Ayah 2:1615 یعنی جس نے خود حق پوشی کی یا کسی دوسرے کی حق پوشی کے باعث گمراہ ہوا اور اخیر تک کافر ہی رہا اور توبہ نصیب نہ ہوئی تو وہ ہمیشہ کو ملعون اور جہنمی ہوا مرنے کے بعد توبہ مقبول نہیں بخلاف اول فریق مذکور سابق کے کہ توبہ نے ان کی لعنت کو منقطع کردیا کہ زندگی ہی میں تائب ہوگئے۔
Ayah 2:1626 یعنی ان پر عذاب یکساں اور متصل رہیگا یہ نہ ہوگا کہ عذاب میں کسی قسم کی کمی ہوجائے یا کسی وقت ان کو عذاب سے مہلت مل جائے۔
Ayah 2:1637 یعنی معبود حقیقی تم سب کا ایک ہی ہے اس میں تعدّد کا احتمال بھی نہیں سو اب جس نے اس کی نافرمانی کی بالکل مردود اور غارت ہوا دوسرا معبود ہوتا تو ممکن تھا کہ اس سے نفع کی توقع باندھی جاتی یہ آقائی اور پادشاہی اور استادی اور پیری نہیں کہ ایک جگہ موافقت نہ آئی تو دوسری جگہ چلے گئے یہ تو معبودی اور خدائی ہے نہ اس کے سوا کسی کو معبود بنا سکتے ہو اور نہ کسی سے اس کے علاوہ خیر کی توقع کرسکتے ہو۔ جب آیت والٰھکم الٰہ واحد نازل ہوئی تو کفار مکہ نے تعجب کیا کہ تمام عالم کو معبود اور سب کا کام بنانے والا ایک کیسے ہوسکتا ہے اور اس کی دلیل کیا ہے اس پر آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ) 2 ۔ البقرۃ :164) نازل ہوئی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں۔
Ayah 2:1641 یعنی آسمان کے اس قدر وسیع اور اونچا اور بےستون پیدا کرنے میں اور زمین کے اتنی وسیع اور مضبوط پیدا کرنے اور اس کے پانی پر پھیلانے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے اور ان کے گھٹانے اور بڑھانے میں اور کشتیوں کے دریا میں چلنے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس سے زمین کو سرسبز و ترو تازہ کرنے میں جملہ حیوانات میں اس سے توالد و تناسل نشوونما ہونے میں اور جہات مختلفہ سے ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں معلق کرنے میں دلائل عظیمہ اور کثیرہ ہیں حق تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت اور حکمت اور رحمت پر ان کے لئے جو صاحب عقل اور فکر ہیں۔
فائدہ : لَااِلٰہَ اِلّا ھُوَ میں توحید ذات کا اور الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ میں توحید صفات کا ثبوت تھا اور اِنَّ فِیْ خَلْقِ الخ میں توحید افعال کا ثبوت ہوا جس سے مشرکین کے شبہات بالکلیہ مندفع ہوگئے۔
Ayah 2:1652 یعنی آدمیوں میں جو کہ شعور و عقل میں جمیع مخلوقات سے افضل ہیں، بعضے ایسے بھی ہیں کہ باوجود دلائل ظاہرہ سابقہ کے پھر غیر اللہ کو حق تعالیٰ کا شریک اور اس کے برابر بناتے ہیں۔
3 یعنی صرف اقوال و اعمال جزئیہ ہی میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں مانتے بلکہ محبت قلبی جو کہ صدور اعمال کی اصل ہے اس تک شرک اور مساوات کی نوبت پہنچا رکھی ہے جو شرک کا اعلیٰ درجہ ہے اور شرک فی الاعمال اس کا خادم اور تابع ہے۔
4 یعنی مشرکین کو جو اپنے معبودوں سے محبت ہے مومنین کو اپنے اللہ سے اس سے بھی بہت زیادہ اور مستحکم محبت ہے کیونکہ مصائب دنیا میں مشرکین کی محبت بسا اوقات زائل ہوجاتی ہے اور عذاب آخرت دیکھ کر تو بالکل تبرّی اور بیزاری ظاہر کریں گے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے بخلاف مومنین کے کہ ان کی محبت اپنے اللہ کے ساتھ ہر ایک رنج و راحت، مرض و صحت دنیا و آخرت میں برابر باقی اور پائیدار رہنے والی ہے اور نیز اہل ایمان کو جو اللہ سے محبت ہے وہ اس محبت سے بھی بہت زیادہ ہے جو محبت کہ اہل ایمان ماسوی اللہ یعنی انبیاء و اولیاء و ملائکہ و عباد و علماء یا اپنے آباؤ اجداد اور اولاد و مال وغیرہ سے رکھتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو اس کی عظمت شان کے موافق بالاصال اور بالاستقلال محبت رکھتے ہیں اور اوروں سے بالواسطہ اور حق تعالیٰ کے حکم کے موافق ہر ایک کے اندازہ کے مطابق محبت رکھتے ہیں " گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی " خدا اور غیر خدا کو محبت میں برابر کردینا خواہ وہ کوئی ہو یہ مشرکین کا کام ہے۔
5 یعنی جن ظالموں نے خدا کے لئے شریک بنائے اگر وہ اس آنے والے وقت کو دیکھ لیں کہ جس وقت ان کو عذاب الہٰی کا مشاہدہ ہوگا کہ زور سارا اللہ ہی کے لئے ہے عذاب خداوندی سے کوئی نہیں بچا سکتا اور اللہ کا عذاب سخت ہے تو ہرگز اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ نہ ہوں اور نہ ان سے امید منفعت رکھیں۔
Ayah 2:1666 یعنی وہ وقت ایسا ہوگا کہ بیزار ہوجائیں گے متبوع اپنے تابعداروں سے اور بت پرست اور بتوں میں کوئی علاقہ باقی نہ رہیگا ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا عذاب الہٰی دیکھ کر۔
Ayah 2:1677 اور مشرکین اس وقت کہیں گے کہ اگر کسی طرح ہم کو پھر دنیا میں لوٹ جانا نصیب ہو تو ہم بھی ان سے اپنا انتقام لیں اور جیسا یہ آج ہم سے جدا ہوگئے ہم بھی ان کو جواب دے کر جدا ہوجائیں لیکن اس آرزو محال سے بجز افسوس کچھ نفع نہ ہوگا۔
8 یعنی جیسے مشرکین کو عذاب الہٰی اور اپنے معبودوں کی بیزاری دیکھ کر سخت حسرت ہوگی اسی طرح پر ان کے جملہ اعمال کو حق تعالیٰ ان کے لئے موجب حسرت بنا دے گا کیونکہ حج وعمرہ اور صدقات و خیرات جو اچھی باتیں کی ہونگی وہ سب تو بسبب شرک مردود ہوجائیں گی اور شرک و گناہ جس قدر کئے ہونگے ان کا بدلہ عذاب ملے گا تو اب ان کے بھلے اور برے اعمال سب کے سب موجب حسرت ہونگے کسی عمل سے کچھ نفع نہ ہوگا اور ہمیشہ دوزخ میں رہینگے بخلاف موحدین اور اہل ایمان کے کہ اگر بسبب معاصی دوزخ میں جائیں گے تو انجام کار نجات پائیں گے۔
Ayah 2:1689 اہل عرب بت پرستی کرتے تھے اور بتوں کے نام پر سانڈ بھی چھوڑتے تھے اور ان جانوروں سے نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے اور یہ بھی ایک طرح کا شرک ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا منصب اللہ کے سوا کسی کو نہیں اس بارے میں کسی کی بات ماننی گویا اس کو اللہ کا شریک بنانا ہے اس لئے پہلی آیات میں شرک کی خرابی بیان فرما کر اب تحریم حلال سے ممانعت کی جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ زمین میں پیدا ہوتا ہے اس میں سے کھاؤ بشرطیکہ وہ شرعا حلال و طیّب ہو نہ تو فی نفسہٖ حرام ہو جیسے مردار اور خنزیر اور (وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ) 2 ۔ البقرۃ :173) (جن جانوروں پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا جائے اور اسکی قربت مقصود ان جانوروں کے ذبح سے ہو) اور نہ کسی امر عارضی سے اس میں حرمت آگئی ہو جیسے غصب، چوری رشوت سود کا مال کہ ان سب سے اجتناب ضروری ہے اور شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرو کہ جس کو چاہا حرام کرلیا جیسے بتوں کے نام کے سانڈ وغیرہ اور جس کو چاہا حلال کرلیا جیسے مااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ وغیرہ۔
Ayah 2:16910 یعنی مسئلے اور احکام شرعیہ اپنی طرف سے بنا لو جیسا کہ بہت سے مواقع میں دیکھا جاتا ہے کہ مسائل جزئیہ سے گزر کر امور اعتقادیہ تک نصوص شرعیہ کو چھوڑ کر اپنی طرف سے احکام تراشے جاتے ہیں اور نصوص قطعیہ اوراقوال سلف کی تحریف اور تغلیط کرتے ہیں۔
Ayah 2:1701 یعنی حق تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے باپ دادا کا اتباع کرتے ہیں اور یہ بھی شرک ہے چناچہ بعض جہال مسلمان بھی ترک نکاح بیوگاں وغیرہ رسوم باطلہ میں ایسی بات کہہ گزرتے ہیں اور بعض زبان سے گو نہ کہیں مگر عمل درآمد سے ان کے ایسا ہی مترشح ہوتا ہے سو یہ بات اسلام کے خلاف ہے۔
Ayah 2:1712 یعنی ان کافروں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ایسا ہے جیسا کوئی جنگل کے جانوروں کو بلائے کہ وہ سوائے آواز کے کچھ نہیں سمجھتے یہی حال ان لوگوں کا ہے جو خود علم نہ رکھیں اور نہ علم والوں کی بات قبول کریں۔
3 یعنی یہ کفار گویا بہرے ہیں جو حق بات بالکل نہیں سنتے گونگے ہیں جو حق بات نہیں کہتے اندھے ہیں جو راہ مستقیم نہیں دیکھتے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے کیونکہ جب ان کے ہر سہ قویٰ مذکورہ فاسد ہوگئے تو تحصیل علم و فہم کی اب کیا صورت ہوسکتی ہے۔
Ayah 2:1724 اکل طیبات کا حکم اوپر گزر چکا تھا لیکن مشرکین چونکہ شیطان کی پیروی سے باز نہیں آتے اور احکام اپنی طرف سے بنا کر اللہ کے اوپر لگاتے ہیں اور اپنے رسوم باطلہ آبائی کو نہیں چھوڑتے اور حق بات سمجھنے کی ان میں گنجائش ہی نہیں تو اب ان سے اعراض فرما کر خاص مسلمانوں کو اکل طیبات کا حکم فرمایا گیا اور اپنا انعام ظاہر کر کے ادائے شکر کا امر کیا گیا اس میں اہل ایمان کے مقبول اور مطیع ہونے کی جانب اور مشرکین کے مردود ومعتوب و نافرمان ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Ayah 2:1735 مردار وہ ہے کہ خود بخود مرجائے اور ذبح کی نوبت نہ آئے یا خلاف طریقہ شرعیہ اس کو ذبح یا شکار کیا جائے مثلا گلا گھونٹا جائے یا زندہ جانور کا کوئی عضو کاٹ لیا جائے یا لکڑی اور پتھر اور غلیل و بندوق سے مارا جائے یا اوپر سے گر کر یا کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرجائے یا درندہ پھاڑ ڈالے یا ذبح کے وقت قصدا تکبیر کو ترک کیا جائے کہ یہ سب مردار اور حرام ہیں البتہ دو جانور مردار بحکم حدیث شریف اس حرمت سے مستثنیٰ اور ہم کو حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی۔
6 اور خون سے مراد وہ خون ہے جو رگوں سے بہتا ہے اور ذبح کے وقت نکلتا ہے اور جو خون کہ گوشت پر لگا رہتا ہے وہ حلال اور پاک ہے اگر گوشت کو بغیر دھوئے ہوئے پکا لیا جائے تو اس کا کھانا درست ہے۔ البتہ نظافت کے خلاف ہے اور کلیجی اور تلی کہ خون منجمد ہیں بحکم حدیث شریف حلال ہیں۔
7 اور خنزیر زندہ ہو یا مردہ یا قاعدہ شریعت کے موافق ذبح کرلیا جائے ہر حال میں حرام ہے اور اس کے تمام اجزاء گوشت پوست چربی ناخن بال ہڈی پٹھا ناپاک اور ان سے نفع اٹھانا اور کسی کام میں لانا حرام ہے۔ اس موقع پر چونکہ کھانے کی چیزوں کا ذکر ہے اس لئے فقط گوشت کا حکم بتلایا گیا مگر اس پر سب کا اجماع ہے کہ خنزیر جو کہ بےغیرتی اور بےحیائی اور حرص اور رغبت الی النجاسات میں سب جانوروں میں بڑھا ہوا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت فاِنَّہ رِجْس فرمایا بلاشک نجس العین ہے نہ اس کا کوئی جزو پاک اور نہ کسی قسم کا انتفاع اس سے جائز جو لوگ کثرت سے اس کو کھاتے ہیں اور اس کے اجزاء سے نفع اٹھاتے ہیں ان تک میں اوصاف مذکورہ واضح طور پر مشاہدہ ہوتے ہیں۔
8 مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ ان جانوروں پر اللہ کے سوا بت وغیرہ کا نام پکارا جائے یعنی اللہ کے سوا کسی بت یا جن یا کسی روح خبیث یا پیر یا پیغمبر کے نامزد کر کے اور اس جانور کی جان ان کی نذر کر کے ان کے تقرب یا رضا جوئی کی نیت سے ذبح کیا جائے اور محض ان کی خوشنودی کی غرض سے اس کی جان نکالنی مقصود ہو ان سب جانوروں کا کھانا حرام ہے گو بوقت ذبح تکبیر پڑھی ہو اور اللہ کا نام لیا ہو کیونکہ جان کو جان آفرین کے سوا کسی دوسرے کے لئے نذر و نیاز کرنا ہرگز درست نہیں اس لئے جس جانور کی جان غیر اللہ کی نذر کی جائے تو اس کی خباثت مردار کی خباثت سے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ مردار میں تو یہی خرابی تھی کہ اس کی جان اللہ کے نام پر نہیں نکلی اور اس کی تو جان غیر اللہ کے نامزد کردی گئی جو عین شرک ہے سو جیسے خنزیر اور کتے پر بوقت ذبح تکبیر کہنے سے حلت نہیں آسکتی اور مردار پر اللہ کا نام لینے سے کوئی نفع نہیں ہوسکتا ایسے ہی جس جانور کی جان غیر اللہ کی نذر اور ان کے نامزد کردی ہو اس پر ذبح کے وقت نام الہٰی لینے سے ہرگز ہرگز کوئی نفع اور حلّت اس میں نہیں آسکتی البتہ اگر غیر اللہ کے نامزد کرنے کے بعد اپنی نیت سے ہی توبہ اور رجوع کر کے ذبح کریگا تو اس کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں علماء نے تصریح فرما دی ہے کہ اگر کسی بادشاہ کے آنے پر اس کی تعظیم کی نیت سے جانور ذبح کیا جائے یا کسی جن کی اذیت سے بچنے کے لئے اس کے نام کا جانور ذبح کیا جائے یا توپ چلنے یا اینٹوں کے پزاوہ کے پکنے کے لئے بطور بھینٹ جانور ذبح کیا جائے تو وہ جانور بالکل مردار اور حرام اور کرنے والا مشرک ہے اگرچہ ذبح کے وقت خدا کا نام لیا جائے۔ حدیث شریف میں آیا ہے لَعْنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہ یعنی جو غیر اللہ کے تقرب اور تعظیم کی نیت سے جانور کو ذبح کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے ذبح کے وقت اللہ کا نام پاک لے یا نہ لے البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کر کے فقراء کو کھلائے اور اس کا ثواب کسی قریب یا پیر اور بزرگ کو پہنچا دے یا کسی مردہ کی طرف سے قربانی کر کے اس کا ثواب اسکو دینا چاہے کیونکہ یہ ذبح غیر اللہ کے لئے ہرگز نہیں بعضے اپنی کجروی سے یہ حیلہ ایسے مواقع میں بیان کرتے ہیں کہ پیروں کی نیاز وغیرہ میں ہم کو تو یہی مقصود ہوتا ہے کہ کھانا پکا کر مردہ کے نام سے صدقہ کردیا جائے تو اول تو خوب سمجھ لیں کہ اللہ کے سامنے جھوٹے حیلوں سے بجز مضرت کوئی نفع حاصل نہیں ہوسکتا، دوسرے ان سے پوچھا جائے کہ جس جانور کی تم نے غیر خدا کے لئے نذر مانی ہے اگر اسی قدر گوشت اس جانور کے عوض خرید کر اور پکا کر فقیروں کو کھلا دو تو تمہارے نزدیک بےکھٹکے وہ نذر ادا ہوجاتی ہے یا نہیں اگر بلاتامل تم اس کو کرسکتے ہو اور اپنی نذر میں کسی قسم کا خلل تمہارے دل میں نہیں رہتا تو تم سچے ورنہ تم جھوٹے اور تمہارا یہ فعل شرک اور وہ جانور مردار اور حرام۔
فائدہ : یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ آیت میں حکم حرمت کو اشیاء مذکورہ میں منحصر کر کے بیان فرمایا ہے جس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اشیائے مذکورہ کے سوا کوئی جانور حرام نہیں حالانکہ جملہ درندے اور گدھا اور کتّا وغیرہ سب کا کھانا حرام ہے اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ اس حصر سے حکم حرمت کو اشیائے مذکورہ میں منحصر کرنا ہرگز مراد نہیں کہ کسی کو اعتراض کی گنجائش ہو بلکہ حکم حرمت کو صحت و صداقت کے ساتھ مخصوص فرما کر اس حکم کی جانب مخالف کا بطلان منظور ہے یعنی بس بات یہی ہے کہ یہ چیزیں اللہ پاک نے تم پر حرام فرما دیں اس میں دوسرا احتمال ہی نہیں یعنی ان کا حلال سمجھنا بالکل باطل اور غلط ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حکم حرمت کو اشیائے مذکورہ ہی میں منحصر مانا جائے مگر اس حصر کو اضافی یعنی خاص انہی چیزوں کے لحاظ سے تسلیم کیا جائے جن کو مشرکین نے اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا جیسے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ جن کا ذکر آئندہ آئیگا۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تو تم پر فقط میتہ اور خنزیر وغیرہ کو حرام کیا تھا تم جو سانڈ وغیرہ کی تحریم اور تعظیم کے قائل ہو یہ محض تمہارا افتراء ہے باقی رہے درندے اور خبیث جانور ان کے حرام ہونے میں مشرکین بھی نزاع نہ کرتے تھے۔ سو یہ حصر انہی جانوروں کے لحاظ سے ہے جن کو مشرکین نے خلاف حکم الہٰی اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیا تھا تمام جہان کے جانوروں سے اس کو کیا تعلق جو اعتراض مذکور کی نوبت آئے۔
9 یعنی اشیائے مذکورہ حرام ہیں لیکن جب کوئی بھوک سے مرنے لگے تو اس کو لاچاری کی حالت میں کھا لینے کی اجازت ہے بشرطیکہ نافرمانی اور زیادتی نہ کرے نافرمانی یہ کہ مثلا نوبت اضطرار کی نہ پہنچے اور کھانے لگے اور زیادتی یہ کہ قدر ضرورت سے زائد خوب پیٹ بھر کر کھالے بس اتنا ہی کھائے جس سے مرے نہیں۔
10 یعنی اللہ پاک تو بڑا بخشنے والا ہے بندوں کے ہر قسم کے گناہوں کو بخش دیتا ہے پھر ایسے لاچار اور مضطر کی بخشش کیسے نہ فرمائے گا اور اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے کہ مجبوری کی حالت میں صاف اجازت دے دی کہ جس طرح بن پڑے اپنی جان بچالو اصلی حکم ممانعت کا لاچاری کی حالت میں تم پر سے اٹھا لیا گیا ورنہ اس مالک الملک کا حق تھا کہ فرما دیتا تمہاری جان جائے یا رہے مگر ہمارے حکم کے خلاف ہرگز نہ کرنا۔ ایک خلجان یہاں یہ بھی ہوتا تھا کہ بھوک سے مرتے ہوئے مضطر بدحواس کو یہ اندازہ کرنا کہ اتنے لقموں سے سدرمق ہوجائیگا اور اس سے زائد ایک لقمہ نہ کھائے محال نہیں تو دشوار تو بہت ہے اس لئے اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ فرما کر اس میں سہولت کردی۔
Ayah 2:17411 یعنی اللہ نے جو کتاب آسمانی میں حلال و حرام کا حکم بھیجا یہود نے اس کو چھپایا اور اپنی طرف سے بڑھایا گھٹایا جیسا کہ پہلی آیت میں مذکور ہوچکا ایسے ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صفات جو اس میں لکھی تھیں ان کو بھی چھپاتے اور بدلتے تھے اور یہ دونوں سخت گناہ ہیں کیونکہ ان کا مطلب اور نتیجہ یہ ہے کہ ہدایت اور طریقہ حق کسی کو نصیب نہ ہو، سب گمراہ رہیں حالانکہ حق تعالیٰ نے تو کتاب اور رسول کو ہدایت خلق کے لئے بھیجا تھا سو انہوں نے خدا کے بھی خلاف کیا اور خلق اللہ کو بھی جاہل اور گمراہ بنانا چاہا۔
12 یعنی اللہ کی نافرمانی اور خلق اللہ کی گمراہی پر بس نہیں کی بلکہ اس حق پوشی کے عوض میں جن کو گمراہ کرتے تھے ان سے الٹا رشوت میں مال بھی لیتے تھے جس کا نام ہدیہ اور نذرانہ اور شکرانہ رکھ چھوڑا تھا حالانکہ یہ حرام خوری مردار اور خنزیر کے کھانے سے بھی بدتر ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ایسی حرکات شنیعہ کی سزا بھی سخت ہوگی جس کو آگے بتلایا جاتا ہے۔
13 یعنی گو ظاہر نظر میں ان کو وہ مال لذیذ اور نفیس معلوم ہو رہا ہے مگر حقیقت میں وہ آگ ہے جس کو خوش ہو کر اپنے پیٹ میں بھر رہے ہیں جیسا طعام لذیذ میں زہر قاتل ملا ہوا ہو کہ کھاتے وقت لذت معلوم ہوتی ہے اور پیٹ میں جا کر آگ لگا دے۔
14 اس میں یہ شبہہ کسی کو ہوسکتا ہے کہ دیگر آیات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب باری تعالیٰ قیامت کو ان سے خطاب فرمائے گا سو کلام نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ لطف و رحمت کے ساتھ ان سے کلام نہ کیا جائے اور بطور تخویف و تذلیل و تہدید و وعید جناب باری تعالیٰ ان سے کلام کریگا جس سے ان کو سخت صدمہ اور غم ہوگا یا یوں کہیے کہ بلاواسطہ ان سے کلام نہ کیا جائیگا اور کلام کرنے کا جو ذکر ہے وہ ملائکہ عذاب کی وساطت سے ہوگا۔
فائدہ : لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ کی دھمکی سے یہ امر صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی کے دل میں محبت الہٰی خوب راسخ ہے اگر سردست محسوس نہ ہو تو اس کو ہمچواخگر بزیر خاکستر سمجھنا چاہیے قیامت کو جب کل موانع دور ہونگے تو اس کا ظہور کامل ہوگا کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو پھر کفار کو یہ دھمکی ایسی ہوگی کہ کوئی اپنے دشمن کو ناخوشی اور اعراض سے ڈرانے لگے جو بالکل بےسود ہے محبان جاں نثار اعراض محبوب کو درد جانگداز سمجھتے ہیں نہ اعداء بس معلوم ہوا کہ قیامت کو ہر سینہ اللہ کی محبت سے ایسا لبریز ہوگا کہ یہ بےالتفاقی عذاب دوزخ سے بھی بدرجہا زیادہ ان کو جانکاہ معلوم ہوگی۔
15 یعنی اہل ایمان گو کتنے ہی گنہگار ہوں مگر دوزخ میں زمانہ معین تک رہ کر اور گناہوں سے پاک ہو کر جنت میں داخل کردیے جائینگے بخلاف کفار کے کہ وہ ہمیشہ نار میں رہیں گے اور کبھی پاک ہو کر جنت میں جانے کے قابل نہ ہونگے امور شرکیہ نے ان کو بمنزلہ نجس العین کے بنادیا ہے کہ نجاست ان کی کسی طرح دور نہیں ہوسکتی اور مسلمان عاصی کا حال ایسا سمجھیے کہ پاک چیز پر نجاست واقع ہوگئی نجاست زائل ہو کر پھر پاک ہوگیا۔
16 واقعی اس سے زیادہ اور کیا عذاب الیم ہوگا کہ ظاہر بدن سے بڑھ کر ان کے باطن میں بھی آگ ہوگی اور محبوب حقیقی ان سے ناخوش ہوگا پھر اس مصیبت جانکاہ سے کبھی نجات نہ ملیگی نعوذ باللہ۔
Ayah 2:1751 یعنی وہ لوگ بیشک اسی قابل ہیں کیونکہ انہوں نے خود سرمایہ نجات کو غارت کیا اور گمراہی کو ہدایت کے مقابلہ میں پسند اور اختیار کیا اور اسباب مغفرت کو چھوڑ کر اسباب عذاب کو منظور کیا۔
2 یعنی اپنی خوشی سے موجبات دخول نار کو اختیار کرتے ہیں گویا آگ ان کو نہایت مرغوب اور محبوب ہے کہ اپنی جان و مال کے بدلے اس کو خرید رہے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ عذاب نار پر صبر کرنا کیسا ہے۔
Ayah 2:1763 یہ یعنی ضلالت کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خریدنے کی دلیل یا ان پر عذابات مذکورہ سابقہ کے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو کتاب سچی نازل فرمائی انہوں نے اس کے خلاف کیا اور طرح طرح کے اختلاف اس میں ڈالے اور خلاف اور دشمنی میں دور جا پڑے یعنی بڑا خلاف کیا، یا طریقہ حق سے دور ہوگئے ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کا صابر علی النار ہونا چونکہ بدیہی البطلان نظر آتا تھا اس لئے لفظ ذٰلک سے اخیر تک اسکے جواب کی طرف اشارہ فرما دیا فافہم۔
Ayah 2:1774 جب آیات سابقہ اپنی برائی میں سنیں تو یہود و نصاریٰ کہنے لگے کہ ہم میں تو بہت سے اسباب وآثار ہدایت و مغفرت موجود ہیں ایک کھلی بات یہی ہے کہ ہم جس قبلہ کی طرف منہ کرنے کے مامور ہیں اس کی طرف متوجہ ہو کر نماز جو افضل عبادت ہے اس کو اللہ کے حکم کے موافق ادا کرتے ہیں پھر ان خرابیوں اور عذاب کے ہم کیسے مستحق ہوسکتے ہیں اس خیال کی تردید میں فرمایا جاتا ہے کہ بڑی نیکی جو مغفرت و ہدایت کے لئے کافی ہو یہ نہیں کہ تم صرف اپنا منہ نماز میں مشرق یا مغرب کی طرف کرلیا کرو اور عقائد و اعمال ضروریہ کی پروا بھی نہ کرو۔
5 یعنی نیکی اور بھلائی جو اثر ہدایت اور سبب مغفرت ہو یہ ہے کہ اللہ اور اور روز قیامت اور جملہ ملائکہ اور کتب آسمانی اور انبیاء پر دل سے ایمان لائے اور ان پر یقین کرے اور باوجود محبت اور رغبت کے اپنے مال کو علاوہ زکوٰۃ کے قریبوں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں اور سائلوں کو جو کہ محتاج ہوں دے اور گردنیں چھڑانے میں یعنی مسلمان جس کو کفار نے ظلما قید کرلیا ہو اس کی رہائی میں یا مقروض کو قرض خواہ سے چھڑانے میں یا غلام کو آزاد کرانے میں یا غلام مکاتب کو خلاصی دلانے میں مال دیوے اور نماز کو خوب درستی کے ساتھ پڑھے اور چاندی اور سونے اور جملہ اموال تجارت میں سے زکوٰۃ دے اور اپنے عہد وقرار کو پورا کرے اور فقروفاقہ اور بیماری اور تکلیف اور خوف کی حالت میں صبر و استقلال سے رہے اور یہود و نصاریٰ چونکہ ان عقائد اور اعمال و اخلاق میں قاصر اور ناقص تھے اور طرح طرح سے ان میں خلل اندازی کرتے تھے جیسا کہ آیات قرآنی ہیں اس کا ذکر ہے تو اب یہود یا نصاریٰ کا صرف اپنے استقبال قبلہ پر ناز کرنا اور اپنے آپ کو طریق ہدایت پر مستقیم سمجھنا اور مستحق مغفرت کہنا بیہودہ خیال ہے تاوقتیکہ ان اعتقادات اور اخلاق و اعمال پر قائم نہ ہونگے جو اس آیہ کریمہ میں بالتفصیل مذکور ہیں صرف استقبال قبلہ سے نہ ہدایت نصیب ہوسکتی ہے نہ عذاب الہٰی سے نجات مل سکتی ہے۔
6 یعنی جو لوگ اعتقادات و اخلاق و اعمال مذکورہ کے ساتھ متصف ہیں وہی لوگ سچے ہیں اعتقادات اور ایمان اور دین میں اپنے قول وقرار میں اور وہی لوگ پرہیزگار اور متقی ہیں اپنے اخلاق اور اعمال میں یا بچنے والے ہیں گناہ اور بری باتوں سے یا عذاب الہٰی سے اہل کتاب کہ جن کو ان خوبیوں میں ایک بھی میسر نہیں ان کا اپنی نسبت ایسا خیال کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:1787 زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب نے یہ دستور کر رکھا تھا کہ شریف النسب لوگوں کے غلام کے بدلے رذیل لوگوں کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک آزاد کے بدلے دو کو قصاص میں قتل کرتے تھے حق تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا کہ اے ایمان والو ہم نے تم پر مقتولین میں برابری اور مساوات کو فرض کردیا۔ قصاص کے معنی لغت میں برابر اور مساوات کے ہیں تم نے جو یہ دستور نکالا ہے کہ شریف اور رذیل میں امتیاز کرتے ہو یہ لغو ہے جانیں سب کی برابر ہیں غریب ہو یا امیر، شریف ہو یا رذیل، عالم و فاضل ہو یا جاہل، جوان ہو یا بوڑھا اور بچہ تندرست ہو یا بیمار، قریب المرگ صحیح الاعضا ہو یا اندھا لنگڑا۔
فائدہ : پہلی آیت میں نیکی اور برّ کے اصول مذکور تھے جن پر مدار ہدایت و مغفرت تھا اور اس طرف بھی اشارہ تھا کہ اہل کتاب ان خوبیوں سے بےبہرہ ہیں اور بالتصریح فرمادیا تھا کہ دین میں سچا اور متقی بدون ان خوبیوں کے کوئی نہیں ہوسکتا تو اب اہل اسلام کے سوا نہ اہل کتاب اس کے مصداق بن سکتے ہیں نہ جہال عرب، اس لئے اب سب سے اعراض فرما کر خاص اہل ایمان کو مخاطب بنایا جاتا ہے اور نیکی اور برّ کے مختلف فروع عبادات جانی و مالی اور معاملات مختلفہ ان کو بتلاتے ہیں کہ ان فروع کو وہی کرسکتا ہے جو اصول مذکورہ سابقہ پر پختہ ہو گویا اور لوگ اس خطاب کے قابل بھی نہ سمجھے گئے جو ان کو سخت عار کا باعث ہونا چاہیے اب جو احکام فروعی بالتفصیل بیان کئے جاتے ہیں درحقیقت تو ان سے اہل ایمان کی ہدایت اور تعلیم مقصود ہے مگر ضمنا کہیں صاف کہیں تعریضاً دوسروں کی خرابی پر بھی متنبہ کیا جائیگا مثلاً کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہود وغیرہ نے جو قصاص میں دستور کرلیا ہے یہ ان کا ایجاد بےبنیاد خلاف حکم الہٰی ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ اصول فرمودہ سابقہ میں سے نہ ان کو ایمان بالکتاب صحیح طور پر حاصل ہے نہ ایمان بالانبیاء نہ عہد خداوندی کو انہوں نے وفا کیا اور نہ سختی اور مصیبت کی حالت میں انہوں نے صبر سے کام لیا ورنہ اپنے کسی عزیز و قریب کے مقتول ہوجانے پر اس قدر بےصبری اور نفسانیت نہ کرتے کہ فرمان خداوندی اور ارشاد انبیاء اور حکم کتاب سب کو چھوڑ کر بےگناہوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے۔
8 یہ توضیح ہے اس برابری کی جس کا حکم ہوا مطلب یہ ہے کہ ہر مرد آزاد کے قصاص میں صرف وہی ایک آزاد مرد قتل کیا جاسکتا ہے جو اس کا قاتل ہے یہ نہیں کہ ایک کے عوض قاتل کے قبیلہ سے کیف ما اتفق دو کو یا زیادہ کو قتل کرنے لگو۔
9 یعنی ہر غلام کے بدلے میں وہی غلام قتل کیا جائیگا جو قاتل ہے یہ نہ ہوگا کہ کسی شریف کے غلام کے قصاص میں قاتل کو جو کہ غلام ہے اس کو چھوڑ کر ان رذیل لوگوں میں سے کہ جن کے غلام نے قتل کیا ہے کسی آزاد کو قتل کیا جائے۔
10 یعنی ہر ایک عورت کے قصاص میں صرف وہی عورت قتل کی جاسکتی ہے جس نے اسکو قتل کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ شریف النسب عورت کے قصاص میں رذیل عورت کو چھوڑ کر جو کہ قاتلہ ہے کسی مرد کو ان میں سے قتل کرنے لگیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر آزاد دوسرے آزاد کے اور ہر غلام دوسرے غلام کے برابر ہے سو حکم قصاص میں مساوات چاہیے اور تعدی جو اہل کتاب اور جہال عرب کرتے تھے ممنوع ہے۔
فائدہ : اب باقی رہا یہ امر کہ آزاد کسی غلام کو یا مرد کسی عورت کو قتل کر دے تو قصاص لیا جائیگا یا نہیں سو یہ آیت کریمہ اس سے ساکت ہے اور آئمہ کا اس میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ آیہ انَّ النَفْسَ بالنَّفْسِ اور حدیث المسلمون تتکافؤ دماؤھم سے اس کے قائل ہیں۔ کہ ہر دو صورت مذکورہ میں قصاص ہوگا اور جیسے قوی اور ضعیف صحیح اور مریض اور غیر معذور وغیرہ حکم قصاص میں برابر ہیں ایسے ہی آزاد اور غلام مرد اور عورت کو امام ابوحنیفہ قصاص میں برابر فرماتے ہیں بشرطیکہ غلام مقتول قاتل کا غلام نہ ہو کہ وہ حکم قصاص سے ان کے نزدیک مستثنیٰ ہے اور اگر کوئی مسلمان کافر ذمی کو قتل کر ڈالے تو اس پر بھی قصاص ہوگا امام ابوحنیفہ کے نزدیک البتہ مسلمان اور کافر حربی میں کوئی قصاص کا قائل نہیں۔
1 یعنی مقتول کے وارثوں میں سے اگر بعض بھی خون کو معاف کردیں تو اب قاتل کو قصاص میں قتل تو نہیں کرسکتے بلکہ دیکھیں گے کہ ان وارثوں نے معاف کس طرح پر کیا ہے بلا معاوضہ مالی محض ثواب کی غرض سے معاف کیا ہے یادیت شرعی اور بطور مصالحت کسی مقدار مال پر راضی ہو کر صرف قصاص سے دستبرداری کی ہے اول صورت میں قاتل ان وارثوں کے مطالبہ سے بالکل سبکدوش ہوجائیگا اور دوسری صورت میں قاتل کو چاہیے کہ وہ معاوضہ اچھی طرح ممنونیت اور خوشدلی کے ساتھ ادا کرے۔
2 یہ اجازت کہ قتل عمد میں چاہو قصاص لو چاہو دیت لو چاہو معاف کرو اللہ کی طرف سے سہولت اور مہربانی ہے قاتل اور وارثان مقتول دونوں پر جو پہلے لوگوں پر نہ ہوئی تھی کہ یہود پر خاص قصاص اور نصاریٰ پر دیت یا عفو مقرر تھا۔
3 یعنی اس تخفیف اور رحمت کے بعد بھی اگر کوئی خلاف ورزی کریگا اور دستور جاہلیت پر چلے گا یا معافی اور دیت قبول کرلینے کے بعد قاتل کو قتل کرے گا تو اس کے لئے سخت عذاب ہے آخرت میں یا ابھی اس کو قتل کیا جائے گا۔
Ayah 2:1794 یعنی حکم قصاص بظاہر نظر اگرچہ بھاری معلوم ہو لیکن عقلمند سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حکم بڑی زندگانی کا سبب ہے کیونکہ قصاص کے خوف سے ہر کوئی کسی کو قتل کرنے سے رکے گا تو دونوں کی جان محفوظ رہے گی اور قصاص کے سبب قاتل اور مقتول دونوں کی جماعتیں بھی قتل سے محفوظ اور مطمئن رہینگی عرب میں ایسا ہوتا تھا کہ قاتل اور غیر قاتل کا لحاظ نہیں کرتے تھے جو ہاتھ آجاتا مقتول کے وارث اس کو قتل کر ڈالتے تھے اور فریقین میں اس کے باعث ایک خون کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہونے کی نوبت آتی تھی جب خاص قاتل ہی سے قصاص لیا گیا تو یہ تمام جانیں بچ گئیں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قصاص قاتل کے حق میں باعث حیات اخروی ہے۔
5 یعنی بچتے رہو قصاص کے خوف سے کسی کو قتل کرنے سے یا بچو قصاص کے سبب عذاب آخرت سے یا اس لئے کہ تم کو حکم قصاص کی حکمت معلوم ہوگئی ہے تو اس کی مخا لفت یعنی ترک قصاص سے بچتے رہو۔
Ayah 2:1806 پہلا حکم قصاص یعنی مردہ کی جان کے متعلق تھا یہ دوسرا حکم اس کے مال کے متعلق اور کلیات مذکورہ سابقہ میں جو (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى) 2 ۔ البقرۃ :177) ارشاد ہوا تھا اس کی تشریح ہے لوگوں میں دستور تھا کہ مردہ کا تمام مال اس کی بیوی اور اولاد بلکہ خاص بیٹوں کو ملتا تھا ماں باپ اور سب اقارب محروم رہتے تھے اس آیت میں ارشاد ہوا کہ ماں باپ اور جملہ اقارب کو انصاف کے ساتھ دینا چاہیے مرنے والے پر اسی کے موافق وصیت فرض ہوئی اور یہ وصیت اس وقت فرض تھی جس وقت تک آیت میراث نہیں اتری تھی جب سورة نساء میں احکام میراث نازل ہوئے سب کا حصّہ خدا تعالیٰ نے آپ معین فرما دیا اب ترکہ میّت میں وصیت فرض نہ رہی اس کی حاجت ہی جاتی رہی البتہ مستحب ہے مگر وارث کے لئے وصیت جائز نہیں اور تہائی ترکہ سے زائد نہ ہو ہاں اگر کسی شخص کے متعلق دیون اور ودایع وغیرہ دادوستد کا جھگڑا ہو اس پر وصیت اب بھی فرض ہے۔
Ayah 2:1817 یعنی مردہ تو وصیت انصاف کے ساتھ کر مرا تھا مگر دینے والوں نے اس کی تعمیل نہ کی تو مردہ پر کوئی گناہ نہیں وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوا وہی لوگ گنہگار ہونگے بیشک حق تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور سب کی نیتوں کو جانتا ہے۔
Ayah 2:1828 یعنی اگر کسی کو مردہ کی طرف سے یہ اندیشہ یا علم ہوا کہ اس نے کسی وجہ سے غلطی کھائی اور کسی کی بےجا رعایت کی یا دیدہ و دانستہ خلاف حکم الہٰی دے گیا۔ پس اس شخص نے اہل وصیت اور وارثوں میں حکم شریعت کے موافق صلح کرا دی تو اس کو کچھ گناہ نہ ہوگا وصیت میں یہ تغیر اور تبدّل جائز اور بہتر ہے۔
9 یعنی حق تعالیٰ تو گنہگاروں کی بھی مغفرت فرماتا ہے تو جس نے اصلاح کی غرض سے ایک برائی سے سب کو ہٹایا اس کی مغفرت تو ضرور فرمائے گا یوں کہو کہ بخشنے والا ہے وصیت کرنیوالے کو جس نے وصیت ناجائز کی تھی مگر پھر سمجھ کر اس وصیت سے اپنی زندگی ہی میں پھر گیا۔
Ayah 2:18310 یہ حکم روزہ کے متعلق ہے جو ارکان اسلام میں داخل ہے اور نفس کے بندوں ہوا پرستوں کو نہایت ہی شاق ہوتا ہے اس لئے تاکید اور اہتمام کے الفاظ سے بیان کیا گیا اور یہ حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے اب تک برابر جاری رہا ہے گو تعیین ایام میں اختلاف ہو اور اصول مذکورہ سابقہ میں جو صبر کا حکم تھا روزہ اس کا ایک بڑا رکن ہے حدیث میں روزہ کو نصف صبر فرمایا ہے۔
11 یعنی روزہ سے نفس کو اس کی مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑیگی تو پھر اس کو ان مرغوبات سے جو شرعا حرام ہیں روک سکو گے اور روزہ سے نفس کی قوت و شہوت میں ضعف بھی آئے گا تو اب تم متقی ہوجاؤ گے بڑی حکمت روزہ میں یہی ہے کہ نفس سرکش کی اصلاح ہو اور شریعت کے احکام جو نفس کو بھاری معلوم ہوتے ہیں ان کا کرنا سہل ہوجائے اور متقی بن جاؤ، جاننا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ پر بھی رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنی خواہشات کے موافق ان میں اپنی رائے سے تغیر و تبدل کیا تو لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون میں ان پر تعریض ہے معنی یہ ہونگے کہ اے مسلمانو تم نافرمانی سے بچو یعنی مثل یہود اور نصاریٰ کے اس حکم میں خلل نہ ڈالو۔
Ayah 2:18412 یعنی چند روز گنتی کے جو زیادہ نہیں روزہ رکھو اور اس سے رمضان کا مہینہ مراد ہے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے۔
13 پھر اس مدت قلیل میں بھی اتنی سہولت اور فرما دی گئی کہ جو بیمار ایسا ہو کہ روزہ رکھنا دشوار ہو یا مسافر ہو تو اس کو اختیار ہے کہ روزے نہ رکھے اور جتنے روزے کھائے اتنے ہی رمضان کے سوا اور دنوں میں روزے رکھ لے خواہ ایک ساتھ یا متفرق کر کے۔
1 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں مگر ابتداء میں چونکہ روزہ کی بالکل عادت نہ تھی اس لئے ایک ماہ کامل پے درپے روزے رکھنا ان کو نہایت شاق تھا تو ان کے لئے یہ سہولت فرما دی گئی تھی کہ اگرچہ تم کو کوئی عذر مثل مرض یا سفر کے پیش نہ ہو مگر صرف عادت نہ ہونے کے سبب روزہ تم کو دشوار ہو تو اب تم کو اختیار ہے چاہو روزہ رکھو چاہو روزہ کا بدلا دو ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلاؤ کیونکہ جب اس نے ایک دن کا کھانا دوسرے کو دیدیا تو گویا اپنے نفس کو ایک روز کے کھانے سے روک لیا اور فی الجملہ روزہ کی مشابہت ہوگئی پھر جب وہ لوگ روزہ کے عادی ہوگئے تو یہ اجازت باقی نہ رہی جس کا بیان اس سے اگلی آیت میں آتا ہے اور بعض اکابر نے طعام مسکین سے صدقۃ الفطر بھی مراد لیا ہے معنی یہ ہونگے کہ جو لوگ فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کے کھانے کی مقدار اس کو دے دیں جسکی مقدار شرع میں گہیوں کا آدھا صاع اور جَو کا پورا صاع ہے تو اب یہ آیت منسوخ نہ ہوگی اور جو لوگ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ جس کا جی چاہے روزہ رمضان میں رکھ لے اور جس کا جی چاہے فدیہ پر قناعت کرے خاص روزہ ہی ضرور رکھے یہ حکم نہیں وہ یا جاہل ہیں یا بےدین۔
2 یعنی اگر ایک دن کے کھانے سے زیادہ ایک مسکین کو دے یا کئی مسکینوں کا پیٹ بھر دے تو سبحان اللہ بہت ہی بہتر ہے۔
3 یعنی اگر تم کو روزہ کی فضیلت اور حکمت اور منافع معلوم ہوں تو جان لو کہ روزہ رکھنا فدیہ مذکورہ کے دینے سے بہتر ہے اور روزہ رکھنے میں کوتاہی نہ کرو۔
Ayah 2:1854 حدیث میں آیا ہے کہ مصحف ابراہیمی اور تورات اور انجیل سب کا نزول رمضان ہی میں ہوا ہے اور قرآن شریف بھی رمضان کی چوبیسویں رات میں لوح محفوظ سے اول آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا پھر تھوڑا تھوڑا کر کے مناسب احوال آپ ﷺ پر نازل ہوتا رہا اور ہر رمضان میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) قرآن نازل شدہ آپ کو مکرّر سنا جاتے تھے ان سب حالات سے مہینے رمضان کی فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی مناسبت اور خصوصیّت خوب ظاہر ہوگئی اس لئے اس مہینے میں تراویح مقرر ہوئی پس قرآن کی خدمت اسی مہینے میں خوب اہتمام سے کرنی چاہیے کہ اسی واسطے مقرر اور معین ہوا ہے۔
5 یعنی جب اس ماہ مبارک کے فضائل مخصوصہ عظیمہ تم کو معلوم ہوچکے تو اب جس کسی کو یہ مہینہ ملے اس کو روزہ ضرور رکھنا چاہیے اور بغرض سہولت ابتدا میں جو فدیہ کی اجازت برائے چندے دی گئی تھی وہ موقوف ہوگئی۔
6 اس حکم عام سے یہ سمجھ میں آتا تھا کہ شاید مریض اور مسافر کو بھی افطار و قضا کی اجازت باقی نہیں رہی اور جیسے روزہ کی طاقت رکھنے والوں کو اب افطار کی ممانعت کردی گئی ایسے ہی مسافر اور مریض کو بھی ممانعت ہوگئی ہو اس لئے مریض اور مسافر کی نسبت پھر صاف فرما دیا کہ ان کو رمضان میں افطار کرنے اور اور دنوں میں اس کے قضا کردینے کی اجازت اسی طرح باقی ہے جیسے تھی۔
7 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اول رمضان میں روزہ کا حکم فرمایا اور بوجہ عذر پھر مریض اور مسافر کو افطار کرنے کی اجازت دی اور دیگر اوقات میں ان دنوں کی شمار کے برابر روزوں کا قضا کرنا تم پر پھر واجب فرمایا ایک ساتھ ہونے یا متفرق ہونے کی ضرورت نہیں تو اس میں اس کا لحاظ ہے کہ تم پر سہولت رہے دشواری نہ ہو اور یہ بھی منظور ہے کہ تم اپنے روزوں کی شمار پوری کرلیا کرو۔ ثواب میں کمی نہ آجائے اور یہ بھی مدنظر ہے کہ تم اس طریقہ سراسر خیر کی ہدایت پر اپنے اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس کو بزرگی سے یاد کرو اور یہ بھی مطلوب ہے کہ ان نعمتوں پر تم شکر کرو اور شکر کرنیوالوں کی جماعت میں داخل ہوجاؤ سبحان اللہ روزہ جیسی مفید عبادت ہم پر واجب فرمائی اور مشقت اور تکلیف کی حالت میں سہولت بھی فرما دی اور فراغت کے وقت میں اس نقصان کے جبر کا طریقہ بھی بتلا دیا۔
Ayah 2:1868 شروع میں یہ حکم تھا کہ رمضان میں اول شب میں کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت تھی مگر سو رہنے کے بعد ان چیزوں کی ممانعت تھی۔ بعض لوگوں نے اسکے خلاف کیا اور سونے کے بعد عورتوں سے قربت کی پھر آپ ﷺ سے آکر عرض کیا اور اپنے قصور کا اقرار اور ندامت کا اظہار کیا اور توبہ کی نسبت آپ ﷺ سے سوال کیا تو اس پر یہ آیت اتری کہ تمہاری توبہ قبول کی گئی اور احکام خداوندی کی اطاعت کی تاکید فرما دی گئی اور حکم سابق منسوخ فرما کر آیندہ کو اجازت دیدی گئی کہ تمام شب رمضان میں صبح صادق سے پہلے کھانا وغیرہ تم کو حلال ہے جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں آتا ہے اور آیت سابقہ میں جو بندوں پر سہولت اور عنایت کا ذکر تھا اس قرب و اجابت و اباحت سے اس کی بھی خوب تاکید ہوگئی۔ اور ایک تعلق کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلی آیت میں تکبیر اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم تھا آپ ﷺ سے بعض نے پوچھا کہ ہمارا رب دور ہے تو ہم اسکو پکاریں یا نزدیک ہے، تو آہستہ بات کریں اس پر یہ آیت اتری یعنی وہ قریب ہے ہر ایک بات سنتا ہے آہستہ ہو یا پکار کر اور جن موقعوں میں پکار کر تکبیر کہنے کا حکم ہے وہ دوسری وجہ سے ہے یہ نہیں کہ وہ آہستہ بات کو نہیں سنتا۔
Ayah 2:1879 رمضان کی رات میں جو نیند کے بعد کھانا پینا عورت کے پاس جانا حرام تھا اس میں بھی سہولت کردی گئی اب تمام رات میں جب چاہو عورتوں کے ساتھ اختلاط کرو۔
10 لباس اور پوشاک سے غرض غایت اتصال و اختلاط ہے یعنی جس طرح بدن سے کپڑے لگے اور ملے ہوتے ہیں اسی طرح مرد و عورت آپس میں ملتے ہیں۔
11 اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سونے کے بعد عورتوں کے پاس جا کر بوجہ مخالفت حکم الہٰی تم اپنے آپ کو گنہگار بناتے ہو جس سے تمہارے نفس مستحق عقاب ہوتے ہیں اور ان کے ثواب میں نقصان پڑتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو معاف فرمایا اور آیندہ کو اجازت فرما دی۔
1 یعنی لوح محفوظ میں جو اولاد تمہارے لئے اللہ نے مقدر فرما دی ہے عورتوں کی مباشرت سے وہ مطلوب ہونی چاہیے محض شہوت رانی مقصود نہ ہو اور اس میں عزل کی کراہت اور لواطت کی ممانعت کی طرف بھی اشارہ ہے۔
2 یعنی جیسے رات بھر میں مجامعت کی اجازت دی گئی اسی طرح رمضان کی رات میں تم کو کھانے اور پینے کی بھی اجازت ہے صبح صادق تک۔
3 یعنی طلوع صبح صادق سے رات تک روزہ کو پورا کرو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کئی روزے متصل رکھنے اس طرح پر کہ رات کو بھی افطار کی نوبت نہ آئے مکروہ ہے۔
4 یعنی روزہ میں تو رات کو مباشرت کی اجازت ہے مگر اعتکاف میں رات دن کسی وقت عورت کے پاس نہ جائے۔
5 روزہ اور اعتکاف کے متعلق جو حکم دوبارہ حلت و حرمت مذکور ہوئے یہ قاعدے اللہ کے مقرر فرمائے ہوئے ہیں ان سے ہرگز باہر نہ ہونا بلکہ ان کے قریب بھی نہ جانا یا یہ مطلب ہے کہ اپنی رائے یا کسی حجت سے ان میں سرِ مُوتفاوت نہ کرنا۔
Ayah 2:1886 روزہ سے طہارت نفس مقصود تھی اب تطہیر اموال کا ارشاد ہے اور معلوم ہوگیا کہ مال حلال تو صرف روزہ میں اس کا کھانا منع ہے اور مال حرام سے روزہ مدت العمر کے لئے ہے اس کے لئے کوئی حد نہیں جیسے چوری یا خیانت یا دغابازی یا رشوت یا زبردستی یا قمار یا بیوع ناجائزہ یا سود وغیرہ ان ذریعوں سے مال کمانا بالکل حرام اور ناجائز ہے۔
7 نہ پہنچاؤ حاکموں تک یعنی کسی کے مال کی خبر نہ دو ظالم حاکموں کو یا اپنا مال بطریق رشوت حاکم تک نہ پہنچاؤ کہ حاکم کو موافق بنا کر کسی کا مال کھالو یا جھوٹی گواہی دیکر یا جھوٹی قسم کھا کر یا جھوٹا دعویٰ کر کے کسی کا مال نہ کھاؤ اور تم کو اپنے ناحق پر ہونے کا علم بھی ہو۔
Ayah 2:1898 آفتاب ہمیشہ ایک صورت ایک حالت پر رہتا ہے اور چاند کی صورت بدلتی اور اس کی مقدار بڑھتی رہتی ہے اس لئے لوگوں نے چاند کے کم زیادہ ہونے کی وجہ آپ ﷺ سے پوچھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی پہلی آیات میں شہر رمضان اور روزہ کا ذکر تھا اس آیت میں ہلال کا ذکر ہے اور روزہ اور رویت ہلال میں تعلق ظاہر ہے کہ ایک دوسرے پر موقوف ہے اور آگے چل کر حج اور اسکے احکام کا ذکر ہے ذکر ہلال اس کے بھی مناسب ہے۔
9 یعنی ان سے کہہ دو کہ چاند کا اس طرح پر نکلنا اس سے لوگوں کے معاملات اور عبادات مثل قرض اجارہ عدت مدت حمل و رضاعت روزہ زکوٰۃ وغیرہ کے اوقات ہر ایک کو بےتکلف معلوم ہوجاتے ہیں بالخصوص حج کہ روزہ وغیرہ کی قضا تو ان کے غیر ایام میں ہوتی ہے حج کی تو قضا بھی ایام مقررہ حج کے سوا دوسرے ایام میں نہیں کرسکتے اور حج کے خاص بیان فرمانے کی یہ بھی وجہ ہے کہ ذیقعدہ ذی الحج محرم رجب یہ چار مہینے اشہر حرم تھے ان میں لڑائی کرنا حرام تھا اہل عرب کو اگر ان مہینوں میں لڑائی پیش آتی تو مہینوں کو مقدم موخر کر کے لڑائی کرتے مثلا ذی الحج یا محرم میں لڑائی پیش آتی تو اسکو تو صفر بنا لیتے اور جب صفر آتا تو اس کو ذی الحج یا محرم ٹھہرا لیتے ان کے اس خیال کے ابطال کی غرض سے یہاں حج کی تصریح فرمائی کہ جو ایام حج کے لئے اللہ نے مقرر فرمائے ان میں تقدم تأخر ہرگز جائز نہیں اب یہاں سے حج کے متعلقات اور اسکے احکام دور تک ذکر ہونگے۔
10 زمانہ جاہلیت کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ جب گھر سے نکل کر حج کا احرام باندھتے پھر کوئی ضرورت گھر میں جانے کی پیش آتی تو دروازہ سے نہ جاتے چھت پر چڑھ کر گھر کے اندر اترتے یا گھر کی پشت کی جانب نقب دیکر گھستے اور اس کو نیکی کی بات سمجھتے اللہ نے اس کو غلط فرما دیا۔
فائدہ : پہلے جملہ میں حج کا ذکر تھا اور یہ حکم بھی حج کے متعلق تھا اس مناسبت سے اس حکم کو یہاں بیان فرمایا اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ آیت میں اھلہ سے مراد اشہر حج یعنی شوال اور ذیقعدہ اور دس راتیں ذی الحجہ کی ہیں کہ احرام حج ان میں ہونا چاہیے لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ حج کے یہی ایام ہیں یا اور ایام میں بھی حج ہوسکتا ہے اللہ نے جواب دیا کہ حج کے لئے اشہر حج مقرر اور معین ہیں اور اسی کی مناسبت سے احرام کے اندر گھر میں جانے کی کیفیت ذکر فرما دی اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اپنی طرف سے کسی جائز اور مباح امر کو نیکی بنا لینا اور دین میں داخل کرلینا مذموم اور ممنوع ہے جس سے بہت سی باتوں کا بدعت اور مذموم ہونا معلوم ہوگیا۔
Ayah 2:19011 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے مکہ دارالامن تھا، کوئی اپنے دشمن کو بھی مکہ میں پاتا تو کچھ نہ کہتا اور اشہر حرام یعنی ذی القعدہ اور ذی الحجہ اور محرم اور رجب یہ چاروں مہینے بھی امن کے تھے ان میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی اور کوئی کسی کو کچھ نہ کہتا۔ ذی القعدہ 6 ہجری میں حضرت ﷺ جماعت صحابہ کے ہمراہ عمرہ کے قصد سے مکہ کی زیارت کو تشریف لائے جب آپ مکہ کے نزدیک پہنچے تو مشرکین جمع ہو کر لڑنے کو تیار ہوگئے اور مسلمانوں کو روک دیا آخر کو اس پر صلح ہوئی کہ اب تو بدون زیارت واپس ہوجائیں اور اگلے برس آکر عمرہ کریں اور تین روز اطمینان سے مکہ میں رہیں۔ جب دوسرے برس ذی القعدہ 7 ہجری میں آپ ﷺ نے مکہ کا قصد فرمایا تو آپ ﷺ کے اصحاب کو یہ اندیشہ تھا کہ اہل مکہ اگر اب بھی وعدہ خلافی کر کے لڑنے بھڑنے کو تیار ہوگئے تو پھر ہم کیا کریں گے لڑیں تو شہر حرام اور حرم مکہ میں کیونکر لڑیں اور نہ لڑیں تو عمرہ کیسے کریں اس پر حکم الہٰی آیا کہ اگر وہ اس مہینہ حرام میں خلاف عہد تم سے لڑیں تو تم بھی بےتامل ان سے لڑو ہاں تمہاری طرف سے ابتداء اور زیادتی نہ ہونی چاہیے حج کے ذیل میں عمرہ حدیبیہ کی مناسبت سے قتال کفار کا ذکر آیا اس لئے جہاد کے بعض احکام و آداب مناسب مقام مذکور فرمائے جاتے ہیں اسکے بعد پھر حج کے احکام بیان ہوں گے۔
12 زیادتی مت کرو اس کے معنی یہ کہ لڑائی میں لڑکے اور عورتیں اور بوڑھے قصدا نہ مارے جائیں اور حرم کے اندر اپنی طرف سے لڑائی شروع نہ کی جائے۔
Ayah 2:1911 جس جگہ پاؤ یعنی حرم میں ہوں خواہ غیر حرم میں جہاں سے تم کو نکالا یعنی مکہ سے۔
2 یعنی دین سے پھرجانا یا دوسرے کو پھر انا مہینہ حرام کے اندر مار ڈالنے سے بہت بڑا گناہ ہے مطلب یہ کہ حرم مکہ میں کفار کا شرک کرنا اور کرانا زیادہ قبیح ہے حرم میں مقاتلہ کرنے سے تو اب اے مسلمانو تم کچھ اندیشہ نہ کرو اور جواب ترکی بہ ترکی دو ۔
3 یعنی مکہ ضرور جائے امن ہے لیکن جب انہوں نے ابتداء کی اور تم پر ظلم کیا اور ایمان لانے پر دشمنی کرنے لگے کہ یہ بات مار ڈالنے سے بھی سخت ہے تو اب انکو امان نہ رہی جہاں پاؤ مارو آخر جب مکہ فتح ہوا تو آپ ﷺ نے یہی فرما دیا کہ جو ہتھیار سامنے کرے اسی کو مارو اور باقی سب کو امن دیا۔
Ayah 2:1924 یعنی باوجود ان سب باتوں کے اگر اب بھی مسلمان ہوں اور شرک سے باز آئیں تو توبہ قبول ہے۔
Ayah 2:1935 یعنی کافروں سے لڑائی اسی واسطے ہے کہ ظلم موقوف ہو اور کسی کو دین سے گمراہ نہ کرسکیں اور خاص اللہ ہی کا حکم جاری رہے سو وہ جب شرک سے باز آجائیں تو زیادتی سوائے ظالموں کے اور کسی پر نہیں یعنی جو بدی سے باز آگئے وہ اب ظالم نہ رہے تو اب ان پر زیادتی بھی مت کرو ہاں جو فتنہ سے باز نہ رہیں ان کو شوق سے قتل کرو۔
Ayah 2:1946 حرمت کا مہینہ یعنی ذیقعدہ کہ جس میں عمرہ کی قضا کرنے جا رہے ہو بدلہ ہے اس حرمت کے مہینہ یعنی ذیقعدہ کا کہ سال گزشتہ میں اسی مہینہ کے اندر کفار مکہ نے تم کو عمرہ سے روک دیا تھا اور مکہ میں جانے نہ دیا تھا یعنی اب تم شوق سے ان سے بدلہ لو کیونکہ ادب اور حرمت رکھنے میں تو برابری ہے یعنی اگر کوئی کافر ماہ حرام کی حرمت کرے اور اس مہینہ میں تم سے نہ لڑے تو تم بھی ایسا ہی کرو مکہ والے جو سال گزشتہ میں تم پر ظلم کرچکے اور نہ ماہ حرام کی حرمت کی نہ حرم مکہ کی نہ تمہارے احرام کا لحاظ کیا اور تم نے اس پر بھی صبر کیا اگر اس دفعہ بھی سب حرمتوں سے قطع نظر کر کے آمادہ جنگ ہوں تو تم بھی کسی حرمت کا خیال مت کرو بلکہ اگلی پچھلی سب کسر مٹا لو مگر جو کرو خدا سے ڈر کر کرو اس کے خلاف اجازت ہرگز نہ ہو اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کا بیشک ناصر و مددگار ہے۔
Ayah 2:1957 مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت میں یعنی جہاد وغیرہ میں اپنے مال کو صرف کرو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی جہاد کو چھوڑ بیٹھو یا اپنے مال کو جہاد میں صرف نہ کرو کہ اس سے تم ضعیف اور دشمن قوی ہوگا۔