21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے زبور میں تذکیر و نصیحت کے بعد یہ بات لکھ دی تھی کہ زمین کی وراثت انہی بندوں کے حصے میں آئے گی جو نیک ہوں گے

زبور میں بھی ہم نے لکھا اور قرآن میں بھی کہ زمین کے وارث صالحین ہوں گے : 105۔ وہ زمین جو صالحین کی وراثت قرار پائے گی کونسی زمین ہے ؟ وہ زمین جو اس زمین و آسمان کے فنا ہونے کے بعد نئے قانون ‘ نئی طرز اور نئی ساخت کی ہوگی جس کا گزشتہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “۔ (ابراہیم 14 : 48) ” اس دن کو نظر میں رکھو جس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان دوسرے آسمان سے بدل دیئے جائیں گے ۔ “ اس بدلے ہوئے آسمان و زمین میں بلاشبہ قانون یہی ہوگا کہ ان کی ابدی وراثت و بادشاہی صرف صالحین ہی کو حاصل ہوگی اور نافرمانوں کو اس میں کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا اور اس بات کا اعلان تمام صحائف وکتب آسمانی نے کیا ہے لیکن خصوصا قرآن کریم سے پہلے زبور میں اس کا بیان تفصیل سے کیا گیا ہے صحائف آسمانی خصوصا تورات ‘ انجیل اور زبور میں بہت ردوبدل کیا گیا ہے تاہم زبور میں آج بھی اس کا اعلان واضح الفاظ میں ملتا ہے ، چناچہ تحریر ہے کہ : ” تو بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ دیئے جائیں گے اور سبزہ کی طرح مرجھا جائیں گے ۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر ۔ ملک میں آباد رہ اور اس کی وفاداری سے پرورش پا۔ خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا ۔ اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے ۔ اور اس پر توکل کر وہی سب کچھ کرے گا ۔ وہ تیری راست بازی کو نور کی طرح ۔ اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا ۔ خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ ۔ اس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں کامیاب ہوتا ۔ اور برے منصوبوں کو انجام دیتا ہے بیزار نہ ہو ۔ قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے ۔ بیزار نہ ہو اس سے برائی ہی نکلتی ہے ، کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے ۔ لیکن جن کو ” خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے “ کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائے گا ۔ تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہوگا ۔ لیکن ” حلیم ملک کے وارث ہوں گے “ اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے ۔ شریر راست باز کے خلاف بندشیں باندھتا ہے ۔ اور اس پر دانت پیستا ہے ۔ خداوند اس پر ہنسے گا ۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دن آتا ہے ، شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے ، تاکہ غریب اور محتاج گرا دیں ۔ اور راست رو کو قتل کریں ۔ ان کی تلوار ان ہی کے دل کو چھیدے گی ۔ ان کی کمانیں توڑ دی جائیں گے ۔ صادق کا تھوڑا سا مال ۔ بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے ۔ کیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائیں گے ۔ لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے ۔ کاہل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے ۔ ” ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی “۔ وہ آفت کے وقت شرمندہ نہ ہوں گے ۔ اور کال کے دنوں میں آسودہ رہیں گے ۔ لیکن شریر ہلاک ہوں گے ۔ خداوند کے دشمن چراگاہوں کی سرسبزی کی مانند ہوں گے ۔ وہ فنا ہوجائیں گے ۔ وہ دھوئیں کی طرح جاتے رہیں گے ۔ شریر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا ۔ لیکن صادق رحم کرتا ہے اور دیتا ہے ۔ کیونکہ ” جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے “ اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائیں گے ، انسان کی روشیں خداوند کی طرف سے قائم ہیں اور وہ اس کی راہ سے خوش ہے ۔ اگر وہ گر بھی جائے تو پڑا نہ رہے گا ۔ کیونکہ خداوند اسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتا ہے ، میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں ۔ تو بھی میں نے صادق کو بےکسی ۔ اور اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا ۔ وہ دن بھر رحم کرتا اور قرض دیتا ہے اور اس کی اولاد کو برکت ملتی ہے ، بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر ۔ اور ” ہمیشہ تک آباد رہ “ کیونکہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا۔ وہ ” ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں “۔ پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی ۔ ” صادق زمین کے وارث ہوں گے “۔ اور ” اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے “ صادق کے منہ سے دانائی نکلتی ہے اور اس کی زبان سے انصاف کی باتیں ۔ اس کے خدا کی شریعت اس کے دل میں ہے ۔ وہ اپنی روشن میں پھسلے گا نہیں ۔ شریر صادق کی طاق میں رہتا ہے اور اسے قتل کرنا چاہتا ہے ۔ خداوند اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑے گا ۔ اور بنائے گا “ جب شریری کاٹ ڈالے جائیں گے تو تو دیکھے گا ، میں نے شریر کو بڑے اقتدار میں اور ایسا پھیلتے دیکھا جیسے کوئی ہرا درخت اپنی اصل زمین میں پھیلتا ہے ۔ لیکن جب کوئی ادھر سے گزرا اور دیکھا تو وہ تھا ہی نہیں ۔ بلکہ میں نے اسے ڈھونڈا پر وہ نہ ملا ، کامل آدمی پر نگاہ کر اور راست باز کو دیکھ ۔ کیونکہ صلح دوست آدمی کے لئے اجر ہے ۔ لیکن خطا کار اکھٹے مر مٹیں گے ۔ شریروں کا انجام ہلاکت ہے ۔ لیکن صادقوں کی نجات خداوند کی طرف سے ہے ، مصیبت کے وقت وہ ان کا محکم قلعہ ہے ۔ اور خداوند ان کی مدد کرتا اور اس کو بچاتا ہے وہ ان کو شریروں سے چھڑاتا ہے اور بچا لیتا ہے ۔ اس لئے کہ انہوں نے اس میں پناہ لی ہے ۔ “ (زبور 37 : 1 تا 40) زبور کا یہی وہ مزمور ہے جس کا قرآن کریم نے اس جگہ ذکر کیا ہے ، اس کے ہر ایک فقرہ پر غور کرو اور دیکھو کہ اس سے کونسا ملک ہے جس کے صالح لوگ وارث قرار دیئے جائیں گے ؟ ہمیشہ کی سلامتی کہاں ہے ؟ ہمیشہ کے لئے کاٹ دیئے جانے والے کون ہیں ؟ خداوند کن پر ہنسے گا ؟ وہ کونسی زمین ہے جس کے لوگ وارث قرار پائے ؟ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہونے والے کون ہیں ؟ کس سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے ؟ تم کو صاف صاف معلوم ہوجائے گا کہ یہ اس زمین کی بات نہیں بلکہ یہ اس سرزمین کی بات کی جارہی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بدل کر لانے سے کیا گیا ہے اور یہ اس زندگی کی بات ہے جس کے بعد موت کا کوئی تصور ہی نہیں رہ جائے گا ، کیونکہ جس وراثت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس کے لئے لازم وضروری ہے کہ وہ وراثت ابدی ہوگی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہاں آباد رہیں گے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اس زمین کی بات تو نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں کسی شخص کو بھی ہمیشگی نہیں ہے یہاں جو کچھ ہے سب فنا ہونے کے لئے ہے یہاں جو پیدا ہوا اس کو مرنا ہے اور جو بادشاہ بنا اس کو ملک فنا ہونا لازم ہے نہ بادشاہ کے لئے دوام ہے اور نہ ہی بادشاہی کے لئے ، یہاں داؤد کو جو اللہ کا نبی ورسول بھی تھا اور وقت کا بادشاہ بھی ہمیشگی اس کے لئے نہ تھی اور یہاں وہ شخصیت جو سارے نبیوں اور رسولوں میں فضیلت رکھیتی تھی دوام اس کے لئے نہ ہوا اس کی نبوت و رسالت باقی رکھنے کے باوجود اس کی ذات کو موت دے دی گئی پھر جب اور میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ؟ اس لئے تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ لوگ جن کو یہی غلطی لگی اور انہوں نے اس زمین کو بادشاہی کو صالحین کے لئے لازم قرار دیا اور جب ان کا ایسا کرنا خود ان کو بھی صحیح محسوس نہ ہوا تو انہوں نے ان سارے لوگوں کو صالح قرار دے دیا جن کو اس سرزمین کی وارثت ملی اگرچہ وہ خود بھی عارضی اور فانی تھے اور ان کی بادشاہی بھی عارضی وفانی تھی جب وہ اس بات کو ثابت نہ کرسکے تو انہوں نے ” صالح “ کے مفہوم کو بدل دینے کی لاحاصل کوشش کی اور پھر جب وہاں ناکامی نظر آئی تو انہوں نے ضد اور پچ میں آکر قرآن کریم کی ساری اصطلاحات ہی کو بدل کر رکھ دیا اور اس طرح نہ نماز یہ نماز رہی ‘ نہ روزہ یہ روزہ اور نہ ہی زکوۃ اس طرح کی زکوۃ سمجھی اور نہ حج کو اس طرح کا حج اور ایسے پٹری سے اترے کہ اترتے ہی چلے گئے اور اس طرح دوسروں کی اصلاح کے ٹھیکہ دار خود گمراہی کے ایسے گھڑے میں گر گئے جہاں سے نکلنا ان کے بس کی بات ہی نہ رہی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے عذاب کا معاملہ اس دارالعمل ہی سے شروع ہوگیا اور وہی بات ہوئی جس کو قرآن کریم کی زبان میں (خسرالدنیا والاخرۃ) کے الفاظ سے بیان کیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور خدا کرے کہ کوئی سیدھی راہ سے ہٹ نہ جائے اور نہ ہی کسی سے سیدھی راہ گم ہوجائے ۔ لیکن جو خود ہی سیدھی راہ نہ چلنا چاہے کون ہے جو اس کو سیدھی راہ چلا دے ؟ مگر اللہ ! اس کا قانون یہ ہے کہ وہ خود گمراہ ہونے والوں کو کبھی سیدھی راہ نہیں دیکھاتا ۔ نہ قانون کے خلاف کرتا ہے اور نہ ہونے دیتا ہے ۔ دنیوی زمین میں عارضی وارثت کا ذکر سورة الاعراف کی آیت 128 میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

اسبات میں ان لوگوں کے لیے جو عبادت گزار ہیں ایک بڑا ہی پیام ہے

عبادت گزار بندوں کے لئے اس میں ایک بڑا ہی پیام موجود ہے : 106۔ گزشتہ آیت کے مضمون میں عبادت گزار بندوں کے لئے خصوصا بہت بڑی بشارت رکھی گئی ہے کہ وہ دنیوی زندگی میں بااصول رہے اور کبھی بےاصولی کے قریب نہیں گئے اس لئے آخروی زندگی کی ساری وراثت اللہ نے ان ہی کی عطا کردینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خوشخبری کا اعلان اس دنیوی زندگی میں ان کو سنا دیا گیا ہے کہ یہ رزلٹ ہوگا ان کی ثابت قدمی کا کہ انہوں نے دنیوی وراثت کے حاصل کرنے کے لئے ناجائز اور حرام ذرائع کبھی اختیار نہیں کئے جیسا کہ آج کل ہمارے علمائے کرام کی اکثریت کو اس دنیوی اقتدار کی ہوس نے تباہ وبرباد کر رکھا ہے کہ اسلام کا نام لے کر وہی دغا ‘ فریب ‘ جھوٹ ‘ مکاریاں کر رہے ہیں جو مغربی جمہوریت کا لازمہ ہے ۔ تف ہے ان پر کہ انہوں نے اس ناجائز ذریعہ سے اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے دین و دنیا سب کچھ اس کے لئے قربان کردیا ہے اور وہ اس ناپاک کنوئیں سے پانی نکال کر قوم کو پاک کر دکھانا چاہتے ہیں جو یقینا سعی لاحاصل کے مترادف ہے جس میں انہوں نے ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھا ہے اور انشاء اللہ جب تک یہ نظام قائم ہے وہ ناکامی ہی کا منہ دیکھیں گے اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی آخرت کو بھی تباہ وبرباد کرلیا ہے اور ان کی حالت وہی ہے جس حالت کا بیان اس طرح دیا جانا عام ہے کہ ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ۔ مختصر یہ کہ اس آیت میں ان لوگوں کو بشارت سنائی جاری ہے جو اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے ہیں اور اس دنیوی زندگی کے اقتدار کی ہوس نے ان کو اندھا بہرا نہیں کردیا وہ حق اور ناحق کی تمیز رکھتے ہیں اور حق کا ساتھ دیتے ہیں ناحق سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں اور اس دنیوی زندگی کی ہر آسائش کو آخروی زندگی کی آسائش و آرام حاصل کرنے کے لئے قربان کردینے کے لئے تیار رہتے ہیں وہ ہمیشہ دنیا کے صلہ میں آخرت کے متلاشی ہیں اور آخرت کو قربان کر کے دنیوی زندگی کی آسائش وآلام حاصل کرنے کی انہوں نے کبھی کوشش تو درکنار ارادہ تک بھی نہیں کیا ۔ ایسے لوگوں کے لئے ان کی اس دنیوی زندگی ہی میں اس عظیم بشارت کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ آخرت کی زمین کی وراثت انہیں لوگوں کے حصہ میں آئے گی اس لئے اب وقت ہے کہ جس کو یہ بازی لگانی ہو وہ میدان میں آئے اور اپنی دنیوی زندگی کے آسائش و آرام کو اخروی زندگی پر قربان کرکے دکھا دے تاکہ کل وہ اس ابدی زندگی کی وراثت کا مستحق قرار پائے ۔ اس آیت سے مضمون نبی اعظم وآخر ﷺ کی طرف پھر رہا ہے جنہوں نے اس کام کو سب سے بہتر سرانجام دیا اور دنیا وآخرت میں سب نبیوں سے زیادہ کامیابی حاصل کی ۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ تمام دنیا کے لیے رحمت کا ظہور ہو

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔ 107۔ زیر نظر آیت مبارکہ کے آتے ہی ذہن اس طرح منتقل ہوا کہ قرآن کریم میں دیکھنا چاہئے (للعلمین) کن کن جگہوں پر آیا ہے اور کس کس چیز کے لئے بیان کیا گیا ہے یوں سرسر نظر مندرجہ ذیل دس جگہوں پر پڑی جو علاوہ (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “۔ (الانبیاء 21 : 107) کے ہے جس کی تفصیل یہ ہے : 1۔ (آیت) ” ان ھو الا ذکری للعلمین “۔ (الانعام 6 : 90) 2۔ (آیت) ” ان ھو الا ذکری للعلمین “۔ (یوسف 12 : 104) 3۔ (آیت) ” وما ھو الا ذکری للعلمین “۔ (القلم 68 : 52) 4۔ (آیت) ” اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعلمین) (3 : 96) 5۔ (آیت) ” الا الارض التی بارکنا فیھا للعلمین “۔ (الانبیائ 21 : 71) 6۔ (آیت) ” وما اللہ یرید ظلما للعلمین “۔ (ال عمران 3 : 108) 7۔ (آیت) ” فانجینہ واصحب السفینۃ وجعلنھا ایۃ للعلمین “۔ (العنکبوت 29 : 15) 8۔ (آیت) ” وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین “۔ (الانبیائ 21 : 91) 9۔ (آیت) ” ان فی ذلک لایت للعلمین “۔ (الروم 30 : 22) 10۔ (آیت) ” لیکون للعلمین نذیرا “۔ (الفرقان 25 : 1) آیات مذکورہ پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ آیت 1 ‘ 2 ‘ 3 ‘ میں قرآن کریم کو (ذکر للعلمین) فرمایا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کلام الہی ہے جو جملہ عالمین کے لئے ” ذکر “ ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کا اسم مبارک تو اسی مصدر کے ساتھ مذکر ہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (فذکر انما انت مذکر “۔ (88 : 21) آیت 4 اور 5 میں اللہ تعالیٰ نے لفظ برکت کا استعمال کیا ہے آیت 4 میں بیت اللہ کے لئے اور آیت 5 میں بیت المقدس کے لئے اور مسلمان دونوں مسجدوں کو اسی ادب واحترام کا مستحق سمجھتے ہیں جو کلام الہی میں ان کے لئے ظاہر فرمائے گئے ہیں اور چونکہ لفظ برکت ہر دو کے لئے مشترک ہے اور لفظ (ھدی) بیت الحرام کے لئے خاص ہے اس لئے بیت الحرام کا درجہ بھی بیت المقدس سے بلاشبہ زیادہ ہے اور یہی قبلہ اول وآخر ہے ۔ آیت 6 میں اللہ تعالیٰ نے ظلم کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہاں ! لوگ اگر ظلم سے باز نہیں آئیں گے تو وہ خود اپنے اوپر ظلم کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں نہ ہی اس کے لئے ظلم کرنا روا ہے ۔ آیت 7 ‘ 8 ‘ 9 ‘ میں لفظ آیت کا استعمال ہوا ہے اور اس کا مصداق ان مختلف آیات میں مقصود ہے ‘ آیت 7 میں سیدنا نوح (علیہ السلام) کی کشتی کو یا اہل کشتی کو آیت فرمایا ہے اور آیت 8 میں سیدہ مریم (علیہ السلام) اور اس کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آیت بتایا گیا ہے مریم منذورہ کے نکاح نہ کرنے کی رسم بد کو توڑنے کے لئے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا مبشر بیٹا ہونے کے لئے جس کے پیدا ہونے سے بہت پہلے اس کی خوشخبری دی گئی اور اس کے اوصاف بھی سیدہ مریم کو بتا دیئے گئے اور آیت 9 میں نوع انسانی کی مختلف زبانوں اور متلون رنگتوں کے اختلاف کو آیت بیان کیا گیا ہے ۔ آیت دس میں قرآن کریم یا صاحب قرآن نبی اعظم وآخر ﷺ کی ذات گرامی کو تمام جہانوں کو ڈرانے والا بیان کیا گیا ہے اور ان سب کا خلاصہ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ (ذکر للعلمین) قرآن کریم ہے (مبارک للعلمین) بیت اللہ اور بیت المقدس ہے (ایت للعلمین) اصحاب نوح اور کشتی نوح (علیہ السلام) سیدہ مریم اور سیدنا مسیح ابن مریم اور اقوام عالم کا اختلاف الوان اور تباین السنہ ہیں اور (للعلمین نذیرا) سے مراد قرآن کریم یا صاحب قرآن کریم یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ ہی کی ذات گرامی کو (رحمۃ للعالمین) ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ لفظ رحمت ایسا لفظ ہے جس کا استعمال نبی اعظم وآخر ﷺ ہی کے لئے ہوا آپ ﷺ کے سوا کسی دوسرے انسان ‘ نبی اور رسول کے لئے نہیں ہوا اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ بھی ہے کہ (ورحمتی وسعت کل شیئ) (الاعراف) ” میری رحمت ہر ایک سے زیادہ وسیع ہے “ پس جیسا نبی کریم ﷺ کو جملہ عالمین کے لئے رحمت بنایا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ آپ کی نبوت بھی جملہ عالمین کے لئے ہے اور اس طرح یاد رہے کہ (رحمۃ للعلمین) وہی وجود متر کی ٹھہرے گا ۔ جس کے اہل عالم بلکہ عالم درعالم کی بہبود وسود ‘ رفاہ و فلاح ‘ خیر وصلاح ‘ عروج وارتقاء ‘ صفاوبہا کے لئے بلاشائبہ غرض اور بلا آمیزش طمع اپنی مقدس زندگی کو صرف کیا ہو ‘ جس نے بندوں کو خدا سے ملایا ہو۔ جس نے الہی جلوہ انسانوں کو دکھایا ہو ‘ جس نے دل کو پاک ‘ روح کو روشن ‘ دماغ کو درست ‘ طبع کو ہموار بنایا ہو۔ جس کی تعلیم نے امن عامہ کو مستحکم اور مصلحت عامہ کو استوار کیا ہو ۔ جو غریبی وامیری ‘ جوانی وپیری ‘ امن وجنگ ‘ امید اور ترنگ ‘ گدائی و بادشاہی ‘ مستی وپارسائی ‘ رنج و راحت ‘ حزن ومسرت کے ہر درجہ ‘ ہر پایہ اور ہر مقام پر انسان کی رہبری کرتا ہو۔ جس نے فلک کی بلندی ‘ زمین کی پستی ‘ رات کی تاریکی ‘ دن کی روشنی ‘ سورج کی چمک ‘ جگنو کی دمک ‘ ذرہ کی پرواز قطرہ کی تراوت میں عرفان ربانی کی سیر کرائی ہو ۔ جس کی تعلیم نے درندوں کو چوبانی ‘ بھیڑوں کو گلہ بانی رہزنوں کو جہاں بانی ‘ غلاموں کو سلطانی ‘ شاہوں کو اخوانی سکھائی ہو ۔ جس نے خشک میدانوں میں علم ومعرفت کے دریا بہائے ہوں ۔ جس نے سنگلاخ زمینوں سے کتاب و حکمت کے چشمے چلائے ہوں ‘ جس نے خود غرضوں کو محبت قومی کا درد مند بنایا ہو اور جس نے دشمنوں کو اپنا جگر بند ٹھہرایا ہو ۔ وہ (رحمۃ للعالمین) ﷺ غریب کا محب ‘ مسکین کا ساتھی ‘ شاہوں کا تاج ‘ آقاؤں کا آقا ‘ غلاموں کا محسن ‘ یتیموں کا سہارا ‘ بےآسروں کو آسرا ‘ بےخانمانوں کا ماوی ‘ درمندوں کی دوا ‘ چارہ گروں کا درد مند ‘ مساوات کا حامی ‘ اخوت کا بانی ‘ محبت کا جوہری ‘ اخلاص کا مشتری ‘ صدق کا منبع ‘ صبر کا معدن ‘ خاکسانی کا نمونہ ‘ رحمت ربانی کا پتلا ‘ اولین انسان اور آخرین رسول ﷺ اگر (رحمۃ للعالمین) کے لقب سے ملقب نہ ہوگا تو پھر ان جملہ صفات کے جامع کا اور کیا نام ہوگا ؟ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس نے ملکوں کی دوری ‘ اقوام کی بیگانگی ‘ رنگتوں کا اختلاف ‘ زبانوں کا تباین دور کر کے سب کے دلوں میں ایک ہی ولولہ ‘ سب کے دماغوں مین ایک ہی تصور ‘ سب کی زبانوں پر ایک ہی کلمہ جاری کردیا ۔ ہاں ! (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جو یہودیوں کی طرح نذرومنت کی قبولیت کے واسطے کسی نبی یا غیر نبی کا واسطہ ضروری نہیں ٹھہراتا ، جو عیسائیوں کی طرح آسمان کی کنجیاں شخص واحد کے ہاتھ میں نہیں دیتا ۔ جو روح کو سرگ یا نرگ میں دھکیل دینے کی طاقت صرف برہمنوں ہی کو عطا نہیں کرتا ۔ جو خاص رقبہ کے بندوں کو آسمانی بادشاہت کے فرزند نہیں ٹھہراتا ، جو نسل واحد کے افراد ہی کو خدا کی برگزیدہ قوم نہیں قرار دیتا ۔ جو یہودیوں عیسائیوں ‘ زردشتیوں ‘ برہمنوں ‘ جنیوں اور لاماؤں کی طرح اپنے سوا باقی سب پر رحمت و افضال کے بھر پور خزانے بند نہیں کرتا ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جو بندہ کو خدا کی حضور تک لے جاتا ہے اور اسے (ادعونی استجب لکم) کی قدسی آواز سے آشنا بناتا ہے اور خدا وبندہ کے درمیان کسی تیسرے کے لئے کوئی رخنہ باقی نہیں چھوڑتا ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس کے دربار میں عد اس نینوائی ‘ بلال حبشی ‘ سلمان فارسی صہیب رومی ‘ ضماد ازدی ‘ طفیل دوسی ‘ ذوالکلاع حمیدی ‘ عدی طائی ‘ اثامہ نجدی ‘ ابو سفیان اموی ‘ ابوذر غفاری ‘ ابو عامر اشعری ‘ کر زفہری ‘ ابو حارث مصطلقی ‘ سراقہ مدلجی پہلو بہ پہلو بیٹھے نظر آتے ہیں ‘ اتنی قوموں اور اتنے مختلف الدعاوی سرداروں کا مجمع کسی اور جگہ بھی نظر آتا ہے ؟ ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس کے دربار میں عثمان طلحہ بھی موجود ہے جو کعبہ کا کلید بردار ہونے سے حجازی قوموں میں اس اعزاز کا مالک سمجھا جاتا تھا جو عزت کلیسائے روما کے مسند نشین کو آسمان کے کلید بردار ہونے کی حیثیت سے حاصل ہے ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس کے دربار میں عبداللہ بن سلام بھی موجود ہے جس کے نسب عالی کے سلسلہ کو دیکھو تو یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) تک منتہی ہوتا ہے ، قومی وجاہت پر نظر کرو تو یہود ان بنو قریظہ وبنو قینقاع وبنو نضیر اور خیبر وفدک کا بچہ بچہ انہیں خیرنا وابن خیرنا کہہ کر یاد کرتا ہے فضیلت علمی اور امامت قومی کی بزرگی کا اندازہ کرنا ہو تو سن لو کہ ربیوں اور احبار تک سارے لوگ سیدنا وابن سیدنا کہہ کر ان کو مخاطب کرتے ہیں ‘ یہی بزرگوار دربار محمدی کی صف فعال میں جاگزیں ہے اور دل ہی دل میں یہ کہہ کر خوش ہے کہ ع تیری مجلس میں جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے ۔ اسی دربار میں صرمہ بن انس بھی حاضر ہے جو صحف انبیاء کا عالم ہے جو سوریا اور یروشلم کے متواتر سفر کرچکا ہے اور جس نے تورات وانجیل کو قدیم زبانوں میں پڑھا ہے ‘ دربار ہرقل میں اس کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور دربار حبش میں اس کی کرامتوں کا خوب چرچا ہے ‘ عیسائیان حجاز کا گویا سب سے بڑا بشپ یہی ہے اب وہی (ما المسیح ابن مریم الا رسول) کو بار بار پڑھ رہا ہے اور توحید خالص کے بحر بیکراں میں مستغرق ہے ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس کے دربار میں مسلمان بھی موجود ہے جو فارس کے ایک بڑے زمیندار کا اکلوتا بیٹا ہے جو رزدشتی میں مذہب چھوڑ کر کا ثولی کی عیسائی بنا پھر اطمینان قلب نہ پا کر دین حقہ کی طلب میں ایران سے شام ‘ شام سے عراق ‘ عراق سے حجاز پہنچا تھا اور اب دل وجان کو نبی اعظم وآخر ﷺ کے قدموں کا فرش بنا چکا ہے ۔ کوئی شخص اگر اس سے باپ دادا کا نام پوچھتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ سلمان بن اسلام بن اسلام سبعین مرۃ اس طرح ستربار کہتے چلے جاؤ ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس کے دربار میں انجام کار خالد بن ولید بھی حاضر ہے جو بت پرستی کی تائید اور بتوں کی حمایت میں شجاعت و مردانگی کے جوہر دکھا چکا ہے احد کے میدان میں اسلامی لشکر کو فاش شکست دے چکا ہے ۔ کوئی شخص اگر غور کرے تو وہ ضرور کہے گا کہ نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ فتح کا غرور اور غلبہ کا سرور اس کے ازدیاد و غفلت اور ترقی و رعونت کا سبب بن جائے لیکن رحمت عالم ﷺ کی خاکساری نے اس فاتح کے دل کو بھی فتح کرلیا ہے اور خود ہی کھچا کھچا آتا ہے اور لات وعزی کے توڑنے کی خدمت حاصل کرنے کی التجا کر رہا ہے ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہی ہے جس کے دربار میں شاہ حبش کا عریضہ پیش ہو رہا ہے جو سلطنت چھوڑنے اور حاضر خدمت ہوجانے کی اجازت کا خواستگار ہے اور اسی دربار میں ذوالبجادین موجود ہے جو گھر بار ‘ اہل و عیال چھوڑ کر آیا ہے کمبل کا تہہ بند ‘ کمبل کا کرتہ جس پر ببول کے کانٹوں سے بخیہ گری کی ہے زیب تن ہے فرط شوق اور جوش انبساط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج شاہ کج کلاہ سے اپنے آپ کو برتر سمجھ رہا ہے ۔ بلاشبہ (رحمۃ للعالمین) وہ ہے جو دین و مذہب کے متعلق کل دنیا کو یہ اصول سکھلاتا ہے کہ (آیت) ” لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی “۔ ” دین کے معاملہ میں کسی پر بوجھ نہیں ہے تحقیق ہدایت اور گمراہی میں ظاہر و بارہ امتیاز ہوگیا ہے ۔ “ پھر اسی سلسلہ میں اپنی حیثیت کو کھلے لفظوں میں ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ (ما علی الرسول الا البلغ) ” رسول کا کام لوگوں کو احکام الہی کا سنا دینا ہے اور بس “۔ اور یہ باب اتنا وسیع ہے کہ اس کے لئے بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں صفحات درکار ہیں اس جگہ اس پر اکتفا کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس نبی اعظم وآخر ﷺ کی رحمت اور رافت سے استقاضہ کرتے ہیں ۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

تو کہہ دے مجھ پر جو کچھ وحی کیا گیا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی تنہا معبود ہے پس بتلاؤ تم اس کے آگے سر جھکاتے ہو یا نہیں ؟

نبی رحمت ﷺ کو الوہیت الہی کی وحدت کے اعلان کا حکم : 108۔ یہ وہی دعوت ہے جو سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام نے پیش کی اور اس کا حکم نبی رحمت محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا جو پوری دعوت توحید کی اصل جان ہے اور دعوت اسلام کا اول بھی یہی ہے اور آخر بھی یہی ۔ یہاں بھی یہی حکم ہو رہا ہے کہ ان لوگوں کو خبردار کر دو کہ مجھ پر جو وحی آئی ہے وہ یہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی تنہا معبود ہے اور کوئی اس کا سہیم وشریک نہیں نہ اس کی ذات میں نہ اس کی صفات میں کسی دوسرے پر اعتماد کرکے اپنی عاقبت کو تباہ وبرباد نہ کرو اور یاد رکھو کہ کوئی دوسرا بھی تم کو اس کی پکڑ سے بچا نہیں سکتا ۔ اچھا اب تم بھی تو کچھ بولو ! آیا تم اس قادر وقیوم رب ذوالجلال والاکرام کی توحید کو تسلیم کرتے اور مانتے ہو یا نہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ میرے ذمہ جو کام لگایا گیا تھا میں نے تو اس کو اپنی طرف سے پورا کردیا اب ذمہ داری تمہاری ہے اگر تم لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور اپنے شرکاء وشفعاء پر انحصار کرتے ہوئے میری بات کا مذاق اڑاتے رہے تو میں یقینا اس سے بری الذمہ ہوں اب نتائج کی ساری ذمہ داری تمہارے اپنے سر پر ہے تم اگر صرف اکیلے اللہ پر انحصار کرو گے تو دین و دنیا میں کامیاب ہو گے اور اگر اس کے ماسوا پر انحصار کرو گے تو تباہ و بربادی تمہارا مقدر ہوگی ۔
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دے میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کردیا ہے ، میں نہیں جانتا کہ جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے اس کا وقت قریب آ لگا ہے یا ابھی دور ہے

تم پھرگئے تو میری ذمہ داری ختم ہوئی ‘ رہا میرا اعلان کردہ وعدہ تو اس کا وقت اللہ ہی جانتا ہے : 109۔ میں نے تم سب کو علی الاعلان توحید کا سبق سنا دیا ۔ توحید پر قائم رہنا یا توحید الہی سے انحراف کرکے غیروں پر سہارا کرنا تمہاری اپنی ذمہ داری ہے اگر تم اعراض ہی کی روش پر جمے رہے تو پھر وہ وعدہ جو میں نے اعراض پر جمے رہنے والوں کے لئے سنایا ہے وہ یقینا پورا ہوگا لیکن اس کا وقت کب آئے گا ؟ یہ وعدہ کرنے والے رب کریم نے مجھے نہیں بتایا ۔ یہ وہی جانتا ہے کہ اس کا وقت کب آئے گا ہاں ! میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ یقینا آئے گا اور یہ بات اب بھی کہہ رہا ہوں لیکن اس کے وقت کو میں بھی نہیں جانتا کہ آیا وہ قریب ہے یا ابھی دور ہے اس کا علم اس ذات ذوالجلال والاکرام کو ہے جس کے حکم سے میں تم کو آگاہ کر رہا ہوں اور داعی کا کام یہی ہے کہ وہ دعوت کو اسی طرح پیش کرے جس طرح پیش کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے ۔
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

اللہ کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں جو کچھ پکار کے کہا جاتا ہے وہ بھی اور جو کچھ تم (دِلوں میں) چھپائے ہوئے ہو وہ بھی

رب ذوالجلال والاکرام سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ‘ ظاہر وچھپا سب اس پر عیاں ہے : 110۔ (علام الغیوب) فقط ذات الہ ہے اس کی مکمل تشریح ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم تفسیر سورة المائدہ کی آیت 109 ‘ 116 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اسی طرح (الجھر من القول) کی وضاحت جلد 4 تفسیر سورة الرعد کی آیت 10 میں ملے گی اور اسی طرح جلد دوم میں سورة النساء کی آیت 148 میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ مختصر مطلب اس جگہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو تمہاری ساری باتوں کی اصلیت اور حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں وہ تمہاری کھلی باتوں کو بھی جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ جو تم کھلی باتیں کر رہے ہو اندر اور باہر سے ایک ہو کر کر رہے ہو یا منہ پر کچھ ہے اور تمہارے دلوں میں کچھ لہذا تمہارا معاملہ اسی کے سپرد ہے جو اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا وہ وہی کرے گا ‘ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ تم مجھ سے یعنی رسول اللہ ﷺ سے کیا مطالبہ کر رہے ہو اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تمہارے اس مطالبہ کی تہہ میں کیا پوشیدہ ہے ؟ اگر تم مجھے زچ کرنا چاہتے ہو تو وہ اس وقت ہوگا جب میں تم سے اس کا وقت متعین کر دوں اور پھر وہ اپنے وقت پر جو میں نے تم سے مقرر کیا ہے آنہ جائے جب میں نے کسی وقت کا تعین نہیں کیا اور اس لئے نہیں کیا کہ مجھے وقت کا تعین کر کے بتایا نہیں گیا اور میں اپنی طرف سے نہ کچھ کہتا ہوں نہ اب کہوں گا ‘ وقت کا تعین کرنا نہ کرنا اس رب کریم کے متعلق ہے اور یاد رکھو کہ وہ سارے انسانوں کے دلوں کی پوشیدہ باتوں کو بھی جاننے والا ہے وہ تمہارے مطالبے کو بھی جانتا ہے اور تمہاے مطالبے کے جواب کو بھی اور رہی میری بات تو میں تمہارے مطالبے سے قطعا پریشان نہیں ‘ نہ مجھے پریشان ہونے کی ضرورت ہے مجھے اس کے علم اور اس کی حکمت پر پورا پورا اعتماد ہے اور یہ بات قرآن کریم میں بار بار دہرائی گئی ہے تاکہ لوگ اس حقیقت کو سمجھیں کہ کوئی رسول بھی علم غیب نہیں رکھتا لیکن لوگوں کی پوزیشن آج بھی یہی ہے کہ یہ الفاظ ان پر بہت شاق گزرتے ہیں کہ کوئی رسول غیب نہیں جانتا تھا عوام تو عوام ہمارے علماء کرام یہ لکھتے ہیں کہ ” لوح وقلم کا علم جس میں تمام ماکان ومایکون ہے حضور ﷺ کے علوم سے ایک ٹکڑا ہے “ (خالص الاعتقاد بریلوی ص 38) ایک جگہ تحریر ہے کہ ” حضور ﷺ کے علم انواع میں کلیات ‘ جزئیات ‘ حقائق ودقائق ‘ اعراف ومعارف کہ ذات وصفات الہی کے متعلق ہیں اور لوح وقلم کا علم تو حضور ﷺ کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت سے تو ہے حضور کا علم وحلم تمام جہاں کو محیط ہے ۔ “ (خالص الاعتقاد بریلوی ص 38) ” حضور ﷺ اللہ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات ‘ مخلوقات ‘ ان کے جمیع احوال کو بتمام و کمال جانتے ہیں ‘ ماضی ‘ حال ‘ مستقبل میں کوئی شے کسی حال میں ہو حضور ﷺ سے مخفی نہیں “۔ (تسکین الخواطر احمد سعید کا ظمی ص 65) یہ علمائے کرام کے ارشادات ہیں اور زیر نظر آیت جو کچھ کہہ رہی ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے فیصلہ خود فرمالیں اور آنے والی آیت کے مضمون پر بھی نگاہ رکھیں ۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور مجھے کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ اس (تاخیر) میں تمہارے لیے آزمائش رکھ دی گئی ہو اور مقررہ وقت تک زندگی کا لطف اٹھالو

میں نہیں جانتا کہ اس میں تمہارے لئے کیا آزمائش رکھی گئی ہے : 111۔ فرمایا جو کچھ تم کر رہے ہو یہ علم الہی میں بہرحال موجود ہے ، تاخیر وعدہ اس لئے نہیں کہ وعدہ متعین نہیں تاہم تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے تمہیں ابھی پکڑ کیوں نہیں لیا جا رہا ہے ؟ میں نہیں جانتا کہ اس میں کیا حکمت الہی ہے ؟ ہاں ! بلاشبہ یہ تمہارا امتحان ہے اس لحاظ سے کہ شاید یہ ایمان لے آئیں یا تم ہی میں سے ایسے لوگ بھی ہوں جو ایمان لانے والے ہوں اگر ایسا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ظہور رحمت ہے اور اگر یہ عارضی مہلت اس اعتبار سے ہے کہ تمہاری غفلت اور بڑھتی جائے اور تحقیق عذاب کے اسباب اور بڑھ لیں تو بلاشبہ یہ ظہور قہر ہے ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی زبان اقدس سے یہ کہلایا جارہا ہے کہ مجھے ان مصالح تکوینی کا کوئی علم نہیں ۔ ہاں تم کو ایک مہلت دی جا رہی ہے اور تم اس سے فائدہ اٹھاتے جاؤ اس وقت تک جو علم الہی میں متعین ہے ۔ (لعلہ) کی ضمیر میں مرجع وہ وعدہ ہے جس کا اشارہ گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے یعنی وہ عذاب کا وعدہ جس کا معین وقت نبی اعظم وآخر ﷺ کو نہیں بتایا گیا اور آپ ﷺ نے یہی اعلان فرمایا کہ اس فرمایا کہ اس وعدہ کا متعین وقت مجھے نہیں بتایا گیا لیکن علم الہی میں یقینا وہ موجود ہے ۔ اور زیر نظر آیت میں فرمایا کہ اس میں تمہارے لئے ایک طرح کا فائدہ رکھا گیا ہے اگر تم اس کو حاصل کرنا چاہو ؟
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

خدایا ! اب سچائی کے ساتھ فیصلہ کر دے اور ہمارا پروردگار تو { الرحمن } ہے اس سے مدد مانگی گئی ہے جیسی کچھ باتیں تم بنا رہے ہو

آیت زیر نظر آپ کی دعا بھی ہے اور مخالفین کے لئے وداع بھی : 112۔ اب نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ اس طرح کہیں کہ ” اے میرے رب ! تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے “ تاکہ یہ کشمکش ختم ہو اور آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ﷺ مخالفین کو مخاطب کرکے یہ ارشاد فرما دیں کہ ” اے لوگو ! تم جو باتیں بناتے ہو ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمن ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے ۔ “ اور یہ بلاشبہ مخالفین کو وداع کا طریقہ ہے جو آپ ﷺ کو بتایا گیا اور جس کی ذمہ داری اس کی طرف ان کو توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ مستعان حقیقی وہی ہے اور اس سے ان اندھوں یعنی نہ ماننے والوں کے لئے فیصلہ طلب کیا گیا ہے کیونکہ سب کا فیصلہ اس کے دست قدرت میں ہے اور اسی مضمون پر سورة الانبیاء کا اختتام ہورہا ہے فالحمد للہ علی ذلک ۔ عبدالکریم اثری : ٹھٹہ عالیہ 17۔ دسمبر 1996 ء :