Ayah 21:68سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مخالفین نے آپ کو سزا دینے اور اپنے معبودوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا :
68۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کو جس طرح دبایا اس کا ذکر آپ پیچھے تین چار آیتوں میں بڑی تفصیل کے ساتھ پڑچکے ۔ عقل وفکر کے ساتھ وہ لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو کوئی جواب نہ دے سکے اور آخر کار انہوں نے آپس میں مل کر مشورہ کیا کہ معبودوں کا حشر بھی آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے اور جس طرح اس نے ہم کو لاجواب کردیا ہے یہ بات بھی تمہاری آنکھیں دیکھ رہی ہیں اب اگر کوئی بھرپور وار کر کے ابراہیم اور اس کے حواریوں کا دفاع نہ کیا گیا تو یہ لوگ تو نہ آپ کو چھوڑیں گے اور نہ ہی آپ کے دین کو اور عوام کو بھی یقینا ہم سے برہم کردیا جائے گا اور اب اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ابراہیم کو کسی ایسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے کہ یہ جل بھن کر رہ جائے اور یہی ایک صورت ہے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے معبودوں کو اس کے شر سے بچا سکو اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو تو اسی طرح کی کوئی سخت تدبیر کرو اگر تم نے کوئی سخت کاروائی نہ کی تو آباؤ و اجداد کا دین تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے گا ، یہ واقعہ قرآن کریم نے تین جگہ پر بیان کیا ہے ایک تو اس جگہ پر جس جگہ اس کی تفسیر کی جا رہی ہے اور دوسری جگہ سورة العنکبوت میں اور تیسری جگہ سورة الصفت میں چناچہ سورة العنکبوت میں اس طرح بیان کیا گیا کہ :
(آیت) ” فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ اوحرقوہ فانجہ اللہ من النار ان فی ذلک لایت القوم یؤمنون “۔ (العنکبوت 29 : 24)
” پھر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا قتل کر دو اسے یا جلا ڈالو اس کو پس اللہ نے اسی کی آگ سے نجات دے دی یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانے والے ہیں ۔ “ اور سورة الصفت میں ہے کہ :
(آیت) ” قالوا ابنوا لہ بنیانا فالقوہ فی الجحیم ، فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین ، وقال انی ذاھب الی رب سیھدین “۔ (الصفت 37 : 97 تا 99)
” انہوں نے آپس میں کہا کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو دھکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ‘ پھر انہوں نے اس کے ساتھ ایک مخفی چال چلنا چاہی اور ہم نے ان کو نیچا دکھا دیا اور اس نے کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف چلا جاتا ہوں ‘ وہ مجھے راہ دکھائے گا ۔ “
اور اس جگہ سورة الانبیاء میں فرمایا :
(آیت) ” قالوا حرقوہ وانصروا الھتکم ان کنتم فعلین ، قلنا ینار کونی بردا وسلم ا علی ابراہیم ، وارادو بہ کیدا فجعلنھم الاخسرین “۔
” انہوں نے آپس میں کہا کہ جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے معبودوں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر ‘ وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم کے ساتھ ایک مخفی چال چلیں مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کردیا ۔ “۔
قرآن کریم کے تینوں مقامات کے مضمون سے متعلق آیات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں ان کو بغور پڑھیں اور خوب سمجھنے کی کوشش کریں اور قرآن کریم کے بیان سے ہم آگے نہ بڑھیں تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ فی الواقع سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ میں ڈالا گیا یا اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں گرنے سے پہلے نجات دے دی اور کسی دوسری طرف ہجرت کر جانے کا حکم بھی دیا اور موقعہ بھی فراہم کر دیاجیسا کہ آپ کا ہجرت کر جانا بالکل صاف لفظوں میں واضح ہے اور یہ سنت اللہ سارے انبیاء کرام اور رسل عظام کے ساتھ جاری وساری رہی ہے جس طرح قرآن کریم نے ان کی داستانوں میں یہ پہلو ہمیشہ اجاگر کر کے بیان کیا ہے یہاں بھی واضح الفاظ میں بیان کردیا ۔ جہاں ساری قوم کی قوم خلاف ہو بلکہ ایک رسول کے قتل کرنے یا جلا دینے کے لئے مشورے طے کر رہی ہو وہاں سے اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو خیر وخیرت سے نکال کے کسی دوسری جگہ پہنچا دے اور وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جائیں کیا یہ معجزہ نہیں ؟ لیکن اس طرح بیان کرنے سے جن لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ جل بھن کر رہ جاتے ہیں کہ دیکھو اس نے تو ایک معجزہ ہی کا انکار کردیا ہے حالانکہ حقیقت میں وہ خود اس معجزہ کا انکار کر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا اس طرح آگ بننا ‘ آگ بھڑکانا ‘ آگ پھیلانا ‘ انکا اپنا ہی آگ پر لیٹنا ہے ان کے اس طرح آگ پھانک کر آگ ہونے کا وبال بھی انہیں پر ہوگا ہمارا کام تو آگ پر پانی ڈالنا ہے آگ میں آگ لگانا مطلق نہیں لیکن وہ اس طرح اپنے آپ کو آگ میں جھونکنا چاہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں ۔
ہمارے مفسریں نے اس آگ کی داستان جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے تیار کی گئی تھی اور اس میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو گرایا گیا تھا بڑی تفصیل سے بیان کی ہے ان کے سارے بیان کو تو اس جگہ درج کرنا نہایت مشکل ہے ہاں اختصار کے ساتھ چند سطور پیش خدمت ہیں تاکہ قارئین کو معلوم ہو سکے کہ ہمارے مفسرین کہاں سے کہاں نکل جانے کے عادی ہیں ۔
” جب نمرود اور اس کی قوم کا باتفاق آراء فیصلہ ہوگیا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جھونک دیا جائے تو آپ کو گرفتار کر کے ایک کو ٹھری میں بند کردیا گیا اور باڑہ کی طرح ایک احاطہ بنایا جس کا پھیلاؤ میلوں میں تھا بیسیوں میل لمبا اور دہائیوں میل چوڑا اس کے درمیان ایک بہت گہرا گڑھا بھی کھودا گیا اور ٹھوس قسم کی لکڑیاں آپ کو جلانے کے لئے وہاں جمع کی گئیں اور اونچائی میں یہ لکڑیاں تقریبا ساٹھ گزر اونچائی تک جوڑی گئیں اور عام جوش اس حد تک پہنچ گیا کہ بیمار منت مانتا تھا کہ اگر میں اچھا ہوگیا تو ابراہیم کو جلانے کے لئے لکڑیاں دوں گا ۔ عورتیں اگر مراد مانگتی تھیں تو کہتی تھیں کہ اگر ہماری مراد پوری ہوگئی تو ہم ابراہیم کو جلانے والی آگ میں لکڑیان دیں گی لوگ وصیت کرتے تھے کہ ہمارے بعد لکڑیاں خرید کر اس ڈھیر میں شامل کردینا ، عورتیں چرخہ کات کر اس کی مزدوری سے لکڑیاں خرید کر بامید ثواب ڈھیر میں شامل کرتی تھیں ۔ “
” اس طرح ایک مدت تک لوگ لکڑیاں جمع کرتے رہے جب حسب منشاء لکڑیاں جمع کرچکے تو اس ڈھیر میں ہر طرف سے آگ لگا دی ‘ آگ بھڑک اٹھی جب خوب تیز ہوگئی اور اس حد تک پہنچ گئی کہ پرندے بھی جلنے کے ڈر سے اوپر سے نہ اڑ سکتے تو انہوں نے مزید سات روز تک اسے بھڑکنے دیا اور مزید سات روز کے بعد ابراہیم کو اس میں ڈالنا چاہا لیکن ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس کی آگ میں کیسے پھینکیں ، ابلیس نے آکر منجنیق قائم کرنے کی تدبیر بتائی لوگوں نے چرخی بنائی اور سب سے اونچی عمارت کی چوٹی پر اس کو قائم کیا اور ابراہیم کی مشکیں باندھ کر اس میں ڈالا یہ دیکھ کر آسمان و زمین اور ملائکہ اور ساری دوسری مخلوق سوائے انس وجن کے چیخ پڑی اور عرض کرنے لگی اے ہمارے رب ! ابراہیم تیرا خلیل ہے اور آگ میں اس کو ڈالا جا رہا ہے اس کے سوا روئے زمین میں اور کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہے ہم کو اجازت مل جائے تو ہم اس کی مدد کریں اللہ نے فرمایا ابراہیم میرا خلیل ہے اس کے سوا اور کوئی میرا خلیل نہیں اور میں ہی اس کا معبود ہوں میرے سوا اس کا اور کوئی معبود نہیں اگر وہ تم سے کسی مدد کا خواستگار ہو یا دعا کرے تو جس سے وہ مدد طلب کرے وہ اس کی مدد کرسکتا ہے میری طرف سے اس کا اجازت ہے اور اگر میرے سوا کسی اور سے وہ مدد کا طلبگار نہ ہو تو میں اس کی حالت کو خوب جانتا ہوں ‘ میں ہی اس کا کارساز ہوں میرے اور اس کے درمیان تم حائل نہ ہو جونہی ابراہیم کو لوگوں نے آگ میں پھینکنا چاہا تو وہ فرشتہ جو پانی کا خازن تھا آیا اور اس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آگ کو بجھا دوں اور ہوا کا مؤکل بھی آیا اس نے کہا اگر آپ کا منشا ہو تو میں آگ کو ہوا میں اڑا دوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں میرے لئے اللہ کافی ہے وہی میرا کارساز ہے ۔ “
اس کے بعد ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کے لئے مضبوطی کے ساتھ باندھ کر منجنیق میں رکھ کر آگ کی طرف پھینک دیا گیا اس دوران جبریل نے سامنے سے آکر کہا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) اگر تمہیں میری مدد کی ضرورت ہو تو میں موجود ہوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں جبریل (علیہ السلام) نے کہا تو پھر اپنے رب سے درخواست کیجئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا مجھے سوال کی کیا ضرورت ہے میری حالت کا اس کو علم ہے میرے لئے یہی کافی ہے ۔ “
” کعب احبار کا بیان ہے کہ ہرچیز نے ابراہیم کی آگ بجھانے میں حصہ لیا سوائے گرگٹ کے یہ آگ کو پھونکیں مار رہا تھا تاکہ مزید اشتعال پیدا ہو اور آگ بھڑک جائے ۔ “
” ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے گرگٹ کو برچھے کی پہلی ضرب سے قتل کیا اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے دوسری ضرب سے قتل کیا اس کے لئے اس سے کم نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے تیسری ضرب سے قتل کیا اس کے لئے اس سے بھی کم ۔ “
بہرحال ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بازو پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا آپ نے وہاں اچانک شریں پانی کا چشمہ اور خوب صورت سرخ گلاب کے پھول دیکھے اور آگ سے آپ کے جسم کا کوئی حصہ متاثر نہیں ہوا صرف بندھن کے کی رسی جل گئی ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وہاں سات روز رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا جس آرام و راحت کے ساتھ میں چند روز آگ میں رہا اتنے آرام سے کبھی نہیں رہا ۔ ابن یسار نے کہا اللہ کے سایہ کے مؤکل کو ابراہیم کی صورت عطا فرما کر بھیجا جو آگ ابراہیم کے پہلو میں آپ کی وحشت دور کرنے کے لئے بیٹھ گیا اور بحکم خداوند حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جنت کا ایک قمیص اور مسند لے کر آئے قمیص حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنایا اور مسند پر بٹھایا اور خود بھی آپ کے ساتھ مسند پر باتیں کرنے کے لئے بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیام پہنچایا اور کہا آپ کا رب فرماتا ہے کہ تم کو معلوم نہیں کہ میرے دوستوں کو آگ ضرر نہیں پہنچایا کرتی ۔ کچھ مدت کے بعد نمرود نے ایک اونچی عمارت کے اوپر سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جھانک کر دیکھا اور آپ کو باغ میں بیٹھا پایا اور ایک فرشتہ کو بصورت انسان آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا دیکھا اور آپ کے چاروں طرف آگ ہی آگ تھی جو لکڑیوں کو جلا رہی تھی یہ منظر دیکھ کر پکار کر کہا کہ ابراہیم تیرا معبود بہت بڑا ہے جس کی قدرت اس حد تک ہے کہ وہ تیرے اور اس آگ کے درمیان حائل ہوا جو میں دیکھ رہا ہوں ۔ ابراہیم تو کیا اس آگ سے نکل بھی سکتا ہے ؟ حضرت نے فرمایا ہاں ! نمرود نے کہا کیا تجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر وہاں رہے گا تو آگ تجھے دکھ پہنچائے گی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں۔ نمرود نے کہا کہ پھر اٹھ کر وہاں سے نکل آ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اٹھ کھڑے ہوئے اور آگ میں قدموں سے چل کر باہر آگئے ، نمرود نے کہا ابراہیم وہ کون آدمی تھا جو تمہارے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا وہ سایہ کا مؤکل تھا میرے رب نے آگ کے اندر میری وحشت دور کرنے کے لئے اس کو میرے پاس بھیج دیا تھا نمرود نے کہا میں تیرے معبود کے لئے کچھ قربانی پیش کرنی چاہتا ہوں کیونکہ میں نے اس کی قدرت اور طاقت کا ظہور تیرے معاملے میں دیکھ لیا ہے ۔ میں اس کے نام پر چار ہزار گائیں قربان کروں گا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تیری قربانی قبول نہیں کرے گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود نمرود نے چار ہزار گائیوں کی قربانی کی اور اس کے بعد ابراہیم پر تعرض نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بالکل محفوظ کردیا ۔ “
قارئین کرام ! اس کہانی کو پڑھ کر خود فیصلہ فرما لیں کہ معقول کیا ہے اور غیر معقول کیا ؟ اور قرآن کریم کی آیات کے ساتھ اس تفسیر کا کیا تعلق قائم ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے ؟ اور معجزات کی اس پٹاری کو کھولتے جائیں اور معجزات کا شمار کرتے جائیں اور دیکھیں کہ معجزات کے شائقین نے ایک معجزہ کے پیٹ سے کتنے معجزات نکال کر پیش کر دئیے ہیں اور ان کے اس فن کی خوب داد دیں کہ وہ اپنے فن میں بہت ماہر اور حاذق ہیں اور اگر ہمارے قارئین غور وفکر کرنا حرام نہیں سمجھتے تو ذرا غور فرما لیں کہ ان معجزات کے شمار کرنے میں ہم کو لگا کہ وہ اصل سبق جو اس واقعہ سے ہماری زندگی کے لئے رکھا گیا تھا اس کی طرف کس شاندار طریقہ سے ہماری آنکھیں بند کردی گئیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اور قرآن کریم کی تلاوت کرکے ہم خالی ثواب حاصل کرتے رہیں اور اپنے مردے بخشوانے کے لئے اس کے ختمات کا اہتمام جاری رکھیں اور کوئی شخص بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ پر چل کر زمانہ کے نمرودوں کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کرے کیونکہ معجزات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس لئے نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ اس دور حاضر کے نمرودوں کا کوئی مقابلہ کرسکے گا ، اے رب کریم ! ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرما دے کہ تیرے سوا کوئی نہیں جو سمجھ کی توفیق دے سکے ، اے ہمارے رب ! ہماری دعا قبول کرنا۔
Ayah 21:69حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جلائی گئی آگ کو حکم ہوا کہ ٹھنڈی ہوجا :
69۔ خیر وشر کا مالک صرف اور صرف ایک اللہ ہے ۔ شر کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے جس نے خیر کو مخلوق بنایا ہے ۔ انسان آزمائش میں ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو خیر سے آزمائے اور چاہے تو شر سے دونوں طرح کی آزمائشوں کے لئے اس کا قانون کام کر رہا ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے وہ اپنا کام کرتا رہیگا ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی داستانوں سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ کوئی حالت بھی پیش آئے اس ذات الہ کو نہ بھولو جو طلب کرنا ہے اس سے طلب کرو اور جس شر سے بچنا چاہتے ہو اس سے پناہ مانگو اگر کہیں تمہاری زندگی کا شر سے مقابلہ ہوجائے تو رضائے الہی کی خاطر اپنی جان کی پروانہ کرتے ہوئے خیر کا ساتھ دو اور ذہن میں یہ بات اچھی طرح جما لو کہ اگر زندگی کو اس نے باقی رکھنا ہے تو تمہاری زندگی کو کوئی ختم نہیں کرسکتا اور اگر اس کی طرف سے تمہاری زندگی کا باب ختم ہوچکا ہے تو ساری دنیا مل کر بھی تمہاری زندگی کو بڑھا نہیں سکتی تمہارا مرنا اور جینا صرف اس کی رضا کے لئے ہونا چاہئے دیکھو ہمارے ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ سبق یاد رکھا تھا اور اس کا مقابلہ ایک بہت بڑی شر کی طاقت سے ہوگیا اس وقت کی حکومت اور عوام حتی کہ اس کی برادری اور خاندان سب کے سب شر کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے لیکن اس نے اپنے آپ کو اکیلا سمجھنے کے باوجود اپنے رب پر پختہ انحصار کیا اور ہم نے اس کو ایک فرد ہونے کے باوجود پوری ایک امت بنادیا (ان ابراھیم کان امہ) مقابلہ اتنا سخت تھا کہ جب اس دلیر نوجوان نے اپنی قوم کے سارے معبودوں کا صفایا کردیا اور قوم نے اس کو سزا دینے کے لئے ایک مجلس میں بلایا اور بات پوچھی تو اس نے صاف صاف لفظوں میں اپنے صفایا کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو شرم دلائی کہ تمہارے معبود جب اپنا دفاع نہیں کرسکے تو وہ تمہارا دفاع آخر کیسے کریں گے اور جب وہ اپنی ذات کے لئے مشکل کا حل ہی نہیں نکال سکے اور اپنے حاجت روا نہیں ہوسکے تو وہ تمہاری مشکلات کا حل کیا کریں گے اور تمہاری کیا حاجت روائی کریں گے قوم کے لوگوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا تو انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی اور ابراہیم کے لئے ایک ایسی آگ تیار کی کہ جس سے وہ ہمیشہ کے لئے خاکستر ہو کر رہ جائیں لیکن اس کے مالک حقیقی نے اس آگ کو اس کے لئے گلزار بنا دیا اور اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر انکے سارے کئے کرائے کو خاکستر بنا کر چھوڑا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے اور اس طرح ان کی ساری چالوں کا وبال انہی پر پڑا اور ہمارے ابراہیم (علیہ السلام) کا بال بیکا بھی نہ ہوا ۔ سچ ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔
Ayah 21:70حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے ایک مخفی چال چلنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی :
70۔ مذہبی لیڈروں اور سیاسی راہنماؤں نے مل کر اور سارے عوام کی حمایت حاصل کر کے ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف ایک سارش اختیار کی تھی اور خیال کیا تھا کہ اس سازش سے بچ کر ابراہیم کبھی نہیں نکل سکے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس پتنگ کی ڈور قطع کردی اور پھر کیا ہوا کہ ع ۔
ہتھوں چھٹی ڈور محمد گڈی وا اڑائی ۔
اس طرح جب ان کا سارا کیا کرایا دھرے کا دھرا رہ گیا اور ان کی یہ چال مکمل طور پر ناکام ہوگئی تو آپ نے پورے زور کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ :
(آیت) ” وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّہِ أَوْثَاناً مَّوَدَّۃَ بَیْْنِکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُم بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُم بَعْضاً وَمَأْوَاکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُم مِّن نَّاصِرِیْنَ (العنکبوت 29 : 25)
” اور اس نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر (بزرگوں کے) بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا ۔ “
اس آیت کے ساتھ آیت 24 کو ملا کر پڑھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی جلائی ہوئی آگ سے نجات پانے کے بعد ان لوگوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی تھی کہ تمہاری مخفی تدبیروں کی سلگائی ہوئی آگ نے میرا تو کچھ نہ بگاڑا بلکہ میرے اللہ نے اس پر مکمل طور پر پانی پھیر دیا لیکن میرے پروردگار کی سلگائی ہوئی آگ سے تم کو یقینا کوئی نہیں بچا سکے گا ، اس طرح دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے لئے خرابی ہوئی اور تم ذلیل ہو کر رہ گئے ۔
Ayah 21:71ہم نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) دونوں کو برکت دیئے گئے علاقہ کی طرف نکال دیا :
71۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں نے جو طوفان بدتمیزی اٹھایا تھا اور جو خفیہ چال چلی تھی اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو جب اس سے مکمل طور پر ان کو محفوظ رکھا تو اس کے لئے طریقہ وہی اختیار فرمایا جو دوسرے سارے نبیوں اور رسولوں کے لئے سنت اللہ جاری وساری رہی کہ آپ کو اس علاقہ سے ہجرت کا حکم دے دیا اور اس طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کے ساتھ چلتے چلاتے شام و فلسطین کی زمین کی طرف نکل آئے اور اس زمین کو اللہ نے دینی ودنیاوی برکتوں سے بھر دیا ، دنیاوی برکتوں کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو نہایت ہی زرخیز بنایا اور آپ نے اس سرزمین پر آکر بہت بڑا حصہ اس کا آباد کیا اور بھیڑوں بکریوں کا بہت بڑا ریوڑ بنایا اور آہستہ آہستہ آپ کی اولاد نے کاشتکاری ‘ زمینداری اور تجارت اور بڑے بڑے ریوڑ پالنے کا کام کیا اور بہت ترقی پائی اور یہی وہ علاقہ ہے جو تقریبا دو ہزار سال مسلسل انبیاء ورسل کی سرزمین رہا اور خصوصا سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے ساتھ نبوت و رسالت کو خاص کردیا گیا ، تورات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کل تین بھائی تھے اور آپ کے دوسرے بھائیوں کا نام نحور اور حاران تھا اور کہا گیا ہے کہ لوط (علیہ السلام) حاران کے بیٹے تھے اور اسی طرح وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے ہوئے تھے جو ہجرت شام و فلسطین میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہے ۔
Ayah 21:72ہجرت کے بعد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اولاد اور اولاد در اولاد عطا کی :
72۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب عراق سے ہجرت کر کے نکلے تو اس وقت آپ کی اہلیہ سیدہ سارہ بھی آپ کے ساتھ تھیں اور اس ہجرت کے راستہ سے سیدہ ہاجرہ بھی آپ کو بادشاہ مصر نے اپنی بیٹی کی خدمت کے لئے آپ کے ساتھ کردیں جس سے آپ نے نکاح کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت سنائی اور اس بشارت کے بعد موعود بیٹا پیدا ہوا لیکن ابھی تک سیدہ سارہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی ۔ زیر نظر آیت میں جس بیٹے کی خوشخبری سنائی گئی یہ بیٹا سارہ ہی کے بطن اطہر سے پیدا ہونے کی خبر دی گئی تھی ، الحمد للہ کہ اللہ نے سارہ کو بھی موعود بیٹا عطا کردیا اور ساتھ اس بات کی خوشخبری بھی سنا دی کہ یہ بیٹا آپ کا رجسٹرڈ ہوگیا اس لئے کہ اس کی لمبی عمر ہوگی اور خصوصا اللہ تعالیٰ اس کو بھی صاحب اولاد کرے گا اور اس طرح تیری اولاد اور اولاد در اولاد اس علاقہ میں بڑھے اور پھلے پھولے گی یہاں تک کہ آپ کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کے ہاں جس اولاد کی خوشخبری سنائی گئی اس کا نام بھی تجویز کردیا اور فرمایا کہ اس کا نام یعقوب رکھا جائے اور اس طرح اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد اسمعیل (علیہ السلام) کو آپ نے بیت اللہ کے قریب مکہ مکرمہ میں لا بسایا اور اسحاق (علیہ السلام) کو اسی علاقہ میں رہنے دیا گیا ۔ بلاشبہ اسمعیل (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) سے آپ کے بڑے فرزند تھے اور ان دونوں بیٹوں کی الگ الگ بشارت آپ کو سنائی گئی اور اس طرح آپ کے یہ دونوں بیٹے موعود بیٹے کہلائے ، کہا گیا ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال کے قریب بتائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی عمر عطا فرمائی اور آپ کے یہ دونوں بیٹے بھی نبی بنائے گئے تھے یعنی اسحاق (علیہ السلام) بھی اور اسمعیل (علیہ السلام) بھی ۔
Ayah 21:73سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کے مناقب قرآن کریم کی زبان میں :
73۔ صالح اور نیک اولاد کا میسر آنا بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے اور یہ انعام بھی اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کے بعد خوب کیا کہ اولاد دی اور وہ ایسی اولاد تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف فرمائی کہ وہ سب کے سب ہدایت دینے والے تھے اور نیکی وتقوی اور ورع میں ایک سے ایک بڑھ کر تھے ‘ اسحاق کیا تھے کہ اسمعیل تھے اور اسمعیل کیا تھے کہ اسحاق تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل اور کرم سے اس طرح نوازا کہ ان کی اولاد اور اولاد در اولاد کو اللہ تعالیٰ نے نبی ورسول مبعوث کیا پہلے اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں وہ سلسلہ چلا اور ہزاروں سال چلتا رہا انجام کار بنی اسمعیل میں نبوت لائی گئی اور محمد رسول اللہ ﷺ کو بنی اسمعیل میں سے مبعوث فرما کر رسالت ونبوت کے منصب ہی کو ختم کردیا اور اب قیامت تک ساری دنیا کے انسانوں کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی نبوت کو عام کیا گیا اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آئے گا ۔ گویا بنی اسحاق کی نبوت کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کے بعد ختم کردیا اور بنی اسمعیل کی نبوت و رسالت کے منصب کو محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کیا گیا اور آپ کے بعد قیامت تک اب کوئی نبی ورسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں آئے گا ۔
” ہم نے انہیں پیشوائی دی تھی “ گویا ان کو امتوں کا بانی اور پیشوا بنایا تھا ۔ بلاشبہ ہر نبی اپنے منصب کے لحاظ سے پیشوا اور امام ہی ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود ایسے نبی بھی تو گزرے جن کے ساتھ ایک دو آدمیوں کے سوا کوئی نہ لگا اور ایسے بھی تھے جن کو ایک آدمی بھی میسر نہ آیا اور ساری قوم ہی مخالفت میں لگی رہی لیکن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے جتنے رسول اور نبی ہوئے سب کے سب کو اللہ تعالیٰ نے بہت تعداد دی کہ لوگ ان پر ایمان لائے اور انہوں نے ان کی اچھی طرح قیادت کی اور اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو بھی انہوں نے اچھے اعمال پر لگایا وہ نمازیں قائم کرتے رہے اور زکوۃ ادا کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہے اور خدائے واحد کے سوا انہوں نے کسی کی پرستش نہ کی اور آج جو لوگ ان کے نام لینے والے ہیں ان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اس فعل میں کتنے سچے ہیں کہ نام تو ان کا لیتے ہیں لیکن غیر اللہ کی پرستش میں لگے رہتے ہیں اور نماز و روزہ کے ناموں سے بھی واقف نہیں رہے ۔
Ayah 21:74لوط (علیہ السلام) کو علم و حکمت دیئے جانے کا مختصر ذکر :
74۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے اور بھائی حاران کے بیٹے تھے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے اور آپ ہی کے ساتھ اپنے وطن سے ہجرت کی تھی اور ان کی بیوی بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کرکے آئی تھی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس بیوی نے آپ کی مخالفت کی اور وہ آپ کے ساتھ ہجرت کے لئے نہ نکلی وہ یقینا کوئی دوسری بیوی ہوگی جو اس ہجرت کے بعد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ آپ نے کی تھی اس کے بعد اس سے نکاح کیا ہوگا جو اس قوم سے تعلق رکھتی تھی جس قوم کی طرف آپ کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا تورات میں ہے کہ مصر کے قیام میں چونکہ دونوں کے پاس کافی سازوسامان تھا اور مویشیوں کے بڑے بڑے ریوڑ تھے اس لئے ان کے چرواہوں اور محافظوں میں بہت زیادہ کشمکش رہتی تھی ، سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے چرواہے چاہتے تھے کہ اس چراگاہ اور سبزہ زار سے پہلے ہمارے ریوڑ فائدہ اٹھائیں اور لوط (علیہ السلام) کے چرواہوں کی خواہش ہوتی کہ اول ہمارا حق سمجھا جائے ، ابراہیم (علیہ السلام) نے اس صورت حال کا اندازہ کر کے سیدنا لوط (علیہ السلام) سے مشورہ کیا اور دونوں کی صلاح سے یہ طے پایا کہ باہمی تعلقات کی خوشگواری اور دائمی محبت والفت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ لوط مصر سے ہجرت کرکے شرق اردن کے علاقہ سدوم اور عامورہ چلے جائیں اور وہاں رہ کر دین حنیف کی تبلیغ کریں اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) واپس فلسطین چلے جائیں اور وہاں رہ کر اسلام کی تعلیم وتبلیغ کو سربلند کریں۔ لوط (علیہ السلام) کے سدوم آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور وہ نبوت کا پیغام ان کو پہنچانے لگے ، لیکن سدومی ایک خاص اخلاقی بیماری کے شکار ہوچکے تھے جسے ہم جنسی کا نام دیا جاسکتا ہے یا اس کو سدومیت ہی کے نام سے پکارا جانا مناسب حال ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کو لواطت کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ یہ نام کسی حال میں درست اور صحیح نہیں ہو سکتا ۔
ان کی اس مخصوص اخلاقی بیماری کا نام ہر اس جگہ لیا گیا ہے جس جگہ قرآن کریم نے لوط (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور ہر جگہ اس کو نہایت ہی گندگی کا کام قرار دیا گیا ۔ چناچہ زیر نظر آیت میں بھی اس کے متعلق فرمایا گیا کہ (آیت) ” القریۃ التی کانت تعمل الخبائث “۔ ” وہ بستی جس کے باشندے بڑے ہی گندے کام کرنے کے عادی ہوچکے تھے ۔ (آیت) ” انھم کانوا قوم سوء فسقین “۔ ” بلاشبہ وہ بڑے ہی بد راہ ‘ حد سے گزرے ہوئے لوگ تھے “ اور یہ بات بلاشبہ صحیح اور درست ہے کہ آج بھی جس فرد وشخص میں یہ بیماری پائی جاتی ہے وہ اس جیسی کئی خبیث بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اور اسی طرح وہ لوگ اس وقت بھی اس بیماری کے ساتھ بہت سی دوسری بیماریوں کا شکار تھے اور کثرت کے ساتھ تھے جس کا تفصیلی بیان سورة الاعراف کی آیت 80 ‘ 81 میں گزر چکا ہے اور سورة الاعراف عروۃ الوثقی کی تیسری جلد میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
Ayah 21:75لوط (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت میں لینے کا ذکر فرمایا :
75۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت ہی کے سہارے سارا نظام چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر یقینا رحمت الہی بھی خاص ہی طریقہ سے ہوتی ہے اس جگہ جس رحمت الہی کا ذکر ہے وہ یقینا رحمت الہی ہجرت ہی ہو سکتی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جب عذاب الہی کا وقت آیا اور اس مخصوص رات کی ابتدا ہوئی تو ملائکہ کے اشارہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے خاندان سمیت دوسری جانب سے نکل کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے جو یقینا دوسری بیوی تھی آپ کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آگئی اور آخر رات ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آبادی کا تختہ ایک نہایت ہی سخت قسم کے زلزلہ نے الٹ کر رکھ دیا اور ازیں بعد طوفان باد نے پتھروں کی بارش ان پر برسائی اور زمین کو کہیں نیچے ہی نیچے دبا کر رکھ دیا اور جہاں وہ بستیاں آباد تھیں وہاں گہرا سمندر بنا دیا گیا ۔ اس طرح وہ یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کو سچے دل سے نبی تسلیم کرنے والے جنہوں نے آپ کا کہا مان کر ہجرت کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیا ، اس جگہ ذکر اگرچہ فقط آپ ہی کا کیا گیا ہے لیکن دوسری جگہ (آیت) ” فنجینہ واھلہ اجمعین “۔ ” پھر بچالیا ہم نے اس کو اور اس کے تسلیم کرنے والوں سب کو ۔ “ (الشعراء 26 : 170) اس طرح ذکر کیا گیا ہے ۔
Ayah 21:76نوح (علیہ السلام) کی پکار اور اس کے الہی جواب کا ذکر :
76۔ نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی ورسول ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا اور حدیث میں آپ کو (اول الرسل الی الارض) (صحیح مسلم باب الشفاعۃ) میں بیان کیا گیا ہے یعنی نوح (علیہ السلام) کو زمین پر سب سے پہلا رسول بنایا گیا ہے چونکہ پیچھے لوط (علیہ السلام) کا ذکر تھا اس لئے قرآن کریم (علیہ السلام) نے (من قبل) کے لفظ اختیار کئے تاکہ کسی کو یہ غلطی لاحق نہ ہو کہ لوط (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ شاید یہ کوئی اور نوح ہوں گے فرمایا نوح (علیہ السلام) نے ہم کو پکارا اس پکارنے سے کون سی پکار مراد ہے قرینہ یہ بتاتا ہے کہ یہ وہی ندا ہے جو نوح (علیہ السلام) نے قوم کی ہدایت سے بالکل مایوس ہو کر مانگی تھی اور جو نوح (علیہ السلام) کی ” بددعا “ کے نام سے موسوم کی جاتی ہے حالانکہ ایسا نہیں کہنا چاہئے بلکہ صرف اس کو دعا ہی کہنا صحیح ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا :
(آیت) ” وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا ، انک ان تذر ھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا فاجرا کفارا “۔ (نوح 71 : 170) ” اور نوح نے دعا کی اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک کو بھی چلتا پھرتا نہ چھوڑ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور صرف فاسقوں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے ۔ “
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا اور اپنے قانون جزائے اعمال کے مطابق سرکشوں کی سرکشی اور متمردوں کے تمرد کی سزا کا اعلان کردیا اور حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے نوح (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ایک کشتی تیار کریں تاکہ اسباب ظاہری کے طور پر وہ اور مومنین قانتین اس عذاب سے محفوظ رہیں جو اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں پر نازل ہونے والا ہے ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنانی شروع کی تو کفار نے ہنسی اڑانا اور مذاق بنانا شروع کردیا اور جب ان کا ادھر سے گزر ہوتا تو کہتے خوب ! جب ہم غرق ہونے لگیں تو تو اور تیرے پیرو اس کشتی میں محفوظ رہ کر نجات پا جائیں گے ‘ کیسا احمقانہ خیال ہے یہ پہاڑی علاقہ ہے اور تیری کشتی اگر پانی آ بھی گیا تو یہ تو پانی کے پہلے ہی ریلے میں پاش پاش ہو کر رہ جائے گی پھر نتیجہ ظاہر ہے کہ کیا ہوگا ؟
قرآن کریم نے ” سنت اللہ “ کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ اس تاریخی واقعہ کو فراموش نہ کردیں کہ آج سے ہزاروں سال قبل جن اقوام نے خدا کی نافرمانی کی تھی انہی اقوام میں سے ایک قوم حضرت نوح (علیہ السلام) کی بھی تھی جب انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم کو ٹھکرایا تو ان کا حال کیا ہوا ؟ وہی جو سنت اللہ کے مطابق دوسری اقوام عالم کا ہوا جنہوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی تعلیم سے انحراف کیا تھا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرکشوں اور متمردوں کو بھی طوفان باد و باراں میں غرق کر کے تباہ وبرباد کردیا اور آپ کے مخالفین میں سے اس وقت ایک بھی نہ بچا سب کے سب بھسم ہو کر رہ گئے حتی کہ ایک حقیقی بیٹا جو آپ کی لائی ہوئی تعلیم سے انحراف کرچکا تھا اور آپ کی زوجہ بھی عذاب الہی سے نہ بچ سکے بلکہ غرق ہونے میں ان کو پہلا نمبر دیا گیا تاکہ بعد میں آنے والوں کو عبرت حاصل ہوجائے کہ عذاب الہی کا جب فیصلہ ہوجائے تو وہاں نبی ورسول جیسی محترم شخصیتیں بھی کسی کے کچھ کام نہیں آسکتیں اگرچہ عذاب دیئے جانے والے ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔ کتنا عبرت انگیز درس ہے اگر کوئی اس کو حاصل کرنے والا بھی ہو ۔
Ayah 21:77حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بھی بڑے ہی بد راہ تھے اور شرک ان کو گھٹی میں پلایا گیا تھا :
77۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے آپ کی قوم رب العزت کی توحید اور صحیح مذہبی روشنی سے یکسر نا آشنا ہوچکی تھی اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی غیر اللہ کی پرستش اور اصنام پرستی ان کا شعار تھا اور یہ بات قبل ازیں واضح کی جا چکی ہے کہ بتوں کی پرستش کرنے والے دراصل ان بزرگ شخصیتوں ہی کی پرستش کرتے ہیں جن کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے وہ بت گھڑ لیتے تھے ورنہ فی نفسہ کبھی بت کی پوجا نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کرتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح آج بتوں کی جگہ مسلمانوں میں سے مشرک قبریں لے آئیں ہیں کہ وہ قبروں کی پرستش نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ صاحب قبر کی پرستش ہوتی ہے اور دونوں میں نئے اور پرانے کا فرق ہے بلکہ یہ جدید شرک اس پرانے شرک سے زیادہ ضرر رساں اور زیادہ ایمان کی دھجیاں اڑانے والا ہے ۔
بہرحال سنت اللہ کے مطابق ان کی رشد وہدایت کے لئے بھی انہی میں سے ایک ہادی اور اللہ کے سچے رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حق کی طرف پکارا اور توحید کی دعوت دی ‘ لیکن قوم نے نہ مانا اور نفرت و حقارت کے ساتھ انکار پر اصرار کیا ‘ امراء وروساء قوم نے ان کی تکذیب وتحقیر کا کوئی پہلو نہ چھوڑا اور ان کے پیرؤوں نے انہی کی تقلید وپیروی کے ثبوت میں ہر قسم کی تذلیل وتوہین کے طریقوں کو حضرت نوح (علیہ السلام) پر آزمایا جس کی مکمل داستان آپ سورة ہود میں پڑھ آئے ، قوم نوح نے زور دار الفاظ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی تردید کرتے ہوئے آپس میں کہا کہ :
(آیت) ” وقالوا لا تذرن الھتکم ولا تذرن ودولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا “۔ (نوح 71 : 23)
” اور انہوں نے آپس میں کہا ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور ود ‘ سواع ‘ یغوث ‘ یعوق ‘ اور نسر ‘ کو نہ چھوڑو “ ۔
اور آخر میں زچ ہو کر کہنے لگے اے نوح ! اب ہم سے جنگ وجدل نہ کر اور ہمارے اس انکار پر اپنے خدا سے جو عذاب لاسکتا ہے اسے لے آ ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کی بات سن کر جواب دیا کہ عذاب الہی تو میرے قبضہ میں نہیں اگر میرے قبضہ میں ہوتا تو کبھی کے تم ختم ہوچکے ہوتے وہ تو اللہ رب العزت ہی کے قبضہ میں ہے جس نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور جس کے حکم سے میں نے تم کو اس کی خبر دی ہے وہ چاہے گا تو یہ سب کچھ ہوجائے گا تم جلدی نہ کرو جب وہ آگیا تمہارا کام تمام ہوجائے گا نہ تم رہو گے اور نہ تمہارا یہ استہزاء و مذاق ہی رہے گا اور پھر جب مقررہ وقت آگیا تو وہی کچھ ہوا جس کی خبر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس بدبخت قوم کو دی تھی ۔
Ayah 21:78داؤد (علیہ السلام) ، وسلیمان (علیہ السلام) کے ایک فیصلہ کی طرف اشارہ :
78۔ داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں باپ بیٹا ہیں ‘ دونوں نبی بھی ہیں اور بادشاہ وقت بھی ۔ داؤد (علیہ السلام) باپ تھے اور سلیمان (علیہ السلام) بیٹا۔ اس جگہ داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں کے ایک اہم فیصلہ کا ذکر ہے ۔ دونوں باپ بیٹے نے فیصلہ دیا اور قرآن کریم نے اس فیصلہ سے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کی تعریف کی اور اس کو بالکل صحیح قرار دیا اور رہتی دنیا تک یہ قانون بنا دیا کہ ہر ایک عدالت کے فیصلے کو دوسری عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے نیز یہ بھی کہ ایک عدالت کے خلاف دوسری عدالت کو فیصلہ دینے کا حق ہے اور آخری فیصلہ سپریم کورٹ ہی کا ہوگا اور اسلامی احکام کی آخری سپریم کورٹ رب ذوالجلال والاکرام کی عدالت ہی تسلیم کی گئی ہے اور اس طرح دنیوی عدالتوں کے فیصلے کا احترام بھی سکھایا گیا ہے اور اس احترام کے باوجود اس قانون کا اعلان کیا ہے کہ ایک عدالت کے فیصلے کو دوسری عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے ان حدود کے اندر رہ کر جو حدود اس کے لئے مقرر کردی گئی ہیں ۔
قرآن کریم نے اس فیصلہ کی طرف اشارہ کیا ہے فیصلہ کی تفصیل نہیں بتائی البتہ دعوی کس نوعیت کا تھا اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ فیصلہ کیا تھا اور مفسرین نے اس کی تفصیلات بھی ذکر کی ہیں ۔
زیر نظر آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں دو شخص ایک مقدمہ لے کر آئے ‘ مدعی نے دعوی کیا کہ روئداد اس طرح سنائی کہ مدعا علیہ کی بکریوں کے گلے نے اس کی تمام کھیتی تباہ وبرباد کر ڈالی ہے اس کو چرچگ کر روند ڈالا ہے ۔ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے علم و حکمت کے پیش نظریہ فیصلہ دیا کہ مدعی کی کھیتی کا نقصان چونکہ مدعی علیہ کے گلے (کے کچھ حصہ) کے برابر ہے اس لئے جتنے حصہ کے متوازن ہے اتنا حصہ گلے کا مدعی کو تاوان میں ہی دے دیا جائے ۔ (یہ ترجمہ ہم نے اپنی تفہیم کے مطابق دیا ہے) سلیمان (علیہ السلام) جو والد بزرگوار کے قریب ہی بیٹھے تھے نے اس معاملہ میں بات کرنے کی اجازت طلب کی اور باپ نے بخوشی اجازت مرحمت فرمائی تو آپ نے اپنی سمجھ کے مطابق جو آیا اس کو اس طرح بیان فرمایا کہ اس کی زیادہ مناسب شکل یہ ہے کہ مدعی علیہ کا تمام ریوڑ مدعی کے سپرد کردیا جائے کہ وہ اس کے دودھ اور اس کی اون سے فائدہ اٹھائے اور ان کی خوراک کا بندوبست کرے اور مدعی علیہ سے کہا جائے کہ وہ اس دوران میں مدعی کے کھیت کی خدمت انجام دے اور جب کھیت کی پیداوار اپنی اصلی حالت پر واپس آجائے تو وہ کھیت مدعی کے سپرد کر دے اور اپنا ریوڑ واپس لے لے ۔ داؤد (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ پسند آیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی زیر نظر آیا میں اس فیصلہ کی تحسین کی ۔ اس طرح اس فیصلہ میں سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد بزرگوار کے فیصلہ پر سبقت لے گئے ۔ (ابن کثیر)
اس فیصلہ میں بہت سی راہنمایاں رکھی گئی ہیں اگر کوئی اس سے وہ راہنمائی حاصل کرنا چاہے ؟ ۔
1۔ ایک عدالت کے فیصلے کو دوسری عدالت میں چیلنج ۔
2۔ ہر عدالت کو نئے سرے سے مقدمہ سننے کی ہدایت ۔
3۔ ایک عدالت کو دوسری عدالت کے خلاف فیصلہ دینے کی اجازت۔
4۔ فیصلہ کے سارے پہلوؤں پر نظر رکھنا نہایت ضروری ہے ۔
5۔ اگر دو عدالتوں کا فیصلہ ایک دوسرے کے خلاف بھی ہو تو کسی عدالت کو جھوٹا نہ کہنے کی ہدایت ۔
6۔ جج کی عمر کے تقاضا کا لحاظ نہ رکھنے کی راہنمائی ۔
7۔ بڑی عدالت کے خلاف چھوٹی عدالت کو فیصلہ دے لینے کی اجازت۔
اس کی وضاحت یوں ہے کہ کسی بڑی عدالت نے ایک فیصلہ دیا اس طرح کا کوئی مقدمہ ابتدائی طور پر کسی چھوٹی عدالت میں پیش کیا گیا وکیل صفائی نے اوپر کی عدالت کے حوالے سے ثابت کیا کہ اس نوعیت کے مقدمہ کا فیصلہ اوپر کی عدالت نے اس طرح کیا تھا لیکن مجسٹریٹ نے اوپر کی عدالت کے حوالہ دیئے گئے فیصلہ کے خلاف حکم دے دیا تو اس کو اس طرح حکم سنانے کا حق ہے اور اس ہدایت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اس اپنی دانش کے مطابق فیصلہ دے سکتا ہے ، یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ پھر اس کے فیصلہ کو بھی کوئی چاہے گا تو اوپر کی عدالت میں اپیل کرے گا ۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی اور بھی شقیں اس سے نکالی اور سمجھی جاسکتی ہیں ۔ اصحاب فیصلہ اس آیت پر جوں جوں غور کریں گے بہت راہنمائی ان کو مل سکے گی اگر علمائے کرام نے ان کو غور وفکر کی اجازت دی لیکن اگر وہاں سے اجازت نہ ملی تو جو حشر میرا ہے وہی ان کا ہوگا ۔
Ayah 21:79سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کی تصدیق اور داؤد (علیہ السلام) کے مناقب :
79۔ قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے سلیمان (علیہ السلام) کے اس فیصلہ کی تصدیق کردی کہ دونوں باپ بیٹے نے جو فیصلہ کیا تھا اس میں سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ صحیح تھا کیونکہ قدرت نے دونوں ہی چیزوں میں نفع اور بڑھنے کی صلاحیت رکھی تھی اس صلاحیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا جو یقینا ایک مہینہ بھر میں مکمل بھی ہوگیا ہوگا کیونکہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض فصل خصوصا وہ جن کو بکریاں بھی چر سکتی ہیں اس میں اتنی صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ پندرہ بیس دن کے بعد یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک دوبارہ صحت مند ہوجائے اور عین ممکن ہے کہ وہ دوسری فصل کے مقابلہ میں زیادہ بار آور ہوجائے ورنہ ویسا تو وہ یقینا ہوجائے گا اور ریوڑ سنبھالنے والا جب ریوڑ کو سنبھالے گا تو اس کو ایک اندازہ ہوجائے گا کہ ریوڑ کے چر جانے کے امکانات ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ ان کو چرائے گا تو ان کی اون اور دودھ سے جو فائدہ حاصل کرے گا وہ یقینا اس کی محنت سے زیادہ نہیں ہو سکتا تاہم اس کی محنت کا کچھ نہ کچھ صلہ اس کو ضرور ملے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ فصل والے نے اس محنت کے عوض میں یہ فائدہ حاصل کرنا مناسب نہ سمجھا ہو اور ویسے ہی اس نے درگزر کردیا ہو اگر ایسا ہوا ہے تو بھی یہ بات زیادتی کی نہیں ہے بلکہ فقط ایک طرح کی تفہیم کی ہے کہ جانوروں کے چرجانے میں خصوصا رات کے وقت اتنی ہی بات کافی ہے کہ مالک کی گوشمالی کی جائے تاکہ وہ آئندہ اپنے ریوڑ کی حفاظت کرے اور دوبارہ ایسا معاملہ معرض وجود میں نہ آئے رہی کھیتی تو وہ تو یقینا چند روز کے بعد محسوس بھی نہیں ہوگی کہ اس کو کسی نے چر لیا تھا ۔
چونکہ داؤد (علیہ السلام) کے فیصلہ کے مقابلہ میں یہ فیصلہ سلیمان (علیہ السلام) کا زیادہ صحیح اور حقیقت کے زیادہ قریب تھا اور دادؤ (علیہ السلام) نے بھی اس کی توثیق کردی تھی اس لئے ساتھ ہی دادؤ (علیہ السلام) کے مناقب بھی بیان فرما دیئے کہ ہم نے علم و حکمت دونوں کو عطا کیا تھا اور اس بات کا یہ نتیجہ تھا کہ باپ نے اپنے بیٹے کے فیصلے کو پسند کیا اور اس کی توثیق کردی ایسا نہیں کیا کہ باپ نے بیٹے کو ڈانٹ دیا ہو کہ جب فیصلہ میں نے کیا اور مجھ ہی سے پوچھا گیا تھا تو آپ کو یہ جرات کیوں ہوئی کہ آپ نے میری موجودگی اور پھر وہ بھی بغیر پوچھے میرے فیصلہ کے خلاف فیصلہ کیوں کیا جیسا کہ اکثر ہمارے ہاں ہوتا ہے اور یہاں تک تلقین کی جاتی ہے کہ ” خطائے بزرگاں گرفتن خطا است “۔ بزرگ غلطی بھی کردیں تو اولاد کو یہ حق نہیں کہ ان کی غلطی کو غلطی کہیں ورنہ یہ نافرمانی اور گستاخی ہوگی جو کسی حال میں بھی قابل معافی نہیں ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ چھوٹوں کو بڑوں کا ادب واحترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنا مؤقف بیان کرنا چاہئے اور پھر بیان کرنے پر بات کو ختم کردیں بزرگ تسلیم کرلیں تو فبہا ورنہ زیادہ اصرار نہ کریں بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دیں چاہیں چھوٹوں کی رائے کے مطابق عمل کریں اور چاہیں اپنی بات سے موازنہ کر کے اس پر عمل پیرا ہوجائیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان پر معترض نہ ہوں ، اور یہ بھی کہ بڑے میاں یہ خیال نہ کریں کہ چھوٹے نے بات کرکے میری بےعزتی کردی ہے نہیں بلکہ وہ خوش دلی سے چاہیں اس کو قبول کریں ورنہ دلیل کے ساتھ اس کو رد کردیں ۔
قرآن کریم نے یہی راستہ اختیار کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کو صحیح قرار دیا اور ساتھ ہی دادؤ (علیہ السلام) کے مناقب بھی بیان کردیئے کہ وہ صاحب علم و حکمت تھا اور یہ بھی کہ ہم نے پہاڑوں کو دادؤ (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا تھا اور اس طرح پرندوں کو بھی کہ وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے ۔ دادؤ (علیہ السلام) کے یہ مخصوص اوصاف قرآن کریم کی تین صورتوں میں بیان ہوئے ہیں ‘ سورة الانبیاء ‘ سورة سبا اور سورة ص میں اور اس کا ذکر ہم نے تفصیل کے ساتھ دادؤ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں کردیا ہے جو اس سورت میں ان آیات کی تفسیر کے بعد کریں گے اس لئے بار بار اس کے ذکر کی ضرورت نہیں وہیں سے ملاحظہ کرلیں ۔ قرآن کریم نے (آیت) ” تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض “۔ (البقرہ 2 : 253) ” یہ ہمارے پیغمبر ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے ۔ “ کے تحت ہم نے بیان کردیا ہے کہ بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا اصل مطلب ومقصد کیا ہے ؟
بلاشبہ دادؤ (علیہ السلام) کے متعلق بھی دوسرے انبیاء ورسل کی طرح قرآن کریم نے چند خصائص وامتیازات کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس رسول کو کس درجہ بزرگی اور عظمت عطا فرمائی ہے لیکن یہ بات واضح رہے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ خصائص انبیاء ورسل میں خاصہ کے وہ منطقی معنی مراد نہیں ہیں کہ کسی دوسرے شخص اور خصوصا کسی دوسرے نبی میں ان کا وجود ہی نہ پایا جائے اور وہ وصف صرف اس نبی کے اندر محدود ہو بلکہ اس مقام پر خاصہ سے وہ وصف مراد ہے جو اس ذات میں تمام و کمال درجہ پر پایا جاتا ہو اور اس کے ذکر سے ذہن فورا اس شخص کی جانب متوجہ ہوجاتا ہو اگرچہ بعض حالات میں اس وصف خاص کا وجود دوسرے نبیوں میں بھی جلوہ گر نظر آتا ہے گویا وہ وصف تو ہر نبی کے متعلق ہے البتہ اس وصف میں فلاں نبی زیادہ معروف ہے جو اس میں درجہ اتم موجود ہے ۔ سیدنا دادؤ (علیہ السلام) اللہ تعالیی کی تسبیح و تقدیس میں بہت زیادہ مصروف رہتے تھے اور اس خوش الحان تھے کہ جب زبور پڑھتے یا اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل میں مشغول ہوتے تو ان کے وجد آفرین نغموں سے نہ صرف انسان بلکہ وحوش وطیور بھی وجد میں آجاتے اور بلاشبہ یہ آپ کے خوش الحال ہونے کا بیان ہے جو کسی کی خوش الحانی کے متعلق انسانی زبان میں آج بھی دیا جاتا ہے ۔
Ayah 21:80دادؤ (علیہ السلام) زرہیں بنانے کے کام میں بہت ماہر تھے :
80۔ زرہ کیا ہے ؟ زرہ لوہے کی کڑیاں بنا کر ان کو کرتہ کی شکل میں جوڑنے کا نام ہے اور یہ زرہیں پہن کر میدان جنگ میں لوگ نکلتے تھے تاکہ تیر وتلوار سے محفوظ رہیں ۔ اس جگہ اس کے ذکر کی یہاں اس لئے ضرورت پیش آئی کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) نبوت و رسالت کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچاتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کرکے روزی بھی کماتے تھے جس پر ان کی گزران چلتی تھی لیکن نبیوں میں سے دادؤ (علیہ السلام) باوجود وقت کے بادشاہ ہونے کے بھی زرہیں بنانے کا کام کرتے تھے اور اس مزدوری سے وہ گزر اوقات کرتے تھے اور سلطنت ومملکت کے مالیہ سے ایک حبہ تک نہیں لیتے تھے اپنا اور اہل و عیال کی معاش کا بار بیت المال پر نہیں ڈالتے تھے بلکہ اپنی محنت اور ہاتھ کی کمائی سے حلال روزی حاصل کرتے اور اسی کو ذریعہ معاش بناتے تھے چناچہ دادؤ (علیہ السلام) کے اس وصف کو حدیث صحیح میں ان الفاظ کے ساتھ سراہا گیا ہے ۔
قال رسول اللہ ﷺ ما اکل احد طعاما قط خیرا من ان یا کل من عمل یدہ وان نبی اللہ داؤد (علیہ السلام) کان یا کل من عملہ یدہ “۔ (بخاری کتاب التجارۃ)
” رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہوا رزق ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی محنت سے روزی کماتے تھے ۔ “
شارحین بخاری نے تحریر کیا ہے کہ سیدنا دادؤ (علیہ السلام) دعا مانگا کرتے تھے کہ خدایا ایسی صورت پیدا کر دے کہ میرے لئے ہاتھ کی کمائی آسمان ہوجائے کیونکہ میں بیت المال پر اپنی معاش کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا ۔ دراصل دادؤ (علیہ السلام) کا یہ پاک جذبہ اسی پیغمبرانہ امتیازات میں سے تھا جن کا ذکر قرآن کریم نے تمام اولوالعزم پیغمبروں کی رشد وہدایت کے سلسلہ میں کیا ہے کہ ہر نبی اپنی امت کو جب پیغام الہی سناتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ :
(آیت) ” وما اسئلکم علیہ اجرا ان اجری الا علی اللہ “۔
” اور میں اس خدمت کا کوئی معاوضہ تم سے نہیں چاہتا ، میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ “
حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث بخاری کا مقصد یہ ہے کہ خلیفہ اسلام کو اگرچہ بیت المال سے بقدر کفاف وظیفہ لینا درست ہے لیکن افضل یہی ہے کہ اس پر بار نہ ڈالے چناچہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے وفات کے وقت اس تمام رقم کو واپس کردیا تھا جو انہوں نے زمانہ خلافت میں بیت المال سے وظیفہ کی شکل میں لی تھی ۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے دادؤ (علیہ السلام) کو اس کا یہ صلہ دیا کہ ایک تو ان کا نام اس سلسلہ میں زندہ ہے اور زندہ رہے گا دوسرا ان کے ہاتھ پر لوہے کو اللہ نے اس قدر نرم کردیا تھا کہ وہ حدادی کے کام میں اتنے ماہر تھے کہ دوسروں کے مقابلہ میں کئی گنا کام زیادہ کرجاتے تھے اور ستھرا بھی کرتے اور انہوں نے لوہے کے کارخانے میں لوہا نرم کرنے کا کام بھی کیا اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دادؤ (علیہ السلام) سے قبل اس صنعت یعنی لوہے کے کاروبار نے اتنی ترقی کرلی تھی کہ فولاد کو پگھلا کر اس سے سپاٹ ٹکڑے بناتے اور ان کو جوڑ کر زرہ بنایا کرتے تھے لیکن یہ زرہ بہت بھاری ہوتی تھی اور چند قوی ہیکل انسانوں کے علاوہ عام طریقہ سے ان کا استعمال بہت مشکل اور دشوار سمجھا جاتا تھا اور میدان جنگ میں سبک خرامی دشوار ہوجاتی تھی سیدنا دادؤ (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت بخشی کہ انہوں نے ایسی زرہیں ایجاد کیں جو باریک اور نازک زنجیروں کے حلقوں سے بنائی جاتی تھیں اور ہلکی اور نرم ہونے کی وجہ سے میدان جنگ کا سپاہی ان کو پہن کر بآسانی نقل و حرکت بھی کرسکتا تھا اور دشمن سے محفوظ رہنے کے لئے بہت عمدہ ثابت ہوتی تھیں اور اس کو قرآن کریم کی زیر نظر آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زرہیں بنانا سکھا دیا کہ تمہیں ایک دوسرے کی زد سے بچائیں پھر کیا تم شکر گزار ہو ۔ “ اور دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان کیا کہ ” اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے لئے لوہا نرم کردیا اور کشادہ زرہیں بناتے اور اندازہ کے ساتھ کڑیاں جوڑتے اور بلاشبہ تم جو کچھ کرتے ہو ‘ میں اس کو دیکھتا ہوں ۔ “