21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں جو ظلم و شرارت میں غرق تھیں ہم نے پامال کر ڈالیں اور ان کے بعد دوسرے گروہوں کو اٹھا کھڑا کیا

کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا اور ان کی جگہ دوسرے لوگ لاکھڑے کیے : 11۔ مکہ والوں کی ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے کہ گزشتہ قوموں کی داستانیں ایک بار پھر اپنی نگاہ میں لاؤ اور دیکھو کہ انہیں اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت کرنے سے کن نتائج کے ساتھ دو چار ہونا پڑا اور وہ کس انجام کو پہنچائے گئے بچے تو کون اور ہلاک ہوئے تو کون ؟ مان لینے والوں کا انجام کتنا اچھا رہا اور نہ ماننے والوں اور مخالفت کرنے والوں کے ہم نے کس طرح پرخچے اڑا دیئے ، آج تم بھی اسی کے مرتکب ہو رہے ہو جس کے مرتکب وہ ہوئے تھے پھر ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ گزشتہ کل جو انجام ان کا ہوا وہی انجام آنے والے کل میں تمہارا بھی ہوگا اس طرح انہوں نے بھی گویا اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم بھی اپنی ہی جانوں پر ظلم کماتے جا رہے ہو ۔ ” اور ان کے بعد دوسرے گروہوں کو لاکھڑا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ کوئی شخص بھی اس دنیا میں اپنے وجود کو ناگزیر نہ سمجھے کہ شاید اس کے اٹھتے ہی اللہ میاں کی دنیا کا ستیاناس ہوجائے گا اور وہ اجڑ کر رہ جائے گی ، اس دھرتی پر بڑے بڑے قائد اور بڑے بڑے راہنما آئے جنہوں نے اپنے خالق ہی سے بغاوت کرکے مقابلہ شروع کردیا لیکن ان کی مخالفت نے آخر رب ذوالجلال والاکرام کا کیا بگاڑا ۔ آج تم دیکھ رہے ہو کہ ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں رہا ہم ہی ہیں کہ ان کا نام اب بھی باقی رکھے ہوئے ہیں اور تم کو بتا رہے ہیں کہ آج تم بڑے بنے بیٹھے ہو اور ابھی کل کی بات ہے کہ تمہارا نام ونشان بھی نہ تھا لیکن اس زعم میں مبتلا کتنی ہستیاں موجود تھیں اور آج ان ہی کی جگہ تم ہو اور آنے والے وقت میں یقینا تمہار اہی نام ونشان اسی طرح مٹ کر رہ جائے گا جس طرح آج تم سے پہلوں کا مٹ چکا ہے اور تمہاری جگہ اس دھرتی کے مالک اور دعویدار ہوں گے ۔ اگر تم زمیندار ہو تو مال کے کاغذات کا مطالعہ کرو اور دیکھو کہ ان مربعوں کے نمبر جو آج تم کو حفظ ہیں ان مربعوں کے کتنے مالک تم سے پہلے رہ چکے ہیں اور آج ان کاغذات کے سوا تم ان کے نام بھی بھول گئے ہو یقین جانو کہ عنقریب تمہارے نام سے بھی ان کا انتقال آگے منتقل ہوجائے گا اور اس میں تو شاید پٹواری فیسیں کھانے کے لئے کچھ دیر کرے لیکن تمہارا اپنا انتقال ہوتے کتنے دیر لگے گی ؟ کیا کبھی کسی کا انتقال ہوتے نہیں دیکھا ؟ کسی کے انتقال کی خبر تم تک نہیں پہنچائی گئی ہے ؟ اس اپنے صحن کو دیکھو کہ کس طرح کوڑے کرکٹ سے اٹا پڑا ہے لیکن غور کرو کہ اس میں جھاڑو دیتے اور اس کو صاف کرتے کتنا وقت لگے گا ؟ بعینہ اسی طرح اللہ رب ذوالجلال والاکرام جھاڑو پھروا کر ان چھلکوں اور اس کوڑا کڑکٹ کی طرح تم کو اٹھوا دے گا ۔ کس بات پر ریجھ گئے ہو ؟ یہ دنیا اور اس کی تو ہر شے ہی اس کوڑا کرکٹ کی طرح عارضی ہے ۔ تم نہ سمجھو ‘ تمہاری مرضی ‘ ہم دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ تمہیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب ہمارا عذاب انہوں نے محسوس کیا تو وہ اچانک بستیوں سے بھاگے جا رہے تھے

انہوں نے جب ہمارا عذاب دیکھا تو وہ اچانک بھاگ کھڑے ہوئے : 12۔ جس طرح عذاب کے آج تم طلبگار ہو اور بار بار مطالبہ کرتے ہو کہ وہ عذاب جس کا وعدہ دیتے دیتے تم تھکتے بھی نہیں اس کو لے کیوں نہیں آتے ہو ؟ تم سے پہلے اسی طرح کی ڈینگیں وہ مارتے تھے اور اپنے رسولوں سے بار بار مطالبہ کرتے رہے اور ہم بھی ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیتے چلے گئے اور بالاخر وہ وقت آگیا جو ہمارے قانون میں طے تھا اور ہمارے عذاب نے ان کے دروازوں پر دستک دے دی تو وہ بجائے اس کے کہ دروازے بند رکھتے اور عذاب کو اندر داخل نہ ہونے دیتے انہوں نے دروازے کھولے اور اپنی اپنی کھوٹیاں اور محلات چھوڑے اور بھاگ نکلنے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن ہم نے ان کو زور دار آواز سے للکارا اور ابھی زیادہ دور نہ گئے تھے کہ ہمارے عذاب نے انہیں دبوچ لیا اور ایسا دبایا کہ ان کو ہباء منثورا کرکے رکھ دیا اور وہ (کعصف ماکول) ہو کر رہ گئے ، اگر ضرورت ہو تو سیدنا نوح (علیہ السلام) ‘ سیدنا ہود (علیہ السلام) ‘ سیدنا صالح (علیہ السلام) کی اقوام کے واقعات و حالات کو اپنی نگاہ میں لاؤ بات واضح ہوجائے گی ۔
Ayah 21:13

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

اب بھاگتے کہاں ہو ؟ اپنی اس عیش و عشرت میں لوٹو اور انہی مکانوں میں شاید تم سے کچھ دریافت کیا جائے

ہم بھاگنے والوں کو آوازیں دیتے رہے کہ ذرا ٹھہر جاؤ اور ہماری بات سنو ! : 13۔ زبان حال کو جب زبان قال سے بیان کیا جائے تو اس کی یہی صورت ہوتی ہے اور یہی ہو سکتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان کے حال کو زبان قال سے بیان کیا جارہا ہے ۔ فرمایا ہماری گرفت کی زبان ان کو آوازیں دیتی رہی کہ ذرا ٹھہر جاؤ اور بھاگو نہیں ‘ واپس آؤ تمہارے گھر تو ادھر ہیں تم کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟ ابھی تو ہم نے تم سے بہت کچھ پوچھنا ہے ۔ یہ گویا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے رب کریم صاحب جلال والاکرام کے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا ۔ تمہیں تو ان گھروں پر بڑا ناز تھا اور ان کو ٹھیوں کاروں ‘ کارخانوں اور ملوں کے مالک تھے تو یہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ کر کدھر جا رہے ہو ، یہ تو وہ عذاب تھا جس کی وہ بڑی چاہت رکھتے تھے اور جس کے طلب کرنے میں وہ کچھ زیادہ ہی چھوٹ ہوچکے تھے آج اگر وہ عذاب نہیں یا اگر ہے تو کبھی کبھی اور کم ہے تو آخر وہ جس کو ہمارے ہاں موت کہا جاتا ہے اس کی آمد کا کبھی خیال نہیں آیا کہ وہ کس طرح آجاتی ہے ، قرآن کریم میں ان سے اس طرح استفسار کیا گیا ہے کہ : غور کرو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے اور وہ بھی سمجھتا ہے کہ اب میں رخصت ہو رہا ہوں ہے بھی تمہیں بہت پیارا ‘ تمہارے پورے گھر کا انحصار بھی اس پر ہے اور تم ہو کہ تمہارے پیرومرشد بھی ہیں ‘ تم خود حکمران ہو اور تمہاری رشتہ داریاں بھی بڑے لوگوں سے ہیں تو پھر اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو سارے مل کر بچا کیوں نہیں لیتے ؟ اس کو نکلنے کیوں دیتے ؟ اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو تو اس کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ ہاں ! اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے تم سمجھو یا نہ سمجھو لیکن ہمارا کیا ہوا فیصلہ اٹل اور امٹ ہوتا ہے اس کو نہ کوئی ٹال سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مٹا سکتا ہے ۔ ( سورة الواقعہ) فرمایا یہ وہ وقت ہے کہ ہماری طرف سے ان کو آواز دی جاتی ہے کہ ” اب تم اپنی عیش و عشرت میں لوٹو “ گویا یہ ان کے ساتھ بطور طنز کہا جارہا ہے کہ صاحب تمہارا گھر ‘ تمہارا کارخانہ ‘ تمہارا دفتر تو ادھر کو ہے اور تم بھولے کیوں جا رہے ہو مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی شخص کو جو کچھ عطا ہوا اگر وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی بخشش وانعام سمجھے تو وہ اس کی رضا کے لئے کرے گا جو کچھ کرے گا اور اس طرح رخصت ہوگا تو بھی پورے اطمینان کے ساتھ کہ اس کی زندگی اور موت تو سب اللہ ہی کی رضا کی خاطر ہے لیکن جب وہ اس کو بخشش خداوندی اور عطاء الہی نہیں سمجھتا بلکہ آباء و اجداد کی میراث اور اپنی ذاتی ملکیت سمجھتا ہے تو وہ اس کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا لیکن پھر اچانک وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ اس خواب غفلت سے اٹھتا یا جاگتا ہے نہیں بلکہ اٹھایا اور جگاتا ہے اور اس وقت وہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے جس کا اس کو یقین نہیں تھا تو وحشت سے بھاگنے لگتا ہے لیکن اب بھاگے گا تو کیوں ؟ اور جائے گا تو کدھر کہ راستے تو سارے بند پڑے ہیں اور ٹیلی فون کی تاریں ہیں کہ کاٹ دی گئی ہیں اور روشنی ہے کہ بالکل بند کردی گئی ہے اور پیغام دینے والے جو پیغام لائے ہیں اس میں اب مہلت کا کوئی حکم شامل نہیں اور حکم ہے تو صرف یہ کہ اس کی زندگی کا کھیل ختم کر کے اس کی روح کو ایک دوسرے ہی مثالی جسم کے ساتھ جوڑ دو اس طرح بس کن ہوا تو فیکون ہوگیا اور اس طرح جس چیز کو ہم نے موت سے تعبیر کیا وہ مرنے والے کی برزخی زندگی کی پیدائش ہے جو اس قد آدم کے ساتھ ہوگئی جس قد آدم کے ساتھ وہ دنیا میں موجود تھا اور اجسام حشر اس کے سوا ہیں ۔
Ayah 21:14

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

بستیوں کے باشندوں نے پکارا ! افسوس ہم پر بلاشبہ ہم ظلم کرنے والے تھے

بھاگنے والوں نے مان لیا کہ بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے لیکن اس ماننے سے فائدہ : 14۔ عذاب الہی نے جب ان کو آدبوچا تو اب لگے اعتراف کرنے کہ ہائے افسوس ہم کو ہم ہی ظالم تھے لیکن ان کے اس واویلا کا کچھ فائدہ نہ ہوا کہ یہ بات بھی ان پر پہلے واضح کی جا چکی تھی گزشتہ قوموں کے حالات کو پڑھو انہوں نے پہلے عذاب الہی کے لئے مطالبہ پر مطالبہ کیا اور قانون الہی نے ان کو ڈھیل دی اور وہ بھی ایک مدت تک دی ہی رکھی لیکن جب قانون الہی کے مطابق ان پر گرفت کا وقت آیا اور وہ پکڑ لئے گئے تو اس وقت انہوں نے گڑ گڑانا شروع کردیا اور ان کو یہی کہا گیا کہ اب تمہارے اس گڑگڑانے کی کوئی قیمت نہیں اور ایسا نہ ہو کہ کل تم بھی وہی کرو جو گزشتہ قوموں نے کیا لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اب جب ان کو قانون گرفت کرلی تو اب یہ بھی چیخنے لگے اور تسلیم کرنے لگے کہ ” افسوس ہم پر ! بلاشبہ ہم ہی ظلم کرنے والے تھے ۔ “ کیا پہلوں کو افسوس کرنے سے کچھ حاصل ہوا جواب ان کو حاصل ہوگا ؟
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ برابر یہی پکارا کیے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹے ہوئے کھیت کی طرح ، بجھے ہوئے انگاروں کی طرح کر دیا

وہ آہ و پکار کرتے ہوئے بجھنے والے کوئلوں کی طرح بجھ کر رہ گئے : 15۔ اس دنیا میں جو پیدا ہوا اس کو مرنا ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد کیونکہ یہاں کوئی بھی ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا لیکن مرنے مرنے میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟ کون نہیں جانتا ۔ اگر ساری موتیں ایک ہی جیسی ہوتی تو لوگ کیوں یہ کہاوتیں کہتے کہ ” شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے “ اور یہ کہ شہید کی موت موت نہیں ہوتی بلکہ فی الحقیقت وہ زندگی ہوتی ہے ۔ یہ کون لوگ ہیں جن کے متعلق زیر نظر آیت میں ارشاد ہوا کہ ” وہ یہی پکار کیے رہے یہاں تک کہ ہم نے انکو کٹے ہوئے کھیت کی طرح کردیا یا بجھے ہوئے کوئلوں کی طرح “ ظاہر ہے کہ یہ وہی لوگ تھے جن پر عذاب الہی میں سے کوئی عذاب مسلط کردیا گیا ‘ کیوں ؟ ان کی نافرمانی اور ان کے ظلم کے باعث کہ جب وہ حکمران تھے تو ان کی عظمت کے ڈنکے بجتے تھے ان کی حمد وثنا کے ترانوں سے دنیا گونج رہی تھی ۔ خوشامدیوں کے جمگھٹے ان کے آگے اور پیچھے لگے رہتے تھے ۔ ان کی وہ ہوا باندھی جاتی تھی کہ گویا ایک عالم ان کے کمالات کا گرویدہ اور ان کے احسانات کا زیر بار ہے اور ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مقبول نہیں مگر جب وہ گرے تو کوئی آنکھ ان کے لئے رونے والی نہ تھی بلکہ دنیا نے ایسا اطمینان کا سانس لیا کہ گویا ایک کانٹا تھا جو اس کے پہلو سے نکل گیا ، ظاہر ہے کہ انہوں نے نہ خلق خدا کے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی کہ زمین والے ان کے لئے روتے ‘ نہ رب ذوالجلال والاکرام کی خوشنودی کے لئے ہی کوئی کام کیا تھا کہ آسمان والوں کو ان کی ہلاکت پر افسوس ہوتا جب تک مشیت الہی سے ان کی رسی دراز ہوتی رہی وہ زمین کے سینے پر مونگ دلتے رہے اور مارنے والے بیل کی طرح سینگوں پر اٹھا اٹھا کر پھینکتے رہے اور جب ان کے جرائم حد سے گزر گئے تو اس طرح اٹھا کر پھینک دیئے گئے جیسے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے ، پھر انہوں نے آہ و پکار کی تو آخر ان کو کون سنتا اور وہ کوئلوں کی طرح کیوں نہ بجھ کر رہ جاتے ؟
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کچھ کھیل تماشہ کرتے ہوئے نہیں بنایا ہے

ہم نے زمین و آسمان کو کھیل وتماشا کے طور پر نہیں بنایا : 16۔ عربی زبان میں ” لعب ولھو “۔ دو اکٹھے لفظ استعمال ہوئے ہیں اور اردو میں کھیل اور تماشا بھی اکٹھا ہی بولا جاتا ہے اس لئے عام طور پر لعب ولھو کا ترجمہ کھیل اور تماشا ہی کے الفاظ سے کیا جاتا ہے ۔ لیکن دراصل اس سے مراد فضول ’ لغو ‘ بےمقصد اور بیکار وعبث کام ہیں۔ زیر نظر آیت میں لفظ (لعبین) آیا ہے جو اسم فاعل مذکر جمع منصوب ومجرور جس کا واحد لاعب ہے اور لعب لعب تلعاب مصدر (باب سمع) جس کے معنی ہیں کھیلنے والے ۔ بیکار کام کرنے والے لعب حاصل مصدر بھی ہے کھیل ۔ لعبۃ گڑیا وہ چیز جس سے کھیلا جاتا ہے مثلا شطرنج ‘ چونسر ‘ پانسہ وغیرہ بیوقوف آدمی جس کا کھیل بنایا جاتا ہے ۔ ازدواجی زندگی کے فعل خاص پر بھی بولا جاتا ہے ۔ لعبۃ بازیگر کو بھی کہتے ہیں جو الٹی سیدھی بازیاں لگاتا اور ناچتا گاتا ہے اور ساتھ اسی طرح کی حرکتیں بھی کرتا ہے اور ” لعاب “ منہ سے بہنے والی رال کو کہتے ہیں ۔ لھواسم مصدر جس کے معنی ہیں سنجیدگی چھوڑ کر مزاح کی طرف میلان اور جھکاؤ لھو کہلاتا ہے اور کسی ایسے غیر مفید کام میں مشغول ہونا جس کے شغل میں مفید کام ترک ہوجائے اور دراصل لھو جماع کو کہتے تھے اور اس سلسلہ میں امراء القیس بن حجر کندی کے اشعار نقل کئے جاتے ہیں جن کا یہاں نقل کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ایسے ہی مفہومات کے پیش نظر عربوں میں عورت کو بھی ” لھو “ کہا جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ ہر غیر دانشمندانہ تفریح کا نام لہو ہوگیا اور اس طرح ” لھو الحدیث “ کا لفظ ہے جس کے معنی بےسروپا قصے کہانیاں اور فضول اور بیہودہ باتوں کے ہیں۔ اسی طرح رقص و سرور اور گانے بجانے کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ، چونکہ یہ لفظ قرآن کریم میں بہت دفعہ بولا گیا ہے اس لئے ذرا تفصیل سے اس کے متعلق عرض کیا گیا ۔ اسلام نے دنیوی زندگی کو جو آخرت کے بنانے اور سنوارنے کی فکر سے آزاد ہو کر گزاری جائے ” لھو ولعب “ قرار دیا ہے اور مخالفین اسلام نے دین اسلام کو لعب ولھو سمجھا ہے اور بیان کیا ہے ۔ اسی لئے قرآن کریم نے انہی دونوں باتوں کا ذکر کیا ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الذین اتخذوا دینکم ھزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین “۔ (المائدہ 5 : 75) ” اے مسلمانوں ! یہود ونصاری اور کفار میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے تم انہیں اپنا رفیق ودمددگار نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھنے والے ہو۔ “ اور وضاحت اس کی اس کے مقام پر مل جائے گی عروۃ الوثقی کی جلد سوم میں سورة مائدہ کی محولہ آیت کی تفسیر دیکھیں ۔ اسی طرح سورة الانعام کی آیت 70 اور سورة الاعراف کی آیت 51 کی تفسیر بھی دیکھیں ۔ یہ آیات کفار کے دین اسلام کو لعب ولھو سمجھنے میں بیان کی گئی ہیں اور رہی یہ بات کہ اسلام نے دنیوی زندگی کو جو آخرت کے تصور سے آزاد ہو کر گزار دی جائے اس کو بھی انہی الفاظ سے یاد کیا ہے تو اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے فرمایا : (آیت) ” وما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولھو وللدار الاخرۃ خیر اللذین یتقون افلا تعقلون “۔ (الانعام 6 : 32) ” اور دنیا کی زندگی تو کچھ نہیں ہے مگر ایک عارضی چیز ہے جو متقی ہیں ان کے لئے آخرت ہی کا گھر بہتر ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟ “ اس کی مزید تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت محولہ کی تفسیر دیکھیں اور علاوہ ازیں یہ مضمون سورة العنکبوت کی آیت 64 ‘ سورة محمد کی آیت 36 اور سورة الحدید کی آیت 20 میں بیان ہوا ہے وہاں سے بھی آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ موجودہ دور میں مسلمانوں نے من حیث القوم کھیل وتماشا کو اس طرح اوڑھنا بچھونا بنایا ہے کہ شاید اس زمانہ میں یہود ونصاری اور مشرکین مکہ نے بھی نہ بنایا ہوگا لیکن چونکہ پوری قوم کی قوم اس میں مصروف ہے اس لئے اب اس کے خلاف بات کرنے والا خود ہنسی اور کھیل بن کر رہ گیا ہے لیکن کیا اس طرح کی حرکتوں سے کبھی حقیقت بھی بدل جایا کرتی ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو بات کرتے رہنا چاہئے کوئی مانے یا نہ مانے سنے یا نہ سنے اس لئے کہ نہ ماننے والے اور نہ سننے والے بھی ایک وقت آتا ہے سن لیتے اور مان لیتے ہیں اگرچہ اس وقت کا سنا اور مانا ان کے کام نہ آئے اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اے رب العزت والجبروت ہماری قوم کو سیدھی اور صاف بات سن لینے اور مان لینے کی توفیق عطا فرما دے اور ہم سب کی غلطیوں اور خطاؤں سے در گزر فرما کر تیرے سوا غلطیاں اور خطائیں معاف کرنے والا اور ان سے درگزر فرمانے والا اور کوئی نہیں ۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہمیں کھیل تماشہ بنانا منظور ہوتا تو ہم خود اپنی جانب سے ایسا ہی کارخانہ بناتے ، مگر ہم ایسا کرنے والے نہ تھے

اگر ہم کو کھیل ہی کھیلنا ہوتا جیسا کہ ان لوگوں کا خیال ہے تو اس کی اور صورتیں بھی تھیں : 17۔ تمثیل کے لئے جس طرح ایک بات فرض کرلی جاتی ہے تاکہ بات آگے بڑھائی جاسکے اور جو انسان کہنا چاہتا ہے کہہ لے اسی طرح حرف ” لو “ عربی میں فرضی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے اور یہ بات صاحب علم لوگوں سے پوشیدہ نہیں ۔ اس جگہ بھی اس حرف ” لو “ سے یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو احمق اور بیوقوف ان تمام علویات اور سفلیات آسمانی اور زمینی مخلوقات اور مصنوعات عجیبہ کو لہو ولعب سمجھتے ہیں کیا وہ اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام لہو ولعب کے لئے نہیں ہوا کرتے یہ کام جس کو کرنا ہو وہ یونہی نہیں کیا کرتا اور اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ لہو ولعب کا کوئی کام بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کے شان کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ایسا کھیل وتماشا رچاتا اور اگر کوئی مشغلہ بطور کھیل بنانا ہی تھا اور کوئی ایسا کام کرنا ہی تھا تو اس کی کیا ضرورت تھی کہ وہ اتنا بڑا آسمان بناتا اور اتنی بڑی زمین کو بچھاتا یہ کام تو اپنے پاس کی دوسری چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی لیا جاسکتا تھا کھیل تماشا اور جھوٹ موٹ میں کتنا ہی اہتمام کیوں نہ کیا جائے آخر اس طرح کا باقاعدہ نظام تو نہیں چلایا جاتا یہ کیسی بےکار اور عبث بات ہے جو ان لوگوں کو سوجھی ہے ۔ پھر یہ بھی کہ اگر یہی بات ہے تو پھر آخر ان تیتر ‘ بٹیر ‘ مرغ اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کو لڑا بھڑا کر تماشا دیکھنے والوں اور اللہ رب العزت میں کیا فرق رہ گیا ؟ اور اگر یہ نہیں تو زیادہ سے زیادہ ہم یہ سمجھ لیں کہ جس طرح کبھی روم کے سلاطین اپنے تھیڑوں کے بھوکے شیروں سے اپنے غلاموں کو مروا کر اور ان کو چیر پھاڑ کر کھا جانے سے خوش ہوتے تھے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو جو شاہوں کا شاہ ہے اس کو ایسا مان لیں کہ وہ روم کے شاہوں کی طرح اس طرح کا سوانگ رچا کر تماشا دیکھ رہا ہے ۔ فرمایا کہ ان لوگوں نے یہ بات کیسے کہہ دی اور کس لئے کہہ دی ؟ ان لوگوں کا اگر اتنا گھٹیا تصور ہے تو گویا ان کو انسان کہنا بھی گناہ ہے اور ایسا تصور پیش کرنے والے مشرک قوموں کے نمائندے ہو سکتے ہیں جن کی مت شرک نے مار دی ہوتی ہے اور وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتے ہیں ۔
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ (اس جگہ حقیقت حال ہی دوسری ہے کہ) ہم حق سے باطل پر چوٹ لگاتے ہیں تو وہ باطل کا سر کچل ڈالتا ہے اور وہ اچانک اسے فنا کردیتا ہے ، افسوس تم پر تم کیسی کیسی باتیں بیان کرتے ہو

ہم حق کو باطل پر پھینک کر اس کا بھیجنا نکال دیتے ہیں افسوس انہوں نے کیسی بات کہہ دی : 18۔ یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے اس سے قبل اس کو عین اس وقت بیان کیا گیا تھا جب کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ چھوڑ کر حبش میں پناہ گزیں تھی اور باقی مسلمان سخت بےکسی ومظلومی کی حالت میں مکہ اور اطراف مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے اور خود نبی اعظم وآخر ﷺ کی جان ہر وقت خطرے میں تھی ، اس وقت بظاہر باطل ہی کا غلبہ تھا اور غلبہ حق کے آثار کہیں دور دور نظر نہ آتے تھے مگر اس حالت میں نبی کریم ﷺ کو حکم دے دیا گیا کہ تم صاف صاف ان باطل پرستوں کو سنا دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ۔ ایسے وقت میں یہ عجیب اعلان لوگوں کو محض زبان کا ہزیان محسوس ہوا ہوگا جس کو پھاگ کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھی اس کو ٹھٹھوں میں اڑا دیا اور پھر یہی بات اس وقت ان کے سامنے بیان کی جا رہی ہے جب مکہ میں حالت اس وقت سے بھی ابتر ہوچکی تھی فرمایا جا رہا ہے کہ ” ہم حق سے باطل پر چھوٹ لگاتے ہیں تو وہ باطل کا سر کچل ڈالتا ہے اور اچانک اسے فنا کردیتا ہے ۔ “ گویا الفاظ پہلے سے زیادہ زور دار انداز سے کہے جا رہے ہیں اور جتنے حالات زیادہ خراب ہیں اتنے ہی الفاظ زیادہ سخت اور تحدی وچیلنج کی زبان سے اور ان کو ہوشیار کرتے ہوئے کہ ” دیکھو حق کا ہتھوڑا باطل کے سر پر ایسا چلے گا کہ اس کا بھیجا نکال کر رکھ دے گا اور تم کو معلوم ہے کہ دماغ پر لگائی گئی چوٹ کیا کرتی ہے ؟ کہ جسم کا سارا نظام معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور انجام کار اس کی حس و حرکت سب ختم ہو کر رہ جاتی ہے ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں اس طرح کی بات سے لوگوں نے آپ ﷺ کو کیا کہا ہوگا ؟ یہ کہ یہ شخص پاگل ہوگیا ہے اور ہمارے بزرگوں میں سے کسی کی اس کو مار لگ گئی ہے لیکن ان کی اس طرح کی بکواس آپ ﷺ پر کیسے اثر کرسکتی تھی کہ آپ ﷺ تو جو کچھ بول رہے تھے وہ وحی الہی تھی جس کے ذریعہ سے پروگرام خداوندی کا اعلان کیا جارہا تھا جس سے اعلان کرنے والا خود بھی اتنا ہی واقف تھا کہ مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم ہے اور جو حکم ملے اس کو لوگوں تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے اور یہ بات کہہ کر وہ اپنا فرض ہی پورا کر رہا تھا حکم ہوا کہ ان کی مزید کہہ دو کہ ” افسوس تم پر تم کیسی باتیں کہہ رہے ہو “ ان باتوں کو سن کر وہ حیران و ششدر بھی تھے ‘ غضبناک وخشمناک بھی اور وہ سمجھ نہ سکے کہ کیا ہونا ہے اور ہم کو کیا کرنا ہے ؟ اس کی مزید تفصیل کے لئے سورة بنی اسرائیل کی آیت 81 کی تفسیر کو دیکھیں ۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے آیت 16 سے 18 تک کا مفہوم ایک بار اپنے ذہن میں دوبارہ بٹھانے کی کوشش کریں شاید آپ کو حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو اور بات کی تہ تک آپ پہنچ سکیں کیونکہ ہمارے مفسرین کو ایسی باتوں پر غور وفکر کرنے کی فرصت بہت ہی کم میسر آئی ہے ۔ اس سے پہلے گزشتہ قوموں کی ہلاکت اور ان کی جگہ نئی جماعتوں کے ابھرنے کا ذکر کیا تھا ۔ فرمایا یہ انقلاب حال کیوں پیدا ہوا ؟ آباد وخوش حال بستیاں کیوں کٹے ہوئے کھیتوں کی طرح اجڑ گئیں ؟ زندگی اور حرکت کے بھڑکتے ہوئے شعلے کیوں بجھ کر رہ گئے ؟ اس لئے کہ یہاں ہمارا ایک عالمگیر قانون کام کر رہا ہے یعنی حق و باطل کے تزاحم وکشا کش کا قانون ۔ ہم نے کائنات ہستی کا یہ پورا کارخانہ ایک فعل عبث کی طرح نہیں بنایا ہے کسی طے شدہ مصلحت اور مقصد ہی سے بنایا ہے ۔ وہ مقصد کیا ہے ؟ یہ کہ کائنات ہستی پستی سے بلندی کی طرف برابر ترقی کرتی جائے یہاں تک کہ علو و رفعت کے اس اتنہائی نقطہ تک پہنچ جائے جو کار فرمائے قدرت نے اس کے لئے ٹھہرا دیا ہے ۔ اس مقصد کے لئے کونسا ہاتھ کام کر رہا ہے ؟ حق و باطل کی کشاکشی کے قانون کا ہاتھ یعنی یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس لئے ہوتا ہے کہ حق باقی رہے اور باطل نابود ہوجائے ” حق “ اس لئے باقی رہتا ہے کہ اس سے بقا اور علو وارتفاع ہے باطل اس لئے نابود ہوجاتا ہے کہ وہ نقص ‘ فساد اور زوال ہے ۔ چناچہ زندگی اور وجود کے ہر گوشہ میں کشاکش جاری ہے ۔ فطرت ” حق “ کے ہتھیار سے ” باطل “ پر ضرب لگاتی ہے اور وہ ٹک نہیں سکتا کیونکہ ” حق “ کے مقابلہ میں اس کے لئے ٹکنا نہیں۔ پھر اچانک ایسا ہوتا ہے کہ ” باطل “ ملیا میٹ ہوگیا اور میدان میں صرف ” حق “ ہی کی نمود باقی رہ گئی ۔ لیکن اس ضرب کے لگنے سے کتنا وقت خرچ ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا آپ کے ذہن وفکر پر ہے خود ہی لگالیں اور (دمغ) کے معنی دماغ میں سخت قسم کی چوٹ لگنے کے ہیں جس سے دماغ معطل ہوجائے ۔
Ayah 21:19

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

آسمانوں میں جو کوئی ہے اور زمین میں جو کوئی ہے سب اس کے لیے ہے ، جو اس کے حضور ہیں وہ کبھی گھمنڈ میں آ کر اس کی بندگی سے سرتابی نہیں کرتے ، نہ کبھی تھکتے ہیں

آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے اور فرشتے بھی اسی کی مخلوق ہیں : 19۔ زیر نظر آیت سے توحید الہی کا سبق شروع ہو رہا ہے تاکہ قوم کو ہر قسم کی خوراک ‘ دوا اور پرہیز سے برابر آگاہ رکھا جاسکے اور یہ بھی باور کر ادیا جائے کہ جس طرح جسم کو ان ساری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے روح کو بھی ہوتی ہے لیکن افسوس کہ جسم کی ان ضروریات کا خیال تو ہر ایک انسان رکھتا ہے چاہے امیر ہو یا غریب بلکہ امراء کچھ زیادہ ہی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن روح کی اس ضرورت کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے جو لوگ انہی ضروریات کے وارث بنائے گئے تھے جو روح کے لئے ضروری ہیں ، انہوں نے وراثت کے الفاظ کو تو خوب یاد کیا روح کی اس ضرورت کو وہ بھی بھول گئے اور ان کا بھی سارا زور اسی جسم کی ضروریات پر ہی رہ گیا تاکہ ان کے اپنے جسم کی حفاظت بھی خوب چلتی رہے اور ان کا گوشت و پوست اور جسمانی ڈیل وڈول دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر ہو اور اگر محسوس نہ کریں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ بھی وہی کچھ دیکھ رہے ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں فرق ہے تو صرف یہ کہ میں بولتا ہوں اور آپ خاموش ہیں ۔ بہرحال آیت زیر نظر میں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ” آسمانوں میں جو کوئی ہے اور زمین میں جو کوئی سب اس اللہ رب العزت کے لئے ہے اور اس کے ملائکہ اس کے حضور میں حاضر ہیں جو کبھی گھمنڈ میں آکر اس کی بندگی سے سرتابی نہیں کرتے اور نہ ہی کبھی تھکتے ہیں ۔ “ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مخالفت پر کمر باندھ لی ہے تو اس کے پاس اور مخلوق بھی ہے وہ چاہے گا تو اس سے وہ کام لے لے گا جو حقیقت میں تمہارے ذمہ کا تھا کہ ہمارا رسول تمہاری جنس سے ہے اور تم ہی کی اصلاح کے لئے اس کو بھیجا گیا ہے تم اس کی نافرمانی کرکے اپنا نقصان کر رہے ہو اس کی دنیوی کامیابی کے لئے بھی ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جونہی وہ وقت آتا ہے تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تمہیں بھسم کرکے رکھ دیا جائے گا اور کامیابی اس کے حصے میں آئے گی جس کی باتیں سن کر تم مجنون ‘ ساحر ‘ سحر زدہ ‘ شاعر اور کاہن کے الزامات تراشتے ہو ایسا ہونا کیوں ضروری ہے ؟ اس لئے کہ زمین و آسمان کا مالک حقیقی وہ ہے جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا بھی اس میں سے جو کچھ تمہارے ہاتھ میں دیا گیا ہے وہ بطور آزمائش عارضی طور پر تھا لیکن تم اس کے حقیقی مالک بن کر بیٹھ گئے اس لئے ضروری ہوا کہ ایسے غاصبوں کو انکے غصب کا مزہ چکھایا جائے ۔
Ayah 21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ رات دن اس کی پاکیزگی کے ترانوں کے تسبیح خواں ہیں ، وہ کبھی تھمتے نہیں

فرشتوں کی صفات کا مزید بیان بڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ ان کی اصلیت سمجھ جائیں : 20۔ اس سے قبل انسانوں کو ان کی زندگی کا اصل مقصد بھی سمجھایا گیا تھا کہ تمہاری پیدائش کا حاصل اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے لیکن تم نے اس کو یکسر بھلادیا پھر عبادت کا طریقہ اور عبادت کے اوقات کا بیان بھی ذکر کیا گیا جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ آئے ہیں جو سورة طہ کی آخری آیات میں بیان ہوا تھا ، اب ان لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری عبادت کے عوض تم کو انعام دینے کا اعلان بھی ہم نے کیا اور تمہاری آخرت کو سنوار دینا بھی لازم ٹھہرایا لیکن تم نے اس کی ذرا پروانہ کی اور جو قدم اٹھایا اللہ تعالیٰ کے لائے ہوئے پروگرام کے خلاف ہی اٹھایا اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے ملائکہ ایسی مخلوق ہیں کہ ان کو جہاں جس کام اور جس خدمت پر لگایا گیا ہے وہ اپنا کام کئے جا رہے ہیں اور وہ عبادت سے نہ تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں بلکہ ہر وقت اور ہر آن وہ اپنے ذمہ لگائی گئی ذمہ داری کو پوری ذمہ داری سے نبا ہے چلے جا رہے ہیں اور ہم انسانوں کے لئے وہ راہنمائی کا کام دیتے ہیں اگر تم بھی راہنمائی حاصل کرنا چاہو۔ (یستحسرون) کی اصل ” حسر “ اور ” حسر “ کے معنی اس طرح سمجھے جاسکتے ہیں کہ جس چیز پر کوئی دوسری چیز اڑھائی گئی ہو اس اڑھائی گئی چیز کو اس سے اتار دینا یعنی ننگا کردینا اور حاسر حسیر یامحسور تھکے ماندہ کو کہتے ہیں کیونکہ اس کی قوتوں سے گویا پردہ اٹھ جاتا ہے اور وہ ظاہر ہوجاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ حسرت ‘ غم اور ندامت کے اظہار کا نام ہے اور ” یستحسرون “ کے معنی ہوئے تھکے ہارے ہوئے جو آگے قدم اٹھانے سے مایوس ہوں (آیت) ” لا یستحسرون “ وہ کبھی تھکتے ‘ ہارتے نہیں اور نہ ہی وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کا کوئی وقت ضائع ہوا یہ پچھلی آیت کا بیان تھا اور زیر نظر آیت میں (آیت) ” لا یفترون “ کہہ کر اس کی مزید وضاحت فرما دی کیونکہ (فتر) کے معنی ٹھہر جانے اور رک جانے کے ہیں اس لئے اس کی نفی فرما دی کہ عبادت میں ان کو اس قدر خوشی حاصل ہوتی ہے کہ وہ ٹھہرتے نہیں اور اس سے رکھتے نہیں کیونکہ نہ تو وہ عبادت الہی سے تھکتے اور نہ ہی کبھی رکتے ہیں پیہم عبادت میں لگے رہتے ہیں ۔ حالانکہ یہ کام انسانوں کے کرنے کا تھا کہ وہ ہر آن اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اولیت دین اور ان کا کھانا ‘ رہنا سہنا اوڑھنا بچھونا اور دوسرے کاموں میں مشغول ہونا حکم الہی کے مطابق ہو تو وہ عین عبادت ہے بلکہ یہ وقتی عبادت اس کی فرع ہو کر رہ جاتی ہے اور فروع حسن وزینت کو دوبالا کرتی ہیں اور اتنا انہی کے انحصار پر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے لیکن افسوس کہ اس بات کو بہت کم سمجھا گیا اور ہم فروعات ہی میں پھنس کر رہ گئے کہ یہ الگ الگ کیوں ہیں جبکہ ان کا الگ الگ ہونا ہی خوبصورتی اور زینت اسلامی کا باعث تھا جبکہ خالی تنے کو ہماری اپنی زبان میں ” ٹنڈ “ بولتے ہیں اور ’ ٹنڈ منڈ “ ہونا خوبی نہیں بلکہ ایک بہت بڑا نقص ہے کاش کہ اس حقیقت کو مسلمان سمجھ جائے ممکن ہے کہ قارئین یہ کہہ دی کہ اس تفسیر میں ” کاش کہ “ کے سوا ہے ہی کیا کہ جو ہم اچھا سمجھ کر کر رہے ہیں اس پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ اگر ایسی بات ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ ہماری اس ” آہ “ کو بھی برداشت نہیں کرتے اور ہم ہیں کہ ان کے قتل کرنے کو بھی قبول کئے بیٹھے ہیں۔ ع ہم کرتے ہیں آہ تو ہوتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا :
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

(ذرا غور کرو کہ) کیا ان لوگوں نے زمین سے ایسے معبود بنا لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کردیتے ہیں ؟

کیا انہوں نے زمین میں معبود بنا لئے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہیں : 21۔ (ینشرون) نشر سے ہے اور حشر ونشر کا لفظ عام ہے یعنی دوبارہ زندہ کردینا ، زندگی عطا کرنا یا زندگی ختم کر کے نئی زندگی عطا کردینا اللہ کا کام ہے اللہ کے سوا کسی دوسرے کا یہ کام نہیں نہ اس کے اپنے اختیار سے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے اختیار سے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ وہ چیز ہے جس کا رزق دیا ہی نہیں جاسکتا ۔ دوسرے معنوں میں آپ یوں سمجھیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت کسی کو عطا نہیں کرتا اسی طرح صفت خالقیت جب کہ اس سے مراد زندہ کرنا ہو کسی کو عطا نہیں کرتا نہ جزوی طور پر اور نہ کلی طور پر ۔ لیکن پھر وہی بات آگئی کہ ہمارے مفسرین نے اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اس طرح باذن اللہ پیدا کرنے کو وہی پیدا کرنا سمجھ لیا جس سے مراد مردہ کو زندگی عطا کردینے سے لی جاتی ہے اور کہا کہ وہ باذن اللہ زندہ کرتے تھے اور یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ بغیر اذن کے تو کوئی کچھ کر ہی نہیں سکتا جو ہوتا ہے اذن الہی ہی سے ہوتا ہے پھر کیا ہوا ؟ کہ جس نے یہ سوال اٹھایا انہوں نے اس کا جواب اس کو کفر ہی کے کوڑے سے دینا پسند کیا اور ہر گروہ اور ہر فرقے نے اپنے اپنے بزرگوں سے جب چاہا اور جس کو چاہا زندہ کرا کر دکھا دیا اور آپ میں بھی خوب اینٹ روڑا چلایا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے بزرگوں میں تو یہ طاقت ہے کہ قم باذن اللہ کہہ کر کھڑا کرسکتے تھے لیکن دوسروں کے بزرگوں میں یہ بات تسلیم نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کو اس کا حق دیتے ہیں اور یہی لڑائی آج تک لڑتے چلے آ رہے ہیں اور اس کو لڑتے رہنے میں جنت رکھی ہے اور جو یہ لڑائی لڑے گا وہی اس جنت کا مستحق ہوگا اور اسی طرح سب نے اپنے اپنے پہلوان ‘ مرغ ‘ بیٹر اور تیتر میدان میں لا کھڑا کرنے کے لئے تیار رکھے ہیں اگرچہ ان کے نام انہوں نے انسانوں کے سے رکھے ہیں اور وہ شکل و صورت سے بھی بڑے معزز انسان نظر آتے ہیں ۔
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتا تو یقینا وہ بگڑ کے برباد ہوجاتے پس اللہ کے لیے کہ وہ تخت کا مالک ہے پاکیزگی ہو ، ان ساری باتوں سے پاکیزگی جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں

اگر آسمان و زمین میں کوئی اور معبود بھی ہوتا تو یہ نظام کبھی کا تباہ وبرباد ہوگیا ہوتا : 22۔ سلسلہ بیان توحید باری کا جاری ہے اور انسانوں جو درس دیا جا رہا ہے کہ تم نے جن جن کو بھی معبود بنا رکھا ہے نہ وہ معبود ہیں اور نہ ہی تم ان کو معبود بنا سکتے ہو ؟ تم جو کچھ بیان کرتے ہو سب کا سب بےسند اور بےدلیل ہے جس کی کوئی سند اور دلیل ہو بھی نہیں سکتی کیوں ؟ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتا اس کے ذمہ کسی کا زندہ کرنا یا کسی کا مارنا لگایا جاتا تو آج سے پہلے کب کا یہ نظام درہم برہم ہوگیا ہوتا کیونکہ دو خدا ہوتے تو دونوں کی رائے کا اختلاف بھی لازم آتا ہر معاملہ میں نہ سہی لیکن کسی وقت تو الگ ہونے کا امکان باقی ہوتا اور پھر اس کا نتیجہ کیا رہتا یہی کہ ایک ایک طرح پر اسے چلاتا اور دوسرا اپنے حسب منشاء اس کو چلاتا تو آج تک یہ نظام آخر چلتا ہی کیوں رہتا ۔ سمجھ لو کہ نظام عالم کا تمام انحصار اسی پر ہے کہ وہ ایک قانون کے مطابق اور چلانے والے کے چلانے سے چل رہا ہے اور اسی کے ہاتھ میں سارا کنٹرول ہے ۔ اگر مختلف خدا ہوتے تو ضروری تھا کہ مختلف قانون بھی ہوتے کیونکہ جس کا قانون نہ ہوتا وہ خدا کیونکر ہوتا ۔ مختصر یہ کہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ تھا کہ کائنات کی مختلف قوتوں اور مختلف حصوں کے خالق اور مالک الگ الگ خدا ہوتے اور پھر ان کے درمیان ایسا مکمل تعاون ہوتا جیسا کہ تم اس پورے نظام عالم کی بیشمار قوتوں اور بیحد و حساب چیزوں میں اور ان گنت تاروں اور سیاروں میں دیکھ رہے ہو نظام کی باقاعدگی اور اجزائے نظام کی ہم آہنگی اقتدار کی مرکزیت ووحدت پر خود دلالت کر رہی ہے ۔ اگر اقتدار بٹا ہوا ہوتا تو اصحاب اقتدار میں اختلاف رونما ہونا یقینا ناگزیر تھا اور یہ اختلاف ان کے درمیان جنگ اور تصادم تک پہنچے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔ مزید تفصیل اس کی سورة بنی اسرائیل کی آیت 42 میں گزر چکی وہاں سے بھی ملاحظہ فرما لیں۔ ” پس پاکیزگی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لئے ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ رب کریم کے متعلق بیان کرتے ہیں “ اوپر توحید الہی کی ایک شق بیان کی گئی ہے اور آیت کے ان الفاظ میں اس کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے کہ رب ذوالجلال والاکرام کے بارے میں ایسا تصور ایک احمقانہ تصور نہیں تو اور کیا ہے ؟ حالانکہ وہ اس طرح کی باتوں سے پاک ومنزہ ہے جب وہ اس ساری کائنات کے تخت کا مالک ہے اور اس کا حکم آسمان و زمین پر چلتا ہے تو پھر دوسروں کی مداخلت اس میں چہ معنی دارد ؟ اس کی گنجائش ‘ آخر کیوں ؟ اور کیسے ؟
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کچھ بھی کرے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں اور سب سے باز پرس ہونی ہے

وہ جو کرے اس سے پوچھنے والا کوئی نہیں اور وہ سب سے باز پرس کرسکتا ہے : 23۔ بلا شبہ شان کبریائی اس کے لائق ہے کہ اس سے کوئی باز پرس نہ کرسکے اس لئے کہ باز پرس کرنے والا قانونا بڑا ہوتا ہے اور اس کو بڑا ہی ہونا چاہئے کہ وہ صحیح معنوں میں باز پرس کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی بڑا نہ تھا ‘ نہ ہے اور نہ ہی کبھی کوئی ہوگا اس لئے یہی کلام صحیح و درست ہے لیکن اس کا یہ مطلب سمجھ لینا کہ اس کا کوئی قانون ہی نہیں جس کی وہ پابندی کرے ؟ کیوں نہیں اس کے سارے قوانین واضح اور کھول کر بیان کئے گئے ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جن کا اعلان اس نے کردیا ہے اور وہ ان قوانین کا مالک ومقنن بھی ہے جن کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے بہرحال وہ اپنے قوانین کا سختی سے پابند ہے اور جن قوانین کا اس نے اعلان کردیا ہے اور ہمیں بتا دیا ہے کہ اس معاملہ میں میرا یہ قانون ہے ہم اس کے خلاف کی سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کبھی خلاف کرتا ہے یا کبھی خلاف کرے گا ۔ کیونکہ ہر قانون جو اس نے بنایا ہے اپنی مرضی سے بنایا اور اس کی ہر ہر کہنہ کو وہ جانتا ہے اس کے لئے ماضی ‘ حال اور مستقبل برابر ہے اور سب کچھ اس پر روشن ہے اور سب کچھ وہ جانتا ہے اور کسی قانون کو بنانے کے بعد منسوخ بھی نہیں کرتا کہ وہ اب چلنے کے قابل نہیں رہا کیونکہ وہ پرانا اور فرسودہ ہوگیا ہے ہاں ! نہ اس سے قانون بناتے وقت کوئی پوچھ سکتا تھا کہ تو نے ایسا قانون بنانا چاہا اور نہ بنانے کے بعد کوئی پوچھنے کا حق رکھتا ہے اس لئے جو اس نے کیا وہ خالصتا اپنی مرضی سے کیا اور جن ضابطوں کا اس نے اعلان فرما دیا ان ضابطوں کی نافرمانی کے لئے وہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے خواہ وہ کون ہو اور کون نہ ہو لہذا صحیح بات اور سچی بات یہی ہے کہ کوئی اس کے قانون کے خلاف کرکے اس کی پاداش سے بچ نہیں سکتا نہ اثر ڈال کر ‘ نہ رشوت دے کر ‘ نہ دھوکہ و فریب دے کر اور نہ کوئی اور چکر چلا کر ہاں ! اس کی ایک اور صرف ایک ہی بات باقی رہ جاتی ہے کہ جو کچھ اس نے کہا اس کی ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کرلے اور وعدہ کرے کہ میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا تو یہ اس کا اعلان ہے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والے کو میں معاف کردیتا ہوں لہذا یقینا وہ اس کو معاف کرے گا اور وہ معاف فرما دے گا تو کوئی اس سے یہ گرفت نہیں کرسکتا کہ تم نے معاف کیوں کیا ؟ کہ وہ سب سے باز پرس رکھنے کا حق رکھتا ہے لیکن اس سے باز پرس کا کوئی حق نہیں رکھتا ۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

پھر کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے معبود پکڑ رکھے ہیں ؟ توُ ان سے کہہ دے بتلاؤ تمہاری دلیل کیا ہے ؟ یہ ہے وہ کلام جو میرے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے اور جو مجھ سے پہلوں کے لیے اتر چکا ہے ، اکثروں کو حقیقت کا پتہ ہی نہیں وہ رخ پھیرے ہوئے ہیں

اللہ کے سوا دوسرے معبود جن لوگوں نے بنا رکھے ہیں ان کی دلیل کیا ہے ؟ : 24۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنانے والوں کی نہ پہلی امتوں میں کوئی کمی تھی اور نہ آج ہی کوئی کمی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان سارے لوگوں سے پوچھا جا رہا ہے جو اس نظریہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بھی سوا جب دوسروں کو اپنے حاجت روا ‘ مشکل کشا اور بگڑی بنانے والے بنا رکھا ہے تمہارے پاس اس جسارت پر دلیل کیا ہے ؟ کیونکہ معبود ہونے کے لائق اور قابل تو وہ ہے جو خود کسی طرح کی حاجت نہ رکھتا ہو جو خود مشکلات میں گھرا ہوا ہو خود مشکلات میں گھرا ہوا ہو وہ دوسروں کی مشکلوں کو حل کرے ‘ آخر کیسے ؟ پھر ان سے کہا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ ” کلام ہے جو میرے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے مطلب یہ کہ میرے ساتھیوں کے ہاتھ میں وہی کلام ہے جو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا جس میں یہ بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود والہ نہیں اور یہ بھی تحریر ہے کہ میں تم سے پوچھوں کہ تم نے جو معبود بنا رکھے ہیں اس کے لئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟ اور اس کتاب یعنی قرآن کریم سے پہلے بھی تو کلام نازل ہوچکا ہے تورات ‘ زبور اور انجیل جس کو تم پڑھتے بھی ہو اور تمہارے پاس وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود بھی ہے باوجود اس کے کہ تم نے اس میں تحریف کرنے کی بھی کوئی کمی نہیں اور یہ بھی تحریر ہے کہ میں تم سے پوچھوں کہ تم نے جو معبود بنا رکھے ہیں اس کے لئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟ اور اس کتاب یعنی قرآن کریم سے پہلے بھی تو کلام نازل ہوچکا ہے تورات ‘ زبور اور انجیل جس کو تم پڑھتے بھی ہو اور تمہارے پاس وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود بھی ہے باوجود اس کے کہ تم نے اس میں تحریف کرنے کی بھی کوئی کمی نہین کی تاہم آج تک بھی اس میں کوئی ایسی دلیل تم پیش نہیں کرسکتے جس میں یہ تحریر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا معبود والہ ہے بلکہ اس نظریہ کی نفی موجود ہے پھر تم اس نظریہ کی تشہیر کے لئے کیا دلیل رکھتے ہو۔ وہ وقت تو گزر گیا آج بھی جو لوگ مسلمان کہلانے کے باوجود دوسروں کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رہے ہیں ان سے بھی اس بات کا مطالبہ بدستور قائم ہے یہی بتا دیں کہ اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے ؟ زیر نظر آیت کا یہ استدلال ہی دراصل وحدت ادیان کی اصل عظیم کا استدلال ہے جس پر قرآن کریم نے اپنی دعوت کی تمام بنیادیں استوار کی ہیں وہ کہتا ہے کہ یہ تعلیم حق ہے جو میرے ساتھیوں کے پاس ہے اور اس طرح وہ تمام تعلیمات بھی موجود ہیں جو مجھ سے پہلے دی جا چکی ہیں تم کسی تعلیم سے بھی یہ بات ثابت کر دکھاؤ کہ سچائی کی بات وہ نہیں ہے جو میں پیش کر رہا ہوں ؟ پھر اگر بغیر کسی اختلاف کے دنیا کے ہر عہد اور ہر گوشہ کی دینی تعلیم ایک ہی رہی ہے اور سب نے توحید و خدا پرستی ہی کی طرف بلایا ہے تو کیا یہ عالمگیر وحدت تعلیم اور باہم دگر تصدیق و توثیق حقیقت کی موجودگی کا ایک قطعی ثبوت نہیں ہے ؟ فرمایا ” ان لوگوں میں اکثروں کو حقیقت کا پتہ ہی نہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ وہ رخ پھیرے ہوئے ہیں ۔ “ جواب دیں تو آخر کیا ؟ ان کو معلوم ہے کہ ہمارا جواب سوائے اس کے کچھ ہے نہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے اور جو ہم سے طلب کیا جارہا ہے اس کے عوض میں ہم اس کو کیسے پیش کرسکتے ہیں کیونکہ سوال یہ ہے کہ وہ دلیل پیش کرو نقلی یا عقلی دلیل ہو اور یہ بات کہ ہم دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے آرہے ہیں نہ دلیل عقلی ہو سکتی ہے اور نہ نقلی ۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا جس پر اس بات کی وحی نہ بھیجی ہو کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر صرف میری ذات (ذات خداوندی) پس چاہیے کہ میری بندگی کرو

جو دلیل طلب کی جا رہی تھی اس کی وضاحت فرما دی کہ کچھ بھی پیش نہیں کرسکتے : 25۔ نبی رحمت ﷺ سے اعلان تو پہلے کرا دیا گیا اور ان سے کہلوایا گیا کہ اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود ہے تو اس کی کوئی دلیل پیش کرو اس کتاب سے نہیں جو میرے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے تو ان آسمانی کتابوں ہی سے سہی جن کو تم اس سے قبل آسمانی کتابوں کے طور پر مانتے اور تسلیم کرتے ہو ۔ اس طرح گویا جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے بعد نبی اعظم وآخر ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا جس پر ہم نے اس بات کی وحی نہ بھیجی ہو کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر صرف میری ذات ‘ پس چاہئے کہ میری بندگی کرو۔ “ اس طرح نبی کریم ﷺ پر یہ بات واضح کردی کہ اگر وہ دلیل پیش نہیں کرسکے اور آئندہ رہتی دنیا تک آنے والے مشرک کبھی اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کرسکیں گے اس لئے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے سب کو یہ وحی دے کر ہی بھیجا تھا کہ ” میرے سوا کوئی معبود نہیں “ پھر یہ دلیل آخر دیں گے تو کہاں سے آپ نے جو چیلنج کیا ہے آپ مطمئن رہیں اس کا جواب نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے بڑوں کے پاس کوئی تھا اور نہ ہی بعد میں آنے والوں کے پاس کوئی ہوگا اس لئے اپنے اس اعلان کو دہراتے رہیں اور ان کو الٹی سیدھی کہنے دیں جو یہ کہہ رہے ہیں ۔ ان کی کوئی حالت بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں اور ان کے غبارے میں صرف ہوا بھری ہے کہ یہ اتنا بڑا نظر آ رہا ہے اور زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ اس کی ہوا اتر جائے گی اور یہ خالی کے خالی رہ جائیں گے ، جس مال و دولت اور اقتدار کا ان کو نشہ ہے نہ یہ دکھائی دے گا اور نہ یہ خود دکھائی دیں گے ۔ یہی ہوا کہ اس لا الہ الا اللہ کی ضرب نے حالت کو بدلا تو مکہ والے چت ہوگئے آخر نبی اعظم وآخر ﷺ کو ہجرت کے بعد کتنی دیر لگی تھی کہ مکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی تحویل میں دے دیا اور ایسا دیا کہ اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اپنے ہی ذمہ لے لیا ۔ ذرا غور کرو کہ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کے مخاطب کون لوگ ہیں ؟ مکہ کے مشرکین ‘ بس ان کو مخاطب کر کے دنیا کے سارے مشرکوں سے خطاب ہے اور ان کو بتایا جا رہا ہے کہ احساس ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے وہ کس طرح بےسوچے سمجھے ایک نہایت ہی غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات کے ماننے کے ساتھ بہت سی دوسری ہستیوں کو بھی معبود بنائے ہوئے تھے ، ان سے دعائیں مانگتے تھے ‘ ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ‘ ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے اور نذارانے پیش کرتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات انہیں حاصل ہیں انہی ہستیوں کے متعلق انہیں پوچھا جا رہا ہے کہ انہیں آخر کس بنیاد پر تم نے معبود مان رکھا ہے ؟ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبودیت میں حصہ دار قرار دینے کے لئے دو ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں یا تو آدمی کو خود کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہو کہ زمین و آسمان کے بنانے میں واقعی اس کا بھی کوئی حصہ ہے یا اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہو کہ فلاں صاحب بھی خدائی کام میں میرے شریک ہیں ‘ اب نہ تو کوئی مشرک یہ دعوی کرسکتا ہو کہ اسے اپنے معبودوں کے شریک خدا ہونے کا براہ راست علم حاصل ہے اور نہ ہی خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب سے یہ دکھا سکے کہ خدا نے خود کسی کو اپنا شریک قرار دیا ہے تو لامحالہ اس کا عقیدہ قطعی طور پر بےبنیاد ہی ہوگا ۔
Ayah 21:26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا خدائے رحمن نے اپنے لیے اولاد بنائی ہے پاکیزگی ہو اس کے لیے بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں

اللہ رب العزت کی اولاد بنانے والوں کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ تمہاری دلیل کیا ہے ؟ : 26۔ دنیا کی کتنی ہی قومیں اس گمراہی میں مبتلا رہ چکی ہیں اور اب تک اسی گمراہی میں مبتلا ہیں کہ اللہ نے فلاں کو اولاد بنایا ہے جیسے یہودیوں نے عزیر کو ‘ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیا اسی طرح مشرکین مکہ کے کچھ گروہ بھی فرشتوں کو اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے چناچہ اس کا ذکر پیچھے سورة النساء کی آیت 117 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا سورة النساء عروۃ الوثقی کی دوسری جلد میں ہے ، مشرکین کی ایک حماقت تو یہ تھی کہ انہوں نے ان بےاختیار فرشتوں کو جن کو اللہ تعالیٰ سے سفارش تک کرنے کا چارا نہ تھا ان کو معبود بنا لیا اور اس پر مزید حماقت یہ کی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی اولاد تسلیم کیا اور پھر تیسری حماقت ان کی یہ ہوئی کہ اولاد میں سے بھی ان کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیا اور اس طرح وہ جہالت پر جہالت کا مظاہرہ کرتے چلے گئے ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ وہ آخرت کو تو مانتے نہیں اور اگر مانتے بھی تھے تو بالکل اسی طرح جس طرح آج کل ہمارے مسلمان مانتے ہیں اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ خدا کو ماننے یا نہ ماننے سے یا ہزاروں خدا ماننے سے آخر فرق کیا پڑے گا چلو منہ سے کہتے رہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ کیونکہ ان میں سے کسی عقیدہ کا بھی کوئی اچھا یا برا نتیجہ دنیا کی موجودہ زندگی میں نکلنا ان کو نظر نہ آتا تھا ، منکرین خدا یا مشرکین یا موحدین سب کی کھیتیاں پکتی ہیں اور پکی پکائی جل بھی جاتی ہیں سب کے سب بیمار بھی ہوتے ہیں اور تندرست بھی ہوتے ہیں ہر طرح کے اچھے اور برے حالات بھی سب پر گزرتے ہیں اس لئے ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا اہم اور سنجیدہ معاملہ نہیں تھا کہ آدمی کسی کو معبود مانے یا نہ مانے یا جتنے اور جیسے چاہے معبود بنا لے ۔ حق کا اور باطل کا فیصلہ جب ان کے نزدیک اسی دنیا میں ہونا ہے اور اس کا مدار اس دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج پر ہے تو ظاہر ہے کہ یہاں کے نتائج پر کسی عقیدے کے حق ہونے کا قطعی فیصلہ کردیتے ہیں اور نہ کسی دوسرے عقیدے کے باطل ہونے کا اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایک عقیدے کو اختیار کرنا اور دوسرے عقیدے کو رد کردینا محض ایک من کی موج کا معاملہ تھا ۔ لیکن اگر برا نہ مانیں تو یہی حالت آج ہمارے مسلمانوں کی ہے کہ حکومت کے ایوانوں سے لے کر عوام تک سب لوگوں کی یہی پوزیشن ہے کہ سب کے من کی موج ہے جو چاہے کوئی عقیدہ رکھے فقط کاغذات کی حد تک اسلام کا نام استعمال کرنا ضروری ہے اور یہ بات کہ اسلام کس چیز کا نام ہے ؟ اللہ جانے ‘ ہم مسلمانوں کے من کی موج ہے کہ وہ چاہے کوئی عقیدہ رکھیں ۔ ہاں ! علمائے کرام کا معاملہ ذرا اس سے الگ ہے اس لئے کہ یہ گروہ بہت سے گروہوں میں تقسیم ہوچکا ہے اور ہر گروہ کے علماء کا کام اپنے اپنے اختیار کئے ہوئے فرقے کی ترجمانی کرنا ہے دوسرے لفظوں میں وہ اپنے مذہبی فرقے کے وکیل ہیں تاکہ کوئی دوسرا فرقہ ان کے فرقہ کے لوگوں کو کچھ نہ کہہ سکے اور وہ اپنے فرقہ کی بھر پور ترجمانی کر رہے ہیں اور پھر لطف ہے کہ ہر فرقہ یہی سمجھتا ہے اور ہر فرقے کے علماء ان کو یہی باور کراتے ہیں کہ بس تم ہی مسلمان ہو چاہو جو کرتے رہو لیکن فرقہ سے وابستگی رکھتے ہوئے اور اپنے اپنے فرقہ کی رسم و رواج کی پابندی کے ساتھ اپنے علماء کرام کی بتائی باتوں کے مطابق اور اخلاق وکردار کی کسی کے ہاں کوئی قید نہیں بس اپنے فرقے کے ساتھ وابستگی ہی ہمارا دین اور ہمارا اسلام ہے ، یہ مضمون اس سے قبل سورة النساء کی آیت 117 میں اور سورة النحل کی آیت 57 تا 59 اور سورة الزخرف آیت 16 تا 19 میں بیان کیا گیا ہے مزید وضاحت وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔ ” بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں ۔ “ ان لوگوں کا یہ خیال سراسر غلط اور رب ذوالجلال والاکرام کے حق میں نہایت ہی گستاخی کی بات ہے کہ وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کو بیٹوں کی ضرورت اور نہ بیٹیوں کی یہ جنجال آخر اس کو ڈالنے کی ضرورت ؟ کیا وہ فانی ہے کہ اس کو اپنے وارثوں کی ضرورت ہو یا وہ بوڑھا ہوگا کہ بڑھاپے کے آثار سے بچنے کے لئے اس کو مدد کی ضرورت ہو۔ فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں بلکہ وہ اس کے باعزت بندے ہیں اور ان کو قرب الہی حاصل ہے اور وہ مجسمہ بھلائی ہیں شر کی قوت ان میں موجود ہی نہیں گویا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق طاقتوں میں سے ایک طاقت وقوت ہیں اور جس طرح کوئی طاقت وقوت بھی دکھائی نہیں دیتی وہ بھی دکھائی نہیں دیتے اور ان کے نظر آنے کے لئے ان کا عطائی جسم ان کو علم الہی کے مطابق عطا کیا جاتا ہے جو ان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ۔