2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ کھاتے ہیں سود وہ نہیں اٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اٹھتا ہے وہ شخص کہ جس کے حواس کھو دیئے ہوں شیطان کے چھونے کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود لینا حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو2 پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا تو اس کے واسطے ہے جو پہلے ہوچکا اور معاملہ اس کا اللہ کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لیوے تو وہی لوگ ہیں دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے3

2 یعنی ربوٰا کھانے والے قیامت کو قبروں سے ایسے اٹھیں گے جیسے آسیب زدہ اور مجنون اور یہ حالت اس واسطے ہوگی کہ انہوں نے حلال و حرام کو یکساں کردیا اور صرف اس وجہ سے کہ دونوں میں نفع مقصود ہوتا ہے دونوں کو حلال کہا حالانکہ بیع اور ربوا میں بڑا فرق ہے کہ بیع کو حق تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ فائدہ بیع میں جو نفع ہوتا ہے وہ مال کے مقابلہ میں ہوتا ہے جیسا کسی نے ایک درہم کی قیمت کا کپڑا دو درہم کا فروخت کیا اور سود وہ ہوتا ہے جس میں نفع بلا عوض ہو جیسے ایک درہم سے دو درہم خرید لیوے اول صورت میں چونکہ کپڑا اور درہم دو جدا جدا قسم کی چیزیں ہیں اور نفع اور غرض ہر ایک کی دوسرے سے علیحدہ ہے اس لئے ان میں فی نفسہٖ موازنہ اور مساوات غیر ممکن ہے بضرورت خریدو فروخت موازنہ کرنے کو کوئی صورت اپنی اپنی ضرورت اور حاجت کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی اور ضرورت اور رغبت ہر ایک کی از حد مختلف ہوتی ہے کسی کو ایک درہم کی اتنی حاجت ہوتی ہے کہ دس روپیہ کی قیمت کے کپڑے کی بھی اس قدر نہیں ہوتی اور کسی کو ایک کپڑے کی جو بازار میں ایک درہم کا شمار ہوتا ہے اتنی حاجت ہوسکتی ہے کہ دس درہم کی بھی اتنی احتیاج اور رغبت نہیں ہوتی تو اب ایک کپڑے کو ایک درہم میں کوئی خریدے گا تو اس میں سود یعنی نفع خالی عن العوض نہیں اور اگر بالفرض اسی کپڑے کو ایک ہزار درہم کا خریدے گا تو سود نہیں ہوسکتا کیونکہ فی حد ذاتہٖ تو ان میں موازنہ اور مساوات ہو ہی نہیں سکتی اس کے لئے اگر پیمانہ ہے تو اپنی اپنی رغبت اور ضرورت اور اس میں اتنا تفاوت ہے کہ خدا کی پناہ تو سود متعین ہو تو کیونکر ہو اور ایک درہم کو دو درہم کے عوض فروخت کرے گا تو یہاں فی نفسہٖ مساوات ہوسکتی ہے جس کے باعث ایک درہم ایک درہم کے مقابلہ میں معین ہوگا اور دوسرا درہم خالی عن العوض ہو کر سود ہوگا اور شرعا یہ معاملہ حرام ہوگا۔ 3 یعنی سود کی حرمت سے پہلے جو تم نے سود لیا دنیا میں اسکو مالک کی طرف واپس کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا یعنی تم کو اس سے مطالبہ کا حق نہیں اور آخرت میں حق تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اپنی رحمت سے اسکو بخش دے لیکن حرمت کے بعد بھی اگر کوئی باز نہ آیا بلکہ برابر سود لے گیا تو وہ دوزخی ہے اور خدا تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی عقلی دلیلوں کو پیش کرنے کی سزا وہی سزا ہے جو فرمائی۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو4 اور اللہ خوش نہیں کسی ناشکر گناہ گار سے5

4 اللہ سود کے مال کو مٹاتا ہے یعنی اس میں برکت نہیں ہوتی بلکہ اصل مال بھی ضائع ہوجاتا ہے چناچہ حدیث میں ارشاد ہے کہ سود کا مال کتنا ہی بڑھ جائے انجام اسکا افلاس ہے اور خیرات کے مال کو بڑھانے سے یہ مطلب ہے کہ اس مال میں زیادتی ہوتی ہے اور اللہ برکت دیتا ہے اور اس کا ثواب بڑھایا جاتا ہے چناچہ احادیث میں وارد ہے۔ 5 مطلب یہ کہ سود لینے والے نے مالدار ہو کر اتنا بھی نہ کیا کہ محتاج کو قرض ہی بلا سود دے دیتا چاہیے تو یہ تھا کہ بطریق خیرات حاجت مند کو دیتا تو اب اس سے زیادہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کیا ہوگی۔
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور قائم رکھا نماز کو اور دیتے رہے زکوٰۃ ان کے لئے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے پاس اور نہ ان کو خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے6

6 اس آیت میں سود لینے والے کے مقابلہ میں اہل ایمان کے اوصاف اور ان کا انعام ذکر کردیا جو سود خور کے اوصاف و حالات اور اس کے حکم کے خلاف اور ضد ہیں جس سے سود خور کی پوری تہدید وتشنیع بھی ظاہر ہوگئی۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا7

7 یعنی ممانعت سے پہلے جو سود لے چکے سو لے چکے لیکن ممانعت کے بعد جو چڑھا اس کو ہرگز نہ مانگو۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہوجاؤ لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اگر توبہ کرتے ہو تو تمہارے واسطے ہے اصل مال تمہارا نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر1

1 یعنی پہلے سود جو تم لے چکے ہو اس کو اگر تمہارے اصل مال میں محسوب کریں اور اس میں سے کاٹ لیویں تو تم پر ظلم ہے اور ممانعت کے بعد کا سود چڑھا ہوا اگر تم مانگو تو یہ تمہارا ظلم ہے۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر ہے تنگ دست تو مہلت دینی چاہیے کشائش ہونے تک اور بخش دو تو بہت بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم کو سمجھ ہو2

2 یعنی جب سود کی ممانعت آگئی اور اس کا لینا دینا موقوف ہوگیا تو اب تم مدیون مفلس سے تقاضا کرنے لگو یہ ہرگز نہ چاہیے بلکہ مفلس کو مہلت دو اور توفیق ہو تو بخش دو ۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور ڈرتے رہو اس دن سے کہ جس دن لوٹائے جاؤ گے اللہ کی طرف پھر پورا دیا جائیگا ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا3

3 یعنی قیامت کو تمام اعمال کی جزاء اور سزا ملے گی تو اب ہر کوئی اپنا فکر کرلے اچھے کام کرے یا برے سود لے یا خیرات کرے۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم آپس میں معاملہ کرو ادھار کا کسی وقت مقرر تک تو اس کو لکھ لیا کرو اور چاہیے کہ لکھ دے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف سے اور انکار نہ کرے لکھنے والا اس سے کہ لکھ دیوے جیسا سکھایا اس کو اللہ نے سو اس کو چاہیے کہ لکھ دے اور بتلاتا جاوے وہ شخص کہ جس پر قرض ہے اور ڈرے اللہ سے جو اس کا رب ہے اور کم نہ کرے اس میں سے کچھ4 پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بےعقل ہے یا ضعیف ہے یا آپ نہیں بتلا سکتا تو بتلاوے کارگزار اس کا انصاف سے5 اور گواہ کرو دو شاہد اپنے مردوں میں سے پھر اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے کہ جن کو تم پسند کرتے ہو گواہوں میں تاکہ اگر بھول جائے ایک ان میں سے تو یاد دلاوے اس کو وہ دوسری1 اور انکار نہ کریں گواہ جس وقت بلائے جاویں اور کاہلی نہ کرو اس کے لکھنے سے چھوٹا ہو معاملہ یا بڑا اس کی معیاد تک اس میں پورا انصاف ہے اللہ کے نزدیک اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو اور نزدیک ہے کہ شبہ میں نہ پڑو2 مگر یہ کہ سودا ہو ہاتھوں ہاتھ لیتے دیتے ہو اس کو آپس میں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اس کو نہ لکھو اور گواہ کرلیا کرو جب تم سودا کرو اور نقصان نہ کرے لکھنے والا اور نہ گواہ3 اور اگر ایسا کرو تو یہ گناہ کی بات ہے تمہارے اندر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ تم کو سکھلاتا ہے اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے

4 پہلے صدقہ خیرات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان فرمائے اس کے بعد ربا اور اسکی حرمت اور برائی مذکور ہوئی اب اس معاملہ کا ذکر ہے جس میں قرض ہو اور آیندہ کسی مدت کا وعدہ ہو اسکی نسبت یہ معلوم ہوا کہ ایسا معاملہ جائز ہے مگر چونکہ یہ معاملہ آئندہ مدت کے لئے ہوا ہے بھول چوک خلاف ونزاع کا احتمال ہے اس لئے یہ ضرور ہے کہ اس کا تعین اور اہتمام ایسا کیا جائے کہ آئندہ کوئی قضیہ اور خلاف نہ ہو۔ اس کی صورت یہی ہے کہ ایک کاغذ لکھو جس میں مدت کا تقرر ہو اور دونوں معاملہ والوں کا نام اور معاملہ کی تفصیل سب باتیں صاف صاف کھول کر لکھی جاویں کاتب کو چاہیے بلا انکار جس طرح شرع کا حکم ہے اسکے موافق انصاف میں کوتاہی نہ کرے اور چاہیے کہ مدیون اپنے ہاتھ سے لکھے یا کاتب کو اپنی زبان سے بتلائے اور دوسرے کے حق میں ذرا نقصان نہ ڈالے۔ 5 یعنی جو دیندار اور مدیون ہے وہ اگر بےعقل بھولا یا سست اور ضعیف ہے مثلا بچہ ہے یا بہت بوڑھا ہے کہ معاملہ کے سمجھنے کی سمجھ ہی نہیں ہے یا معاملہ کو کاتب کو بتلا نہیں سکتا تو ایسی صورتوں میں مدیون کے مختار اور وارث اور کارگزار کو چاہیے کہ معاملہ کو انصاف سے بلا کم وکاست لکھوا دے۔ 1 اور تم کو چاہیے کہ اس معاملہ پر کم سے کم دو گواہ مردوں میں سے یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنائی جائیں اور گواہ قابل پسند یعنی لائق اعتبار اور اعتماد ہوں۔ 2 یعنی گواہ کو جس وقت گواہ بنانے کے لئے یا ادائے شہادت کے لئے بلائیں تو اس کو کنارہ یا انکار نہ چاہیے اور کاہلی اور سستی نہ کرو اس کے لکھنے لکھانے میں معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا کہ انصاف پورا اسمیں ہے اور گواہی پر بھی کامل اعتماد اسے لکھ لینے میں ہے اور بھول چوک اور کسی کے حق ضائع ہونے سے اطمینان بھی اس میں ہے۔ 3 یعنی اگر سوداگری کا معاملہ دست بدست ہو جنس کے بدلے جنس یا نقد کی طرح معاملہ ہو مگر ادھار کا قصہ نہ ہو تو اب نہ لکھنے میں گناہ نہیں مگر گواہ بنا لینا اس وقت بھی چاہیے کہ اس معاملہ کے متعلق کوئی نزاع آئندہ پیش آئے تو کام آئے اور لکھنے والا اور گواہ نقصان نہ کرے یعنی مدعی اور مدعٰی علیہ میں سے کسی کا بھی نقصان نہ کرے بلکہ جو حق واجبی ہو وہی ادا کریں۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو گرو ہاتھ میں رکھنی چاہیے پھر اگر اعتبار کرے ایک دوسرے کا تو چاہیے کہ پورا ادا کرے وہ شخص کہ جس پر اعتبار کیا اپنی امانت کو اور ڈرتا رہے اللہ سے جو رب ہے اس کا اور مت چھپاؤ گواہی کو اور جو شخص اس کو چھپاوے تو بیشک گناہ گار ہے دل اس کا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے4

4 یعنی اگر سفر میں قرض اور ادھار کا معاملہ کرو اور دستاویز کے لئے کوئی کاتب نہ ملے تو قرض کے عوض کوئی چیز مدیون کو رہن رکھ دینی چاہیئے۔ فائدہ سفر میں رہن کی حاجت بہ نسبت حضر زیادہ ہوگی کیونکہ حضر میں کتابت و شہادت سے بھی بسہولت صاحب دین کا اطمینان ممکن ہے اس لئے سفر میں رہن کا حکم ہوا اور نہ حضر میں اور کاتب کی موجودگی میں بھی رہن درست ہے جیسا کہ حدیث میں موجود ہے اور اگر صاحب دین کو مدیون پر اعتماد اور اس کا اعتبار ہو اور اس لئے رہن کا طالب نہ ہو تو مدیون کو لازم ہے کہ صاحب دین کا حق تمام و کامل ادا کر دے اور خدا سے ڈرتا رہے صاحب حق کے حق میں امانت سے معاملہ کرے۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اگر ظاہر کرو گے اپنے جی کی بات یا چھپاؤ گے اس کو حساب لے گا اس کا تم سے اللہ پھر بخشے گا جس کو چاہے اور عذاب کرے گا جس کو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے1

1 اس سورت میں اصول و فروع عبادات و معاملات جانی و مالی ہر قسم کے احکامات بہت کثرت سے مذکور فرمائے اور شاید اس سورت کے سنام القرآن فرمانے کی یہی وجہ ہو اس لئے مناسب ہے، کہ بندوں کو پوری تاکید و تہدید بھی ہر طرح سے فرما دی جائے تاکہ تعمیل احکام مذکورہ میں کوتاہی سے اجتناب کریں سو اسی غرض کے لئے آخر سورت میں احکام کو بیان فرما کر اس آیت کو بطور تہدید و تنبیہ ارشاد فرما کر تمام احکام مذکورہ سابقہ کی پابندی پر سب کو مجبور کردیا اور طلاق و نکاح قصاص و زکوٰۃ بیع و ربوا وغیرہ میں جو اکثر صاحب حیلوں اور اپنی ایجاد کردہ تدبیروں سے کام لیتے ہیں اور ناجائز امور کو جائز بنانے میں خود رائی اور سینہ زوری سے کام لیتے ہیں انکو بھی اس میں پوری تنبیہ ہوگئی دیکھئے جس کو ہم پر استحقاق عبادت حاصل ہوگا اس کو مالک ہونا چاہیے اور جو ہماری ظاہری اور مخفی تمام اشیاء کا محاسبہ کرسکے اسکو تمام امور کا علم ہونا ضروری ہے اور جو ہماری تمام چیزوں کا حساب لے سکے اور ہر ایک کے مقابلہ میں جزاء و سزا دے سکے اس کو تمام چیزوں پر قدرت ہونی ضروری ہے سو انہی تین کمالات یعنی ملک اور علم اور قدرت کو یہاں بیان فرمایا اور انہی کا آیۃ الکرسی میں ارشاد ہوچکا ہے مطلب یہی ہے کہ ذات پاک سبحانہ، تمام چیزوں کی مالک اور خالق اس کا علم سب کو محیط اسکی قدرت سب پر شامل ہے تو پھر اسکی نافرمانی کسی امر ظاہریا مخفی میں کر کے بندہ کیونکر نجات پاسکتا ہے۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

مان لیا رسول نے جو کچھ اترا اس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو کہتے ہیں کہ ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے اور کہہ اٹھے کہ ہم نے سنا اور قبول کیا تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے2

2 پہلی آیت سے جب یہ معلوم ہوا کہ دل کے خیالات پر بھی حساب اور گرفت ہے تو اس پر حضرات صحابہ گھبرائے اور ڈرے اور ان کو اتنا صدمہ ہوا کہ کسی آیت پر نہ ہوا تھا آپ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا یعنی اشکال نظر آئے یا دقت مگر حق تعالیٰ کے ارشاد کی تسلیم میں ادنیٰ توقف بھی مت کرو اور سینہ ٹھوک کر سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا عرض کردو آپ کے ارشاد کی تعمیل کی تو انشراح کے ساتھ یہ کلمات زبان پر بےساختہ جاری ہوگئے مطلب ان کا یہ ہے کہ ہم ایمان لائے اور اللہ کے حکم کی اطاعت کی یعنی اپنی دقت اور خلجان سب کو چھوڑ کر ارشاد کی تعمیل میں مستعدی اور آمادگی ظاہر کی حق تعالیٰ کو یہ بات پسند ہوئی تب یہ دونوں آیتیں اتریں اول یعنی اٰمَنَ الرَّسُوْلُ الخ اس میں رسول کریم اور انکے بعد صحابہ کہ جن کو اشکال مذکور پیش آیا تھا انکے ایمان کی حق سبحانہ، نے تفصیل کے ساتھ مدح فرمائی جس سے انکے دلوں میں اطمینان ترقی پاوے اور خلجان سابق زائل ہو اسکے بعد دوسری آیت لایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً الخ میں فرما دیا کہ مقدور سے باہر کسی کو تکلیف نہیں دی جاتی اب اگر کوئی دل میں گناہ کا خیال اور خطرہ پائے اور اس پر عمل نہ کرے تو کچھ گناہ نہیں اور بھول چوک بھی معاف ہے غرض صاف فرما دیا کہ جن باتوں سے بچنا طاقت سے باہر ہے جیسے برے کام کا خیال و خطرہ یا بھول چوک ان پر مواخذہ نہیں ہاں جو باتیں بندہ کے ارادے اور اختیار میں ہیں ان پر مواخذہ ہوگا اب آیت سابقہ کو سن کر جو صدمہ ہوا تھا اس کے معنی بھی اسی پچھلے قاعدہ کے موافق لینے چاہئیں چناچہ ایسا ہی ہوا اور خلجان مذکور کا اب ایسا قلع قمع ہوگیا کہ سبحان اللہ۔ فائدہ : جدا نہیں کرتے کسی کو اسکے پیغمبروں میں سے یعنی یہود اور نصاریٰ کی طرح نہیں کہ کسی پیغمبر کو مانا اور کسی پیغمبر کو نہ مانا۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی کو مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے اسی کو ملتا ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر پڑتا ہے جو اس نے کیا اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر اے رب ہمارے اور نہ اٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے مدد کر ہماری کافروں پر3

3 اول آیت پر حضرات صحابہ کو بڑی پریشانی ہوئی تھی ان کی تسلی کے لئے یہ دو آیتیں اٰمن الرسول الخ اور لا یکلف اللہ نفسا الخ نازل ہوئیں اب اس کے بعد ربنا لا تؤاخذنا آخر سورت تک نازل فرما کر ایسا اطمینان دیا گیا کہ کسی صعوبت اور دشواری کا اندیشہ بھی باقی نہ چھوڑا کیونکہ جن دعاؤں کا ہم کو حکم ہوا ہے ان کا مقصود یہ ہے کہ بیشک ہر طرح کا حق حکومت اور استحقاق عبادت تجھ کو ہم پر ثابت ہے مگر اے ہمارے رب اپنی رحمت و کرم سے ہمارے لئے ایسے حکم بھیجے جائیں جن کے بجا لانے میں ہم پر صعوبت اور بھاری مشقت نہ ہو نہ بھول چوک میں ہم پکڑے جائیں نہ مثل پہلی امتوں کے ہم پر شدید حکم اتارے جائیں نہ ہماری طاقت سے باہر کوئی حکم ہم پر مقرر ہو اس سہولت پر بھی ہم سے جو قصور ہوجائے اس سے درگزر اور معافی اور ہم پر رحم فرمایا جائے۔ حدیث میں ہے کہ یہ سب دعائیں مقبول ہوئیں۔ اور جب اس دشواری کے بعد جو حضرات صحابہ کو پیش آچکی تھی اللہ کی رحمت سے اب ہر ایک دشواری سے ہم کو امن مل گیا تو اب اتنا اور بھی ہونا چاہیے کہ کفار پر ہم کو غلبہ عنایت ہو ورنہ ان کی طرف سے مختلف دقتیں دینی اور دنیاوی ہر طرح کی مزاحمتیں پیش آکر جس صعوبت سے اللہ اللہ کر کے اللہ کے فضل سے جان بچی تھی کفار کے غلبہ کی حالت میں پھر وہی کھٹکا موجب بےاطمینانی ہوگا۔