21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس عورت کا معاملہ جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی (یعنی نکاح کیا) پس ہم نے اپنی روح اس میں پھونک دی اور اس کو اور اس کے بیٹے کو تمام دنیا کے لیے ایک نشانی بنا دیا

سیدہ مریم کا بغیر نام لئے ذکر فرمایا کہ اس نے عصمت کی حفاظت کی اور رواج کو توڑ کر رکھ دیا : 91۔ وہ عورت جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی وہ کون تھی ؟ وہ سیدہ مریم بنت عمران تھی جو سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھی جس نے قوم کے رواج کے خلاف قدم اٹھایا اور اس دلیری سے اٹھایا کہ قوم دیکھتی کی دیکھتی ہی رہ گئی اور اس نے قومی نظریہ کے خلاف اللہ تعالیٰ کے قانون کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا ۔ سیدہ مریم منذورہ تھیں اور یہود کے رواج کے مطابق جو مرد و عورت ہیکل کی نذر کی جاتی شادی اس کے لئے ممنوع قرار دی گئی تھی لیکن یہ بات موسوی شریعت کی نہ تھی بلکہ قومی رواج تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی اس بندی کو وہ قوت ہمت عطا فرمائی کہ اس نے زکریا (علیہ السلام) کے کہنے کے مطابق اس قومی رواج کو توڑنے کی ہمت کی اور شادی کرلی اور اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مناقب میں یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” التی احصنت فرجھا “۔ وہ عورت جس نے قانون الہی کے پیش نظر اپنی شرمگاہ کی حفاظت کے لئے شادی کی اور اس کو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا کرنے کی خوشخبری سنائی اور پھر وہ مبشر بیٹا عطا فرمایا تو اس کے متعلق جو کچھ پیش گوئی میں بتایا گیا تھا حرف بہ حرف پورا کیا ۔ مفسرین نے (فرجھا) سے مراد فرج القمیص مراد لیا اور پھر یہ بتایا کہ قمیص کے چار چاک ہوتے ہیں نیچے ‘ اوپر ‘ دائیں اور بائیں لہذا انہی چار چاکوں میں سے کسی چاک میں جبریل نے پھونک لگائی جس سے وہ حاملہ ہوگئیں ، یہ انہوں نے کہاں سے لیا ‘ انہی سے پوچھ لیا جائے ہمیں تو کوئی کچھ نہیں بتاتا الا یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پیچھے سے یوں ہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور پیچھے سے جو انہوں نے پڑھا ہے اس میں کہیں نبی اعظم وآخر ﷺ کا نام نہیں آتا کہ آپ ﷺ نے احصنت فرجھا کے کہیں یہ معنی ارشاد فرمائے ہوں ۔ ہاں ! ہم نے جو پڑھا اس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کے بالکل یہی الفاظ کی زبان اقدس سے سیدہ فاطمہ کے متعلق پڑھے کہ آپ نے فرمایا ان فاطمہ احصنت فرجھا واللہ عزوجل ادخلھا باحصان فرجھا وذریتھا الجنہ “ (مجمع الزوائد ج 6 ص 202 ‘ کنز العمال ج 6 ص 219) اور ایک جگہ آپ نے ارشاد فرمایا ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحرمھا اللہ وذریتھا علی النار (مستدرک حاکم ج 2 ص 152 ‘ خصائص کبری ج 4 ص 202 رحمتہ المھداہ ص 321 بحوالہ حلیہ ابو نعیم عبداللہ بن مسعود ؓ سے مرفوعا) ہم نے نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد اس طرح بھی پڑھا کہ ” ایھا امراۃ اتقت ربھا وحفظت فرجھا فتحت لھا ثمانیہ ابواب الجنۃ فقیل لھا ادخلی من حیث شئت (درمنثور ج 5 ص 343 بحوالہ طبرانی بسند حسن عن ابی ہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اذا صلت المراۃ خمسھا وصامت شھرھا وواحصنت فرجھا و اطاعت زوجھا قیل لھا ادخلی الجنہ من ای ابواب اجنہ شئت (ابن حبان ‘ کنز العمال ج 8 ص 269) چناچہ قرآن کریم کی نظر میں محصنہ کے معنی یہ ہیں : محصنۃ واحد ، محصنۃ اسم فاعل مؤنث احصان مصدر ، پاکدامن عورت ، شادی شدہ عورت ‘ عفیفہ دوشیزہ اور یہ بھی کہا گیا ہے ہے کہ پاکدامن عورت کو محصنۃ اور محصنۃ (اسم مفعول) شوہر والی عورت کو کہا جاتا ہے گویا ہر پاکدامن عورت اور شادی شدہ عورت کو بھی کہا جاتا ہے اور کسی اولاد والی عورت کو محصنۃ اس صورت میں کہا جاسکتا ہے جب اس کی شادی ہو اور جس مرد سے اس کا نکاح ہوا ہو اس سے اس کی اولاد پیدا ہوئی ہو تو اس کے محصنۃ ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ وہی صحیح معنوں میں قرآن کریم کی زبان میں محصنہ ہوتی ہے جیسا کہ سورة النساء کی آیت 24 میں (آیت) ” والمحصنات من النسآء “ میں بیان کیا گیا ہے کہ تم پر وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو شادی شدہ ہوں ۔ جس کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے احصنت فرجھا کے الفاظ سے فرمائی اور اس کی تشریح مزید نسخہ میں کریں کے الفاظ سے فرمائی گئی ۔ زیر نظر آیت ایک دوسری جگہ بھی قرآن کریم میں بیان ہوئی جہاں ارشاد فرمایا گیا کہ : (آیت) ” ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا وصدقت بکلمت ربھا وکتبہ وکانت من القنتین “۔ (التحریم 66 : 12) اور عمران کی بیٹی مریم (کی مثال پر غور کرو) جس نے (نکاح سے) اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے (نکاح کرکے) اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں تھی ۔ سورة الانبیاء کی آیت میں (التی احصنت فرجھا فنفخنا فیھا) فرمایا اور تحریم کی آیت میں (التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ) فرمایا گیا یعنی ضمیر مذکر کیوں لائی گئی ؟ اس کا بیان انشاء اللہ العزیز سورة التحریم ہی میں ہوگا ۔ اس جگہ فقط ایک حدیث پر نظر رکھیں اور غورکریں : عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ ان خلق احدکم یجمع فی بطن امہ اربعین یوما نطفۃ ثم یکون علقۃ مثل ذلک ثم یکون مضغۃ مثل ذلک ثم یبعث اللہ الیہ ملکا باربع کلمات فیکتب عملہ واجلہ ورزقہ وشقی اوسعید ثم ینفخ فیہ الروح (بخاری ومسلم) رہا احصان کے معنی شادی شدہ ہونے کے تو وہ احادیث میں عام ہے اور خود رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے نکلا ہے جس کی مثالیں بیشمار ہیں یہاں چند ایک ملاحظہ کرلیں : 1۔ جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا جو زنا کا مرتکب ہوا تھا اس نے آکر ارتکاب جرم کا اقرار کیا اور چار بار آپ ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں اس جرم کا مرتکب ہوا وکان قد احصن اور وہ آنے والا شخص شادی شدہ تھا ۔ (صحیح بخاری ص 350 پارہ 28 ‘ معانی الاثار طحاوی ج 2 ص 79) 2۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا زنیت یا رسول اللہ ﷺ فاعرض عنہ حتی ردد علیہ اربع مرات ” یارسول اللہ ﷺ میں زنا کا مرتکب ہوا اور آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا یہاں تک کہ اس نے چار بار ایسا کہا اس کی بات سن کر آپ ﷺ نے فرمایا ابک جنون کیا تو دیوانہ ہے ؟ اس نے کہا اس بات کا بھی جواب دیا کہ لا میں دیوانہ نہیں ہوں ۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فھل احصنت کیا تو شادی شدہ ہے ؟ تو اس نے جوابا عرض کیا نعم یا رسول اللہ ﷺ میں شادی شدہ ہوں ۔ (صحیح بخاری ص 362 پارہ 28 ‘ صحیح مسلم ص 66 ج 2 ‘ ابو داؤد ج 4 ص 356) یہی روایت حضرت جابر ؓ سے بھی مروی ہے حوالہ ایضا۔ 3۔ ابوہریرہ ؓ سے اسی مضمون کی ایک روایت مروی ہے جس میں آپ ﷺ نے اقرار کرنے والے سے اس طرح دریافت فرمایا کہ ھل احصنت کیا تو شادی شدہ ہے اور مزید یہ بھی استفسار فرمایا کہ کیا تو نکاح کے بعد صحبت بھی کرچکا ہے ؟ تو اس نے اقرار کیا ۔ (بخاری کتاب المحاربین ص 363) 4۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حق علی من زنی وقد حصن اذا قامت البینہ لازم بخاری ص 362 پارہ 28 ‘ صحیح مسلم ج دوم ص 65 ‘ ابو داؤد ج دوم ص 251 ‘ ترمذی 322 ج 3 ‘ ابن ماجہ ج 2 ص 186 ‘ دارمی 303 ‘ موطا امام مالک ج 3 ‘ موطا امام محمد 296 ‘ ام امام شافعی ج 6 ص 431 ‘ مشقی ابن الجارود 273 ‘ بیہقی ج 8 ص 211 ‘ مسند امام احمد وغیرہ) 5۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ من احصن منھم ومن لم یحصن شادی شدہ یا غیر شادی شدہ حد دونوں طرح کے انسانوں پر قائم ہوگی ۔ (صحیح مسلم ج 2 ص 71) 6۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قدم رسول اللہ ﷺ ال مدینہ وقد زنی رجل بعد احصانہ بامراۃ من الیھود وقد احصنت الحدیث رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک مرد کو لایا گیا جو شادی شدہ تھا اور شادی کے بعد اس نے ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرلیا جو یہود سے تھی ، اس طرح کے بیسیوں نہیں سینکڑوں حوالے کتب احادیث سے پیش کئے جاسکتے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ احصنت کے معنی تزوجت یعنی شادی کرنے یا شادی ہو چکنے کے ہیں ، تفصیل اس کی پیچھے سورة مریم میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔ اس شادی کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے مریم کو عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا اور دونوں ماں بیٹا کو پوری دنیا کے لئے ایک نشانی بنا دیا ۔ ماں تو اس لئے نشانی ٹھہری کے اس نے قومی رواج کو جو غلط طریق سے قوم میں رواج پا گیا تھا کہ منذور اور منذورہ کی شادی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان سے کوئی دنیا کا کام لیا جاسکتا ہے ٹھکرا دیا اللہ کے بتائے گئے طریقہ کے مطابق کتب آسمانی کا احترام کرتے ہوئے شادی کی جس سے پوری قوم مشتعل ہوگئی پھر نکاح کے بعد کچھ عرصہ تک ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا جس کی وضاحت پیچھے گزر چکی اور جس کا ذکر بیٹے کی خوشخبری دینے والے فرشتہ سے سیدہ مریم (علیہ السلام) نے ” لم یمسسنی بشر “ کے الفاظ سے کیا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ نے یہ جواب سنایا کہ (آیت) ” ربک ھو علی ھین “۔ تیرے رب پر وہ بات بالکل آسان ہے کہ جس کی تجھے شکایت ہے وہ رفع ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی بات ہو کر رہے گی اس لئے کہ جس کام کا اللہ ارادہ کرتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اس کے نہ ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا اور خوشخبری میں بیٹے کے سارے نشانات بتا دیئے گئے کہ تیرا بیٹا ایسا ایسا ہوگا پھر جب وہ موعود بیٹا اللہ نے مریم ؓ کو عطا کیا تو فی الواقعہ ایسا ہی تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مریم کو اطلاع دی اس لئے وہ موعود ہونے اور اعلان کے مطابق ان صفات کا حامل ہونے کے باعث نشان ٹھہرا اور زیر نظر آیت میں دونوں کو نشانی بتایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اس طرح دونوں ماں بیٹا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی تھی ۔ اکثر لوگ یہ اعتراض بھی اٹھاتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ نذر مانے گئے مرد اور عورتوں کی شادی یہود کے ہاں منع بتائی جاتی تھی یہ سب جھوٹ ہے اور ان لوگوں کی خود ساختہ بات ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ یہ بالکل غلط بات ہے تاریخ وسیر کی کتابیں اس کی پوری پوری وضاحت کرچکی ہیں چناچہ مفسرین نے خود بھی اس بات کا اقرار کیا ہے جیسا کہ ” محررا “ (آل عمران) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ معتقا لخدمت بیت المقدس لا یدلی علیہ ولا استخدمہ ولا اشغلہ بشئی او خالصا للہ ولعبادتہ لا یعمل عمل الدنیا ولا یتزوج فیتفرغ لعمل الاخرہ وکان ھذا المنذر مشروعا عندھم لان الامر فی دینھم ان الولد اذا صار بحیث یمکن است خدا مہ کان یجب علیہ خدمت الا بوین فکانوا بالنذر ترکوا ذلک النوع من الانتفاع ویجعلون ھم محورین لخدمہ المسجد (روح البیان) اور ابن جریر میں بھی اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ منذوروں سے کوئی دنیوی کام نہیں لیا جاتا تھا وہ دینی خدمات پر وقف اور منذور ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے شادی سے محروم ہوجایا کرتے تھے اور عام لوگوں کی طرح گھریلو زندگی بسر کرنا ان کے لئے سخت منع ہوجایا کرتی تھی ۔ شاہ عبدالقادر (رح) موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ : ” اس امت میں یہ بھی دستور تھا کہ بعض لوگ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اپنی خوشی سے دنیا کے کاروبار سے آزاد کرکے اللہ تعالیٰ کی نیاز کرتے تھے ۔ “ مولانا وحید الزمان تفسیر وحیدی میں رقم طراز ہیں کہ ” اس امت میں دستور تھا کہ بعضے لوگوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کرکے پھر تمام عمران کو دنیا کے کاموں میں نہ لگاتے وہ ہمیشہ گرجا میں رہتے اور وہاں ہی خدمت اور مجاوری کرتے نصاری میں ابھی بھی اس کا رواج ہے وہ مردوں کو مانک اور عورتوں کو نن کہتے “ اس بات کا ذکر تفصیل کے ساتھ البدایہ والنہایہ ج 2 ص 641 پر ابن کثیر (رح) نے بھی کیا ہے ۔ یہ برا رواج آج بھی دنیا کی بہت سی قوموں میں کسی نہ کسی رنگ میں پایا جاتا ہے جس کے اثر سموم سے آج بھی مسلمان نہیں بچے بلکہ ان میں ملنگ اور ملنگنیاں دیکھے جاتے ہیں جو اکثر درباروں اور خانقاہوں پر کام کرتے نظر آتے ہیں ۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تم سب کی امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تم سب کا پروردگار ہوں ، پس چاہیے کہ میری بندگی کرو

سارے انبیاء ورسل ایک ہی امت وجماعت تھے سب اللہ کی بندگی کرتے تھے : 92۔ تمام انبیاء ورسل کا مختصر ذکر کرنے کے بعد بطور خلاصہ ارشاد فرمایا کہ ” بلاشبہ تم سب کی امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تم سب کا پروردگار ہوں “ اس سے یہ بات واضح کردی کہ اصل دین شروع سے لے کر آج تک ایک ہی چلا آرہا ہے اور فروعات کا اختلاف قدرتی ہے جس کو رہنا ضروری ہے اور یہ کہ اصولوں میں اختلاف شروع سے آج تک نہیں ہوا لیکن لوگوں نے اصولوں اور فروعات کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی اور جب یہ رسل وانبیاء سب ایک امت ہیں تو ان کی ساری قومیں کیونکر ایک امت نہ ہوں گی لیکن افسوس یہ کہ جن لوگوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی آج وہی اس کے خلاف کرنے میں پیش پیش ہیں اور وہ مسلمان کہلانے کے باوجود ایک امت اور ایک جماعت بننے کے لئے تیار نہیں اور جب تک ان کی اختیار کردہ گروہ بندی کا نام نہ لیا جائے وہ فقط مسلمان کہلانے کے لئے تیار نظر نہیں آتے پھر تعجب بالائے تعجب یہ کہ ہر گروہ دوسرے گروہ کو مسلمان تصور کرنے کے لئے تیار نہیں یہی بات آئندہ آنے والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے بشرطیکہ کوئی غور کرنے کے لئے تیار ہو ۔ تفصیل کے لئے دیکھو تفسیر عروۃ الوثقی میں سورة البقرہ آیت 130 تا 133 ‘ آل عمران 19 ‘ 20 ‘ 33 ‘ 34 ‘ 64 ‘ 79 تا 85 ‘ النساء 150 تا 152 ‘ الاعراف 59 ‘ 65 ‘ 85 ‘ سورة یوسف 37 تا 40 ‘ مریم 49 تا 59 وغیرہ ۔ اس آیت پر ذرا مزید رک جاؤ کیونکہ یہ تمام تذکرہ کا خلاصہ ہے جو انبیاء کرام کا اوپر گزر چکا ہے یعنی اللہ کے یہ تمام رسول جو مختلف اور قوموں میں ظاہر ہوئے ان سب کی دعوت کا ماحصل کیا تھا ؟ انہوں نے نسل انسانی کے مختلف عہدوں اور گروہوں کو کس بات کا پیغام پہنچایا ؟ وہ بات ایک ہی تھی یا ایک سے زیادہ ؟ یہ آیت اپنے نپے تلے لفظوں میں جواب دیتی ہے کہ ان سب کا پیغام ایک ہی تھا اور وہ یہی تھا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون “۔ تم سب ایک ہی امت ہو تم سب کا پروردگار ایک ہی ہے ‘ پس الگ الگ نہ ہو ‘ اس کی بندگی کرو (آیت) ” وتقطعوا امرھم بینھم “۔ لیکن قوموں نے یہ تعلیم بھلا دی اور اپنے دین کا معاملہ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا یعنی ایک ہی دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سے دین بنا لئے اور ہر گروہ دوسرے گروہ سے کٹ کر الگ ہوگیا ۔ وحدت کی جگہ تفرقہ اور اجتماع کی جگہ اشتات ان کا شعار ہوا (آیت) ” کل الینا راجعون “۔ مگر بالآخر سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے اس وقت حقیقت حال آشکارا ہوجائے گی ۔ ہر گروہ دیکھ لے گا کہ اس کی حقیقت فراموشیوں نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ؟ سبحان اللہ ! قرآن کریم کی یہ معجزانہ بلاغت کہ ایک چھوٹی سی آیت کے اندر اس معاملہ کے سارے دفتر کس طرح سمیٹ دیئے ہیں ؟ پھر صرف امر وخبر ہی نہیں ہے بلکہ ترتیب بیان نے خود بخود استدلال کی روشنی بھی پیدا کردی ہے : 1۔ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “۔ تم نے کتنے ہی تفرقے پیدا کر رکھے ہیں مگر تمہاری امت اصلا ایک ہی امت ہے ۔ 2۔ (آیت) ” وانا ربکم “۔ اور میں ہی تم سب کا تنہا پروردگار ہوں میرے سوا کوئی نہیں ہے ۔ 3۔ (آیت) ” فاعبدون “۔ جب تمام نوع انسانی ایک ہی امت ہوئی اور سب کا پروردگار بھی ایک ہی ہوا تو پھر سب کے لئے بندگی ونیاز کی چوکھٹ بھی ایک ہی کیوں نہ ہو ؟ ایک سے دو کیوں ہو ؟ پس اس ایک کی بندگی کرو کیونکہ تم سب ایک ہی ہو اور ایک ہی کے لئے ہو ۔ یہاں ایک کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں ہے ! پھر غور کرو کہ (فاعبدون) کی ”“ یہاں کس طرح بول رہی ہے ؟ کس طرح اس نے استدلال کا پہلو پکار دیا ہے ؟ اس طرح ایک آیت کے اندر تینوں توحیدوں کا بیان جمع ہوگیا۔ توحید امت ‘ توحید ربوبیت ‘ توحید دین و عبادت اور یہی تین توحیدیں دعوت قرآنی کا اصل الاصول ہیں وہ ہر جگہ انہی کی صدا بلند کرتا ہے اور انہی پر اپنی تعلیم وتذکیر کی ساری بنیادیں استوار کرتا ہے ۔ توحید امت سے مقصود کیا ہے ؟ توحید امت سے مقصود یہ ہے کہ افراد انسانی کی کثرت و انتشار کے پردے میں اس کی دعوت چھپی ہوئی ہے اسے مت بھولو ۔ تمہاری نسل ‘ تمہارا وطن ‘ تمہاری بولیاں کتنی ہی الگ الگ ہوگئی ہوں مگر تم سب ایک نسل انسانی کا گھرانا ہو اور تمہارا اگر وہ اصل میں ایک ہی گروہ ہے ۔ توحید ربوبیت سے مقصود یہ ہے کہ تم نے کتنے ہی مختلف نام رکھ لئے ہوں ‘ کتنی ہی مختلف عبادت گاہیں بنا رکھی ہوں ‘ کتنے ہی مختلف تصور گھڑ لئے ہوں مگر تمہارے پیدا کئے ہوئے اختلاف سے حقیقت مختلف نہیں ہوسکتی جس طرح تم سب کا گروہ ایک ہی ہے اسی طرح تمہارا پروردگار بھی ایک ہی ہے ۔ اس ایک کے سوا اور کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ۔ توحید عبادت سے مقصود ہے کہ جب گروہ ایک ہی گروہ ہے اور پروردگار ایک ہی پروردگار ہے تو دین بھی ایک ہی ہونا چاہئے وہ ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتا ۔ پس سچائی کی راہ یہ ہوئی کہ اسی ایک کی بندگی کرو اور اس راہ میں مختلف اور متفرق نہ ہوجاؤ ۔
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

مگر لوگوں نے آپس میں اختلاف کر کے اپنے دین کے ٹکڑے کر ڈالے ، سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے

افسوس ! لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے آخر سب کو لوٹ کر ایک ہی طرف جانا ہے : 93۔ غور کرو کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک قرآن کریم نے بیسیوں دعوتوں کا نام بہ نام ذکر کیا اور ان سب دعوتوں کو ایک ایک کرکے دیکھتے جاؤ اور بتاؤ کہ یہ سب توحید اور عقیدہ آخرت کی تعلیم دیتے رہے ہیں یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ ہر ایک نے یہی دعوت دی تو اس پر قیاس کرلو باقی رسولوں اور نبیوں نے بھی یقینا یہی دعوت دی خواہ وہ دنیا کے کسی خطہ میں پیدا ہوئے اور دنیا کی کسی قوم نے ان کو مانا اور یہ بھی کہ جن کی تعلیم نہ ہوگی یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول و نبی نہیں ہوں گے ۔ اس سے لامحالہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوع انسانی کا اصل دین یہی اسلام ہے اور دوسرے تمام مذاہب جو آج پائے جاتے ہیں وہ اس کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں جو اس کی بعض صداقتوں کو مسخ کر کے اور اس کے اندر بعض من گھڑت باتوں کا اضافہ کر کے بنائی گئی ہیں ، ظاہر ہے کہ اب اگر غلطی پر ہیں تو وہ لوگ ہیں جو ان مذاہب کے گرویدہ ہو رہے ہیں نہ وہ جو ان کو چھوڑ کر اصل دین کی طرف بلا رہا ہے لیکن بلاشبہ وہ لوگ جو اس کی تعلیم کے ساتھ وابستہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں ان میں بھی کمزوری بدرجہ اتم موجود ہے اور وہ سب مل کر ایک امت بننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ساری قوموں کے لوگوں کا اس دنیا میں آنے کا طریقہ صرف اور صرف ایک ہے اور یہاں سے جانے کا طریقہ بھی بلاشبہ ایک ہی جیسا ہے اور پھر مر کر جہاں پہنچنا ہے وہ بھی سب کے لئے علیین وسجین کا مقام ایک ہی ہے اس لئے جہاں جہاں اور جو جو اختلاف پایا جاتا ہے سب لوگوں کا اپنا بنایا ہوا ہے دین اسلام نے جو طریقہ اپنایا ہے وہی اصل ہے جو شروع سے آسمانی ادیان میں چلا آرہا ہے اور یہی بات دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمائی کہ : ” اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں ‘ پس مجھ ہی سے تم ڈرو۔ مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اس میں وہ مگن ہے اچھا تو چھوڑا نہیں یہ ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک “ (المومنون 23 : 52 تا 54)
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پس جس کسی نے نیک کام کیے اور وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کی کوشش اکارت جانے والی نہیں ، ہم اس کی نیکیاں لکھ لینے والے ہیں

اللہ پر ایمان لانے کے بعد نیک عمل کرنے والوں کے کبھی اعمال ضائع نہیں ہوں گے : 94۔ پھر اس ایک ہی آیت کے اندر صاف واضح کردیا کہ نجات وسعادت کا قانون کیا ہے ؟ یعنی قوموں کے اس تقطع اور گروہوں کے اس تفرق کے بعد بھی قانون نجات وسعادت کیا ہے ؟ فرمایا وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی یہی ہے کہ (آیت) ” فمن یعمل من الصالحات وھو مؤمن فلا کفران لسعیہ “۔ نجات کی شرط صرف دو باتیں ہیں ایمان اور عمل صالح جس انسان نے نیک عمل کئے اور اس کے اندر ایمان بھی ہوا تو اس کی سعی کبھی رائیگاں جانے والی نہیں ضروری ہے کہ مقبول ہو فمن کے زور پر غور کرو یہودی کہتے تھے کہ ” کونوا ھودا “ اور نصاری کہتے تھے ” کو نو نصاری “ قرآن کریم کہتا ہے نہیں (آیت) ” فمن یعمل من الصالحات وھو مؤمن “۔ کوئی ہو لیکن اگر وہ مومن ہو اور اس نے نیک عمل کی راہ اختیار کی تو اس کا ایمان وعمل کبھی ضائع نہیں ہو سکتا وہ اپنا اجر ضرور پائے گا (وانا لہ کاتبون) یہ ہمارا ٹھہرایا ہوا قانون ہے ہم اس کا ایمان وعمل لکھ دینے والے ہیں پھر کون ہے جو اسے رائیگاں ٹھہرا سکتا ہے ؟ دنیا کا ہر انسان ٹھہرا دے لیکن ہمارے دفتر میں وہ ثبت ہوجائے گا ۔ مضمون کی اہمیت کے لئے یہ سطریں کافی نہیں ہیں لیکن اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے ۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس آبادی کو ہم نے (ایک بار) ہلاک کردیا تو اس کے لیے ممکن نہیں کہ اس کے لوگ کبھی لوٹنے والے ہوں

ہماری طرف سے جب ہلاکت کا حکم آجائے تو وہ کبھی واپس نہیں ہوتا : 95۔ زیر نظر آیت میں مرنے والوں کے متعلق فیصلہ موت ہو چکنے کے بعد واپس نہ ہونے کا قانون بیان کیا گیا ہے فرمایا جس آبادی کے لئے ہم نے ہلاکت ٹھہرا دی تو اس کے لئے ممکن نہیں کہ اس فیصلہ کو کسی کے لئے روک دیا جائے یا فیصلہ صادر ہو چکنے کے بعد کبھی وہ دوبارہ لوٹایا جاسکے خواہ وہ ایک انسان ہو یا ایک قوم یا ایک بستی یا ایک علاقہ کے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہوں جب وہ ایک بار ہلاک کردیئے گئے تو اب دوبارہ پیدا ہو کر کے یا زندہ کرکے اس دنیا میں نہیں لائے جاسکتے کیونکہ یہ قانون الہی کے خلاف ہے اور یہ بات طے ہے کہ اپنے قانون کے خلاف اللہ تعالیٰ کبھی نہیں کرتا مرنے والوں کو اب قانون کے مطابق زندہ کرکے میدان حشر ہی میں لایا جائے گا جہاں ان کو اس دنیوی زندگی میں کئے گئے اعمال کی جزا ملے گی نئے اعمال کا وقت نہیں دیا جائے گا ۔ اس کی تشریح اس سورت کی آیت 6 میں کی گئی ہے وہاں ایک بار نظر ڈال لیں ۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

جب وہ وقت آجائے گا کہ یاجوج اور ماجوج کی راہ کھل جائے گی تمام بلندیوں سے وہ دوڑتے ہوئے اتر آئیں گے

یاجوج ماجوج کا غلبہ قیامت کے آثار میں سے ہے ؟ ۔ 96۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے یاجوج ماجوج دو قبیلے ہیں۔ مشرق ومغرب میں دو پہاڑوں میں یہ محصور ہیں نہ تو پہاڑوں پر چڑھنے اترنے کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی پہاڑوں کے اندر سے باہر آنے کا کوئی راستہ ۔ صرف ان پہاڑوں کے جنوب میں سمندر کی طرف کا راستہ تھا ذوالقرنین نے وہاں لوہے کی ایک بہت بڑی دیوار بنا دی ہے اور یہ یاجوج ماجوج ان پہاڑوں کے اندر محصور ہیں اور اس آہنی دیوار کے توڑنے پھوڑنے میں رات دن لگے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس دیوار کی حفاظت فرما رہا ہے قرب قیامت میں جب اللہ چاہے گا تو یاجوج ماجوج اس دیوار کو توڑ دیں گے اور زمین پر مکڑی کی طرح ایسے پھیل جائیں گے کہ جہاں چاہیں گے قتل و غارت ‘ لوٹ مار اور مار دھاڑ کریں گے اور جدھر کا رخ کریں گے کھانے پینے حتی کہ نباتات کا بھی صفایا کرتے جائیں گے ۔ یہ اختصار ہے ان کہانیوں کا جو اس سلسلہ میں گھڑی گئیں اور اب ہماری تفسیروں اور سیرت کی کتابوں اور علامات قیامت کے بارے میں تحریر شدہ لٹریچر میں آچکی ہیں ۔ ہم سورة کہف کی آیت 98 ‘ 99 میں اس کے متعلق بیان کرچکے ہیں وہاں سے تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان کے جس خروج کی خبر دی گئی ہے یہ ان کا آخری خروج تھا یعنی منگولی تاتاریوں کا وہ خروج جو چھٹی صدی ہجری میں منگولیا کی بلندیوں سے امنڈا اور پھر آنا فانا تمام مشرق ومغرب پر چھا گیا ، مشرق میں چین کی تمام مملکت اس نے مسخر کرلی ‘ مغرب میں بحراسود کے شمالی ساحل سے گزرتا ہوا چھ صدیوں کے اندر اسلامی تمدن نے جو کچھ تعمیر کیا تھا جیحون سے لے کر دجلہ تک چشم زدن میں پامال کردیا وکان وعدا مفعولا۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچے وعدہ کی گھڑی قریب آجائے گی تو اس وقت اچانک ایسا ہوگا کہ لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ان لوگوں کی آنکھیں جنہوں نے انکار کیا تھا ، افسوس ہم پر ! ہم اس سے غفلت میں رہے بلکہ ہم ظلم و شرارت میں سرشار تھے

اوپر قرب قیامت کا ذکر تھا اب قیامت کا ذکر کیا جا رہا ہے : 97۔ قیامت کیا ہے ؟ اس کا جواب قبل ازیں کئی بار دیا جا چکا ہے کہ دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک نیا نظام چلانے کا نام قیامت ہے لیکن ایک انسان جب اور جس دور میں بھی اس دنیا میں پیدا ہوا اور اپنا مقررہ وقت پورا کر کے چلتا بنا اس کی قیامت تو گویا قائم ہوگئی کیونکہ اس دنیا کے نظام میں اس کو دوبارہ نہیں لایا جائے گا بلکہ وہ عالم برزخ میں ہے اور اس وقت تک وہیں رہے گا جب تک اس نظام کو مکمل طور پر بدل نہ دیا جائے جس کا نام دارالعمل ہے اور آنے والے نظام کا نام اسلام کی نگاہ میں دارالجزاء رکھا گیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ جس وعدہ قیامت کو بہت دور کی بات سمجھ رہے ہیں وہ بہت دور کی نہیں بلکہ اس کے ظہور کا وقت تو بہت قریب ہے دوسری جگہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ (آیت) ” انھم یرونہ بعیدا ونرنہ قریبا) یہ لوگ اسے دور سمجھے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں (المعارج 70 : 7) کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ یہ جس کو ایک سال گتنے ہیں ہمارے ایسے ایک ہزار برس گزر جائیں اور بعض اوقات پچاس ہزار سال گزر جائیں تو ایک دن کی مدت پوری ہوتی ہے ‘ اب خود غور کرلیں کہ ان کو ہم نے جو کل زندگی دی ہے وہ کتنی ہے ؟ گویا اگر کوئی بہت دیر زندہ رہا تو ایک دن کا سواں حصہ یا اس سے بھی کم اس لئے یہ لوگ اپنے ذہن اور اپنے دائرہ فکر ونظر کی تنگی کے باعث اللہ تعالیٰ کے معاملات کو اپنے وقت کے پیمانوں سے ناپتے ہیں اور انہوں سو پچاس برس کی عمر بھی بڑی معلوم ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایک اسکیم ہزار ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے اور پھر یہ مدت بھی بطور مثال کے ہے ورنہ کائناتی منصوبے لاکھوں ‘ کروڑوں اور اربوں سال کے بھی ہوتے ہیں اور انہی منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ وہ ہے جس کے تحت زمین پر نوع انسانی کو پیدا کیا گیا ہے اور اس کے لئے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے کہ فلاں ساعت خاص تک یہاں اس نوع کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا کوئی انسان نہیں جان سکتا کہ یہ منصوبہ کب شروع ہوا ؟ کتنی مدت تک اس کی تکمیل کے لئے طے کی گئی ہے اور کونسی ساعت اس کے اختتام کے لئے مقرر کی گئی ہے جس پر قیامت برپا کی جائے گی اور کونسا وقت اس غرض کے لئے رکھا گیا ہے کہ آغاز آفرنیش سے قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسانوں کو بیک وقت اٹھا کر ان کا حساب لیا جائے گا ۔ اس جگہ اور اس جیسی دوسری ساری جگہوں پر قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا کہ یقینا وہ وقت اچانک آدھمکے گا اور اس کا منظر ایسا ہولناک ہوگا کہ آج جو لوگ بڑے زور وشور سے اس کا انکار کرتے ہیں اور طرح طرح کی ڈینگیں مارتے ہیں اور اس کا مطالبہ کرتے ہیں ‘ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ان کی آنکھیں دیکھتی کی دیکھتی رہ جائیں گے اور جو کچھ ہونا ہے وہ ہوجائے گا اور وہ اس کی دہشت میں زبان سے کوئی بات بھی نہ نکال سکیں گے اور اس وقت ان کی زبانیں تو گنگ ہوں گی البتہ وہ زبان حال سے جو کچھ کہیں گے وہ یہی ہوگا کہ ” افسوس ہم پر ہم تو اس کی طرف سے غفلت میں رہے بلکہ ہم ظلم وشرارت میں سرشار تھے ۔ “ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت “۔
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بلاشبہ تم اور وہ جن کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہیں ، تم سب وہاں پہنچنے والے ہو

غیر اللہ کی عبادت کرنے والے اور عبادت کرانے والے سب جہنم کا ایندھن ہوں گے : 98۔ (دون) کے معنی ہیں درے ‘ سوائے غیر اور التجاوز عن الحد اور جو کسی سے نیچے ہو اس کو بھی (دون) کہتے ہیں ۔ (دون) کا لفظ قرآن کریم میں 92 بار استعمال ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ لفظ دنو کا مقلوب ہے جس کے معنی نزدیک کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (دون) ظرف ہو کر استعمال ہوتا ہے ۔ زیر نظر آیت نزول کے وقت مشرکین کی ٹھوکر کا باعث ہوئی اور آج کے مشرکین کی ٹھوکر کا باعث بھی بدستور اسی طرح ہے جس طرح اس وقت تھی اور اس آیت پر اور اس جیسی دوسری آیات پر لوگوں نے بڑی بڑی بحثیں اٹھائی ہیں اور بحث کرتے کرتے کہیں کا کہیں نکل گئے ہیں ، بات بالکل صاف اور سیدھی تھی لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی یا سمجھ سوچ کر اس میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی گئی ۔ قرآن کریم کی کسی ایک آیت کا مفہوم بیان کرتے وقت قرآن کریم کی دوسری آیات کو مد نظر نہ رکھنا علم نہیں سراسر جہالت ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ جہالت بڑے بڑے القابات کے حامل علماء کرام میں بھی بدستور باقی رہی اور باقی ہے ۔ آیت یہ تھی کہ (انکم) بلاشبہ تم (وما تعبدون) اور تمہارے وہ معبود جن کو تم پوجتے ہو (حصب جھنم) جہنم کا ایندھن ہیں (انتم لھا واردون) تم سب کو وہیں (جہنم میں) جانا ہے اہل شرک کے لئے یہ ٹھوکر کا باعث اس طرح ہوئی کہ ان کو معلوم ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ عزیر (علیہ السلام) اور بہت سے دوسرے اللہ کے نیک بندوں کو لوگوں نے معبود بنایا اور انکی پرستش کی لیکن یہ سب لوگ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نیک بندے جہنم میں تو نہیں جائیں گے اس لئے (وما تعبدون) کو ذوی العقول کے لئے تسلیم نہ کیا جائے تو باقی پتھر اور تماثیل ہی رہ جاتی ہیں لہذا انہی کو آگ میں ڈالا جانے کا ذکر ہے اس لئے انہوں نے بدستور اپنے علماء کرام اور بزرگان دین کی پرستش کرنے کرانے اور ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے اور سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اور برملا کہا جس طرح عزیر و عیسیٰ اس سے مستثنی ہیں یہ ہمارے بزرگ اور پیشوا بھی مستثنی ہیں اسی طرح آج وہ زندوں کو چھوڑ کر مردوں کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں اور دھڑلے کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ اور پیشوا اس کی زد میں نہیں آتے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر عزیر و عیسیٰ اس کی زد میں نہیں آتے تو کیا ان کی پرستش کرنے والے یہود ونصاری بھی اس کی زد میں نہیں آتے ؟ کیوں اور کیسے ؟ جب کہ قرآن کریم ان کو کھلا مشرک قرار دے رہا ہے اور ان اللہ کے نبیوں اور نیک بندوں کی پرستش کرکے وہ اس طرح جہنم کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں جس طرح بتوں کی پرستش کرنے والوں کو جہنم کا ایندھن بنایا جا رہا ہے ۔ ان اللہ کے بندوں اور انبیاء کرام کو اگر ایندھن نہیں بنایا جائے گا تو وہ اس لئے کہ قرآن کریم نے خود ان کو جہنم کا ایندھن بننے سے مستثنی کردیا ہے جیسا کہ اس جگہ بھی اس مضمون کے اختتام پر ان کو مستثنی کردیا گیا اور ارشاد فرمایا گیا کہ ” رہے وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوگا تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے ۔ “ (الانبیائ 21 : 101) اور بلاشبہ آج بھی جن اللہ کے نیک بندوں کو مشرکین نے اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھا ہے جیسے علی ؓ ‘ حسن و حسین ؓ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) ‘ مجدد الف ثانی (رح) اور ان جیسے ہزاروں بزرگ جن کو آج کے مشرکین اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں یقینا دوزخ کے عذاب سے بچا لئے جائیں گے لیکن کوئی صورت ان مشرکین کے بچنے کی بھی ممکن ہے تو قرآن کریم اس کی واضح الفاظ میں نفی کرتا ہے ۔ افسوس کہ آج کے ان قبرپرستوں نے وہی ٹھوکر کھائی جو اس وقت کے مشرکین نے کھائی تھی اور اعتراض کیا تھا کہ اس طرح تو صرف ہمارے ہی معبود نہیں مسیح (علیہ السلام) ‘ عزیر (علیہ السلام) اور ملائکہ بھی جن ہم میں جائیں گے کیونکہ دنیا میں ان کو بھی معبود بنایا گیا ہے جس کے جواب میں نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نعم کل من احب ان یعبد من دون اللہ محضر مع عن عبدہ ہاں ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ کی بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنہوں نے اس کی بندگی کی ۔ لیکن کون ثابت کرتا ہے کہ کبھی عزیر (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) ملائکۃ اللہ اور علی ؓ حسن و حسین ؓ اور دوسرے نیک بندوں نے اپنی بندگی کرانے کا تصور بھی کیا تھا ؟ تو پھر ان کو کیوں دوزخ میں ڈالا جائے گا ؟ قرآن کریم کی زبان میں ان کو دوزخ سے دور رکھا جائے گا اور جنت کے انعامات ان کو وافر عطا کئے جائیں گے ۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت جو مشرکین تھے انکو غلطی لگنے کا امکان اس لئے ہوا کہ ان کے سامنے زیر نظر آیت بیان کی گئی اور اس وقت تک ابھی دوسری آیت کا نزول نہیں ہوا تھا لیکن کی آج کے مشرکین کے سامنے بھی قرآن کریم کی یہ دوسری آیت نہیں ہے جس سے مضمون کی تکمیل ہوتی ہے ؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو پھر اس طرح وہ ڈنڈی مار کر کس کا نقصان کر رہے ہیں ؟ بلاشبہ خود اپنا اور اپنے ماننے والوں کا جو ان جاہلوں کو عالم مان رہے ہیں ۔
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ ہستیاں معبود ہوتیں تو کبھی دوزخ میں نہ پہنچتیں حالانکہ سب اس میں ہمیشہ کے لیے رہنے والے ہیں

اگر یہ لوگ معبود ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے ؟ : 99۔ اللہ کے نیک بندوں کی شبیہیں اور بت جو لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور وہ لوگ جو شرک کی دعوت دیتے ہیں خود مشرک ہیں اور دوسروں کے شرک کا باعث بن رہے ہیں ان سب کو یقینا دوزخ میں ڈالا جانا ہے اس لئے زیر نظر آیت میں ان سے اور ان کے پوجنے والوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ معبود ہوتے تو انکو دوزخ میں کیوں گرایا جاتا اور وہ اپنے آپ کو دوزخ سے کیوں نہ بچا لیتے ؟ بتوں اور شبیہوں کو دوزخ میں ڈال کر دراصل ان کے ماننے والوں اور ان کو معبود بنانے والوں کو دکھانا مقصود ہے کہ یہی وہ بت اور شبیہیں تھیں جن سے تم محبت کرتے تھے اور ان کو جن کی یہ شبیہیں بنا رکھی تھیں یہ بات منظور ہوئی تو وہ ان شبیہوں اور بتوں کو کیوں دوزخ میں گرنے دیتے اور ان کو تو ان سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ وہ ان باتوں ہی سے بیخبر تھے یہ سب تو تمہاری اپنی ہی من گھڑت اور تمہارے آباء و اجداد کی وہم پرستی تھی ۔ رہے وہ لوگ جو ان باتوں پر خوش تھے اور اپنی زندگی میں ان باتوں کی اشاعت کرتے تھے تو ان کا دوزخ میں گرایا جانا ضروری ہے کیونکہ ان کے مشرک ہونے میں کوئی شبہ نہیں خواہ وہ کون ہوں اور اس طرح یہ سب عابد و معبود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں اکھٹے رہی گے اس بات کی خبر زیر نظر آیت میں دی گئی ہے وکل فیھا خلدون۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان کے لیے دوزخ میں چیخیں ہوں گی اور وہ نہیں سنیں گے

وہ اس میں چیخیں اور چلائیں گے لیکن ان کی کوئی نہیں سنے گا : 100۔ اس آیت نے ان لوگوں کی غلطی ثابت کردی جو معبودان باطل سے مراد صرف بت اور شبیہیں ہی لیتے ہیں اور انسان مراد لینے سے گریز کرتے ہیں تاکہ ان کے شرک کی ترویج جاری وساری رہے اور شرک بھی کرتے کراتے رہیں اور شرک کی زد میں بھی نہ آئیں ۔ وہ دوزخ میں چیخیں اور چلائیں گے ؟ غور کرو کہ کی کبھی بت اور شبیہیں بھی چیختی اور چلاتی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سے وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے خود شرک کیا اور دوسروں کو شرک کرنے کی ترغیب دی ۔ رہے وہ بت اور پتھر ‘ شبیہیں اور قبریں تو وہ نشانات ہیں ان کو دوزخ میں ڈالنے کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ نشانات ہیں اور ان کو سامنے رکھنے والوں کو محسوس ہوگا کہ اب جن پر ہمارا انحصار تھا وہ ہمارے کچھ کام نہیں آ رہے کہ وہ نشانات تو ان کے ساتھ دوزخ میں ہوں گے اور جن لوگوں کے وہ نشانات بنائے گئے تھے ان کو اس بات کا علم بھی نہ ہوگا اور نہ ہی وہ ان کی کوئی بات سنیں گے اس لئے کہ انہوں نے بذاتہ ان سے کوئی وعدہ اس طرح کا نہ کیا تھا بلکہ ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان لوگوں نے اپنے ادہام سے ایسے تخیلات پیدا کر لئے تھے ان کے علم میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ ہماری عبادت بھی لوگ کرتے رہے جیسا کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں پیچھے گزر چکا کہ : (آیت) ” وَإِذْ قَالَ اللّہُ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِیْ وَأُمِّیَ إِلَـہَیْْنِ مِن دُونِ اللّہِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (المائدہ 5 : 116) ” اور جب ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) جواب مین عرض کرے گا تیرے لئے پاکیزگی ہو بھلا مجھ سے یہ بات کیسے ہو سکتی تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کے کہنے کا مجھے حق نہیں اگر میں نے یہ کہا تھا تو ضرور تجھے معلوم ہے تو میرے دل کی بات جانتا ہے مجھے تیرے ضمیر کا علم نہیں تو ہی غیب کی ساری باتین جاننے والا ہے ۔ “ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے جواب کا ایک حصہ ہے مکمل جواب سورة مائدہ کی آیت 116 ‘ 117 ‘ 118 میں بیان ہوا ہے اور تفصیل اس کی وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔ قرآن کریم نے ایک نبی ورسول کا جواب نقل کرکے سارے اللہ کے بندوں کے جواب کی تفصیل اس میں کردی کیونکہ یہی وہ نبی ورسول ہیں جن کو لوگوں نے اللہ ‘ اللہ کا بیٹا اور اللہ کا تیسرا جزء مان کر ان کے اختیار میں بہت کچھ دے دیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرما دی ، ظاہر ہے کہ وہ سارے لوگ جو آپ سے پہلے یا بعد میں معبود بنائے گئے اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا گیا اب اس ضمن میں آگئے اور اس سے زیادہ تفصیل اور کیا ہوگی ۔ اتنی وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا جانتا اور سمجھتا ہے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے قانون الہی نے اس کی وضاحت میں کوئی کمی نہیں رہنے دی اب بھی کسی کی آنکھیں بند ہی رہیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک بندے اس سے بری الذمہ ہیں اور اس کی آنکھیں کھلنے کا وقت آئے گا تو انشاء اللہ ضرور کھلیں گی اگرچہ اس وقت اس کو اس سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا ۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

مگر جن لوگوں کے لیے ہم نے پہلے سے بھلائی کا حکم دے دیا تو وہ یقینا دوزخ سے دور کردیئے گئے

معبود بنائے گئے لوگوں سے جن کا اپنا حصہ اس میں کچھ نہیں دوزخ سے دور ہی رہیں گے : 101۔ آیت 98 سے جو مضمون چلا تھا اس کی تکمیل کرتے وقت صاحب مضمون یعنی اللہ تعالیٰ نے خود وضاحت فرما دی کہ ہم نے جو بیان کیا ہے ” تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو تم اس میں ضرور داخل ہو گے تو ہم خود اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے سے بھلائی آچکی ہے وہ یقینا اس سے دور ہی رکھے جائیں گے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنی عبادت کئے جانے کا تم کو حکم نہیں دیا تھا بلکہ تم نے خود اور تمہارے آباء و اجداد نے وہم پرستی کی بنا پر ان کو معبود بنا لیا اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے اس سلسلہ میں وہ بالکل بےقصور تھے اور قانون الہی ایسا اندھا نہیں ہے کہ وہ بےقصورروں کو عذاب میں مبتلا کر دے وہ خوب جانتا ہے کہ کون عذاب کا مستحق ہے اور کون عذاب سے مستثنی ہے فرمایا ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ انہیں عبادت کیے گیوں میں سے ایسے بھی ہیں جن کی زندگی میں ہی ان کو جنت کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا حالانکہ ان کو معبود جو بنایا گیا تو وہ ان کے مرنے کے ایک مدت بعد بنایا گیا اور ان بچاروں کو اس بات کا علم بھی نہیں ہے ۔ پہلے وہم پرستوں کی طرح موجودہ وہم پرستوں نے جو اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ جن جن کی عبادت کی گئی خواہ وہ کون ہوں ان سب کو دوزخ میں گرائے جانے کا حکم دیا گیا ہے یہ محض ان کی وہم پرستی کا نتیجہ ہے یا انہوں نے مشرکوں سے کوئی رشوت کھائی ہے تاکہ ان کے لئے جواز کوئی کوئی صورت نکال دیں لیکن کیا ان کی اس طرح کی چالاکی سے قانون الہی تبدیل ہوجائے گا اور وہ لوگوں کو اس کی زد سے بچا لیں گے ؟ نہیں بلکہ ان کو دوہرا عذاب ملے گا ایک خود مشرک ہونے کا اور دوسرا دوسروں کو مشرک بنانے کا اور مشرک ہونے والوں کے کے لئے کچھ تخفیف نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے توحید الہی کا درس سب انسانوں کے کانوں تک پہنچا دینے کا اپنے قانون میں ایسا بندوبست کردیا ہے کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کے کانوں تک توحید کا درس نہ پہنچا ہو ۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

وہاں کی بھنک بھی ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی اور وہ اپنی پسند اور خواہش کی تمام نعمتوں میں ہمیشہ کے لیے مگن رہیں گے

وہ عذاب الہی کی آہٹ بھی نہ پائیں گے اور جو وہ چاہیں گے حاضر کردیا جائے گا : 102۔ (حسیس) حس سے ہے اور مراد اس سے حرکت وآہٹ ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے جن کا ذکر اوپر گزر چکا عذاب تو عذاب ہے عذاب کی آہٹ تک بھی محسوس نہیں کریں گے اور ان کو اکتاہٹ تک نہیں ہوگی پھر یہ بھی کہ اس دنیا میں بھی بلاشبہ لذتیں اور مسرتیں ہیں مگر جو چیز یہاں نہیں ہے وہ بقائے دوام ہے یہاں کی ہر لذت عارضی اور ہر مسرت آنی ہے یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے بعد غم وماتم کا نالہ نہ ہو ۔ یہاں ہر پھول کے ساتھ کانٹے ‘ ہر روشنی کے ساتھ تاریکی ‘ ہر وجود کے ساتھ فنا ‘ ہر سیری کے بعد بھوک ‘ ہر سیرابی کے بعد پیاس اور ہر غنا کے بعد محتاجی ہے انسان ہزاروں مشکلیں اٹھانے اور ہزاروں صدمے سہنے کے بعد ایک مسرت کا پیام سنتا ہے اور ایک خوشی کا منظر دیکھتا ہے مگر ابھی اس سے سیر ہونے کی نبوت بھی نہیں آتی کہ اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ غرض اس موجودہ عالم فانی کی ہر شے آنی جانی ہے اور یہی یہاں کی سب سے بڑی کمی ہے جو پوری نہیں ہو سکتی لیکن آخرت کی مملکت وہ ہے جہاں کی لذتیں جاودانی اور جہاں کی سرعتیں غیر فانی ہیں جہاں حیات ہے مگر موت نہیں ‘ راحت ہے مگر تکلیف نہیں لذت ہے مگر الم نہیں ‘ مسرت ہے مگر غم نہیں ‘ جہاں وہ سکون ہے جس کے ساتھ اضطراب نہیں اور وہ شادمانی ہے جس کے بعد حزن واندوہ نہیں اس کا نقشہ جو شیطان نے کھینچا تھا وہ بالکل صحیح ہے اور جو اس نے اس وقت کہا تھا وہ آج بھی سچ ہے اور اس وقت بھی سچ تھا جب اس نے آدم (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ : (آیت) ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لایبلی “۔ (طہ 20 : 120) کیا میں تجھے ہمیشگی کے درخت کا نشان دے دوں اور ایسی بادشاہی کا جو کبھی زائل نہ ہو ؟ مگر جنت کا یہ وصف سنا کر ان کو جدھر کا راستہ بتایا وہ موت کے درخت اور فنا کے ملک کی طرف کا تھا اور یہی وہ فریب تھا جس میں اس نے آدم کو گرفتار کرلیا اور اس جنتی زندگی کی تلاش میں وہ چیز کھالی جو ان کے حق میں زہر تھی یعنی گناہ کا پھل ۔ اب کیا ہوا کہ جہاں سے کچھ دیر ٹھہرا کر وہاں لے جانا منظور تھا اس طرح اتاردیا گیا اور ان کے لئے اور ان کی نسل کے لئے جنت اعمال صالحہ کا صلہ قرار پایا لیکن یہ کسی غلطی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ حقیقت کی تفہیم کے لئے ایک پیرایہ بیان تھا جو وضاحت کے ساتھ آدم اور اولاد آدم کے سامنے بیان کردیا گیا تاکہ وہ چوکنے رہیں اور سعی وعمل سے اس مقام کو حاصل کرنے میں لگے رہیں اور یہی زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

انہیں (قیامت کے روز) بڑی ہولناکی بھی ہراساں نہ کرے گی فرشتے آگے بڑھ کر ان کی ملاقات کریں گے (اور کہیں گے) یہ ہے وہ تمہارا دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

اہل جنت کے اعزاز واکرام کے لئے فرشتے پیش قدمی کریں گے : 103۔ انسان امن وسلامتی کا بھوکا ہے لیکن وہ اس امن وسلامتی کو اسباب راحت کے انبار میں تلاش کرتا ہے اور وہ نہیں پاتا ۔ وہ دنیا میں امن کا گوشہ ڈھونڈتا ہے اور وہ اس کو نہیں ملتا لیکن ایک جنت ہی وہ جگہ ہے کہ جہاں پہنچ کر اس کو نہ صرف امن کا گوشہ بلکہ امن وسلامتی کی ایک دنیا ملے گی یہی وجہ ہے کہ جنت کے ناموں میں سے ایک نام دارالسلام بھی ہے جس کے معنی امن وسلامتی کے گھر کے ہیں بلاشبہ لوگوں نے اپنے گھروں کا نام بیت السلام اور دارالسلام رکھا لیکن کیا یہاں فی الواقع کسی کو سلامتی ملی ؟ وہی دارالسلام ہے جہاں حقیقی سلامتی ملے گی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اہل جنت کی نسبت ارشاد فرمایا (لھم دارالسلام عندربھم) (الانعام 6 : 127) ” ان کے پروردگار کے حضور سلامتی و عافیت کا گھر ہے ۔ “ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جس شریعت کو دے کر اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے وہ حقیقت میں اس امن وسلامتی کی نوید وبشارت ہے اس لئے ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” واللہ یدعوا الی دارالسلام “۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کے طرف بلاتا ہے “۔ نبی اعظم وآخر ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے اس امن وسلامتی کے گھر کی دعوت پیش فرمائی ، جنت کے ذکر میں امن وسلامتی کا تذکرہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے درودیوار سے امن وسلامتی کے ترانے سنائی دیں گے ، چناچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ : (آیت) ” والملآئکۃ یدخلون علیھم من کل باب سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارہ “۔ (الرعد) ” اور فرشتے ہر دروازہ سے ان کے سامنے یہ کہتے ہوئے آئیں گے کہ تم پر سلامتی ہو کہ تم نے صبر کیا تھا تو کیسا اچھا پچھلا گھر ہے “۔ اور وہاں امن وسلامتی کے سوا کچھ اور سنائی نہ دے گا ۔ (آیت) ” الا قیلا سلما سلما “۔ (الواقعہ) ” ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی کی پکار ہوگی “۔ اس طرح زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” اہل جنت کو بڑی سے بڑی ہولناکی بھی ہراساں نہ کرے گی فرشتے ان کا استقبال کرٰن گے ‘ یہ ہے وہ تمہارا دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا “ اور اب اس میں تمہارے لئے سلامتی و خوشی ‘ راحت ورحمت اور نور ورضوان کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اب اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور تم اللہ تعالیٰ سے راضی اس کے بعد نہ کبھی وہ تم پر عتاب فرمائے گا نہ کبھی ناراض ہوگا بلکہ تم کو اپنی رضا مندی اور خوشنودی کی لازوال دولت عطا فرمائے گا اور جو نعمتیں اس نے تمہارے لئے رکھی ہیں ان میں جنت ‘ نہریں ‘ ہر طرح کے پھل ‘ پاکیزہ بیویاں اور ان سب کے بعد روح کی مسرت رکھی ہے اور انجام کار اپنی رضا مندی کی نعمت تم پر ظاہر فرمائے گا اور کوئی خواہش ایسی نہ ہوگی جو پوری نہ ہو ادھر تمہارا ارادہ ہوا اور ادھر وہ چیز تمہارے پاس حاضر ہوگی ۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

وہ دن ، جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے بہی کھاتوں کے طومار لپیٹ لیے جاتے ہیں ، ہم نے جس طرح پیدائش شروع کی تھی اسی طرح اسے دہرائیں گے ، اس وعدہ کا پورا کرنا ہم پر ہے اور ہم پورا کر کے رہیں گے

دنیوی نظام کے ختم کردینے کے بعد ایک نیا نظام لایا جائے گا جو آخرت کا نظام ہوگا : 104۔ زمین و آسمان پر اللہ تعالیٰ کا کامل اقتدار اور تصرف کی تصویر کھینچنے کے لئے یہ استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا تو ان کو اس طرح لپیٹ دے گا جیسے بہی کھاتوں کے طومار کام بند کرتے وقت لپیٹ لئے جاتے ہیں اور اس استعارہ کو دوسری جگہ اس طرح استعمال کیا گیا کہ : ّ (آیت) ” والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ “۔ ” قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے ۔ “ (الزمر 39 : 67) اس طرح اس جگہ ہاتھ میں لپٹے ہونے کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے جس طرح ایک آدمی کسی گیند کو مٹھی میں دبا لیتا ہے اور اس کے لئے یہ ایک معمولی کام ہے یا ایک شخص ایک رومال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے لئے یہ کوئی زحمت طلب کام نہیں ہوگا بلکہ بالکل سہل اور آسان ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے روز تمام انسان جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے دست قدرت مین ایک حقیر گیند اور ایک ذرا سے رومال کی طرح ہیں ۔ عبداللہ بن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایات میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اعظم وآخر ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور دوران خطبہ آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں یعنی سیاروں کو اپنی مٹھی میں لے کر اس طرح پھرائے گا جیسے ایک بچہ گیند پھراتا ہے اور فرمائے گا کہ میں ہوں خدائے واحد ‘ میں ہوں بادشاہ ‘ میں ہوں جبار ‘ مین ہوں کبریائی کا مالک کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟ کہاں ہیں جبار ‘ کہاں ہیں متکبر ؟ یہ کہتے کہتے نبی اعظم وآخر ﷺ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ ہمیں خطرہ محسوس ہوا کہ آپ ﷺ کہیں منبر پر سے گرنہ پڑیں ۔ “ (بخاری ‘ مسلم ‘ مسند احمد ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ اور ابن جریر وغیرہ ) نطوی طوی مصدر طی کے معنی لپیٹنا ظاہری معنی یہی ہیں لیکن مراد اس سے فنا کرنا ہے اور سجل کتاب عہد کو کہتے ہیں اور اس طرح اس کاتب کو بھی جو لکھتا ہے اور اس صحیفہ کو بھی جس میں لکھا جاتا ہے اور سارے مضمون کا ماحصل یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آنا لازم ہے کہ ایسا انقلاب عظیم ہوگا کہ اس سارے نظام کو بدل کر رکھ دیا جائے گا اور نہ یہ زمین اس طرح رہے گی اور نہ یہ آسمان اس طرح کے آسمان ہوں گے اور اسی طرح نہ پہاڑ اور نہ ہی دریا جس طرح ان سب چیزوں کو پہلی بار پیدا کیا گیا تھا ان کو فنا کرنے کے بعد کسی دوسری صورت میں بنا دیا جائے گا جس کی حقیقت کو ہم نہیں سمجھ سکے الا یہ کہ اس طرح ہوگا جس طرح پہلی بار ہوچکا ہاں ! ان سب چیزوں کو فنا ہونا لازم وضروری ہے کیونکہ وعدہ الہی ہے اور وعدہ الہی کبھی غلط نہیں ہو سکتا ۔ زیر نظر آیت میں یہی ارشاد فرمایا کہ وعدا علینا انا کنا فعلین “۔