2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب وہ اسکو پڑھتے ہیں جو حق ہے اسکے پڑھنے کا وہی اس پر یقین لاتے ہیں اور جو کوئی منکر ہوگا اس سے تو وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں6

6 یہود میں تھوڑے آدمی منصف بھی تھے کہ اپنی کتاب کو پڑھتے تھے سمجھ کر وہ قرآن پر ایمان لائے (جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی) یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں ہے یعنی انہوں نے تورات کو غور سے پڑھا انہی کو ایمان نصیب ہوا اور جس نے انکار کیا کتاب کا یعنی اس میں تحریف کی وہ خائب و خاسر ہوئے۔
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل یاد کرو احسان ہمارے جو ہم نے تم پر کئے اور اس کو کہ ہم نے تم کو بڑائی دی اہل عالم پر،

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے کہ نہ کام آوے کوئی شخص کسی کی طرف سے ذرا بھی اور نہ قبول کیا جاویگا اس کی طرف سے بدلہ اور نہ کام آوے اس کو سفارش اور نہ ان کو مدد پہنچے7

7 بنی اسرائیل کو جو باتیں شروع میں یاد دلائی گئیں تھیں اب ان کے سب حالات ذکر کرنے کے بعد پھر وہی امور بغرض تاکید و تنبیہ یاد دلائے گئے کہ خوب دل نشین ہوجائیں اور ہدایت قبول کرلیں اور معلوم ہوجائے کہ اصل مقصود اس قصہ سے یہ ہے۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں8 پھر اسنے وہ پوری کیں تب فرمایا میں تجھ کو کروں گا سب لوگوں کا پیشوا9 بولا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا نہیں پہنچے گا میرا قرار ظالموں کو1

8 جیسے حج کے افعال اور ختنہ اور حجامت اور مسواک وغیرہ، سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان احکام کو اللہ کے ارشاد کے موافق اخلاص کے ساتھ بجا لائے اور سب کو پوری طرح سے ادا کیا جس پر لوگوں کے پیشوا بنائے گئے۔ 9 یعنی تمام انبیاء تیری متابعت پر چلیں گے۔ 1 بنی اسرائیل اس پر بہت مغرور تھے کہ ہم اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا ہے کہ نبوت و بزرگی تیری اولاد میں رہے گی اور ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ اور ان کے دین کو سب مانتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ ان کو سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ تھا وہ ان سے تھا جو نیک راہ پر چلیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے تھے، ایک مدت تک حضرت اسحاق کی اولاد میں پیغمبری اور بزرگی رہی اب حضرت اسماعیل کی اولاد میں پہنچی (اور انہوں نے دونوں بیٹوں کے حق میں دعا کی تھی) اور فرماتا ہے کہ دین اسلام ہمیشہ ایک ہے سب پیغمبر اور سب امتیں اس پر گزریں (وہ یہ کہ جو حکم اللہ بھیجے پیغمبر کے ہاتھ اس کو قبول کرنا) اب یہ طریقہ مسلمانوں کا ہے اور تم اس سے پھرے ہوئے ہو۔ پہلی آیات میں اپنے انعامات بتلائے تھے اب انکے اس شبہ کو دفع کیا کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو سارے عالم کا امام اور متبوع اور سب سے افضل سمجھ کر کسی کا اتباع نہ کرتے تھے۔ فائدہ : بنی اسرائیل کے واقعات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی منقبت مذکور ہوئی اب ان کے ذکر کے ذیل میں خانہ کعبہ کی حالت اور فضیلت ان آیات میں ذکر فرمائی اور ان کے ضمن میں یہود و نصاریٰ پر الزامات بھی ہیں جیسا کہ مفسرین نے ذکر کیا۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب مقرر کیا ہم نے خانہ کعبہ کو اجتماع کی جگہ لوگوں کے واسطے اور جگہ امن کی2 اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ3 اور حکم کیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو کہ پاک کر رکھو میرے گھر کو4 واسطے طواف کرنیوالوں کے اور اعتکاف کرنے والوں کے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے

2 یعنی ہر سال بغرض حج وہاں لوگ مجتمع ہوتے ہیں اور جو وہاں جا کر ارکان حج بجا لاتے ہیں وہ عذاب دوزخ سے مامون ہوجاتے ہیں یا وہاں کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ 3 مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کا نشان ہے اور اسی پتھر پر کھڑے ہو کر حج کی دعوت دی تھی اور وہ جنت سے لایا گیا تھا جیسے حجر اسود۔ اب اس پتھر کے پاس نماز پڑھنے کا حکم ہے اور یہ حکم استحبابی ہے۔ 4 یعنی وہاں برا کام نہ کرے اور ناپاک اس کا طواف نہ کرے اور تمام آلودگیوں سے صاف رکھا جاوے۔
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب بنا اس کو شہر امن کا5 اور روزی دے اس کے رہنے والوں کو میوے جو کوئی ان میں سے ایمان لاوے اللہ پر اور قیامت کے دن پر6 فرمایا اور جو کفر کریں اس کو بھی نفع پہنچاؤں گا تھوڑے دنوں پھر اس کو جبرا بلاؤنگا دوزخ کے عذاب میں اور وہ بری جگہ ہے رہنے کی7

5 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بوقت بنائے کعبہ یہ دعا کی کہ یہ میدان ایک شہر آباد اور با امن ہو سو ایسا ہی ہوا۔ 6 یعنی اس کے رہنے والے جو اہل ایمان ہوں ان کو روزی دے میووں کی اور کفار کے لئے دعا نہ کی تاکہ وہ مقام لوث کفر سے پاک رہے۔ 7 حق تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں کفار کو بھی رزق دیا جائے گا اور رزق کا حال امامت جیسا نہیں کہ اہل ایمان کے سوا کسی کو مل ہی نہ سکے۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور یاد کر جب اٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل اور دعاء کرتے تھے اے پروردگار ہمارے قبول کر ہم سے بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والاف 8

8 قبول کر ہم سے اس کام کو (کہ تعمیر خانہ کعبہ ہے) تو سب کی دعا سنتا ہے اور نیت کو جانتا ہے۔
Ayahs 2:128–129

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے اور کر ہم کو حکم بردار اپنا اور ہماری اولاد میں بھی کر ایک جماعت فرمانبردار اپنی اور بتلا ہم کو قاعدے حج کرنے کے اور ہم کو معاف کر بیشک تو ہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں کا کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب اور تہ کی باتیں اور پاک کرے ان کو بیشک تو ہی ہے بہت زبردست بڑی حکمت والاف 1

1 یہ دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دونوں نے مانگی کہ ہماری جماعت میں ایک جماعت فرمانبردار اپنی پیدا کر اور ایک رسول ان میں بھیج جو ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ایسا نبی جو ان دونوں کی اولاد میں ہو بجز سرور کائنات ﷺ کوئی نہیں آیا اس کی وجہ سے یہود کے گذشتہ خیال کا پورا رد ہوگیا۔ علم کتاب سے مراد معانی و مطالب ضرور یہ ہیں جو عبارت سے واضح ہوتے ہیں اور حکمت سے مراد اسرار مخفیہ اور رموز لطیفہ ہیں۔
Ayahs 2:130–132

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ہے جو پھرے ابراہیم کے مذہب سے مگر وہی کہ جس نے احمق بنایا اپنے آپ کو اور بیشک ہم نے ان کو منتخب کیا دنیا میں اور وہ آخرت میں نیکوں میں ہیں

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

یاد کرو جب اس کو کہا اس کے رب نے کہ حکم برداری کر تو بولا کہ میں حکم بردار ہوں تمام عالم کے پروردگار کا

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور یہی وصیت کر گیا ابراہیم اپنے بیٹوں کو اور یعقوب بھی کہ اے بیٹو بیشک اللہ نے چن کردیا ہے تم کو دین سو تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان2

2 جس ملت و مذہب کا شرف مذکور ہوچکا اسی ملت کی وصیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت یعقوب نے اپنی اولاد کو فرمائی تو جو اس کو نہ مانے گا وہ ان کا بھی مخالف ہوا۔ اور یہود کہتے تھے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہودیت کی وصیت فرمائی سو وہ جھوٹے ہیں جیسا اگلی آیت میں آتا ہے۔
Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم موجود تھے جس وقت قریب آئی یعقوب کے موت جب کہا اپنے بیٹوں کو تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد بولے ہم بندگی کرینگے تیرے رب کی اور تیرے باپ دادوں کے رب کی جو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق ہیں وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں3

3 یعنی تم حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے وقت تو موجود بھی نہ تھے۔ انہوں نے تو ملت انبیائے موصوفین کا ارشاد فرمایا تھا تم نے یہ کیا کہ یہود اپنے سوا سب کو اور نصاریٰ اپنے سوا سب کو بےدین بتلانے لگے (اور مذہب حق یعنی اسلام کے دونوں مخالف ہوگئے) تمہارا افتراء ہے۔
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے واسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا، اور تم سے پوچھ نہیں ان کے کاموں کی4

4 یہودیوں کو اور نصرانیوں کو یقین تھا کہ ماں باپ کے گناہوں میں اولاد گرفتار ہوگی اور ان کے ثواب میں بھی اولاد شریک ہوگی۔ سو یہ غلط ہے اپنا کیا اپنے آگے آئے گا بھلا یا برا۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہوجاؤ یہودی یا نصرانی تو تم پالو گے راہ راست5 کہہ دے کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم نے اختیار کی راہ ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا اور نہ تھا شرک کرنے والوں میں6

5 مطلب یہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ یہودی ہوجاؤ، اور نصرانی کہتے کہ نصرانی ہوجاؤ تو تم کو ہدایت نصیب ہو۔ 6 یعنی کہہ دو اے محمد ﷺ کہ تمہارا کہنا ہرگز منظور نہیں بلکہ ہم موافق ہیں ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو سب برے مذہبوں سے علیٰحدہ ہے۔ نہیں تھا وہ شرک کرنے والوں میں اشارہ ہے کہ تم دونوں فریق شرک میں مبتلا ہو۔ بلکہ مشرکین عرب بھی مذہب ابراہیمی کے مدعی تھے مگر وہ بھی مشرک تھے تو اس میں ان پر بھی رد ہوگیا۔ اب ان فرقوں میں بروئے انصاف کوئی بھی ملت ابراہیمی پر نہ رہا صرف اہل اسلام ملت ابراہیمی میں رہے۔ فائدہ : ہر شریعت میں تین باتیں ہوتی ہیں۔ اوَل عقائد (جیسے توحید و نبوت وغیرہ) سو اس میں تو سب دین والے شریک اور موافق ہیں اختلاف ممکن ہی نہیں۔ دوسرے قواعد کلیہ شریعت کہ جن سے جزئیات و فروع مسائل حاصل ہوتے ہیں اور تمام جزئیات میں وہ کلیات ملحوظ رہتے ہیں اور ملت فی الحقیقت انہی اصول اور کلیات کا نام ہے اور ملت محمدی اور ملت ابراہیمی کا توافق و اتحاد انہی کلیات میں ہے۔ تیسرے مجموعہ کلیات و جزئیات و جمیع اصول و فروع (جس کو شریعت کہتے ہیں) جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ایک ہے اور شریعت جدا جُدا۔
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اترا ہم پر اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اور جو ملا موسیٰ کو اور عیسیٰ کو اور جو ملا دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے ہم فرق نہیں کرتے ان سب میں سے ایک میں بھی اور ہم اسی پروردگار کے فرمانبردار ہیں1

1 یعنی ہم سب رسولوں اور سب کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور سب کو حق سمجھتے ہیں اور اپنے اپنے زمانہ میں سب واجب الاتباع ہیں اور ہم خدا کے فرمانبردار ہیں جس وقت جو نبی ہوگا اس کے ذریعہ سے جو احکام خداوندی پہنچیں گے اس کا اتباع ضروری ہے۔ بخلاف اہل کتاب کے کہ اپنے دین کے سوا سب کی تکذیب کرتے ہیں، چاہے ان کا دین منسوخ ہی ہوچکا ہو اور انبیاء کے احکام کو جھٹلاتے ہیں جو خدا کے احکام ہیں۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

سو اگر وہ بھی ایمان لاویں جس طرح پر تم ایمان لائے ہدایت پائی انہوں نے بھی اور اگر پھر جاویں تو پھر وہی ہیں ضد پر سو اب کافی ہے تیری طرف سے ان کو اللہ اور وہی ہے سننے والا جاننے والاف 2

2 یعنی ان کی دشمنی اور ضد سے خوف مت کرو اللہ ان کے شر اور مضرت سے تمہارا محافظ ہے۔ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ خدا سب کی باتوں کو سنتا اور سب کے حال اور نیت کو جانتا ہے۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

ہم نے قبول کرلیا رنگ اللہ کا اور کس کا رنگ بہتر ہے اللہ کے رنگ سے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں3

3 یہودی ان آیتوں سے پھرگئے اور اسلام قبول نہ کیا اور نصرانیوں نے بھی انکار کردیا اور شیخی میں آکر کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک رنگ ہے جو مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ نصرانیوں نے ایک زرد رنگ بنا رکھا تھا اور یہ دستور تھا کہ جب ان کے بچہ پیدا ہوتا یا کوئی ان کے دین میں آتا تو اس کو اس رنگ میں غوطہ دے کر کہتے کہ خاصہ پاکیزہ نصرانی ہوگیا۔ سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مسلمانو کہو ہم نے خدا کا رنگ یعنی (دین حق) قبول کیا کہ اس دین میں آکر سب طرح کی ناپاکی سے پاک ہوتا ہے۔
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

کہہ دے کیا تم جھگڑا کرتے ہو ہم سے اللہ کی نسبت حالانکہ وہی ہے رب ہمارا اور رب تمہارا اور ہمارے لئے ہیں عمل ہمارے اور تمہارے لئے ہیں عمل تمہارے اور ہم تو خالص اسی کے ہیں4

4 یعنی اللہ تعالیٰ کی نسبت تمہارا نزاع کرنا اور تمہارا یہ سمجھنا کہ اس کی عنایت و رحمت کا ہمارے سوا کوئی مستحق نہیں لغو بات ہے وہ جیسا تمہارا رب ہے ہمارا بھی رب ہے اور ہم جو کچھ اعمال کرتے ہیں خالص اسی کے لئے کرتے ہیں۔ تمہاری طرح زعم آبا و اجداد اور تعصّب و نفسانیت سے نہیں کرتے پھر کیا وجہ کہ ہمارے اعمال وہ مقبول نہ فرمائے اور تمہارے اعمال مقبول ہوں۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد تو یہودی تھے یا نصرانی کہہ دے کہ تم کو زیادہ خبر ہے یا اللہ کو اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے چھپائی وہ گواہی جو ثابت ہوچکی اس کو اللہ کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے5

5 حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی بابت یہود اور نصاریٰ کا یہ دعویٰ کہ وہ یہودی یا نصرانی تھے دروغ صریح ہے علاوہ ازیں حق تعالیٰ تو فرماتا ہے (آیت) ماکان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا تو اب بتلاؤ تم کو علم زیادہ ہے یا اللہ تعالیٰ کو۔
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی انکے واسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا اور تم سے کچھ پوچھ نہیں ان کے کاموں کی6

6 یہی آیت عنقریب گزر چکی ہے مگر چونکہ اہل کتاب کے دل میں اپنی بزرگ زادگی کی وجہ سے یہ خیال خوب جم رہا تھا کہ ہمارے اعمال کیسے ہی برے ہوں بالآخر ہمارے باپ دادا ہم کو ضرور بخشوائیں گے۔ اس لئے اس بیہودہ خیال کے روکنے کے لئے تاکیدًا اس آیت کو مکرر بیان فرمایا، یا یوں کہو کہ پہلی آیت میں اہل کتاب کو خطاب تھا اور اس آیت میں آپ کی امت کو ہے کہ اس بیہودہ خیال میں ان کا اتباع نہ کریں کیونکہ ایسی توقع اپنے بزرگوں سے ہر کسی کے دل میں آہی جاتی ہے جو سراسر بیوقوفی ہے۔ اب اس کے بعد یہود وغیرہ کی دوسری بیوقوفی کی اطلاع دی جاتی ہے جو بہ نسبت تحویل قبلہ عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

اب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے پھیر دیا مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے جس پر وہ تھے1 تو کہہ اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر2

1 حضرت ﷺ جب مکہ سے مدینہ میں تشریف لائے تو سولہ سترہ مہینے بیت المقدس ہی کی طرف نماز پڑھتے رہے اس کے بعد کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آگیا تو یہود اور مشرکین اور منافقین اور بعضے کچے مسلمان ان کے بہکانے سے شبہ ڈالنے لگے کہ یہ تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے جو قبلہ تھا پہلے انبیاء کا اب انہیں کیا ہوا جو اس کو چھوڑ کر کعبہ کو منہ کرنے لگے کسی نے کہا کہ یہود کی عداوت و حسد سے ایسا کیا کسی نے کہا کہ یہ اپنے دین میں متردّد اور متحیر ہیں جن سے ان کا نبی اللہ ہونا ظاہر نہیں ہوتا۔ مخالفوں کے اس اعتراض اور اسکے جواب کی جو آگے ہے اللہ نے اطلاع فرما دی کہ کسی کو اس وقت کوئی تردّد نہ ہو اور جواب میں تامل نہ ہو۔ 2 یعنی اے محمد ﷺ کہہ دو کہ نہ ہم نے یہود کے حسد سے اور نہ کسی نفسانی تعصب اور اپنی رائے کے اتباع سے قبلہ کو بدلا بلکہ محض اتباع فرمان خداوندی سے جو کہ ہمارا اصل دین ہے ہم نے ایسا کیا پہلے بیت المقدس کو منہ کرنے کا حکم تھا اس کو ہم نے تسلیم کیا اب کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آیا اس کو دل سے قبول کیا ہم سے اس کی وجہ پوچھنا اور ہم پر اعتراض کرنا سخت حماقت ہے۔ غلام تابعدار پر یہ اعتراض کرنا کہ تو پہلے وہ کام کرتا تھا اب یہ کام کیوں کرنے لگا عاقل کا کام نہیں اور اگر ان احکام مختلفہ کے اسرار دریافت کرتے ہو تو اس کے تمام اسرار کون سمجھے اور تم بیوقوفوں کو کون سمجھائے البتہ اتنی بات ہر کوئی سمجھ سکتا ہے اور ہر ایک کو سمجھا سکتا ہے کہ قبلہ کا معین فرمانا تو طریقہ عبادت کو بتلانے کی غرض سے ہے اصل عبادت ہرگز نہیں اور اس بارے میں حق تعالیٰ کا معاملہ جدا جُدا ہے کسی کو اپنی حکمت و رحمت کے مطابق ایک خاص راستہ بتلایا جاتا ہے کسی کو دوسرا، تمام مواقع اور جملہ جہات کا وہ مالک ہے جس کو جس وقت چاہتا ہے اس کو ایسا راستہ بتلا دیتا ہے جو نہایت سیدھا اور سب راستوں سے مختصر اور قریب تر ہو۔ چناچہ ہم کو اس وقت اس قبلہ کی ہدایت فرمائی جو سب قبلوں میں افضل اور بہتر ہے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو امت معتدل تاکہ تم ہو گواہ لوگوں پر اور ہو رسول تم پر گواہی دینے والاف 3 اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ کہ جس پر تو پہلے تھا مگر اس واسطے کہ معلوم کریں کون تابع رہیگا رسول کا اور کون پھرجائے گا الٹے پاؤں4 اور بیشک یہ بات بھاری ہوئی مگر ان پر جن کو راہ دکھائی اللہ نے5 اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کرے تمہارا ایمان بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے6

3 یعنی جیسا تمہارا قبلہ کعبہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ اور تمام قبلوں سے افضل ہے ایسا ہی ہم نے تم کو سب امتوں سے افضل اور تمہارے پیغمبر کو سب پیغمبروں سے کامل اور برگزیدہ کیا تاکہ اس فضیلت اور کمال کی وجہ سے تم تمام امتوں کے مقابلہ میں گواہ مقبول الشہادۃ قرار دیئے جاؤ اور محمد رسول اللہ ﷺ تمہاری عدالت و صداقت کی گواہی دیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے کہ جب پہلی امتوں کے کافر اپنے پیغمبروں کے دعوے کی تکذیب کرینگے اور کہیں گے کہ ہم کو تو کسی نے بھی دنیا میں ہدایت نہیں کی اس وقت آپ کی امت انبیاء کے دعوے کی صداقت پر گواہی دے گی اور رسول اللہ ﷺ جو اپنے امتّیوں کے حالات سے پورے واقف ہیں ان کی صداقت و عدالت پر گواہ ہونگے اسوقت وہ امتیں کہیں گی کہ انہوں نے تو نہ ہمارا زمانہ پایا نہ ہم کو دیکھا پھر گواہی کیسے مقبول ہوسکتی ہے اس وقت آپ کی امت جواب دیگی کہ ہم کو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کے بتلانے سے اس امر کا علم یقینی ہوا اس کی وجہ سے ہم گواہی دیتے ہیں۔ فائدہ : وسط یعنی معتدل کا یہ مطلب ہے کہ یہ امت ٹھیک سیدھی راہ پر ہے جس میں کچھ بھی کجی کا شائبہ نہیں اور افراط وتفریط سے بالکل بری ہے۔ 4 یعنی اصلی قبلہ تمہارا تو کعبہ ہی تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے چلا آتا ہے اور چند روز کے لئے جو بیت المقدس مقرر کردیا تھا وہ تو صرف امتحان کے لئے تھا کہ کون تابعداری پر قائم رہتا ہے اور کون دین سے پھرجاتا ہے سو اس میں جو لوگ ایمان پر قائم رہے ان کا بڑا درجہ ہے۔ فائدہ : اس آیت میں لنعلم جو صیغہ استقبال ہے اور دیگر آیات میں جو حتی نعلم اور فلیعلمن اور لمایعلم اللّٰہ اور لنبلونکم اور الا لنعلم وغیرہ کلمات موجود ہیں ان سب سے بظاہر یوں سمجھ میں آتا ہے کہ حق تعالیٰ کو نعوذ باللہ ان اشیاء کا علم بعد کو ہوا ان چیزوں کے وجود سے پہلے علم نہ تھا، حالانکہ اس کا علم ہر چیز کے ساتھ قدیم ہے کان اللّٰہُ بِکُلِّ شَی ءٍ عَلِیمَا علماء نے کئی طرح سے اس کا جواب دیا ہے بعض نے علم سے متمیز اور جدا جُدا کردینا مراد لیا ہے بعض نے امتحان کے معنی لئے کسی نے علم کو بمعنی روایت لیا کسی نے مستقبل کو بمعنی ماضی فرمایا بعض نے حدوث علم کو نبی اور مومنین کی طرف رجوع کیا یا مخاطبین کی طرف لوٹایا بعض اکابر محققین نے علم حالی جو بعد وجود معلوم متحقق ہوتا ہے جس پر جزاو سزا مدح وذم مترتب ہوتی ہے مراد لیا اور اسی کو پسند فرمایا بعض راسخین مدققین نے اس کے متعلق دو باتیں نہایت دقیق و انیق بیان فرمائیں۔ اول کا خلاصہ یہ ہے کہ حسب ارشاد ان اللّٰہ قد احاط بکل شیء علماء تمام چیزیں اول سے آخر تک حقیر و عظیم قلیل و کثیر خدا کے سامنے ہیں اور سب کا علم اس کو ایک ساتھ ہے اس کے علم میں تقدم و تاخر ہرگز نہیں مگر آپس میں ایک دوسرے کی نسبت بیشک مقدم اور موخر گنی جاتی ہیں سو علم خداوندی کے حساب سے سب کی سب بمنزلہ شئی واحد موجود ہیں اس لئے وہاں ماضی حال استقبال نکالنا بالکل غلط ہوگا البتہ تقدم و تاخر باہمی کی وجہ سے یہ تینوں زمانے بالبداہت جدا جُدا نکلیں گے سو جناب باری تعالیٰ کبھی تو حسب موقع و حکمت اپنے معلوم ہونے کے لحاظ سے کلام فرماتا ہے اور کبھی ان وقائع کے تقدم و تاخر کا لحاظ ہوتا ہے پہلی صورت میں تو ہمیشہ بلحاظ ایک فرق دقیق کے ہمیشہ ماضی کا صیغہ یا حال کا صیغہ مستعمل ہوتا ہے استقبال کا صیغہ مستعمل نہیں ہوسکتا اور دوسری صورت میں ماضی کے موقع میں ماضی اور حال کے موقع میں حال اور استقبال کی جگہ استقبال لایا جاتا ہے سو جہاں کہیں واقعہ آئندہ کو ماضی کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے جیسا ونادیٰ اصحٰب الجنّۃ وغیرہ تو وہاں اس کا لحاظ ہے کہ حق تعالیٰ کو سب مستحضر اور پیش نظر ہے اور جہاں امور گزشتہ کو صیغہ استقبال سے بیان فرمایا ہے جیسا اسی آیت میں الا لنعلم ہے یا اور اس کے سوا تو وہاں یہ مدنظر ہے کہ بہ نسبت اپنے ماقبل کے مستقبل ہے علم الہٰی کے لحاظ سے استقبال نہیں جو اس کے علم میں حدوث کا وہم ہو دوسری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم کو علم اشیاء دو طریق سے حاصل ہوتا ہے ایک تو بلاواسطہ دوسرا بواسطہ مثلا آگ کو کبھی تو آنکھ سے مشاہدہ کرتے ہیں اور کبھی آگ تو ہم سے کسی آڑ میں ہوتی ہے مگر دھوئیں کو دیکھ کر آگ کا یقین ہوجاتا ہے اور بسا اوقات یہ دونوں علم ایک جگہ ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں مثلاً آگ کو پاس سے دیکھئے تو دھواں بھی اس کے ساتھ نظر آئیگا۔ سو اس صورت میں آگ کا علم دونوں طرح حاصل ہوگا ایک تو بلاواسطہ کیونکہ آنکھ سے آگ کو دیکھ رہے ہیں دوسرا بواسطہ یعنی آگ کا علم دھوئیں کے واسطہ سے اور یہ دونوں علم ہرچند ایک ساتھ ہیں آگے پیچھے پیدا نہیں ہوئے مگر علم بواسطہ علم بلاواسطہ میں ایسا محو ہوتا ہے کہ اس کا دھیان بھی نہیں گزرتا۔ علیٰ ہذا القیاس کبھی دو چیزوں کا علم بلاواسطہ بھی ایک ساتھ حاصل ہوتا ہے مثلا آگ اور دھوئیں کو ایک ساتھ دیکھئے اسی طرح کبھی ایک شئی کا علم بلاواسطہ اور دوسری شئی کا علم پہلی شئی کے واسطہ سے ایک ساتھ حاصل ہوتے ہیں مثلا دھوئیں کا علم بلاواسطہ اور آگ کا علم دھوئیں کے واسطہ سے، یا آگ کا علم بلاواسطہ اور دھوئیں کا علم آگ کے واسطہ سے دونوں ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں مگر جیسا قلم کو ہاتھ میں لے کر لکھیں تو ہرچند ہاتھ اور قلم ساتھ ہی ہلتے ہیں لیکن پھر یوں کہتے ہیں کہ ہاتھ پہلے ہلا تو قلم ہلا اسی طرح پر عقل سلیم باوجود ایک ساتھ ہونے کے ایک شے کے علم بلاواسطہ کو دوسری شے کے علم بالواسطہ سے جو بواسطہ پہلی شے کے حاصل ہوا ہے ایک طرح پر ضرور مقدم سمجھتی ہے جب یہ باتیں معلوم ہو چکیں تو اب سنیئے کہ خداوند علیم کو بھی تمام اشیاء کا علم دونوں طرح پر ہے بلاواسطہ اور بواسطہ دیگر یعنی لوازم کا ملزومات سے اور ملزومات کا لوازم سے اور دونوں علم ازل سے برابر ساتھی ہیں گو علم بواسطہ کسی چیز کا اس کے علم بلاواسطہ میں محو اور مضمحل ہو اور ایسا ہی ایک چیز کا علم بلاواسطہ اور دوسری چیز کا علم بالواسطہ برابر ساتھ ہے اور دونوں قدیم ہیں گو علم بلاواسطہ کو بطریق مذکور مقدم اور علم بالواسطہ کو موخر کہیں سو جہاں کہیں علم خداوندی کے ذکر میں صیغہ استقبال کا یا معنی استقبال کے پائے جاتے ہیں وہ علم بالواسطہ کے لحاظ سے ہے زمانہ کے اعتبار سے کچھ تفاوت نہیں اور جہاں کہیں ماضی یا حال مستعمل ہے وہاں علم بلاواسطہ مراد ہے اور علم بالواسطہ کے اعتبار سے کلام فرمانے میں یہ حکمت ہے کہ کلام الہٰی کے مخاطب آدمی ہیں اور ان کو اکثر اشیاء کا علم بالواسطہ ہوتا ہے اور جہاں کہیں جناب باری تعالیٰ نے اپنے علم میں صیغہ استقبال استعمال فرمایا ہے وہ وہی امور ہیں جو بنی آدم کو بلا واسطہ معلوم نہیں ہوسکتے۔ اگر ایسے موقع میں بنی آدم سے باعتبار علم بلاواسطہ کلام کیا جاتا تو ان پر پورا الزام نہ ہوتا اور جہاں یہ مصلحت نہیں وہاں باعتبار علم بلاواسطہ صیغہ ماضی یا حال کا استعمال کیا جاتا ہے مگر بنی آدم کو چونکہ ان اشیاء کا علم بلا واسطہ ہو ہی نہیں سکتا اور ان واسطوں کا علم قبل ان کے وجود کے بنی آدم کو ممکن نہیں اور اس وجہ سے ان کے تمام علوم برابر حاصل نہیں ہوتے تو وہ خدا کو اپنے اوپر قیاس کر کے صیغہ استقبال سے حدوث سمجھ جاتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ علم الہٰی میں حدوث ثابت ہوگیا مگر فہمیدہ اشخاص جو نکتہ مذکورہ سے واقف ہیں سب کو مطابق یکدگر سمجھتے ہیں والحمدللہ۔ 5 اوّل سے آپ کے لئے خانہ کعبہ قبلہ مقرر ہوا تھا بیچ میں چند عرصہ کے لئے امتحانا بیت المقدس کو قبلہ مقرر فرمایا اور سب جانتے ہیں کہ امتحان اسی چیز میں ہوتا ہے جو نفس پر دشوار ہو سو حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک بجائے کعبہ کے بیت المقدس کو قبلہ بنانا لوگوں کو بھاری معلوم ہوا عوام مسلمین کو تو اس وجہ سے کہ وہ عموما عرب اور قریش تھے اور کعبہ کی افضلیت کے معتقد تھے ان کو اپنے خیال اور رسم و عادت کے خلاف کرنا پڑا، اور خواص کے گھبرانے کی یہ وجہ تھی کہ ملّت ابراہیمی کے خلاف تھا جس کی موافقت کے مامور تھے اور اخصُّ الخواص جن کو ذوق سلیم اور تمیز مراتب کی لیاقت عطا ہوئی تھی وہ کعبہ کے بعد بیت المقدس کی طرف متوجہ ہونے کو ترقی معکوس خیال کرتے تھے مگر جن حضرات کو حکمت واسرار تک رسائی تھی اور حقیقت کعبہ اور حقیقیت بیت المقدس کو بنور فراست جدا جُدا معہ فرق مراتب سمجھتے تھے وہ جانتے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع اور آپ کی رسالت جملہ عالم اور تمام امتوں کے لئے شامل ہے اس لئے ضرور ہے کہ استقبال بیت المقدس کی بھی نوبت آئے یہی وجہ ہے کہ شب معراج میں تمام انبیاء سابقین سے ملاقات بھی ہوئی اور اس کے بعد استقبال بیت المقدس کا بھی حکم ہوا واللہ اعلم۔ 6 یہود نے کہا کہ کعبہ قبلہ اصلی ہے تو اتنی مُدّت کی نماز جو بیت المقدس کی طرف پڑھی تھی ضائع ہوئی بعض مسلمانوں کو شبہ ہوا کہ بیت المقدس جب قبلہ اصلی نہ تھا تو جو مسلمان اسی حالت پر مرگئے ان کے ثواب میں نقصان رہا باقی زندہ رہنے والے تو آئندہ کو مکافات اور اس کا تدارک کرلیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب تم نے بیت المقدس کی طرف نماز محض مقتضائے ایمانی اور اطاعت حکم خداوندی کے سبب پڑھی تو تمہارے اجرو ثواب میں کسی طرح کا نقصان نہ ڈالا جائے گا۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

بیشک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف، سو البتہ پھیریں گے ہم تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہو7 اب پھیر منہ اپنا طرف مسجد الحرام کے8 اور جس جگہ تم ہوا کرو پھیرو منہ اسی طرف9 اور جن کو ملی ہے کتاب البتہ جانتے ہیں کہ یہ ہی ٹھیک ہے ان کے رب کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں10

7 چونکہ آپ کا اصلی قبلہ اور آپ کے کمالات کے مناسب خانہ کعبہ تھا اور سب قبلوں سے افضل اور حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ وہی تھا ادھر یہود طعن کرتے تھے کہ یہ نبی شریعت میں ہمارے مخالف اور ملت ابراہیمی کے موافق ہو کر ہمارا قبلہ کیوں اختیار کرتے ہیں ان وجوہ سے جس زمانہ میں آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو دل یہی چاہتا تھا کہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آجائے اور اس شوق میں آسمان کی طرف منہ اٹھا کر ہر طرف کو دیکھتے تھے کہ شاید فرشتہ حکم لاتا ہو اس پر یہ آیت اتری اور استقبال کعبہ کا حکم آگیا۔ 8 یعنی کعبہ کی طرف اور اسکو مسجد الحرام اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں مقاتلہ کرنا اور شکار کرنا جانوروں کا اور درخت اور گھاس کا کاٹنا وغیرہ امور حرام ہیں اور کسی مسجد کی اتنی حرمت و عزت نہیں جس قدر مسجد الحرام کی حرمت ہے جب تحویل قبلہ کا یہ حکم نازل ہوا تو آپ باجماعت مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے دو رکعت بیت المقدس کی طرف پڑھ چکے تھے نماز ہی میں آپ نے اور سب مقتدیوں نے کعبہ کی طرف منہ پھیرلیا اور باقی دو رکعتیں پوری کیں اس مسجد کا نام مسجد القبلتین اور ذوقبلتین ہوگیا یعنی دو قبلہ والی۔ 9 یعنی حضر میں یا سفر میں مدینہ میں یا دوسرے شہر میں جنگل میں یا دریا میں یا خود بیت المقدس میں جہاں کہیں ہو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔ 10 یعنی اہل کتاب جو تحویل قبلہ کی نسبت اعتراض کریں اس کی ہرگز پرواہ نہ کرنا کیونکہ انکو کتاب سے معلوم ہے کہ پیغمبر آخرالزماں بیت المقدس کی طرف کچھ دنوں نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف پڑھیں گے اور یہ بھی انکو معلوم ہے کہ اصلی اور دائمی قبلہ ان کا ملت ابراہیمی کے موافق ہوگا اس لئے اس تحویل قبلہ کو وہ بھی حق سمجھتے ہیں محض حسد سے جو چاہیں کہیں سو حق تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب جانتا ہے جس کا نتیجہ ان کو ایک دن معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تو لائے اہل کتاب کے پاس ساری نشانیاں تو بھی نہ مانیں گے تیرے قبلہ کو اور نہ تو مانے ان کا قبلہ اور نہ ان میں ایک مانتا ہے دوسرے کا قبلہ1 اور اگر تو چلا ان کی خواہشوں پر بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو بیشک تو بھی ہوا بےانصافوں میں2

1 یعنی جب یہ بات ہے کہ اہل کتاب استقبال کعبہ کو حق جان کر بوجہ حسد وعناد حق پوشی کرتے ہیں تو ان سے اپنے قبلہ کی موافقت کی ہرگز توقع مت رکھو وہ تو ایسے متعصب ہیں کہ اگر ان کو تمام نشانیاں جو ممکن الوقوع ہیں دکھلا دو گے جب بھی تمہارے قبلہ کو نہ مانیں گے وہ تو اس ہوس میں ہیں کہ کسی طرح تم کو اپنا تابع بنا لیویں اسی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے قبلہ پر قائم رہتے تو ہم سمجھتے کہ تم نبی موعود ہو کہ شاید پھر ہمارے قبلہ کی طرف رجوع کرلیں سو یہ ان کا خیال باطل اور طمع خام ہے تم کسی وقت میں بھی ان کے قبلہ کا اتباع نہیں کرسکتے اب استقبال کعبہ کا حکم قیامت تک منسوخ نہیں ہوسکتا اور دوسروں کے تابع بنانے کا ارادہ تو بعد میں کریں پہلے اہل کتاب تو آپس میں در بارہ امر قبلہ موافق ہوجائیں یہود کا قبلہ صخرہ بیت المقدس ہے اور نصاریٰ کا قبلہ بیت المقدس کی شرقی جانب ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نفح روح ہوا تھا جب وہ ہی باہم موافق نہیں ہوسکتے تو پھر مسلمانوں سے اس متابعت نقیضین کی توقع کرنی محض حماقت ہے۔ 6 یعنی ان دلائل سے قطع نظر کر کے تھوڑی دیر کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ نعوذ باللہ اہل کتاب کے قبلہ کی متابعت نزول وحی اور علم یقینی کے خلاف کر بھی لیویں تو اس تقدیر محال پر بیشک آپ بھی بےانصافوں میں شمار ہوں اور نبی سے یہ امر شنیع کسی طرح ممکن نہیں تو معلوم ہوگیا کہ قبلہ اہل کتاب کی متابعت آپ سے ہرگز ممکن نہیں کہ سراسر علم کے خلاف یعنی جہل اور گمراہی ہے۔
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی ہے کتاب پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو اور بیشک ایک فرقہ ان میں سے البتہ چھپاتے ہیں حق کو جان کر

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق و ہی ہے جو تیرا رب کہے پھر تو نہ ہو شک لانے والاف 3

3 یعنی اگر تم کو یہ خیال ہو کہ کاش کعبہ کا مسلمانوں کے لئے قبلہ ہونا اہل کتاب بھی کسی طرح تسلیم کرلیں اور دوسرے لوگوں کو شبہ میں ڈالتے نہ پھریں تو میرے نبی موعود ہونے میں خلجان باقی نہ رہے تو جان لو کہ اہل کتاب کو تمہارا بہت پورا علم ہے آپ کے نسب و قبیلہ و مولد و مسکن و صورت وشکل و اوصاف و احوال سب کو جانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو آپ کا علم اور آپ کے نبی موعود ہونے کا ایسا یقین ہے جیسا بہت سے لڑکوں میں اپنے بیٹوں کو بلا تامل و تردّد پہچانتے ہیں مگر اس امر کو بعض تو ظاہر کرتے ہیں اور بعض دیدہ و دانستہ امرحق کو چھپاتے ہیں لیکن ان کے چھپانے سے کیا ہوتا ہے حق بات تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے ہو اہل کتاب مانیں یا نہ مانیں ان کی مخالفت سے کسی قسم کا تردد مت کرو۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر کسی کے واسطے ایک جانب ہے یعنی قبلہ کہ وہ منہ کرتا ہے اس طرف سو تم سبقت کرو نیکیوں میں جہاں کہیں تم ہو گے کر لائے گا تم کو اللہ اکٹھا بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے4

4 یعنی اللہ نے ہر ایک امت کے لئے ایک ایک قبلہ کا حکم فرمایا جس کی طرف بوقت عبادت اپنا منہ کیا کریں یا ہر ایک قوم مسلمان کعبہ سے جدا جُدا سمت میں واقع ہے کوئی مشرق میں کوئی مغرب میں سو اس میں جھگڑنا فضول اور اپنے قبلہ یا اپنی سمت پر ضد کرنا عبث ہے جو نیکیاں مقصود و مطلوب ہیں ان کی طرف البتہ پیش قدمی کرو اور اس بحث کو چھوڑو جس جگہ اور جس قبلہ اور جس سمت کعبہ کی طرف تم ہوگے لائے گا تم سب کو اللہ میدان حشر میں اور تمہاری نمازیں ایسی سمجھی جائیں گی گویا ایک ہی جہت کی طرف ہوئی ہیں پھر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو۔
Ayahs 2:149–150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جس جگہ سے تو نکلے سو منہ کر اپنا مسجد الحرام کی طرف اور بیشک یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں سے تو نکلے منہ کر اپنا مسجد الحرام کی طرف اور جس جگہ تم ہوا کرو منہ کرو اسی کی طرف5 تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جھگڑنے کا موقع مگر جو ان میں بےانصاف ہیں سو ان سے (یعنی ان کے اعتراضوں سے) نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو1 اور اس واسطے کہ کامل کروں تم پر فضل اپنا تاکہ تم پاؤ راہ سیدھی2

5 تحویل قبلہ کا حکم مکرر سہ مکرر یا تو اس واسطے بیان فرمایا کہ اس کی علل متعدد تھیں تو ہر علّت کو بتلانے کے لئے اس حکم کا اعادہ فرمایا (قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ) 2 ۔ البقرۃ :114) سے معلوم ہوا کہ اپنے رسول کی رضا جوئی اور اظہار تکریم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا اور لِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْہَا سے معلوم ہوا کہ عادت اللہ یہی ہے کہ ہر ملّت اور ہر ایک رسول صاحب شریعت مستقل کے لئے اس کے مناسب ایک قبلہ مقرر ہونا چاہیے اور (لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ) 2 ۔ البقرۃ :150) سے معلوم ہوا کہ حکم مذکور کی علت یہ ہے کہ مخالف کا الزام عائد نہ ہو سکے یا اس تکرار کی یہ وجہ ہے کہ اول تو قبلہ قابل اہتمام دوسرے احکام الہٰیہ میں نسخ ہونا بیوقوفوں کی سمجھ سے باہر پھر تحویل قبلہ اول نسخ ہے جو شریعت محمدی میں ظاہر ہوا اس لئے اسکی کی تاکید در تاکید عین حکمت و بلاغت ہے یا یہ وجہ ہے کہ اوّل آیت میں تعمیم احوال اور دوسری آیت میں تعمیم امکنہ اور تیسری میں تعمیم ازمنہ مراد ہے۔ 1 یعنی کعبہ کو منہ کرنے کا حکم اس واسطے ہوا کہ تورات میں مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور بنی آخر الزماں کو بھی اسی کی طرف منہ پھیرنے کا حکم ہوجائیگا تو آپ کو تحویل الی الکعبہ کا حکم نہ ہوتا تو یہود ضرور الزام لگاتے ادھر مشرکین مکہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کا قبلہ تو کعبہ تھا یہ نبی ملّت ابراہیمی کا دعویٰ کر کے پھر قبلہ میں خلاف کیوں کرتے ہیں تو اب دونوں کو حجۃ کرنے کا حق نہ رہا مگر بےانصاف اب بھی کچھ نہ کچھ الزام لگائے ہی جائینگے مثلا قریش کہیں گے کہ ان کو ہمارے قبلہ کا حق ہونا اب معلوم ہوا تو اس کا اختیار کیا اسی طرح پر ہمارے اور احکام بھی رفتہ رفتہ منظور کرلیں گے اور یہود کہیں گے کہ ہمارے قبلہ کی حقانیت ظاہر ہونے اور تسلیم کرلینے کے بعد محض حسد اور نفسانیت کے باعث اپنی رائے اس کو چھوڑ دیا تو ایسے بےانصافوں کے اعتراض کی کچھ پرواہ مت کرو اور ہمارے حکم کے تابع رہو۔ 2 یعنی یہ قبلہ ہم نے تمہارے لئے اس واسطے مقرر فرمایا کہ دشمنوں کے طعن سے بچو اور اس کے سبب سے ہمارے انعام و اکرام و برکات و انوار اور ہدایت کے پورے مستحق ہو۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں کا پڑھتا ہے تمہارے آگے آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تم کو اور سکھلاتا ہے تم کو کتاب اور اس کے اسرار اور سکھاتا ہے تم کو جو تم نہ جانتے تھے3

3 یعنی یہ اتمام نعمت اور تکمیل ہدایت تم پر ایسی ہوئی جیسی ابتداء میں تم پر یہ اتمام نعمت و ہدایت ہوچکی ہے کہ تم میں ہی سے ایک رسول ایسا بھیجا جو تم کو احکام خداوندی سمجھا دے اور تم کو بری باتوں سے پاک کرے یعنی علما اور عملا تم کو کامل بنا دے۔
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو4

4 جب ہماری طرف سے تم پر اتمام نعمت مکرر ہوچکا تو اب تم کو لازمی ہے کہ ہم کو زبان سے دل سے فکر سے ہر طرح سے یاد کرو اور اطاعت کرو ہم تم کو یاد کریں گے یعنی نئی نئی رحمتیں اور عنایتیں تم پر ہوتی رہیں گی اور ہماری نعمتوں کا شکر خوب ادا کرتے رہو اور ہماری ناشکری اور معصیت سے بچتے رہو۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے مسلمانو ! مدد لو صبر اور نماز سے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے5

5 چونکہ ذکر اور شکر اور ترک کفران جو پہلے مذکور ہوئے تمام طاعات اور منہیات شرعیہ کو محیط ہیں جن کا انجام دینا دشوار امر ہے اس کی سہولت کیلئے یہ طریقہ بتلایا گیا کہ صبر اور صلوٰۃ سے مدد لو کہ ان کی مداومت سے تمام امور تم پر سہل کردیئے جائیں گے اور اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جہاد میں محنت اٹھاؤ جس کا ذکر آگے آتا ہے کہ اس میں صبر اعلیٰ درجہ کا ہے۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور نہ کہو ان کو جو مارے گئے خدا کی راہ میں کہ مردے ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو خبر نہیں6

6 یعنی جس نے اللہ کے لئے جان دی وہ اس جہان میں جیتے ہیں مگر تم کو ان کی زندگی کی خبر اور اس کی کیفیت معلوم نہیں اور یہ سب صبر کا نتیجہ ہے۔
Ayah 2:155

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور تھوڑی سی بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے7 اور خو شخبری دے ان صبر کرنیوالوں کو

7 پہلے تو ان کا ذکر تھا جنہوں نے صبر کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا یعنی شہداء اب فرماتے ہیں کہ تمہارا علی العموم تھوڑی تھوڑی تکلیف اور مصیبت میں وقتا فوقتا امتحان لیا جائیگا اور تمہارے صبر کو دیکھا جائیگا صابرین میں داخل ہونا کچھ سہل نہیں اسی واسطے پہلے سے متنبہ فرما دیا۔
Ayahs 2:156–157

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب پہنچے ان کو کچھ مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانیوالے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر8

8 یعنی جن لوگوں نے ان مصائب پر صبر کیا اور کفران نعمت نہ کیا بلکہ ان مصائب کو وسیلہ ذکر و شکر بنایا تو ان کو اے پیغمبر ہماری طرف سے بشارت سنا دو ۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ نشانیوں میں سے ہیں اللہ کی9 سو جو کوئی حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ تو کچھ گناہ نہیں اس کو کہ طواف کرے ان دونوں میں اور جو کوئی اپنی خوشی سے کرے کچھ نیکی تو اللہ قدرداں ہے سب کچھ جاننے والاف 1

9 پہلے ذکر تھا تحویل الی الکعبہ کا اور کعبہ کے سب قبلوں سے افضل ہونے کا، اب اس کے محل ادائے حج وعمرہ ہونے کو بیان فرماتے ہیں تاکہ (ولاتم نعمتی علیکم) کی تصدیق اور تکمیل خوب ہوجائے یا یوں کہیئے کہ اس سے پہلے صبر کی فضیلت مذکور تھی اب یہ فرمایا کہ دیکھو صفاو مروہ جو شعائر اللہ میں داخل ہوئیں اور ان میں سعی کرنا حج وعمرہ میں ضروری ہوا اس کی وجہ یہی تو ہے کہ یہ فعل صابرین یعنی حضرت ہاجرہ اور ان کے صاحبزادہ حضرت اسماعیل کے آثار میں سے ہے حدیث و تفسیر و تاریخ میں یہ قصّہ مصرح مذکور و مشہور ہے جس کے دیکھنے سے ( ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :153) کی تصدیق ہوتی ہے۔ 1 صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں مکہ میں اہل عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہمیشہ حج کرتے رہے اور حج کرتے تو ان دو پہاڑیوں کا بھی طواف کرتے کفر کے زمانہ میں ان دو پہاڑیوں پر کفار نے دو بت رکھے تھے ان کی تعظیم کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ طواف ان دو بتوں کی تعظیم کے لئے ہے جب لوگ مسلمان ہوئے اور بت پرستی سے تائب ہوئے تو خیال ہوا کہ صفا اور مروہ کا طواف تو ان بتوں کی تعظیم کے لئے تھا جب بتوں کی تعظیم حرام ہوئی تو صفا اور مروہ کا طواف بھی ممنوع ہونا چاہیے یہ ان کو معلوم نہ تھا کہ صفا اور مروہ کا طواف تو اصل میں حج کے لئے تھا کفار نے اپنی جہالت سے بت رکھ چھوڑے تھے وہ دور ہوگئے اور انصار مدینہ چونکہ کفر کے زمانہ میں صفا اور مروہ کے طواف کو برا جانتے تھے تو اسلام کے بعد بھی ان کو اس طواف میں خلجان ہوا اور آپ سے عرض کیا کہ ہم پہلے سے اس کو مذموم جانتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فریق اول اور ثانی دونوں کو بتلا دیا گیا کہ صفا اور مروہ کے طواف میں کوئی گناہ اور خرابی نہیں، یہ تو اصل سے اللہ کی نشانیاں ہیں ان کا طواف کرنا چاہیئے۔
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں بعد اس کے کہ ہم ان کو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں2 ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے3

2 اس سے مراد ہیں یہود کہ تورات میں جو آپ کی تصدیق تھی اس کو اور تحویل قبلہ وغیرہ امور کو چھپاتے تھے اور جس نے غرض دنیا کے واسطے اللہ کے حکم کو چھپایا وہ سب اس میں داخل ہیں۔ 3 لعنت کرنے والے یعنی جنّ و انس و ملائکہ بلکہ اور سب حیوانات کیونکہ ان کی حق پوشی کے وبال میں جب عالم کے اندر قحط، وباء اور طرح طرح کی بلائیں پھیلتی ہیں تو حیوانات بلکہ جمادات تک کو تکلیف ہوتی ہے اور سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کام کو اور بیان کردیا حق بات کو تو ان کو معاف کرتا ہوں4 اور میں ہوں بڑا معاف کر نیوالا نہایت مہربان

4 یعنی اگرچہ ان کی حق پوشی کے باعث آدمی گمراہی میں پڑگئے لیکن جب انہوں نے حق پوشی سے توبہ کر کے اظہار حق پوری طرح کردیا تو اب بجائے لعنت ہم ان پر رحمت نازل فرماتے ہیں کیونکہ ہم توّاب و رحیم ہیں۔