2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے کافر ہی انہی پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی5

5 یعنی جس نے خود حق پوشی کی یا کسی دوسرے کی حق پوشی کے باعث گمراہ ہوا اور اخیر تک کافر ہی رہا اور توبہ نصیب نہ ہوئی تو وہ ہمیشہ کو ملعون اور جہنمی ہوا مرنے کے بعد توبہ مقبول نہیں بخلاف اول فریق مذکور سابق کے کہ توبہ نے ان کی لعنت کو منقطع کردیا کہ زندگی ہی میں تائب ہوگئے۔
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

ہمیشہ رہیں گے اسی لعنت میں نہ ہلکا ہوگا ان پر سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی6

6 یعنی ان پر عذاب یکساں اور متصل رہیگا یہ نہ ہوگا کہ عذاب میں کسی قسم کی کمی ہوجائے یا کسی وقت ان کو عذاب سے مہلت مل جائے۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے کوئی معبود نہیں اس کے سوا بڑا مہربان ہے نہایت رحم والاف 7

7 یعنی معبود حقیقی تم سب کا ایک ہی ہے اس میں تعدّد کا احتمال بھی نہیں سو اب جس نے اس کی نافرمانی کی بالکل مردود اور غارت ہوا دوسرا معبود ہوتا تو ممکن تھا کہ اس سے نفع کی توقع باندھی جاتی یہ آقائی اور پادشاہی اور استادی اور پیری نہیں کہ ایک جگہ موافقت نہ آئی تو دوسری جگہ چلے گئے یہ تو معبودی اور خدائی ہے نہ اس کے سوا کسی کو معبود بنا سکتے ہو اور نہ کسی سے اس کے علاوہ خیر کی توقع کرسکتے ہو۔ جب آیت والٰھکم الٰہ واحد نازل ہوئی تو کفار مکہ نے تعجب کیا کہ تمام عالم کو معبود اور سب کا کام بنانے والا ایک کیسے ہوسکتا ہے اور اس کی دلیل کیا ہے اس پر آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ) 2 ۔ البقرۃ :164) نازل ہوئی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور کشتیوں میں جو کہ لے کر چلتی ہیں دریا میں لوگوں کے کام کی چیزیں اور پانی میں جس کو کہ اتارا اللہ نے آسمان سے پھر جلایا اس سے زمین کو اس کے مرگئے پیچھے اور پھیلائے اس میں سب قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں جو کہ تابعدار ہے اس کے حکم کا درمیان آسمان و زمین کے بیشک ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے1

1 یعنی آسمان کے اس قدر وسیع اور اونچا اور بےستون پیدا کرنے میں اور زمین کے اتنی وسیع اور مضبوط پیدا کرنے اور اس کے پانی پر پھیلانے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے اور ان کے گھٹانے اور بڑھانے میں اور کشتیوں کے دریا میں چلنے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس سے زمین کو سرسبز و ترو تازہ کرنے میں جملہ حیوانات میں اس سے توالد و تناسل نشوونما ہونے میں اور جہات مختلفہ سے ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں معلق کرنے میں دلائل عظیمہ اور کثیرہ ہیں حق تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت اور حکمت اور رحمت پر ان کے لئے جو صاحب عقل اور فکر ہیں۔ فائدہ : لَااِلٰہَ اِلّا ھُوَ میں توحید ذات کا اور الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ میں توحید صفات کا ثبوت تھا اور اِنَّ فِیْ خَلْقِ الخ میں توحید افعال کا ثبوت ہوا جس سے مشرکین کے شبہات بالکلیہ مندفع ہوگئے۔
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو دوست2 ان کی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی3 اور ایمان والوں کو اس سے زیادہ تر ہے محبت اللہ کی4 اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جب کہ دیکھیں گے عذاب کہ قوت ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے5

2 یعنی آدمیوں میں جو کہ شعور و عقل میں جمیع مخلوقات سے افضل ہیں، بعضے ایسے بھی ہیں کہ باوجود دلائل ظاہرہ سابقہ کے پھر غیر اللہ کو حق تعالیٰ کا شریک اور اس کے برابر بناتے ہیں۔ 3 یعنی صرف اقوال و اعمال جزئیہ ہی میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں مانتے بلکہ محبت قلبی جو کہ صدور اعمال کی اصل ہے اس تک شرک اور مساوات کی نوبت پہنچا رکھی ہے جو شرک کا اعلیٰ درجہ ہے اور شرک فی الاعمال اس کا خادم اور تابع ہے۔ 4 یعنی مشرکین کو جو اپنے معبودوں سے محبت ہے مومنین کو اپنے اللہ سے اس سے بھی بہت زیادہ اور مستحکم محبت ہے کیونکہ مصائب دنیا میں مشرکین کی محبت بسا اوقات زائل ہوجاتی ہے اور عذاب آخرت دیکھ کر تو بالکل تبرّی اور بیزاری ظاہر کریں گے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے بخلاف مومنین کے کہ ان کی محبت اپنے اللہ کے ساتھ ہر ایک رنج و راحت، مرض و صحت دنیا و آخرت میں برابر باقی اور پائیدار رہنے والی ہے اور نیز اہل ایمان کو جو اللہ سے محبت ہے وہ اس محبت سے بھی بہت زیادہ ہے جو محبت کہ اہل ایمان ماسوی اللہ یعنی انبیاء و اولیاء و ملائکہ و عباد و علماء یا اپنے آباؤ اجداد اور اولاد و مال وغیرہ سے رکھتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو اس کی عظمت شان کے موافق بالاصال اور بالاستقلال محبت رکھتے ہیں اور اوروں سے بالواسطہ اور حق تعالیٰ کے حکم کے موافق ہر ایک کے اندازہ کے مطابق محبت رکھتے ہیں " گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی " خدا اور غیر خدا کو محبت میں برابر کردینا خواہ وہ کوئی ہو یہ مشرکین کا کام ہے۔ 5 یعنی جن ظالموں نے خدا کے لئے شریک بنائے اگر وہ اس آنے والے وقت کو دیکھ لیں کہ جس وقت ان کو عذاب الہٰی کا مشاہدہ ہوگا کہ زور سارا اللہ ہی کے لئے ہے عذاب خداوندی سے کوئی نہیں بچا سکتا اور اللہ کا عذاب سخت ہے تو ہرگز اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ نہ ہوں اور نہ ان سے امید منفعت رکھیں۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جبکہ بیزار ہوجاویں گے وہ کہ جن کی پیروی کی تھی ان سے کہ جو ان کے پیرو ہوئے تھے اور دیکھیں گے عذاب اور منقطع ہوجائیں گے ان کے سب علاقے6

6 یعنی وہ وقت ایسا ہوگا کہ بیزار ہوجائیں گے متبوع اپنے تابعداروں سے اور بت پرست اور بتوں میں کوئی علاقہ باقی نہ رہیگا ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا عذاب الہٰی دیکھ کر۔
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور کہیں گے پیرو کیا اچھا ہوتا جو ہم کو دنیا کی طرف لوٹ جانا مل جاتا تو پھر ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے جیسے یہ ہم سے7 بیزار ہوگئے اسی طرح پر دکھلائے گا اللہ ان کو ان کے کام حسرت دلا نے کو اور وہ ہرگز نکلنے والے نہیں نار سے8

7 اور مشرکین اس وقت کہیں گے کہ اگر کسی طرح ہم کو پھر دنیا میں لوٹ جانا نصیب ہو تو ہم بھی ان سے اپنا انتقام لیں اور جیسا یہ آج ہم سے جدا ہوگئے ہم بھی ان کو جواب دے کر جدا ہوجائیں لیکن اس آرزو محال سے بجز افسوس کچھ نفع نہ ہوگا۔ 8 یعنی جیسے مشرکین کو عذاب الہٰی اور اپنے معبودوں کی بیزاری دیکھ کر سخت حسرت ہوگی اسی طرح پر ان کے جملہ اعمال کو حق تعالیٰ ان کے لئے موجب حسرت بنا دے گا کیونکہ حج وعمرہ اور صدقات و خیرات جو اچھی باتیں کی ہونگی وہ سب تو بسبب شرک مردود ہوجائیں گی اور شرک و گناہ جس قدر کئے ہونگے ان کا بدلہ عذاب ملے گا تو اب ان کے بھلے اور برے اعمال سب کے سب موجب حسرت ہونگے کسی عمل سے کچھ نفع نہ ہوگا اور ہمیشہ دوزخ میں رہینگے بخلاف موحدین اور اہل ایمان کے کہ اگر بسبب معاصی دوزخ میں جائیں گے تو انجام کار نجات پائیں گے۔
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگوں کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ اور پیروی نہ کرو شیطان کی9 بیشک وہ تمہارا دشمن ہے صریح

9 اہل عرب بت پرستی کرتے تھے اور بتوں کے نام پر سانڈ بھی چھوڑتے تھے اور ان جانوروں سے نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے اور یہ بھی ایک طرح کا شرک ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا منصب اللہ کے سوا کسی کو نہیں اس بارے میں کسی کی بات ماننی گویا اس کو اللہ کا شریک بنانا ہے اس لئے پہلی آیات میں شرک کی خرابی بیان فرما کر اب تحریم حلال سے ممانعت کی جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ زمین میں پیدا ہوتا ہے اس میں سے کھاؤ بشرطیکہ وہ شرعا حلال و طیّب ہو نہ تو فی نفسہٖ حرام ہو جیسے مردار اور خنزیر اور (وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ) 2 ۔ البقرۃ :173) (جن جانوروں پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا جائے اور اسکی قربت مقصود ان جانوروں کے ذبح سے ہو) اور نہ کسی امر عارضی سے اس میں حرمت آگئی ہو جیسے غصب، چوری رشوت سود کا مال کہ ان سب سے اجتناب ضروری ہے اور شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرو کہ جس کو چاہا حرام کرلیا جیسے بتوں کے نام کے سانڈ وغیرہ اور جس کو چاہا حلال کرلیا جیسے مااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ وغیرہ۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو یہی حکم کرے گا تم کو کہ برے کام اور بےحیائی کرو اور جھوٹ لگاؤ اللہ پر وہ باتیں جن کو تم نہیں جانتے10

10 یعنی مسئلے اور احکام شرعیہ اپنی طرف سے بنا لو جیسا کہ بہت سے مواقع میں دیکھا جاتا ہے کہ مسائل جزئیہ سے گزر کر امور اعتقادیہ تک نصوص شرعیہ کو چھوڑ کر اپنی طرف سے احکام تراشے جاتے ہیں اور نصوص قطعیہ اوراقوال سلف کی تحریف اور تغلیط کرتے ہیں۔
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ1

1 یعنی حق تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے باپ دادا کا اتباع کرتے ہیں اور یہ بھی شرک ہے چناچہ بعض جہال مسلمان بھی ترک نکاح بیوگاں وغیرہ رسوم باطلہ میں ایسی بات کہہ گزرتے ہیں اور بعض زبان سے گو نہ کہیں مگر عمل درآمد سے ان کے ایسا ہی مترشح ہوتا ہے سو یہ بات اسلام کے خلاف ہے۔
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور مثال ان کافروں کی ایسی ہے جیسے پکارے کوئی شخص ایک چیز کو جو کچھ نہ سنے سوا پکارنے اور چلانے کے2 بہرے گونگے اندھے ہیں سو وہ کچھ نہیں سمجھتے3

2 یعنی ان کافروں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ایسا ہے جیسا کوئی جنگل کے جانوروں کو بلائے کہ وہ سوائے آواز کے کچھ نہیں سمجھتے یہی حال ان لوگوں کا ہے جو خود علم نہ رکھیں اور نہ علم والوں کی بات قبول کریں۔ 3 یعنی یہ کفار گویا بہرے ہیں جو حق بات بالکل نہیں سنتے گونگے ہیں جو حق بات نہیں کہتے اندھے ہیں جو راہ مستقیم نہیں دیکھتے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے کیونکہ جب ان کے ہر سہ قویٰ مذکورہ فاسد ہوگئے تو تحصیل علم و فہم کی اب کیا صورت ہوسکتی ہے۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اسی کے بندے ہو4

4 اکل طیبات کا حکم اوپر گزر چکا تھا لیکن مشرکین چونکہ شیطان کی پیروی سے باز نہیں آتے اور احکام اپنی طرف سے بنا کر اللہ کے اوپر لگاتے ہیں اور اپنے رسوم باطلہ آبائی کو نہیں چھوڑتے اور حق بات سمجھنے کی ان میں گنجائش ہی نہیں تو اب ان سے اعراض فرما کر خاص مسلمانوں کو اکل طیبات کا حکم فرمایا گیا اور اپنا انعام ظاہر کر کے ادائے شکر کا امر کیا گیا اس میں اہل ایمان کے مقبول اور مطیع ہونے کی جانب اور مشرکین کے مردود ومعتوب و نافرمان ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تو تم پر یہی حرام کیا ہے مردہ جانور5 اور لہو6 اور گوشت سور کا7 اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا8 پھر جو کوئی بےاختیار ہوجائے نہ تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں9 بیشک اللہ ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان10

5 مردار وہ ہے کہ خود بخود مرجائے اور ذبح کی نوبت نہ آئے یا خلاف طریقہ شرعیہ اس کو ذبح یا شکار کیا جائے مثلا گلا گھونٹا جائے یا زندہ جانور کا کوئی عضو کاٹ لیا جائے یا لکڑی اور پتھر اور غلیل و بندوق سے مارا جائے یا اوپر سے گر کر یا کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرجائے یا درندہ پھاڑ ڈالے یا ذبح کے وقت قصدا تکبیر کو ترک کیا جائے کہ یہ سب مردار اور حرام ہیں البتہ دو جانور مردار بحکم حدیث شریف اس حرمت سے مستثنیٰ اور ہم کو حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی۔ 6 اور خون سے مراد وہ خون ہے جو رگوں سے بہتا ہے اور ذبح کے وقت نکلتا ہے اور جو خون کہ گوشت پر لگا رہتا ہے وہ حلال اور پاک ہے اگر گوشت کو بغیر دھوئے ہوئے پکا لیا جائے تو اس کا کھانا درست ہے۔ البتہ نظافت کے خلاف ہے اور کلیجی اور تلی کہ خون منجمد ہیں بحکم حدیث شریف حلال ہیں۔ 7 اور خنزیر زندہ ہو یا مردہ یا قاعدہ شریعت کے موافق ذبح کرلیا جائے ہر حال میں حرام ہے اور اس کے تمام اجزاء گوشت پوست چربی ناخن بال ہڈی پٹھا ناپاک اور ان سے نفع اٹھانا اور کسی کام میں لانا حرام ہے۔ اس موقع پر چونکہ کھانے کی چیزوں کا ذکر ہے اس لئے فقط گوشت کا حکم بتلایا گیا مگر اس پر سب کا اجماع ہے کہ خنزیر جو کہ بےغیرتی اور بےحیائی اور حرص اور رغبت الی النجاسات میں سب جانوروں میں بڑھا ہوا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت فاِنَّہ رِجْس فرمایا بلاشک نجس العین ہے نہ اس کا کوئی جزو پاک اور نہ کسی قسم کا انتفاع اس سے جائز جو لوگ کثرت سے اس کو کھاتے ہیں اور اس کے اجزاء سے نفع اٹھاتے ہیں ان تک میں اوصاف مذکورہ واضح طور پر مشاہدہ ہوتے ہیں۔ 8 مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ ان جانوروں پر اللہ کے سوا بت وغیرہ کا نام پکارا جائے یعنی اللہ کے سوا کسی بت یا جن یا کسی روح خبیث یا پیر یا پیغمبر کے نامزد کر کے اور اس جانور کی جان ان کی نذر کر کے ان کے تقرب یا رضا جوئی کی نیت سے ذبح کیا جائے اور محض ان کی خوشنودی کی غرض سے اس کی جان نکالنی مقصود ہو ان سب جانوروں کا کھانا حرام ہے گو بوقت ذبح تکبیر پڑھی ہو اور اللہ کا نام لیا ہو کیونکہ جان کو جان آفرین کے سوا کسی دوسرے کے لئے نذر و نیاز کرنا ہرگز درست نہیں اس لئے جس جانور کی جان غیر اللہ کی نذر کی جائے تو اس کی خباثت مردار کی خباثت سے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ مردار میں تو یہی خرابی تھی کہ اس کی جان اللہ کے نام پر نہیں نکلی اور اس کی تو جان غیر اللہ کے نامزد کردی گئی جو عین شرک ہے سو جیسے خنزیر اور کتے پر بوقت ذبح تکبیر کہنے سے حلت نہیں آسکتی اور مردار پر اللہ کا نام لینے سے کوئی نفع نہیں ہوسکتا ایسے ہی جس جانور کی جان غیر اللہ کی نذر اور ان کے نامزد کردی ہو اس پر ذبح کے وقت نام الہٰی لینے سے ہرگز ہرگز کوئی نفع اور حلّت اس میں نہیں آسکتی البتہ اگر غیر اللہ کے نامزد کرنے کے بعد اپنی نیت سے ہی توبہ اور رجوع کر کے ذبح کریگا تو اس کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں علماء نے تصریح فرما دی ہے کہ اگر کسی بادشاہ کے آنے پر اس کی تعظیم کی نیت سے جانور ذبح کیا جائے یا کسی جن کی اذیت سے بچنے کے لئے اس کے نام کا جانور ذبح کیا جائے یا توپ چلنے یا اینٹوں کے پزاوہ کے پکنے کے لئے بطور بھینٹ جانور ذبح کیا جائے تو وہ جانور بالکل مردار اور حرام اور کرنے والا مشرک ہے اگرچہ ذبح کے وقت خدا کا نام لیا جائے۔ حدیث شریف میں آیا ہے لَعْنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہ یعنی جو غیر اللہ کے تقرب اور تعظیم کی نیت سے جانور کو ذبح کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے ذبح کے وقت اللہ کا نام پاک لے یا نہ لے البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کر کے فقراء کو کھلائے اور اس کا ثواب کسی قریب یا پیر اور بزرگ کو پہنچا دے یا کسی مردہ کی طرف سے قربانی کر کے اس کا ثواب اسکو دینا چاہے کیونکہ یہ ذبح غیر اللہ کے لئے ہرگز نہیں بعضے اپنی کجروی سے یہ حیلہ ایسے مواقع میں بیان کرتے ہیں کہ پیروں کی نیاز وغیرہ میں ہم کو تو یہی مقصود ہوتا ہے کہ کھانا پکا کر مردہ کے نام سے صدقہ کردیا جائے تو اول تو خوب سمجھ لیں کہ اللہ کے سامنے جھوٹے حیلوں سے بجز مضرت کوئی نفع حاصل نہیں ہوسکتا، دوسرے ان سے پوچھا جائے کہ جس جانور کی تم نے غیر خدا کے لئے نذر مانی ہے اگر اسی قدر گوشت اس جانور کے عوض خرید کر اور پکا کر فقیروں کو کھلا دو تو تمہارے نزدیک بےکھٹکے وہ نذر ادا ہوجاتی ہے یا نہیں اگر بلاتامل تم اس کو کرسکتے ہو اور اپنی نذر میں کسی قسم کا خلل تمہارے دل میں نہیں رہتا تو تم سچے ورنہ تم جھوٹے اور تمہارا یہ فعل شرک اور وہ جانور مردار اور حرام۔ فائدہ : یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ آیت میں حکم حرمت کو اشیاء مذکورہ میں منحصر کر کے بیان فرمایا ہے جس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اشیائے مذکورہ کے سوا کوئی جانور حرام نہیں حالانکہ جملہ درندے اور گدھا اور کتّا وغیرہ سب کا کھانا حرام ہے اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ اس حصر سے حکم حرمت کو اشیائے مذکورہ میں منحصر کرنا ہرگز مراد نہیں کہ کسی کو اعتراض کی گنجائش ہو بلکہ حکم حرمت کو صحت و صداقت کے ساتھ مخصوص فرما کر اس حکم کی جانب مخالف کا بطلان منظور ہے یعنی بس بات یہی ہے کہ یہ چیزیں اللہ پاک نے تم پر حرام فرما دیں اس میں دوسرا احتمال ہی نہیں یعنی ان کا حلال سمجھنا بالکل باطل اور غلط ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حکم حرمت کو اشیائے مذکورہ ہی میں منحصر مانا جائے مگر اس حصر کو اضافی یعنی خاص انہی چیزوں کے لحاظ سے تسلیم کیا جائے جن کو مشرکین نے اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا جیسے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ جن کا ذکر آئندہ آئیگا۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تو تم پر فقط میتہ اور خنزیر وغیرہ کو حرام کیا تھا تم جو سانڈ وغیرہ کی تحریم اور تعظیم کے قائل ہو یہ محض تمہارا افتراء ہے باقی رہے درندے اور خبیث جانور ان کے حرام ہونے میں مشرکین بھی نزاع نہ کرتے تھے۔ سو یہ حصر انہی جانوروں کے لحاظ سے ہے جن کو مشرکین نے خلاف حکم الہٰی اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیا تھا تمام جہان کے جانوروں سے اس کو کیا تعلق جو اعتراض مذکور کی نوبت آئے۔ 9 یعنی اشیائے مذکورہ حرام ہیں لیکن جب کوئی بھوک سے مرنے لگے تو اس کو لاچاری کی حالت میں کھا لینے کی اجازت ہے بشرطیکہ نافرمانی اور زیادتی نہ کرے نافرمانی یہ کہ مثلا نوبت اضطرار کی نہ پہنچے اور کھانے لگے اور زیادتی یہ کہ قدر ضرورت سے زائد خوب پیٹ بھر کر کھالے بس اتنا ہی کھائے جس سے مرے نہیں۔ 10 یعنی اللہ پاک تو بڑا بخشنے والا ہے بندوں کے ہر قسم کے گناہوں کو بخش دیتا ہے پھر ایسے لاچار اور مضطر کی بخشش کیسے نہ فرمائے گا اور اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے کہ مجبوری کی حالت میں صاف اجازت دے دی کہ جس طرح بن پڑے اپنی جان بچالو اصلی حکم ممانعت کا لاچاری کی حالت میں تم پر سے اٹھا لیا گیا ورنہ اس مالک الملک کا حق تھا کہ فرما دیتا تمہاری جان جائے یا رہے مگر ہمارے حکم کے خلاف ہرگز نہ کرنا۔ ایک خلجان یہاں یہ بھی ہوتا تھا کہ بھوک سے مرتے ہوئے مضطر بدحواس کو یہ اندازہ کرنا کہ اتنے لقموں سے سدرمق ہوجائیگا اور اس سے زائد ایک لقمہ نہ کھائے محال نہیں تو دشوار تو بہت ہے اس لئے اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ فرما کر اس میں سہولت کردی۔
Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب11 اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول12 وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ13 اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن14 اور نہ پاک کریگا ان کو15 اور ان کے لئے ہے عذاب دردناک16

11 یعنی اللہ نے جو کتاب آسمانی میں حلال و حرام کا حکم بھیجا یہود نے اس کو چھپایا اور اپنی طرف سے بڑھایا گھٹایا جیسا کہ پہلی آیت میں مذکور ہوچکا ایسے ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صفات جو اس میں لکھی تھیں ان کو بھی چھپاتے اور بدلتے تھے اور یہ دونوں سخت گناہ ہیں کیونکہ ان کا مطلب اور نتیجہ یہ ہے کہ ہدایت اور طریقہ حق کسی کو نصیب نہ ہو، سب گمراہ رہیں حالانکہ حق تعالیٰ نے تو کتاب اور رسول کو ہدایت خلق کے لئے بھیجا تھا سو انہوں نے خدا کے بھی خلاف کیا اور خلق اللہ کو بھی جاہل اور گمراہ بنانا چاہا۔ 12 یعنی اللہ کی نافرمانی اور خلق اللہ کی گمراہی پر بس نہیں کی بلکہ اس حق پوشی کے عوض میں جن کو گمراہ کرتے تھے ان سے الٹا رشوت میں مال بھی لیتے تھے جس کا نام ہدیہ اور نذرانہ اور شکرانہ رکھ چھوڑا تھا حالانکہ یہ حرام خوری مردار اور خنزیر کے کھانے سے بھی بدتر ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ایسی حرکات شنیعہ کی سزا بھی سخت ہوگی جس کو آگے بتلایا جاتا ہے۔ 13 یعنی گو ظاہر نظر میں ان کو وہ مال لذیذ اور نفیس معلوم ہو رہا ہے مگر حقیقت میں وہ آگ ہے جس کو خوش ہو کر اپنے پیٹ میں بھر رہے ہیں جیسا طعام لذیذ میں زہر قاتل ملا ہوا ہو کہ کھاتے وقت لذت معلوم ہوتی ہے اور پیٹ میں جا کر آگ لگا دے۔ 14 اس میں یہ شبہہ کسی کو ہوسکتا ہے کہ دیگر آیات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب باری تعالیٰ قیامت کو ان سے خطاب فرمائے گا سو کلام نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ لطف و رحمت کے ساتھ ان سے کلام نہ کیا جائے اور بطور تخویف و تذلیل و تہدید و وعید جناب باری تعالیٰ ان سے کلام کریگا جس سے ان کو سخت صدمہ اور غم ہوگا یا یوں کہیے کہ بلاواسطہ ان سے کلام نہ کیا جائیگا اور کلام کرنے کا جو ذکر ہے وہ ملائکہ عذاب کی وساطت سے ہوگا۔ فائدہ : لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ کی دھمکی سے یہ امر صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی کے دل میں محبت الہٰی خوب راسخ ہے اگر سردست محسوس نہ ہو تو اس کو ہمچواخگر بزیر خاکستر سمجھنا چاہیے قیامت کو جب کل موانع دور ہونگے تو اس کا ظہور کامل ہوگا کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو پھر کفار کو یہ دھمکی ایسی ہوگی کہ کوئی اپنے دشمن کو ناخوشی اور اعراض سے ڈرانے لگے جو بالکل بےسود ہے محبان جاں نثار اعراض محبوب کو درد جانگداز سمجھتے ہیں نہ اعداء بس معلوم ہوا کہ قیامت کو ہر سینہ اللہ کی محبت سے ایسا لبریز ہوگا کہ یہ بےالتفاقی عذاب دوزخ سے بھی بدرجہا زیادہ ان کو جانکاہ معلوم ہوگی۔ 15 یعنی اہل ایمان گو کتنے ہی گنہگار ہوں مگر دوزخ میں زمانہ معین تک رہ کر اور گناہوں سے پاک ہو کر جنت میں داخل کردیے جائینگے بخلاف کفار کے کہ وہ ہمیشہ نار میں رہیں گے اور کبھی پاک ہو کر جنت میں جانے کے قابل نہ ہونگے امور شرکیہ نے ان کو بمنزلہ نجس العین کے بنادیا ہے کہ نجاست ان کی کسی طرح دور نہیں ہوسکتی اور مسلمان عاصی کا حال ایسا سمجھیے کہ پاک چیز پر نجاست واقع ہوگئی نجاست زائل ہو کر پھر پاک ہوگیا۔ 16 واقعی اس سے زیادہ اور کیا عذاب الیم ہوگا کہ ظاہر بدن سے بڑھ کر ان کے باطن میں بھی آگ ہوگی اور محبوب حقیقی ان سے ناخوش ہوگا پھر اس مصیبت جانکاہ سے کبھی نجات نہ ملیگی نعوذ باللہ۔
Ayah 2:175

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب بدلے بخشش کے1 سو کس قدر صبر کرنے والے ہیں وہ دوزخ پر2

1 یعنی وہ لوگ بیشک اسی قابل ہیں کیونکہ انہوں نے خود سرمایہ نجات کو غارت کیا اور گمراہی کو ہدایت کے مقابلہ میں پسند اور اختیار کیا اور اسباب مغفرت کو چھوڑ کر اسباب عذاب کو منظور کیا۔ 2 یعنی اپنی خوشی سے موجبات دخول نار کو اختیار کرتے ہیں گویا آگ ان کو نہایت مرغوب اور محبوب ہے کہ اپنی جان و مال کے بدلے اس کو خرید رہے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ عذاب نار پر صبر کرنا کیسا ہے۔
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ اللہ نے نازل فرمائی کتاب سچی اور جنہوں نے اختلاف ڈالا کتاب میں وہ بیشک ضد میں دور جا پڑے3

3 یہ یعنی ضلالت کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خریدنے کی دلیل یا ان پر عذابات مذکورہ سابقہ کے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو کتاب سچی نازل فرمائی انہوں نے اس کے خلاف کیا اور طرح طرح کے اختلاف اس میں ڈالے اور خلاف اور دشمنی میں دور جا پڑے یعنی بڑا خلاف کیا، یا طریقہ حق سے دور ہوگئے ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کا صابر علی النار ہونا چونکہ بدیہی البطلان نظر آتا تھا اس لئے لفظ ذٰلک سے اخیر تک اسکے جواب کی طرف اشارہ فرما دیا فافہم۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی کچھ یہی نہیں کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی4 لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اس کی محبت پر رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور ما نگنے والوں کو اور گردنیں چھڑا نے میں اور قائم رکھے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب عہد کریں اور صبر کرنے والے سختی میں اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت5 یہی لوگ ہیں سچے اور یہی ہیں پرہیزگار6

4 جب آیات سابقہ اپنی برائی میں سنیں تو یہود و نصاریٰ کہنے لگے کہ ہم میں تو بہت سے اسباب وآثار ہدایت و مغفرت موجود ہیں ایک کھلی بات یہی ہے کہ ہم جس قبلہ کی طرف منہ کرنے کے مامور ہیں اس کی طرف متوجہ ہو کر نماز جو افضل عبادت ہے اس کو اللہ کے حکم کے موافق ادا کرتے ہیں پھر ان خرابیوں اور عذاب کے ہم کیسے مستحق ہوسکتے ہیں اس خیال کی تردید میں فرمایا جاتا ہے کہ بڑی نیکی جو مغفرت و ہدایت کے لئے کافی ہو یہ نہیں کہ تم صرف اپنا منہ نماز میں مشرق یا مغرب کی طرف کرلیا کرو اور عقائد و اعمال ضروریہ کی پروا بھی نہ کرو۔ 5 یعنی نیکی اور بھلائی جو اثر ہدایت اور سبب مغفرت ہو یہ ہے کہ اللہ اور اور روز قیامت اور جملہ ملائکہ اور کتب آسمانی اور انبیاء پر دل سے ایمان لائے اور ان پر یقین کرے اور باوجود محبت اور رغبت کے اپنے مال کو علاوہ زکوٰۃ کے قریبوں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں اور سائلوں کو جو کہ محتاج ہوں دے اور گردنیں چھڑانے میں یعنی مسلمان جس کو کفار نے ظلما قید کرلیا ہو اس کی رہائی میں یا مقروض کو قرض خواہ سے چھڑانے میں یا غلام کو آزاد کرانے میں یا غلام مکاتب کو خلاصی دلانے میں مال دیوے اور نماز کو خوب درستی کے ساتھ پڑھے اور چاندی اور سونے اور جملہ اموال تجارت میں سے زکوٰۃ دے اور اپنے عہد وقرار کو پورا کرے اور فقروفاقہ اور بیماری اور تکلیف اور خوف کی حالت میں صبر و استقلال سے رہے اور یہود و نصاریٰ چونکہ ان عقائد اور اعمال و اخلاق میں قاصر اور ناقص تھے اور طرح طرح سے ان میں خلل اندازی کرتے تھے جیسا کہ آیات قرآنی ہیں اس کا ذکر ہے تو اب یہود یا نصاریٰ کا صرف اپنے استقبال قبلہ پر ناز کرنا اور اپنے آپ کو طریق ہدایت پر مستقیم سمجھنا اور مستحق مغفرت کہنا بیہودہ خیال ہے تاوقتیکہ ان اعتقادات اور اخلاق و اعمال پر قائم نہ ہونگے جو اس آیہ کریمہ میں بالتفصیل مذکور ہیں صرف استقبال قبلہ سے نہ ہدایت نصیب ہوسکتی ہے نہ عذاب الہٰی سے نجات مل سکتی ہے۔ 6 یعنی جو لوگ اعتقادات و اخلاق و اعمال مذکورہ کے ساتھ متصف ہیں وہی لوگ سچے ہیں اعتقادات اور ایمان اور دین میں اپنے قول وقرار میں اور وہی لوگ پرہیزگار اور متقی ہیں اپنے اخلاق اور اعمال میں یا بچنے والے ہیں گناہ اور بری باتوں سے یا عذاب الہٰی سے اہل کتاب کہ جن کو ان خوبیوں میں ایک بھی میسر نہیں ان کا اپنی نسبت ایسا خیال کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو فرض ہوا تم پر (قصاص) برابری کرنا مقتولوں میں7 آزاد کے بدلے آزاد8 اور غلام کے بدلے غلام9 اور عورت کے بدلے عورت10 پھر جس کو معاف کیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی تو تابعداری کرنی چاہیے موافق دستور کے اور ادا کرنا چاہیے اس کو خوبی کے ساتھ1 یہ آسانی ہوئی تمہارے رب کی طرف سے اور مہربانی2 پھر جو زیادتی کرے اس فیصلہ کے بعد تو اس کے لئے ہے عذاب دردناک3

7 زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب نے یہ دستور کر رکھا تھا کہ شریف النسب لوگوں کے غلام کے بدلے رذیل لوگوں کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک آزاد کے بدلے دو کو قصاص میں قتل کرتے تھے حق تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا کہ اے ایمان والو ہم نے تم پر مقتولین میں برابری اور مساوات کو فرض کردیا۔ قصاص کے معنی لغت میں برابر اور مساوات کے ہیں تم نے جو یہ دستور نکالا ہے کہ شریف اور رذیل میں امتیاز کرتے ہو یہ لغو ہے جانیں سب کی برابر ہیں غریب ہو یا امیر، شریف ہو یا رذیل، عالم و فاضل ہو یا جاہل، جوان ہو یا بوڑھا اور بچہ تندرست ہو یا بیمار، قریب المرگ صحیح الاعضا ہو یا اندھا لنگڑا۔ فائدہ : پہلی آیت میں نیکی اور برّ کے اصول مذکور تھے جن پر مدار ہدایت و مغفرت تھا اور اس طرف بھی اشارہ تھا کہ اہل کتاب ان خوبیوں سے بےبہرہ ہیں اور بالتصریح فرمادیا تھا کہ دین میں سچا اور متقی بدون ان خوبیوں کے کوئی نہیں ہوسکتا تو اب اہل اسلام کے سوا نہ اہل کتاب اس کے مصداق بن سکتے ہیں نہ جہال عرب، اس لئے اب سب سے اعراض فرما کر خاص اہل ایمان کو مخاطب بنایا جاتا ہے اور نیکی اور برّ کے مختلف فروع عبادات جانی و مالی اور معاملات مختلفہ ان کو بتلاتے ہیں کہ ان فروع کو وہی کرسکتا ہے جو اصول مذکورہ سابقہ پر پختہ ہو گویا اور لوگ اس خطاب کے قابل بھی نہ سمجھے گئے جو ان کو سخت عار کا باعث ہونا چاہیے اب جو احکام فروعی بالتفصیل بیان کئے جاتے ہیں درحقیقت تو ان سے اہل ایمان کی ہدایت اور تعلیم مقصود ہے مگر ضمنا کہیں صاف کہیں تعریضاً دوسروں کی خرابی پر بھی متنبہ کیا جائیگا مثلاً کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہود وغیرہ نے جو قصاص میں دستور کرلیا ہے یہ ان کا ایجاد بےبنیاد خلاف حکم الہٰی ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ اصول فرمودہ سابقہ میں سے نہ ان کو ایمان بالکتاب صحیح طور پر حاصل ہے نہ ایمان بالانبیاء نہ عہد خداوندی کو انہوں نے وفا کیا اور نہ سختی اور مصیبت کی حالت میں انہوں نے صبر سے کام لیا ورنہ اپنے کسی عزیز و قریب کے مقتول ہوجانے پر اس قدر بےصبری اور نفسانیت نہ کرتے کہ فرمان خداوندی اور ارشاد انبیاء اور حکم کتاب سب کو چھوڑ کر بےگناہوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے۔ 8 یہ توضیح ہے اس برابری کی جس کا حکم ہوا مطلب یہ ہے کہ ہر مرد آزاد کے قصاص میں صرف وہی ایک آزاد مرد قتل کیا جاسکتا ہے جو اس کا قاتل ہے یہ نہیں کہ ایک کے عوض قاتل کے قبیلہ سے کیف ما اتفق دو کو یا زیادہ کو قتل کرنے لگو۔ 9 یعنی ہر غلام کے بدلے میں وہی غلام قتل کیا جائیگا جو قاتل ہے یہ نہ ہوگا کہ کسی شریف کے غلام کے قصاص میں قاتل کو جو کہ غلام ہے اس کو چھوڑ کر ان رذیل لوگوں میں سے کہ جن کے غلام نے قتل کیا ہے کسی آزاد کو قتل کیا جائے۔ 10 یعنی ہر ایک عورت کے قصاص میں صرف وہی عورت قتل کی جاسکتی ہے جس نے اسکو قتل کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ شریف النسب عورت کے قصاص میں رذیل عورت کو چھوڑ کر جو کہ قاتلہ ہے کسی مرد کو ان میں سے قتل کرنے لگیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر آزاد دوسرے آزاد کے اور ہر غلام دوسرے غلام کے برابر ہے سو حکم قصاص میں مساوات چاہیے اور تعدی جو اہل کتاب اور جہال عرب کرتے تھے ممنوع ہے۔ فائدہ : اب باقی رہا یہ امر کہ آزاد کسی غلام کو یا مرد کسی عورت کو قتل کر دے تو قصاص لیا جائیگا یا نہیں سو یہ آیت کریمہ اس سے ساکت ہے اور آئمہ کا اس میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ آیہ انَّ النَفْسَ بالنَّفْسِ اور حدیث المسلمون تتکافؤ دماؤھم سے اس کے قائل ہیں۔ کہ ہر دو صورت مذکورہ میں قصاص ہوگا اور جیسے قوی اور ضعیف صحیح اور مریض اور غیر معذور وغیرہ حکم قصاص میں برابر ہیں ایسے ہی آزاد اور غلام مرد اور عورت کو امام ابوحنیفہ قصاص میں برابر فرماتے ہیں بشرطیکہ غلام مقتول قاتل کا غلام نہ ہو کہ وہ حکم قصاص سے ان کے نزدیک مستثنیٰ ہے اور اگر کوئی مسلمان کافر ذمی کو قتل کر ڈالے تو اس پر بھی قصاص ہوگا امام ابوحنیفہ کے نزدیک البتہ مسلمان اور کافر حربی میں کوئی قصاص کا قائل نہیں۔ 1 یعنی مقتول کے وارثوں میں سے اگر بعض بھی خون کو معاف کردیں تو اب قاتل کو قصاص میں قتل تو نہیں کرسکتے بلکہ دیکھیں گے کہ ان وارثوں نے معاف کس طرح پر کیا ہے بلا معاوضہ مالی محض ثواب کی غرض سے معاف کیا ہے یادیت شرعی اور بطور مصالحت کسی مقدار مال پر راضی ہو کر صرف قصاص سے دستبرداری کی ہے اول صورت میں قاتل ان وارثوں کے مطالبہ سے بالکل سبکدوش ہوجائیگا اور دوسری صورت میں قاتل کو چاہیے کہ وہ معاوضہ اچھی طرح ممنونیت اور خوشدلی کے ساتھ ادا کرے۔ 2 یہ اجازت کہ قتل عمد میں چاہو قصاص لو چاہو دیت لو چاہو معاف کرو اللہ کی طرف سے سہولت اور مہربانی ہے قاتل اور وارثان مقتول دونوں پر جو پہلے لوگوں پر نہ ہوئی تھی کہ یہود پر خاص قصاص اور نصاریٰ پر دیت یا عفو مقرر تھا۔ 3 یعنی اس تخفیف اور رحمت کے بعد بھی اگر کوئی خلاف ورزی کریگا اور دستور جاہلیت پر چلے گا یا معافی اور دیت قبول کرلینے کے بعد قاتل کو قتل کرے گا تو اس کے لئے سخت عذاب ہے آخرت میں یا ابھی اس کو قتل کیا جائے گا۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور تمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے اے عقلمندو4 تاکہ تم بچتے رہو5

4 یعنی حکم قصاص بظاہر نظر اگرچہ بھاری معلوم ہو لیکن عقلمند سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حکم بڑی زندگانی کا سبب ہے کیونکہ قصاص کے خوف سے ہر کوئی کسی کو قتل کرنے سے رکے گا تو دونوں کی جان محفوظ رہے گی اور قصاص کے سبب قاتل اور مقتول دونوں کی جماعتیں بھی قتل سے محفوظ اور مطمئن رہینگی عرب میں ایسا ہوتا تھا کہ قاتل اور غیر قاتل کا لحاظ نہیں کرتے تھے جو ہاتھ آجاتا مقتول کے وارث اس کو قتل کر ڈالتے تھے اور فریقین میں اس کے باعث ایک خون کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہونے کی نوبت آتی تھی جب خاص قاتل ہی سے قصاص لیا گیا تو یہ تمام جانیں بچ گئیں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قصاص قاتل کے حق میں باعث حیات اخروی ہے۔ 5 یعنی بچتے رہو قصاص کے خوف سے کسی کو قتل کرنے سے یا بچو قصاص کے سبب عذاب آخرت سے یا اس لئے کہ تم کو حکم قصاص کی حکمت معلوم ہوگئی ہے تو اس کی مخا لفت یعنی ترک قصاص سے بچتے رہو۔
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

فرض کردیا گیا تم پر جب حاضر ہو کسی کو تم میں موت بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال وصیت کرنا ماں باپ کے واسطے اور رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ یہ حکم لازم ہے پرہیزگاروں پر6

6 پہلا حکم قصاص یعنی مردہ کی جان کے متعلق تھا یہ دوسرا حکم اس کے مال کے متعلق اور کلیات مذکورہ سابقہ میں جو (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى) 2 ۔ البقرۃ :177) ارشاد ہوا تھا اس کی تشریح ہے لوگوں میں دستور تھا کہ مردہ کا تمام مال اس کی بیوی اور اولاد بلکہ خاص بیٹوں کو ملتا تھا ماں باپ اور سب اقارب محروم رہتے تھے اس آیت میں ارشاد ہوا کہ ماں باپ اور جملہ اقارب کو انصاف کے ساتھ دینا چاہیے مرنے والے پر اسی کے موافق وصیت فرض ہوئی اور یہ وصیت اس وقت فرض تھی جس وقت تک آیت میراث نہیں اتری تھی جب سورة نساء میں احکام میراث نازل ہوئے سب کا حصّہ خدا تعالیٰ نے آپ معین فرما دیا اب ترکہ میّت میں وصیت فرض نہ رہی اس کی حاجت ہی جاتی رہی البتہ مستحب ہے مگر وارث کے لئے وصیت جائز نہیں اور تہائی ترکہ سے زائد نہ ہو ہاں اگر کسی شخص کے متعلق دیون اور ودایع وغیرہ دادوستد کا جھگڑا ہو اس پر وصیت اب بھی فرض ہے۔
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی بدل ڈالے وصیت کو بعد اس کے جو سن چکا تو اس کا گناہ انہی پر ہے جنہوں نے اس کو بدلا بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے7

7 یعنی مردہ تو وصیت انصاف کے ساتھ کر مرا تھا مگر دینے والوں نے اس کی تعمیل نہ کی تو مردہ پر کوئی گناہ نہیں وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوا وہی لوگ گنہگار ہونگے بیشک حق تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور سب کی نیتوں کو جانتا ہے۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر جو کوئی خوف کرے وصیت کرنے والے سے طرف داری کا یا گناہ کا پھر صلح کرادے ان میں باہم تو اس پر کچھ گناہ نہیں8 بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے9

8 یعنی اگر کسی کو مردہ کی طرف سے یہ اندیشہ یا علم ہوا کہ اس نے کسی وجہ سے غلطی کھائی اور کسی کی بےجا رعایت کی یا دیدہ و دانستہ خلاف حکم الہٰی دے گیا۔ پس اس شخص نے اہل وصیت اور وارثوں میں حکم شریعت کے موافق صلح کرا دی تو اس کو کچھ گناہ نہ ہوگا وصیت میں یہ تغیر اور تبدّل جائز اور بہتر ہے۔ 9 یعنی حق تعالیٰ تو گنہگاروں کی بھی مغفرت فرماتا ہے تو جس نے اصلاح کی غرض سے ایک برائی سے سب کو ہٹایا اس کی مغفرت تو ضرور فرمائے گا یوں کہو کہ بخشنے والا ہے وصیت کرنیوالے کو جس نے وصیت ناجائز کی تھی مگر پھر سمجھ کر اس وصیت سے اپنی زندگی ہی میں پھر گیا۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر10 تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ11

10 یہ حکم روزہ کے متعلق ہے جو ارکان اسلام میں داخل ہے اور نفس کے بندوں ہوا پرستوں کو نہایت ہی شاق ہوتا ہے اس لئے تاکید اور اہتمام کے الفاظ سے بیان کیا گیا اور یہ حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے اب تک برابر جاری رہا ہے گو تعیین ایام میں اختلاف ہو اور اصول مذکورہ سابقہ میں جو صبر کا حکم تھا روزہ اس کا ایک بڑا رکن ہے حدیث میں روزہ کو نصف صبر فرمایا ہے۔ 11 یعنی روزہ سے نفس کو اس کی مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑیگی تو پھر اس کو ان مرغوبات سے جو شرعا حرام ہیں روک سکو گے اور روزہ سے نفس کی قوت و شہوت میں ضعف بھی آئے گا تو اب تم متقی ہوجاؤ گے بڑی حکمت روزہ میں یہی ہے کہ نفس سرکش کی اصلاح ہو اور شریعت کے احکام جو نفس کو بھاری معلوم ہوتے ہیں ان کا کرنا سہل ہوجائے اور متقی بن جاؤ، جاننا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ پر بھی رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنی خواہشات کے موافق ان میں اپنی رائے سے تغیر و تبدل کیا تو لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون میں ان پر تعریض ہے معنی یہ ہونگے کہ اے مسلمانو تم نافرمانی سے بچو یعنی مثل یہود اور نصاریٰ کے اس حکم میں خلل نہ ڈالو۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

چند روز ہیں گنتی کے12 پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دنوں سے13 اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا1 پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے2 اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو3

12 یعنی چند روز گنتی کے جو زیادہ نہیں روزہ رکھو اور اس سے رمضان کا مہینہ مراد ہے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے۔ 13 پھر اس مدت قلیل میں بھی اتنی سہولت اور فرما دی گئی کہ جو بیمار ایسا ہو کہ روزہ رکھنا دشوار ہو یا مسافر ہو تو اس کو اختیار ہے کہ روزے نہ رکھے اور جتنے روزے کھائے اتنے ہی رمضان کے سوا اور دنوں میں روزے رکھ لے خواہ ایک ساتھ یا متفرق کر کے۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں مگر ابتداء میں چونکہ روزہ کی بالکل عادت نہ تھی اس لئے ایک ماہ کامل پے درپے روزے رکھنا ان کو نہایت شاق تھا تو ان کے لئے یہ سہولت فرما دی گئی تھی کہ اگرچہ تم کو کوئی عذر مثل مرض یا سفر کے پیش نہ ہو مگر صرف عادت نہ ہونے کے سبب روزہ تم کو دشوار ہو تو اب تم کو اختیار ہے چاہو روزہ رکھو چاہو روزہ کا بدلا دو ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلاؤ کیونکہ جب اس نے ایک دن کا کھانا دوسرے کو دیدیا تو گویا اپنے نفس کو ایک روز کے کھانے سے روک لیا اور فی الجملہ روزہ کی مشابہت ہوگئی پھر جب وہ لوگ روزہ کے عادی ہوگئے تو یہ اجازت باقی نہ رہی جس کا بیان اس سے اگلی آیت میں آتا ہے اور بعض اکابر نے طعام مسکین سے صدقۃ الفطر بھی مراد لیا ہے معنی یہ ہونگے کہ جو لوگ فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کے کھانے کی مقدار اس کو دے دیں جسکی مقدار شرع میں گہیوں کا آدھا صاع اور جَو کا پورا صاع ہے تو اب یہ آیت منسوخ نہ ہوگی اور جو لوگ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ جس کا جی چاہے روزہ رمضان میں رکھ لے اور جس کا جی چاہے فدیہ پر قناعت کرے خاص روزہ ہی ضرور رکھے یہ حکم نہیں وہ یا جاہل ہیں یا بےدین۔ 2 یعنی اگر ایک دن کے کھانے سے زیادہ ایک مسکین کو دے یا کئی مسکینوں کا پیٹ بھر دے تو سبحان اللہ بہت ہی بہتر ہے۔ 3 یعنی اگر تم کو روزہ کی فضیلت اور حکمت اور منافع معلوم ہوں تو جان لو کہ روزہ رکھنا فدیہ مذکورہ کے دینے سے بہتر ہے اور روزہ رکھنے میں کوتاہی نہ کرو۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی4 سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے5 اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دنوں سے6 اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو7

4 حدیث میں آیا ہے کہ مصحف ابراہیمی اور تورات اور انجیل سب کا نزول رمضان ہی میں ہوا ہے اور قرآن شریف بھی رمضان کی چوبیسویں رات میں لوح محفوظ سے اول آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا پھر تھوڑا تھوڑا کر کے مناسب احوال آپ ﷺ پر نازل ہوتا رہا اور ہر رمضان میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) قرآن نازل شدہ آپ کو مکرّر سنا جاتے تھے ان سب حالات سے مہینے رمضان کی فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی مناسبت اور خصوصیّت خوب ظاہر ہوگئی اس لئے اس مہینے میں تراویح مقرر ہوئی پس قرآن کی خدمت اسی مہینے میں خوب اہتمام سے کرنی چاہیے کہ اسی واسطے مقرر اور معین ہوا ہے۔ 5 یعنی جب اس ماہ مبارک کے فضائل مخصوصہ عظیمہ تم کو معلوم ہوچکے تو اب جس کسی کو یہ مہینہ ملے اس کو روزہ ضرور رکھنا چاہیے اور بغرض سہولت ابتدا میں جو فدیہ کی اجازت برائے چندے دی گئی تھی وہ موقوف ہوگئی۔ 6 اس حکم عام سے یہ سمجھ میں آتا تھا کہ شاید مریض اور مسافر کو بھی افطار و قضا کی اجازت باقی نہیں رہی اور جیسے روزہ کی طاقت رکھنے والوں کو اب افطار کی ممانعت کردی گئی ایسے ہی مسافر اور مریض کو بھی ممانعت ہوگئی ہو اس لئے مریض اور مسافر کی نسبت پھر صاف فرما دیا کہ ان کو رمضان میں افطار کرنے اور اور دنوں میں اس کے قضا کردینے کی اجازت اسی طرح باقی ہے جیسے تھی۔ 7 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اول رمضان میں روزہ کا حکم فرمایا اور بوجہ عذر پھر مریض اور مسافر کو افطار کرنے کی اجازت دی اور دیگر اوقات میں ان دنوں کی شمار کے برابر روزوں کا قضا کرنا تم پر پھر واجب فرمایا ایک ساتھ ہونے یا متفرق ہونے کی ضرورت نہیں تو اس میں اس کا لحاظ ہے کہ تم پر سہولت رہے دشواری نہ ہو اور یہ بھی منظور ہے کہ تم اپنے روزوں کی شمار پوری کرلیا کرو۔ ثواب میں کمی نہ آجائے اور یہ بھی مدنظر ہے کہ تم اس طریقہ سراسر خیر کی ہدایت پر اپنے اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس کو بزرگی سے یاد کرو اور یہ بھی مطلوب ہے کہ ان نعمتوں پر تم شکر کرو اور شکر کرنیوالوں کی جماعت میں داخل ہوجاؤ سبحان اللہ روزہ جیسی مفید عبادت ہم پر واجب فرمائی اور مشقت اور تکلیف کی حالت میں سہولت بھی فرما دی اور فراغت کے وقت میں اس نقصان کے جبر کا طریقہ بھی بتلا دیا۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو سو میں تو قریب ہوں قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے تو چاہیے کہ وہ حکم مانیں میرا اور یقین لائیں مجھ پر تاکہ نیک راہ پر آئیں8

8 شروع میں یہ حکم تھا کہ رمضان میں اول شب میں کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت تھی مگر سو رہنے کے بعد ان چیزوں کی ممانعت تھی۔ بعض لوگوں نے اسکے خلاف کیا اور سونے کے بعد عورتوں سے قربت کی پھر آپ ﷺ سے آکر عرض کیا اور اپنے قصور کا اقرار اور ندامت کا اظہار کیا اور توبہ کی نسبت آپ ﷺ سے سوال کیا تو اس پر یہ آیت اتری کہ تمہاری توبہ قبول کی گئی اور احکام خداوندی کی اطاعت کی تاکید فرما دی گئی اور حکم سابق منسوخ فرما کر آیندہ کو اجازت دیدی گئی کہ تمام شب رمضان میں صبح صادق سے پہلے کھانا وغیرہ تم کو حلال ہے جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں آتا ہے اور آیت سابقہ میں جو بندوں پر سہولت اور عنایت کا ذکر تھا اس قرب و اجابت و اباحت سے اس کی بھی خوب تاکید ہوگئی۔ اور ایک تعلق کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلی آیت میں تکبیر اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم تھا آپ ﷺ سے بعض نے پوچھا کہ ہمارا رب دور ہے تو ہم اسکو پکاریں یا نزدیک ہے، تو آہستہ بات کریں اس پر یہ آیت اتری یعنی وہ قریب ہے ہر ایک بات سنتا ہے آہستہ ہو یا پکار کر اور جن موقعوں میں پکار کر تکبیر کہنے کا حکم ہے وہ دوسری وجہ سے ہے یہ نہیں کہ وہ آہستہ بات کو نہیں سنتا۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

حلال ہوا تم کو روزہ کی رات میں بےحجاب ہونا اپنی عورتوں سے9 وہ پوشاک ہیں تمہاری اور تم پوشاک ہو انکی10 اللہ کو معلوم ہے کہ تم خیانت کرتے تھے اپنی جانوں سے11 سو معاف کیا تم کو اور درگزر کی تم سے پھر ملو اپنی عورتوں سے اور طلب کرو اس کو جو لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے1 اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آئے تم کو دھاری سفید صبح کی جدا دھاری سیاہ سے2 پھر پورا کرو روزہ کو رات تک3 اور نہ ملو عورتوں سے جب تک کہ تم اعتکاف کرو مسجدوں میں4 یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی سو ان کے نزدیک نہ جاؤ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ بچتے رہیں5

9 رمضان کی رات میں جو نیند کے بعد کھانا پینا عورت کے پاس جانا حرام تھا اس میں بھی سہولت کردی گئی اب تمام رات میں جب چاہو عورتوں کے ساتھ اختلاط کرو۔ 10 لباس اور پوشاک سے غرض غایت اتصال و اختلاط ہے یعنی جس طرح بدن سے کپڑے لگے اور ملے ہوتے ہیں اسی طرح مرد و عورت آپس میں ملتے ہیں۔ 11 اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سونے کے بعد عورتوں کے پاس جا کر بوجہ مخالفت حکم الہٰی تم اپنے آپ کو گنہگار بناتے ہو جس سے تمہارے نفس مستحق عقاب ہوتے ہیں اور ان کے ثواب میں نقصان پڑتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو معاف فرمایا اور آیندہ کو اجازت فرما دی۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں جو اولاد تمہارے لئے اللہ نے مقدر فرما دی ہے عورتوں کی مباشرت سے وہ مطلوب ہونی چاہیے محض شہوت رانی مقصود نہ ہو اور اس میں عزل کی کراہت اور لواطت کی ممانعت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ 2 یعنی جیسے رات بھر میں مجامعت کی اجازت دی گئی اسی طرح رمضان کی رات میں تم کو کھانے اور پینے کی بھی اجازت ہے صبح صادق تک۔ 3 یعنی طلوع صبح صادق سے رات تک روزہ کو پورا کرو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کئی روزے متصل رکھنے اس طرح پر کہ رات کو بھی افطار کی نوبت نہ آئے مکروہ ہے۔ 4 یعنی روزہ میں تو رات کو مباشرت کی اجازت ہے مگر اعتکاف میں رات دن کسی وقت عورت کے پاس نہ جائے۔ 5 روزہ اور اعتکاف کے متعلق جو حکم دوبارہ حلت و حرمت مذکور ہوئے یہ قاعدے اللہ کے مقرر فرمائے ہوئے ہیں ان سے ہرگز باہر نہ ہونا بلکہ ان کے قریب بھی نہ جانا یا یہ مطلب ہے کہ اپنی رائے یا کسی حجت سے ان میں سرِ مُوتفاوت نہ کرنا۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق6 اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کر کے (نا حق) تم کو معلوم ہے7

6 روزہ سے طہارت نفس مقصود تھی اب تطہیر اموال کا ارشاد ہے اور معلوم ہوگیا کہ مال حلال تو صرف روزہ میں اس کا کھانا منع ہے اور مال حرام سے روزہ مدت العمر کے لئے ہے اس کے لئے کوئی حد نہیں جیسے چوری یا خیانت یا دغابازی یا رشوت یا زبردستی یا قمار یا بیوع ناجائزہ یا سود وغیرہ ان ذریعوں سے مال کمانا بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ 7 نہ پہنچاؤ حاکموں تک یعنی کسی کے مال کی خبر نہ دو ظالم حاکموں کو یا اپنا مال بطریق رشوت حاکم تک نہ پہنچاؤ کہ حاکم کو موافق بنا کر کسی کا مال کھالو یا جھوٹی گواہی دیکر یا جھوٹی قسم کھا کر یا جھوٹا دعویٰ کر کے کسی کا مال نہ کھاؤ اور تم کو اپنے ناحق پر ہونے کا علم بھی ہو۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں حال نئے چاند کا8 کہہ دے کہ یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے واسطے اور حج کے واسطے9 اور نیکی یہ نہیں کہ آؤ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو کوئی ڈرے اللہ سے اور آؤ گھروں میں دروازوں سے اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو10

8 آفتاب ہمیشہ ایک صورت ایک حالت پر رہتا ہے اور چاند کی صورت بدلتی اور اس کی مقدار بڑھتی رہتی ہے اس لئے لوگوں نے چاند کے کم زیادہ ہونے کی وجہ آپ ﷺ سے پوچھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی پہلی آیات میں شہر رمضان اور روزہ کا ذکر تھا اس آیت میں ہلال کا ذکر ہے اور روزہ اور رویت ہلال میں تعلق ظاہر ہے کہ ایک دوسرے پر موقوف ہے اور آگے چل کر حج اور اسکے احکام کا ذکر ہے ذکر ہلال اس کے بھی مناسب ہے۔ 9 یعنی ان سے کہہ دو کہ چاند کا اس طرح پر نکلنا اس سے لوگوں کے معاملات اور عبادات مثل قرض اجارہ عدت مدت حمل و رضاعت روزہ زکوٰۃ وغیرہ کے اوقات ہر ایک کو بےتکلف معلوم ہوجاتے ہیں بالخصوص حج کہ روزہ وغیرہ کی قضا تو ان کے غیر ایام میں ہوتی ہے حج کی تو قضا بھی ایام مقررہ حج کے سوا دوسرے ایام میں نہیں کرسکتے اور حج کے خاص بیان فرمانے کی یہ بھی وجہ ہے کہ ذیقعدہ ذی الحج محرم رجب یہ چار مہینے اشہر حرم تھے ان میں لڑائی کرنا حرام تھا اہل عرب کو اگر ان مہینوں میں لڑائی پیش آتی تو مہینوں کو مقدم موخر کر کے لڑائی کرتے مثلا ذی الحج یا محرم میں لڑائی پیش آتی تو اسکو تو صفر بنا لیتے اور جب صفر آتا تو اس کو ذی الحج یا محرم ٹھہرا لیتے ان کے اس خیال کے ابطال کی غرض سے یہاں حج کی تصریح فرمائی کہ جو ایام حج کے لئے اللہ نے مقرر فرمائے ان میں تقدم تأخر ہرگز جائز نہیں اب یہاں سے حج کے متعلقات اور اسکے احکام دور تک ذکر ہونگے۔ 10 زمانہ جاہلیت کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ جب گھر سے نکل کر حج کا احرام باندھتے پھر کوئی ضرورت گھر میں جانے کی پیش آتی تو دروازہ سے نہ جاتے چھت پر چڑھ کر گھر کے اندر اترتے یا گھر کی پشت کی جانب نقب دیکر گھستے اور اس کو نیکی کی بات سمجھتے اللہ نے اس کو غلط فرما دیا۔ فائدہ : پہلے جملہ میں حج کا ذکر تھا اور یہ حکم بھی حج کے متعلق تھا اس مناسبت سے اس حکم کو یہاں بیان فرمایا اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ آیت میں اھلہ سے مراد اشہر حج یعنی شوال اور ذیقعدہ اور دس راتیں ذی الحجہ کی ہیں کہ احرام حج ان میں ہونا چاہیے لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ حج کے یہی ایام ہیں یا اور ایام میں بھی حج ہوسکتا ہے اللہ نے جواب دیا کہ حج کے لئے اشہر حج مقرر اور معین ہیں اور اسی کی مناسبت سے احرام کے اندر گھر میں جانے کی کیفیت ذکر فرما دی اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اپنی طرف سے کسی جائز اور مباح امر کو نیکی بنا لینا اور دین میں داخل کرلینا مذموم اور ممنوع ہے جس سے بہت سی باتوں کا بدعت اور مذموم ہونا معلوم ہوگیا۔
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے11 اور کسی پر زیادتی مت کر12 بیشک اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے زیادتی کرنے والوں کو

11 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے مکہ دارالامن تھا، کوئی اپنے دشمن کو بھی مکہ میں پاتا تو کچھ نہ کہتا اور اشہر حرام یعنی ذی القعدہ اور ذی الحجہ اور محرم اور رجب یہ چاروں مہینے بھی امن کے تھے ان میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی اور کوئی کسی کو کچھ نہ کہتا۔ ذی القعدہ 6 ہجری میں حضرت ﷺ جماعت صحابہ کے ہمراہ عمرہ کے قصد سے مکہ کی زیارت کو تشریف لائے جب آپ مکہ کے نزدیک پہنچے تو مشرکین جمع ہو کر لڑنے کو تیار ہوگئے اور مسلمانوں کو روک دیا آخر کو اس پر صلح ہوئی کہ اب تو بدون زیارت واپس ہوجائیں اور اگلے برس آکر عمرہ کریں اور تین روز اطمینان سے مکہ میں رہیں۔ جب دوسرے برس ذی القعدہ 7 ہجری میں آپ ﷺ نے مکہ کا قصد فرمایا تو آپ ﷺ کے اصحاب کو یہ اندیشہ تھا کہ اہل مکہ اگر اب بھی وعدہ خلافی کر کے لڑنے بھڑنے کو تیار ہوگئے تو پھر ہم کیا کریں گے لڑیں تو شہر حرام اور حرم مکہ میں کیونکر لڑیں اور نہ لڑیں تو عمرہ کیسے کریں اس پر حکم الہٰی آیا کہ اگر وہ اس مہینہ حرام میں خلاف عہد تم سے لڑیں تو تم بھی بےتامل ان سے لڑو ہاں تمہاری طرف سے ابتداء اور زیادتی نہ ہونی چاہیے حج کے ذیل میں عمرہ حدیبیہ کی مناسبت سے قتال کفار کا ذکر آیا اس لئے جہاد کے بعض احکام و آداب مناسب مقام مذکور فرمائے جاتے ہیں اسکے بعد پھر حج کے احکام بیان ہوں گے۔ 12 زیادتی مت کرو اس کے معنی یہ کہ لڑائی میں لڑکے اور عورتیں اور بوڑھے قصدا نہ مارے جائیں اور حرم کے اندر اپنی طرف سے لڑائی شروع نہ کی جائے۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور مار ڈالو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا1 اور دین سے بچلانا مار ڈالنے سے بھی زیادہ سخت ہے2 اور نہ لڑو ان سے مسجد الحرام کے پاس جب تک کہ وہ نہ لڑیں تم سے اس جگہ پھر اگر وہ خود ہی لڑیں تم سے تو ان کو مارو یہی ہے سزا کافروں کی3

1 جس جگہ پاؤ یعنی حرم میں ہوں خواہ غیر حرم میں جہاں سے تم کو نکالا یعنی مکہ سے۔ 2 یعنی دین سے پھرجانا یا دوسرے کو پھر انا مہینہ حرام کے اندر مار ڈالنے سے بہت بڑا گناہ ہے مطلب یہ کہ حرم مکہ میں کفار کا شرک کرنا اور کرانا زیادہ قبیح ہے حرم میں مقاتلہ کرنے سے تو اب اے مسلمانو تم کچھ اندیشہ نہ کرو اور جواب ترکی بہ ترکی دو ۔ 3 یعنی مکہ ضرور جائے امن ہے لیکن جب انہوں نے ابتداء کی اور تم پر ظلم کیا اور ایمان لانے پر دشمنی کرنے لگے کہ یہ بات مار ڈالنے سے بھی سخت ہے تو اب انکو امان نہ رہی جہاں پاؤ مارو آخر جب مکہ فتح ہوا تو آپ ﷺ نے یہی فرما دیا کہ جو ہتھیار سامنے کرے اسی کو مارو اور باقی سب کو امن دیا۔
Ayah 2:192

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آئیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے4

4 یعنی باوجود ان سب باتوں کے اگر اب بھی مسلمان ہوں اور شرک سے باز آئیں تو توبہ قبول ہے۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور حکم رہے خدا تعالیٰ ہی کا پھر اگر وہ باز آئیں تو کسی پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر5

5 یعنی کافروں سے لڑائی اسی واسطے ہے کہ ظلم موقوف ہو اور کسی کو دین سے گمراہ نہ کرسکیں اور خاص اللہ ہی کا حکم جاری رہے سو وہ جب شرک سے باز آجائیں تو زیادتی سوائے ظالموں کے اور کسی پر نہیں یعنی جو بدی سے باز آگئے وہ اب ظالم نہ رہے تو اب ان پر زیادتی بھی مت کرو ہاں جو فتنہ سے باز نہ رہیں ان کو شوق سے قتل کرو۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینہ بدلا (مقابل) ہے حرمت والے مہینہ کا اور ادب رکھنے میں بدلہ ہے پھر جس نے تم پر زیادتی کی تم اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے زیادتی کی تم پر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے6

6 حرمت کا مہینہ یعنی ذیقعدہ کہ جس میں عمرہ کی قضا کرنے جا رہے ہو بدلہ ہے اس حرمت کے مہینہ یعنی ذیقعدہ کا کہ سال گزشتہ میں اسی مہینہ کے اندر کفار مکہ نے تم کو عمرہ سے روک دیا تھا اور مکہ میں جانے نہ دیا تھا یعنی اب تم شوق سے ان سے بدلہ لو کیونکہ ادب اور حرمت رکھنے میں تو برابری ہے یعنی اگر کوئی کافر ماہ حرام کی حرمت کرے اور اس مہینہ میں تم سے نہ لڑے تو تم بھی ایسا ہی کرو مکہ والے جو سال گزشتہ میں تم پر ظلم کرچکے اور نہ ماہ حرام کی حرمت کی نہ حرم مکہ کی نہ تمہارے احرام کا لحاظ کیا اور تم نے اس پر بھی صبر کیا اگر اس دفعہ بھی سب حرمتوں سے قطع نظر کر کے آمادہ جنگ ہوں تو تم بھی کسی حرمت کا خیال مت کرو بلکہ اگلی پچھلی سب کسر مٹا لو مگر جو کرو خدا سے ڈر کر کرو اس کے خلاف اجازت ہرگز نہ ہو اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کا بیشک ناصر و مددگار ہے۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خرچ کر اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنی جان کو ہلاکت میں7 اور نیکی کرو بیشک اللہ دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو

7 مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت میں یعنی جہاد وغیرہ میں اپنے مال کو صرف کرو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی جہاد کو چھوڑ بیٹھو یا اپنے مال کو جہاد میں صرف نہ کرو کہ اس سے تم ضعیف اور دشمن قوی ہوگا۔