2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے8 پھر اگر تم روک دیئے جاؤ تو تم پر ہے جو کچھ کہ میسر ہو قربانی سے اور حجامت نہ کرو اپنے سروں کی جب تک پہنچ نہ چکے قربانی اپنے ٹھکانے پر9 پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کو تکلیف ہو سر کی تو بدلا دیوے روزے یا خیرات یا قربانی1 پھر جب تمہاری خاطر جمع ہو تو جو کوئی فائدہ اٹھائے عمرہ کو ملا کر حج کے ساتھ تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی سے2 پھر جس کو قربانی نہ ملے تو روزے رکھے تین حج کے دنوں میں اور سات روزے جب لوٹو یہ دس روزے ہوئے پورے3 یہ حکم اس کے لئے ہے جس کے گھر والے نہ رہتے ہوں مسجد الحرام کے پاس4 اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے

8 حج کے ضمن میں جہاد کا ذکر جو مناسب تھا اس کو بیان فرما کر اب احکام حج وعمرہ بتلائے جاتے ہیں۔ 9 مطلب یہ ہے کہ جب کسی نے حج یا عمرہ شروع کیا یعنی اس کا احرام باندھا تو اس کو پورا کرنا لازم ہوگیا۔ بیچ میں چھوڑ بیٹھے اور احرام سے نکل جائے یہ نہیں ہوسکتا لیکن اگر کوئی دشمن یا مرض کی وجہ سے بیچ ہی میں رک گیا اور حج وعمرہ نہیں کرسکتا تو اس کے ذمہ پر ہے قربانی جو اس کو میسر آئے جس کا ادنیٰ مرتبہ ایک بکری ہے اس قربانی کو کسی کے ہاتھ مکہ کو بھیجے اور یہ مقرر کر دے کہ فلاں روز اس کو حرم مکہ میں پہنچ کر ذبح کردینا اور جب اطمینان ہوجائے کہ اب اپنے ٹھکانے یعنی حرم میں پہنچ کر اس کی قربانی ہوچکی ہوگی اس وقت سر کی حجامت کرا دے اس سے پہلے ہرگز نہ کرائے اس کو دم احصار کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ سے رکنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ 1 یعنی اگر حالت احرام میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں درد یا سر میں زخم ہو تو اس کو بضرورت حالت احرام میں حجامت کرنا سر کا جائز ہے مگر بدلا دینا پڑیگا۔ تین روزے یا چھ محتاجوں کو کھانا کھلانا یا ایک دنبے یا بکرے کی قربانی کرنا۔ یہ دم جنایت ہے کہ حالت احرام میں بضرورت مرض لاچار ہو کر امور مخالف احرام کرنے پڑے۔ 2 یعنی جو محرم کہ دشمن کی طرف سے اور مرض سے مطمئن ہو خواہ اس کو کسی قسم کا اندیشہ پیش ہی نہ آیا یا دشمن کا خوف یا بیماری کا کھٹکا پیش تو آیا مگر جلد زائل ہوگیا احرام حج وعمرہ میں اس سے خلل نہ آنے پایا تو اس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے حج اور عمرہ دونوں ادا کئے، یعنی قران میں تمتع کیا افراد نہیں کیا تو اس پر قربانی ایک بکرا، یا ساتواں حصہ اونٹ کا یا گائے کا لازم ہے اس کو دم قران اور دم تمتع کہتے ہیں امام ابوحنیفہ اس کو دم شکر کہتے ہیں اور اس کو اس میں سے کھانے کی اجازت دیتے ہیں اور امام شافعی اس کو دم جبر کہتے ہیں اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ 3 یعنی جس نے قران یا تمتع کیا اور اس کو قربانی میسر نہ ہوئی تو اس کو چاہیے کہ تین روزے رکھے حج کے دنوں میں جو کہ یوم عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ پر ختم ہوتے ہیں اور سات روزے جب رکھے کہ حج سے بالکل فارغ ہوجائے دونوں کا مجموعہ دس روزے ہوگیا۔ 4 یعنی قران و تمتع اس کے لئے ہے جو مسجد حرام یعنی حرم مکہ کے اندر یا اس کے قریب نہ رہتا ہو بلکہ حل یعنی خارج از میقات کا رہنے والا ہو اور جو حرم مکہ کے رہنے والے ہیں وہ صرف افراد کریں۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے چند مہینے ہیں معلوم5 پھر جس نے لازم کرلیا ان میں حج تو بےحجاب ہو ناجائز نہیں عورت سے اور نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانہ میں اور جو کچھ تم کرتے ہو نیکی اللہ اس کو جانتا ہے6 اور زادراہ لے لیا کرو کہ بیشک بہتر فائدہ زادِراہ کا بچنا ہے مجھ سے ڈرتے رہو اے عقلمندو7

5 شوال کے غرہ سے لے کر بقر عید کی صبح یعنی ذی الحجہ کی دسویں رات تک ان کا نام اشہر حج ہے اس لئے کہ احرام حج ان کے اندر ہوتا ہے اگر اس سے پہلے کوئی احرام حج کا باندھے گا تو وہ ناجائز یا مکروہ ہوگا یعنی حج کے لئے چند مہینے مقرر ہیں اور سب کو معلوم ہیں۔ مشرکین عرب جو اپنی ضرورت میں ان میں تغیر تبدّل کرتے تھے جس کو دوسری آیت میں (اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ) 9 ۔ التوبہ :37) فرمایا گیا ہے۔ یہ بالکل بےاصل اور باطل ہے۔ 6 حج لازم کیا یعنی احرام حج کا باندھا اس طرح پر کہ دل سے نیت کی اور زبان سے تلبیہ پڑھا۔ 7 ایک غلط دستور کفر میں یہ بھی تھا کہ بغیر زاد راہ خالی ہاتھ حج کو جانا ثواب سمجھتے اور اس کو توکّل کہتے اور وہاں جا کر ہر ایک سے مانگتے پھرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن کو مقدور ہو وہ خرچ ہمراہ لے جائیں تاکہ خود تو سوال سے بچیں اور لوگوں کو حیران نہ کریں۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

کچھ گناہ نہیں تم پر کہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا8 پھر جب طواف کے لئے لوٹو عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعرالحرام کے9 اور اس کو یاد کرو جس طرح تم کو سکھلایا اور بیشک تم تھے اس سے پہلے ناواقف1

8 حج کے سفر میں اگر سوداگری بھی کرو تو گناہ نہیں بلکہ مباح ہے لوگوں کو اس میں شبہ ہوا تھا کہ شاید تجارت کرنے سے حج میں نقصان آئے اب جس کو مقصود اصلی حج ہو اور اس کے ذیل میں تجارت بھی کرلے تو اس کے ثواب میں نقصان نہ آئے گا۔ 9 مشعرالحرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے اس پہاڑ پر قیام کرنا افضل ہے اور تمام مزدلفہ میں جہاں قیام کرے جائز ہے سوائے وادی مُحَسَّر کے۔ 1 یعنی کفار بھی اللہ کا ذکر تو کرتے تھے مگر شرک کے ساتھ وہ ذکر نہ چاہیے بلکہ توحید کے ساتھ جس کی تم کو ہدایت فرمائی۔
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر طواف کے لئے پھرو جہاں سے سب لوگ پھریں اور مغفرت چاہو اللہ سے بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے مہربان2

2 زمانہ کفر کی ایک غلطی یہ بھی تھی کہ مکہ کے لوگ عرفات تک نہ جاتے کہ عرفات حرم سے باہر ہے بلکہ حرم کی حد یعنی مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور قریش مکہ کے سوا اور سب عرفات تک پہنچتے اور پھر وہاں سے طواف کے لئے مکہ کو واپس آتے اس لئے فرما دیا کہ جہاں سے سب لوگ طواف کو آئیں تم بھی وہیں سے جا کر لوٹو یعنی عرفات سے اور اگلی تقصیر پر نادم ہو۔
Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب پورے کر چکو اپنے حج کے کام کو تو یاد کرو اللہ کو جیسے تم یاد کرتے تھے اپنے باپ دادوں کو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو3 پھر کوئی آدمی تو کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں اور اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں

3 یعنی دسویں ذی الحجہ کو جب افعالِ حج رمی جمرہ اور ذبح قربانی اور سر منڈوانے اور طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ سے فراغت پا چکو تو زمانہ قیام منیٰ میں اللہ کا ذکر کرو جیسے کفر کے زمانہ میں اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس بےبھی زیادہ ذکر کرنا چاہیئے۔ ان کا قدیم دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں تین روز قیام کرتے اور بازار لگاتے اور اپنے باپ دادا کی بڑائی اور فضائل بیان کیا کرتے سو اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا اور فرما دیا کہ ان دنوں میں خدا تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔
Ayahs 2:201–202

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی ان میں کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی اور بچا ہم کو عذاب دوزخ سے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

انہی لوگوں کے واسطے حصہ ہے اپنی کمائی سے4 اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے5

4 پہلے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اوروں کا مت کرو اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعا مانگنے والے بھی دو قسم کے ہیں ایک وہ کہ جن کو مطلوب صرف دنیا ہے ان کی دعا یہی ہے کہ ہم کو جو کچھ دولت عزت وغیرہ دی جائے دنیا ہی میں دے دی جائے سو یہ لوگ تو آخرت کی نعمتوں سے بےبہرہ ہیں دوسرے وہ کہ طالب آخرت ہیں جو دنیا کی خوبی یعنی توفیق بندگی وغیرہ اور آخرت کی خوبی یعنی ثواب اور رحمت و جنت دونوں کو طلب کرتے ہیں سو ایسوں کو آخرت میں ان کے حج اور دعا جملہ حسنات سے پورا حصہ ملے گا۔ 5 یعنی قیامت کو سب سے ایک دم میں حساب لے گا یا یوں کہو کہ قیامت کو دور نہ سمجھو بلکہ جلد آنے والی ہے اس سے کسی طرح بچاؤ ممکن نہیں اس کی فکر سے غافل مت ہو۔
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور یاد کرو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں6 پھر جو کوئی جلدی چلا گیا دو ہی دن میں تو گناہ نہیں اس پر اور جو کوئی رہ گیا تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں جو کہ ڈرتا ہے7 اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو بیشک تم سب اسی کے پاس جمع ہو گے8

6 ایام معدودات سے مراد ذی الحجہ کی گیا رھویں، بارھویں، تیرھویں، تاریخیں ہیں جن میں حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں قیام کا حکم ہے ان دنوں میں رمی جمار یعنی کنکریوں کے مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے اور دیگر اوقات میں بھی ان دنوں میں چاہیے کہ تکبیر اور ذکر الہٰی کثرت سے کرے۔ 7 یعنی گناہ تو یہ ہے کہ ممنوعات شرعیہ سے پرہیز نہ کرے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اور زمانہء حج میں پرہیزگاری کرے تو پھر اس بات میں کچھ گناہ نہیں کہ منیٰ میں دو دن قیام کیا یا تین دن کہ اللہ نے دونوں باتیں جائز رکھیں گو افضل یہی ہے کہ تین روز قیام کرے۔ 8 یعنی حج کی خصوصیت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہر کام میں اور ہر وقت ڈرتے رہو کہ تم سب کو قبروں سے اٹھ کر اس کے پاس جمع ہونا ہے حساب دینے کو اب حج کا ذکر تو تمام ہوچکا مگر حج کے ذیل میں جو لوگوں کی دو قسموں کا ذکر آگیا تھا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُول اور وَ مِنْھُمْ مَنْ یَّقُول یعنی کافر اور مومن کا تو اب اس کی مناسبت سے تیسری قسم یعنی منافق کا حال بھی بیان کیا جاتا ہے۔
Ayahs 2:204–206

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور بعض آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑالو ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو آمادہ کرے اس کو غرور گناہ پر سو کافی ہے اس کو دوزخ اور وہ بیشک برا ٹھکانا ہے1

1 یہ حال ہے منافق کا ظاہر میں خوشامد کرے اور اللہ کو گواہ کرے کہ میں سچا ہوں اور میرے دل میں اسلام کی محبت ہے اور جھگڑے کے وقت کمی نہ کرے اور قابو پا دے تو لوٹ مار مچا دے اور منع کرنے سے اس کو زیادہ ضد چڑھے اور گناہ میں ترقی کرے، کہتے ہیں ایک شخص اخنس ابن شریق تھا منافق فصیح وبلیغ جب آپ ﷺ کی خدمت میں آتا تو غایت اخلاص اور محبت اسلام ظاہر کرتا اور جب چلا جاتا تو کسی کی کھیتی جلا دیتا کسی کے جانوروں کے پیر کاٹ ڈالتا اس پر منافقین کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 2:207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے کہ بیچتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا جوئی میں2 اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر3

2 پہلی آیت میں اس منافق کا ذکر تھا جو دین کے بدلے دنیا لیتا تھا اس کے مقابلہ میں اب اس آیت میں اس مخلص کامل الایمان کا ذکر ہے جو دنیا اور جان و مال کو طلب دین میں صرف کرتا ہے۔ کہتے ہیں حضرت صہیب رومی بارادہ ہجرت آپ ﷺ کی خدمت میں آتے تھے راستہ میں مشرکین نے ان کو گھیر لیا صہیب نے کہا کہ میں اپنا گھر اور تمام مال تم کو اس شرط پر دیتا ہوں کہ مجھ کو مدینہ جانے دو اور ہجرت سے نہ روکو اس پر وہ راضی ہوگئے اور صہیب آپ ﷺ کی خدمت میں چلے گئے اس پر یہ آیت مخلصین کی تعریف میں نازل ہوئی۔ 3 اس کی کتنی بڑی رحمت ہے کہ اپنے بندوں کو توفیق دی جو اسکی خوشی میں اپنی جان اور مال حاضر کردیتے ہیں اور نیز ہر ایک کی جان و مال تو اللہ کی ملک ہے پھر جنت کے بدلے اس کو خریدنا یہ محض اس کا احسان ہے۔
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے4 اور مت چلو قدموں پر شیطان کے بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے5

4 پہلی آیت میں مومن مخلص کی مدح فرمائی تھی جس سے نفاق کا ابطال منظور تھا، اب فرماتے ہیں کہ اسلام کو پورا پورا قبول کرو یعنی ظاہر اور باطن اور عقیدہ اور عمل میں صرف احکام اسلام کا اتباع کرو یہ نہ ہو کہ اپنی عقل یا کسی دوسرے کے کہنے سے کوئی حکم تسلیم کرلو یا کوئی عمل کرنے لگو سو اس سے بدعت کا قلع قمع مقصود ہے کیونکہ بدعت کی حقیقت یہی ہے کہ کسی عقیدہ یا کسی عمل کو کسی وجہ سے مستحسن سمجھ کر اپنی طرف سے دین میں شمار کرلیا جائے مثلا نماز اور روزہ جو کہ افضل عبادات ہیں اگر بدون حکم شریعت کوئی اپنی طرف سے مقرر کرنے لگے جیسے عید کے دن عید گاہ میں نوافل کا پڑھنا یا ہزارہ روزہ رکھنا یہ بدعت ہوگا، خلاصہ ان آیات کا یہ ہوا کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لاؤ اور بدعات سے بچتے رہو چند حضرات یہود سے مشرف بہ اسلام ہوئے مگر احکام اسلام کے ساتھ احکام تورات کی بھی رعایت کرنی چاہتے تھے مثلا ہفتہ کے دن کو معظم سمجھنا اور اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام ماننا اور تورات کی تلاوت کرنا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس سے بدعت کا انسداد کامل فرمایا گیا۔ 5 کہ اپنے وسوسہ سے بےاصل چیزوں کو تمہارے دلنشین کردیتا ہے اور دین میں بدعات کو شامل کرا کر تمہارے دین کو خراب کرتا ہے اور تم اس کو پسند کرتے ہو۔
Ayah 2:209

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم پھسلنے لگو بعد اس کے کہ پہنچ چکے تم کو صاف حکم تو جان رکھو کہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والاف 6

6 یعنی شریعت محمدی کے صاف صاف احکام معلوم ہونے کے بعد بھی اگر کوئی اس پر قائم نہ ہو بلکہ دوسری طرف بھی نظر رکھے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ سب پر غالب ہے جس کو چاہے سزا دے کوئی اس کے عذاب کو روک نہیں سکتا بڑا حکمت والا ہے جو کرتا ہے حق اور مصلحت کے موافق کرتا ہے خواہ عذاب دے یا کچھ ڈھیل دے یعنی نہ جلد باز ہے نہ بھولنے والا نہ خلاف انصاف اور غیر مناسب امر کو کرنے والا۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا وہ اسی کی راہ دیکھتے ہیں کہ آوے ان پر اللہ ابر کے سائبانوں میں اور فرشتے اور طے ہوجاوے قصہ اور اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے سب کام7

7 یعنی جو لوگ حق تعالیٰ کے صاف صاف احکام کے بعد بھی اپنی کجروی سے باز نہیں آتے تو ان کو رسول اور قرآن پر تو یقین اور اعتماد نہ ہوا اب صرف اس کی کسر ہے کہ خدائے پاک خود اور اس کے فرشتے ان پر آئیں اور جزا اور سزا کا قصہ جو قیامت کو ہونے والا ہے آج ہی فیصل کیا جائے سو آخرکار سب امور حساب اور عذاب وغیرہ کا مرجع اللہ ہی کی طرف ہے تمام حکم اسی کے حضور سے صادر ہوں گے اس میں کوئی تردّد کی بات نہیں گھبراتے کیوں ہو۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

پو چھ بنی اسرائیل سے کس قدر عنایت کیں ہم نے ان کو نشانیاں کھلی ہوئی8 اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت بعد اس کے کہ پہنچ چکی ہو وہ نعمت اس کو تو اللہ کا عذاب سخت ہے9

8 اس سے پہلے فرمایا تھا کہ حق تعالیٰ کے صاف حکم کے بعد اس کی مخالفت کرنا موجب عذاب ہے اب اسی کی تائید میں فرماتے ہیں کہ خود بنی اسرائیل ہی سے پوچھو کہ ہم نے ان پر کتنی آیات واضحات اور صریح احکام بھیجے جب ان سے انحراف کیا تو مبتلائے عذاب ہوئے یہ نہیں کہ ہم نے اول ہی ان کو عذاب دیا ہو۔ 9 یعنی یہ قاعدہ البتہ محقق ہے کہ جو کوئی اللہ کے احکام سراپا ہدایت کو بدلے اور اس کے انعامات اور احسانات کا کفران کرے تو پھر اس کا عذاب سخت ہے آیات کے بدلنے والے پر کہ دنیا میں مارا جائے اور لوٹا جائے یا جزیہ دے اور ذلیل ہو۔ اور قیامت کو دوزخ میں جائے ہمیشہ کے لئے۔ فائدہ : نعمت کے پہنچ چکنے کا یہ مطلب کہ اس کا علم حاصل ہوجائے یا بےتکلف حاصل ہو سکے۔
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

فریفتہ کیا ہے کافروں کو دنیا کی زندگی پر اور ہنستے ہیں ایمان والوں کو10 اور جو پرہیزگار ہیں وہ ان کافروں سے بالا تر ہوں گے قیامت کے دن اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بیشمار1

10 یعنی کافر جو اللہ کے صاف احکام اور اس کے پیغمبروں کی مخالفت کرتے ہیں جو اوپر مذکور ہوچکا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظروں میں دنیا کی خوبی اور اس کی محبت ایسی سما گئی ہے کہ اس کے مقابلہ میں آخرت کے رنج اور راحت کو خیال ہی میں نہیں لاتے بلکہ مسلمان جو فکر آخرت میں مصروف اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں مشغول ہیں الٹا ان کو ہنستے ہیں اور ذلیل سمجھتے ہیں سو ایسے احمق نفس کے بندوں سے تعمیل احکام الہٰی ہو تو کیونکر ہو۔ روسائے مشرکین حضرت بلال اور عمار اور صہیب اور فقرائے مہاجرین کو دیکھ کر تمسخر کرتے کہ ان نادانوں نے آخرت کے خیال پر دنیا کی تکالیف اور مصائب کو اپنے سر لیا اور محمد ﷺ کو تو دیکھو کہ ان فقیروں محتاجوں کی امداد سے عرب کے سرداروں پر غالب آنا اور دنیا بھر کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ 1 اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہ ان کی جہالت اور خام خیالی ہے کہ دنیا پر ایسے غش ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہی غرباء اور فقراء قیامت کو ان سے اعلیٰ اور برتر ہوں گے اور اللہ دنیا و آخرت میں جس کو چاہے بیشمار روزی عطا فرمائے چناچہ انہی غریبوں کو جن پر کافر ہنستے تھے اموال بنی قریظہ اور نضیر اور سلطنت فارس اور روم وغیرہ پر اللہ نے مسلط کردیا۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

تھے سب لوگ ایک دین پر پھر بھیجے اللہ نے پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور اتاری ان کے ساتھ کتاب سچی کہ فیصلہ کرے لوگوں میں جس بات میں وہ جھگڑا کریں اور نہیں جھگڑا ڈالا کتاب میں مگر انہی لوگوں نے جن کو کتاب ملی تھی اس کے بعد کہ ان کو پہنچ چکے صاف حکم آپس کی ضد سے پھر اب ہدایت کی اللہ نے ایمان والوں کو اس سچی بات کی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے اور اللہ بتلاتا ہے جس کو چاہے سیدھا راستہ2

2 حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ایک ہی سچا دین رہا ایک مدت تک اس کے بعد دین میں لوگوں نے اختلاف ڈالا تو خدا تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا جو اہل ایمان وطاعت کو ثواب کی بشارت دیتے تھے اور اہل کفر و معصیت کو عذاب سے ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ سچی کتاب بھی بھیجی تاکہ لوگوں کا اختلاف اور نزاع دور ہو اور دین حق ان کے اختلافات سے محفوظ اور قائم رہے اور احکام الٰہی میں انہی لوگوں نے اختلاف ڈالا جن کو وہ کتاب ملی تھی جیسے یہود و نصاریٰ تورات و انجیل میں اختلاف و تحریف کرتے تھے اور یہ نزاع بےسمجھی سے نہیں کرتے تھے بلکہ خوب سمجھ کر محض حب دنیا اور ضد اور حسد سے ایسا کرتے تھے سوا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اہل ایمان کو طریقہ حق کی ہدایت فرمائی اور گمراہوں کے اختلافات سے بچا لیا جیسے آپ کی امت کو ہر عقیدہ اور ہر عمل میں امر حق کی تعلیم فرمائی اور یہود و نصاریٰ کے اختلاف اور افراط وتفریط سے ان کو محفوظ رکھا۔ فائدہ : اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ اللہ نے جو کتابیں اور نبی متعدد بھیجے تو اس واسطے نہیں کہ ہر فرقہ کو جدا طریقہ بتلایا ہو بلکہ سب کے لیے اللہ نے اصل میں ایک ہی راستہ مقرر کیا جس وقت اس راہ سے بہکے تو اللہ نے نبی کو بھیجا اور کتاب اتاری کہ اس کے موافق چلیں اس کے بعد پھر بہکے تو دوسرا نبی اور کتاب اللہ پاک نے اسی ایک راہ کے قائم کرنے کو بھیجا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ تندرستی ایک ہے اور بیماریاں بیشمار جب ایک مرض پیدا ہوا تو اس کے موافق دوا اور پرہیز فرمایا جب دوسرا مرض پیدا ہوا تو دوسری دوا اور پرہیز اس کے موافق فرمایا اب آخر میں ایسا طریقہ اور قاعدہ فرما دیا جو سب بیماریوں سے بچائے اور سب کے بدلے کفایت کرے اور وہ طریقہ اسلام ہے جس کے لیے پیغمبر آخرالزمان ﷺ اور قرآن شریف بھیجے گئے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوگئی کہ سنت اللہ یہی جاری ہے کہ برے لوگ ہر نبی مبعوث کے خلاف ہر کتاب الٰہی میں اختلاف کو پسند کرتے رہے اور اس میں ساعی رہے تو اب اہل ایمان کو کفار کی بدسلوکی اور فساد سے تنگدل ہونا نہ چاہیے۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ تم پر نہیں گزرے حالات ان لوگوں جیسے جو ہوچکے تم سے پہلے کہ پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور جھڑ جھڑائے گئے یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے کب آوے گی اللہ کی مدد سن رکھو اللہ کی مدد قریب ہے3

3 پہلے مذکور ہوا کہ دشمنوں کے ہاتھ سے انبیاء اور ان کی امتوں کو ہمیشہ ایذائیں ہوئیں تو اب اہل اسلام کو ارشاد ہے کہ کیا تم کو اس بات کی طمع ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ حالانکہ اگلی امتوں کو جو ایذائیں پیش آئیں وہ تم کو پیش نہیں آئیں کہ ان کو فقر و فاقہ اور مرض اور خوف کفار اس درجہ کو پیش آئے کہ مجبور اور عاجز ہو کر نبی اور ان کی امت بول اٹھی کہ دیکھئے اللہ نے جس مدد اور اعانت کا وعدہ فرمایا تھا وہ کب آئے گی ' یعنی بتقضائے بشریت پریشانی کی حالت میں مایوسانہ کلمات سرزد ہونے لگے۔ انبیاء اور مومنین کا یہ کہنا کچھ شک کی وجہ سے نہ تھا حضرت مولانا اسی کی بابت مثنوی میں فرماتے ہیں درگماں افتاد جان انبیاء زاتفاق منکری اشقیاء بلکہ بحالت اضطرار بمقتضائے بشریت اس کی نوبت آئی جس میں کوئی ان پر الزام نہیں جب نوبت یہاں تک پہنچی تو رحمت الٰہی متوجہ ہوئی اور ارشاد ہوا کہ ہوشیار ہوجاؤ اللہ کی مدد آگئی گھبراؤ نہیں سوائے مسلمانوں تکالیف دنیاوی سے اور دشمنوں کے غلبہ سے گھبراؤ نہیں تحمل کرو اور ثابت قدم رہو۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں4 کہہ دو کہ جو کچھ تم خرچ کرو مال سو ماں باپ کے لئے اور قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافروں کے اور جو کچھ کرو گے تم بھلائی سو وہ بیشک اللہ کو خوب معلوم ہے1

4 آیات سابقہ میں کلیۃً یہ مضمون بہت تاکید سے بیان ہوا کہ کفر و نفاق کو چھوڑو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہو حکم الٰہی کے مقابل کسی کی مت سنو اللہ کی خوشی میں جان و مال خرچ کرو اور ہر طرح کی شدت اور تکلیف پر تحمل کرو اب یہاں سے اسی کلیہ کے متعلق جزئیات کی تفصیل بیان ہوتی ہے جو کہ مال اور جان اور دیگر معاملات مثل نکاح و طلاق وغیرہ کے متعلق ہیں تاکہ اس کلیہ کی تحقیق و تاکید خوب ذہن نشین ہوجائے۔ 1 بعض اصحاب جو مالدار تھے انہوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ مال میں سے خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں اس پر یہ حکم ہوا کہ قلیل خواہ کثیر جو کچھ خدا کے لیے خرچ کرو وہ والدین اوراقارب اور یتیم محتاج اور مسافروں کے لیے ہے یعنی حصول ثواب کے لیے خرچ کرنا چاہو تو جتنا چاہو کرو اس کی کوئی تعیین و تحدید نہیں البتہ یہ ضروری ہے کہ جو مواقع ہم نے بتلائے ان میں صرف کرو۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

فرض ہوئی تم پر لڑائی2 اور وہ بری لگتی ہے تم کو3 اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے4

2 یعنی دین کے دشمنوں سے لڑنا فرض ہوا۔ فائدہ : جب تک آپ ﷺ مکہ میں رہے آپ ﷺ کو مقاتلہ کی اجازت نہ ہوئی جب مدینہ کو ہجرت فرمائی تو مقابلہ کی اجازت ہوئی مگر صرف ان کفار سے کہ جو خود اہل اسلام سے مقاتلہ کریں اس کے بعد علیٰ العموم کفار سے مقاتلہ کی اجازت ہوگئی اور جہاد فرض ہوا اگر دشمنان دین مسلمانوں پر چڑھائی کریں تو مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ بشرطیکہ جملہ شرائط جہاد جو کتب فقہ میں مذکور ہیں پائی جائیں البتہ جن لوگوں سے مسلمان مصالحت اور معاہدہ کرلیں یا ان کی امن اور حفاظت میں آجائیں تو ان سے لڑائی کرنا یا ان کے مقابلہ میں ان کے کسی مخالف کو مدد دینا ہرگز مسلمانوں کو جائز نہیں۔ 3 برے لگنے کا مطلب یہ ہے کہ نفس کو دشوار اور گراں معلوم ہوتا ہے یہ نہیں کہ قابل رد و انکار نظر آئے اور مخالف حکمت و مصلحت سمجھا جائے اور موجب ناخوشی اور تنفر ہو سو اتنی بات میں کوئی الزام نہیں جب انسان کو بالطبع زندگی سے زیادہ کوئی چیز مرغوب نہیں تو ضرور مقاتلہ سے زیادہ دشوار کوئی شے نہ ہونی چاہیے۔ 4 یعنی یہ بات ضروری نہیں کہ جس چیز کو تم اپنے حق میں نافع یا مضر سمجھو وہ واقعہ میں بھی تمہارے حق میں ویسی ہی ہوا کرے بلکہ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اپنے لیے مضر سمجھو اور وہ مفید ہو اور کسی چیز کو مفید خیال کرلو اور وہ سفر ہو تم نے تو سمجھ لیا کہ جہاد میں جان و مال سب کا نقصان ہے اور ترک جہاد میں دونوں کی حفاظت اور یہ نہ جانا کہ جہاد میں دنیا اور آخرت کے کیا کیا منافع ہیں اور اس کے ترک میں کیا کیا نقصان ہیں تمہارے نفع نقصان کو خدا ہی خوب جانتا ہے تم اسے نہیں جانتے اس لیے وہ جو حکم دے اس کو حق سمجھو اور اپنے اس خیال کو چھوڑو۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں مہینہ حرام کو کہ اس میں لڑنا کیسا5 کہہ دے لڑائی اس میں بڑا گناہ ہے6 اور روکنا اللہ کی راہ سے اور اس کو نہ ماننا اور مسجد الحرام سے روکنا اور نکال دینا اس کے لوگوں کو وہاں سے اس سے بھی زیادہ گناہ ہے اللہ کے نزدیک7 اور لوگوں کو دین سے بچلانا قتل سے بھی بڑھ کر ہے8 اور کفار تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ تم کو پھیر دیں تمہارے دین سے اگر قابو پاویں9 اور جو کوئی پھرے تم میں سے اپنے دین سے پھر مرجاوے حالت کفر ہی میں تو ایسوں کے ضائع ہوئے عمل دنیا اور آخرت میں اور وہ لوگ رہنے والے ہیں دوزخ میں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے10

5 حضرت فخر عالم ﷺ نے اپنی ایک جماعت کافروں کے مقابلہ کو بھیجی انہوں نے کافروں کو مارا اور مال لوٹ لائے۔ مسلمان تو جانتے تھے کہ وہ اخیر دن جمادی الثانی کا ہے اور وہ رجب کا غرہ تھا ' جو کہ اشہر حرم میں داخل ہے کافروں نے اس پر بہت طعن کیا کہ محمد ﷺ نے حرام مہینہ کو بھی حلال کردیا اور اپنے لوگوں کو حرام مہینہ میں لوٹ مار کی اجازت دے دی مسلمانوں نے حاضر ہو کر آپ ﷺ سے پوچھا کہ ہم سے شبہ میں یہ کام ہوا اس کا کیا حکم ہے تب یہ آیت اتری۔ 6 یعنی شہر حرام میں قتال کرنا بیشک گناہ کی بات ہے لیکن حضرات صحابہ نے تو اپنے علم کے موافق جمادی الثانی میں جہاد کیا تھا شہر حرام یعنی رجب میں نہیں کیا اس لیے مستحق عفو ہیں ان پر الزام لگانا بےانصافی ہے۔ 7 یعنی لوگوں کو اسلام لانے سے روکنا اور خود دین اسلام کو تسلیم نہ کرنا اور زیارت بیت اللہ سے لوگوں کو روکنا اور مکہ کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا یہ باتیں شہر حرام میں مقاتلہ کرنے سے بھی زیادہ گناہ ہیں اور کفار برابر یہ حرکات کرتے تھے خلاصہ یہ کہ شہر حرام میں بلاوجہ اور ناحق لڑنا بیشک اشد گناہ ہے مگر جو لوگ کہ حرم میں بھی کفر پھیلائیں اور بڑے بڑے فساد کریں اور اشہر حرم میں بھی مسلمانوں کے ستانے میں قصور نہ کریں ان سے لڑنا منع نہیں علاوہ ازیں جب مشرکین ایسے امور شنیعہ میں سرگرم ہیں تو ایک تھوڑے قصور پر مسلمانوں کی نسبت طعن کرنا جو ان سے بوجہ لاعلمی صادر ہوا بڑی شرم کی بات ہے۔ 8 یعنی دین میں فتنہ اور فساد ڈالنا تاکہ لوگ دین حق کو قبول نہ کریں اس قتل سے بدرجہا مذموم ہے جو مسلمانوں سے شہر حرام میں واقع ہوا مشرکین کی عادت تھی کہ دین اسلام کی باتوں میں طرح طرح سے خدشات کیا کرتے تھے تاکہ لوگ شبہ میں پڑجائیں اور اسلام کو قبول نہ کریں چناچہ اسی قصہ میں کہ مسلمانوں سے شہرحرام میں بوجہ لاعلمی قتل واقع ہوا اس پر مشرکین نے جو زبان درازی کی تو اس سے مقصود یہی تھا کہ لوگ قبول اسلام سے متنفر ہوجائیں تو خلاصہ یہ ہوا کہ مسلمانوں سے جو قتل صادر ہوا اس پر مشرکین کا طعن کرنا اس وجہ سے کہ لوگ دین حق سے بچ جائیں قتل مذکور سے بدرجہا مذموم و شنیع ہے۔ 9 یعنی جب تک تم دین حق پر قائم رہو گے یہ مشرکین کسی حالت میں اور کسی موقع پر بھی تمہارے مقاتلہ اور مخالفت میں کمی نہیں کریں گے۔ حرم مکہ اور شہر حرام ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ عمرہ حدیبیہ میں پیش آیا نہ حرم مکہ کی حرمت کی اور نہ شہر حرام کی بلاوجہ محض عناد سے مارنے مرنے کو مستعد ہوگئے اور مسلمانوں کے مکہ میں جانے اور عمرہ کرنے کے روا دار نہ ہوئے پھر ایسے معاندین کے طعن تشنیع کی کیا پروا کی جائے اور ان سے مقاتلہ کرنے میں شہر حرام کی وجہ سے کیوں رکا جائے۔ 10 یعنی دین اسلام سے پھرجانا اور اسی حالت پر اخیر تک قائم رہنا ایسی سخت بلا ہے کہ عمر بھر کے نیک کام ان کے ضائع ہوجاتے ہیں کہ کسی بھلائی کے مستحق نہیں رہتے دنیا میں ان کی جان و مال محفوظ رہے نہ نکاح قائم رہے نہ انکو میراث ملے نہ آخرت میں ثواب ملے اور نہ کبھی جہنم سے نجات نصیب ہو، ہاں اگر پھر اسلام قبول کرلیا تو صرف اس اسلام کے بعد کے اعمال حسنہ کی جزا پوری ملے گی۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور لڑے اللہ کی راہ میں وہ امیدوار ہیں اللہ کی رحمت کے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے1

1 آیت سابقہ سے جماعت اصحاب مذکورہ بالا کو یہ تو معلوم ہوگیا کہ ہمارے اوپر اس بارے میں کوئی مواخذہ نہیں مگر یہ تردّد ان کو تھا کہ دیکھئے اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں اس پر یہ آیت اتری کہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے واسطے اس کے دشمنوں سے لڑے اپنی کوئی غرض اس لڑائی میں نہ تھی وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے مستحق رہیں، اور اللہ اپنے بندوں کی خطائیں بخشنے والا اور ان پر انعام فرمانے والا ہے وہ ایسے تابعداروں کو محروم نہ کرے گا۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں حکم شراب کا اور جوئے کا2 کہہ دے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدہ سے3 اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دے جو بچے اپنے خرچ سے4 اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے حکم تاکہ تم فکر کرو دنیا و آخرت کی باتوں میں5

2 شراب اور جوئے کے حق میں کئی آیتیں اتریں ہر ایک میں ان کی برائی ظاہر کی گئی آخر سورة مائدہ کی آیت میں صاف ممانعت کردی گئی اب جو چیزیں نشہ لادیں وہ سب حرام ہیں اور جو شرط باندھی جائے کسی چیز پر جس میں ہار اور جیت ہو وہ محض حرام ہے اور ایک طرف کی شرط حرام نہیں۔ 3 شراب پینے سے عقل جاتی رہتی ہے جو تمام امور شنیعہ سے بچاتی ہے اور لڑائی اور قتل وغیرہ طرح طرح کی خرابیوں کی نوبت آتی ہے اور مختلف قسم کے امراض روحانی اور جسمانی پیدا ہوتے ہیں جو بسا اوقات باعث ہلاکت ہوتے ہیں اور جوا کھیلنے میں حرام مال کا کھانا اور سرقہ اور تضییع مال اور عیال باہم دشمنی وغیرہ طرح طرح کے مفاسد ظاہری و باطنی پیش آتے ہیں، ہاں ان میں سرسری نفع بھی ہے مثلاً شراب پی کر لذت و سرور ہوگیا اور جوا کھیل کر بلامشقت مال ہاتھ آگیا۔ 4 لوگوں نے پوچھا تھا کہ مال اللہ کے واسطے کس قدر خرچ کریں۔ حکم ہوا کہ جو اپنے اخراجات ضروری سے افزود ( زائد) ہو کیونکہ جیسا آخرت کا فکر ضرور ہے دنیا کا فکر بھی ضرور ہے اگر سارا مال اٹھا ڈالو تو اپنی ضروریات کیونکر پوری کرو اور جو حقوق تم پر لازم ہیں ان کو کیونکر ادا کرو معلوم نہیں کس کس خرابی دینی اور دنیاوی میں پھنسو۔ 5 یعنی دنیا فانی مگر محل حوائج ہے اور آخرت باقی اور دار ثواب ہے اس لیے سوچ سمجھ کر ہر ایک امر میں اس کے مناسب حال خرچ کرنا چاہیے اور مصلحت دنیا اور آخرت دونوں کو پیش نظر رکھنا مناسب ہے اور احکام کو واضح طور پر بیان فرمانے سے یہی مطلوب ہے کہ تم کو فکر کرنے کا موقع ملے۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں یتیموں کا حکم6 کہہ دے سنوارنا ان کے کام کا بہتر ہے اور اگر ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے خرابی کرنے والے اور سنوارنے والے کو7 اور اگر اللہ چاہتا تو تم پر مشقت ڈالتا8 بیشک اللہ زبردست ہے تدبیر والاف 9

6 بعض لوگ یتیم کے مال میں احتیاط نہ کرتے تھے تو اس پر حکم ہوا تھا (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ) 6 ۔ الانعام :152) اور (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى) 4 ۔ النسآء :10) اس پر جو لوگ یتیموں کی پرورش کرتے تھے وہ ڈر گئے اور یتیموں کے کھانے اور خرچ کو بالکل جدا کردیا کیونکہ شرکت کی حالت میں یتیم کا مال کھانا پڑتا تھا اس میں یہ دشواری ہوئی کہ ایک چیز یتیم کے واسطے تیار کی اب جو کچھ بچتی وہ خراب جاتی اور پھینکنی پڑتی اس احتیاط میں یتیموں کا نقصان ہونے لگا تو آپ سے عرض کیا تو اس پر اب یہ آیت نازل ہوئی۔ 7 یعنی مقصود تو صرف یہ بات ہے کہ یتیم کے مال کی درستی اور اصلاح ہو سو جس موقع میں علیحدگی میں یتیم کا نفع ہو تو اس کو اختیار کرنا چاہیے اور جہاں شرکت میں بہتری نظر آئے تو ان کا خرچ شامل کرلو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ ایک وقت ان کی چیز کھالی تو دوسرے وقت اپنی چیز ان کو کھلا دی کیونکہ وہ یتیم بچے تمہارے دینی یا نسبی بھائی ہیں اور بھائیوں میں شرکت اور کھانا کھلانا بیجا نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ یتیموں کی اصلاح کی رعایت پوری رہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس شرکت سے کس کو خیانت اور افساد مال یتیم مقصود ہے اور کس کو یتیموں کی اصلاح اور ان کی نفع رسانی منظور ہے۔ 8 مشقت ڈالتا یعنی کھانا پینے میں یتیموں کی شرکت علیٰ وجہ الاصلاح بھی مباح نہ فرماتا یا یہ کہ بلا علم و بلا قصد مجبوراً بھی اگر کچھ کمی یا بیشی ہوجاتی تو اس پر بھی مواخذہ کرتا۔ 9 یعنی بھاری سے بھاری حکم دے سکتا ہے اس لیے کہ وہ زبردست ہے لیکن ایسا نہ کیا بلکہ سہولت کا حکم دیا اس لیے کہ وہ حکمت اور مصلحت کے موافق کرنے والا ہے۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لے آئیں اور البتہ لونڈی مسلمان بہتر ہے مشرک بی بی سے اگرچہ وہ تم کو بھلی لگے اور نکاح نہ کردو مشرکین سے جب تک وہ ایمان نہ لے آویں اور البتہ غلام مسلمان بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تم کو بھلا لگے10 وہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف11 اور اللہ بلاتا ہے جنت کی اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے اور بتلاتا ہے اپنے حکم لوگوں کو تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

10 پہلے مسلمان مرد اور کافر عورت اور اس کے برعکس دونوں صورتوں میں نکاح کی اجازت تھی اس آیت سے اس کو منسوخ کردیا گیا اگر مرد یا عورت مشرک ہو تو اس کا نکاح مسلمان سے درست نہیں یا نکاح کے بعد ایک مشرک ہوگیا تو نکاح سابق ٹوٹ جائے گا اور شرک یہ کہ علم یا قدرت یا کسی اور صفت خداوندی میں کسی کو خدا کا مماثل سمجھے یا خدا کے مثل کسی کی تعظیم کرنے لگے مثلاً کسی کو سجدہ کرے یا کسی کو مختار سمجھ کر اس سے اپنی حاجت مانگے۔ باقی اتنی بات دیگر آیات سے معلوم ہوئی کہ یہود و نصاری کی عورتوں سے مسلمان مرد کا نکاح درست ہے وہ ان مشرکین میں داخل نہیں بشرطیکہ وہ اپنے دین پر قائم ہوں دہریہ اور ملحد نہ ہوں جیسے اکثر نصاری آجکل کے نظر آتے ہیں۔ خلاصہ تمام آیت کا یہ ہے کہ مسلمان مرد کو مشرک عورت سے نکاح کرنا درست نہیں تاوقتیکہ مسلمان نہ ہوجائے بیشک لونڈی مسلمان کافر عورت سے بہتر ہے گو وہ آزاد بی بی ہی کیوں نہ ہو اگرچہ مشرک بی بی بسبب مال اور جمال اور شرافت کے تم کو پسند آئے اور ایسے ہی مسلمان عورت کا نکاح مشرک مرد سے نہ کرو مسلمان غلام بھی مشرک سے بہت بہتر ہے گو وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو اگرچہ مشرک مرد بسبب صورت اور دولت کے تم کو پسند ہوں یعنی مسلمان ادنی سے ادنی بھی مشرک سے بہت افضل ہے گو وہ اعلی سے اعلی ہی کیوں نہ ہو۔ 11 یعنی مشرکین اور مشرکات جن کا ذکر ہوا ان کے اقوال ان کے افعال ان کی محبت کے ساتھ اختلاط کرنا شرک کی نفرت اور اس کی برائی کو دل سے کم کرتا ہے اور شرک کی طرف رغبت کا باعث ہوتا ہے جس کا انجام دوزخ ہے اس لیے ایسوں کے ساتھ نکاح کرنے سے اجتناب کلی لازم ہے۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا کہہ دے وہ گندگی ہے سو تم الگ رہو عورتوں سے حیض کے وقت1 اور نزدیک نہ ہو ان کے جب تک پاک نہ ہو ویں2 پھر جب خوب پاک ہوجاویں تو جاؤ ان کے پاس جہاں سے حکم دیا تم کو اللہ نے3 بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں توبہ کر نیوالے اور پسند آتے ہیں گندگی سے بچنے والے4

1 حیض کہتے ہیں اس خون کو جو عورتوں کی عادت ہے اس حالت میں مجامعت کرنا نماز روزہ سب حرام ہیں اور خلاف عادت جو خون آئے وہ بیماری ہے اس میں مجامعت، نماز، روزہ سب درست ہیں اس کا حال ایسا ہے جیسا زخم یا فصد سے خون نکلنے کا یہود اور مجوس حالت حیض میں عورت کے ساتھ کھانے اور ایک گھر میں رہنے کو بھی جائز نہ سمجھتے تھے اور نصاری مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو اس پر یہ آیت اتری آپ ﷺ نے اس پر صاف فرما دیا کہ مجامعت اس حالت میں حرام ہے اور ان کے ساتھ کھانا پینا رہنا سہنا سب درست ہیں یہود کا افراط اور نصاریٰ کی تفریط دونوں مردود ہوگئیں۔ 2 پاک ہونے میں تفصیل ہے کہ اگر حیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن پر موقوف ہو تو اسی وقت سے مجامعت درست ہے اور اگر دس دن سے پہلے ختم ہوگیا مثلاً چھ روز کے بعد اور عورت کی عادت بھی چھ روز کی تھی تو مجامعت خون کے موقوف ہوتے ہی درست نہیں، بلکہ جب عورت غسل کرلے یا نماز کا وقت ختم ہوجائے اس کے بعد مجامعت درست ہوگی اور اگر عورت کی عادت سات یا آٹھ دن کی تھی تو ان دنوں کے پورا کرنے کے بعد مجامعت درست ہوگی۔ 3 جس موقع سے مجامعت کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی راہ سے کہ جہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے دوسرا موقع یعنی لواطت حرام ہے۔ 4 یعنی جو توبہ کرتے ہیں گناہ سے جو ان سے اتفاقیہ صادر ہوا مثلاً حالت حیض میں وطی کا مرتکب ہوا اور ناپاکی یعنی گناہوں اور وطی حالت حیض اور وطی موقع نجس سے احتراز کرتے ہیں۔
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں سو جاؤ اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو5 اور آگے کی تدبیر کرو اپنے واسطے6 اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ تم کو اس سے ملنا ہے اور خوشخبری سنا ایمان والوں کو

5 یہود عورت کی پشت کی طرف ہو کر وطی کرنے کو ممنوع کہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس سے بچہ احول پیدا ہوتا ہے آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو اس پر یہ آیت اتری یعنی تمہاری عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں جس میں نطفہ بجائے تخم اور اولاد بمنزلہ پیداوار کے ہے یعنی اس سے مقصود اصلی صرف نسل کا باقی رکھنا اور اولاد کا پیدا ہونا ہے سو تم کو اختیار ہے آگے سے یا کروٹ سے یا پس پشت سے پڑ کر یا بیٹھ کر جس طرح چاہو مجامعت کرو مگر یہ ضرور ہے کہ تخم ریزی اسی خاص موقع میں ہو جہاں پیداواری کی امید ہو یعنی مجامعت خاص فرج ہی میں ہی ہو لواطت ہرگز ہرگز نہ ہو یہود کا خیال غلط ہے کہ اس سے بچہ احول پیدا ہوتا ہے۔ 6 یعنی اعمال صالحہ اپنے لیے کرتے رہو یا کہ وطی سے اولاد صالحہ مطلوب ہونی چاہیے محض حظ نفس مقصود نہ ہو۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور مت بناؤ اللہ کے نام کو نشانہ اپنی قسمیں کھانے کے لئے کہ سلوک کرنے سے اور پرہیزگاری سے اور لوگوں میں صلح کرانے سے بچ جاؤ7 اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے8

7 یعنی کسی اچھے کام نہ کرنے پر خدا کی قسم کھا بیٹھے مثلاً ماں باپ سے نہ بولوں گا یا فقیر کو کچھ نہ دوں گا یا باہم کسی میں مصالحت نہ کراؤں گا۔ ایسی قسموں میں خدا کے نام کو برے کاموں کے لیے ذریعہ بنانا ہوا سو ایسا ہرگز مت کرو اور اگر کسی نے ایسی قسم کھائی تو اس کا توڑنا اور کفارہ دینا واجب ہے۔ 8 یعنی اگر کوئی قسم کھاتا ہے تو اللہ اس کو سنتا ہے اور اگر کوئی عظمت و جلال خداوندی کی وجہ سے قسم کھانے سے رکتا ہے تو اللہ اس کی نیت کو خوب جانتا ہے تمہاری کوئی بات ظاہری اور باطنی اس سے مخفی نہیں اس لیے نیت قلبی اور قول لسانی دونوں میں احتیاط لازم ہے۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

نہیں پکڑتا تم کو اللہ بیہودہ قسموں پر تمہاری9 لیکن پکڑتا ہے تم کو ان قسموں پر کہ جن کا قصد کیا تمہارے دلوں نے10 اور اللہ بخشنے والا تحمل کرنے ولا ہے11

9 لغو اور بیہودہ قسم وہ ہے کہ منہ سے عادت اور حرف کے موافق بےساختہ اور ناخواستہ نکل جائے اور دل کو خبر تک نہ ہو ایسی قسم کا نہ کفارہ ہے نہ اس میں گناہ ہے البتہ اگر کوئی بالقصد الفاظ قسم مثل واللہ اور باللہ کہے اور اس سے محض تاکید مقصود ہو قسم کا قصد نہ ہو تو اس پر ضرور کفارہ لازم ہوگا اور کفارہ کا بیان آگے آجائے گا۔ 10 یعنی جو قسم جان بوجھ کر کھائے کہ جس میں دل بھی زبان کے موافق ہو اس قسم کے توڑنے پر کفارہ لازم ہوگا۔ 11 غفور ہے کہ لغو اور بیہودہ قسموں پر مواخذہ نہ فرمایا۔ حلیم ہے کہ مواخذہ میں جلدی نہیں فرماتا۔ شاید بندہ توبہ کرلے۔
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ قسم کھالیتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے سے ان کے لئے مہلت ہے چار ماہ کی پھر اگر باہم مل گئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر ٹھہرا لیا چھوڑ دینے کو تو بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے1

1 یعنی اگر کوئی قسم کھائے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اگر چار مہینے کے اندر عورت کے پاس گیا تو قسم کا کفارہ دے گا اور عورت اس کے نکاح میں رہے گی اور اگر چار مہینے گزر گئے اور اس کے پاس نہ گیا تو عورت پر طلاق بائن ہوجائے گی۔ فائدہ ایلاء شرع میں اس کو کہتے ہیں کہ عورت کے پاس جانے سے چار مہینے زائد کے لیے یا بلا قید مدت قسم کھالے اور چار مہینے سے کم ایلاء نہ ہوگا، ایلاء کی تینوں صورتوں میں چار مہینے کے اندر عورت کے پاس جائے گا تو کفارہ قسم کا دینا پڑے گا ورنہ چار ماہ کے ختم پر بلا طلاق دئیے عورت مطلقہ بائنہ ہوجائے گی اور اگر چار مہینے سے کم پر قسم کھائے مثلاً قسم کھائی کہ تین مہینے عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو یہ ایلاء شرعی نہیں، اس کا یہ حکم ہے کہ اگر قسم کو توڑا مثلاً صورت مذکورہ میں تین مہینے کے اندر عورت کے پاس گیا تو قسم کا کفارہ لازم ہوگا اور اگر قسم کو پورا کیا یعنی تین مہینے تک مثلاً اس کے پاس نہ گیا تو نہ عورت پر طلاق پڑے گی نہ کفارہ لازم ہوگا۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاق والی عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو تین حیض تک اور ان کو حلال نہیں کہ چھپا رکھیں جو پیدا کیا اللہ نے ان کے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اور پچھلے دن پر2 اور ان کے خاوند حق رکھتے ہیں ان کے لوٹا لینے کا اس مدت میں اگر چاہیں سلوک سے رہنا3 اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پر حق ہے دستور کے موافق اور مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے4 اور اللہ زبردست ہے تدبیر والا

2 جب مرد نے عورت کو طلاق دی تو ابھی اس عورت کو کسی دوسرے سے نکاح روا نہیں جب تک تین حیض پورے نہ ہوجائیں تاکہ حمل ہو تو معلوم ہوجائے اور کسی کی اولاد کسی کو نہ مل جائے اس لیے عورت پر فرض ہے کہ جو ان کے پیٹ میں ہو اس کو ظاہر کردیں خواہ حمل ہو یا حیض آتا ہو اور اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔ فائدہ معلوم کرنا چاہیے کہ یہاں مطلقات سے خاص وہ عورتیں مراد ہیں کہ ان سے نکاح کے بعد صحبت یا خلوت شرعیہ کی نوبت خاوند کو آچکی ہو اور ان عورتوں کو حیض بھی آتا ہو اور آزاد بھی ہوں کسی کی لونڈی نہ ہوں کیونکہ جس عورت سے صحبت یا خلوت کی نوبت نہ آئے اس کے اوپر طلاق کے بعد عدت بالکل نہیں اور جس عورت کو حیض نہ آئے مثلاً صغیر سن ہے یا بہت بوڑھی ہوگئی یا اس کو حمل ہے تو پہلی دونوں صورتوں میں اس کی عدت تین مہینے ہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور جو عورت آزاد نہ ہو بلکہ کسی کی شرعی قاعدہ کے موافق لونڈی ہو اگر اس کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت دو حیض اور حیض نہ آئے تو اگر وہ صغیرہ یا بڑھیا ہے تو اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہے اور حاملہ ہے تو وہی وضع حمل ہے دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ تفصیل ثابت ہے۔ 3 یعنی عدت کے اندر مرد چاہے تو عورت کو پھر رکھ لے اگرچہ عورت کی خوشی نہ ہو مگر اس لوٹانے سے مقصود سلوک اور اصلاح ہو۔ عورت کو ستانا یا اس دباؤ میں اس سے مہر کا معاف کرانا منظور نہ ہو یہ ظلم ہے اگر ایسا کرے گا گنہگار ہوگا گو رجعت بھی صحیح ہوجائے گی۔ 4 یعنی یہ امر تو حق ہے کہ جیسے مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں ایسے ہی عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں جن کا قاعدہ کے موافق ادا کرنا ہر ایک پر ضروری ہے تو اب مرد کو عورت کے ساتھ بدسلوکی اور اس کی ہر قسم کی حق تلفی ممنوع ہوگی مگر یہ بھی ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت اور فوقیت ہے تو اس لیے رجعت میں اختیار مرد کو ہی دیا گیا۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق رجعی ہے دو بار تک اس کے بعد رکھ لینا موافق دستور کے یا چھوڑ دینا بھلی طرح سے5 اور تم کو روا نہیں کہ لے لو کچھ اپنا دیا ہوا عورتوں سے مگر جب کہ خاوند عورت دونوں ڈریں اس بات سے کہ قائم نہ رکھ سکیں گے حکم اللہ6 پھر اگر تم لوگ ڈرو اس بات سے کہ وہ دونوں قائم نہ رکھ سکیں گے اللہ کا حکم تو کچھ گناہ نہیں دونوں پر اس میں کہ عورت بدلہ دیکر چھوٹ جاوے7 یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو کوئی بڑھ چلے اللہ کی باندھی ہوئی حدوں سے سو وہی لوگ ہیں ظالم1

5 اسلام سے پہلے دستور تھا کہ دس بیس جتنی بار چاہتے زوجہ کو طلاق دیتے مگر عدت کے ختم ہونے سے پہلے رجعت کرلیتے پھر جب چاہتے طلاق دیتے اور رجعت کرلیتے اور اس صورت سے بعض شخص عورتوں کو اسی طرح بہت ستاتے اس واسطے یہ آیت اتری کہ طلاق جس میں رجعت ہو سکے کل دو بار ہے ایک یا دو طلاق تک تو اختیار دیا گیا کہ عدت کے اندر مرد چاہے تو عورت کو پھر دستور کے موافق رکھ لے یا بھلی طرح سے چھوڑ دے پھر بعد عدت کے رجعت باقی نہیں رہتی ہاں اگر دونوں راضی ہوں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں اور اگر تیسری بار طلاق دے گا تو پھر ان میں نکاح بھی درست نہیں ہوگا جب تک دوسرا خاوند اس سے نکاح کر کے صحبت نہ کر لیوے۔ فائدہ امساک بمعروف اور تسریح باحسان سے غرض یہ ہے کہ رجعت کرے تو موافقت اور حسن معاشرت کے ساتھ رہے عورت کو قید میں رکھنا اور ستانا مقصود نہ ہو جیسا کہ ان میں دستور تھا ورنہ سہولت اور عمدگی کے ساتھ اس کو رخصت کرے۔ 6 یعنی مردوں کو یہ روا نہیں کہ عورتوں کو جو مہر دیا ہے اس کو طلاق کے بدلہ میں واپس لینے لگیں البتہ یہ جب روا ہے کہ ناچاری ہو اور کسی طرح دونوں میں موافقت نہ آئے اور ان کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ بوجہ شدت مخالفت ہم احکام خداوندی کی پابندی معاشرت باہمی میں نہ کرسکیں گے اور مرد کی طرف سے ادائے حقوق زوجہ میں قصور بھی نہ ہو ورنہ مال لینا زوج کو حرام ہے۔ 7 یعنی اے مسلمانو اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ خاوند اور بیوی میں ایسی بیزاری ہے کہ ان کی گزران موافقت سے نہ ہوگی تو پھر ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں کہ عورت مال دے کر اپنے آپ کو نکاح سے چھڑا لے اور مرد وہ مال لے لے اس کو خلع کہتے ہیں اور جب اس ضرورت کی حالت میں زوجین کو خلع کرنا درست ہوا تو سب مسلمانوں کو اس میں سعی کرنی ضرور درست ہوگی۔ فائدہ : ایک عورت آپ ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ میں اپنے خاوند سے ناخوش ہوں اس کے یہاں رہنا نہیں چاہتی آپ ﷺ نے تحقیق کیا تو عورت نے کہا کہ وہ میرے حقوق میں کوتاہی نہیں کرتا اور نہ اس کے اخلاق و تدین پر مجھ کو اعتراض ہے لیکن مجھ کو اس سے منافرت طبعی ہے آپ ﷺ نے عورت سے مہر واپس کرا دیا اور زوج سے طلاق دلوا دی اس پر یہ آیت اتری۔ 1 یہ سب احکام مذکورہ یعنی طلاق اور رجعت اور خلع حدود اور قواعد مقرر فرمودہ حق تعالیٰ ہیں ان کی پوری پابندی لازم ہے کسی قسم کا خلاف اور تغیر اور کوتاہی ان میں نہ کرنی چاہیئے۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر اس عورت کو طلاق دی یعنی تیسری بار تو اب حلال نہیں اسکو وہ عورت اسکے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوا پھر اگر طلاق دے دے دوسرا خاوند تو کچھ گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر باہم مل جاویں اگر خیال کریں کہ قائم رکھیں گے اللہ کا حکم اور یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ بیان فرماتا ہے ان کو واسطے جاننے والوں کے2

2 یعنی اگر زوج اپنی عورت کو تیسری بار طلاق دیگا تو پھر عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اور دوسرا خاوند اس سے صحبت کر کے اپنی خوشی سے طلاق نہ دیوے اس کی عدّت پوری کر کے پھر زوج اوّل سے نکاح جدید ہوسکتا ہے اس کو حلالہ کہتے ہیں اور حلالہ کے بعد زوج اول کے ساتھ نکاح ہونا جب ہی ہے کہ ان کو حکم خداوندی کے قائم رکھنے یعنی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا خیال اور اس پر اعتماد ہو ورنہ ضرور نزاع باہمی اور اتلاف حقوق کی نوبت آئے گی اور گناہ میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پہنچیں اپنی عدت تک3 تو رکھ لو ان کو موافق دستور کے یا چھوڑ دو ان کو بھلی طرح سے اور نہ روکے رکھو ان کو ستانے کے لئے تاکہ ان پر زیادتی کرو4 اور جو ایسا کرے گا وہ بیشک اپنا ہی نقصان کرے گا اور مت ٹھہراؤ اللہ کے احکام کو ہنسی اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور اسکو کہ جو اتاری تم پر کتاب اور علم کی باتیں کہ تم کو نصیحت کرتا ہے اس کے ساتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے5

3 یعنی عدّت ختم ہونے کو آئی۔ 4 یعنی عدت کے ختم ہونے تک خاوند کو اختیار ہے کہ اس عورت کو موافقت اور اتحاد کے ساتھ پھر ملا لے یا خوبی اور رضامندی کے ساتھ بالکل چھوڑ دے یہ ہرگز نہیں کہ قید میں رکھ کر اس کو ستانے کے قصد سے رجعت کرے جیسا کہ بعض اشخاص کیا کرتے تھے۔ فائدہ : آیت سابقہ یعنی الطلاق مرّتان الخ میں یہ بتلایا تھا کہ دو طلاق تک زوج کو اختیار ہے کہ عورت کو عمدگی سے پھر ملا لے یا بالکل چھوڑ دے اب اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ یہ اختیار صرف عدت تک ہے عدّت کے بعد زوج کو اختیار مذکور حاصل نہ ہوگا اس لئے کوئی تکرار کا شبہ نہ کرے۔ 5 نکاح طلاق ایلاء خلع رجعت حلالہ وغیرہ میں بڑی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں ان میں حیلے کرنے اور بیہودہ اغراض کو دخل دینا مثلا کوئی رجعت کرلے اور اس سے مقصود عورت کو تنگ کرنا ہے تو گویا اللہ کے احکام کے ساتھ ٹھٹھے بازی ٹھہری نعوذ باللہ من ذٰلک اللہ کو سب کچھ روشن ہے ایسے حیلوں سے بجز مضرت اور کیا حاصل ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو اب نہ روکو ان کو اس سے کہ نکاح کرلیں اپنے انہی خاوندوں سے جب کہ راضی ہوجاویں آپس میں موافق دستور کے6 یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو کہ تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر1 اس میں تمہارے واسطے بڑی ستھرائی ہے اور بہت پاکیزگی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے2

6 ایک عورت کو اس کے خاوند نے ایک یا دو طلاق دی اور پھر عدت میں رجعت بھی نہ کی جب عدت ختم ہوچکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ زوج اول نے بھی نکاح کا پیغام دیا عورت بھی اس پر راضی تھی مگر عورت کے بھائی کو غصہ آیا اور نکاح کو روک دیا اس پر یہ حکم اترا کہ عورت کی خوشنودی اور بہبودی کو ملحوظ رکھو اسی کے موافق نکاح ہونا چاہیے اپنے کسی خیال اور ناخوشی کو دخل مت دو اور یہ خطاب عام ہے نکاح سے روکنے والوں کو سب کو خواہ زوج اول جس نے کہ طلاق دی ہے وہ دوسری جگہ عورت کو نکاح کرنے سے روکے یا عورت کے ولی اور وارث عورت کو پہلے خاوند سے یا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے مانع ہوں سب کو روکنے سے ممانعت آگئی، ہاں اگر خلاف قاعدہ کوئی بات ہو مثلا غیر کفو میں عورت نکاح کرنے لگے یا پہلے خاوند کی عدت کے اندر کسی دوسرے سے نکاح کرنا چاہے تو بیشک ایسے نکاح سے روکنے کا حق ہے بالمعروف فرمانے کا یہی مطلب ہے۔ 1 یعنی حکم جو مذکور ہوئے ان سے اہل ایمان کو نصیحت دی جاتی ہے کیونکہ اس نصیحت سے وہی منتفع ہوتے ہیں اور یوں تو نصیحت سبھی کے لئے ہے کسی کی خصوصیت نہیں اور مومنین کے خاص کرنے سے دوسروں پر تہدید اور ان کی تحقیر بھی مفہوم ہوتی ہے یعنی جو لوگ ان حکموں پر عمل نہیں کرتے گو یا ان کو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہی نہیں۔ 2 یعنی عورت کو نکاح سے نہ روکنے اور اس کے نکاح ہوجانے میں وہ پاکیزگی ہے جو نکاح سے روکنے میں ہرگز نہیں اور عورت جب کہ پہلے خاوند کی طرف راغب ہو تو اسی کے ساتھ نکاح ہوجانے میں وہ پاکیزگی ہے کہ دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے میں ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو اور نفع نقصان آئندہ کو خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور بچے والی عورتیں دودھ پلاویں اپنے بچوں کو دو برس پورے جو کوئی چاہیے کہ پوری کرے دودھ کی مدت3 اور لڑکے والے یعنی باپ پر ہے کھانا اور کپڑا ان عورتوں کا موافق دستور کے تکلیف نہیں دی جاتی کسی کو مگر اس کی گنجائش کے موافق نہ نقصان دیا جاوے ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ اس کو کہ جس کا وہ بچہ ہے یعنی باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے4 اور وارثوں پر بھی یہی لازم ہے5 پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں یعنی دو برس کے اندر ہی اپنی رضا اور مشورہ سے تو ان پر کچھ گناہ نہیں6 اور اگر تم لوگ چاہو کہ دودھ پلواؤ کسی دایہ سے اپنی اولاد کو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ حوالہ کردو جو تم نے دینا ٹھہرایا تھا موافق دستور کے7 اور ڈرو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتا ہے

3 یعنی ماں کو حکم ہے کہ اپنے بچہ کو دو برس تک دودھ پلائے اور یہ مدت اس کے لئے ہے جو ماں باپ بچہ کے دودھ پینے کی مدت کو پورا کرنا چاہیں ورنہ اس میں کمی بھی جائز ہے جیسا آیت کے اخیر میں آتا ہے اور اس حکم میں وہ مائیں بھی داخل ہیں جن کا نکاح باقی ہے اور وہ بھی جن کو طلاق مل چکی ہو یا ان کی عدّت بھی گزر چکی ہو ہاں اتنا فرق ہوگا کہ کھانا کپڑا منکوحہ اور معتدہ کو تو دینا زوج کو ہر حال میں لازم ہے دودھ پلائے یا نہ پلائے اور عدت ختم ہوچکے گی تو پھر صرف دودھ پلانے کی وجہ سے دینا ہوگا اور اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ دودھ کی مدت کو جس ماں سے پورا کرانا چاہیں یا جس صورت میں باپ سے دودھ پلانے کی اجرت ماں کو دلوانا چاہیں تو اس کی انتہاء 2 دو برس کامل ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ علی العموم دودھ پلانے کی مدت دو برس سے زیادہ نہیں۔ 4 یعنی باپ کو بچہ کی ماں کو کھانا کپڑا ہر حال میں دینا پڑے گا۔ اوّل صورت میں تو اس لئے کہ وہ اس کے نکاح میں ہے، دوسری صورت میں عدّت میں ہے اور تیسری صورت میں دودھ پلانے کی اجرت دینی ہوگی اور بچہ کے ماں باپ بچہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں مثلا ماں بلاوجہ دودھ پلانے سے انکار کرے یا باپ بلا سبب ماں سے بچہ جدا کر کے کسی اور سے دودھ پلوائے یا کھانے کپڑے میں تنگی کرے۔ 5 یعنی اگر باپ مرجاوے تو بچہ کے وارثوں پر بھی یہی لازم ہے کہ دودھ پلانے کی مدت میں اس کی ماں کے کھانے کپڑے کا خرچ اٹھائیں اور تکلیف نہ پہنچائیں اور وارث سے مراد وہ وارث ہے جو محرم بھی ہو۔ 6 یعنی اگر ماں باپ کسی مصلحت کی وجہ سے دو سال کے اندر ہی بچہ کی مصلحت کا لحاظ کر کے باہمی مشورہ اور رضامندی سے دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں گناہ نہیں، مثلا ماں کا دودھ اچھّا نہ ہو۔ 7 یعنی اے مردو اگر تم کسی ضرورت و مصلحت سے ماں کے سوا کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی گناہ نہیں مگر اس کی وجہ سے ماں کا کچھ حق نہ کاٹ رکھے بلکہ دستور کے موافق جو ماں کو دینا ٹھہرایا تھا وہ دے دے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دودھ پلانے والی کا حق نہ کاٹے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ مرجاویں تم میں سے اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو چاہیے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن1 پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ کریں وہ اپنے حق میں قاعدہ کے موافق2 اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبر ہے

1 پہلے گزر چکا ہے کہ طلاق کی عدّت میں تین حیض انتظار کرے اب فرمایا کہ موت کی عدّت میں چار مہینے دس دن انتظار کرے سو اس مُدّت میں اگر معلوم ہوگیا کہ عورت کو حمل نہیں تو عورت کو نکاح کی اجازت ہوگی ورنہ وضع حمل کے بعد اجازت ہوگی اس کی تشریح سورة طلاق میں آئے گی حقیقت میں تین حیض یا چار مہینے دس دن حمل کے انتظار اور اس کے دریافت کرنے کے لئے مقرر فرمائے۔ 2 جب بیوہ عورتیں اپنی عدّت پوری کرلیں یعنی غیر حاملہ چار ماہ دس روز اور حاملہ مدت حمل تو ان کو دستور شریعت کے موافق نکاح کرلینے میں کچھ گناہ نہیں اور زینت اور خوشبو سب حلال ہیں۔