے مفت دے دے اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خریدلے اور اس کے بدلے تر یا خشک میوہ اس کے حوالے کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٦ (١٥٣٦)، سنن الترمذی/البیوع ٥٥ (١٢٩٠)، ٧٢ (١٣١٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤٥ (٣٨٨٦)، البیوع ٧٢ (٤٦٣٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢٦٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة ١٧ (٢٣٨٠)، مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٦، ٣٦٠، ٣٦٤، ٣٦، ٣٩٢) (صحیح )
3405Sunan Abu Dawood

مخابرہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ يُعْلَمَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ (درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے) سے اور محاقلہ (کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade muzabanah, muhaqalah and thunya except it is known.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ البیوع ٥٥ (١٢٩٠)، سنن النسائی/ المزارعة ٢ (٣٩١١)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٥) (صحیح )
3406Sunan Abu Dawood

مخابرہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَاءٍ يَعْنِي الْمَكِّيَّ، قَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَمْ يَذَرِ الْمُخَابَرَةَ، فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If any of you does not leave mukhabarah, he should take notice of war from Allah and His Messenger ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٥) (ضعیف) ( اس کے راوی ابو الزبیر مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
3407Sunan Abu Dawood

مخابرہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ، قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ ؟، قَالَ: أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ، أَوْ ثُلُثٍ، أَوْ رُبْعٍ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ١ ؎۔

Narrated Zaid bin Thabit (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade mukhabarah. I asked: What is mukhabarah ? He replied: That you have the land (for cultivation) for half, a third, or a quarter (of the produce).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد بٹائی کی وہ صورتیں ہیں جن میں فریقین کے اندر اختلاف پیدا ہونے کے اسباب ہوتے ہیں کیوں کہ بٹائی آپ سے صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٧) (صحیح )
3408Sunan Abu Dawood

مساقات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہوگی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ made an agreement with the people of Khaibar to work and cultivate in return for half of the fruits or produce.

Notes · وضاحت
١ ؎: مساقاۃ یہ ہے کہ باغ کا مالک اپنے باغ کو کسی ایسے شخص کے حوالہ کر دے جو اس کی پوری نگہداشت کرے پھر اس سے حاصل ہونے والے پھل میں دونوں برابر کے شریک ہوں، مساقاۃ مزارعت ہی کی ایک شکل ہے فرق یہ ہے کہ مساقاۃ کا تعلق درختوں سے ہے جب کہ مزارعت کا تعلق کھیتی سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٨ (٢٣٢٩)، صحیح مسلم/المساقاة ١ (١٥٥١)، سنن الترمذی/الأحکام ٤١ (١٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٤ (٢٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨١٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧، ٢٢، ٣٧)، سنن الدارمی/البیوع ٧١ (٢٦٥٦) (صحیح )
3409Sunan Abu Dawood

مساقات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ، وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہوگی، اس کا نصف رسول اللہ ﷺ کے لیے ہوگا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ handed over the Jews of Khaibar the palm trees and the land of Khaibar on condition that they should employ what belonged to them in working on them, and that he should have half of the fruits.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٤) (صحیح )
3410Sunan Abu Dawood

مساقات

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَ اشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، قَالَ: أَهْلُ خَيْبَرَ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا، قَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی (واضح کردیا) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ ﷺ نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا (اسی کو اہل مدینہ خرص (آنکنا) کہتے ہیں) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی (ان کا نصف ہمیں دے دو ) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر (بوجھ ڈالنے کے لیے) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ ؓ نے کہا (اگر یہ زیادہ ہے) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ conquered Khaibar, and stipulated that all the land, gold and silver would belong to him. The people of Khaibar said: we know the land more than you ; so give it to us on condition that you should have half of the produce and we would have the half. He then gave it to them on that condition. When the time of picking the fruits of the palm-trees came, he sent Abdullah bin Rawahah to them, and he assessed the among of the fruits of the palm-trees. This is what the people of Madina call khars (assessment). He used to say: In these palm-trees there is such-and-such amount (of produce). They would say: You assessed more to us, Ibn Rawahah (than the real amount). He would say: I first take the responsibility of assessing the fruits of the palm-trees and give you half of (the amount) I said. They would say: This is true, and on this (equity) stand the heavens and the earth. We agreed that we should take (the amount which) you said.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٨ (١٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٤) (حسن صحیح )
3411Sunan Abu Dawood

مساقات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: فَحَزَرَ، وَقَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَالْفِضَّةَ لَهُ.

جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں لفظ فحزر ہے اور وكل صفراء وبيضاء کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Jafar bin Burqan through his chain and to the same effect. This version has: He said: He assessed, and after the words of kull saFara wa baida, he said: that is, gold and silver will belong to him.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٤) (صحیح الإسناد )
3412Sunan Abu Dawood

مساقات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ، قَالَ: فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَقَالَ: فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ.

مقسم سے (مرسلاً ) روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث (پچھلی حدیث) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کھجور کا اندازہ لگایا، (اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔

Narrated Miqsam (RA) : When the Prophet ﷺ conquered Khaibar. He then narrated it like the tradition of Zaid (b. Abu al-Zarqa). This version has: He then assessed the produce of the palm-trees and said: I take the job of picking the fruit myself, and I shall give you half of (the amount) I said.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٤١٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٤) (صحیح الإسناد) ( اگلی دونوں روایتوں سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل روایت ہے )
3413Sunan Abu Dawood

مساقات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ، قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ، يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن رواحہ ؓ کو (خیبر) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہوجاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آجائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ used to send Abdullah ibn Rawahah (to Khaybar), and he would assess the amount of dates when they began to ripen before they were eaten (by the Jews). He would then give choice to the Jews that they have them (on their possession) by that assessment or could assign to them (Muslims) by that assignment, so that the (amount of) zakat could be calculated before the fruit became eatable and distributed (among the people).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٦٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣١، ١٦٧٥٢) (ضعیف الإسناد )
3414Sunan Abu Dawood

درختوں پر پھلوں کا اندازہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا، وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ.

جابر ؓ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو (آدھے آدھے کے اصول پر) انہیں بٹائی پردے دیا اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کو (تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا (اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا) ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : When Allah bestowed Khaybar on His Prophet ﷺ as fay (as a result of conquest without fighting), the Messenger of Allah ﷺ allowed (them) to remain there as they were before, and apportioned it between him and them. He then sent Abdullah ibn Rawahah who assessed (the amount of dates) upon them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٦٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٧) (صحیح )
3415Sunan Abu Dawood

درختوں پر پھلوں کا اندازہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ، أَخَذُوا الثَّمَرَ، وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ابن رواحہ ؓ نے چالیس ہزار وسق (کھجور) کا اندازہ لگایا (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جب یہود کو اختیار دیا (کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق (کٹائی کے بعد) رسول اللہ ﷺ کو دینا پڑا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : Ibn Rawahah assessed them (the amount of dates) at forty thousand wasqs, and when Ibn Rawahah gave them option, the Jews took the fruits in their possession and twenty thousand wasqs of dates were due from them.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٨٦٩) (صحیح الإسناد )
3416Sunan Abu Dawood

اجارہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہً دی، میں نے (جی میں) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا (پھر بھی) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کرلو ١ ؎۔

Narrated Ubaydah ibn as-Samit: I taught some persons of the people of Suffah writing and the Quran. A man of them presented to me a bow. I said: It cannot be reckoned property; may I shoot with it in Allahs path? I must come to the Messenger of of Allah ﷺ and ask him (about it). So I came to him and said: Messenger of Allah ﷺ , one of those whom I have been teaching writing and the Quran has presented me a bow, and as it cannot be reckoned property, may I shoot with it in Allahs path? He said: If you want to have a necklace of fire on you, accept it.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں کتاب اللہ کے سلسلہ میں اجرت لینے سے متعلق ابن عباس ؓ کی روایت اور سورة فاتحہ پڑھ کر دم کر کے اس کی اجرت لینے سے متعلق بوسعید خدری ؓ کی روایت موجود ہے، اسی طرح صحیحین میں سہل بن سعد ؓ کی حدیث جس میں مذکور ہے کہ آپ نے ایک شخص کا نکاح کیا اور قرآن کی چند آیات کو مہر قرار دیا، ان روایات کی روشنی میں جمہور علماء کا کہنا ہے کہ تعلیم قرآن، امامت، قضاء اور اذان وغیرہ کی اجرت لی جاسکتی ہے، کیونکہ مذکورہ تینوں روایات سے عبادہ بن صامت ؓ کی اس روایت کا کوئی مقابلہ نہیں (کیوں کہ اس کی دونوں سندوں میں متکلم فیہ راوی ہیں )
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٨ (٢١٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٥) (صحیح) (اس کے راوی سعود مجہول ہیں اور مغیرہ سے وہم ہوجاتا تھا، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٢٥٦، والارواء ١٤٩٣ )
3417Sunan Abu Dawood

اجارہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنِيعُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا.

اس سند سے بھی عبادہ بن صامت ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ١ ؎۔

A similar tradition has also been transmitted by Ubadah bin al-Samit through a different chain of narrators, but the former tradition is more perfect. This version has: I said: What do you think about it, Messenger of Allah? He said: A live coal between your shoulders which you have put around your neck or hanged it.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اس کی اجازت دی ہے اور دلیل میں ابن عباس ؓ کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ جن کاموں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں بہتر اللہ کی کتاب ہے نیز اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں تعلیم قرآن کے عوض عورت سے نکاح کا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٩) (صحیح) (اس کی سند میں بقیہ ہیں جو صدوق کے درجہ کے راوی ہیں، یہاں حرف تحدیث کی صراحت ہے، عنعنہ کی حالت میں تدلیس کا اندیشہ ہوتا ہے، نیز مسند احمد (٥ ؍ ٣٢٤) ابو المغیرہ نے متابعت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٢٥٦ )