2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ اشارہ میں کہو پیغام نکاح ان عورتوں کا یا پوشیدہ رکھو اپنے دل میں اللہ کو معلوم ہے کہ تم البتہ ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا و عدہ نہ کر رکھو چھپ کر مگر یہی کہ کہہ دو کوئی بات رواج شریعت کے موافق اور نہ ارادہ کرو نکاح کا یہاں تک کہ پہنچ جاوے عدت مقررہ اپنی انتہا کو3 اور جان رکھو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تمہارے دل میں ہے سو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور تحمل کرنیوالا ہے4

3 خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ عورت خاوند کے نکاح سے جدا ہوئی تو جب تک عدّت میں ہے تو کسی دوسری کو جائز نہیں کہ اس سے نکاح کرلے یا صاف وعدہ کرالے یا صاف پیغام بھیجے لیکن اگر دل میں نیت رکھے کہ بعد عدّت میں اس سے نکاح کروں گا یا اشارۃً اپنے مطلب کو اسے سنا دے تاکہ کوئی دوسرا اس سے پہلے پیام نہ دے بیٹھے مثلاً عورت کو سنا دے کہ تجھ کو ہر کوئی عزیز رکھے گا یا کہے کہ میرا ارادہ کہیں نکاح کرنے کا ہے تو کچھ گناہ نہیں مگر صاف پیغام ہرگز نہ دے۔ 4 یعنی حق تعالیٰ تمہارے جی کی باتیں جانتا ہے سو ناجائز ارادہ سے بچتے رہو اور ناجائز ارادہ ہوگیا تو اس سے توبہ کرو، اللہ بخشنے والا ہے اور گنہگار پر عذاب نہ ہوا تو اس سے مطمئن نہ ہوجائے کیونکہ وہ حلیم ہے عقوبت میں جلدی نہیں فرماتا۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

کچھ گناہ نہیں تم پر اگر طلاق دو تم عورتوں کو اس وقت کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور نہ مقرر کیا ہو ان کے لئے کچھ مہر اور ان کو کچھ خرچ دو مقدور والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے لازم ہے نیکی کرنے والوں پر5

5 اگر نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ آیا اور بلا مہر ہی نکاح کرلیا تو بھی نکاح درست ہے مہر بعد میں مقرر ہو رہے گا لیکن اس صورت میں اگر ہاتھ لگانے سے پہلے یعنی مجامعت اور خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دے دی تو مہر کچھ لازم نہ ہوگا لیکن زوج کو لازم ہے کہ اپنے پاس سے عورت کو کچھ دے دے کم سے کم یہی کہ تین کپڑے کرتہ، سربند، چادر اپنی حالت کے موافق اور خوشی سے دے دے۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھہرا چکے تھے تم ان کے لئے مہر تو لازم ہو آدھا اس کا کہ تم مقرر کرچکے تھے مگر یہ کہ درگزر کریں عورتیں یا درگزر کرے وہ شخص کہ اسے اختیار میں ہے گرہ نکاح کی یعنی خاوند اور تم مرد درگزر کرو تو قریب ہے پرہیزگاری سے اور نہ بھلا دو احسان کرنا آپس میں بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھتا ہے1

1 اگر نکاح کے وقت مہر مقرر ہوچکا تھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی تو آدھا مہر دینا لازم ہے مگر عورت یا مرد کہ جس کے اختیار میں ہے نکاح کا قائم رکھنا اور توڑنا اپنے حق سے درگزر کریں تو بہتر ہے عورت کی تو درگزر یہ کہ آدھا بھی معاف کر دے اور مرد کی درگزر یہ کہ جو مہر مقرر ہوا تھا حوالہ کر دے یا تمام مہر ادا کرچکا تھا تو آدھا نہ لوٹاوے بلکہ سب مہر چھوڑ دے پھر فرمایا کہ مرد درگزر کرے تو تقوی کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اللہ نے اس کو بڑائی دی اور مختار کیا نکاح باقی رکھنے کا اور طلاق دینے کا اور نفس نکاح سے تمام مہر لازم ہوجاتا ہے اور بدون ہاتھ لگائے طلاق دے کر زوج نصف مہر کو اپنے ذمہ سے ٹلاتا ہے یہ تقویٰ کے مناسب نہیں اور زوجہ کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی جو کچھ کیا زوج نے کیا ان وجوہ سے زوج کو زیادہ مناسب ہے کہ درگزر کرے۔ فائدہ : طلاق کی مہر اور وطی کے لحاظ سے چار صورتیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ نہ مہر ہو نہ وطی۔ دوسری یہ کہ مہر تو مقرر ہو مگر وطی کی نوبت نہ آئے ان دونوں صورتوں کا حکم دونوں آیتوں میں معلوم ہوچکا ہے۔ تیسری یہ مہر مقرر ہو اور وطی کی نوبت آوے اس میں جو مہر مقرر کیا ہے پورا دینا ہوگا یہ صورت کلام اللہ میں دوسرے موقع پر مذکور ہے۔ چوتھی یہ کہ مہر نہ ٹھہرایا تھا اور ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی اس میں مہر مثل پورا دینا پڑیگا۔ یعنی جو اس عورت کی قوم میں رواج ہے اور یہی چاروں صورتیں موت زوج میں نکلیں گی مگر موت کا حکم طلاق کے حکم سے جدا ہے اگر مہر مقرر نہ کیا تھا اور ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا کہ زوج مرگیا یا ہاتھ لگانے کے بعد مرا ان دونوں صورتوں میں مہر مثل پورا لازم ہوگا، اگر مہر مقرر کیا اور ہاتھ لگایا یا ہاتھ نہ لگایا تو ان دونوں صورتوں میں جو مہر مقرر ہوا تھا وہ پورا دینا ہوگا۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

خبردار رہو سب نمازوں سے اور بیچ والی نماز سے اور کھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے2

2 بیچ والی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے کہ دن اور رات کے بیچ میں ہے اس کی تاکید زیادہ فرمائی کہ اس وقت دنیا کا مشغلہ زیادہ ہوتا ہے اور فرمایا کھڑے رہو ادب سے یعنی نماز میں ایسی حرکت نہ کرو کہ جس سے معلوم ہوجائے کہ نماز نہیں پڑھتے ایسی باتوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے جیسے کھانا پینا یا کسی سے بات کرنا یا ہنسنا۔ فائدہ : طلاق کے حکموں میں نماز کے حکم کو بیان فرمانے کی یا یہ وجہ ہے کہ دنیا کے معاملات اور باہمی نزاعات میں پڑ کر کہیں خدا کی عبادت کو نہ بھلا دو اور یا یہ وجہ ہے کہ ہوا وہوس کے بندوں کو بوجہ غلبہ حرص و بخل عدل کو پورا کرنا اور انصاف سے کام لینا اور وہ بھی رنج اور طلاق کی حالت میں بہت دشوار ہے پھر وَاَنْ تَعْفُوْا اور لاتَنْسَوُا الْفَضْلَ پر اور اس حالت میں ان سے عمل کرنے کی توقع بیشک مستبعد نظر آتی تھی سو اس کا علاج فرما دیا گیا کہ نماز کی محافظت اور اس کی پابندی اور اس کے حقوق کی رعایت عمدہ علاج ہے کہ نماز کو ازالہ رذائل اور تحصیل فواضل میں بڑا اثر ہے۔
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو ڈر ہو کسی کا تو پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جس وقت تم امن پاؤ تو یاد کر اللہ کو جس طرح کہ تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہ جانتے تھے3

3 یعنی لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو ناچاری کو سواری پر اور پیادہ بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طرف بھی منہ نہ ہوا۔
Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجاویں اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو وصیت کردیں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالنے کے گھر سے4 پھر اگر وہ عورتیں آپ نکل جاویں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ کریں وہ عورتیں اپنے حق میں بھلی بات اور اللہ زبردست ہے حکمت والاف 5

4 یہ حکم اول تھا اس کے بعد جب آیت میراث نازل ہوئی اور عورتوں کا حصہ بھی مقرر ہوچکا ادھر عورت کی عدّت چار مہینے دس دن کی ٹھہرا دی گئی تب سے اس آیت کا حکم موقوف ہوا۔ 5 یعنی اگر وہ عورتیں اپنی خوشی سے سال کے ختم ہونے سے پہلے گھر سے نکلیں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اے وارثو اس کام میں کہ کریں وہ عورتیں اپنے حق میں شریعت کے موافق یعنی چاہیں خاوند کریں یا اچھی پوشاک اور خوشبو کا استعمال کریں کچھ حرج نہیں۔
Ayah 2:241

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ہے قاعدہ کے موافق لازم ہے پرہیزگاروں پر6

6 پہلے خرچ یعنی جوڑا دینے کا حکم اس طلاق پر آچکا ہے کہ نہ مہر ٹھہرا ہو نہ زوج نے ہاتھ لگایا ہو اب اس آیت میں وہ حکم سب کے لئے آگیا مگر اتنا فرق ہے کہ سب طلاق والیوں کو جوڑا دینا مستحب ہے ضروری نہیں اور پہلی صورت میں ضروری ہے۔
Ayah 2:242

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تمہارے واسطے اپنے حکم تاکہ تم سمجھ لو1

1 یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہاں نکاح طلاق عدت کے احکام بیان فرمائے ایسے ہی اپنے احکام و آیات کو واضح فرماتا ہے کہ تم سمجھ لو اور عمل کرسکو۔ یہاں نکاح و طلاق کے احکام ختم ہوچکے۔
Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے پھر فرمایا ان کو اللہ نے کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ کردیا بیشک اللہ فضل کرنے والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے2

2 یہ پہلی امت کا قصہ ہے کہ کئی ہزار شخص گھر بار کو ساتھ لیکر وطن سے بھاگے۔ ان کو ڈر ہوا تھا غنیمت کا اور لڑنے سے جی چھپایا یا ڈر ہوا تھا وباء کا اور تقدیر پر توکل اور یقین نہ کیا پھر ایک منزل پر پہنچ کر بحکم الہٰی سب مرگئے پھر سات دن کے بعد پیغمبر کی دعا سے زندہ ہوئے کہ آگے کو توبہ کریں۔ اس حال کو یہاں اس واسطے ذکر فرمایا کہ کافروں سے لڑنے یا فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے میں جان اور مال کی محبت کے باعث دریغ نہ کریں اور جان لیویں کہ اللہ موت بھیجے تو چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں اور زندگی چاہے تو مردہ کو دم کے دم میں زندہ کر دے زندہ کو موت سے بچا لینا تو کوئی چیز ہی نہیں پھر اس کی تعمیل حکم میں موت سے ڈر کر جہاد سے بچنا یا افلاس سے بچ کر صدقہ اور دوسروں پر احسان یا عفو اور فضل سے رکنا بددینی کے ساتھ حماقت بھی پوری ہے۔
Ayahs 2:244–245

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ بیشک خوب سنتا جانتا ہے

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون شخص ہے ایسا جو کہ قرض دے اللہ کو اچھا قرض پھر دو گنا کر دے اللہ اس کو کئی گنا اور اللہ ہی تنگی کردیتا ہے اور وہی کشادہ کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے3

3 یعنی جب معلوم ہوچکا کہ اللہ کے حکم میں تمہاری جان اور مال ہے تو اب تم کو چاہیے کہ لڑو کافروں سے اللہ کے واسطے دین کے لئے جان لو کہ خدا تعالیٰ سنتا ہے بہانہ کرنیوالوں کی باتیں اور جانتا ہے ان کے منصوبوں کو اور چاہیے کہ خرچ کرو اللہ کے راستہ میں مال اور تنگی سے مت ڈرو کہ کشایش اور تنگی سب اس کے اختیار میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر سب کو جانا ہے۔ قرض حسنہ اسے کہتے ہیں جو قرض دیکر تقاضا نہ کرے اور اپنا احسان نہ رکھے اور بدلہ نہ چاہے اور اسے حقیر نہ سمجھے۔ اور خدا کو دینے سے جہاد میں خرچ کرنا مراد ہے یا محتاجوں کو دینا۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ایک جماعت بنی اسرائیل کو موسیٰ کے بعد4 جب انہوں نے کہا اپنے نبی سے مقرر کردو ہمارے لئے ایک بادشاہ تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں پیغمبر نے کہا کیا تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر حکم ہو تم کو لڑائی کا تو تم اس وقت نہ لڑو وہ بولے ہم کو کیا ہوا کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں اور ہم تو نکال دیئے گئے اپنے گھروں سے اور بیٹوں سے پھر جب حکم ہوا ان کو لڑائی کا تو وہ سب پھرگئے مگر تھوڑے سے ان میں کے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے گناہ گاروں کو1

4 اس قصہ سے حق تعالیٰ کا بسط و قبض جو ابھی مذکور ہوا خوب ثابت ہوتا ہے یعنی فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے بادشاہت چھین لینا اور ضعیف کو قوی اور قوی کو ضعیف کردینا۔ 1 حضرت موسیٰ کے بعد کچھ عرصہ تک بنی اسرائیل کا کام درست رہا پھر جب ان کی نیت بگڑی تب ان پر ایک غنیم کافر بادشاہ جالوت نام مسلّط ہوا ان کو شہر سے نکال دیا اور لوٹا اور ان کو پکڑ کر بندہ بنایا بنی اسرائیل بھاگ کر بیت المقدس میں جمع ہوئے اس وقت حضرت شموئیل (علیہ السلام) پیغمبر تھے ان سے درخواست کی کہ کوئی بادشاہ ہم پر مقرر کرو کہ اس کے ساتھ ہو کر ہم جہاد کریں فی سبیل اللہ۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور فرمایا ان سے ان کے نبی نے بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ کہنے لگے کیونکر ہوسکتی ہے اس کی حکومت ہم پر اور ہم زیادہ مستحق ہیں سلطنت کے اس سے اور اس کو نہیں ملی کشائش مال میں پیغمبر نے کہا بیشک اللہ نے پسند فرمایا اس کو تم پر اور زیادہ فراخی دی اس کو علم اور جسم میں اور اللہ دیتا ہے ملک اپنا جس کو چاہے اور اللہ ہے فضل کرنے والا سب کچھ جاننے والاف 2

2 طالوت کی قوم میں آگے سے سلطنت نہ تھی غریب محنتی آدمی تھے ان (بنی اسرائیل) کی نظر میں سلطنت کے قابل نظر نہ آئے، اور بوجہ مال و دولت اپنے آپ کو سلطنت کے لائق خیال کیا، نبی نے فرمایا کہ سلطنت کسی کا حق نہیں اور سلطنت کی بڑی لیاقت ہے عقل اور بدن میں زیادتی اور وسعت ہونی جس میں طالوت تم سے افضل ہے۔ فائدہ : بنی اسرائیل نے جب یہ سنا تو پھر کہا پیغمبر سے کہ اس کے سوا کوئی اور دلیل بھی ان کی بادشاہت پر دکھلا دو تاکہ ہمارے دل میں کوئی اشتباہ نہ رہے نبی نے دعا کی جناب الہٰی میں اور طالوت کی سلطنت کی دوسری نشانی بیان فرما دی گئی۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور کہا بنی اسرائیل سے ان کے نبی نے کہ طالوت کی سلطنت کی نشانی یہ ہے کہ آوے تمہارے پاس ایک صندوق کہ جس میں تسلی خاطر ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو چھوڑ گئی تھی موسیٰ اور ہارون کی اولاد اٹھا لاویں گے اس صندوق کو فرشتے بیشک اس میں پوری نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم یقین رکھتے ہو3

3 بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ انبیائے بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت غالب آیا ان پر تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کہا کہ وہ کافر جہاں صندوق رکھتے وہیں وبا اور بلا آتی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کی اور موسم نہایت گرم تھا۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب باہر نکلا طالوت فوجیں لے کر کہا بیشک اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے ایک نہر سے سو جس نے پانی پیا اس نہر کا تو وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا تو وہ بیشک میرا ہے مگر جو کوئی بھرے ایک چلو اپنے ہاتھ سے پھر پی لیا سب نے اس کا پانی مگر تھوڑوں نے ان میں سے پھر جب پار ہوا طالوت اور ایمان والے ساتھ اس کے تو کہنے لگے طاقت نہیں ہم کو آج جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی کہنے لگے وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ ان کو اللہ سے ملنا ہے بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی ہے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے1

1 ہوس سے طالوت کے ساتھ چلنے کو سب تیار ہوگئے طالوت نے کہہ دیا کہ جو کوئی جوان زور آور اور بےفکر ہو وہ چلے ایسے بھی اسّی (80) ہزار نکلے پھر طالوت نے ان کو آزمانا چاہا ایک منزل میں پانی نہ ملا دوسری منزل میں ایک نہر ملی طالوت نے حکم کردیا جو ایک چلو سے زیادہ پانی پیوے وہ میرے ساتھ نہ چلے صرف تین سو تیرہ ان کے ساتھ رہ گئے اور سب جدا ہوگئے جنہوں نے ایک چلّو سے زیادہ نہ پیا ان کی پیاس بجھی اور جنہوں نے زیادہ پیا ان کو اور پیاس زیادہ لگی اور آگے نہ چل سکے۔
Ayahs 2:250–251

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب سامنے ہوئے جالوت کے اور اس کی فوجوں کے تو بولے اے رب ہمارے ڈال دے ہمارے دلوں میں صبر اور جمائے رکھ ہمارے پاؤں اور مدد کر ہماری اس کافر قوم پر

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر شکست دی مومنوں نے جالوت کے لشکر کو اللہ کے حکم سے اور مار ڈالا داؤد نے جالوت کو اور دی اللہ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا ان کو جو چاہا اور اگر نہ ہوتا دفع کرا دیتا اللہ کا ایک کو دوسرے سے تو خراب ہوجاتا ملک لیکن اللہ بہت مہربان ہے جہان کے لوگوں پر2

2 جب سامنے ہوئے جالوت کے یعنی وہی تین سو تیرہ آدمی اور انہی تین سو تیرہ میں حضرت داؤد کے والد اور ان کے چھ بھائی اور خود حضرت داؤد بھی تھے حضرت داؤد کو راہ میں تین پتھر ملے اور بولے کہ اٹھا لے ہم کو ہم جالوت کو قتل کریں گے جب مقابلہ ہوا جالوت خود باہر نکلا اور کہا میں اکیلا تم سب کو کافی ہوں میرے سامنے آتے جاؤ حضرت شموئیل نے حضرت داؤد کے باپ کو بلایا کہ اپنے بیٹے مجھکو دکھلا اس نے چھ بیٹے دکھائے جو قد آور تھے حضرت داؤد کو نہیں دکھایا ان کا قد چھوٹا تھا اور بکریاں چراتے تھے پیغمبر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تو جالوت کو مارے گا انہوں نے کہا ماروں گا پھر جالوت کے سامنے گئے اور انہی تینوں پتھروں کو فلاخن میں رکھ کر مارا جالوت کا صرف ماتھا کھلا تھا اور تمام بدن لوہے میں غرق تھا تینوں پتھر اس کے ماتھے پر لگے اور پیچھے کو نکل گئے۔ جالوت کا لشکر بھاگا اور مسلمانوں کو فتح ہوئی پھر طالوت نے حضرت داؤد سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور طالوت کے بعد یہ بادشاہ ہوئے اس سے معلوم ہوگیا کہ حکم جہاد ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور اس میں اللہ کی بڑی رحمت اور احسان ہے۔ نادان کہتے ہیں کہ لڑائی نبیوں کا کام نہیں۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ آیتیں اللہ کی ہیں ہم تجھ کو سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک اور تو بیشک ہمارے رسولوں میں ہے3

3 یہ قصہ جو بنی اسرائیل کا گزرا یعنی ہزاروں کا نکلنا اور ان کا دفعۃً مرنا اور جینا اور طالوت کا بادشاہ ہونا یہ سب اللہ کی آیتیں ہیں جو تجھ کو سنائی جاتی ہیں اور تم بیشک اللہ کے رسولوں میں ہو یعنی جیسے پہلے پیغمبر ہوچکے ہیں ویسے ہی تم بھی یقیناً رسول ہو کہ ان قصص قرون ماضیہ کو ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہو حالانکہ نہ کسی کتاب میں آپ نے دیکھا اور نہ کسی آدمی سے سنا۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول فضیلت دی ہم نے ان میں بعض کو بعض سے کوئی تو وہ ہے کہ کلام فرمایا اس سے اللہ نے اور بلند کئے بعضوں کے درجے اور دیئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح القدس یعنی جبرائیل سے1 اور اگر اللہ چاہتا تو نہ لڑتے وہ لوگ جو ہوئے ان پیغمبروں کے پیچھے بعد اسکے کہ پہنچ چکے ان کے پاس صاف حکم لیکن ان میں اختلاف پڑگیا پھر کوئی تو ان میں ایمان لایا اور کوئی کافر ہوا اور اگر چاہتا اللہ تو وہ باہم نہ لڑتے لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہے2

1 یہ پیغمبر جن کا ذکر ہوا ان میں فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر بعضے ان میں ایسے ہیں کہ ان سے بات کی خدا تعالیٰ نے جیسے آدم اور موسیٰ (علیہما السلام) اور بلند کیا بعضوں کا درجہ جیسے کوئی ایک قوم کا نبی کوئی ایک گاؤں کا کوئی ایک شہر کا کوئی تمام جہان کا جیسے محمد ﷺ اور عنایت ہوئے حضرت عیسیٰ کو کھلے معجزے جیسے احیائے موتیٰ اور ابراء اکمہ اور ابرص وغیرہ اور قوت دی ان کو روح پاک یعنی حضرت جبرائیل کو ان کی مدد کو بھیج کر۔ 2 جو لوگ ان انبیاء پر ایمان لے آئے اور صاف حکم اور روشن نشانیاں ہمارے پیغمبر ﷺ کے نبی ہونے کی دیکھ سن چکے اگر خدا چاہتا تو یہ باہم نہ لڑتے اور مخالفت نہ کرتے اور کوئی ان میں مومن اور کوئی کافر نہ ہوتا لیکن حق تعالیٰ مختار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی فعل اسکا حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو روزی دی پہلے اس دن کے آنے سے کہ جس میں نہ خریدو فروخت ہے اور نہ آشنائی اور نہ سفارش3 اور جو کافر ہیں وہی ہیں ظالم4

3 اس سورت میں عبادات و معاملات کے متعلق احکام کثیرہ بیان فرمائے جن سب کی تعمیل نفس کو ناگوار اور بھاری ہے اور تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکام الہٰی اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہیں یا مال کے اور گناہ میں بندہ کو جان یا مال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے اس لئے ان احکامات کو بیان فرما کر قتال اور انفاق کو بیان فرمانا مناسب ہوا (وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ) 2 ۔ البقرۃ :244) اول کا بیان تھا تو (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭوَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :245) دوسرے کا ذکر ہے اسکے بعد قصہ طالوت سے اول کی تاکید ہوئی تو اب اَنْفِقُوا مِمَّارَزَقْنٰکُمْ الخ سے دوسرے کی تاکید منظور ہے اور چونکہ انفاق مال پر بہت سے امور عبادات و معاملات کے موقوف ہیں تو اس کے بیان میں زیادہ تفصیل اور تاکید سے کام لیا چناچہ اب جو رکوع آتے ہیں ان میں اکثروں میں امرثانی یعنی انفاق مال کا ذکر ہے۔ خلاصہ معنیٰ یہ ہوا کہ عمل کا وقت ابھی ہے آخرت میں تو نہ عمل بکتے ہیں نہ کوئی آشنائی سے دیتا ہے نہ کوئی سفارش سے چھڑا سکتا ہے جب تک پکڑنے والا نہ چھوڑے۔ 4 یعنی کفار نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا جس کی شامت سے ایسے ہوگئے کہ آخرت میں نہ کسی کی دوستی سے ان کو نفع ہو سکے اور نہ سفارش سے۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے سب کا تھامنے والاف 5 نہیں پکڑ سکتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ایسا کون ہے جو سفارش کرے اسکے پاس مگر اجازت سے جانتا ہے جو کچھ خلقت کے رو برو ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ سب احاطہ نہیں کرسکتے کسی چیز کا اسکی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا اور وہی ہے سب سے برتر عظمت والاف 1

1 پہلی آیت سے حق سبحانہ، کی عظمت شان بھی مفہوم ہوتی ہے اب اس کے بعد اس آیت کو جس میں توحید ذات اور اس کا تقدس و جلال غایت عظمت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہے نازل فرمائی اور اسی کا لقب آیۃ الکرسی ہے اسی کو حدیث میں اعظم آیات کتاب اللہ فرمایا ہے اور بہت فضیلت اور ثواب منقول ہے اور اصل بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں رلا ملا کر تین قسم کے مضمون کو جگہ جگہ بیان فرمایا ہے علم توحید وصفات، علم احکام، علم قصص و حکایات سے بھی توحید وصفات کی تقریر و تائید مقصود ہوتی ہے یا علم احکام کی تاکید و ضرورت اور علم توحید وصفات اور علم احکام بھی باہم ایسے مربوط ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے علت اور علامت ہے صفات حق تعالیٰ احکام شرعیہ کے حق میں منشا اور اصل ہیں تو احکام شرعیہ صفات کے لئے بمنزلہ ثمرات اور فروع ہیں تو اب ظاہر ہے کہ علم قصص اور علم احکام سے علم توحید کو ضرور اعانت اور تقویت پہنچے گی اور علم قصص اور علم توحید وصفات سے ضرور علم احکام کی تاکید اور اسکی ضرورت بلکہ حقیقت اور اصلیت ثابت ہوگی اور یہ طریقہ جو تین طریقوں سے مرکب ہے بغایت احسن اور اسہل اور قابل قبول ہے۔ اول تو اس وجہ سے کہ ایک طریقہ کی پابندی موجب ملال ہوتی ہے اور ایک علم سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجانا ایسا ہوجاتا ہے جیسا ایک باغ کی سیر کر کے دوسرے باغ کی سیر کرنے لگے دوسرے تینوں طریقوں سے مل کر حقیقت منشاء ثمرہ نتیجہ سب ہی معلوم ہوجائے گا اور اس میں تعمیل احکام نہایت شوق و مستعدی اور رغبت و بصیرت کے ساتھ ہوگی اس لئے طریقہ مذکورہ بغایت عمدہ اور مفید اور قرآن مجید میں کثیر الاستعمال ہے اسی جگہ دیکھ لیجئے کہ اول احکام کو کس کثرت و تفصیل سے بیان فرمایا اس کے بعد بقدر مصلحت قصص کو بیان کر کے تمام احکامات مذکورہ کے فوائد و نتائج گویا ہم کو آنکھوں سے دکھلا دیے ان سب کے بعد آیۃ الکرسی جو کہ دربارہ توحید وصفات ممتاز آیت ہے اس کو بیان فرما کر جملہ احکامات کی جڑ کو دلوں میں ایسا مستحکم فرما دیا کہ اکھاڑے نہ اکھڑے۔ 1 اس آیت میں توحید ذات اور عظمت صفات حق تعالیٰ کو بیان فرمایا کہ حق تعالیٰ موجود ہے ہمیشہ سے اور کوئی اس کا شریک نہیں تمام مخلوقات کا موجد وہی ہے تمام نقصان اور ہر طرح کے تبدل اور فتور سے منزہ ہے سب چیزوں کا مالک ہے تمام چیزوں کا کامل علم اور سب پر پوری قدرت اور اعلیٰ درجہ کی عظمت اسکو حاصل ہے کسی کو نہ اتنا استحقاق نہ اتنی مجال کہ بغیر اسکے حکم کے کسی کی سفارش بھی اس سے کرسکے کوئی امر ایسا نہیں جس کے کرنے میں اسکو دشواری اور گرانی ہو سکے۔ تمام چیزوں اور سب کی عقلوں سے برتر ہے اس کے مقابلہ میں سب حقیر ہیں اس سے دو مضمون اور خوب ذہن نشین ہوگئے ایک تو حق تعالیٰ کی ربوبیت اور حکومت اور اپنی محکومیت اور عبدیت جس سے حق تعالیٰ کے تمام احکامات مذکورہ اور غیر مذکورہ کا بلاچون و چرا واجب التصدیق اور واجب التعمیل ہونا اور اس کے احکام میں کسی قسم کے شک و شبہ کا معتبر نہ ہونا معلوم ہوگیا دوسرے عبادات و معاملات کثیرہ مذکورہ سابقہ کو اور ان کے ساتھ تنعیم و تعذیب کو دیکھ کر کسی کو خلجان ہوسکتا تھا کہ ہر ہر فرد کے اس قدر معاملات و عبادات کثیرہ ہیں کہ جن کا مجموعہ اتنا ہوا جاتا ہے کہ ان کا ضبط اور حساب کتاب محال معلوم ہوتا ہے پھر اسکے مقابلہ میں ثواب و عقاب یہ بھی عقل سے باہر غیر ممکن معلوم ہوتا ہے سو اس آیت میں حق سبحانہ، نے چند صفات مقدسہ اپنی ایسی ذکر فرمائیں کہ وہ تمام خیالات بسہولت دور ہوگئے یعنی اس کا علم وقدرت ایسا کامل ہے کہ ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس سے باہر ہو جس کا علم اور قدرت ایسا غیر متناہی اور ہمیشہ یکساں رہنے والا ہو اس کو تمام جزئیات عالم کے ضبط رکھنے اور ان کا عوض عطا فرمانے میں کیا دقت ہوسکتی ہے۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

زبردستی نہیں دین کے معاملہ میں بیشک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے2 اب جو کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لاوے اللہ پر تو اس نے پکڑ لیا حلقہ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سنتاجانتا ہے3

2 جب دلائل توحید بخوبی بیان فرما دیے گئے جس سے کافر کا کوئی عذر باقی نہ رہا تو اب زور سے کسی کو مسلمان کرنے کی کیا حاجت ہوسکتی ہے عقل والوں کو خود سمجھ لینا چاہیے اور نہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ زبردستی کسی کو مسلمان بناؤ (اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ) 10 ۔ یونس :99) خود نص موجود ہے اور جو جزیہ کو قبول کرے گا اسکا جان و مال محفوظ ہوجائے گا۔ 3 یعنی جب ہدایت و گمراہی میں تمیز ہوگئی تو اب جو کوئی گمراہی کو چھوڑ کر ہدایت کو منظور کرے گا تو اس نے ایسی مضبوط چیز کو پکڑ لیا جس میں ٹوٹنے چھوٹنے کا ڈر نہیں اور حق تعالیٰ اقوال ظاہرہ کو خوب سنتا ہے اور نیت و حالت قلبی کو خوب جانتا ہے اس سے کسی کی خیانت اور فسادنیت چھپا نہیں رہ سکتا۔
Ayahs 2:257–258

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے رفیق شیطان نکالتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کے طرف یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کی بابت اسی وجہ سے کہ دی تھی اللہ نے اس کو سلطنت جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ بولا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں کہا ابراہیم نے کہ بیشک اللہ تو لاتا ہے سورج کو مشرق سے اب توُ لے آ اس کو مغرب کی طرف سے تب حیران رہ گیا وہ کافر اور اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا بےانصافوں کو4

4 پہلی آیت میں اہل ایمان و اہل کفر اور ان کے نور ہدایت اور ظلمت کفر کا ذکر تھا اب اس کی تائید میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں۔ نظیر اول میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے وہ اپنے آپ کو سلطنت کے غرور سے سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے سامنے آئے تو سجدہ نہ کیا نمرود نے دریافت کیا تو فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتا اس نے کہا رب تو میں ہوں، انہوں نے جواب دیا کہ میں حاکم کو رب نہیں کہتا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جس کو چاہوں نہیں مارتا، اس پر حضرت ابراہیم نے آفتاب کی دلیل پیش فرما کر اس مغرور احمق کو لاجواب کیا اور اس کو ہدایت نہ ہوئی یعنی لاجواب ہو کر بھی ارشاد ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان نہ لایا۔ یا یوں کہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری بات کا کچھ جواب نہ دے سکا حالانکہ جیسا جواب پہلے ارشاد کا دیا تھا ویسا جواب دینے کی یہاں بھی گنجائش تھی۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گزرا وہ ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مرگئے پیچھے پھر مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو1 کہا تو کتنی دیر یہاں رہا بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم2 کہا نہیں تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سٹر نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتے ہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت3 پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے4

1 وہ شخص حضرت عزیر (علیہ السلام) پیغمبر تھے اور تمام تورات ان کو یاد تھی۔ بخت نصر کافر بادشاہ تھا اس نے بیت المقدس کو ویران کیا اور بنی اسرائیل سے بہت لوگوں کو قید کر کے لے گیا ان میں حضرت عزیر (علیہ السلام) بھی تھے جب قید سے چھوٹ آئے تب حضرت عزیر نے راہ میں ایک شہر دیکھا ویران اس کی عمارت گری ہوئی دیکھ کر اپنے جی میں کہا کہ یہاں کے ساکن سب مرگئے کیونکر حق تعالیٰ ان کو جلاوے اور یہ شہر پھر آباد ہو۔ اسی جگہ ان کی روح قبض ہوئی اور ان کی سواری کا گدھا بھی مرگیا سو برس تک اسی حال میں رہے اور کسی نے نہ ان کو وہاں آکر دیکھا نہ ان کی خبر ہوئی اس مدت میں بخت نصر بھی مرگیا اور کسی بادشاہ نے اس مدت میں بیت المقدس کو آباد کیا اور اس شہر کو بھی خوب آباد کیا۔ پھر سو برس کے بعد حضرت عزیر زندہ کئے گئے ان کا کھانا اور پینا اسی طرح پاس دھرا ہوا تھا ان کا گدھا جو مرچکا تھا اور اس کی بوسیدہ ہڈیاں اپنی حالت پر دھری تھیں وہ انکے روبرو زندہ کیا گیا اور اس سو برس میں بنی اسرائیل قید سے خلاص ہو کر شہر میں آباد بھی ہوچکے تھے حضرت عزیر نے زندہ ہو کر آباد ہی دیکھا۔ 2 جب حضرت عزیر مرے تھے اس وقت کچھ دن چڑھا تھا اور جب زندہ ہوئے تو ابھی شام نہ ہوئی تھی تو یہ سمجھے کہ اگر میں یہاں کل آیا تھا تو ایک دن ہوا اور اگر آج ہی آیا تھا تو دن سے بھی کم رہا۔ 3 حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سامنے وہ سب ہڈیاں موافق ترکیب بدن کے جمع کی گئیں پھر ان پر گوشت پھیلایا گیا اور چمڑا درست ہوا پھر خدا کی قدرت سے ایکبارگی اس میں جان آئی اور اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی بولی بولا۔ 4 حضرت عزیر (علیہ السلام) نے اس تمام کیفیت کو ملاحظہ کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھ کو خوب یقین ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی میں جو جانتا تھا کہ مردہ کو جلانا خدا تعالیٰ کو آسان ہے سو اب اپنی آنکھ سے دیکھ لیا یہ مطلب نہیں کہ پہلے یقین میں کچھ کمی تھی ہاں مشاہدہ نہ ہوا تھا پھر حضرت عزیر یہاں سے اٹھ کر بیت المقدس میں پہنچے کسی نے ان کو نہ پہچانا کیونکہ یہ تو جوان رہے اور انکے آگے کے بچے بوڑھے ہوگئے جب انہوں نے تورات حفظ سنائی تب لوگوں کو ان کا یقین آیا بخت نصر بنی اسرائیل کی تمام کتابیں جلا گیا تھا جن میں تورات بھی تھی۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور یاد کر جب کہا ابراہیم نے اے پروردگار میرے دکھلا دے مجھ کو کہ کیونکر زندہ کریگا تو مردے فرمایا کیا تو نے یقین نہیں کیا، کہا کیوں نہیں لیکن اس واسطے چاہتا ہوں کہ تسکین ہوجاوے میرے دل کو5 فرمایا تو پکڑ لے چار جانور اڑنے والے پھر ان کو بلالے اپنے ساتھ پھر رکھ دے ہر پہاڑ پر ان کے بدن کا ایک ایک ٹکڑا پھر ان کو بلا چلے آوینگے تیرے پاس دوڑتے6 اور جان لے کہ بیشک اللہ زبردست حکمت والاف 7

5 خلاصہ یہ ہوا کہ یقین پورا تھا صرف عین الیقین کے خواستگار تھے جو مشاہدہ پر موقوف ہے۔ 6 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حسب ارشاد الہٰی چار جانور لائے ایک مور ایک مرغ ایک کوا ایک کبوتر اور چاروں کو اپنے ساتھ ہلایا تاکہ پہچان رہے اور بلانے سے آنے لگیں پھر چاروں کو ذبح کیا پھر ایک پہاڑ پر چاروں کے سر رکھے ایک پر پَر رکھے ایک پر سب کے دھڑ رکھے ایک پر پاؤں رکھے پہلے بیچ میں کھڑے ہو کر ایک کو پکارا اس کا سر اٹھ کر ہوا میں کھڑا ہوا پھر دھڑ ملا پھر پَر لگے پھر پاؤں وہ دوڑتا چلا آیا پھر اسی طرح چاروں آگئے۔ 7 یہاں دو خلجان گزرنے کا قوی احتمال ہے اول تو جسم بےجان متفرق الاجزاء کا زندہ ہونا قابل انکار دوسرے ان خصوصیات کو کہ وہ پرندے ہوں اور چار بھی ہوں اور چار بھی فلاں فلاں ہوں اور اس طرح انکے اجزاء کو متفرق کر کے بلایا جائے تو زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اسکا کوئی دخل اور ان قیود کا کوئی نفع معلوم نہیں ہوتا اس لئے اول خلجان کے جواب میں عزیز اور دوسرے کے جواب میں حکیم فرما کر دونوں شبہوں کا قلع قمع فرما دیا یعنی اسکو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست قدرت والا ہے جو چاہے کرسکتا ہے اور اس کے ہر حکم میں اس قدر حکمتیں ہوتی ہیں کہ جن کا ادراک اور احاطہ اگر ہم کو نہ ہو تو یہ ہمارے نقصان علم کی بات ہے اسکی حکمت کا انکار ایسے امور سے ہرگز ممکن نہیں واللہ اعلم آیۃ الکرسی میں علم وقدرت وغیرہ صفات الہٰی کو ذکر فرمایا اس کے بعد یہ تین قصے بیان فرمائے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ہدایت کرسکتا ہے اور جس کو چاہے گمراہ کرسکتا ہے اور مارنا جلانا سب اس کے اختیار میں ہے اب جہاد اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت اور اسکے متعلق قیود و شرائط بیان فرماتے ہیں جس کا ذکر کسی قدر گزر بھی چکا ہے کیونکہ جہاد و انفاق مال میں جو موانع نظر آتے ہیں حق تعالیٰ کے علم وقدرت کے یقین کرلینے کے بعد اور اس کی عجائب قدرت کے حالات معلوم ہونے کے بعد ان کا ازالہ ہوگا ورنہ نقصان تو ان میں ضرور آنا چاہیے۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ اس سے اگیں سات بالیں ہر بال میں سو سو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے اور اللہ نہایت بخشش کرنے والا ہے سب کچھ جانتا ہے1

1 یعنی اللہ کی راہ میں تھوڑے مال کا بھی ثواب بہت ہے جیسا ایک دانہ سے سات سو دانے پیدا ہوں اور اللہ تعالیٰ بڑھائے جس کے واسطے چاہے اور سات سو سے سات ہزار اور اس سے بھی زیادہ کر دے اور اللہ بہت بخشش کرنے والا اور ہر ایک خرچ کرنے والے کی نیت اور اس کے خرچ کی مقدار اور مال کی کیفیت کو خوب جانتا ہے یعنی ہر ایک سے اسکے مناسب معاملہ فرماتا ہے۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں انہی کے لئے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے یہاں اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ غمگین ہوں گے2

2 جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کئے پر نہ زبان سے احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں طعن سے اور نہ خدمت لینے سے اور نہ تحقیر کرنے سے انہی کے لئے ہے ثواب کامل اور نہ ڈر ہے ان کو ثواب کم ہونے کا اور نہ غمگین ہوں گے ثواب کے نقصان سے۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جواب دینا نرم اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے پیچھے ہو ستانا اور اللہ بےپرواہ نہایت تحمل والاف 3

3 یعنی مانگنے والے کو نرمی سے جواب دینا اور اس کے اصرار اور بدخوئی پر درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے کہ بار بار اسکو شرمائے یا احسان رکھے یا طعنہ دے اور اللہ غنی ہے کسی کے مال کی اس کو حاجت نہیں جو صدقہ اس کی راہ میں کرتا ہے اپنے واسطے کرتا ہے اور حلیم ہے کہ ستانے پر عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں فرماتا۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر4 سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر پڑی ہے کچھ مٹی پھر برسا اس پر زور کا مینہ تو کر چھوڑا اس کو بالکل صاف کچھ ہاتھ نہیں لگتا ایسے لوگوں کے ثواب اس چیز کا جو انہوں نے کمایا اور اللہ نہیں دکھاتا سیدھی راہ کافروں کو5

4 یعنی صدقہ دے کر محتاج کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے سے صدقہ کا ثواب جاتا رہتا ہے یا اوروں کو دکھا کر اس لئے صدقہ دیتا ہے کہ لوگ سخی جانیں اس طرح کی بھی خیرات کا ثواب کچھ نہیں ہوتا باقی یہ فرمانا کہ وہ یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ ابطال صدقہ کے لئے قید و شرط نہیں ہیں کیونکہ صدقہ تو صرف ریا سے ہی باطل ہوسکتا ہے اگرچہ خرچ کرنیوالا مومن ہی کیوں نہ ہو مگر اس قید کو صرف اس نفع کی غرض سے بڑھایا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ ریاکاری مومن کی شان سے بعید ہے بلکہ یہ امر منافقین کے مناسب حال ہے۔ 5 اوپر مثال بیان فرمائی تھی خیرات کی کہ ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا اور اس سے سات سو دانے پیدا ہوگئے اب فرماتے ہیں کہ نیت شرط ہے اگر کسی نے ریا اور دکھاوے کی نیت سے صدقہ کیا تو اس کی مثال ایسی سمجھو کہ کسی نے دانہ بویا ایسے پتھر پر کہ جس پر تھوڑی سی مٹی نظر آتی تھی جب مینہ برسا تو بالکل صاف رہ گیا اب اس پر دانہ کیا اگے گا ایسے ہی صدقات میں ریا کاروں کو کیا ثواب ملے گا۔
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور مثال ان کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کو اور اپنے دلوں کو ثابت کر کر ایسی ہے جیسے ایک باغ ہے بلند زمین پر اس پر پڑا زور کا مینہ تو لایا وہ باغ اپنا پھل دو چند اور اگر نہ پڑا اس پر مینہ تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے1

1 زور کے مینہ سے مراد بہت مال خرچ کرنا اور پھوار سے مراد تھوڑا مال خرچ کرنا اور دلوں کو ثابت کرنے سے مراد یہ ہے کہ ثابت کریں دلوں کو ثواب پانے میں یعنی ان کو یقین ہے کہ خیرات کا ثواب ضرور ملے گا سو اگر نیت درست ہے تو بہت خرچ کرنے میں بہت ثواب ملے گا اور تھوڑی خیرات میں بھی فائدہ ہوگا جیسے خالص زمین پر باغ ہے تو جتنا مینہ برسے گا اتنا ہی باغ کو فائدہ پہنچے گا اور نیت درست نہیں تو جس قدر زیادہ خرچ کرے اتنا ہی مال ضائع ہوگا اور نقصان پہنچے گا کیونکہ زیادہ مال دینے میں ریا اور دکھاوا بھی زیادہ ہوگا جیسا پتھر پر دانہ اگے گا تو جتنا زور کا مینہ برسے گا اتنا ہی ضرر زیادہ ہوگا۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا پسند آتا ہے تم میں سے کسی کو یہ کہ ہو وے اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا بہتی نیچے اسکے نہریں اس کو اس باغ میں اور بھی سب طرح کا میوہ حاصل ہو اور آگیا اس پر بڑھاپا اور اس کی اولاد ہیں ضعیف تب آپڑا اس باغ پر ایک بگولا جس میں آگ تھی جس سے وہ باغ جل گیا یوں سمجھاتا ہے تم کو اللہ آیتیں تاکہ تم غور کرو2

2 یہ مثال ان کی ہے جو لوگوں کو دکھانے کو صدقہ خیرات کرتے ہیں یا خیرات کر کے احسان رکھتے ہیں اور ایذاء پہنچاتے ہیں یعنی جیسے کسی شخص نے جوانی اور قوت کے وقت باغ تیار کیا تاکہ ضعیفی اور بڑھاپے میں اس سے میوہ کھائے اور ضرورت کے وقت کام آئے۔ پھر جب بڑھاپا آیا اور میوے کی پوری حاجت ہوئی تب وہ باغ عین حالت احتیاج میں جل گیا یعنی صدقہ مثل باغ میوہ دار کے ہے کہ اس کا میوہ آخرت میں کام آئے۔ جب کسی کی نیت بری ہے تو وہ باغ جل گیا پھر اس کا میوہ جو ثواب ہے کیونکر نصیب ہو حق سبحانہ، اسی طرح کھول کر سمجھاتا ہے تم کو آیتیں تاکہ غور کرو اور سمجھو۔
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو خرچ کرو ستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اور اس چیز میں سے کہ جو ہم نے پیدا کیا تمہارے واسطے زمین سے اور قصد نہ کرو گندی چیز کا اس میں سے کہ اس کو خرچ کرو حالانکہ تم اس کو کبھی نہ لو گے مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور جان رکھو کہ اللہ بےپرواہ ہے خوبیوں والاف 3

3 یعنی عند اللہ صدقہ کے مقبول ہونے کی یہ بھی شرط ہے کہ مال حلال کمائی کا ہو، حرام کا مال اور شبہ کا مال نہ ہو اور اچھی سے اچھی چیز اللہ کی راہ میں دے بری چیز خیرات میں نہ لگائے کہ اگر کوئی ایسی ویسی چیز دے تو جی نہ چاہے لینے کو مگر شرما شرمائی۔ پر خوشی سے ہرگز نہ لے اور جان لو کہ اللہ بےپرواہ ہے تمہارا محتاج نہیں اور خوبیوں والا ہے اگر بہتر سے بہتر چیز دل کے شوق اور محبت سے دے تو پسند فرماتا ہے۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان وعدہ دیتا ہے تم کو تنگ دستی کا اور حکم کرتا ہے بےحیائی کا اور اللہ وعدہ دیتا ہے تم کو اپنی بخشش اور فضل کا اور اللہ بہت کشائش والا ہے سب کچھ جانتا ہے4

4 جب کسی کے دل میں خیال آئے کہ اگر خیرات کروں گا تو مفلس رہ جاؤں گا اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی یہی ہمت ہو اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدہ الہٰی سے اعراض کر کے وعدہ شیطانی پر طبیعت کو میلان اور اعتماد ہو اس کو یقین کرلینا چاہیے کہ یہ مضمون شیطان کی طرف سے ہے یہ نہ کہے کہ " شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت بھی نہیں دیکھی حکم کرنا تو درکنار رہا " اور اگر یہ خیال آوے کہ صدقہ خیرات سے گناہ بخشے جائیں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو جان لیوے کہ یہ مضمون اللہ کی طرف سے آیا ہے اور خدا کا شکر کرے اور اللہ کے خزانہ میں کمی نہیں سب کے ظاہر و باطن نیت عمل کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

عنایت کرتا ہے سمجھ جس کسی کو چاہے اور جس کو سمجھ ملی اس کو بڑی خوبی ملی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں1

1 یعنی جس کو چاہتا ہے دین کی باتوں میں دانائی اور خیرات کرنے میں سمجھ عنایت کرتا ہے کہ کس نیت سے اور کس مال سے اور کس کو اور کس طرح محتاج کو دینا چاہیے اور جس کو سمجھ عنایت ہوئی اس کو بڑی نعمت اور بڑی خوبی ملی۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور جو خرچ کرو گے تم خیرات یا قبول کرو گے کوئی منت تو بیشک اللہ کو سب معلوم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں2

2 یعنی جو کچھ خیرات کی جائے تھوڑی یا بہت بھلی نیت سے یا بری نیت سے چھپا کر یا لوگوں کو دکھا کر یا منت مانی جائے کسی طرح کی تو بیشک خدا تعالیٰ کو پورا علم ہے سب کا اور جو لوگ انفاق مال اور نذر میں حکم الہٰی کے خلاف کرتے ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں اللہ جو چاہے ان پر عذاب کرے منت قبول کرنے سے واجب ہوجاتی ہے اب اگر ادا نہ کی تو گنہگار ہوگا اور نذر اللہ کے سوا کسی کی جائز نہیں مگر یہ کہے کہ اللہ کے واسطے فلانے شخص کو دونگا یا اس نذر کا ثواب فلاں کو پہنچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر ظاہر کر کے دو خیرات تو کیا اچھی بات ہے اور اگر اس کو چھپاؤ اور فقیروں کو پہنچاؤ تو وہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور دور کرے گا کچھ گناہ تمہارے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے3

3 اگر لوگوں کے دکھانے کی نیت نہ ہو تو خیرات کرنا لوگوں کے روبرو بھی بہتر ہے تاکہ اوروں کو بھی شوق اور رغبت ہو اور چھپا کر خیرات کرنا بھی بہتر ہے تاکہ لینے والا نہ شرمائے۔ خلاصہ یہ کہ اظہار و اخفاء دونوں بہتر ہیں مگر ہر موقع اور مصلحت کا لحاظ ضروری بات ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

تیرا ذمہ نہیں ان کو راہ پر لانا اور لیکن اللہ راہ پر لاوے جس کو چاہے اور جو کچھ خرچ کرو گے تم مال سو اپنے ہی واسطے جب تک کہ خرچ کرو گے اللہ ہی کی رضا جوئی میں اور جو کچھ خرچ کرو گے خیرات سو پوری ملے گی تم کو اور تمہارا حق نہ رہے گا4

4 جب آپ نے صحابہ کو مسلمانوں کے سوا اوروں پر صدقہ کرنے سے روکا اور اس میں یہ مصلحت تھی کہ مال ہی کی غرض سے دین حق کی طرف راغب ہوں آگے یہ فرما دیا کہ یہ ثواب جب ہی تک ملے گا کہ اللہ کی خوشی مطلوب ہوگی تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں عام حکم آگیا کہ اللہ کی راہ میں جس کو مال دو گے تم کو اس کا ثواب دیا جائے گا مسلم غیر مسلم کسی کی تخصیص نہیں یعنی جس پر صدقہ کرو اس میں مسلم کی تخصیص نہیں البتہ صدقہ میں یہ ضرور ہے کہ محض بوجہ اللہ ہو۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

خیرات ان فقیروں کے لئے ہے جو رکے ہوئے ہیں اللہ کی راہ میں چل پھر نہیں سکتے ملک میں سمجھے ان کو ناواقف مالدار ان کے سوال نہ کرنے سے تو پہچانتا ہے ان کو ان کے چہرہ سے نہیں سوال کرتے لوگوں سے لپٹ کر5 اور جو کچھ خرچ کرو گے کام کی چیز وہ بیشک اللہ کو معلوم ہے6

5 یعنی ایسوں کا دینا بڑا ثواب ہے جو اللہ کی راہ اور اس کے دین کے کام میں مقید ہو کر چلنے پھرنے کھانے کمانے سے رک رہے ہیں اور کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرت کے اصحاب تھے۔ اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کر حضرت کی صحبت اختیار کی تھی علم دین سیکھنے کو اور مفسدین فتنہ پردازوں پر جہاد کرنے کو اسی طرح اب بھی جو کوئی قرآن کو حفظ کرے یا علم دین میں مشغول ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں۔ اور چہرہ سے ان کو پہچاننا اس کا مطلب یہ ہے کہ انکے چہرے زرد اور بدن دبلے ہو رہے ہیں اور آثار جدوجہد ان کی صورت سے نمودار ہیں۔ 6 علی العموم اور خاص کر ایسے لوگوں پر جن کا ذکر ہوا۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں رات کو اور دن کو چھپا کر اور ظاہر میں تو ان کے لئے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے پاس اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے1

1 یہاں تک خیرات کا بیان اور اس کی فضیلت اور اسکی قیود و شرائط کا مذکور تھا اور چونکہ خیرات کرنے سے ادھر تو معاملات میں سہولت و تسہیل کی عادت ہوتی ہے اور بےمروتی و سخت گیری کی برائی دلنشین ہوتی ہے اور ادھر یہ ہوتا ہے کہ معاملات و اعمال میں جو گناہ ہوجاتا ہے خیرات سے اس کا کفارہ کردیا جاتا ہے اور نیز خیرات کرنے سے اخلاق و مروت و خیر اندیشی و نفع رسانی خلق اللہ میں ترقی ہوتی ہے تو ان وجوہ سے ان آیات متعددہ میں اس کا ذکر فرمایا گیا تھا اب سود لینا چونکہ خیرات کی ضد ہے وہاں مروت و نفع رسانی تھی تو سود میں محض بےمروتی اور ضرر رسانی اور ظلم ہے۔ اس لئے خیرات کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور اسکی ممانعت کا ذکر بہت مناسب ہے، اور جس قدر خیرات میں بھلائی ہے اتنی ہی سود میں برائی ہونی ضروری بات ہے۔