Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 169 of 265

3378Sunan Abu Dawood

دھوکہ والی بیع کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْشُرُهُ، وَلَا يُقَلِّبُهُ، فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ.

اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہوجائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہوگئی۔

The tradition mentioned above has also been reported by Abu Saeed al-Khudri from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. This version adds: Wearing the Samma means that a man puts his garment over his left shoulder and keeps his right side uncovered. Munabadhah means that a man says (to another): If I throw this garment to you, the sale will be certain. Mulamasah means that a man touches it (anothers garment) with his hand and neither he unfolds it nor turns it over. When he touched it, the sale becomes binding.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤١٥٤) (صحیح )
3379Sunan Abu Dawood

دھوکہ والی بیع کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری ؓ نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Said al-Khudri through a different chain of narrators from the Messenger of Allah ﷺ to the same effect as narrated by both Sufyan and Abd al-Razzaq.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ٦٢ (٢١٤٤)، صحیح مسلم/ البیوع ١ (١٥١٢)، سنن النسائی/ البیوع ٢٢ (٤٥١٤)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٩٥) (صحیح )
3380Sunan Abu Dawood

دھوکہ والی بیع کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حبل الحبلة (بچے کے بچہ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the transaction called habal al-habalah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بیع ایام جاہلیت میں مروج تھی، آدمی اس شرط پر اونٹ خریدتا تھا کہ جب اونٹنی بچہ جنے گی پھر بچے کا بچہ ہوگا تب وہ اس اونٹ کے پیسے دے گا تو ایسی بیع سے روک دیا گیا ہے، اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس حاملہ اونٹنی کی بچی حاملہ ہو کر جو بچہ جنے اس بچہ کو ابھی خریدتا ہوں “ تو یہ بیع بھی دھوکہ والے بیع میں داخل ہے کیوں کہ ابھی وہ بچہ معدوم ہے یہ اہل لغت کی تفسیر ہے، پہلی تفسیر راوی ابن عمر ؓ کی ہے اس لئے وہی زیادہ معتبر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦١ (٢١٤٣)، السلم ٧ (٢٢٥٦)، مناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٤٣)، سنن النسائی/البیوع ٦٦ (٤٦٢٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٤ (٢١٩٧)، (تحفة الأشراف: ٨٣٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع ٣ (١٥١٤)، سنن الترمذی/البیوع ١٦ (١٢٢٩)، موطا امام مالک/البیوع ٢٦ (٦٢)، مسند احمد (١/٥٦، ٦٣) (صحیح )
3381Sunan Abu Dawood

دھوکہ والی بیع کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وقَالَ: وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے حبل الحبلة یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہوجائے۔

A similar tradition has also been narrated by Ibn Umar from the Prophet ﷺ through a different chain of transmitters. He said: Habal al-habalah means that a she-camel delivers an offspring and then the offspring which it delivers becomes pregnant.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ مناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٤٣)، صحیح مسلم/ البیوع ٣ (١٥١٤)، (تحفة الأشراف: ٨١٤٩) (صحیح )
3382Sunan Abu Dawood

مجبوری کی بیع

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ أَبُو عَامِرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا، قَالَ مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَوْ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ ابْنُ عِيسَى: هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ، وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ سورة البقرة آية 237 وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ، وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ، قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ.

بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب ؓ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہوگا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا (کسی کو نہ دے گا) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولا تنسوا الفضل بينكم اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو (سورۃ البقرہ: ٢٣٨) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ١ ؎۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: A time is certainly coming to mankind when people will bite each other and a rich man will hold fast, what he has in his possession (i. e. his property), though he was not commanded for that. Allah, Most High, said: And do not forget liberality between yourselves. The men who are forced will contract sale while the Prophet ﷺ forbade forced contract, one which involves some uncertainty, and the sale of fruit before it is ripe.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ضرورت مند کے مال کو سستا خریدنے سے یا زبردستی کسی کا مال خریدنے سے اور دھوکہ کی بیع سے اور پختگی سے پہلے پھل بیچنے سے منع کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٦) (ضعیف) (اس کے راوی شیخ من بنی تمیم مبہم ہیں )
3383Sunan Abu Dawood

شرکت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ having said: Allah, Most High, says: I make a third with two partners as long as one of them does not cheat the other, but when he cheats him, I depart from them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٩) (ضعیف) (ابو حیان تیمی مجہول ہیں، ابن الزبرقان نے ابوہریرہ رضی+اللہ+عنہ کا ذکر کیا ہے، دار قطنی (٣٠٣) میں اور جریر نے ابوہریرہ رضی+اللہ+عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر، و الارواء ١٤٦٨ )
3384Sunan Abu Dawood

وکیل کا ایسا تصرف کرنا جس سے موئکل کا فائدہ ہو

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَيُّ، عَنْ عُرْوَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ، قَالَ: أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً أَوْ شَاةً، فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ.

عروہ بن ابی الجعد بارقی ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خریدو فروخت میں برکت کی دعا فرمائی (اس دعا کے بعد) ان کا حال یہ ہوگیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔

Narrated Urwah ibn AbulJad al-Bariqi (RA) : The Prophet ﷺ gave him a dinar to buy a sacrificial animal or a sheep. He bought two sheep, sold one of them for a dinar, and brought him a sheep and dinar. So he invoked a blessing on him in his business dealing, and he was such that if had he bought dust he would have made a profit from it.

Notes · وضاحت
١ ؎: مضاربت ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں ایک آدمی کا پیسہ ہو اور دوسرے کی محنت، پیسے والے کو مضارب اور محنت والے کو مضارب کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٨ (٣٦٤٢)، سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/الاحکام ٧ (٢٤٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦) (صحیح )
3385Sunan Abu Dawood

وکیل کا ایسا تصرف کرنا جس سے موئکل کا فائدہ ہو

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ.

اس سند سے بھی عروہ بارقی سے یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Urwat al-Bariqi through a different chain of narrators. The wordings of this version are different from those of the previous one.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٨) (صحیح )
3386Sunan Abu Dawood

وکیل کا ایسا تصرف کرنا جس سے موئکل کا فائدہ ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لے آئے تو آپ ﷺ نے اسے صدقہ کردیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔

Narrated Hakim ibn Hizam (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent with him a dinar to buy a sacrificial animal for him. He bought a sheep for a dinar, sold it for two and then returned and bought a sacrificial animal for a dinar for him and brought the (extra) dinar to the Prophet ﷺ . The Prophet ﷺ gave it as alms (sadaqah) and invoked blessing on him in his trading.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٤٣٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٣٤ (١٢٥٧) (ضعیف) (اس کے ایک راوی شیخ من أہل المدینہ مبہم ہیں )
3387Sunan Abu Dawood

اگر کوئی شخص دوسرے کے مال سے بغیر پوچھے تجارت کرے اور اس کا فائدہ مقصود ہو تو جائز ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الْأَرُزِّ، فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ، قَالُوا: وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الْأَرُزِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ حِينَ سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْجَبَلُ، فَقَالَ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اذْكُرُوا أَحْسَنَ عَمَلِكُمْ، قَالَ: وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ، فَثَمَّرْتُهُ لَهُ حَتَّى جَمَعْتُ لَهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص ایک فرق ١ ؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہوجائے لوگوں نے پوچھا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، (بویا اور بڑھایا) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق (مزدوری) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا ۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If any of you can become like the man who had a faraq of rice, he should become like him. They (the people) asked: Who is the man who had a faraq of rice with him, Messenger of Allah ? Thereupon he narrated the story of the cave when a hillock fell on them (three persons), each of them said: Mention any best work of yours. The narrator said: The third of them said: O Allah, you know that I took a hireling for a faraq of rice. When the evening came, I presented to him his due (i. e. his wages). But he refused to take it and went away. I then cultivated it until I amassed cows and their herdsmen for him. He then met me and said: Give me my dues. I said (to him): Go to those cows and their herdsmen and take them all. He went and drove them away.

Notes · وضاحت
١ ؎: فرق: سولہ (١٦) رطل کا ایک پیمانہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٧٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإجارة ١٢ (٢٢٧٢)، المزارعة ١٣ (٢٣٣٣)، أحادیث الأنبیاء ٥٣ (٣٤٦٥)، الأدب ٨٣ (٦١٣٣)، صحیح مسلم/الذکر ٢٧ (٢٧٤٣)، مسند احمد (٢/١١٦) (اصل حدیث صحیحین میں مفصلا ہے مذکور، اس حدیث کا ابتدائی فقرہ من استطاع .... یا رسول اللہ منکر ہے )
3388Sunan Abu Dawood

لاگت لگائے بغیر شرکت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: اشْتَرَكْتُ أَنَا، وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ، وَلَمْ أَجِئْ أَنَا، وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : I Ammar, and Saad became partners in what we would receive on the day of Badr. Saad then brought two prisoners, but I and Ammar did not bring anything.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ٤٧ (٣٩٦٩)، البیوع ١٠٣ (٤٧٠١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٣ (٢٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٦) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد عبدا للہ بن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
3389Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: مَا كُنَّا نَرَى بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا، حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ، فَقَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا، وَلَكِنْ قَالَ: لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا.

عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس ؓ نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول (لگان) لگا کردینے سے بہتر ہے۔

Amr ibn Dinar said: I heard Ibn Umar say: We did not see any harm in sharecropping till I heard Rafi ibn Khadij say: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden it. So I mentioned it to Tawus. He said: Ibn Abbas told me that the Messenger of Allah ﷺ had not forbidden it, but said: It is better for one of you to lend to his brother than to take a prescribed sum from him.

Notes · وضاحت
١ ؎: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کی جائز شکل یہ ہے کہ مالک اور بٹائی پر لینے والے کے مابین زمین سے حاصل ہونے والے غلہ کی مقدار اس طرح متعین ہو کہ ان دونوں کے مابین جھگڑے کی نوبت نہ آئے اور غلہ سے متعلق نقصان اور فائدہ میں طے شدہ امر کے مطابق دونوں شریک ہوں یا روپے پیسے کے عوض زمین بٹائی پر دی جائے اور مزارعت کی وہ شکل جو شرعاً ناجائز ہے وہ حنظلہ بن قیس کی حدیث نمبر (٣٣٩٢) میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحرث والمزارعة ١٠ (٢٣٣٠)، الہبة ٣٥ (٢٦٣٤)، صحیح مسلم/البیوع ٢١ (١٥٤٧)، سنن النسائی/ المزارعة ٢ (٣٩٢٧، ٣٩٢٨) سنن ابن ماجہ/الرھون ٧ (٢٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٥، ٣٥٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٢/١١، ٤٦٣، ٤٦٥، ٤/١٤٢) (صحیح )
3390Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنِ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقَنا، قَدِ اقْتَتَلَا، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ، فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ. زَادَ مُسَدَّدٌ، فَسَمِعَ قَوْلَهُ: لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج ؓ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں (واقعہ یہ ہے کہ) آپ ﷺ کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی (یعنی لڑتے جھگڑتے) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج ؓ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو (موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا) ۔

Narrated Urwah bin al-Zubair: That Zayd ibn Thabit said: May Allah forgive Rafi ibn Khadij. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Messenger of Allah ﷺ said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi ibn Khadij) heard his statement: Do not lease agricultural lands.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ المزارعة ٣ (٣٩٥٩)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٠ (٢٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٧) (ضعیف) ( اس کے راوی ابوعبیدہ اور ولید بن ابی الولید لین الحدیث ہیں) وضاحت: ابن ماجہ کی حدیث پر صحیح کا حکم ہے تفصیل مذکورہ حدیث نمبر پر ملاحظہ فرمائیں
3391Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنِ الزَّرْعِ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ.

سعد ؓ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔

Narrated Saad (RA) : We used to lease land for what grew by the streamlets and for what was watered from them. The Messenger of Allah ﷺ forbade us to do that, and commanded us to lease if for gold or silver.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ المزارعة ٢ (٣٩٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣٨٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٨، ١٨٢)، دی/ البیوع ٧٥ (٢٦٦٠) (حسن )
3392Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍعَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنِ الزَّرْعِ، فَيَهْلَكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلَكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ. وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، نَحْوَهُ.

حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج ؓ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے (یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا) تو کبھی یہ برباد ہوجاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہوجاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے عن حنظلة عن رافع کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔

Narrated Hanzlah bin Qais al-Ansari (RA) : I asked Rafi bin Khadij about the lease of land for gold and silver (i. e. for dinars and dirhams). There is no harm in it, for the people used to let out land in the time of the Messenger of Allah ﷺ for what grew by the current of water and at the banks of streamlets and at the places of cultivation. So sometimes this (portion) perished and that (portion) was saved, and sometimes this remained intact and that perished. There was no (form of) lease among the people except this. Therefore, he forbade it. But if there is something which is secure and known, then there is no harm in it. The tradition of Ibrahim is more perfect. Qutaibah said: from Hanzalah on the authority of Rafi . Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Yahya bin Saeed from Hanzalah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٧ (٢٣٢٧)، ١٣ (٢٣٣٣)، ١٩ (٢٣٤٦)، الشروط ٧ (٢٧٢٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٩ (١٥٤٧)، سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٣٠، ٣٩٣١، ٣٩٣٢، ٣٩٣٣)، سنن ابن ماجہ/الرھون ٩ (٢٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض ١ (١)، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤/١٤٠، ١٤٢) (صحیح )
3393Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ،فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقُلْتُ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ.

حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

Hanzalah ibn Qays said that he asked Rafi ibn Khadij about the lease of land. He replied: The Messenger of Allah ﷺ forbade the leasing of land. I asked: (Did he forbid) for gold and silver (i. e. dinars and dirhams)? He replied: If it is against gold and silver, then there is no harm in it.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٣) (صحیح )
3394Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِيسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا حَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَكَذَا. قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ: عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو النَّجَاشِيِّ: عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ.

سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر ؓ اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری ؓ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر ؓ ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع ؓ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ ﷺ نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع ؓ سے اور رافع نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع ؓ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع ؓ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔

Narrated Salim bin Abdullah bin Umar (RA) : Ibn Umar used to let out his land till it reached him that Rafi bin Khadij al-Ansari narrated that the Messenger of Allah ﷺ forbade let out land. So Abdullah (bin Umar) said: Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah ﷺ about leasing the land? Rafi replied to Abdullah bin Umar (RA) : I heard both of my uncles were present in the battle of Badr say, and they narrated it to the members of the family, that the Messenger of Allah ﷺ forbade leasing land. Abdullah said: I swear by Allah, I knew that land was leased in the time of the Messenger of Allah ﷺ . Abdullah then feared that the Messenger of Allah ﷺ might have created something new in that matter, so he gave up leasing land. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ayyub, Ubaid Allah, Kathir bin Farqad, Malik from Nafi on the authority of Rafi from the Prophet ﷺ . It has also been transmitted by al-Auzai from Hafs bin Inan al-Hanafi from Nafi from Rafi who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Similarly, it has been transmitted by Zaid bin Abi Unaisah from al-Hakkam from Nafi from Ibn Umar that he went to Rafi and asked: Have you heard the Messenger of Allah ﷺ say? He replied: Yes. Similarly, it has also been transmitted by Ikrimah bin Ammar from Abu al-Najashi, from Rafi bin Khadij who said: I heard the Prophet ﷺ say. It has also been transmitted by al-Auzai from Abu al-Najashi from Rafi bin Khadij from his uncle Zuhair bin Rafi from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: The name of Abu al-Najashi is Ata bin Suhaib.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٨ (٢٣٤٥)، صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٤٧)، سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٢١)، (تحفة الأشراف: ٦٨٧٩، ٥٥٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥، ٤/١٤٠) (صحیح )
3395Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، وَأَنْفَعُ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا بِرُبُعٍ، وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (بٹائی پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کرسکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے ۔

Narrated Rafi bin Khadij (RA) : We used to employ people to till land for a share of it produce. He then maintained that, one of his uncles came to him and said: The Messenger of Allah ﷺ forbade us from a work which beneficial to us. But obedience to Allah and His Messenger ﷺ is more beneficial to us. We asked: What is that ? He said: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone has land, he should cultivate it, or lend it to his brother for cultivation. He should not rent it for a third or a quarter (of the produce) or for specified among of produce.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ البیوع ١٨ (١٥٤٨)، سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٠٤، ٣٩٠٥، ٣٩٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٩، ١٥٥٧٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض ١ (١)، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
3396Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَدِيثِهِ.

ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔

Ayyub said: Yala bin Hakim wrote to me: I heard Sulaiman bin Yasar narrating the tradition to the same effect as narrated by Ubaid Allah and through the same chain.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٩، ١٥٥٧٠) (صحیح )
3397Sunan Abu Dawood

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا أَبُو رَافِعٍ، مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا إِلَّا أَرْضًا يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا، أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ ﷺ نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں (بلامعاوضہ و شرط) دیدے۔

Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : Abu Rafi came to us from the Messenger of Allah ﷺ said: The Messenger of Allah ﷺ forbade us from a work which benefited us; but obedience to Allah and His Messenger ﷺ is more beneficial to us. He forbade that one of us cultivates land except the one which he owns or the land which a man lends him (to cultivate).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٣) (حسن) ( اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے ورنہ اس کے راوی ابن رافع مجہول ہیں )