Ayah 21:29ان میں سے بھی اگر کوئی اللہ کے سوا معبود بناتا تو اس کو ہم جہنم کی سزا دیتے :
29۔ یہ شرک کی تردید میں بات کہی جا رہی ہے کہ اگر ان رسولوں اور نبیوں میں سے بھی کوئی اس شرک کا مرتکب ہوتا تو ہم کبھی اس کو معاف نہ کرتے بلکہ سیدھا دوزخ میں اس کو گرا دیتے کیونکہ شرک اتنی بری چیز ہے اور اتنا بڑا ظلم ہے اس سے بڑی بری چیز اور اس سے بڑا کوئی اور ظلم نہیں ہو سکتا ، بلاشبہ ان بزرگ و برتر ہستیوں میں نہ ہی کوئی ایسا تھا اور نہ ہی ہو سکتا تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا لیکن تاہم وہ انسان تھے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق تھے اور خالق کو حق ہے کہ وہ ان کا بیان اس زور دار الفاظ سے کرے کیونکہ لوگوں نے بدبختی کا نشانہ ان اللہ کے نیک بندوں کو بھی بنایا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کیا تھے ؟ ایک اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہی تھے لیکن عیسائیوں نے ان کو رسالت کے مقام سے اٹھایا اور اللہ میاں کے ساتھ داہنے ہاتھ اس کو بٹھا دیا اور یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ تین اقنوم مل کر ہی خدا بنتا ہے لہذا خدائی میں تیسرا حصہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کا ہے ، اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ یہ تم نے کیا بکواس کردی وہ تو اللہ کا نیک بندہ اور اس کی والدہ ماجدہ ایک محصنہ عورت تھی تم نے ان کو خدائی میں اس کا شریک کیسے بنا کھڑا کیا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
(آیت) ” لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَآلُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ قُلْ فَمَن یَمْلِکُ مِنَ اللّہِ شَیْْئاً إِنْ أَرَادَ أَن یُہْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَأُمَّہُ وَمَن فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً “ ، (المائدہ 5 : 17)
” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا خدا مریم کا بیٹا مسیح ہے اگر خدا مسیح ابن مریم اور کو اور اس کی ماں کو اور روئے زمین پر جتنے انسان بستے تھے سب کو ہلاک کردینا چاہے تو کون ہے جو اس کی بادشاہی میں دخل دینے کی جرات کرسکتا ہے ؟ “۔
ظاہر ہے کہ یہ مسیح (علیہ السلام) نے بات نہ کہی تھی اور نہ ہی کہہ سکتے تھے لیکن جب لوگوں نے ان کو خدا بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کے لئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تاکہ ایسے کہنے والے لوگوں کو شرم آئے اور وہ اس شرکیہ اور کفریہ کلمہ سے توبہ کرلیں لیکن کیا عیسائیوں نے اس عقیدہ کو چھوڑ دیا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو آج بھی اس عقیدہ پر قائم ہیں بلکہ اب تو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی دبی زبان سے ان کی دیکھا دیکھی اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں وہی گستاخی شروع کردی ہے جو عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں کی اور قرآن کریم نے ان کی سخت تردید کرتے ہوئے یہ کلمات کہے جو اوپر درج کئے جا چکے ہیں ، عیسائیوں نے مسیح کو اللہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو کافر کہا کہ انہوں نے ایسا کہہ کر کفر کیا ہے ۔ ہمارے مسلمان کہلانے والے ایک فرقہ تشیع نے حضرت علی ؓ کو علی اللہ کہہ کر اللہ میاں کی جگہ پر لا بٹھایا اور بریلوی حضرات نے محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق بیان کیا کہ :
” تمام زمین ان کی ملک ہے ‘ تمام جنت ان کی جاگیر ‘ ملک السموات والارض حضور کے زیر فرماں ‘ جنت ونار کی کنجیاں آپ ﷺ کے دست اقدس میں دے دی گئیں ‘ رزق ‘ خوراک اور ہر قسم کی عطائیں حضور ﷺ ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ‘ دنیا وآخرت حضور ﷺ کی عطا کا ایک حصہ ہیں۔ “ (بہار شریعت امجد علی جزء اول ص 15)
گویا اب اللہ تعالیٰ کے پاس سوائے دکھ ‘ مصیبت اور موت کے کچھ نہیں رہا اور ان میں بھی رسول اللہ ﷺ کی مرضی ہے تو کام چل سکتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار ان کا بھی نہیں رہا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ
ع ۔ پکڑے خدا تو چھڑائے محمد ﷺ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا :
اب شرک کس بلا کا نام ہے جس سے اتنی سختی کے ساتھ ڈرایا گیا ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اس بات کا صاف صاف اعلان کر دو کہ : ” مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ تو یکسوہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کر دے اور ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ہو اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان کرسکتی ہے اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا ۔ اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے اتو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں وہ اپنے بندوں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ (یونس 10 : 105 تا 107) اور یہی بات زیر نظر آیت میں بھی بیان کی گئی ہے ” اور ان میں سے اگر کوئی ایسی جرات کرے (جس کا ہرگز کوئی امکان نہیں صرف شرک کی مذمت پر زور دینے کے لئے کہا جارہا ہے کہ “ کہے اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو اس کی پاداش میں ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو ان کے ظلم کا بدلہ دیتے ہیں ۔ “
Ayah 21:30مشرکین سے ایک سوال کہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا پیدا کرنے والا کون ؟
30۔ زیر نظر آیت میں اشارہ ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کا قیام ‘ ان کی وسعت ‘ ان کے اندر مختلف قسم کے مادے ‘ ان دونوں کے درمیان اتنا بڑا خلا اور پھر خلا کے اندر ستارے اور سیارے جن میں سے بعض کی وسعت تمہاری زمین سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے اور پھر ان کے اندر طرح طرح کی مخلوق اور ان کی زندگی کی بقا کا سامان جس کی نہ انتہا اور نہ شمار کہ انسان کے احاطہ علم میں آئے کہ ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا اور اس سارے نظام کا پیدا کرنے کے بعد اس کا انتظام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے کوئی ہے جس کے متعلق تم کہہ سکتے ہو کہ اس نے ان چیزوں میں سے کوئی چیز بنائی یا پیدا کی ہو یا ان میں سے کسی کا انتظام اس کے ذمہ ڈال دیا گیا ہو۔ جب ان باتوں میں سے کوئی تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کے ذمہ ثابت نہیں کرسکتے تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک آخر کیوں اور کیسے کرتے ہو ۔ تعجب ہے کہ تمہاری بھینس جس نے بنائی اس کے اندر ایسا نظام پیدا کردیا کہ وہ ناکارہ چیزیں کھا کر اور ناپاک جوہڑ سے پانی پی کر تمہیں بہترین دودھ پیش کر رہی ہے لیکن جب اس کے تھنوں میں ذرا تمہاری ہی بداحتیاطی سے خون نکل آئے تو اس کو ٹھیک کرنے کے لئے اس نے مختلف ٹھیکہ دار تجویز کردیئے ہوں کہ فلاں علاقہ کا فلاں بزرگ ٹھیکہ دار ہے اگر تمہاری بھینس کے تھن میں سے خون آیا تو اس کو ملنا اور اس کو رشوت پیش کر دیناوہ تمہاری بھینس کے تھن کو ٹھیک کر دے گا ۔ آخر بیوقوفی اور بےعقلی نہیں تو اور اس کو کیا کہا جاسکتا ہے ۔
” فرمایا اللہ اور ذات ہے جس نے آسمان و زمین کی پیدائش ایک ایسے مادہ سے کی ہے جسے قرآن کریم میں ” دخان “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ دخان کے معنی دھوئیں کے ہیں یا ایسی بھاپ کے جو اوپر چڑھی ہوئی ہو ۔ فرمایا یہ مادہ دخانیہ ابتداء میں ملا ہوا تھا الگ الگ نہ تھا پھر اس کے مختلف حصے ایک دوسرے سے جدا کردیئے گئے اور ان سے اجرام سماویہ کی پیدائش ظہور میں آئی ۔ اس کی تفصیل پیچھے سورة الاعراف کی آیت 54 ‘ سورة یونس کی آیت 2 اور سورة ہود کی آیت 7 میں بیان کی جا چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
” اور پانی سے تمام جاندار چیزیں پیدا کردیں “۔ مطلب یہ ہے کہ آغاز آفرنیش میں اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اتنی مقدار میں زمین پر پانی نازل فرما دیا یا اس کی پیدائش فرما دی جو قیامت تک اس کرے کی ضروریات کے لئے اس کے علم میں کافی تھا وہ پانی زمین ہی کے نشیبی حصوں میں ٹھہر گیا جس سے سمندر اور بحیرے وجود میں آئے اور آب زیر زمین پیدا ہوا۔ اب یہ اس پانی کا الٹ پھیر ہے جو گرمی سردی اور ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا رہتا ہے ‘ اس کو بارشیں ‘ برف پوش پہاڑ ‘ دریا ‘ چشمے اور کنوئیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلاتے رہتے ہیں اور وہی بیشمار چیزوں کی پیدائش اور ترکیب میں شامل ہوتا اور پھر ہوا میں تحلیل ہو کر اصل ذخیرے کی طرف واپس جاتا رہتا ہے ، شروع سے آج تک پانی کے اس ذخیرے میں نہ ایک قطرے کی کمی ہوئی ہے اور نہ ایک قطرے کا اضافہ ہی کرنے کی کوئی ضرورت پیش آئی ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پانی جس کی حقیقت آج ہر مدرسے کے طالب علم کو معلوم ہے کہ وہ ہائیڈروجن اور آکسیجن دو گیسوں کے امتزاج سے بنا ہے ایک دفعہ تو اتنا بن گیا کہ اس سے سمندر بھر گئے اور اب اس کے ذخیرے میں ایک قطرے کا بھی اضافہ نہیں ہوتا لیکن وہ کون تھا جس نے ایک وقت میں اتنی ہائیڈروجن اور آکسیجن ملا کر اس قدر پانی بنا دیا ؟ اور کون ہے جو اب ان دونوں گیسوں کو اس خاص تناسب کے ساتھ نہیں ملنے دیتا جس سے پانی بنتا ہے ؟ جب کہ دونوں گیسیں اب بھی دنیا میں موجود ہیں اور پھر جب پانی بھاپ بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے تو اس وقت کون ہے جو آکسیجن اور ہائیڈروجن کو الگ الگ ہوجانے سے روکے رکھتا ہے ؟ کیا منکرین خدا کے پاس اس کا کوئی جواب ہے ؟ اور پھر یہ بات بھی اپنی جگہ حق اور واضح ہے کہ ہر جاندار کی زندگی کا انحصار اس پانی پر ہے اور نئی زندگیاں بھی اسی کے وجود سے وجود میں آرہی ہیں کیونکہ اس کو بھی پانی ہی کہا گیا ہے جس سے نئے اجسام معرض وجود میں آجاتے ہیں جس کے متعلق نبی اعظم وآخر ﷺ نے ” الماء من المائ “ کہہ کر اشارہ فرما دیا ۔ ” پھر کیا یہ یقین نہیں رکھتے “۔ گویا یہ سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے کے بعد بھی ان کو یقین نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہیں کہ شرک سے باز نہیں آتے اور اس کی ترویج وترجمانی میں دن رات باتیں گھڑنے میں لگے ہوئے ہیں اور شرک کے اڈوں میں آئے دونوں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
Ayah 21:31زمین کے اندر پہاڑوں کے رکھے جانے کے فوائد کا مختصر ذکر :
31۔ (مائدہ) مید سے ہے جس کے معنی کھانا دینے کے بھی آئے ہیں اور عظیم الشان چیز کے اضطراب کے بھی اور اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ایک چیز ایک طرف کو مائل ہوگئی اور (ان تمیدبکم) تمہارے ساتھ وہ ایک طرف کو اضطراب سے رک جائے اور یہ بھی کہ وہ تم کو کھانے پینے کی چیزیں پیش کرے جن کو اس نے تمہارے لئے ان پہاڑوں کے باعث روکا ہوا ہے ۔ قرآن کریم میں جہاں بھی اجرام فلکی کا ذکر آیا ہے ساتھ ہی زمین کے تعلق کو بھی بیان کیا گیا ہے ، اس جگہ بھی اجرام فلکی کے بعد عالم ارضی کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے اور اس جگہ بھی اس سے خدا کی قدرت اور حکمت کے نشانات سے انہی دونوں حقیقتوں یعنی توحید اور آخرت پر استشہاد کیا گیا ہے جن پر پچھلی آیات میں عالم سماوی کے آثار سے استشہاد کیا گیا تھا اور ان دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ :
ا۔ اجرام فلکی کے ساتھ زمین کا تعلق ‘ زمین کے ساتھ سورج اور چاند کا تعلق ‘ زمین کی بیشمار مخلوقات کی ضرورتوں سے پہاڑوں اور دریاؤں کا تعلق یہ ساری چیزیں اس بات پر کھلی شہادت دیتی ہیں ‘ کہ ان کو نہ تو الگ الگ خداؤں نے بنایا ہے اور نہ مختلف بااختیار خدا ان کا انتظام کر رہے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ان ساری چیزوں میں باہم اتنی مناسبتیں اور ہم آہنگیاں اور موافقتیں نہ پیدا ہو سکتی تھیں اور نہ مسلسل قائم ہی رہ سکتی تھیں ، الگ الگ خداؤں کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ مل کر پوری کائنات کے لئے تخلیق وتدبیر کا ایسا منصوبہ بنا لیتے جس کی ہرچیز زمین سے لے کر آسمانوں تک ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کھاتی چلی جائے اور کبھی ان کی مصلحتوں کے درمیان تصادم واقع نہ ہونے پائے ۔
ب۔ زمین کے اس عظیم الشان کرے کا فضائی بسیط میں معلق ہونا اس کی سطح پر اتنا بڑے بڑے پہاڑوں کا ابھرنا اس کے سینے پر ایسے ایسے زبردست دریاؤں کا جاری ہونا اس کی گود میں طرح طرح کے بےحدوحساب درختوں کا پھلنا اور پیہم انتہائی باقاعدگی کے ساتھ رات اور دن کے حیرت انگیز آثار کا طاری ہونا یہ سب چیزیں اس رب ذوالجلال والاکرام کی قدرت پر گواہ ہیں جس نے انہیں پیدا کیا ہے ایسے قادر مطلق کے متعلق یہ گمان کرنا کہ وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں عطا کرسکتا ‘ عقل و دانش کی نہیں حماقت وبیوقوفی کی دلیل ہے ۔
ج۔ زمین کی مسافت میں ‘ اس پر پہاڑوں کی پیدائش میں ‘ پہاڑوں سے دریاؤں کی روانی کا انتظام کرنے میں ‘ پھلوں کی ہر قسم میں ‘ دو دو طرح کے پھل پیدا کرنے میں اور رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات باقاعدگی کے ساتھ لانے میں جو بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پائی جاتی ہیں وہ پکار پکار کر شہادت دے رہی ہیں کہ جس رب العزت نے تخلیق کا یہ نقشہ بنایا ہے وہ کمال درجے کا حکیم ہے ۔ یہ ساری چیزیں خبر دیتی ہیں کہ یہ نہ تو کسی بےارادہ طاقت کی کار فرمائی ہے اور نہ کسی مداری کا کھیل ۔ ان میں سے ہرچیز کے اندر ایک حکیم کی حکمت کام کرتی نظر آتی ہے یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد صرف ایک نادان ہی ہو سکتا ہے جو یہ گمان کرے کہ زمین پر انسان کو پیدا کرکے اور اسے ایسی ہنگامہ آرائیوں کے مواقع دے کر وہ اس کو یوں ہی خاک میں گم کر دے ۔
د۔ پہاڑوں کو تخلیق کیا تو غور کرو کہ ان کے اندر کیسی کیسی چیزوں کے دفینے پیدا کردیئے جو کروڑوں سال سے ان کے اندر محفوظ رکھے گئے تھے اور اگر ان کو شمار کیا جائے کہ معدنیات میں کیا کیا چیزیں ہیں تو شاید ہم ایک نشست میں ان کا شمار ہی نہ کرسکیں اور پھر یہ بھی جو اس وقت تک دریافت ہوچکی ہیں کیا اتنی ہی ہیں ؟ نہیں کہا جاسکتا کہ ابھی ان میں کیا کیا پوشیدہ رکھا ہے اور اس کو کہاں سے اور کیسے اور کس کس نے نکالنا ہے اور تعجب بالائے تعجب یہ کہ ان معدنیات کی آپس میں کوئی مناسبت بھی معلوم نہیں ہوتی کہ ٹھوس ہیں تو کیا کیا اور مائع ہیں تو کیا کیا اور گیس ہیں تو کیا کیا ۔ سونا ‘ چاندی ‘ تانبہ ‘ پیتل ‘ المونیم اور لوہا اور پھر ان کی مختلف اقسام ‘ قدرتی گیس ‘ تیل ‘ نمک ‘ کوئلہ ‘ کرومائیٹ ‘ جپسم ‘ چونے کا پتھر گندھک اور سنگ مرمر وغیرہ ۔
ہ۔ پہاڑوں کو اس طرح بھی نہیں بنایا گیا کہ ایک حصہ زمین کو بالکل دوسرے حصہ زمین سے الگ کردیا گیا ہو اور ان دونوں طرفوں کو ملنے کی کوئی صورت ہی نہ چھوڑی ہو نہیں دو پہاڑوں کے درمیان کتنے کتنے بڑے حدے بنائے گئے جو قدرتی طور پر رکھے گئے ہیں اور اس طرح سے زمین کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ ملنے کے لئے وہ راستے کا کام دیتے ہیں ۔ یہ سب قدرت کے نشانات ہیں اور لوگوں کو آپس میں روابط قائم کرنے کے لئے یہ خلا قدرتی طور پر رکھے گئے ہیں ۔
Ayah 21:32آسمانوں کو ایک چھت کی طرح محفوظ بنا دیا گیا لیکن لوگ ان نشانات پر غور نہیں کرتے :
32۔ زمینی نشانات کے بعد دوبارہ آسمان کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے اور نصائح کا معاملہ اسی طرح چلتا رہتا ہے کہ ایک بات نصیحت آمیز کی جس کا تعلق بچپن کے ساتھ تھا لیکن معا اس کے بڑھاپے کی طرف ذہن چلا گیا اور پھر جو لوٹا تو جوانی کی طرف رخ پھر گیا اور اس طرح دوبارہ بات کرنے لگے تو پھر بچپنا اس کا یاد آگیا چونکہ انسان اکثر نصائح اور بہلاوے کی باتیں اسی طرح کرتا ہے لہذا یہی انداز اس جگہ اختیار کیا گیا ۔ اس جگہ آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جسے انسان شب وروز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے جس میں دن کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بیحد و حساب ستارے روشن نظر آتے ہیں جسے آدمی برہنہ آنکھ ہی سے دیکھے تو حیرت طاری ہوتی ہے لیکن اگر دوربین لگا لے تو ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے ہوتی ہے جو ناپیدا کناء ہے کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی ‘ ہماری زمین سے لاکھوں گنا بڑے عظیم الشان سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں ۔
ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن ستارے اس میں چمک رہے ہیں ۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے تنہا اس ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم تین ارب دوسرے تارے یعنی ثوابت موجود ہیں اور اب تک کا انسانی مشاہدہ بھی ایسی ایسی دس لاکھ کہکشاؤں کا پتہ دیتا ہے ان لاکھوں کہکشاؤں میں سے ہمارا قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے یہ کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور اس کے مشاہدہ میں آئی ہے خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کرسکتے ہو سکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات اس پوری کائنات کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے ۔ اس عظیم کارگاہ ہست وبود کو جو خداوند وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق جس کا نام انسان ہے اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے کائنات کے خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہوجائے گی ، اس لئے زیر نظر آیت کے آخری جزء میں بھی یہی ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ لوگ اس کی نشانیوں سے رخ پھیرے ہوئے ہیں ۔ “
Ayah 21:33رات اور دن کے اختلاف میں اور سورج و چاند میں بھی نشانیاں موجود ہیں :
33۔ رات اور دن کے اختلاف میں کیا نشانیاں ہیں ؟ رات اور دن کا یہ فرق واختلاف اس اعتبار سے بھی نشانی ہے کہ دونوں پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک روشن ہے اور دوسرا تاریک اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک مدت تک بڑی تدریج کے ساتھ دن چھوٹا اور رات بڑی ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ پھر ایک وقت پر جا کر دونوں برابر ہوجاتے ہیں ۔ یہ مختلف قسم کے فرق واختلاف جو رات اور دن میں پائے جاتے ہیں اور ان سے جو عظیم حکمتیں وابستہ ہیں وہ اس بات کی صریح علامت ہیں کہ سورج اور زمین اور موجودات زمین کا خالق ایک ہی ہے اور ان دونوں کروں کو ایک ہی زبردست اقتدار نے قابو میں کر رکھا ہے اور وہ کوئی اندھا بہرا ‘ بےحکمت اقتدار نہیں ہے بلکہ ایسا حکیمانہ اقتدار ہے جس نے یہ اٹل حساب قائم کرکے اپنی زمین کو زندگی کی ان بیشمار انواع کے لئے موزوں جگہ بنا دیا ہے جو نباتات حیوانات اور انسان کی شکل میں اس نے یہاں پیدا کی ہیں۔ سورج اور چاند یعنی دن اور رات میں جو نشانیاں ہیں ان کا ذکر تو کیا جا چکا اب ان سب کے ایک غلق میں تیرنے کی نشانی کیا ہے ؟ فلک کا لفظ عربی زبان میں سیاروں کے مدار کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کا مفہوم سماء (آسمان) کے مفہوم سے مختلف ہے یہ ارشاد کہ ” سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں “ چار حقیقتوں کی نشاندہی کرتا ہے ایک یہ کہ نہ صرف سورج اور چاند بلکہ تمام تارے اور سیارے اور اجرام فلکی متحرک ہیں ان کی حرکت خواہ کوئی صورت تسلیم کی جائے لٹو کی طرح ایک جگہ یا ریل کی طرح مختلف جگہوں پر دوسرے یہ کہ ان میں سے ہر ایک فلق یعنی ہر ایک کی حرکت کا راستہ یا مدار الگ ہے تیسرے یہ کہ افلاک تاروں کو لئے ہوئے گردش نہیں کر رہے بلکہ تارے افلاک میں گردش کر رہے ہیں اور چوتھے یہ کہ افلاک میں تاروں کی حرکت اس طرح ہو رہی ہے جیسے کسی سیال چیز میں کوئی شے تیر رہی ہو یا تیل جیسی کسی چیز میں کسی شے کو گھما دیا گیا ہو۔
ان آیات کے مضامین کا اصل مقصد علم ہئیت کے حقائق بیان کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل سے کام لے تو زمین سے لے کر آسمان تک جدھر بھی وہ نگاہ ڈالے گا اس کے سامنے خدا کی ہستی اور اس کی یکتائی کے بیحد و حساب دلائل آئیں گے اور کہیں کوئی ایک دلیل بھی دہریت اور شرک کے ثبوت میں نہ ملے گی ، ہماری یہ زمین جس نظام شمسی میں شامل ہے اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کا مرکز سورج زمین سے تین لاکھ گنا بڑا ہے اور اس کے بعید ترین سیارے نیپچون کا فاصلہ سورج سے کم از کم دو ارب 79 کروڑ 30 لاکھ میل ہے بلکہ اگر پلوٹو کو بعید ترین سیارہ مانا جائے تو وہ سورج سے 14 ارب 60 کروڑ میل دور تک پہنچ جاتا ہے تاہم اس عظمت کے باوجود یہ نظام شمسی ایک بہت بڑے کہکشاں کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے ، جس کہکشاں میں ہمارا یہ نظام شمسی شامل ہے اس میں تقریبا تین ہزار ملین (تین ارب) آفتاب پائے جاتے ہیں اور اس کا قریب ترین آفتاب ہماری زمین سے اس قدر دور ہے کہ اس کی روشنی یہاں تک پہنچنے میں چار سال صرف ہوتے ہیں پھر یہ کہکشاں بھی پوری کائنات نہیں ہے بلکہ اب تک کے مشاہدات کی بنا پر اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ تقریبا بیس لاکھ کو کبی سحابیوں میں سے ایک ہے اور ان میں سے قریب ترین سحابیے کا فاصلہ ہم سے اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی روشنی دس لاکھ سال میں ہماری زمین تک پہنچتی ہے اور یہ سارے حساب سائنس کے علم کے مطابق بیان کئے گئے ہیں نہ کہ کسی حدیث رسول ﷺ کے مطابق اور علوم جدیدہ ترقی کی طرف گامزن ہیں ممکن ہے کہ ابھی بہت کچھ اور ظاہر ہوجائے جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوا اور قرآن کریم کی ان آیات کی مزید وضاحت ہوجائے ۔
Ayah 21:34یہاں ہمیشہ رہنے کے لئے کوئی پیدا نہیں ہوا تو مرے گا تو کیا وہ ہمیشہ رہیں گے ؟ :
34۔ زیر نظر آیت میں کفار مکہ کی ساری سازشوں اور خفیہ تدبیروں کا جواب دے دیا گیا کہ تم یہ سارا کچھ کیوں کر رہے ہو ؟ محض اس لئے کہ اس رسول ﷺ کو ٹھکانے لگا دیا جائے ۔ اس طرح ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو ان کی ہر طرح کی سازشوں اور خفیہ سے خفیہ تدبیروں کی ناکامی کی خبر دی گئی اور دوسری طرف آپ ﷺ کو یہ بتا دیا گیا کہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ آپ ﷺ کو موت آنا یقینی ہے اس لئے کہ اس دنیا میں جو بھی آیا وہ مرنے ہی کے لئے آیا یہاں کسی کو ہمیشہ نہیں رہنا ہے اور پھر آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کے مخالفین کو بھی یہ بات سنا دی کہ اگر ہمارے رسول اللہ ﷺ کے لئے مرنا ہے تو کیا تم یہاں ہمیشہ رہو گے جو اس طرح کی سازشیں کر رہے ہو ؟ اور ان کو یہ پیغام اس طرح سنانے کا حکم دیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہمیشگی تو ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی کسی انسان کے لئے نہیں رکھی ہے اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے ؟ “ اس طرح یہاں سے تقریر کا رخ اس کش مکش کی طرف موڑ دیا جو نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ کے مخالفین کے درمیان برپا تھی ۔
یہاں اتنی بات مزید سمجھ لینا ہوگی کہ آپ ﷺ کی وفات 12 ۔ ربیع الاول 11 ہجری بیان کی جاتی ہے جو کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ صحیح روایات میں آپ ﷺ کی وفات کا دن دو شنبہ یعنی سوموار معروف ہے جو صحیح بخاری اور مسلم کی روایات سے بھی ثابت ہے اور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس سے پہلے 10 ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو جمعۃ المبارک کا دن تھا جیسا کہ صحیح بخاری اور مسلم کی روایات سے ثابت ہے ۔ اب ذی الحجہ کی 9 تاریخ کو جمعہ ہو تو 12 ۔ ربیع الاول 11 ھ کسی صورت میں بھی دو شنبہ یعنی سوار کا دن نہیں پڑ سکتا ۔ اسلامی مہینہ تین یا انتیس دن کا ہوتا ہے اور اس واقعہ میں تین مہینوں کا تعلق قائم ہوتا ہے ذی الحجہ ‘ محرم اور صفر کا اب ان تینوں مہینوں کو 29 دن کے تسلیم کرلیا جائے ‘ تینوں مہینوں کو 30 دن کے مہینے مان لیا جائے تین مہینوں سے دو کو 30 کا اور ایک 29 کا تسلیم کیا جائے یا ایک کو 30 دن کا اور دو کو 29 دن کا کہا جائے کسی صورت میں بھی دو شنبہ نہیں ہو سکتا لہذا کوئی صورت اس طرح ابھی پیدا نہیں ہوئی کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ ﷺ کی وفات حسرت آیات 12 ، ربیع الاول کو ہوئی بعض روایات میں جو ہر لحاظ سے ثقہ اور صحیح تسلیم کی جاتی ہیں 9 ذی الحجہ 10 کے بعد 81 ویں روز آپ ﷺ کی وفات دو شنبہ کو ہوئی بیان کیا گیا ہے اس کو پیش نظر رکھ کر دو مہینے 29 دن کے اور ایک تیس دن کا مان لیا جائے تو یکم ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن بنتا ہے اور یہی صحیح اور درست ہے کیونکہ یہ روایتا بھی درست ہے اور درایتا بھی ، مزید تفصیل انشاء اللہ العزیز کسی مناسب مقام پر کی جائے گی ۔
Ayah 21:35موت ہر جان کے لئے لازم ہے حالات کا اختلاف آزمائش کے لئے ہے :
35۔ اس آیت میں منکرین کی انہی خام خیالوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے فرمایا دنیا میں ہر جان کے لئے مرنا ہے یہاں کسی کے لئے بھی دائمی زندگی نہ ہوئی ۔ پس اصل سوال مرنے کا نہیں سوال تو یہ ہے کہ (آیت) ” نبلوکم بالشر والخیرفتنۃ “۔ ہم نے آزمائش عمل میں ڈالنے کے لئے خیر وشر کی آزمائشیں پیدا کردی ہیں ان آزمائشوں سے کون کس طرح عہدہ برآ ہوتا ہے ؟ خیر کا سرمایہ جمع کرتا ہے یا شرکا ؟ یہ تمہاری موت کے خیال سے اپنا جی خوش کرتے ہیں مگر خود اپنی زندگی کی خبر نہیں لیتے ؟ گویا اس آیت میں انسان کے لئے تین قانون بیان کردیئے اور یہ بات پہلے واضح ہے کہ قانون الہی میں کبھی تبدیلی نہ ہوئی ہے اور نہ ہی ہونے کا کوئی امکان ہے اور وہ تین قانون کیا ہیں ؟ ۔
1۔ یہ کہ ہر ذی حیات کے لئے موت لازمی ہے خواہ جلد اور خواہ بدیر لیکن دیر ہوگی تو آخر کتنی ؟ ہر ایک کو اس دنیا سے مر کر ہی جانا ہے ۔
2۔ انسان جب تک زندہ رہے گا اس کا امتحان برابر ہوتا رہے گا کہ کن کن حالات میں وہ ایمان و اطاعت کی طرف مائل رہتا ہے اور کن کن حالات میں کفر ومعصیت کی طرف جھک جاتا ہے شر سے کیا مراد ہے ؟ انسان کے مخالف طبع حالات مثلا مرض ‘ افلاس وغیرہ اور خیر سے مراد انسان کے موافق طبع حالات ہیں جیسے صحت و خوشحالی وغیرہ ۔
3۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں واپس جان کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہے ۔ پھر ان تینوں باتوں کی تشریح کے لئے ایک دفتر درکار ہے ، ان تین باتوں کے پیش نظر ہر انسان کو اپنی رواج اپنی زندگی کے متعلق سوچنے کا مطلق نہیں اور یہی وہ بھول ہے جس نے ہم سب کو تباہی و بربادی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے کہ ہم ساری زندگی دوسروں ہی کے متعلق تنقیدا سوچتے رہتے ہیں اور اپنی زندگی کو کبھی تنقید کا نشان نہیں بنایا ۔ اور ہم سب کو لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جانا ہے اس کو صرف زبان سے تسلیم کرتے ہیں اس پر کبھی غور کسی نے نہیں کیا ؟ اگر غور کیا ہوتا تو یہی بات ہماری زندگی کے سارے پہلوؤں کو درست کرنے کے لئے کافی تھی ۔
Ayah 21:36اسلام اور ربانی اسلام کو ہنسی مذاق بنانے کا مطلب اور نتیجہ ؟ :
36۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو ہنسی اور مذاق کیوں اور کیسے ؟ جب کوئی شخص کسی قوم کے رسم و رواج کے خلاف تقریر کرتا ہے یا عمل تو قوم کبھی اس کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی یہی حال سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پیش آیا اور اسی نے ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ کو پریشان اور یہی حالت آج اللہ کے ان بندوں کو پیش آتی ہے جو قوم کے اختراعی عقیدوں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنہوں نے انکار حق کی راہ اختیار کی ہے تو انہیں اور تو کچھ سوجھتا نہیں بس تجھے اپنی ہنسی ٹھٹھے کی بات بنا لیتے ہیں ؟ گویا جبھی آپ ﷺ پر نظر پڑے تو باقی سارے موضوع ختم ہوگئے اور آپ ﷺ کا موضوع جاری ہوگیا ۔ چارپائی میں بیٹھنے والوں میں سے کوئی ایک بولا کہ یہ ہیں وہ صاحب جنہوں نے باپ دادا کے خلاف کرنے کا ٹھیکہ لیا ہے ‘ دوسرا بولا چھوڑ اس کو یہ تو پاگل ہوگیا ہے کہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔ اس طرح ایک سے ایک بڑھ کر بولتا اور پھر خوب مذاق کا نشانہ بنایا جاتا اور سب سے زیادہ جس بات پر بحث ہوتی وہ آپ ﷺ کی غیر اللہ معبودوں کی مخالفت کا ذکر ہوتا کہ دیکھو اس نے سارے معبودوں ہی کو ٹھکرا دیا ہے ، اس بات پر پہنچ کر وہ آپ ﷺ کی بہت ہی تحقیر کرتے اور ایک دوسرے سے تمسخرانہ انداز میں پوچھتے اچھا ‘ یہ ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے ؟ فرمایا تعجب ہے کہ ان لوگوں نے جو اپنے بزرگوں کی شبیہیں اور بت بنا رکھے ہیں کسی نے سونے اور چاندی سے اور کسی نے پتھر اور مٹی سے ان کو اپنے ہاتھوں سے بنا کر اور بنوا کر یہ لوگ ان کا اس قدر احترام کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ اصل بزرگ ہیں اور جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی طرف دعوت دیتا ہے اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ دراصل یہ کچھ دیکھ کر ماننے کے عادی ہیں اور ان دیکھی ذات کی طرف ان کا دھیان اور خیال نہیں جاتا اور دیکھنے کے لئے یہ اس شبیہہ ہی کو اصل کا مقام دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کو سجدہ وسلام کرنے سے وہ بزرگ خوش ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے آج یہی تصور ہمارے مسلمانوں نے مقبروں ‘ روضون اور خانقاہوں کے متعلق قائم کرلیا ہے ان کو برا بھلا کہتے ہیں اور خود بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے ۔
فرمایا ان کا حال یہ ہے کہ وہ ” خدائے رحمن “ کے ذکر سے یک قلم منکر ہیں ۔ “ گویا ان کی اپنی حس اس قدر مردہ ہوچکی ہے کہ اس کے لئے غیرت وحمیت تو درکنار اس کے ذکر کے روادار بھی نہیں اور سمجھتے ہیں کہ انگوٹھے چومنے سے اور اس قبروں اور خانقاہوں پر سجدہ وسلام کرنے سے ان مٹی کی قبروں پر گنبد بنانے سے اور ان پر جھاڑو دینے سے بلکہ ان کی قبروں پر میلے ٹھیلے کرنے سے یہ بزرگ خوش ہوں گے اور ہماری سفارش کرا کر ہمارا کام کرا دیں گے اور بن دیکھے خدا پر ان کو یقین ہی نہیں آتا اور زیادہ سے زیادہ اگر سمجھتے ہیں تو یہ کہ ان کے ان افعال سے وہ خدا بھی خوش ہوجاتا ہے جس کو اللہ کا نام دیا جاتا ہے ۔
Ayah 21:37جلدی ‘ جلدی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ انسان کی سرشت میں جلدی رکھ دی گئی ہے ؟
37۔ زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ انسان کی تخلیق کے اندر جلدی ‘ جلدی کا مادہ رکھ دیا گیا ہے اور اس جلدی کے باعث وہ نت نئی ترقیاں کررہا ہے اس لحاظ سے یہ طبعی جلدی کوئی بری بات نہیں لیکن تاہم عقل وفکر سے کام لے کر اتنا سوچنا تو اس کا حق ہے کہ کس چیز میں جلدی کر رہا ہے ؟ اگر کام خیر کا ہے تو بلاشبہ جلدی اس کے حق میں بہت درست ہے لیکن اگر بات برائی کی ہے تو جلدی جلدی میں اپنا نقصان کر بیٹھے گا جو مفید ہونے کی بجائے اس کے لئے مضر ثابت ہوگا اندریں صورت اپنی طبیعت پر کنٹرول کرکے اتنا سوچ لینا کہ جس معاملہ میں جلدی کی جا رہی ہے اتنی جلدی اس میں مناسب ہے یا نہیں ؟ پھر اگر کام خیر کا ہے تو جتنا جلدی ہوگا بہتر اور بات دوسری ہے تو کانے کی بجائے انگلی کو قلم کردینا تو بہرحال نقصان کا باعث ہے کانے کا انتظار کرنا ہے مفید مطلب ہوگا اور یہی بات زیر نظر آیت میں سمجھائی جا رہی ہے ، قرآن کریم نے جا بجا انسانی طبیعت کے اس خاصہ کا ذکر کیا ہے کہ وہ اپنی خواہشوں ‘ رائیوں اور اقدام عمل میں جلد باز واقع ہوا ہے ۔ چناچہ فرمایا گیا ہے کہ جن نتائج کے ظہور کی خبر دی جارہی ہے وہ عنقریب ظاہر ہونے والے ہیں لیکن یہ منکر شور مچا رہے ہیں کہ فورا ظاہر کیوں نہیں ہوجاتے ؟ اچھا تھوڑا سا انتظار اور کریں بہت جلد سامنے آجائیں گے ۔ قبل ازیں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اب پھر یہی گزارش ہے کہ انسانی طبیعت میں جلد بازی ہے تو قرآن کریم نے اسی خاصہ کی مذمت نہیں کی کیونکہ اس کے نزدیک فطرت انسانی کا کوئی خاصہ بھی فی نفسہ برائی کے لئے نہیں ہے ۔ انسان جب احسن تقویم پر پیدا کیا گیا تھا تو ضروری تھا کہ اس میں جلد بازی ہوتی جو اس کے اندر سعی وعمل کا فوری ولولہ پیدا کرتی اور اس کی ساری سرگرمیوں کے لئے ایک محرک کا کام دیتی چناچہ ایسا ہی ہوا لیکن خواص طبیعت کے ہر گوشہ کی طرح یہاں بھی اسے ٹھوکر اصل خاصہ کے تقاضہ میں نہیں لگتی بلکہ اس کے بےمحل اور بےاعتدالانہ استعمال میں لگتی ہے ۔ اسے جہاں صبر کرنا چاہئے وہاں بےصبری کرنے لگتا ہے اور جب فیصلہ کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے تو بےدھڑک فیصلہ کردیتا ہے ، پس قرآن کریم انسان کی ہر گمراہی کی طرح اس گمراہی میں بھی سوء استعمال کی مذمت کرتا ہے نہ کہ طبیعت اور خواص طبیعت کی ۔
Ayah 21:38معاندین و مخالفین کی بےجا ضد کا مختصر بیان :
38۔ وعدہ سے مراد وعدہ قہر و عذاب الہی سے مشرکین و مخالفین یہ سوال خود نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں سے تمسخر اور بےیقینی کے لہجہ میں کرتے تھے آپ ﷺ نے ہمیشہ اس کا یہی جواب دیا کہ میں نے تم سے یہ کب کہا ہے کہ یہ فیصلہ میں چکاؤں گا اور نہ ماننے والوں کو میں عذاب دوں گا اس لئے مجھ سے یہ کیوں پوچھتے ہو کہ فیصلہ چکائے جانے کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ دھمکی تو اللہ نے دی ہے وہی فیصلہ چکائے گا اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ فیصلہ کب کرے اور کس صورت میں اس کو تمہارے سامنے لائے ۔ میں تو فقط یہ جانتا ہوں کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اسی وقت جو ایمان لے آیا بس وہ تو رحمت کا مستحق قرار دیا اور جس کسی نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فورا عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا ؟ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا بلکہ قانون الہی یہ ہے کہ اپنا پیغام پہنچانے کے بعد وہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے ‘ سمجھنے اور سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے یہ مہلت کا زمانہ بسا اوقات صدیوں تک دراز ہوتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے پھر وہ مہلت جو سراسر انصاف کے ساتھ اس کے لئے رکھی گئی ہے پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فیصلہ نافذ کردیتا ہے اور یہ فیصلہ کا وقت اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی مدت سے نہ ایک گھڑی پہلے آسکتا ہے اور نہ وقت آجانے کے بعد ایک لمحہ کے لئے ٹل سکتا ہے ، اس کی تفصیل کے لئے سورة یونس کی آیت 48 تا 50 کا مطالعہ کریں اور اسی طرح سورة بنی اسرائیل کی آیت 51 ‘ 52 کی تفسیر بھی دیکھ لیں ۔
اور یہی بات سورة النحل کی آیت 71 میں کی گئی کہ (آیت) ” ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین “۔ (27 : 71) اور پھر اس کا جواب اس طرح دیا گیا کہ (آیت) ” قل عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون “۔ (27 : 72) ۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ جس عذاب کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہے ۔ یہ گویا شاہانہ انداز کلام میں ان کو جواب دیا گیا ہے اور قادر مطلق کے کلام میں جب ” شاید “ اور ” کیا عجب “ اور ” کیا بعید ہے “ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بےنیازی کا اظہار ہوتا ہے اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا گویا ہوجانا ایک ہی بات ہے اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور وہ نہ ہو سکے اس لئے اس کلام کا مطلب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ یقینا ایسا ہی ہوگا ۔ لیکن اس کا وقت بھی وہی جانتا ہے کہ کب ہوگا ؟ ہٹ دھرم لوگوں کو بےجا ضد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ جب وہ وقت آجائے گا تو اس کا آنا انکے لئے پھر مفید ثابت نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ دھر لئے گئے تو اس کی پکڑ سے کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا ۔
Ayah 21:39جب وہ عذاب کی گھڑی آگئی تو ان کا کوئی حامی و مددگار نہیں ہوگا :
39۔ فرمایا اب تو یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے عذاب خداوندی طلب کر رہے ہیں اور ہنسی و مذاق کے لہجے میں اس کو دریافت کر رہے ہیں لیکن جب وہ عذاب کی گھڑی ان کے سر پر آکھڑی ہوگی تو افسوس کہ ان کو اس بات کا علم بھی نہیں کہ اس وقت ان کی حالت کیا ہوگی ؟ جب عذاب الہی کی آگ انکو آگے پیچھے اور دائیں بائیں سب اطراف سے گھیرے ہوئے ہوگی اور یہ کسی طرف سے بھی اس آگ کو اپنے آپ سے دور نہیں کرسکیں گے اور نہ اس وقت ان کا کوئی حمایتی اور مددگار ان کی حمایت اور مدد کے لئے آگے بڑھے گا اور جن کی جمعیت پر ان کو ناز تھا وہ سب کے سب ہوا ہوجائیں گے اور کوئی ان کو وہاں نظر تک نہیں آئے گا کہ یہ لوگ کسی کو دیکھ کر آواز ہی دے سکیں گے اور نہ اس وقت ان کا کوئی حمایتی اور مددگار ان کی حمایت اور مدد کے لئے آگے بڑھے گا اور جن کی جمعیت پر ان کو ناز تھا وہ سب کے سب ہوا ہوجائیں گے اور کوئی ان کو وہاں نظر نہیں آئے گا کہ یہ لوگ کسی کو دیکھ کر آواز ہی دے سکیں اور اگر آواز ہی دے سکیں اور اگر آواز دیں گے بھی تو وہ ان کے قریب تک آنے کو تیار ہی کب ہوں گے ؟ اس لئے تعجب کے لہجہ میں یہاں بیان کیا گیا کہ ” کاش ان کافروں کو اس وقت کا کچھ علم ہوتا جب کہ یہ لوگ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں اور نہ ہی ان کو کہیں سے کوئی مدد پہنچے گی ۔ “
Ayah 21:40عذاب ان کو اچانک دبوچ لے گا ‘ ان کے لئے مہلت بھی نہیں ہوگی :
40۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکروں میں آپ پیچھے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ مجرمین مطالبہ عذاب کرتے رہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کے آنے کا ان کو کبھی یقین نہیں آیا لیکن جب بھی وہ گھڑی کسی قوم پر آئی تو اس نے اس وقت اس کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد یقین کیا لیکن اس یقین نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا ‘ ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ عذاب کو سامنے دیکھ کر ہی مجرموں کو یقین آیا کرتا ہے کہ واقعی پیغمبر نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا ۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ ہاتھ مل کر کہتے ہیں کہ کاش ہمیں اب کچھ مہلت مل جائے حالانکہ مہلت کا وقت گزر چکا ہوتا ہے تب ہی عذاب کی گھڑی آتی ہے اور جب وہ آتی ہے تو کسی قوم کے لئے اس کے بعد سنبھلنے کا وقت نہیں ہوتا ۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں بار بار بیان کیا گیا ہے چناچہ یہی مضمون سورة الانعام کی آیت 31 ‘ 44 ‘ 47 میں بیان ہوا اور سورة الاعراف کی آیت 95 ‘ 187 میں اور سورة یوسف کی آیت 107 میں اور سورة الحج کی آیت 55 میں اور سورة الشعراء کی آیت 202 میں اور سورة العنکبوت کی آیت 53 میں اور سورة الزمر کی آیت 55 میں اور سورة الزخرف کی آیت 66 میں اور پھر سورة محمد کی آیت 18 میں بیان ہوا ہے اور اس طرح اچانک دبوچ لینے والی چیز سے مراد موت بھی لی گئی ہے اور قیامت کی گھڑی بھی اور دونوں ہی کافروں کے لئے عذاب کی گھڑیاں ہیں کیونکہ دونوں ہی گھڑیوں کے بعد کفار کے لئے عذاب ہی عذاب ہے ۔
Ayah 21:41آپ ﷺ سے یہ لوگ مذاق کرتے ہیں تو ان کے پہلے بھی اپنے نبیوں سے استہزاء کرچکے ہیں :
41۔ فرمایا گیا کہ اگر آج یہ لوگ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے ان کے آباؤ و اجداد بھی اسی طرح کی حرکتیں کرچکے ہیں پھر جو انجام ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہوگا ۔ ساری تاریخ ہی انبیاء کرام کے مکذب ‘ منکر اور معاند قوموں کی تباہی و بربادی سے بھری پڑی ہے اور پھر یہ دنیوی ومادی عذاب تو محض ایک ہلکا سا نمونہ ہے آخرت کا عذاب تو اشد ال عذاب ہے ۔ گویا نبی اعظم وآخر ﷺ کو سمجھایا جارہا ہے کہ آپ کی بعثت بھی اتمام حجت کے لئے ہے ان کا انجام ہم کو خوب معلوم ہے کہ کیا ہوگا ؟ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ معقولیت کے ساتھ انکو سمجھانے اور راہ راست دکھانے کی جو کوشش بھی کی جائے اس کا مقابلہ بےرخی وبے التفاتی سے کریں ان کا علاج یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں زبردستی ایمان اتارنے کے لئے آسمان سے نشانیاں نازل کی جائیں بلکہ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ جب ایک طرف ان کے سمجھانے کا حق پورا پورا ادا کردیا جائے اور دوسری طرف وہ بےرخی سے گزر کر قطعی اور کھلی تکذیب پر اور اس سے بھی آگے بڑھ کر حقیقت کا مذاق اڑانے پر اتر آئیں تو ان کا انجام بد انہیں دکھا دیا جائے ۔ یہ انجام بد اس شکل میں بھی ان کو دکھایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں وہ حق ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی ساری مزاحمتوں کے باوجود غالب آجائے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ۔ اس کی شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان پر ایک عذاب الیم نازل ہوجائے اور وہ تباہ وبرباد کرکے رکھ دیئے جائیں اور وہ اس شکل میں بھی ان کے سامنے آسکتا ہے کہ چند سال اپنی غلط فہمیوں میں مبتلا رہ کر وہ موت کی ناگزیر منزل سے گزریں اور آخر کار ان پر ثابت ہوجائے کہ سراسر باطل تھا جس کی راہ میں انہوں نے اپنا تمام سرمایہ زندگی کھپا دیا اور حق وہی تھا جسے انبیاء کرام (علیہ السلام) پیش کرتے تھے اور جسے یہ عمر بھر ٹھٹھوں سے اڑاتے رہے ، اس انجام بد کے سامنے آنے کی چونکہ بہت سی شکلیں ہیں اور مختلف لوگوں کے سامنے مختلف صورتوں سے آسکتا ہے اور آتا رہا ہے ۔ بہرحال جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اس کی حقیقت آخر کار انہیں مختلف شکلوں میں معلوم ہوگی اور ان کو دنیا کے عذابوں سے بھی دو چار کیا جائے گا اور آخرت کے عذاب سے بھی ان کو وافر حصہ ملے گا ۔
Ayah 21:42ان کے مذاق کے باوجود ان کی نگرانی کون کر رہا ہے ؟ :
42۔ اس وقت جب یہ مذاق اڑا رہے ہیں اور استہزاء کی نئی نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں تو وہ کون ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے ؟ وہی خدائے رحمن ‘ جس کو ماننے کے لئے یہ تیار نہیں اور یہ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دی جاری ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انکو دودھ کی طرح اچھی طرح ہلایا جائے اور کام کی چیز انہی میں سے جو مکھن کے طور پر ان سے الگ کرلی جائے گی تو ان کو چھاچھ کی طرح بیکار کردیا جائے گا ۔ اس حکمت کے تحت رب کریم نے یہ ڈھیل کا قانون مقرر کردیا ہے اور کفر کرنے والوں کو فورا نہیں پکڑ لیا جاتا کہ ان بےرخوں کے اندر وہ رخ والے بھی ہیں جو آج نہیں تو کل سمجھ جائیں گے اور ہمارے علم میں ہے کہ وہ کون کون ہے اور کہاں کہاں ہے بس انکو الگ کرنے کے لئے ہمارا قانون کام کر رہا ہے جب وہ کام مکمل ہوجائے گا تو ان کی صفت فورا لپیٹ دی جائے گی ، یکلو ‘ کلاء ۃ کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کو ایک وقت تک باقی رکھنا ہے اور یہ کام وہی کر رہا ہے جس کے تسلیم کرنے سے یہ انکاری ہیں تو پھر ان کا انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اس شخص کا انجام ہو سکتا ہے جو اس ٹہنی کو کاٹنا شروع کر دے جس پر خود بیٹھا ہوا ہو۔
Ayah 21:43وہ معبود کون ہیں جو ہم سے ان کو بچائے ہوئے ہیں ؟ :
43۔ کوئی شخص کسی بت کو اپنا حاجت روا سمجھتا ہو یا کسی قبر کو دونوں میں فرق کیا ہے ؟ صرف یہ کہ ایک نے پتھر کو گھڑ کر اس شخصیت کی شکل دے لی ہے جس کو وہ اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتا ہے اور دوسرے نے ایک مٹی کے ڈھیر کو چونا وکچ کرکے سمجھ لیا ہے کہ اس مٹی کے ڈھیر کے اندر اس کا حاجت روا اور مشکل کشا موجود ہے گویا فرق جو کچھ ہے وہ اس کی ظاہر داری میں ہے حقیقت میں ذرا بھر بھی فرق نہیں ہے کیا انکی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر یہ لوگ حاجت روا اور مشکل کشا ہوتے تو آخر مرتے ہی کیوں ؟ کہ ان کے ماننے والوں کو یہ سب کچھ کرنا پڑتا انہوں نے اپنے آپ کو زندہ ہی کیوں نہ رکھا ؟ اور اگر وہ اپنے آپ کو زندہ بھی نہیں رکھ سکے تو معلوم ہوا کہ وہ خود کسی کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے تو وہ جس نے ان کو اس بندھن میں باندھ رکھا تھا اس کو چھوڑ کر یہ لوگ ان فانی شخصیتوں کی طرف جو دوڑے جا رہے ہیں تو کیا ان کی مت ماری نہیں گئی ؟ اتنی بات کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں جس کو کبھی موت نہیں ہے اور ان کے سارے مشکل کشاؤں کا بھی مشکل کشا ہے اور جو اپنے وجود تک کی حفاظت نہیں کرسکے وہ انکی حفاظت کیسے کریں گے ؟
اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے والا نہ کوئی تھا ‘ نہ ہے اور نہ ہوگا لیکن تعجب ہے کہ یہ غلطی دنیا کی ساری قوموں کو لگی اور ایک قوم بھی ایسی نہیں جس کو اس سے مستثنی تسلیم کرلیا جائے ‘ یہاں تک کہ آج ہماری قوم مسلم کی اکثریت بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہے اور ان کی شاید ہی کوئی مذہبی مجلس قرار پائی ہو جس میں یہ نہ گایا جاتا ہو کہ ۔
پکڑے خدا تو چھڑائے محمد ﷺ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کجوئی نہیں سکدا :
لیکن زیر نظر آیت میں ان سب سے پوچھا جا رہا ہے کہ ” کیا ان لوگوں کے پاس ایسے معبود ہیں جو ہم سے انہیں بچا سکتے ہیں ؟ وہ خود اپنی مدد تو کر نہیں سکتے اور نہ ہی ہماری طرف سے ان کو یہ تائید حاصل ہے ۔ “ کہ وہ ان لوگوں کی حفاظت کے لئے ہم سے کوئی پٹا لکھوا چکے ہوں کہ تم چاہو جس کو بچا سکتے ہو ہم نے کسی ایک کو بھی ایسی تحریر لکھ کر نہیں دی اور نہ ہی ایسی کوئی سند دی جاسکتی ہے کہ الوہیت کے کاموں کو دوسروں میں تقسیم کردیا جائے ، یہ ساری خیام خیالیاں ہیں جو پہلوں کو بھی تھیں اور ان کو بھی ہیں جو اپنے آپ کو سواد اعظم کے نام سے یاد کر کے بہت خوش ہیں ۔ اس کی مزید تشریح دیکھنا مطلوب ہو تو سورة الکہف کے آخری رکوع کی آیات کی تفسیر دیکھیں وہاں آپ کو پوری وضاحت مل جائے گی ۔
Ayah 21:44ان کو ‘ ان کے آباؤ و اجداد کو ہم نے آسانیاں پہنچائیں لیکن یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے :
44۔ زیر نظر آیت میں ان خوشحال لوگوں کے اعراض و استکبار سے مکمل طور پر پردہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جس مال و دولت پر یہ پھولے نہیں سماتے اور طرح طرح کی اٹھکیلیاں کر رہے ہیں ان کی سمجھ پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ انکی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ یہ سب کچھ ان کو کس نے دیا ہے ؟ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یقینا یہ ان کا ذاتی استحقاق ہے جس کا نہ کوئی دینے والا ہے اور نہ ہی کوئی لینے والا ۔ اس لئے لوگ اپنی سرداریوں اور خوش حالیوں کو لازوال سمجھ بیٹھے ہیں اور ایسے سرمست ہوگئے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال تک نہیں آیا کہ یہ سب کچھ ان کو کوئی دینے والا بھی ہے اور جب چاہے گا وہ اپنے قانون کے مطابق واپس بھی لے لے گا ۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کیا آپ کے مخالفین کی آنکھوں پر پردہ ہے ان کو نظر نہیں آ رہا کہ اسلام کا اثر سرزمین عرب کے گوشے گوشے میں پھیلاتا چلا جا رہا ہے اور چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے اگر یہ ان کی شامت کے آثار نہیں تو اور کیا ہے ؟ مزید تفصیل کے لئے سورة الرعد کی آیت 41 کی تفسیر دیکھیں ۔
” کیا یہ لوگ نہیں دیکھ رہے کہ ہم زمین کو چاروں طرف سے ان پر تنگ کرتے ہوئے چلے آرہے ہیں ؟ “ کیسا لطیف انداز بیان ہے چونکہ دعوت حق ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے کسی سرزمین میں اس دعوت کے پھیلنے کو اللہ تعالیٰ اس طرح تعبیر فرماتا ہے کہ ہم خود اس سرزمین میں بڑھتے چلے آرہے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ وہ مخالفین سے کوئی بات پردہ میں نہیں رکھتا بلکہ ساتھ ساتھ ان کو متنبہ کرتا آتا ہے کہ تمہاری شامت اعمال کا نتیجہ اسی طرح نکلنے والا ہے فرمایا یہ کس دھوکا میں مبتلا ہیں کہ ” وہ غالب ہو رہے ہیں ؟ “ یہ بعینہ ایسا ہے کہ ایک انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کا ایک ایک سانس اس کی عمر کو کم کرتا جارہا ہے لیکن وہ یہی سمجھتا ہے اور اس کے سارے لواحقین بھی اسی خیال میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے حالانکہ حقیقت سراسر اس کے خلاف ہے لیکن پردہ ایسا ہے کہ شاید ہی کسی کی عقل پر نہ پڑا ہو۔
Ayah 21:45اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ متنبہ کئے جائیں اگر یہ بہرے نہیں سنتے تو یہ سنیں :
45۔ زیر نظر آیت نے دعوت حق کی پوری حقیقت واضح کردی ہے کہ میں تمہیں وحی الہی سے خبر پاکر متنبہ کر رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ جو بہرے ہیں اور ہر سنی ان سنی کردینے کے عادی ہیں انہیں کتنا ہی خبردار کیا جائے وہ سننے والا نہیں۔ لیکن اگر وہ ان طرح سنی ان سنی کرتے رہے تو نقصان کس کا ہوگا ؟ ان لوگوں کی بچوں کی سی رٹ ہے کی نشانی ‘ اے رسول نشانی ‘ آپ فرما دیجئے کہ عقل کے ناخن لو تم بچے نہیں ہو ۔ جس چیز کو تم نشانی کہتے ہو وہ ہے کیا ؟ ایک آفت ہی تو ہے ‘ تم آفت میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنی عقل وبصیرت سے کام لو اور غضب الہی سے بچنے کی کوئی صورت کرو تمہارے لئے فائدہ مند یہی بات ہو سکتی ہے لیکن اگر تم اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے تو یہ تمہاری محرومی ہے ۔ کیونکہ عقل کے اندھے اور بہروں کے ساتھ ہمیشہ یہی کچھ ہوا کہ جب انہوں نے داعی الہی کی پکار کو نہ سنا تو وہ وقت آیا کہ وہ اوندھے ہوگئے اور ایسا معلوم ہوا کہ وہ کبھی اس دنیا میں بسے ہی نہ تھے تم بڑے بڑے جباروں کی داستانیں پڑھو کیا آج ان کی داستانوں کے سوا بھی کچھ باقی ہے ؟
Ayah 21:46عذاب الہی ان کو چھو بھی گیا تو ان کی ہوا نکل جائے گی :
46۔ (نفحہ) کیا ہے ؟ ایک ہوا کا جھونکا ہی تو ہے اور ظاہر ہے کہ عذاب کا جھونکا کیسے اچھا ہوگا ؟ فرمایا یہ تو بڑی ڈھٹائی سے نشانی نشانی کر رہے ہیں اور گویا وہ عذاب طلب کرتے ہیں جس کے آنے کی آپ ﷺ نے ان کو اطلاع دی ہے تو آپ ﷺ ان کو کہہ دیجئے کہ اس کا ایک نفخہ بھی ایسا ہے کہ جب آئے گا تو تمہارا سارا سارا نشہ کافور ہوجائے گا اور تم اس وقت سر پیٹ کر رہ جاؤ گے کہ ہماری بدبختی ! ہم خود اپنی جانوں پر آفت ڈھانے والے بنے کہ ہم نے رسول کی وحی سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس سے عذاب کا مطالبہ کیا ۔ اب معلوم ہوا کہ خدا کا عذاب تو بہت بڑی چیز ہے ہم تو اس کا ایک ” نفخہ “ کی برداشت بھی نہیں رکھتے اپنی زندگی کا مطالعہ کرو اور ذرا غور سے دیکھو کہ ایک دو دن کی صرف گرمی کی شدت ہو یا سردی کی شدت ہوجائے تو کیا ہوتا ہے ؟ علاقوں کے علاقے تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتے ہیں اور بڑوں کی صدائیں ہوتی ہیں تو یہی کہ (آیت) ” انا لمغرمون ، بل نحن محرومون “۔ ہم پر تو چٹی پڑگئی اور ہمارے تو نصیب ہی پھوٹ گئے ۔
Ayah 21:47انصاف کا ترازو رکھ کر ہم پورا تول دیں گے اور ذرا بھی ناانصافی نہیں ہوگی :
47۔ انسانوں کے اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال ہوتے ہیں ، ایک قسم کا عمل کم ہوگا اور دوسرا زیادہ یا دونوں برابر برابر۔ وہ مادی چیزوں کے درمیان تفاصل اور کم وبیش کا علم ہم کو تولنے اور گننے یا ماپنے سے ہوتا ہے اس لئے وزن سے عموما عدل و انصاف حق اور ٹھیک ٹھیک کا مفہوم ادا کیا جاتا ہے اعمال انسانی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو ان کے عمل کے مطابق پورا پورا بدلہ ملے گا ۔ بس اس برابری اور کمال عدل و انصاف کے مفہوم کو ترازو کی ناپ اور عدالت کی میزان کے استعارہ سے ادا کیا گیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ فطرت کا ترازو بڑا ہی دقیقہ سنج ہے ۔ ایک ذرہ بھی اس کی تول میں کم نہیں ہو سکتا ۔ کوئی عمل کتنا ہی حقیر ہو مثلا تم نے کسی مصیبت زدہ پر ہمدری کی ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈال دی ۔ راہ چلتے ایک پتھر ہٹا دیا ‘ ایک کانٹا ہی راستہ سے ادھر ادھر کردیا تو ضروری ہے کہ اس کے وزن میں آجائے ، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ رائیگاں جائے ۔
ذرا تم خود اپنی زندگی ہی میں دیکھ لو کہ فطرت کے قانون مجازات کی دقائق اندیشیوں کا کیا حال ہے ؟ تم نے ایک پل کے لئے کسی پر ہمدردی کی نظر ڈالی اور معا تمہارے حسن اخلاق کا ایک نقش جم گیا ۔ تم نے کسی جانور پر بھی بےرحمی کی نگاہ ڈالی تو تمہارے آئینہ اخلاق میں قساوت کا بال پڑگیا ‘ تمہاری کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تمہیں بدلہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتی اور بدلہ بھی ٹھیک ٹھیک نپا تلا ہوتا ہے رائی برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا ۔ اتنی سہل اور آسان بات کو ہمارے مفسرین نے کس قدر مشکل بنا دیا اور کبھی اعمال نامے کے دفتر تولنے شروع کردیئے اور کبھی ترازو کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہاں کے کہاں نکل گئے ۔