21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرقان اور روشنی اور متقیوں کے لیے نصیحت دی تھی

موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو دی گئی نصیحت کا ذکر : 48۔ زیر نظر آیت میں نصیحت کا رخ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو دی گئی ہدایت کی طرف پھیر دیا جا رہا ہے تاکہ ذہن میں ایک طرح کی وسعت پیدا ہوجائے اور اس طرح متذکرہ صدر مقاصد پر گزشتہ دعوتوں اور قوموں کی سرگزشتوں سے استشہاد کیا جائے اور یہ قرآن کریم کا ایک خاص انداز ہے کہ وہ بار بار اس طرح انتقال مضمون کرتا رہا ہے ۔ فرمایا آج تم کو یہ عجیب سی بات نظر آرہی ہے حالانکہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی ہدایت کو بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہو مکہ والوں کا تعجب تو ہوا جو ہوا لیکن آخر اہل کتاب کو تعجب کیوں ؟ اگر آج تم کو محمد رسول اللہ ﷺ نظر آتے ہیں تو تم کو تعجب ہوتا ہے ؟ آخر کیوں ؟ کل موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) بھی نبی ورسول تھے تو کیا وہ بشر نہ تھے ؟ پھر جب تم کو ان کی بشریت پر تعجب نہ آیا تو آج تم متعجب کیوں ہو ؟ پھر ان دونوں بھائیوں نے بھی یہی کام اپنی قوم میں نہیں کیا تھا جو آج محمد رسول اللہ ﷺ اپنی قوم میں سرانجام دے رہے ہیں ؟ کیا وہ دونوں بھائی اللہ کے مقبول اور محبوب ہونے کے باوجود اللہ کے بندے تھے اور بشر بھی تھے تو تم کو محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر یہ ایک بندہ اور بشر ہے تعجب کیوں ہو رہا ہے ۔ غور کرو کہ نہ وہ الہ و معبود تھے اور نہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے الہ و معبود ہونے کا دعوی کیا ہے اور نہ ہی اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا دعوی کرسکتا ہے یہ شیطان کے چیلوں ہی کا کام ہے کہ وہ چاہیں کیا کیا دعوی کریں ۔ اللہ کے بندوں نے ہمیشہ توحید الہی کا درس دیا ہے اور وہی ہمارا آخر رسول محمد رسول اللہ ﷺ دے رہا ہے اس کو مانو گے تو تمہارا فائدہ ہے اور ضد وہٹ دھرمی سے کام لو گے تو نقصان بھی ظاہر ہے کہ تمہارا ہی ہوگا ۔ ہم نے کو کچھ موسیٰ و وہارون (علیہما السلام) کو دیا وہ کیا تھا ؟ وہ حق و باطل میں تمیز کرنے والی چیز تھی جو سراسر روشنی تھی لیکن متقین کے لئے اور یہی چیز آج ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو دے رہے ہیں جس کو قبول کریں گے تو صرف وہی لوگ جو متقی ہوں گے ۔
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

ان متقیوں کے لیے جو اپنے پروردگار کی ہستی سے بغیر اسے دیکھے ہوئے ڈرتے رہتے ہیں اور آنے والی گھڑی کے تصور سے بھی لرزاں رہتے ہیں

نصیحت قبول کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ جو قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں : 49۔ قیامت کبری اور قیامت صغری دو نام ہیں لیکن حقیقت دونوں کی ایک ہی ہے قیامت کبری تو وہی ہے جو بہت سے ناموں سے قرآن کریم میں موسوم کی گئی ہے اور قیامت صغری موت کو کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس دنیوی زندگی کی موت آجانے کے بعد دوبارہ اس زندگی میں آنے کا کوئی تصور موجود نہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے لہذا جو شخص اس دنیوی زندگی کے دن پورے کرکے یہاں سے رخصت ہوگیا گویا اس کو وہ قیامت ہی آگئی جس کو قیامت کبری کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ اہل مذاہب میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی نوع سے ہر جگہ موجود ہے اور اس کا مجمل تذکرہ تمام آسمانی کتابوں میں پایا جاتا ہے تورات میں بھی اس کے اشارے موجود ہیں اور زبور میں بھی اس کی تصریحات موجود ہیں اور اس کو ” عدالت کا دن “ کہا گیا ہے (زبور 9 : 16) اور انجیل میں فریسیوں کے تذکرہ میں اس کا تذکرہ میں اس کا ذکر موجود ہے ۔ (انجیل مرقس 12 : 24) سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے صدوقیوں کے مقابلہ میں توریت کی ایک آیت سے حیات اخروی کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ (متی 22 : 21 ‘ 22) ‘ (مرقس 12 : 18) اور مکاشفات یوحنا میں بھی اس کی پوری تفصیل موجود ہے ۔ ہندو ” پرلے “ کے نام سے اس عقیدہ پر یقین رکھتے تھے اور قرآن کریم میں اور احادیث میں اس کی پوری پوری وضاحت پیش کردی گئی ہے جس کے بعد کسی طرح کی کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی ، قرآن کریم میں اس کا سب سے پہلا نام جو پہلی ہی سورت میں آیا ہے وہ (یوم الدین) ہے یعنی وہ عمومی جزاء اور ربانی عدالت کا دن ہوگا اور علاوہ ازیں اس کے بہت سے نام قرآن کریم میں جگہ جگہ آئے ہیں مثلا : (الساعہ) مقررہ وقت ‘ وہ گھڑی ‘ (الیوم الحق) سچادن ‘ (الیوم الموعود) موعودہ دن ‘ (الیوم الازفۃ) قریب آنے والی مصیبت کا دن ‘ (الیوم الاخر) پچھلا دن ‘ (الغاشیۃ) چھا جانے والی ‘ (الوقت المعلوم) مقررہ وقت ‘ (القارعۃ) کھڑ کھڑانے والی ‘ (الطامۃ الکبری) بڑی بھاری مصیبت ‘ (الحاقۃ) ضرور آنے والی گھڑی ‘ (النبا العظیم) بہت بڑی خبر ‘ (یوم عظیم) ایک بڑا دن ‘ (یوم البعث) دوبارہ جی اٹھنے کا دن (یوم التلاق) باہم ملنے کا دن ‘ (یوم الجمع) اکھٹے ہونے کا دن ‘ (یوم الحسرۃ) حسرت کا دن ‘ (یوم الفصل) فیصلہ کا دن ‘ (یوم القیامۃ) کھڑے ہونے کا دن ‘ (یوم معلوم) جانا ہوا دن ‘ (یوم عسیر) سخت دن ‘ (یوم عصیب) ” مشکل دن ‘ (یوم التناد) پکار کا دن ‘ (یوم الحساب) حساب کا دن ‘ (یوم الخروج) نکلنے کا دن ‘ (الوعد) وعدہ ‘ (امر اللہ) اللہ کا حکم (الواقعۃ) وقوع پذیر ‘ (الصاخۃ) بہرا کردینے والی ۔ یہ تو وہ نام ہیں جو اسم مفرد کے طور پر آتے ہیں یا صفت کی صورت میں ہیں ‘ علاوہ ازیں فقروں ‘ جملوں اور ترکیبوں کے ساتھ اس کے اور بھی بکثرت نام قرآن کریم میں آئے ہیں مثلا : (یوم ینفخ فی الصور) (الانعام ‘ النحل ‘ طہ) جس دن نرسنگھا پھونکا جائے گا ۔ (یوم ینفع الصادقین صدقھم) (المائدہ) جس دن سچوں کو ان کی سچائی کام دے گی ۔ (یوم لا ینفع مال ولا بنون) (الشعرائ) جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد۔ (یوم یعض الظالم علی یدیہ) (الفرقان) جس دن گناہگار اپنے دونوں ہاتھ چبائے گا ۔ (ویوم تشقق السمآئ) (الفرقان) جس دن آسمان پھٹ جائیں گے ۔ (ویوم یقوم الاشھاد) (مومن) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے ۔ (ویوم نحشرمن کل امۃ فوجا) (النمل) جس دن ہم ہر قوم سے ایک گروہ کو اکٹھا کریں گے ۔ (یوم یقوم الناس لرب العلمین) (مطففین) جس دن لوگ جہان کے پروردگار کے لئے کھڑے ہوں گے ۔ (یوم یفرالمرء من اخیہ ، وامہ وابیہ ، وصاحبتہ وبنیہ) (عبس) جس دن آدمی اپنے بھائی اپنی ماں اور باپ اپنی بیوی اور بیٹوں سے بھاگے گا ۔ (یوم لا تجزی نفس عن نفس شیئا) (البقرہ) جس دن کوئی شخص کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ (یوم تشھد علیھم السنتھم) (النور) جس دن ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی ۔ (یوم لا تملک نفس لنفس شیئا) (الانفطار) جس دن کوئی دوسرے کے لئے کچھ بھلا نہ کرسکے گا ۔ (یوم لا یغنی مولی عن مولا شیئا) (الدخان) جس دن کوئی دوست کسی دوست کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گا ۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے اور اوصاف اس ہولناک دن کے بیان کئے گئے ہیں جن سے اسی عظیم الشان دن میں انسان کی بیکسی ‘ عاجزی اور اپنے اعمال کے سوا کسی دوسری چیز سے کام آنے سے قطعی مایوسی ظاہر کی گئی ہے ان ناموں اور اوصاف کو اچھی طرح غور وفکر کے ساتھ پڑھ لینے سے کافی حد تک اس کے متعلق علم حاصل ہوجائے گا اور کتنے ہی پردے خود بخود چھٹ جائیں گے اور انسان کو متقی کے اوصاف سے ایک حد تک علم حاصل ہوگا ۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ بھی نصیحت ہے ، برکت والی ، ہم نے اسے نازل کیا پھر کیا تمہیں اس سے انکار ہے ؟

قرآن کریم ایک نصیحت ہی تو ہے پھر تم انکار کیوں کرتے ہو ؟ 50۔ جس طرح دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ہم نے ہدایت نازل کی جیسے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات ‘ داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اسی طرح یہ ” ذکر “ یعنی قرآن کریم ہم نے تم پر نازل کیا جو باران رحمت کی طرح یکسر خیروبرکت ہے لیکن اس برکت کو حاصل کرنے کے لئے زرخیز زمین کی بھی ضرورت ہے جس میں صلاحیت نمو موجود ہو وہ شور اور پتھر کی چٹان نہ ہو اس طرح یہ قرآن کریم بھی اس دل و دماغ کے لئے سراسر رحمت ہے جس کی ساری صلاحیتیں ختم نہ ہوچکی ہوں اس میں غور وفکر اور سمجھ وسوچ اور عقل سے کام لینے کی طاقت موجود ہو اور وہ ناپاکی کا ڈھیر بھی نہ بن چکا ہو کہ بارش روحانی سے اس پر تعفن پیدا ہونا شروع ہوجائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اے قریش مکہ ! تمہاری اکثریت کی حالت شور زمین ہی سے ملتی جلتی نظر آتی ہے کیونکہ تم سراسر انکار ہی انکار کئے جا رہے ہو ۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا بالکل مختصر سا ذکر کیا کیونکہ گزشتہ سورت میں وہ تفصیل کے ساتھ گزر چکا اور اس مختصر ذکر کے بعد جملہ معترضہ کے طور پر مخاطبین قرآن کریم کی طرف اشارہ کیا اور پھر دعوت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف رخ پھیر دیا ۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے درجہ کے مطابق سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اس کی حالت سے بیخبر نہ تھے

ابراہیم (علیہ السلام) کو رشد وہدایت عطا کئے جانے کا بیان اور انجام : 51۔ (رشد) ہدایت ‘ صلاحیت ‘ ارادہ یابی ‘ بھلائی ‘ راستی ‘ ہوشیاری اور حسن تدبیر کو کہتے ہیں ۔ ” رشد “ اور ” رشد “ میں فرق یہ ہے کہ ” رشد “ امور دینیہ اور امور دنیویہ دونوں میں استعمال ہوتا ہے اور ” رشد “ صرف امور دینیہ اور اخرویہ میں بولا جاتا ہے اور راشد اور رشید دونوں کے لئے آتا ۔ زیر نظر آیت میں (رشدہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو امور دینویہ اور امور اخرویہ دونوں میں راستی ‘ نیکی ‘ بھلائی اور راہ یابی عطا کی گئی تھی۔ اور اسلام میں اس کی طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” اس سے پہلے ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے درجے کے مطابق سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی “ یعنی وہ دنیا کی زندگی کی بھی پوری پوری صلاحیت رکھتا تھا اور آخرت کی بھی اس کو وافر سمجھ بوجھ عطا کی گئی تھی گویا وہ ہر لحاظ سے ” عقل سلیم “ رکھتا تھا ۔ یہ وضاحت اس لئے فرما دی کہ بعض اوقات ایک شخص دنیوی معاملات میں بہت عقل وفکر اور سمجھ سوچ رکھتا ہے اور اس سے کام بھی لیتا ہے اور دنیا میں ترقی کرتے کرتے وہ دنیوی امور میں بہت بڑا لیڈر ‘ قائد اور راہنما بن جاتا ہے اور اس کی باتیں بھی بہت سلجھی ہوئی اور انداز بھی خوب ہوتا ہے لیکن دین کے معاملہ اور آخرت کی فکر سے بالکل بےفکر ہوتا ہے اور کبھی کبھی اس کا عکس بھی دیکھنے میں آیا ہے اگرچہ انبیاء کرام اور رسل عظام کو دونوں ہی طرف سے وافر حصہ ملتا ہے تاہم وہ بھی ایک دوسرے پر بعض معاملوں میں فضیلت رکھتے ہیں جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی اعظم وآخر ﷺ کے علاوہ بہت سی باتوں میں دوسرے انبیاء ورسل پر فضیلت حاصل تھی اور ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا کہ وہ دین و دنیا دونوں امور میں اپنا ثانی اس وقت نہیں رکھتے تھے اور قرآن کریم نے ان کی زندگی کے جتنے واقعات بیان کئے ہیں ان سب میں یہ عنصر واضح نظر آتا ہے ۔
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوجا پر تم جم کر بیٹھ گئے ہو ؟

ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ ان تماثیل کی کیا حقیقت ہے ؟ : 52۔ (تماثیل) جمع ہے (تمثال) کی اور (تمثال) صورت کو کہتے ہیں وہ انسان کی ہو یا اور کسی جاندار وبے جان کی ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں آپ کی قوم کے لوگ مختلف گمروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے اور ہر گروہ کے لئے الگ الگ معبود اور حاجت روا ومشکل کشا تھے بعض لوگ سورج کی پرستش کرتے اور بعض چاند کی اور ایسے بھی تھے جو ستاروں کی پرستش کرتے تھے اور ان کو اپنا معبود بیان کرتے تھے اور وہ بھی کرتے تھے جنہوں نے انسانوں کی شکل و صورت کے بت بنا رکھے تھے اور وہ اپنے قومی بزرگوں کی یاد میں نت نئے بت گھڑتے اور تراشتے تھے اور پھر انہی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے ، ممکن ہے کہ جس طرح بزرگوں اور ولیوں کو حاجت روا اور مشکل کشا جاننے والوں نے ان ولیوں اور بزرگوں کے جس طرح بت تراشے ہوئے تھے باقی لوگ بھی اپنے اپنے معبودوں کی شکلیں اور مورتیں بھی بناتے ہوں کیونکہ ان ساری چیزوں کا تعلق زمانہ کے رواج کے ساتھ ہے اور ہر زمانہ کے اپنے اپنے رواج اور ہر قوم اور گروہ کے اپنے رواج ہیں جس طرح آج کل مسلمانوں کی اکثریت کے رواج میں بتوں کی بجائے قبروں نے لے لی ہے اور اس طرح وہ اپنے اپنے علاقائی بزرگوں اور ولیوں کے مزاروں پر حاضری دینے کو مشکلات کامل تصور کرتے ہیں اور وہاں اس سے زیادہ بڑھ چڑھ کر شرکیہ کام ہوتے ہیں جو دوسری قومیں اپنے بتوں کے لئے کرتی ہیں اور یہ سب کچھ انہی تماثیل میں آتا ہے جس کے متعلق ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں اور اپنے والد حقیقی سے سوال کیا تھا کہ یہ تماثیل کیا ہیں ؟ جن تماثیل کی تم تعظیم کرتے اور ان پر چلہ کشیاں کرتے اور مراقبے میں بیٹھے ہو اور (ما) اس جگہ سوالیہ ہے تو بھی ایسا سوال جس میں تحقیر کا پہلو نمایاں ہوتا ہے گویا پوچھ رہے ہیں کہ یہ بےحقیقت تماثیل کیا ہیں جن کے لئے تم اس قدر اہتمام کرتے ہو اور یہ بڑے بڑے مندر اور عمارتیں بناتے ہو اور ان کے گرویدہ ہو رہے ہو ۔
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو دیکھا وہ انہی کی پوجا کرتے تھے

قوم کے لوگوں کے پاس اس سوال کا کوئی واضح جواب موجود ہی نہ تھا وہ کیا کہتے : 53۔ رسم و رواج کی بھلا کوئی اصل ہوتی ہے کہ وہ کیا ہے ؟ وہ جواب کیا خاک دیتے ‘ انہوں نے سوال سنا تو کوئی جواب نہ آیا اور کہنے لگے ابراہیم ! ہم نے تو اسی طرح اپنے باپ دادا کو کرتے پایا ہے اور ہم بھی انکی پیروی میں اسی طرح کر رہے ہیں دیکھو تیرا والد بھی تو یہی کچھ کر رہا ہے جو ہم سب کر رہے ہیں پھر تجھے اس طرح پوچھنے کی آخر ضرورت کیوں ؟ بس ہمارے آباء و اجداد ان کی اس طرح پرستش کرتے تھے اور اسی طرح ان پر اپنی نذر ونیاز پیش کرتے تھے اور آج ہم بھی کر رہے ہیں ‘ کیا باپ دادا کبھی غلط بھی کرتے ہیں ؟
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یقین کرو تم خود بھی اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہو

ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو صاف سنا دیا کہ تم اور باپ دادا سب گمراہی میں ہو : 54۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ذرا دیر نہ لگائی اور ان کو کھری کھری اور بغیر کسی استعارہ کے بات سنا دی کہ تم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ باپ دادا بھی کبھی غلط ہوتے ہیں کیوں نہیں ” یقین کرو تم خود بھی اور تمہیں باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے جن کو یہ جواب سنایا ان میں قوم کے سارے گروہوں کے لوگ موجود ہیں اور اپنے عزیز و رشتہ بلکہ باپ بھی موجود ہے اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی شخصیت ہے جس نے ایسا صاف اور واضح جواب دے دیا اور ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کی ، اس وقت کی بات کہہ دینا اور سن لینا آسان ہے ذرا ان لوگوں کو کوئی ایسا جواب سنا کر تو دیکھے جو دن رات مقبروں اور خانقاہوں کے چکر کاٹتے اور ان جگہوں پر نذرانے پیش کرتے ہیں اور ان وزیروں ‘ مشیروں اور صدور کو جو ان خانقاہوں پر حاضریاں دیتے اور وہاں چادریں چڑھاتے اور رسم غسل ادا کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ ایسے سب لوگ ان لوگوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں جن لوگوں سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو واسطہ پڑا تھا ۔ وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سے قبل آئے ہوئے رسولوں کی تعلیم کو مکمل طور پر بھول چکے تھے اور آج ہمارے پیغمبر آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم ہر لحاظ سے موجود ہے اور اس کے داعی بھی دعوت دیتے چلے آرہے ہیں۔
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

اس پر انہوں نے کہا تو ہم سے سچ مچ کہہ رہا ہے یا مزاح کر رہا ہے ؟

سامعین نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سنی اور کہا کہ یہ صحیح بات آپ کہہ رہے ہیں یا مذاق کر رہے ہیں : 55۔ چونکہ مزاح اور دل لگی میں انسان بہت کچھ کہہ جاتا ہے اور سننے والے بھی اس کو برداشت کر جاتے ہیں ۔ اس لئے قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سن لی اور اس وقت برداشت بھی کر گئے اور پوچھنے لگے کہ یہ بات از راہ مذاق آپ کہہ رہے ہیں یا سچ مچ آپ اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات کیوں کہی ؟ اس لئے کہ ان کی نظر میں یہ بات انوکھی اور عجیب تھی اس لئے وہ باور نہ کرسکے کہ کوئی شخص سوچ سمجھ کر بھلا ایسی بات کہہ سکتا ہے اس لئے ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر احساس ہوا کہ یہ الھڑ جوان ہے اور جوانی کے نشہ میں اس نے یہ بات بغیر سوچے سمجھے کہہ دی ہے اس لئے انہوں نے دوبارہ سوال کیا کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہو واقعی اپنا نقطہ نظر بیان کر رہے ہو یا محض ایک طرح کی دل لگی کر رہے ہو ؟ ایسی بات وہ بھی ابراہیم کے منہ سے جو ایک مذہبی گھرانے کا فرد تھا اور جس کا باپ قوم کا ایک پروہت تھا جس کا خاندانی پیشہ ہی ان تماثیل کا احترام اور ان صورتوں کے نت نئے نمونے تراشنے اور بنانے کا تھا اور ایک طرح کا طرح مصرعہ بھی تھا تاکہ ابراہیم کے لئے ایک بچنے کی راہ نکل آئے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ اتنا زبردست جملہ ہے کہ اسی جملہ سے مشتعل ہو کر قوم کے لوگ اس کا تیاپانچا کرسکتے ہیں لیکن ابراہیم (علیہ السلام) ان کی اس مصلحت کو کب قبول کرنے والے تھے ۔
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ، نہیں میں کہتا ہوں آسمان اور زمین کا پروردگار جس نے ان سب کو پیدا کیا وہی تمہارا بھی پروردگار ہے ، میں اس حقیقت پر تمہارے آگے گواہ ہوں ؟

ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی مزید ایک قدم آگے بڑھایا اور ان کو جواب دیا : 56۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کا یہ کلام سنا جو بہت مصلحت پسندانہ تھا تو آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے اور ان کی اس مصلحت کو نظر انداز کرتے ہوئے فرمایا کہ میں مذاق کیوں کروں گا ‘ یہ مذاق ہرگز نہیں ” بلکہ میں تو صاف کہتا ہوں کہ آسمان و زمین کا پروردگار جس نے ان سب کو پیدا کیا وہی تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں اس حقیقت پر تمہارے سامنے گواہ ہوں ؟ “ کس قدر صاف اور واضح الفاظ میں بغیر کسی تعریض کے اعلان کردیا کہ میں اس بات کی شہادت دے رہا ہوں اور بآواز بلند اور پکار پکار کر کہہ رہا ہوں کہ جن کو تم نے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا ہے یہ سب اپنی مشکلات کو بھی حل نہیں کرسکتے ‘ اس لئے کہ یہ سب مخلوق ہیں اور ان سب کا خالق وہی ہے جس نے تم کو اور مجھ کو پیدا کیا ہے ۔ اس فقرہ نے مزید اس بات کی وضاحت بھی کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) ان بتوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ ان کی بات کر رہے ہیں جن کے ان لوگوں نے بت بنا رکھے تھے اور وہ اللہ کے نیک بندے ہی تھے جن کی وفات کے بعد ان لوگوں نے بت تراش لئے تھے جس طرح آج بہت سے مسلمان اپنے تسلیم شدہ بزرگوں کے مقبرے اور روضے تعمیر کرلیتے ہیں جو گزشتہ مشرکین سے زیادہ شرک کے باعث بنتے ہیں اور اسلامی حکومت پر لازم آتا ہے کہ وہ ان سب کو مسمار کر کے زمین بوس کر دے اور ان کا نام ونشان تک اس طرح مٹا دے کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں ۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور بخدا میں ضرور تمہارے ان بتوں کے ساتھ ایک چال چلوں گا جب تم سب پیٹھ پھیر کر چل دو گے

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد ان کو دھمکی بھی سنا دی : 57۔ توحید کے اس جوش نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو فقط ان کا جواب دینے پر بس نہیں کرنے دی اور مزید آگے بڑھ کر ان کو ایک دھمکی بھی سنا دینے پر مجبور کیا اور آپ (علیہ السلام) نے قسمیہ انداز میں ارشاد فرمایا کہ تم لوگ کس مصلحت کی باتیں کرتے ہو جہاں کوئی مصلحت وغیرہ نہیں ہے میں تو اس معاملہ میں بالکل تیار کھڑا ہوں کہ تم لوگ یہاں سے ہٹو تو میں ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کروں اور تمہارے واپس آنے تک ان کا صفایا کیا جا چکا ہو آیت میں آپ نے جو خفیہ تدبیر کرنے کا ارشاد فرمایا تو وہ اس لئے کہ آپ کی سکیم فی الواقعہ یہی تھی کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں لیکن ایسے وقت میں جب تسلی یہ کام اپنی تکمیل کو پہنچایا جاسکے ایسا نہ ہو کہ کچھ ہو بھی نہیں اور ایک شور بھی بپا ہوجائے ‘ نہیں بلکہ شور بپا ہو تو اس وقت ہو جس وقت جو کچھ بھی کرنا چاہتا ہو اس کی تکمیل ہوجائے اس لئے کہ نام پیدا کرنا مقصود نہیں بلکہ ایک کام کرنا مقصود ہے بس وہ کام ہوجائے پھر جو ہو سو ہو اس کی پرواہ نہیں ۔ ” جب تم پیٹھ پھیر کر چل دو “ کے الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اعلان کسی بھری مجلس میں کیا ہے اور وہ مجلس یقینا اس معبد کے اندر ہے جس کے بعد ان لوگوں کو یہاں سے نکل کر اپنے گھروں کی طرف جانا لازم آتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جو کچھ کرنے کا ارادہ کیا تھا اس کی تکمیل کے لئے وہ بےچین تھے اور اس قدر بےچین تھے کہ جس طرح کی حالت میں انسان کچھ نہ بتانے کے باوجود سب کچھ بتلا دیا کرتا ہے ۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چناچہ جب اس نے بتوں کو توڑ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ، صرف ایک بت جو ان میں بڑا سمجھا جاتا تھا چھوڑ دیا کہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو وقت مل گیا اور آپ نے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے : 58۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو جب بت شکنی کی سکیم پر عمل کرنے کا وقت مل گیا تو انہوں نے معبد خانہ میں جا کر ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور ایک کے سوا کسی کی حالت کو درست نہ رہنے دیا کسی کا سر نہیں تو کسی کا بازو گویا ان بتوں کا قتل عام کردیا اور یہی وہ مخفی تدبیر تھی جس کے کرنے کا اعلان اس سے پہلے ہی وہ کرچکے تھے اگرچہ اس وقت جب انہوں نے یہ اعلان کیا تھا سامعین کو اس طرح معبودان باطل کے قتل عام کا یقین بالکل نہیں تھا اور نہ وہ ایسا یقین کرسکتے تھے کہ ابراہیم اتنا بڑا قدم جو پوری قوم کے خلاف ہو اٹھا سکتے ہیں ۔ وہ ایک بت جس کو آپ نے چھوڑا یقینا وہ ایسا تھا کہ اس کو توڑا جا ہی نہ سکتا ہو کہ پتھر اور مٹی کے علاوہ کسی سخت دھات سونے ‘ چاندی ‘ تانبے وغیرہ کا ہونے کے باعث توڑا نہ جاسکا ہو ۔ یہ بات تو سب کی آنکھیں دیکھ کر فیصلہ کرلیتی ہیں کہ اس کو کیوں نہیں توڑا گیا کہ یہ ٹوٹنے کے قابل نہیں تھا لیکن آپ نے اس بات سے بھی فائدہ حاصل کیا جو ابراہیم (علیہ السلام) جیسے انسان ہی کے حصے میں آسکتا تھا اور آپ ہی کی عقل و دانش نے اس سے وہ فائدہ حاصل کیا اور اس طرح کیا کہ پوری قوم کی قوم مبہوت ہو کر رہ گئی چناچہ اس کا ذکر آگے آرہا ہے ۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ؟ جس کسی نے کی ہو وہ بڑا ہی ظالم ہے

وہ جب واپس معبد میں آئے تو معبودوں کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے : 59۔ قوم کے لوگ بلکہ خصوصا وہ لوگ جو اس معبد کے محافظ ونگہبان تھے اور ظاہر ہے کہ انہیں میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بھی تھے وہ لوگ معبد میں آئے تو ان کی یہ حالت دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ شخص کون ہو سکتا ہے جس نے اتنا بڑا کام کیا ہے کہ ہمارے ان سب معبودوں کے اس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے بلاشبہ ان میں کتنے ہوں گے جن کے ذہن میں یہ بات بھی آئی ہوگی کہ ابراہیم کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا لیکن اس بات کا اظہار بھی تو اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ ابراہیم ہی کا خاندان تو اس معبد کا محافظ ونگران بھی تھا اس لئے انہوں نے دوسرے فقرہ میں اپنا غصہ اس طرح نکالا کہ وہ کوئی نہایت ہی ظالم وبدبخت انسان ہوگا جس نے اتنا بڑا اور اتنا برا قدم اٹھایا ہے ۔ ایسے موقعہ پر جس طرح وہ سر جوڑ کر بیٹھے ہوں گے اور آپس میں جو صلاح ومشورہ انہوں نے کیا ہوگا اس کا ذکر قرآن کریم نے نہیں کیا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ خود غور کرلو کہ جب کسی علاقہ میں کوئی بڑا کام ہوتا ہے تو اکثر وبیشتر لوگوں کو معلوم ہوتا ہے خصوصا ان لوگوں کو جس علاقہ میں یہ کام ہوا لیکن اس کا نام لینا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے تو اکثر وبیشتر لوگوں کو معلوم ہوتا ہے خصوصا ان لوگوں کو جس علاقہ میں یہ کام ہوا لیکن اس کا نام لینا اتنا آسان نہیں ہوتا اس لئے جاننے کے باوجود اس کا نام لینے کی کوئی ہمت نہیں کرتا ہاں اگر کوئی کرتا ہے تو پہلے باقاعدہ آپس میں اس علاقہ کے و ڈیرے سرجوڑ کر بیٹھتے ہیں پھر اگر وہ ہمت کرلیں تو بات چلانے کے لئے یہ بات کہتے ہیں کہ فلاں فلاں پر اس بات کا شبہ ہو سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ اس کا فعل ہو اور اس طرح پھر بعض اوقات کاروائی ہوتی ہے اور اکثر وبیشتر پھر اس کا اندر اندر کوئی فیصلہ کرلیا جاتا ہے اور چند مخصوص آدمیوں کے سوا کسی کو پتہ نہی چلتا کہ اس واقعہ کا کیا ہوا جو کل بڑی شدومد کے ساتھ اٹھایا گیا تھا ۔
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

بعض آدمیوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کو ان کے بارے میں کچھ کہتے سنا تھا ، اسے ابراہیم (علیہ السلام) کہہ کر پکارتے ہیں

انہوں نے آپس میں کہا کہ ایک ابراہیم نام کا نوجوان کچھ اس طرح کی باتیں کرتا ہے : 60۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کسی معمولی خاندان کے ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک بہت بڑے گھرانے کے فرد تھے جو مذہبی حیثیت سے بھی اور سیاسی حیثیت سے بھی ایک بہت مضبوط گھرانہ تھا اس کے ایک فرد تھے اس لئے باقاعدہ مشورہ طے کرنے کے بعد بالآخر یہ بات کہی گئی کہ ایک نوجوان جس کو ابراہیم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس کے رجحانات ایسے ایسے تھے اور اس اس طرح کا چیلنج کیا کرتا ہے ممکن ہے کہ یہ اس کی حرکت ہو کیونکہ وہی ایک ہے جو ہمارے ان معبودوں کا نام تحقیر کے ساتھ لیتا ہوا سنا گیا ہے بلکہ وہ یہ چیلنج اس سے قبل کرچکا ہے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے معبودوں کے ساتھ کچھ کر گزرنے کی دھمکی جو دی تھی وہ بقسم دی تھی اور زور دار الفاظ میں دی تھی اور ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا کہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی اور ان کی دعوت توحید بھی بالکل آشکارا اور برملا تھی ، کتنے ہی لوگ تھے جو ان کی ان باتوں سے خوب اچھی طرح واقف تھے لیکن ایک تو وہ ابھی تک ابراہیم کو ایک نوجوان آدمی سمجھ کر ان کی ان باتوں کو سنتے تھے تو ٹال دیتے تھے اور ان کے ٹالنے کا اصل باعث سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک بڑے گھرانے کے فرد ہونے کے باعث تھا اور فی الواقعہ ان کو اتنا بڑا قدم اٹھا دینے کی ایسی امید بھی نہیں تھی ۔ بہرحال انہوں نے اس وقت بھی دبی زبان سے بات کی اور نشاندہی کرتے ہوئے اتنا کہا کہ اس نوجوان کو ابراہیم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خود کیا ہوا کام ہے یا کسی اپنے حواری سے اس نے ایسا کرایا ہے کیونکہ وہی ایک ایسا سر پھیرا نظر آتا ہے جو جوانی کے نشہ میں آ کر اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

لوگوں نے کہا ، اسے (یعنی ابراہیم کو) یہاں تمام لوگوں کے سامنے بلا لاؤ تاکہ سب گواہ رہیں

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو سب کے سامنے لا کر اس سے پوچھ گچھ کرنے کا فیصلہ : 61۔ اب قوم کے مذہبی اور سیاسی و ڈیرے اکٹھے ہوگئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھری مجلس میں بلا کر پوچھنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کے اس فیصلہ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے دلوں میں یہ خطرہ تھا کہ کہیں یہ معاملہ ہمارے بڑے خاندانوں کی آپس کی چپقلش کا باعث نہ بن جائے اس لئے جو کچھ ہو سب لوگوں کے سامنے ہو تاکہ ہر آدمی یہ جان سکے کہ کس فریق نے اس نوجوان کے متعلق کیا بات کی ہے اور وہ خود کیا کہہ رہا ہے گویا اقرار و انکار جو کچھ بھی ہو سب کے سامنے ہوجائے اور اس کو چھوڑا جانا ہے تو اتفاق رائے سے ہوا اور اگر وہ کسی سزا کا مستحق ٹھہرے تو اس کی سزا کے لئے سب کے سب مل کر فیصلہ کریں اور قرار واقعی سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرسکے ۔
Ayah 21:62

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا ، اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ؟

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو مجلس میں طلب کرلیا گیا اور سرعام ان سے پوچھا گیا : 62۔ اے ابراہیم ہمارے ان معبودوں سے تو نے یہ حرکت کی ہے ؟ بلاشبہ اس کا مختصر جواب تو یہ تھا کہ ہاں ! میں ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے لیکن اس جواب سے ایسا قدم اٹھانے کا جو اصل مقصد تھا وہ سارے کا سارا فوت ہوجاتا ہے اور کوئی عقل مند یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ ایسا مختصر جواب دے کہ جو اتنا بڑا اقدام کرنے کا اصل مقصد ہے اس کو پس پشت ڈال دیا جائے اور نہ یہ اقدام اس لئے کیا گیا تھا کہ اس کو کرنے کے بعد اس سے بالکل پہلو تہی کی جائے اور اس بات کو اسی جگہ ختم کردیا جائے اس لئے آپ نے ان کو یہ نہیں کہا کہ میں تو تمہیں پہلے ہی یہ بات واضح کرچکا تھا کہ میں تمہارے ان معبودوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کروں گا ‘ اس لئے کہ اگر وہ کوئی بات بھی ایسی کرتے تو حالات جو رخ اختیار کرتے ‘ کرتے لیکن اصل مقصد بالکل فوت ہو کر رہ جاتا اور اس سے ایک نیا سلسلہ سوال و جواب یا دو خاندانوں کی مڈبھیڑ یا اس طرح کی کوئی دوسری خطرناک بات معرض وجود میں آجاتی ۔ آپ نے ان کے اس سوال کو سن کر اس سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنا چاہا اور ان کو صاف صاف اور واضح الفاظ میں بڑی دلیری کے ساتھ وہ جواب دیا جو آنے والی آیت میں سنایا گیا ہے ۔
Ayah 21:63

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

[ اس نے کہا بلکہ اس بت نے کی ، جو ان میں سب سے بڑا ہے اگر بت بول سکتے ہیں تو خود ان ہی سے دریافت کر لو

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو اس بڑے صاحب سے کیوں نہیں پوچھ لیتے ؟ 63۔ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ان معبودان باطل کے پرخچے اڑائے تھے اور ان کا قتل عام کیا ” اس نے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے لیکن ان کے ایک بڑے کو چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ اس کی طرف لوٹیں ۔ “ (21 : 58) اس طرح آپ نے جس مقصد کے لئے یہ کام کیا تھا اس کو حاصل کرنے کے لئے ان کو اس وقت یہ جواب دیا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو ان سب سے کیوں نہیں پوچھتے پھر یہ جو کچھ ہوا ہے اس بڑے ” شمس “ نے نہ کیا ہوگا جو خود ٹھیک ٹھاک کھڑا ہے ، چلو اس سے پوچھ لو تو اس سے سوال کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اس نے ہمیں اس کا یہ جواب دیا ہے اگر فی الواقع یہ معبود تمہارے تم سے سوال و جواب کرتے ہیں ‘ تمہاری سنتے ہیں اور تم کو جواب دیتے ہیں تو یہ اب بھی اچھا بھلا تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اس سے پوچھ کیوں نہیں لیتے ؟ (ان کانوا ینطقون) اسی طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو جواب بھی دیا اور صاف صاف اور واضح الفاظ میں دیا جس کا ہر لفظ یہ بات کہہ رہا ہے کہ آپ نے جو کارنامہ سرانجام دیا تھا اس کا بالکل اقرار کیا اور انکار کا اس میں کوئی پہلو موجود نہیں البتہ اقرار کا طریقہ ایسا شاندار اختیار فرمایا کہ اقرار بھی ہوگیا اور ان سے ایک نہایت اہم سوال بھی کردیا کہ وہ جواب سن کر فی الواقع مبہوت ہوگئے اور ان کی آنکھوں کے سامنے رنگ رنگ کے تارے پھرنے لگے اور اس وقت جو ان کی حالت ہوئی ہوگی وہ دیدنی تھی جس کو قلم ادا نہیں کرسکتا گویا وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ جواب سن کر شرمندگی سے ایک بار پانی پانی ہوگئے ۔ یہ جواب سنتے ہی سب پر سناٹا چھا گیا کیونکہ یہ جواب ایسا تھا جو اپنے اندر ایک بہت بڑا سوال بھی رکھتا تھا اور پھر ایسا سوال رکھتا تھا جس کا کوئی جواب ان کے پاس موجود نہیں تھا اور بجائے اس کے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر پل پڑتے اور اس کی تکہ بوٹی کردیتے اس سوال نے فی الواقعہ ان کو حواس باختہ کردیا اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر ہاتھ اٹھانے کی بجائے اپنا اپنا ماتھا پیٹ کر رہ گئے ، وہ نہ تو یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ ہمارے معبود بولتے کب ہیں جو ہم ان سے پوچھیں ؟ اور نہ ہی وہ ان سے پوچھ سکتے تھے گویا ان کی حالت اس طرح ہوگئی کہ ” پائے رفتن نہ جائے ماندن “۔ اس طرح انہوں نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو سرعام مجلس میں لانے کی جو اسکیم بنائی تھی وہ مکمل طور پر فیل ہو کر رہ گئی اور جو پروگرام انہوں نے بنایا تھا ایک دفعہ سارے کا سارا ہوا ہوگیا اور اس طرح جس بات کا وہ اعتراف نہیں کرنا چاہتے تھے اس کا اعتراف کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ کار نہ رہا اس کو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سرچڑھ کر بولے ۔ یہ بات تو بالکل صاف تھی اور جن کے متعلق تھی وہ اس کا کوئی جواب بھی نہ دے سکے تھے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس بات نے ایک نیاموضوع کھڑا کردیا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے (آیت) ” بل فعلہ کبیرھم ھذا “۔ ” بلکہ یوں سمجھو کہ اس نے کیا ہے جو ان سب میں بڑا ہے “ کہہ کر جھوٹ نہیں کہا جاسکتا ۔ بعض نے ثابت کیا کہ یہ تینوں تعریض وتوریہ ہیں اور تعریض وتوریہ جھوٹ نہیں ہوتا ۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے جھوٹ کو بعض اوقات لازم قرار دیا اور کہا کہ جھوٹ کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں بلکہ بعض اوقات جھوٹ بولنا ضروری ہوجاتا ہے لہذا جب ضروری ہوجائے تو جھوٹ بولنا ہی بہتر ہے بلکہ ایسے مواقع پر سچ بولنا گناہ ہے ، اس طرح کی کتنی ہی باتیں ہیں جنہوں نے اصل واقعہ کی حقیقت کو مستور کردیا اور اس حقیقت کو مستور کردیا جس کو حقیقت کی طرف توجہ دلانے کی وجہ سے وہ لوگ مبہوت ہو کر رہ گئے تھے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ اس کا جواب ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو کیا دیں ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس بات کو کہہ گئے جس کو کہنے کے لئے وہ کبھی تیار نہ تھے ، جس کے متعلق قرآن کریم نے ان کی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ہمیں بتایا ہے کہ انکی حالت ایسی ہوگئی کہ وہ اپنے اس قومی نظریہ پر سوچنے کے لئے مجبور ہوگئے کہ آج تک تو ہم کہتے آئے کہ یہ ہمارے معبود ہماری سنتے ہیں اور ہمیں جواب دیتے ہیں بلکہ یہ ہماری مشکل کشا اور حاجت روا ہیں لیکن اب جب کہ وہ اپنی اس مشکل کو حل نہ کرسکے اور ہمیں یہ بھی نہ بتا سکے کہ ہمارا یہ قتل عام کس نے کیا ہے تو ہم ابراہیم کو کیا جواب دیں ؟ قرآن کریم نے ان کی اس سراسیمگی کو چند لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے کہ (آیت) ” فرجعوا الی انفسھم فقالوا انکم انتم الظالمون “۔ آج وہ موجود نہیں ورنہ ہمارے مفسرین کا وہ شکریہ ادا کرتے کہ انہوں نے انکو اتنی بڑی شرمندگی سے نکالنے کیلئے ایک موضوع کھڑا کردیا اور ان کو بتایا کہ تم خواہ مخواہ گھبرا گئے ہو ابراہیم نے تو تم سے یہ سراسر جھوٹ بولا ہے اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ ضرورت کے وقت وہ اس طرح کے جھوٹ بولنے کا پہلے بھی عادی ہے دیکھو اس سے پہلے اس نے تو (انی سقیم) بھی کہا تھا جو اس کا ایک سفید جھوٹ تھا اور اس سے پہلے تمہارے بادشاہ کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہا تھا اور دل میں یہ بات رکھی تھی کہ بلاشبہ یہ میری دینی بہن ہے ۔ اب اس پر انا للہ وانا الیہ راجعون نہ پڑھا جائے تو اور کیا کیا جائے ، ایسا کیوں ہوا ؟ صحیح بخاری اور دوسری احادیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے جس طرح دوسرے انبیاء کرام اور رسل عظام کا ذکر کرتے ہوئے ان الزامات کا ذکر فرمایا جو جو الزامات ان کے ماننے والوں اور نبی تسلیم کرنے والوں نے ان پر لگائے تھے تو اس طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی فرمایا اور بتایا کہ یہود ونصاری اور مشرکین مکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک جلیل القدر نبی ورسول بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور ان کے متعلق یہ بھی بیان دیتے ہیں کہ انہوں نے تین جھوٹ بولے تھے حالانکہ قرآن کریم آپ کو (انہ کان صدیقا نبیا) بلاشبہ وہ نہایت ہی سچا نبی تھا ان کی اس بات کی واضح تردید کردی ہے گویا حدیث کا مطلب یہ تھا کہ لم یکذب ابراھیم (بزعم الیھود والنصاری) الا ثلث کذبات (فتح الباری ص 233 پارہ 13 عن ابی ہریرہ ؓ کتاب الانبیائ) ظاہر ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فقط اسلام ہی کے نبی نہیں تھے بلکہ یہود ونصاری کے بھی نبی تھے اور اسی طرح دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا بھی حال ہے اور ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ نے جو دوسری اقوام کی معروفات تھیں ان کا بیان فرمایا تو اس سے یہ سمجھ لیا گیا کہ آپ ﷺ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق ایسا بیان فرمایا ہے گویا جن جن باتوں کی آپ ﷺ نے تردید کی ان ہی باتوں کو آپ ﷺ کی طرف نسبت دے دی گئی اور آپ ﷺ کا بیان قرآن کریم کے بیان پر منطبق کرنے کی بجائے قرآن کریم کی آیت کو آپ کے تردید کردہ بیان پر منطبق کرنا شروع کردیا اور اس طرح ایک سیدھی اور صاف بات کو الجھا کر رکھ دیا گیا ۔ بعد میں آنے والوں نے قرآن کریم کی آیت کو بالکل پس پشت ڈال دیا اور آپ ﷺ کے تردید کردہ جملہ کو اصل سمجھ کر اس کی جو تشریح کرنا شروع کی تو وہ کہیں سے کہیں نکل گئے اور انجام کار نوبت یہ آئی کہ بڑے بڑے ذی علموں کو یہ لکھنا پڑا کہ : ا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ کذب ہر حال میں حرام نہیں ۔ بسا اوقات ضرورتا شارع نے اس کی اجازت دی ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس “۔ (ترمذی) ب۔ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے مگر زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب انسان پوری صداقت کا اظہار نہیں کرسکتا ۔ اگر وہ اس کے اظہار پر اصرار کرے تو اس کی راہ میں مزید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں جن میں دیانت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا قائم رکھنا ضروری ہے ۔ ج۔ تعریضات کی راہ زندگی کا ایسا لازمہ ہے کہ اس سے بچنا سخت مشکل ہے ۔ (مولانا محمد اسمعیل (رح) امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان ‘ بحوالہ حجیت حدیث ص 132) حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو چیزیں کذب (جھوٹ) کی تعریف میں ہی نہ آئیں انکو کذب (جھوٹ) میں بیان کرنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ بات اس طرح بنائے بنتی نظر نہیں آتی کذب (جھوٹ) کا تعلق تعریض و توریہ اور صداقت کے اظہار نہ کرنے سے قطعا نہیں ہے ۔ اگر کسی بات کو رسول کی زبان کہے تو آپ اور میں تو اس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ دراصل یہ کذب نہیں تھا بلکہ تعریض وتوریہ تھا ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ نبی ورسول کی بات کا موازنہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نبی ورسول کی بات ہی سے کیا جاسکتا ہے اور کرنا چاہئے یہ کسی کو حق نہیں ہے کہ نبی ورسول کی بات کا مقابلہ وموازنہ آپ کی یا میری بات سے کرے ، ہمیں افسوس ہے کہ احادیث کے تراجم کرتے وقت مترجمین نے مطلق احتیاط سے کام نہیں لیا بلکہ اس بات کا لحاظ بھی نہیں رکھا کہ ایک زبان کو دوسری زبان میں منتقل کرتے وقت کن کن چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور آج ان تراجم کی وجہ سے جو فتنہ کھڑا کیا گیا ہے اس کی طرف کبھی کسی نے دھیان ہی نہیں دیا ۔ بلاشبہ یہ علماء اسلام کی ذمہ داری تھی لیکن وہ گروہ بندی کے شرک میں مبتلا ہو کر ایسے پٹری سے اترے ہیں کہ ان کو اپنے مکتب فکر کی ترجمانی سے آج تک فرصت نہیں ملی اور شاید قیامت تک نہیں ملے گی ، وہ کوئی اور لوگ آئیں گے جو اس معاملہ میں کوشش کرسکیں گے اور وہی ہوں گے جو سوائے مومن ومسلم کے کچھ اور نہ ہوئے ۔ ہاں ! آہستہ آہستہ حالات کا رخ اس طرف جا رہا ہے کہ اللہ ایسے لوگ پیدا فرمائے گا ۔ ہاں ! بلاشبہ اللہ کے سارے کام بتدریج ہی ہوتے ہیں اور جب وقت آتا ہے وہ معرض وجود میں آجاتے ہیں ۔ اس جگہ نہایت اختصار سے بیان کیا ہے اس لئے کہ ان واقعات کی تفصیل پیچھے سورة البقرہ کی آیت 124 ‘ 141 تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول ص 525 تا 544 میں اور عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 74 تا 81 ‘ سورة ہود عروۃ الوثقی جلد چہارم میں 69 تا 76 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 35 تا 41 جلد پنجم سورة النحل آیات 120 تا 123 میں بیان کردی گئی ہیں وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔ اب قوم ابراہیم (علیہ السلام) کی خفت کے مضمون کو دیکھیں جو ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مقابلہ میں اٹھانا پڑی ۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

تب وہ آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے ، انہوں نے کہا اس میں شک نہیں ناانصافی کی بات تو تم سے ہو گئی

وہ لوگ ابراہیم کی بات سن کر اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور اپنے ظلم کو پہچان گئے : 64۔ بات کسی قدر واضح اور صاف ہوگئی کہ اس وقت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مخالفین ومعاندین نے جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو سنا تو وہ چونک گئے اور ان کی ضمیر نے ان کو وہ لعن طن کیا کہ وہ سرنگوں ہوگئے اور عقل کی جوتی نے ان کو خوب سر کو ٹے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ تو اس نوجوان کو ظالم کہتے ہو لیکن اس نے تو ثابت کردیا کہ ظالم وہ نہیں بلکہ ظالم تم ہی ہو کہ ایسی چیزوں کو معبود ‘ حاجت روا اور مشکل کشا بنائے بیٹھے ہو جو یہ صلاحیت بھی نہیں رکھتیں کہ خود اپنی ذات پر آئی مصیبت کو بھی دور کرسکیں یا کسی دوسرے سے بیان کرسکیں ۔ غور کیجئے کہ جو بات ہمارے مفسرین کو سوجھی اس کا کہیں شائبہ بھی ان کے دل میں پیدا ہوا ؟ کیا ان کے ذہن میں کہیں یہ سوال پیدا ہوا کہ ابراہیم نے ہم سے جھوٹ بولا ؟ کیا ان کی کسی بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھا ہو کہ یہ جو کچھ ہمارے معبودوں کے ساتھ ہوا یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے نہیں کیا اور یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا کہ یہ سب کچھ کون کر گیا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مجلس میں آنے سے بھی پہلے سمجھ گئے تھے کہ یہ اس نوجوان کا کام ہے انہوں نے مجلس میں تو محض آپ کو سزا دینے کے لئے طلب کیا تھا اور چاہا تھا کہ اس فعل پر اس کو نادم بھی کریں گے اور قرار واقعی سزا بھی دیں گے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرسکے لیکن انہوں نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے بات کر کے اور یہ اچھی طرح یقین کرلینے کے بعد بھی کہ یہ جو کچھ کیا ہے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے کیا اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے واضح اقرار کرنے کے باوجود یہ جرات نہ کی کہ وہ ابراہیم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات ہی کرسکیں اور ان کی سیاست اور مذہبی رہنمائی کا سارا نشہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک بات سے کافور ہوگیا ۔ یہ تو ہمارے مفسریں کا حوصلہ ہے کہ ان کو وہ بات سوجھی کہ انہوں نے اصل موضوع کو چھوڑ کر ایک ایسا غیر متعلق موضوع کھڑا کرلیا جس کے کھڑا ہونے کی کوئی گنجائش اس وقت موجود ہی نہ تھی اور حدیث میں جس بات کی تردید کی گئی تھی انہوں نے اس سے اثبات نکال کر ایک نئی بحث شروع کردی اور یہ بحث کرتے کرتے اتنے دور نکل گئے کہ جس چیز کو بچانے کے لئے انہوں نے قلم اٹھایا تھا اس چیز کے اس طرح پرخچے اڑا دیئے جس طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت ان معبودان باطل کے اڑائے تھے ، آپ غصے میں تو آرہے ہوں گے کہ میں نے کیا کہہ دیا لیکن ذرا غور کریں کہ مفسر رقم طراز ہیں : ” ایک گروہ روایت پرستی میں غلو کرکے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اسے بخاری ومسلم کے چند راویوں کی صداقت زیادہ عزیز ہے اور اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ایک نبی پر جھوٹ کا الزام عائد ہوتا ہے اور دوسرا گروہ اس ایک روایت کو لے کر پورے ذخیرہ حدیث پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ساری حدیثوں کو اٹھا کر پھینک دو کیونکہ ان میں ایسی ایسی روایتیں پائی جاتی ہیں حالانکہ نہ ایک یا چند روایات میں کسی خرابی کے پائے جانے سے یہ لازم آتا ہے کہ ساری روایات ناقابل اعتماد ہوں اور نہ فن حدیث کے نقطہ نظر سے کسی روایت کی سند کا مضبوط ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کا متن خواہ کتنا ہی قابل اعتراض ہو مگر اسے ضرور آنکھیں بند کرکے صحیح مان لیا جائے سند کے قوی اور قابل اعتماد ہونے کے باوجود بہت سے اسباب ایسے ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے ایک متن غلط صورت میں نقل ہوجاتا ہے اور ایسے مضامین پر وہ مشتمل ہوتا ہے جن کی قباحت خود پکار رہی ہوتی ہے کہ یہ باتیں نبی کریم ﷺ کی فرمائی ہوئی نہیں ہو سکتیں ۔ “ (تفہیم القرآن جلد سوم ص 167) اگر یہ بات فی الواقعہ ایسی ہی ہے جیسا کہ مولانا مودودی (رح) فرما رہے ہیں تو یہ حدیث کے پرخچے اڑانا نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کسی ” متن “ کا مفہوم غلط سمجھ لینا اور کسی ” متن کا قابل اعتراض درج ہوجانا “ دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے جہاں تک متن کا مفہوم غلط سمجھ لینے کا تعلق ہے وہ بلاشبہ ہوا ہے حدیث کے ساتھ بھی اور قرآن کریم کے متن کے ساتھ بھی لیکن جہاں تک متن کا قابل اعتراض درج ہوجانے کا وہ ایسا تصور بھی نہیں کرسکتا ، بلاشبہ احادیث کی حیثیت اسلام میں ثانوی ہے لیکن محدثین عظام نے اس میں اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ انہوں نے کھرا کھوٹا الگ کردیا ہے ۔ رہی یہ بات کہ متن کے مفہوم سمجھنے میں غلطی لگنا تو وہ بیسیوں جگہ موجود ہے اس لئے ہمارے نزدیک بلاشبہ حدیث کا متن اپنی جگہ محفوظ ہے لیکن اس کا مطلب سمجھنے میں بہرحال ایسی غلطی لگی ہے کہ جس چیز کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے تردید فرمائی ہے اس کو اثبات سمجھ لیا گیا ہے اور اس طرح کی غلطی اور بھی بیشمار جگہوں پر ہوئی ہے اور اہل اللہ کا حق ہے کہ وہ کتاب وسنت کی روشنی میں ان مقامات کی نشاندہی کرتے جائیں اور اگر کوئی صاحب علم اور صاحب فن اس سلسلہ میں قلم اٹھائے تو اس کے لئے بہت کھلا میدان موجود ہے اور کرنے کا بہت کام باقی ہے اور ظاہر ہے کہ جتنا کسی کا حصہ ہوگا اللہ اس کو اتنی توفیق بھی عطا فرما دے گا ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اسباب فراہم فرما دے اور اہل علم اس طرف متوجہ ہوں تاکہ اس پرفتن زمانہ میں وہ دین کی یہ خدمت سرانجام دے سکیں اور خصوصا اہلحدیث پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تقلید وجمود سے نکل کر اپنے منصب کی حفاظت میں قلم اٹھائیں ۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر وہ اس حال میں پڑگئے کہ سر جھکے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا تو اچھی طرح جانتا ہے یہ بت بات نہیں کرتے

اعتراف ظلم کے بعد ان کی مت ماری گئی اور نہ تسلیم کی جانے والی بات کو تسلیم کرلیا : 65۔ (نسکوا) کی اصل ن ک س ہے اور نکس کے معنی ہیں کسی چیز کو سر کے بل الٹا کردینا ۔ (غ) اور مطلب اس جگہ اس کا یہ ہے کہ انہوں نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی جس دلیل کا اعتراف کیا تھا اس سے وہ پھرگئے گویا ان کی آنکھیں کھلی تھیں کہ پھر اوندھے ہوگئے لیکن ان کے اوسان ایسے خطا ہوئے کہ جو بات کبھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے اب اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگے ” تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارے یہ معبود بات نہیں کرتے ۔ “ ان سے پوچھیں تو کیا اور پوچھیں تو کیسے ؟ حالانکہ اس سے پہلے اصل جھگڑا ہی یہ تھا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا مؤقف تھا کہ یہ نہ تمہاری سنتے ہیں اور نہ ہی کبھی جواب تم کو دیتے ہیں پھر ایسوں کو پکارنے اور سورنے کا فائدہ ؟ اور قوم کے لوگ کہتے تھے کہ تیری نہ سنتے ہوں ہم مان لیتے ہیں کیونکہ تو تو ان کا گستاخ ہے لیکن ہماری تو یہ سنتے بھی ہیں اور ہمیں جواب بھی دیتے ہیں لیکن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے عمل نے جہاں ان کے معبودوں کی گردنیں توڑیں وہاں ان کے پیروں کاروں کی گردنیں بھی جھکا دیں اور وہ نہ ہضم ہونے والی بات کو ہضم کرتے ہوئے کہنے لگے اے ابراہیم ! تو تو اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے پھر ہم ان سے پوچھیں تو کیسے پوچھیں ؟ اسی کو کہتے ہیں کہ ” لوصیاد اپنے دام میں خود پھنس کر رہ گیا۔ “ ستیاناس اس مصیبت کا کہ جب بھی کسی کو سیدھی راہ دکھائی دینے لگتی ہے تو یہ لٹھ لے کر اس کے راستے میں آکھڑی ہوتی ہے اور انسان کو یہ اندھا اور بہرا بنا کر رکھ دیتی ہے اور سیدھی راہ کی طرف آنے والے انسان کو دوبارہ الٹی راہ پھیرنے میں یہ اکثر کام کر جاتی ہے ، آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں کہ وہ بات کو سمجھتے ہیں ‘ حق کو پہچانتے ہیں لیکن جب وقت آتا ہے تو پھر اندھے اور بہرے ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جو عقیدت ان پتھر کے بتوں کے ساتھ رکھتے تھے بالکل وہی عقیدت آج ہمارے مسلمانوں کی اکثریت مزاروں اور مقبروں کے ساتھ رکھتی ہے فرق ہے تو فقط بت اور قبر کے نام کا ہے حقیقت دونوں جگہ ایک ہے کہ انہوں نے اپنے رواج کے مطابق اپنے بزرگوں اور اللہ کے نیک بندوں ‘ نبیوں اور ولیوں کے بت تراشے تھے اور ہمارے یہ نام کے مسلمانوں کی اکثریت ان گھڑے مٹی کے ڈھیروں کو پختہ کرکے بغیر تراشے ہوئے ڈھیروں کی شکل میں رکھ لیتی ہے ۔ لیکن فی نفسہ عقیدت دونوں جگہ برابر حیثیت رکھتی ہے اگرچہ ان کو یہ لوگ مشرک کہتے ہیں اور اپنے آپ کو سچے اور سچے مسلمان تسلیم کرتے ہیں ۔ اگر ہمت ہو تو سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے کسی ایک مزار اور مقبرہ کے اندر کے اس مٹی کے ڈھیر کو ہٹا کر دیکھ لو کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ ہاں ! اگر کوئی فرق ہے تو یہ کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اس حرکت کو برداشت کرکے اس سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے لیکن آج کے یہ نام کے مسلمان نہ اس بات کو برداشت کریں گے اور نہ ایسا اقدام کرنے والے کو بات چیت کا موقع ہی دیں گے اس لئے سچی بات تو یہی ہے کہ اس مواحد اول ہی کا حوصلہ تھا کہ وہ یہ کام کر گیا اور اس دلیری سے کر گیا جو شاید صرف اسی کا حصہ تھی ، اب یہ کام حکومت اسلامی کے کرنے کا ہے کسی ایک فرد کے کرنے کا نہیں لیکن اس ملک عزیز پاکستان کے حکمران تو آج تک سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں اور مصلحت اندیش ملا کے ہاتھ میں بھی اگر حکومت دیدی جائے تو وہ یہی کردار ادا کرے گا جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا کردار تھا ۔ دنیا میں اگر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کسی انسان نے یہ کردار ادا کیا تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تھی جنہوں نے مکہ کے بت پرستوں کو دکھا دکھا کر ان بتوں کو بیت اللہ کے ارد گرد کی باؤلیوں میں گرا کر اوپر مٹی ڈلوا دی اور اس سنت ابراہیمی کو ایک بار پھر زندہ وتابندہ کردیا تھا جس کا پر تو آج تک اس سرزمین کے اندر دیکھنے میں آتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو زیادہ نہیں تو آئندہ ایسی ناپاک حرکت کرنے والوں کو روکنے ہی کے لئے ہمت عطا فرما دے اور آئندہ کوئی ایسا شرک کا نیا اڈا قائم نہ کیا جاسکے ۔ لیکن شاید ۔ ع ایں خیال است ومحال است وجنوں
Ayah 21:66

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو تمہیں نہ تو کسی طرح کا نفع پہنچائیں نہ نقصان ؟

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ایسوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ! 66۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کہ مشرکین نے آدھی بات تو خود تسلیم کرلی ہے لہذا ایک قدم ان کو اور آگے لے چلو ۔ آج سے پہلے تو وہ یہ بات بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ہمارے یہ معبود نہ سن سکتے ہیں اور نہ ہماری پکار کا جواب دے سکتے ہیں بلکہ بڑے دھڑلے سے کہتے تھے ہمارے یہ معبود ہماری پکار بھی سنتے ہیں اور ہمیں جواب بھی دیتے ہیں لیکن آج انہوں نے یہ بات خود تسلیم کرلی اور کہہ دیا کہ اے ابراہیم ! تو جانتا ہے کہ یہ نہ ہماری سنتے ہیں اور نہ ہی جواب دیتے ہیں ، اب ان سے استفسار کیا جا رہا ہے کہ کیا تم ایسوں کو پکارتے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی تمہارا کوئی نقصان کرسکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ تقریر ان کے معبودوں کی بےبسی اور بےکسی آشکارا کردینے کے بعد جتنی مؤثر ہو سکتی تھی اس سے پہلے اتنی مؤثر نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس سے پہلے ان کے سامنے بات کہی جاتی تو نہ وہ برداشت کرتے اور نہ ہی ان کے لئے کچھ مفید ثابت ہوتی بلکہ وہ اس کے جواب میں سو باتیں گھڑ کر پیش کردیتے لیکن اب جب کہ ان کے معبودوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں اور وہ کود اپنی زبان حال سے اپنی بےحقیقتی اور اپنی بےبسی کی کہانی ہر صاحب عقل وفکر کو سنا رہے ہیں تو ان کے ماننے والے اور پرستش کرنے والے ان کی حمایت میں کیا کہہ سکتے تھے ، بلاشبہ نہ وہ کچھ کہہ سکتے تھے اور نہ ہی انہوں نے کچھ کہا ، لیکن اگر آج کوئی ایسی بات کرے تو آج کے مسلمان کہلانے والے اہل شرک سے اور کچھ نہ ہو سکے تو خدا کے گھر کو منہدم کرکے بھی اپنی حجت قائم کرنے سے باز نہ آئیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کتنی مسجدیں ہیں جن کو تالے لگائے گئے اور وہ ایک وقت تک کے لئے سیل کردی گئیں ان پر تالے ڈالنے والے اور تالے ڈلوانے والے کون ہیں ؟ آخر یہ مسلمان ہی تو ہیں اگر قانون کا ڈنڈا نہ ہو تو کیا ان سے ان کو منہدم کرنے میں کوئی مانع ہو سکتا ہے ؟ بہرحال وہ کافر مشرک تھے اس لئے جس بات کا جواب ان کے پاس نہیں تھا انہوں نے خاموشی اختیار کرلی اگر آج کے مسلمان مشرک ہوتے تو یقینا خاموش نہ ہوتے وہ یقینا بدتمیزی کے لئے کوئی اور راستہ نکال لیتے ۔
Ayah 21:67

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تمہاری حالت کتنی قابل افسوس ہے اور ان کی بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو کیا تم عقل سے بالکل کورے ہوگئے ؟

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جواب نہ پا کر پھر گویا ہوئے کہ افسوس ہے تم پر تم تو عقل کے بالکل کورے نکلے : 67۔ (اف) نہایت ہی افسوس کا کلمہ ہے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (اف لکم) تمہاری حالت کتنی ہی قابل افسوس ہے ، یہ کن لوگوں کو کہا جا رہا ہے ؟ انہی کو جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو سزا دینے کے لئے مجلس میں لائے تھے اور جن کا پروگرام یہ تھا کہ تم ساری مذہبی اور سیاسی پارٹیاں مل کر اس شخص کو ایسی سزا دو کہ آئندہ کوئی شخص اس طرح کی حرکت ہی نہ کرسکے لیکن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مجلس میں آتے ہی اور ان کا سوال سنتے ہی بات ایسے رخ پر چلا دی کہ ان کی سمجھ ہی میں کچھ نہ آیا اور وہ ایسے بوکھلائے کہ وہ ایک بات بھی اس سلسلہ میں نہ کہہ سکے جس سلسلہ میں وہ اس مجلس میں بیٹھے تھے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اکیلا ہونے کے باوجود باتوں ہی باتوں میں ان کو ایسا دبایا کہ وہ دبتے ہی چلے گئے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں کہاں ! وہ جھوٹے تھے کیسے کھڑے رہ سکتے تھے ایسے ہی حالات کے لئے پنجابی زبان میں یہ مصرعہ بولا جاتا ہے کہ ع مارن والے موئے محمد قدرت رب دی ہوئی : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تف ہے تم پر کہ تم کن کی پرستش کرنے لگ گئے کیا تم ایسے نادان اور ناسمجھ ہو ؟ اور مذہب اور سیاست کے ٹھیکہ دار بھی ہو ؟ اور اتنی سیدھی اور سادی بات بھی نہیں سمجھ رہے کہ جو خود مشکلات میں پھنس جاتے ہوں وہ دوسروں کے مشکل کشا اور حاجت روا کیسے ہو سکتے ہیں ؟