2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 2:81

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں7 جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے1 سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے،

7 یعنی یہ بات غلط ہے کہ یہودی ہمیشہ کے لیے دوزخ میں نہ رہیں گے کیونکہ خلود فی النار اور خلود فی الجنۃ کا جو قاعدہ کلیہ آگے بیان فرمایا ہے اسی کے مطابق سب سے معاملہ ہوگا یہودی اس سے نکل نہیں سکتے۔ 1 گناہ کسی کا احاطہ کرلیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو حتیٰ کہ دل میں ایمان و تصدیق باقی ہوگی تو بھی احاطہ مذکور محقق نہ ہوگا۔ تو اب کافر ہی پر یہ صورت صادق آسکتی ہے۔
Ayahs 2:82–83

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے لیا قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اللہ کی اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا اور کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے اور کہیو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اور دیتے رہیو زکوٰۃ پھر تم پھرگئے مگر تھوڑے سے تم میں اور تم ہو ہی پھرنے والے2

2 یعنی احکام الٰہی سے اعراض کرنا تو تمہاری عادت بلکہ طبیعت ہوگئی ہے۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب لیا ہم نے وعدہ تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اقرار کرلیا اور تم مانتے ہو3

3 یعنی نہ اپنی قوم کو قتل کرو اور نہ ان کو جلا وطن کرو۔
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہ لوگ ہو کہ ویسے ہی خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے4 اور اگر وہی آویں تمہارے پاس کسی کے قیدی ہو کر تو ان کا بدلہ دے کر چھڑاتے ہو حالانکہ حرام ہے تم پر ان کا نکال دینا بھی، تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو5 سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جاویں سخت سے سخت عذاب میں اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے1

4 مدینہ میں دو فریق یہودیوں کے تھے ایک بنی قریظہ دوسرے بنی نضیر۔ یہ دونوں آپس میں لڑا کرتے تھے اور مشرکوں کے بھی مدینہ میں دو فرقے تھے ایک " اوس " دوسرے " خزرج " یہ دونوں بھی آپس میں دشمن تھے۔ بنی قریظہ تو اوس کے موافق ہوئے اور بنی نضیر نے خزرج سے دوستی کی تھی۔ لڑائی میں ہر کوئی اپنے موافقوں اور دوستوں کی حمایت کرتا جب ایک کو دوسرے پر غلبہ ہوتا تو کمزوروں کو جلا وطن کرتے ان کے گھر ڈھاتے اور اگر کوئی قید ہو کر پکڑا آتا تو سب رل مل کر مال جمع کر کے اس کا بدلہ دے کر قید سے اس کو چھڑاتے جیسا کہ آئندہ آیت میں آتا ہے۔ 5 یعنی اپنی قوم غیر کے ہاتھ میں پھنستی تو چھڑانے کو مستعد اور خود ان کے ستانے اور گلا کاٹنے تک کو موجود۔ اگر خدا کے حکم پر چلتے ہو تو دونوں جگہ چلو۔ 1 ایسا کرے " یعنی بعض احکام کا مانے اور بعض کا انکار کرے اس لیے کہ ایمان کا تجزیہ تو ممکن نہیں تو اب بعض احکام کا انکار کرنے والا بھی کافر مطلق ہوگا۔ صرف بعض احکام پر ایمان لانے سے کچھ بھی ایمان نصیب نہ ہوگا۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی شخص بعض احکام شرعیہ کی تو متابعت کرے اور جو حکم کہ اس کی طبعیت یا عبادت یا غرض کے خلاف ہو اس کے قبول میں قصور کرے تو بعض احکام کی متابعت اس کو کچھ نفع نہیں دے سکتی۔
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا ہوگا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی2

2 یعنی مفاد دنیاوی کو آخرت کے مقابلہ میں قبول کیا اس لیے کہ جن لوگوں سے عہد کیا تھا اس کو دنیا کے خیال سے نبھایا اور اللہ کے جو احکام تھے ان کی پرواہ نہ کی تو پھر اللہ کے ہاں ایسوں کی کون سفارش یا حمایت کرسکتا ہے۔
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور بیشک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول اور دیئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح پاک سے3 پھر بھلا کیا جب تمہارے پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمہارے جی کو تو تم تکبّر کرنے لگے پھر ایک جماعت کو جھٹلایا4 اور ایک جماعت کو تم نے قتل کردیا5

3 مردوں کا زندہ کرنا۔ اکمہ و ابرص وغیرہ مریضوں کا صحت یاب ہونا۔ غیب کی خبریں بتانا یہ حضرت عیسیٰ کے کھلے معجزے ہیں اور روح القدس کہتے ہیں حضرت جبرائیل کو جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے یا اسم اعظم کہ جس کی برکت سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ 4 جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کو جھوٹا کہا۔ 5 جیسا کہ حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کیا۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے، بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں6

6 یہود اپنی تعریف میں کہتے تھے کہ " ہمارے دل غلاف کے اندر محفوظ ہیں ' بجز اپنے دین کے کسی کی بات ہم کو اثر نہیں کرتی۔ ہم کسی کی چاپلوسی ' سحر بیانی یا کرشمے اور دھوکے کی وجہ سے ہرگز اس کی متابعت نہیں کرسکتے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا " وہ بالکل جھوٹے ہیں بلکہ ان کے کفر کے باعث اللہ نے ان کو ملعون اور اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لیے کسی طرح دین حق کو نہیں مانتے اور بہت کم دولت ایمان سے مشرف ہوتے ہیں "۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب پہنچی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو ان کے پاس ہے اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر پھر جب پہنچا ان کو جس کو پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہوگئے سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر7

7 ان کے پاس جو کتاب آئی وہ قرآن ہے اور جو کتاب ان کے پاس پہلے سے تھی وہ تورات ہوئی۔ قرآن کے اترنے سے پہلے جب یہودی کافروں سے مغلوب ہوتے تو خدا سے دعا مانگتے کہ ہم کو نبی آخرالزماں اور جو کتاب ان پر نازل ہوگی ان کے طفیل سے کافروں پر غلبہ عطا فرما۔ جب حضور ﷺ پیدا ہوئے اور سب نشانیاں بھی دیکھ چکے تو منکر ہوگئے اور ملعون ہوئے۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

بری چیز ہے وہ جس کے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپ کو کہ منکر ہوئے اس چیز کے جو اتاری اللہ نے اس ضد پر کہ اتارے اللہ اپنے فضل سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے8 سو کما لائے غصّہ پر غصّہ1 اور کافروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا2

7 یعنی جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچا وہ کفر اور انکار ہے قرآن کا اور انکار بھی محض ضد اور حسد کے سبب۔ 1 ایک غضب تو یہ کہ قرآن بلکہ اس کے ساتھ اپنی کتاب کے بھی منکر ہو کر کافر ہوئے ' دوسرے محض حسد اور ضد سے پیغمبر وقت سے انحراف اور خلاف کیا۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عذاب ذلت کے لیے نہیں ہوتا بلکہ مسلمانوں کو جو ان کے معاصی پر عذاب ہوگا گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوگا نہ بغرض تذلیل ' البتہ کافروں کو بغرض تذلیل عذاب دیا جائے گا۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے ان سے مانو اس کو جو اللہ نے بھیجا ہے تو کہتے ہیں ہم مانتے ہیں جو اترا ہے ہم پر اور نہیں مانتے اس کو جو سوا اسکے ہے حالانکہ وہ کتاب سچی ہے تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے3 کہہ دو پھر کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے پیغمبروں کو پہلے سے اگر تم ایمان رکھتے تھے4

3 جو اللہ نے بھیجا یعنی انجیل و قرآن اور جو اترا ہم پر یعنی تورات مطلب یہ ہوا کہ " بجز تورات اور کتابوں کا صاف انکار کرتے ہیں اور انجیل و قرآن کو نہیں مانتے " حالانکہ وہ کتابیں بھی سچی اور تورات کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ 4 ان سے کہہ دو کہ اگر تم تورات پر ایمان رکھتے ہو تو پھر تم نے انبیاء کو کیوں قتل کیا کیونکہ تورات میں یہ حکم ہے کہ جو نبی تورات کو سچا کہنے والا آئے اس کی نصرت کرنا اور اس پر ضرور ایمان لانا اور قتل بھی ان انبیاء کو کیا جو پہلے گزر چکے ہیں (جیسے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ علیہ السلام) جو احکام تورات پر عمل کرتے تھے اور اسی کی ترویج کے لیے مبعوث ہوئے تھے ان کے مصدق تورات ہونے میں تو بیوقوف کو بھی تامل نہیں ہوسکتا (یہ بات لفظ قبل سے مفہوم ہوئی) ۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور آچکا تمہارے پاس موسیٰ صریح معجزے لے کر پھر بنا لیا تم نے بچھڑا اس کے گئے پیچھے اور تم ظالم ہو5

5 یعنی حضرت موسیٰ کہ جن کی شریعت پر قائم ہو اور ان کی شریعت کی وجہ سے اور شرائع حقہ کا انکار کرتے ہو خود انہوں نے کھلے کھلے معجزے تم کو دکھائے (جیسے عصا ' ید بیضا اور دریا کا پھاڑنا وغیرہ) مگر جب چند دن کے لیے کوہ طور پر گئے تو اتنے ہی میں بچھڑے کو تم نے خدا بنا لیا۔ حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے درجہ نبوت پر قائم زندہ موجود تھے تو اس وقت تمہارا حضرت موسیٰ اور ان کی شریعت پر ایمان کہاں جاتا رہا تھا اور رسول آخر الزماں کے بغض و حسد میں آج شریعت موسوی کو ایسا پکڑ رکھا ہے کہ خدا کا حکم بھی نہیں سنتے ' بیشک تم ظالم تمہارے باپ دادا ظالم یہ حال تو بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کے ساتھ تھا۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے لیا قرار تمہارا اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو پکڑو جو ہم نے تم کو دیا زور سے اور سنو بولے سنا ہم نے اور نہ مانا اور پلائی گئی ان کے دلوں میں محبت اسی بچھڑے کی بسبب ان کے کفر کے6 کہہ دے کہ بری باتیں سکھاتا ہے تم کو ایمان تمہارا اگر تم ایمان والے ہو

6 یعنی احکام تورات کی جو تکلیف دی گئی اس کو پوری ہمت و استقلال سے مضبوط پکڑو ' چونکہ پہاڑ سر پر معلق تھا جان کے اندیشہ سے زبان سے (یا اس وقت) تو کہہ لیا سمعنا یعنی احکام تورات ہم نے سن لیے اور دل سے (یا بعد میں) کہا عصینا یعنی ہم نے قبول نہیں کیا احکام کو اور وجہ اس کی یہ تھی کہ صورت پرستی ان کے دل میں راسخ ہوچکی تھی ان کے کفر کے باعث وہ زنگ بالکل ان کے دل سے زائل نہیں ہوا بلکہ رفتہ رفتہ بڑھتا گیا۔
Ayah 2:94

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دے کہ اگر ہے تمہارے واسطے آخرت کا گھر اللہ کے ہاں تنہا سوا اور لوگوں کے تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچ کہتے ہو7

7 یہود کہتے تھے کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہ جائے گا اور ہم کو عذاب نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یقینی بہشتی ہو تو مرنے سے کیوں ڈرتے ہو "۔
Ayahs 2:95–96

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

اور ہرگز آرزو نہ کرینگے موت کی کبھی بسبب ان گناہوں کے کہ بھیج چکے ہیں انکے ہاتھ، اور اللہ خوب جانتا ہے گناہ گاروں کو

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور تو دیکھے گا ان کو سب لوگوں سے زیادہ حریص زندگی پر اور زیادہ حریص مشرکوں سے بھی چاہتا ہے ایک ایک ان میں کا کہ عمر پاوے ہزار برس اور نہیں اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں1

1 یعنی یہودیوں نے ایسے برے کام کیے ہیں کہ موت سے نہایت بچتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ مرتے ہی خیر نظر نہیں آتی حتیٰ کہ مشرکین سے بھی زیادہ جینے پر حریص ہیں۔ اس سے ان کے دعو وں کی تغلیط خوب ہوگئی۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

تو کہہ دے جو کوئی ہو وے دشمن جبرائیل کا سو اس نے تو اتارا ہے یہ کلام تیرے دل پر اللہ کے حکم سے کہ سچا بتانے والا ہے اس کلام کو جو اس کے پہلے ہے اور راہ دکھاتا ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو،

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی ہو وے دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے ان کافروں کا2

2 یہود کہتے تھے کہ " جبرائیل فرشتہ اس نبی کے پاس وحی لاتا ہے اور وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہمارے اگلے بڑوں کو اس سے بہت تکلیفیں پہنچیں۔ اگر جبرائیل کے بدلے اور فرشتہ وحی لائے تو ہم محمد ﷺ پر ایمان لائیں "۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے جو کچھ کرتے ہیں اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے جو ان کا دشمن ہے اللہ بیشک ان کا دشمن ہے۔
Ayahs 2:99–100

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے اتاریں تیری طرف آیتیں روشن اور انکار نہ کرینگے ان کا مگر وہی جو نافرمان ہیں

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا جب کبھی باندھیں گے کوئی قرار تو پھینک دیگی اس کو ایک جماعت ان میں سے بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے3

3 یعنی ان کی عادت قدیم ہے کہ جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد مقرر کرتے ہیں تو انہی میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے بلکہ بہت یہودی ایسے ہیں جو تورات پر ایمان ہی نہیں رکھتے ایسوں کو عہد شکنی میں کیا باک ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب پہنچا ان کے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں4

4 رسول سے مراد حضـرت محمد ﷺ اور مامعھم سے تورات اور کتاب اللہ سے بھی تورات مراد ہے۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے حالانکہ وہ تورات وغیرہ کتب کے مصدق تھے تو یہود کی ایک جماعت نے خود تورات کو پس پشت ایسا ڈال دیا کہ گویا جانتے ہی نہیں کہ یہ کیا کتاب ہے اور اس میں کیا کیا حکم ہیں سو ان کو جب اپنی ہی کتاب پر ایمان نہیں تو ان سے آگے کو کیا امید کی جائے۔
Ayah 2:102

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور پیچھے ہو لئے اس علم کے جو پڑھتے تھے شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت5 اور کفر نہیں کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور اس علم کے پیچھے ہو لئے جو اترا دو فرشتوں پر شہر بابل میں جن کا نام ہاروت اور ماروت ہے اور نہیں سکھاتے تھے وہ دونوں فرشتے کسی کو جب تک یہ نہ کہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں سو تو کافر مت ہو پھر ان سے سیکھتے وہ جادو جس سے جدائی ڈالتے ہیں مرد میں اور اس کی عورت میں اور وہ اس سے نقصان نہیں کرسکتے کسی کا بغیر حکم اللہ کے اور سیکھتے ہیں وہ چیز جو نقصان کرے ان کا، اور فائدہ نہ کرے اور وہ خوب جان چکے ہیں کہ جس نے اختیار کیا جادو کو نہیں اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہّ اور بہت ہی بری چیز ہے جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپ کو اگر ان کو سمجھ ہوتی

5 یعنی ان احمقوں نے کتاب الٰہی تو پس پشت ڈالی اور شیطانوں سے جادو سیکھا اور اس کی متابعت کرنے لگے۔
Ayah 2:103

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ کرتے تو بدلہ پاتے اللہ کے ہاں سے بہتر اگر ان کو سمجھ ہوتی1

1 خلاصہ یہ کہ یہود اپنے دین اور کتاب کا علم چھوڑ کر علم سحر کے تابع ہوگئے اور سحر لوگوں میں دو طرف سے پھیلا۔ ایک حضرت سلیمان کے عہد میں۔ چونکہ جنات اور آدمی ملے جلے رہتے تھے تو آدمیوں نے شیطانوں سے سحر سیکھا اور نسبت کردیا حضرت سلیمان کی طرف کہ ہم کو انہی سے پہنچا ہے اور ان کو حکم جن اور انس پر اسی کے زور سے تھا " سو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یہ کام کفر کا ہے سلیمان کا نہیں دوسرے پھیلا ھاروت ماروت کی طرف سے وہ دو فرشتے تھے شہر بابل میں بصورت آدمی رہتے تھے ان کو علم سحر معلوم تھا جو کوئی طالب اس کا جاتا اول اس کو روک دیتے کہ اس میں ایمان جاتا رہے گا اس پر بھی باز نہ آتا تو اس کو سکھا دیتے اللہ تعالیٰ کو ان کے ذریعہ سے بندوں کی آزمائش منظور تھی سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے علموں سے آخرت کا کچھ نفع نہیں بلکہ سراسر نقصان ہے اور دنیا میں بھی ضرر ہے اور بغیر حکم خدا کے کچھ نہیں کرسکتے اور علم دین اور علم کتاب سیکھتے تو اللہ کے ہاں ثواب پاتے۔
Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو اور کافروں کو عذاب ہے دردناک2

2 یہودی آکر آپ کی مجلس میں بیٹھتے اور حضرت کی باتیں سنتے۔ بعض بات جو اچھی طرح نہ سنتے اس کو مکرر تحقیق کرنا چاہتے تو کہتے راعنا یعنی ہماری طرف متوجہ ہو اور ہماری رعایت کرو۔ یہ کلمہ ان سے سن کر کبھی مسلمان بھی کہہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ یہ لفظ نہ کہو اگر کہنا ہو تو انظرنا کہو اس کے معنی بھی یہی ہیں اور ابتدا ہی سے متوجہ ہو کر سنتے رہو تو مکرر (پوچھنا ہی نہ پڑے۔ یہود اس لفظ کو بدنیتی اور فریب سے کہتے تھے اس لفظ کو زبان دبا کر کہتے تو راعینا ہوجاتا (یعنی ہمارا چرواہا اور یہود کی زبان میں راعنا احمق کو بھی کہتے ہیں۔
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

دل نہیں چاہتا ان لوگوں کا جو کافر ہیں اہل کتاب میں اور نہ مشرکوں میں اس بات کو کہ اترے تم پر کوئی نیک بات تمہارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے3

3 یعنی کفار یہود ہوں یا مشرکین مکہ قرآن کے نزول کو تم پر ہرگز پسند نہیں کرتے بلکہ یہود تمنا کرتے ہیں کہ نبی آخر الزمان بنی اسرائیل میں پیدا ہو اور مشرکین مکہ چاہتے ہیں کہ ہماری قوم میں سے ہو مگر یہ تو اللہ کے فضل کی بات ہے کہ امیّ لوگوں میں نبی آخرالزماں کو پیدا فرمایا۔
Ayah 2:106

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے برابر کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے4

4 یہ بھی یہود کا طعن تھا کہ " تمہاری کتاب میں بعض آیات منسوخ ہوتی ہیں ' اگر یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہوتی تو جس عیب کی وجہ سے اب منسوخ ہوئی اس عیب کی خبر کیا خدا کو پہلے سے نہ تھی " اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیب نہ پہلی بات میں تھا نہ پچھلی میں لیکن حاکم مناسب وقت دیکھ کر جو چاہے حکم کرے اس وقت وہی مناسب تھا اور اب دوسرا حکم مناسب ہے۔
Ayah 2:107

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور نہیں تمہارے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار1

1 یعنی ادھر تو اللہ کی قدرت و ملکیت سب پر شامل ادھر اس کی اپنے بندوں پر اعلیٰ درجہ کی عنایت، تو اب مصالح اور منافع بندوں کی اطلاع اور ان پر قدرت کس کو ہوسکتی ہے۔ اور اس کے برابر بندوں کی خیر خواہی کون کرسکتا ہے۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جیسے سوال ہوچکے ہیں موسیٰ سے اس سے پہلے اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے2

2 یعنی یہودیوں کی باتوں پر ہرگز اعتماد نہ کرنا جس کسی کو یہودیوں کے شبہ ڈالنے سے شبہ پڑگیا وہ کافر ہوا۔ اس کی احتیاط رکھو اور یہود کے کہنے سے تم اپنے نبی کے پاس شبہ نہ لاؤ جیسے وہ اپنے نبی کے پاس لاتے تھے۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا کہ کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر بنادیں بسبب اپنے دلی حسد کے بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکا ان پر حق3 سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جب تک بھیجے اللہ اپنا حکم4 بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے5

3 یعنی بہت سے یہودیوں کو آرزو ہے کہ اسی طرح تم کو اے مسلمانوں پھیر کر پھر کافر بنادیں حالانکہ ان کو واضح ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کا دین، ان کی کتاب، ان کا نبی سب سچے ّ ہیں۔ 4 یعنی جب تک ہمارا حکم کوئی نہ آوے اس وقت تک یہود کی باتوں پر صبر کرو۔ سو آخر کو حکم آگیا کہ یہود کو مدینہ کے گرد سے نکال دو ۔ 5 یعنی اپنے ضعف سے تردد مت کرو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے تم کو عزیز اور یہود کو ذلیل کرے گا یا یہ کہ تاخیر عجز کی وجہ سے نہیں کی جاتی۔
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیج دو گے اپنے واسطے بھلائی پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے6

6 یعنی ان کی ایذاء پر صبر کرو اور عبادات میں مشغول رہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل ہرگز نہیں۔ تمہاری کوئی نیک بات ضائع نہیں ہوسکتی۔
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاوینگے جنت میں مگر جو ہونگے یہودی یا نصرانی7 یہ آرزوئیں باندھ لی ہیں انہوں نے، کہہ دے لے آؤ سند اپنی اگر تم سچے ّ ہو

7 یعنی یہودی تو کہتے ہیں کہ بجز ہمارے کوئی جنت میں نہ جائے گا اور نصاریٰ کہتے تھے کہ بجز ہمارے کوئی بہشت میں نہ جائے گا۔
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

کیوں نہیں جس نے تابع کردیا منہ اپنا اللہ کے اور وہ نیک کام کرنیوالا ہے تو اسی کے لئے ہے ثواب اس کا اپنے رب کے پاس اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہونگے1

1 یعنی جس نے خدا کے احکام کو مانا اور اس کا اتباع کیا وہ احکام خواہ کسی نبی کے ذریعہ سے معلوم ہوں اور اپنی قومیت اور آئین پر تعصب نہ کیا جیسا کہ یہود کرتے ہیں تو ان کے لئے اجر نیک ہے اور نہ کوئی امر ان میں ایسا ہے جس کی وجہ سے خوف ہو اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں کسی راہ پر باوجودیکہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب2 اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں ان ہی کی سی بات اب اللہ حکم کریگا ان میں قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے3

2 یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہا، تو بیشک وہ کافر ہوگئے اور نصرانیوں نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔ 3 ان جاہلوں سے مشرکین عرب اور بت پرست مراد ہیں۔ یعنی جیسے یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کو گمراہ جانتے ہیں۔ اسی طرح بت پرست بھی اپنے سوا سب فرقوں کو گمراہ اور بےدین بتلاتے ہیں، سو دنیا میں کہتے جائیں قیامت کو فیصلہ ہوجائے گا۔ فائدہ : یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ جب کذلک فرما دیا تو پھر مثل قولھم فرمانے کی کیا حاجت۔ بعض مفسرین نے جواب دیا کہ مثل قولھم توضیح اور تاکید ہے کـذلک کے لئے اور بعض کہتے ہیں کہ یہاں (2) دو تشبیہ جدا جدا ہیں اس لیے دو لفظ لائے ایک تشبیہ سے تو یہ غرض ہے کہ ان کا اور ان کا مقولہ باہم مشابہ ہیں (یعنی جیسے وہ دوسروں کو گمراہ کہتے ہیں ایسا ہی یہ بھی) اور ایک تشبیہ سے یہ غرض ہے کہ جیسا اہل کتاب یہ دعویٰ بےدلیل اپنی ہوائے نفس اور عداوت سے کرتے تھے ایسے ہی بت پرست بھی بےدلیل محض خواہش نفسانی سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا اور کوشش کی ان کے اجاڑنے میں4 ایسوں کو لائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے5 ان کے لئے دنیا میں ذلت ہے6 اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے

4 اس کے شان نزول نصاریٰ ہیں کہ انہوں نے یہود سے مقاتلہ کرکے تورات کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب کیا یا مشرکین مکہ کہ انہوں نے مسلمانوں کو محض تعصّب وعناد سے حدیبیہ میں مسجد حرام (بیت اللہ) میں جانے سے روکا۔ باقی جو شخص کسی مسجد کو ویران یا خراب کرے وہ اسی حکم میں داخل ہے۔ 5 یعنی ان کفار کو لائق یہی تھا کہ مساجد اللہ میں خوف و تواضع اور ادب و تعظیم کے ساتھ داخل ہوتے کفار نے جو وہاں کی بےحرمتی کی یہ صریح ظلم ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس ملک میں حکومت اور عزت کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں۔ چناچہ یہی ہوا کہ ملک شام اور مکہّ اللہ نے مسلمانوں کو دلوا دیا۔ 6 یعنی دنیا میں مغلوب ہوئے، قید میں پڑے مسلمانوں کے باج گذار ہوئے۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ7 بیشک اللہ بےانتہا بخشش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے،8

7 یہ بھی یہود و نصاریٰ کا جھگڑا تھا کہ ہر کوئی اپنے قبلہ کو بہتر بتاتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ " اللہ مخصوص کسی طرف نہیں بلکہ تمام مکان اور جہت سے منزہ۔ البتہ اس کے حکم سے جس طرف منہ کرو گے وہ متوجہ ہے۔ تمہاری عبادت قبول کرے گا " بعض نے کہا سفر میں سواری پر نوافل پڑھنے کی بابت یہ آیت اتری۔ یا سفر میں قبلہ مشتبہ ہوگیا تھا جب اتری۔ 8 یعنی اس کی رحمت سب جگہ عام ہے ایک مکان کے ساتھ مخصوص نہیں اور بندوں کے مصالح اور ان کی نیتوں کو اور ان کے اعمال کو سب کو خوب جانتا ہے کہ بندوں کے حق میں کون سی شئ مفید ہے اور کون سی مضر، اسی کے موافق حکم دیتا ہے اور جو اس کی موافقت کریگا اس کو جزا اور مخالف کو سزا دیگا۔
Ayahs 2:116–117

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اللہ رکھتا ہے اولاد، وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سب اسی کے تابعدار ہیں

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

نیا پیدا کرنیوالا ہے آسمان اور زمین کا اور جب حکم کرتا ہے کسی کام کو تو یہی فرماتا ہے اس کو کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے9

9 یہود حضرت عزیر کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی ذات سب باتوں سے پاک ہے بلکہ سب کے سب اس کے مملوک اور مطیع اور مخلوق ہیں۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی آیت10 اسی طرح کہہ چکے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہی کی سی بات ایک سے ہیں دل ان کے بیشک ہم نے بیان کردیں نشانیاں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لاتے ہیں1

10 یعنی اہل کتاب اور بت پرستوں میں جو جاہل ہیں وہ سب کہتے ہیں کہ " اللہ ہم سے بلا واسطہ بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی کیوں نہیں بھیجتا کہ رسالت کی تصدیق کرلیں۔ 1 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی جہالت کی بات کہی تھی یہ نئی بات نہیں اور جو یقین لانے والے ہیں ان کے لئے ہم نے نبی کے برحق ہونے کی نشانیاں بیان کردی ہیں۔ اور جو ضد اور عداوت پر اڑ رہے ہیں وہ انکار کریں تو یہ محض عناد ہے ان کا "۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

بیشک ہم نے تچھکو بھیجا ہے سچا دین دیکر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی2

2 یعنی تجھ پر الزام نہیں کہ ان کو مسلمان کیوں نہیں کیا۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور ہرگز راضی نہ ہونگے تجھ سے یہود اور نہ نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا3 تو کہہ دے جو راہ اللہ بتلا دے وہی راہ سیدھی ہے4 اور اگر بالفرض تو تابعداری کرے ان کی خواہشوں کی بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنیوالا اور نہ مددگار5

3 یعنی یہود اور نصاریٰ کو امر حق سے سروکار نہیں۔ اپنی ضد پر اڑ رہے ہیں وہ کبھی تمہارا دین قبول نہ کریں گے۔ بالفرض اگر تم ہی ان کے تابع ہوجاؤ تو خوش ہوجاویں گے اور یہ ممکن نہیں تو اب ان سے موافقت کی امید نہ رکھنی چاہیے۔ 4 یعنی ہر زمانہ میں معتبر وہی ہدایت ہے جو اس زمانہ کا نبی لائے سو اب وہ طریقہ اسلام ہے نہ کہ طریقہ یہود و نصاریٰ ۔ 5 یہ بات بطریق فرض ہے۔ یعنی بالفرض اگر آپ ایسا کریں تو قہر الٰہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یا منظور تنبیہ ہے امت کو کہ اگر کوئی مسلمان ہو کر قرآن کو سمجھ کر دین سے پھرے گا تو اس کو عذاب سے کوئی نہ چھڑا سکے گا۔